اسلامی فیمنزم : سعودی عرب اور امارات میں فیمنسٹ رجحانات —- وحید مراد

0

سعودی عرب میں فیمنسٹ رجحانات:

سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کی حکومت کو اصلاح پسند سمجھا جاتا تھا اور اسی کے زمانے میں خواتین کے حقوق، آزادی اور قانونی اصلاحات کا آغاز ہوا۔ اس دور میں مخلوط طریقہ تعلیم کی یونیورسٹی کا افتتاح ہوا، پہلی بار ایک خاتون کووزیر مقرر کیا گیا اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین منظور کئے گئے۔ 1970 میں سعودی عرب میں خواندہ مردوں کی تعداد 15 فیصد جبکہ خواتین کی تعداد صرف 2 فیصد تھی لیکن شاہ عبداللہ کے زمانے میں خواتین کی خواندگی کی شرح مردوں کے تقریباً برابر یعنی 91 فیصد تھی۔ کام کرنے والی خواتین میں سے 50 فیصد کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھیں۔ [i]

بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اور ورلڈ بینک کے مطابق سعودی عرب میں 1990 تک مقامی خواتین ورک فورس کی تعداد 18.6فیصد تھی اور 2011 میں یہ شرح بڑھ کر 18.6 فیصد، 2018 میں 23.37 فیصد اور فروری 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق 48 فیصد تھی۔ 2005 تک خواتین زیادہ تر ڈاکٹر، نرس، استاد، بطور بینکر یا ایسی جگہوں پر کام کرتی تھیں جہاں انکا رابطہ صرف خواتین تک محدود ہوتا لیکن 2011 میں شاہ عبد اللہ نے ایک حکم جاری کیا جس کے تحت عورتیں دکانوں، کاروبار، پولیس اور دیگر شعبوں میں بھی کام کر سکتی ہیں۔ 2008 میں خواتین جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بورڈ میں بطور ممبر منتخب ہوئیں۔ 2009 میں نورہ الفیض(Norah al-Faiz) کو خواتین کی تعلیم کی نائب وزیر مقرر کیا گیا۔ 2010 میں خواتین وکلاء کو خاندانی معاملات میں نمائندگی کی اجازت دی گئی۔

2011 سے قبل صرف مرد قانون ساز اسمبلی میں خدمات سرانجام دیتے تھے لیکن شاہ عبد اللہ نے ستمبر 2011 کواعلان کیا کہ اب خواتین کو بھی مشاورتی کونسل میں مقرر کیا جا سکتا ہے۔ 2012 میں ایک خاتون کو وزارت صحت میں اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ جنوری 2013 میں پہلی بار خواتین کو مشاورتی اسمبلی میں شریک کرتے ہوئے تین خواتین کو کمیٹیوں کاڈپٹی چئیرمین نامزد کیا گیا۔ 2011 میں شاہ عبداللہ نے اعلان کیا کہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے اور امیدوار بننے کی اجازت ہوگی چنانچہ ان انتخابات میں بیس خواتین میونسپل کونسل کی نشستوں پر منتخب ہوئیں۔ [ii]

سعودی عرب میں نسائی تحریک کا آغاز 2007 میں اس وقت ہوا جب کنگ سعود یونیورسٹی میں تاریخ کی خاتون پروفیسر حتون ا لفاسی(Hatoon al-Fassi) کاایک تحقیقی مقالہ شائع ہوا ۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قبل از اسلام عرب میں خواتین قانونی طورپر آزاد شخصیت کی حامل ہوتے ہوئے اپنے نام سے کاروباری معاہدے کرنے میں آزاد تھیں جبکہ آج کے سعودی عرب میں عورتیں مرد سرپرست کے بغیر کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتیں۔ اس مفروضے کے ثبوت کے طورپر کچھ سکوں، مقبروں اور یادگاروں پر یونانی زبان میں لکھے گئے کتبے پیش کئے گئے۔ اس میں یہ عویٰ بھی کیا گیا کہ اس زمانے کے رومن اوریونانی قوانین میں عورت کو کم حقوق حاصل تھے اور قرون وسطیٰ میں جب ان قوانین کے تصورات عربوں میں داخل ہوئے تو اسکے نتیجے میں یہاں بھی عورت کے حقوق سلب کر لئے گئے۔ [iii]

2008 میں نسائی تحریک کی شدید مخالفت سامنے آئی اور رودھا یوسف(Rowdha Yousuf) نے پانچ ہزار سعودی خواتین کے دستخطوں سے ایک درخواست دی جس میں لکھاتھا کہ ‘میرے سرپرست زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے” اور اسکے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے مابین مساوات کا مطالبہ کرنے والی خواتین ایکٹوسٹس کو سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مغربی فکر اور مخلوط معاشرت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ عرب روایات اسکے خاص نشانے پر ہیں اور حقوق نسواں، آزادی اور ترقی کے نام پر اسلامی اقدار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

2009 میں وجیۃ الحویدر (Wajeha al-Huwaider) نے مرد سرپرست کے بغیر بین الاقوامی سطح پر سفر کرنے کی کوشش کی اور دیگر خواتین کو اسکی ترغیب دی۔ 2011 میں کئی سعودی خواتین ایکٹوسٹس نے وزیر محنت کو ایک خط لکھا جس میں خواتین کوگاڑی چلانے اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دینے کا کہا گیاتھا اور اس مسئلے کی میڈیا میں بھی تشہیر کی گئی۔ 2016 میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے بعد عزیزہ یوسف نے شاہی حکام کوایک درخواست پیش کی جس پر چودہ ہزار خواتین کے دستخط تھے۔ 2018 میں نسائی تحریک چلانے والی خواتین کارکنان کے خلاف کریک ڈائون ہوا اورکچھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس تحریک میں سب سے زیادہ زور اس مہم پر تھا کہ انہیں عوامی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے۔ جون 2018 میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دے دی گئی اور خواتین لیڈرو اسکالرمضاوی الرشید (Madawi al-Rasheed)نے اسے خواتین کی فتح سے تعبیر کیا۔ اس موقع پر اس نے شادی شدہ خواتین کیلئے مرد سرپرست کی اجازت، ملازمت، تعلیم اور طبی ضروریات کے لئے مردوں کی اجازت کا حوالہ بھی دیا اور ان پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ [iv]

شہزادہ محمد بن سلیمان کو جون 2017 میں ولی عہد مقرر کیا گیا اور انہوں نے سعودی عرب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات کیں۔ مئی 2018 میں جنسی ہراسمنٹ کا قانون منظور کروایا، اپریل میں سینما پر پابندی ختم کی، لڑکیوں کیلئے اسکولوں میں فزیکل ایجوکیشن پروگرامز شروع کئے اور انہیں کھیلوں کے پروگرامز میں شرکت کی اجازت دی۔ ستمبر 2019 میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ای ویزا متعارف کروایا، سیاحوں کے لباس میں نرمی کا اعلان کیا، اپریل 2020 میں کوڑوں کی سزا ختم کی، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے کئی پروجیکٹس شروع کئے، کھیلوں اور تفریح کیلئے علیحدہ شہر بسانے کے پروجیکٹ بنائے۔ [v]

2017 میں خواتین کی ریٹائرمنٹ کی عمر مردوں کی طرح ساٹھ سال کی گئی، خواتین کو ملازمت کے دوران حمل اور زچگی کی چھٹیاں دینے اور صنفی بنیادوں پر امتیازات کی ممانعت کی گئی۔ 2018 میں سعودی خواتین کیلئے غیر جنگی فوجی ملازمتیں بھی کھول دی گئیں۔ جنوری 2020 میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے خواتین کے لئے پہلا فوجی سیکشن شروع کیا اور کہا کہ انہیں اعلیٰ عہدوں تک جانے کی اجازت ہے۔ 2019 میں شہزادی ریما بنت بندر آل سعود کو امریکہ میں سعودی سفیر مقرر کیا گیا۔ جولائی 2020 میں للک السفادی(Lilac AlSafadi) سعودی الیکٹرانک یونیورسٹی کی پہلی خاتون صدر بنیں۔

اگست 2019 میں شاہی فرمان جاری ہوا جس میں 21 سال سے زائد عمر کی سعودی خواتین کو مرد سرپرست کے بغیرپاسپورٹ حاصل کرنے اوربیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس فرمان کے تحت خواتین کو شادی، طلاق یا پیدائش کا اندراج اور دیگر خاندانی دستاویزات حاصل کرنے کا حق بھی دیا گیا اور ماں کو اپنے بچے کا قانونی نگہبان قرار دیا گیا۔ یہ اجازت ملنے کے بعد مضاوی الرشید نے کہا کہ ‘سعودی فیمنسٹ تحریک سب سے منظم اور متمدن سول سوسائٹی ہے۔ سعودی فیمنسٹ تحریک کو عالمی فیمنسٹ تحریکوں کی حمایت حاصل ہے اور اس نے سعودی خواتین کے درمیان انسانی حقوق کے تصورات کو مقبول بنایا ہے’۔ [vi]

سعودی عرب میں مذہبی علماء کے کئی گروہ ہیں جن میں سلفی، جہادی، اسٹیبلشمنٹ کےعلماء، اسلامی لبرلزاور شیعہ علماء شامل ہیں۔ ریاستی علماء کو سعودی اسٹیٹ کرافٹ میں ایک آلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے آج تک حکومتی فیصلوں کے خلاف کبھی کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی ریاست اور ان علماء کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ صرف ریاستی علماء ہی نہیں بلکہ سعودی عرب سے باہر پائے جانے والے انکے حمایتی علماء کی اکثریت بھی سعودی ریاست کے ہر فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے جب وژن 2030 کا اعلان کیا تو اسے اکثر سعودی علماء کی حمایت حاصل تھی۔ صرف اسلامی بیداری کے نام سے علماء کا ایک گروپ ہے جس نے ان اقدامات پر تنقید کی اورانہیں گرفتار کیا گیا۔ [vii]

سعودی عرب سے باہر کے علماء میں سے صرف بیت صفافا(فلسطین) کی مسجد الرحمن کے امام اور خطیب شیخ عصام عمیرہ نے محمد بن سلمان کے عزائم پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں محمد بن سلمان کو ترکی کے صدر مصطفیٰ کمال سے مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ مصطفیٰ کمال نے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا، اسلامی شریعت کو معطل کیا، ترکی رسم الخط کو عربی اور فارسی سے لاطینی میں بدلا، نماز اوراذان کو ترکی زبان میں تبدیل کیا، مساجد کو عجائب گھر میں تبدیل کیا، لوگوں کو حج و عمرہ ادا کرنےاور عید منانے سے روکا، نصاب تعلیم سے اسلامی تعلیمات کو ختم کیا، خواتین کے حجاب پر پابندی لگائی اوران پر مردوں کی نگہبانی ختم کی، شرعی میراث کے احکام کو تبدیل کیا اورمخلوط تعلیم اور معاشرت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی روح ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے چنانچہ اس نے ہر دینی رجحان اور روایت کو ختم کیا، علماء کو مدارس اور جامعات سے نکال کر شہید کیا۔

اسی طرح سعودی حکمرانوں کو خلافت اسلامیہ کے خلاف بغاوت کے صلے میں اقتدار ملا اور آج محمدبن سلمان نے سعودی عرب میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ادارے کو کالعدم کرتے ہوئے اسے جنرل انٹرٹینمنٹ کے ادارے سے بدل دیا، کرونا کا بہانہ بنا کر حرمین شریفین کو بند کیا اور حج و عمرہ کی ادائیگی کو محدود کیا، علماء کی وفاداریاں خریدیں اورمخالف علماء کو گرفتار اور شہید کیا۔ اسکا ویژن 2030 کا منصوبہ بھی مصطفیٰ کمال کی طرز پر تبدیلیاں لانا چاہتا ہے تاکہ یہ ریاست مغرب اور اسرائیلی تعلقات کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔ لیکن اس سے حرمین کی مقدس سرزمین میں بے حیائی پھیلے گی، اسلامی تعلیمات، عبادات و معاشرت کو نقصان پہنچے گا اور مغربی ثقافت کو فروغ دینے والی طاقتیں اسکو بطور مثال پیش کریں گی ‘۔ [viii]

 متحدہ عرب امارات میں فیمنسٹ رجحانات:

متحدہ عرب امارات کی بنیاد بطورفیڈریشن دسمبر 1971 میں رکھی گئی اور اس میں سات امارات شامل ہوئیں۔ 1968 میں برطانیہ نے ان ریاستوں میں اپنے عمل دخل سے دستبرداری کا فیصلہ کیا اور اسکے نتیجے میں ابوظہبی کے حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان اور دبی کے شیخ رشید بن سعید المکتوم نےفیڈریشن قائم کرتے ہوئے دیگر امارات کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ [ix]

1960 میں تیل کی دریافت سے پہلے متحدہ عرب امارات کا معاشرہ روایتی طرز کا تھا اورخواتین کی شرکت صرف گھر اور خاندان کے دائرے تک تھی۔ 1990 کی دہائی میں خواتین کی پانچ سوسائٹیز قائم ہوئیں جو تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود کا کام کرتی تھیں۔ 2002 میں خواتین کیلئے بزنس کی سہولیات مہیا کرتے ہوئے ایک باضابطہ نیٹ ورک تشکیل دیا گیا اور اس وقت اس نیٹ ورک میں 12000 خواتین 6.81ملین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ موجود ہیں۔ ابوظہبی اسٹاک ایکسچینج میں خواتین سرمایہ کاروں کی تعداد 43 فیصد ہے اور شہر کے دیگر کاروباری خواتین کی تعداد 14000 ہے۔ ان میں شیخہ لبنا بنت خالد بن سلطان القاسمی(Sheikha Lubna bint Khalid) بھی شامل ہیں جنہیں 2004 میں وزیر برائے معیشت و منصوبنہ مقرر کیا گیا تھا اور پھر وہ وزیر خارجہ برائے تجارت تعینات ہوئیں۔ [x]

2006 میں متحدہ عرب امارات میں خواتین کو پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی اور وفاقی مقننہ میں آٹھ خواتین کو نشستیں دی گئیں جو22.5فیصد تھا۔ ستمبر 2008 میں ڈاکٹر حصہ العتیبہ (Dr. Hissa Al Otaiba) اور نجلاء القاسمی(Najla Al Qasimi) کو اسپین اور سویڈن میں بطورخاتون سفیر تعینات کیا گیا۔ 2018 میں فیڈرل نیشنل کونسل میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد تھی اور کابینہ میں 30 فیصد خواتین تھیں یعنی کابینہ کے 33 اراکین میں سے نو خواتین وزراء تھیں۔ ستمبر 2013 میں لانا نسیبہ(Lana Nussibeh) کو اقوام متحدہ میں نمائندہ مقرر کیا گیا اور 2017 میں وہ اقوام متحدہ خواتین بورڈ کی صدر منتخب ہوئیں۔ [xi]

2019 میں گھریلو تشدد سے تحفظ کاایک شاہی فرمان جاری ہوا اور اس میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کیلئے چھ ماہ قید یا 5000 تک کا جرمانہ ہے۔ پرسنل لاء کے تحت کچھ معاملات میں خواتین کیلئے مرد سرپرست کی رضامندی ضروری ہے۔ مسلم خواتین کیلئے غیر مسلم مرد سے شادی قانونی طور پر ممنوع ہے اور یہ عمل زناکاری تصور کئے جاتے ہوئے قابل سزا ہے۔ [xii]

2006 میں 20 فیصد خواتین ورک فورس میں شامل تھیں، 2018 میں یہ شرح 28 فیصد 2019 میں 52 فیصد اور 2020 میں 57.5فیصد تھی۔ سرکاری شعبے میں 2005 میں 22 فیصد اور 2007 میں 66 فیصد خواتین شامل تھیں۔ 2020 میں لیبر لاء میں ترمیمات کرکے عورت اور مرد کی تنخواہیں مساوی کی گئیں۔ خواتین کو اپنی ملازمت کے انتخاب میں آزادی ہے بشرطیکہ کہ انکا قانونی سرپرست رضامند ہو۔ نجی شعبے میں حاملہ خواتین کو 45 یوم کی زچگی کی چھٹیاں بمع تنخواہ میسر ہیں۔ دودھ پلانے والی مائوں کو ایک گھنٹہ کی اضافی چھٹی دی جاتی ہے۔ خواتین جائیداد کی ملکیت رکھنے میں آزاد ہیں اور دبئی کی غیر منقولہ جائیداد کا 30 فیصد خواتین کی ملکیت ہے۔ عالمی بینک کی 2021 کی رپورٹ کےمطابق معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے متحدہ امارات مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پہلے نمبر پر ہے۔ بےشمار کمپنیوں میں خواتین بورڈز کی ممبر ہیں۔ چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام خواتین کی کاروباری کونسلیں بھی تشکیل دی گئ ہیں جو خواتین کو مدد فراہم کرتی ہیں۔ 2014 میں عرب ویمن لیڈرشپ فورم قائم ہوا جسکی میزبانی متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم راشد المکتوم کرتے ہیں۔ [xiii]

متحدہ عرب امارات کی خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے جنرل ویمن یونین کی بنیاد 1974 میں پڑی اور دبئی ویمن اسٹیبلشمنٹ کا آغاز 2006 میں ہوا۔ امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم محمد بن راشد المکتوم اور منال بنت راشد المکتوم کی سربراہی میں دبئی کے سماجی اور معاشی مستقبل میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے میں مدد کی جاتی ہے۔ دبئی فائونڈیشن برائے خواتین و اطفال 2007 میں قائم کی گئی جو خواتین اور بچوں کو گھریلو تشدد اور اسمگلنگ وغیرہ سے بچانے میں معاشرتی، ، قانونی، طبی، تفریحی اور تعلیمی مدد فراہم کرتی ہے۔ صنفی توازن کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات نے 2015 میں صنفی توازن کونسل تشکیل دی۔ اسکا مقصد تمام سرکاری شعبوں میں صنفی فرق کو کم کرنا، صنفی مساوات سے متعلق عالمی مسابقت کی رپورٹوں میں امارات کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور اس سلسلے میں دیگر اقدامات اٹھانا شامل ہے۔ شیخہ فاطمہ بنت مبارک ‘جنرل ویمن یونین’ کی چیئر پرسن اور فیملی ڈویلپمنٹ کونسل کی صدر ہیں۔ انہوں نے تمام نجی و سرکاری اہم شعبہ جات میں خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے ترقیاتی پروگراموں کے فریم ورک اور حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔ [xiv]

2007 میں اعلیٰ تعلیم میں امارتی خواتین کا تناسب تیزی سےبڑھا اور یونیورسٹی جانے والی خواتین طالب علموں تعداد مردوں سے دوگنا ہوگئی۔ ہائی اسکول سے فارغ ہونے والی 95 فیصد خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ کالج سے فارغ التحصیل خواتین کی تعداد 70 فیصد ہے اور ان میں سے 60 فیصد خواتین ملازمت کے حصول کیلئے آگے بڑھتی ہیں۔ العین قومی یونیورسٹی میں خواتین کی تعداد 75 فیصد ہے۔ مجموعی طورپر خواتین میں خواندگی کی شرح95.8 فیصد ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 93.1 فیصد ہے۔ امارتی خواتین کا دن ہر سال 28 اگست کو منایا جاتا ہے اور 2003 سے کامیاب کاروباری اور پیشہ ور خواتین میں سے 12 کو اعزازات، قیادت، حکمت عملی، مالی منصوبہ بندی، کیئریر کی کامیابیوں، معاشرتی شراکت اور جدت طرازی کے معیارات سے نوازا جاتا ہے۔ [xv]

دبئی ویمن کالج میں بزنس ڈیپارٹمنٹ کی چئیرپرسن ڈاکٹر مونیکا گیلانٹ (Dr Monica Gallant) کاکہنا ہے کہ عرب حقوق نسواں پر بات کرتے وقت اسلامی اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ نسائی تحریک کو چاہیے کہ یہاں کے مقامی ثقافتی نظریات کو بھی مدنظر رکھے تاکہ خواتین کو معاشرے سے کاٹ کر الگ نہ کیا جائے۔ یہاں کی خواتین کی اکثریت معاشرے کی توقعات سے زیادہ مختلف نہیں ہونا چاہتیں اور انکی اس خواہش کا احترام کیا جانا چاہیے۔ عرب خواتین میں بتدریج جو تبدیلی آرہی ہے وہ اسکو فیمنزم سے منسلک نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ فیمنزم مغرب سے درآمد شدہ مرد مخالف صنفی نظریات ہیں۔ عرب خواتین میں بیوی اور ماں بننے کی توقع بہت مضبوط ہے اور وہ رضاکارانہ طورپر اسکے خلاف نہیں جانا چاہتیں۔

متحدہ عرب امارات یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کی پروفیسر ڈاکٹر سعد زید الاوریم(Dr Suad Zayed Al Oraim) کا استدلال ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے کسی کردار پر مطمئن اور خوش ہے تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسے وہ ذمہ داری ادا کرنے سے روکے۔ متحدہ عرب امارات میں کوئی سول یا مذہبی قانون ایسا نہیں جو خواتین کو تنہا زندگی گزارنے سے روکتا ہو لیکن اگر کوئی عورت تنہا رہنا چاہتی ہے تو تمام نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔ ہمیں عام ثقافت اور اسلامی اصولوں میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام میں مرد بمقابلہ خاتون کی بات نہیں ہوتی۔ اسی طرح ثقافتی معاملات کی ذمہ داری اسلام پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عرب دنیا میں مغربی طرز کے فیمنزم کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ [xvi]

زبیل انویسٹمنٹ کارپوریشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر امینہ طاہر کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مردوں اور عورتوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور کچھ معاملات میں خواتین کے ساتھ زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔ فیمنسٹ تحریک ان لوگوں کیلئے کام کرتی ہے جن کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا۔ یہاں اسکی ضرورت نہیں کیونکہ اگر خواتین کی یہ خواہش ہے کہ مردوں کی طرف سے انکے ساتھ زیادہ بہتر سلوک کیا جائے تو انہیں چاہیے کہ اپنے بیٹوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہو۔ عرب خواتین غلام نہیں ہیں، انہیں ووٹ ڈالنے کا حق، انتخاب کا حق، تعلیم، روزگار، کاروبار اورصحت وغیرہ کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ [xvii]

تنقیدی جائزہ:

اسلامی فیمنزم، نوے کے عشرے  میں  ظہور پذیر ہوتے ہی وسیع پیمانے پر زیر بحث ہے۔ شمالی امریکہ کی یونیورسٹیوں میں  اس کے حوالے سے دو مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ پہلا نقطہ نظر مریم کوک(Miriam Cooke) ، مارگٹ بدراں (Margot Badrran)، افسانے نجم آبادی(Afsaneh Najmabadi)، زیبا میر حسینی (Ziba Mir Hosseini) اور نیرہ توحیدی(Nayereh Tohidi) کے کام پر مشتمل ہے۔ یہ اسکالرز اسلامی فیمنزم کو حقوق نسواں کی تحریک کے طوپر قبول کرتے ہوئے استدلال کرتے ہیں کہ ‘اسلام میں خواتین کا مقام اور حقوق ‘ کے حوالے سے روایتی علماء کی تشریحات، مغرب میں رہنے والی مسلم خواتین کے موقف اور مین اسٹریم فیمنزم کےقائم کردہ مفروضات میں بہت واضح اختلافات اورتضادات پائے جاتے ہیں۔ اسلامی فیمنزم ان مختلف الخیال لوگوں کے ڈسکورسز میں مکالمے کی غرض سے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے درمیانی راستہ فراہم کرتا ہے۔

یہ اسکالرزاسلامی فیمنزم کے حق میں دلائل دیتے  ہیں  کہ اسلامی متون کی تعبیر و تشریح کرنے والوں میں سب مرد ہیں حالانکہ اس شعبے میں خواتین کی شرکت ضروری ہے اور یہ اسلامی فیمنزم کی تحریک سے ہی ممکن ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ صنفی مساوات کے حوالے سے سیکولر فیمنزم کی اب تک کی جانے والی کوششوں کو صرف اسلامی فیمنزم ہی مسلم خواتین کیلئے بارآور بنا سکتا ہے کیونکہ یہ متضاد ڈسکورسز کے درمیان ایک مشترکہ گرائونڈ فراہم کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلامی فیمنزم نہ صرف کارآمد چیز ہے بلکہ دو الگ نظریات کے درمیان اتحاد اور اعتدال کا راستہ تلاش کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ یہ نہ صرف ریاست کی سیکولر خطوط پر تشکیل کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم ہے بلکہ یہ ایک ایسی آواز ہے جو اقتدار میں اصلاحات کی خواہاں ہے۔

ان اسکالرز کے خیال میں انیسویں صدی کے آخر میں مسلمان معاشروں کی خواتین اور فیمنزم کے درمیان جو تعلق استوار ہو ا وہ جدیدیت، ماڈرنائزیشن، قوم پرستی، انٹی کالونیل ازم اور اسلامائزیشن کے ڈسکورس کی وجہ سے ہوا۔ آج کے جدید مسلم معاشروں میں جدیدیت، پس جدیدیت، اصلاح، ترقی اور تبدیلیوں کا سامنا ہے اوراس صورتحال میں اسلامی فیمنزم ناگزیر ہے۔ اسلامی فیمنزم کا ایک ایسا دہرا کردار ہے جو ایک طرف مذہب اور مذہبی سرگرمیوں کو فیمنسٹ نظریہ، تھیوری اور تحریک کے فریم ورک میں ضم کرتا ہے اور دوسری طرف مذہبی حلقوں کے اندر فیمنزم کو قابل قبول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ [xviii]

ان اسکالرز کے مطابق  اسلامی فیمنزم کے نظریات کی تائید قرآنی تعلیمات کے اندر اصولی طور پر موجود ہے صرف جدید سوشیو پولیٹیکل تعبیر و تشریح کے ذریعےقرآنی اصولوں سے صنفی مساوات کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ظالمانہ معاشرتی ڈھانچوں خاص طورپر پدرسری کو چیلنج کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کی وکالت کی جا سکتی ہے۔ مذہبی ذرائع کو تاریخی تناظر میں اس طرح ڈی کنسٹرکٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ مردانہ بالادستی واضح ہو، وومن پرسپیکٹو کی تائید ہو، متحرک صنفی طرز عمل کے حوالے سے مکالمے کی فضا پیدا ہو اور معاشرتی انصاف و مساوات کو تعلیمات وحی سے اخذ کرتے ہوئے ایک نیا ڈسکورس تشکیل پا سکے۔ [xix]

لگ بھگ یہی خیالات انڈونیشیا کی ایک نسائی تنظیم ‘سسٹرز ان اسلام’ اور ایک  انٹرنیشنل تنظیم ‘مساواۃ Musawah ‘ کے ہیں۔انکا خیال ہے کہ مذہبی معاملات میں مردوں کو اس لئے سرپرستی حاصل ہے کہ تمام اسلامی نصوص کی تشریحات مردوں نے کی ہیں۔ قرآن مجید کے ان تراجم پر یہ معترض ہیں جن میں مرد کو قوام کہا گیا اورعورت کی مدد کرنا اسکی مذہبی ذمہ داری بتایا گیا۔ انہیں ایسے قوانین پر بھی اعتراض ہے جن میں عورت کو گھر سے باہر سفر کرنے، گاڑی چلانے یا کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان  کے خیال میں اسلامی فقہ کےمتون اس وقت لکھے گئے جب مشرق وسطیٰ میں پدرسری ایک غالب ثقافت تھی اور ان متون کو اسی تناظر میں پڑھنا چاہیے۔ اس حوالے سے زینا انور کا کہنا ہے کہ شرعی قوانین خدائی نہیں بلکہ خدا کے کلام میں انسانی مداخلت ہے اور انہیں حالات کی ضرورت کے مطابق کبھی بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انکا مطالبہ ہے کہ  خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں بھی  نصوص کی تعبیر و تشریح کرنے کا مساوی اختیار دیا جائے۔ یہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اسلامی نصوص کی تشریحات،انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونی چاہیں۔[xx]

انکے مقابلے میں جو نقطہ نظر اسلامی فیمنزم کا ناقد ہے اسکی ترجمانی کرنے والوں میں ایرانی نیشنل یونین کی بانی ڈاکٹر ہائیدے موگسی (Haideh Moghhissi)، ایرانی نژاد ماہر وومن و جینڈر اسٹڈیز، شہرزاد موجب(Shahrazad Mojab)، حامد شاہدان(Hammed Shahidian)و دیگر شامل ہیں۔ اس نقطہ نظر  کے ماننے والوں کا استدلال ہے کہ اسلام اور فیمنزم دو مختلف نظریات، تحاریک اورآئیڈیالوجیز ہیں جو کبھی باہم متفق نہیں ہو سکتیں اس لئے یہ نقطہ نظر اسلامی فیمنزم کو متضاد اورمتناقض خیالات کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔ انکا  خیال  ہے کہ اسلامی فیمنزم ان اصلاح پسندوں، سیکولرسٹوں، سوشلسٹوں اور فیمنسٹوں کے راستے میں رکاوٹ کے علاوہ کوئی مفید چیز پیش نہیں کر سکتاجو اسلامی معاشروں اور خاص طورپر ایران جیسی بنیاد پرست تھیوکریٹک ریاست کی اصلاح چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر موگسی کا ماننا ہے کہ قرآن و حدیث کے متون کی نئی تعبیر و تشریح کرکے اصل تعلیمات کو جتنا بھی موڑا، گھمایا، پھیرا اور لچکدار بنایا جائے لیکن صنفی مساوات کے نظریات اور قرآنی تعلیمات میں مطابقت اورہم آہنگی پیدا نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی حکمرانی اور ریاستی معاملات کے دوران اسلامی ثقافت اور جمہوریت کی کثرتیت و ثقافتی تنوع( جو کہ ‘انفرادی آزادی اور انتخاب کے حق’ کی بنیاد ہے) میں مطابقت پیدا نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ڈاکٹر موگسی اسلامی فیمنزم سے ہٹ کر ان متجددین کے خلاف نہیں جو روایتی مذہبی حلقوں پر تنقید کرنے کیلئے اسلامی متون کی ماڈرن تشریحات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ جدیدیت، روشن خیالی اورانکی اقدار پر کسی قسم کا سوال اٹھاتی ہیں۔ [xxi]

ڈاکٹر موگسی اسلامی فیمنزم کو اسلامی روایت کی اندر کی تحریک، بنیاد پرستی یا مین اسٹریم فیمنزم کا متبادل نہیں مانتیں بلکہ اسے اسلام کے بارے میں بیرونی تصور اور مغرب کا نقطہ نظر و تخلیق قرار دیتی ہیں۔ وہ اسلامی فیمنسٹوں کو مختلف خیالات کے حامی اصلاح پسندوں کے گروہ قرار دیتی ہے جو پدرسری کے خلاف کوئی واضح اور سنجیدہ چیلنج کھڑا نہیں کر سکتے بلکہ وہ اسلام کے غیر مساویانہ صنفی معاملات کو ہی معذرت خواہانہ طریقوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم اسکا نقطہ نظر یہ ہے کہ اپنی ثقافت اور روایت کے بارے میں بطور فیمنسٹ خاموش نہیں رہنا چاہیے اوربنیاد پرست مذہبی حکومتوں کے رویوں پر تنقید کرنی چاہیے اوراسکے ساتھ ساتھ ایسا درمیانی راستہ اپنانا چاہیے کہ مغرب کے نو مستشرقین کے ڈسکورس کو بھی تقویت حاصل نہ ہو۔

مسلم اصلاح پسندوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر موگسی اور دیگر سیکولر فیمنسٹ ،فیمنزم اور حقوق نسواں کی کسی تحریک کے ساتھ اسلام اور مسلم شناخت کا کوئی لفظ یا اصطلاح جڑی ہوئی نہیں دیکھنا چاہتے اور اسلام کو ہر صورت میں وحشی، متشدد، حقوق نسواں کا دشمن اورمساجنی(جنسی تعصب) کا حمایتی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ [xxii]

امریکہ کے مسلم اسکالرز کے درمیان صرف اسلامی فیمنزم کی افادیت ہی زیر بحث نہیں بلکہ اسکے وجود کے بارے میں بھی یہ دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروپ اسلامک فیمنزم کی اہمیت کو بطور تحریک، نظریہ اور تھیوری کے مانتا ہے جبکہ دوسرا گروپ اسکی ضرورت اور جواز سے اختلاف کرتے ہوئےسرے سے اسکے وجود کا ہی انکاری ہے اور انکا استدلال ہے کہ یہ متضاد اور متناقض ہے کیونکہ اسلام اورفیمنزم باہم ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ اسلامی فیمنزم کو ہدف تنقید بنانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ اصلاح پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے جسے پدرسری کے ساتھ سودے بازی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اوریہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی فیمنزم معاشرتی، سیاسی یا نظریاتی پیش رفت اور اصلاحات کیلئے ٹھوس بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔ [xxiii]

تیسرا نقطہ نظر ان مسلم اسکالرز کا ہے جن کے خیال میں مسلمانوں کو فیمنزم کا لیبل استعمال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسلام کے اندر ہر قسم کے جبر کا مقابلہ کرنے کا ایک جامع نظام پایا جاتا ہے۔  ان کے خیال میں عائشہ عبد الرحمن  (بنت الشاتی)، زینہ انور،فاطمہ مرنیسی ، رفعت حسین ،سپریم کورٹ آف پاکستان کے شرعی اپلیٹ بینچ کے جج جسٹس محمد خالد مسعود اوراسلامی فیمنزم کی حمایت میں قرآن کی جدید تفسیر کرنے  والے کئی دیگرمسلم  اسکالرز قرآنی آیات کی تعبیرو تشریح سنت و حدیث کے سیاق و سباق کے بغیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جب وہ قرآنی آیات  کی  جدید تشریحات سے اپنی مرضی کے معنی کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو احادیث اس میں آڑے آتی ہیں۔

فیمنسٹ نظریات کی حمایت میں اسلامی  متون کی  جدیدتشریحات  کے استعمال سے صورتحال بہت پیچیدہ ہو رہی ہیں اور کئی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اسلامی فیمنزم پر لکھی گئی تحریریں اکثر متناقض اورمتضاد کردار پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان تحاریر کا ماخذ  بیک وقت سیکولر فیمنزم ، لبرل ازم، پوسٹ  ماڈرن ازم ، پوسٹ کولونیل ازم اور اسلامی لٹریچر ہے۔ چنانچہ اس ڈسکورس سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اس عمل کا مقصد اور غرض و غایت کیا ہے؟ اور وہ کس سے مخاطب ہیں؟

اسلامی فیمنزم کی ایک پیچیدہ صورتحال یہ  بھی ہے کہ یہ  تحریک اور لائحہ عمل کے بجائے محض ایک بیانیہ یا اظہاریہ ہے۔ اسلامی فیمنزم کا پرچار کرنے والی خواتین کی اکثریت مغربی یورپ اور نارتھ امریکہ کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہے۔ انکی سوچ جس صنفی مطالعے اور تنقیدی نقطہ نظر سے اخذ شدہ ہے وہ پوسٹ کالونیل ثقافت ہے۔ لیکن وہ اپنے آپ کو مسلم معاشروں کی ان خواتین کی نمائندہ سمجھتی ہیں جنکی پسماندگی کا ذمہ دار مسلم  مذہبی معاشرے کو قرار دیتے ہوئے وہ  ظلم و ستم کو فروغ دینے والے مذہی، ثقافتی و علمی لٹریچر کی مزاحمت  کرنا چاہتی ہیں۔یہ فیمنسٹ اسکالر ز جو پوزیشن لیتی ہیں وہ ایک پسماندہ معاشرتی گروہ  کی ہے۔ لیکن  یہ  اس  گروہ کے اندر رہ کر ان تکالیف  کو برداشت کرنےکو تیار نہیں جن سے یہ گروہ ان کے بقول صدیوں سے  دوچار ہے۔ یہ مسلم معاشرے کے اندر جس ظلم،جبر راور استحصال  کا ذکر کرتی ہیں خود اسکا سامنا کرنے کے بجائے محض مسلم  شناخت کو اپنانے پر اکتفا کرتی ہیں۔ اس طرح اسلامی فیمنزم ٹرانس نیشنل (transnational) فیمنزم کی  حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور مزاحمتی شناخت، پروجیکٹ شناخت (project identity) بن جاتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی فیمنزم  کا ڈسکورس تشکیل دینے والے اسکالر  ایسا لٹریچر تخلیق کرتے ہیں جس میں مذہبی حوالے موجود ہوں لیکن اسکے ساتھ ساتھ  وہ مذہی اتھارٹی کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ یعنی ایک طرف وہ مذہبی دلائل کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں  لیکن دوسری طرف اس پر سخت تنقید کرتے ہیں۔اسی طرح جن خواتین کے نام پر وہ آواز بلند کرتے ہیں انکا فیمنزم سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مذہب اسلام اور ثقافت سے تعلق رکھتی ہیں اورفیمنزم تعلق رکھنا ضروری نہیں سمجھتیں۔ چنانچہ ایسی صورتحال میں اسلامی  فیمنزم  صرف  نعروں پر مبنی ایسا ڈسکورس تشکیل دیتا ہے  جس میں اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ فیمنسٹ بھی لیکن ایسا گروہ مسلم معاشروں میں کہیں وجود نہیں رکھتا ۔ [xxiv]

کچھ مسلم اسکالرز کا خیال ہے کہ اسلامی فیمنزم، سیکولر فیمنزم سے زیادہ ریڈیکل ہے اور یہ عوامی شعبے میں مساوی حقوق کے ساتھ ساتھ نجی شعبے میں بھی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی فیمنزم کا عوامی دائرے میں یہ مطالبہ کہ عورتوں کو ریاست اور نمازوں کی امامت کا سربراہ ہونا چاہیے ایسا دعویٰ ہے جو سیکولر فیمنزم نہیں کرتا۔ اسی طرح نجی شعبے میں اسلامی فیمنزم، شادی اور خاندان کے معاملات میں مردانہ اختیار کے روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہوئے تمام مردوں سے مساوات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا مطالبہ کرتاہے۔

اسلامی سوشلزم،اسلامی لبرل ازم اوراسلامی جمہوریت کی طرح اسلامی فیمنزم میں بھی لفظ ‘اسلامی’ محض ایک سابقے  کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ اسلام بطور عقیدہ  و اعمال،ایمان،آخرت،تقویٰ،خوف خدا، بندگی اور مذہبی پرکٹس سے  اسکاکوئی تعلق نہیں۔ یہ   محض ایک تنقیدی منہج(Paradigm)  ،معاشرتی نقطہ نظر (Social Perspective) یا  سیاسی،سماجی ودانشورانہ سرگرمی ہے۔ اسکی توجہ  صرف تجریدی مذہبی فکر وفلسفہ، ریاستی قانونی دفعات، متون کی تعبیر و تشریح ، مذہبی اداروں،اقدار اور فقہی روایت میں  ارتقاء و اصلاح پسندی کی کوششوں،سیاسی و سماجی تاریخ  ، مسلم معاشروں کے جدید رجحانات اور صنفی مساوات کے حصول پر مرکوز ہوتی ہے لیکن  اس میں مذہب یا  دین اسلام کا وہ مطلب نہیں لیا جاتا ہے جو خالصتاً مذہبی تعلیمات میں لیا جاتا ہے۔اسلامی فیمنزم میں اہمیت صرف اس بات کی ہے کہ  مختلف اسکالر اسکے ذیلی موضوعات پر کیا انفرادی  رائے رکھتے ہیں؟ اس لئے سیکولر فیمنزم کی طرف سے اس  پر  تنقید ہوتی ہے کہ محض اسلامی کا سابقہ  لگانے سے اسلامی فیمنزم مکمل طورپر سیکولر تحریک نہیں  اور دوسری طرف روایتی مذہبی حلقے اس پر تنقید کرتے ہیں کہ اسکا جھکائو لبرل ازم اور سیکولرازم کی طرف زیادہ اور مذہب کی طرف کم ہے ۔

کچھ اسلامی  فیمنسٹ اسکالرز کا دعویٰ ہے کہ اگر اسلام کے ساتھ انکی وابستگی نہ ہوتی تو مغربی فیمنسٹ اور مسلم ممالک کے سیکولر فیمنسٹ انکی مخالفت کیوں کرتے جنکے خیال میں اسلام اور فیمنزم دو مختلف اور مطابقت نہ رکھنے والی آئیڈیالوجیز ہیں ۔ لیکن اسلامی فیمنسٹ اسکالرز کے حوالے سے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اسلام سے گہری وابستگی کا دعویٰ کرنے والے لوگ اسلام دشمن آئیڈیالوجی کو اپنا آئیڈیل کیسے بنا سکتے ہیں؟

پہلا حصہ       دوسرا حصہ          تیسرا حصہ

References

[i] “King Abdullah, Saudi monarch who modernized economy, dies at 90” mint. Retrieved from https://www.livemint.com/Politics/FDROePa2fleV4YHKpf3QrL/King-Abdullah-Saudi-monarch-who-modernized-economy-dies-at.html

[ii] Rajkhan, Safaa Fouad (2014) “Women in Saudi Arabia Status, Rights and Limitations” Retrieved from https://digital.lib.washington.edu/researchworks/bitstream/handle/1773/25576/Rajkhan%20-%20Capstone.pdf?sequence=1

[iii] Hammond, Andrew (2008) “Saudi Scholar finds ancient women’s rights” Retrieved from https://www.webcitation.org/5z383TjQC?url=http://www.reuters.com/article/2008/05/01/us-saudi-women-idUSL136115520080501

[iv] “Saudi Arabia’s ban on women driving officially ends” BBC 24June 2018. Retrieved from https://www.bbc.com/news/world-middle-east-44576795

[v] “Saudi Arabia: Proposed Reforms Neglect Basic Rights” Human Rights Watch, February 25, 2021. Retrieved from https://www.hrw.org/news/2021/02/25/saudi-arabia-proposed-reforms-neglect-basic-rights

[vi] “Saudi Arabia allows women to travel independently” BBC 2 August 2019. Retrieved from https://www.bbc.com/news/world-middle-east-49201019

[vii] Al Makahleh, Shehab & Theodore Karasik (2016) “ King Salman and the Saudi Ulama”. Retrieved from http://worldpolicy.org/2016/05/18/king-salman-and-the-saudi-ulama/

[viii] Shaikh Usam Ameera’s video link :

https://www.facebook.com/100129205199338/videos/1273275259758064

[ix] Crystal, Jill Ann (2021) “United Arab Emirates” Britannica. Retrieved from https://www.britannica.com/place/United-Arab-Emirates

[x] Gallacher, David (2009) “The Emirati Workforce: Tables, figures & thoughts” Retrieved from https://www.academia.edu/5813970/The_Emirati_Workforce_Tables_figures_and_thoughts

[xi] Jeffery, Sally (2018) “Getting Emirati Women Into work: Why our study surprised me..” Retrieved from https://www.pwc.com/m1/en/blog/getting-emirati-women-into-work-study-surprised-me.html

[xii] Nagesh, Ashitha “Princess Latifa: What are women’s rights in Dubai? Retrieved from https://www.bbc.com/news/world-middle-east-56065527

[xiii] “Women in the United Arab Emirates: A portrait of progress” Retrieved from https://www.upr-info.org/sites/default/files/document/united_arab_emirates/session_03_-_december_2008/upr_uae_annex3_e.pdf

[xiv] “National Strategy for Empowerment of Emirati Women” Retrieved from https://u.ae/en/about-the-uae/strategies-initiatives-and-awards/federal-governments-strategies-and-plans/national-strategy-for-empowerment-of-emirati-women

[xv] “UAE’s female literacy rate up” Retrieved from https://gulfnews.com/uae/india-uae-passengers-warned-against-fake-chartered-flights-1.80355448

[xvi] Moussly, Rania (2010) “Feminism in the Arab World” Retrieved from https://gulfnews.com/general/feminism-in-the-arab-world-1.568915

[xvii] Moussly, Rania (2010) “Feminism in the Arab World” Retrieved from https://gulfnews.com/general/feminism-in-the-arab-world-1.568915

[xviii] Moghadam, Valentine, M. “Islamic Feminism and its Discontents: Towards Resolution of the Debate”. Retrieved from https://tavaana.org/nu_upload/L1_-_Islamic_feminism.pdf

[xix] Abdallah, Stephanie Latte (2010) “Islamic Feminism Twenty Years on: The Economy of A Debate and new Fields of Research” Translated by Than Rundell. Retrieved from https://www.cairn-int.info/article-E_CRII_046_0009–islamic-feminism-twenty-years-on-the-eco.htm

[xx] Segran, Elizabeth (2013) “The Rise of the Islamic Feminists”. Retrievved from https://www.thenation.com/article/archive/rise-islamic-feminists

[xxi] Moghissi, Haideh (1999) “ Feminism and Islamic Fundementalism:The Limits of Postmodern Analysis”. Retrieved from https://literariness.org/wp-content/uploads/2020/04/Hiadeh-Moghissi-Feminism-and-Islamic-Fundamentalism_-The-Limits-of-Postmodern-Analysis-1999-Zed-Books.pdf

[xxii] Moghadam, Valentine, M. “Islamic Feminism and its Discontents: Towards Resolution of the Debate”. Retrieved from https://tavaana.org/nu_upload/L1_-_Islamic_feminism.pdf

[xxiii] Moghadam, Valentine M. “Islamic Feminism and Its Discontents: Towards Resolution of the Debate”. Retrieved from https://tavaana.org/nu_upload/L1_-_Islamic_feminism.pdf

[xxiv] Djelloul, Ghaliya (2018) “Islamic Feminism: A contradiction in terms?” Retrieved from https://www.eurozine.com/islamic-feminism-contradiction-terms/

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply