افسانہ نگاربیگ احساس کی یاد میں —- محمد حمید شاہد

0

بیگ احساس بھی چلے گئے۔ ہندوستان سے اُن کے مرنے کی خبرہمارے ایک مشترکہ دوست نے ایک دِن پہلے دے دی تھی حالاں کہ وہ اس روز ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے اور ڈاکٹر وینٹی لیٹر ہٹانے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ اس روز سوشل میڈیا پر بھی ان کے مرنے پر افسوس ہوتا رہا۔ ایک زندہ آدمی کے مرنے کا افسوس۔ شام تک پہلی کی خبر کی تردید آگئی تو سب نے اُن کی جلد صحت اور سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔ ان کی بیماری کی خبریں کئی روز سے آرہی تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ وہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر بے سدھ پڑے تھے۔ دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بولنا سننا کچھ نہ تھا مگر جس روز ان کی موت کی خبر چلی، وہ زندہ تھے۔ اُس سے اگلے روز یعنی ۸ ستمبر۲۰۲۱ء کی صبح ساری اُمیدیں دم توڑ گئیں۔ وینٹی لیٹر الگ ہوا اور وہ چل بسے۔

افسانہ نگار بیگ احساس کو میں نے بہت پہلے پڑھا تھا مگر اُن سے دوستی کو یہی نو دس برس ہو چلے ہیں۔ کوئی موقع ہی نہیں نکلا کہ اُن سے ملاقات ہو پاتی۔ مگر جب سے انٹر نیٹ پر بات کرنے کی صورتیں نکلی ہیں، انہی وسیلوں سے بات ہوتی رہی کبھی وائس کال، کبھی ٹیکسٹ میسج۔ جس طرح افسانہ لکھتے ہوئے دھیمے انداز میں آگے بڑھتے تھے، بالکل ایسے ہی ہمارا تعلق بھی آگے بڑھا۔ پہلے اُن کا میسج ملا کہ ’’میں بیگ احساس ہوں اور آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ بس پھر کیا تھا ہم میں بات چیت کا سلسلہ چل نکلااور ایسی بے تکلفی ہوئی کہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ہم کبھی نہیں مل پائے تھے اور نہ ہی آئندہ مل پائیں گے۔

بیگ احساس عثمانیہ یونیورسٹی ا ور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے منسلک رہے۔ ان یونیورسٹوں میں وہ شعبہ اردو کے صدر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ انہیں ماہر تعلیم کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اورادبی نقاد کے طور پر بھی مگر میرے لیے اور شاید ساری ادبی دنیا کے لیے ان کا سب سے نمایاں اور اہم حوالہ افسانہ نگاری ہے۔ بیگ احساس نے گیان چند کے مشورے اور نگرانی میں کرشن چندر کی شخصیت اور فن پر ۱۹۹۷ء میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا؛ جی اُس زمانے میں کہ جب بہ قول اُن کے’’کرشن چندر کے نام پر سب ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ ‘‘ بیگ احساس کا کہنا تھا کہ اُس زمانے میںخود انہیں بھی راجندر سنگھ بیدی، منٹو، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین زیادہ اپیل کرتے تھے۔ ‘‘ خیر یہ مقالہ انہوں نے محنت سے لکھا اور بعد ازاں ۱۹۹۹ میں یہ شائع ہوا اور کرشن چندر کی زندگی اور فن پر ایک حوالے کی کتاب بن گیا۔ بیگ احساس اقبال اکیڈمی حیدر آباد(انڈیا) کے رسالے ’’اقبال ریویو‘‘ اور ادارہ ادبیات اردو حیدر آباد (انڈیا) کے ماہنامے ’’سب رس‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ ۲۰۱۳ میں ’’سب رس‘‘ کا پہلا شمارہ ان کی ادارت میں ہی شائع ہوا تھا اور اس پرچے کی ادارت کا زمانہ اُن کی زندگی کے آخری برسوں تک چلا آتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُن کی بڑی اور اہم شناخت افسانہ لکھنے والے کی ہے اور رہے گی۔

کچھ زیادہ دِن نہیں گزرے انہوں نے بتایا تھا کہ اُن کے کام کے حوالے سے کوئی کتاب چھپنے جا رہی ہے اور چاہا کہ میری کوئی تحریر اُس کا حصہ بنے۔ میں نے اُن کی افسانہ نگاری پر ایک مختصر سی تحریر لکھی اور انہیں بھیج دِی۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد اس کتاب کا کیا بنا ؛ میں نے پوچھا نہ اُنہوں نے اس کاذکر چھیڑا۔ بیگ احساس کی رحلت کی خبر آئی تو وہ تحریر یاد آئی۔ اسے ڈھونڈھ کر اپنے دوست کی یاد میں یہاں نقل کیے دیتا ہوں۔ :

’’ بیگ احساس کو تخلیقی سطح پر اُن سچے اور کھرے لوگوں میں شمار کیا جانا چاہیے جو عین ایسے زمانے میں بھی اپنے تخلیقی صلاحیتوں سے وابستہ رہنے کو ترجیح دے رہے تھے جب اُن کے ساتھی (جوق در جوق ایک فیشن میں) علامت اور تجرید کے نام پر خوب خوب دھول اُڑا کر نام کما رہے تھے۔ ’’حنظل‘‘ اور ’’دخمہ‘‘ جیسے افسانوں کے اہم مجموعے دینے والے بیگ احساس نے اپنے لکھنے کا آغاز گزر چکی صدی کی ساتویں دہائی میں کیا تھا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’خوشہ گندم ‘‘ 1979 میں شائع ہوا اور انہوں نے ’’حنظل‘‘ اور ’’دخمہ‘‘ جیسے افسانوں کے اہم مجموعے دے کر جو توقیر پائی وہ اس ہنگامے کی بنیاد پر نہ تھی جو جدید افسانے کی بنیاد پر اٹھایا گیا تھا اور اٹھایا جاتا رہا حتیٰ کہ اس گروہ کو ہانپ کانپ کربیٹھ جانا پڑا۔ جہاں یہ گروہ پہنچ گیا تھا وہاں ادب کا عام قاری تو کیا، فکشن کا خاص قاری بھی ان کے پیچھے نہیں گیا تھا۔ فکشن کا قاری ہمیشہ کہانی سے وابستہ رہا۔ جی، اُس کہانی سے جس کے بھید بھنور افسانے کے متن میں خوشبو کی طرح رچ بس جاتے ہیں۔ یہ کہانی بیگ احساس کے پاس تھی۔

بیگ احساس کے پاس محض کہانی نہ تھی، انتہائی مناسب زبان بھی تھی اور ایسا حوصلہ بھی کہ وہ تخلیقی تجربے کی کٹھالی میں کہانی اور زبان، دونوں کو سہار پگھلا کر فکشن کے لیے خاص بیانیے میں ڈھال سنوار لیں ؛ جی، بالکل یوں جیسے کوئی مشاق سنیارا سونا پگھلا کرکسی بھی مٹیار کا دِل ہتھیانے والا زیور ڈھال سنوار لیتا ہے۔ بیگ احساس کو ڈھنگ سے جاننا ہواور یہ بھی جاننا ہو کہ وہ کیسے اپنے ہم عصروں سے الگ اور نمایاں ہوئے تو ’’دخمہ‘‘ کے افسانے پڑھیے۔ ان افسانوں میں وہ اپنے بیانیے کو صاف رواں رکھ کر اور کہانی کو دھتکارے بغیر گراں قدر معنیاتی نظام قائم کرنے کے حیلے کرتے نظر آتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کوشش میں وہ کامیاب بھی نکلتے ہیں۔ ان کی ہر کہانی کا ظاہری ڈھانچہ ادب کے عام قاری لیے ہے۔ اس میں واقعات کا ایک سلسلہ ایک خاص ترتیب میں جڑ کر کہانی کے متن میں ڈھلتا ہے۔ وہ اس میں کوئی رخنہ رکھے بغیر اسے مکمل کرتے ہیں یوں جیسے کہانی سے وفاداری کا حق ادا کر رہے ہوں۔ تاہم اس کہانی کو مرتب کرتے ہوئے ان کا قلم تخلیق کے معجزے کچھ اس طرح دکھاتا ہے کہ اسی متن کے اندر ہی اندر ایک ڈیپ اسٹریکچر بنتا چلا جاتا ہے جس میں اتر کر فکشن کا خاص قاری زندگی کی تفہیم نو پاتا ہے۔ ان افسانوں میں انسانی جبلت کے تضاد ات اُن کا موضوع بنے ہیں اور بار بار بنے ہیں مگر ہر بار نئے کرداروں کو ایک الگ ماحول میں رچا بسا دکھا کر بنے ہیں۔ ہر نسل اپنا مزاج لے کر آتی ہے۔ اس کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جو اس مزاج کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نئی پرانی نسلوں میں رگڑ اور تنائو پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہر دو پیڑھیوں کا بُعد اور تقابل بھی بیگ احساس کے ہاں موضوع ہواہے۔ مذہب، سیاست اور تصادم کل کا موضوع تھے، آج یہی بریکنگ نیوز بن رہے ہیں اورآنے والے وقت کے چہرے پر بھی اسی موضوع کے سرخ چھینٹے پڑتے دکھائی دیتے ہیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ بیگ احساس کے ہاں یہ موضوع نہ ہوتے۔ یہ موضوع ہوئے ہیں اور یوں ہوئے ہیں کہ آنکھوں کے سامنے ہونے والا تماشا اور ہماری حسوں پر یلغار کرتی لمحہ رواں کی حقیقتیں محض بیان ہو کر نہیں رہ گئیں، فکشن کی دانش عطا کرتی کہانیوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ’آج‘ کو لکھنا محض ترقی پسندوں کو ہی محبوب نہیں تھا، بیگ احساس کا مسئلہ بھی ہوا ہے جو ترقی پسندی کی نیت باندھ کر افسانہ نہیں لکھتے تھے۔

بیگ احساس کے افسانوں میں کہیں مسجد کے ہمسائے میں مدتوں پہلے قائم ہونے والا میکدہ بند ہو رہا ہے اور کہیں کسی کو اپنا آبائی گھر چھوڑنا پڑ رہا ہے کہ اس کا رہن سہن تہمت ہو کر رہ گیاتھا۔ کسی کو اپنا مکان واگزار کروانے کے لیے ’مسکین‘ ہو جانا پڑتا ہے اور کہیں آئی سی یو سے پے اینگ روم میں منتقل ہونے والے کسی مریض اور اس کے بیٹے کی زندگی سانسوں کے درمیان اٹکی ہوئی ہے۔ کوئی ماں اپنی بیٹی سے اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ اسے کم عمری میں بیاہ کر راستے سے ہٹا دیتی ہے اور کہیں کوئی مسلم نوجوان کسی کنویں کی مینڈھ پر کسی لکشمی کو دیکھ کر ’پگلا لڑکا‘ ہو جاتا ہے۔ کہیں کوئی باپ، وطن پلٹتے اپنے بیٹے آمد تک اپنے عاقبت نااندیش باپ کی لاش برف کی پگھلتی سلوں کے بیچ دیکھتے رہنے پر مجبور ہے اور کہیں طمث بہنے کے دنوں میں ناخن رنگنے اور نانی کی گود میں سر رکھ لینے والی لڑکی ہے جس نے اپنی ممتا کا لہو اس لیے کردیا تھا کہ یہاں روزی روٹی کمانے والے جوڑے کے لیے ’پولٹری فارم ‘ جیسا کوئی ’چائلڈ فارم‘ نہیں ہے۔ یہیں کہیں اپنے سہاگ کو بچانے کے جتن کرتی پتی ورتااستری ہے اور کہیں کوئی اپنوں کے ہجرت کر جانے کے بعد اپنے وطن سے اپنے رشتے کو از سر نو آنکنے والے بھی۔ گویا ہرافسانے میں ایک کہانی ہے اور ہر کہانی میں کچھ کرداروں کاتلخ ماجرا ہے۔ مگر ہر کہانی محض ماجرا نہیں ہے کہ افسانے میں ڈھلتے ہوئے وہ ہماری اپنی زندگیوں کی تفسیر بھی ہے۔ محض اور صرف زندگیوں کی طولانی تفسیر نہیں؛ ایسی نایاب دانش جس کی تظہیر کسی اور طرح تحریر میں آہی نہ سکتی تھی۔ فکشن کی یہ دانش بیگ احساس کے جادو اثر بیانیے میں ڈھلنے کو محتاج اور منتظر تھی ؛ اس کاا نتظار ختم ہوا اور اب یہ اُردو ادب کے ایک باب میں سماگئی ہے۔ ‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply