تاریخ کی کروٹ اور عین الیقین —– مجیب الحق حقی

0

دنیا میں ہونے والی تبدیلیاں عمل و ردّعمل کی چین یا کڑیاں رکھتی ہیں۔ راتوں رات کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ہمارے اطراف کی ہلچل اور بدلتی رُت کسی پیہم جدّوجہد کا حاصل ہے۔ آئیں دیکھیں کہ یہ کشمکش کیا ہے اور کیوں ہے؟

اس وقت دنیا میں ذرائع ابلاغ پر جس سوچ کا غلبہ ہے وہ لادینیت ہے۔ لادینیت کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے جو خاص مادیّت اور انسانی تجربات سے ماخوذ ہوتا ہے۔ اسلامی سوچ کے علاوہ ہر مذہبی سوچ اپنی بنیادی ہیّت پر سمجھوتہ کرچکی ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی معاشرے کی مثال لے لیں وہاں مذہب صرف ذاتی حیثیت میں کچھ عقیدوں کا مجموعہ ہی نظر آئیگا۔ گویا دنیا میں یا تو آپ کو دہریت ملے گی یا اگر خدا کو مانا بھی جاتا ہے تو اس حد تک کہ خدا کائنات بناکر اس سے لاتعلّق ہوگیا ہے اور اب انسان کو اپنے علم اور تجربات کی بنا پر اپنے ذاتی اور اجتماعی فیصلے کرنے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو ڈی ازم یا فطری مذہب کا نام دیا گیا ہے۔ ڈی ازم دہریت کے اس مخمصے سے نجات کی ایک کوشش ہے کہ جس میں کائنات بغیر خدا کے غیرعقلی لگتی ہے۔ ڈی ازم میں دہریہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر خدا کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن کسی مذہب کو نہیں۔ یعنی تخلیق کے حوالے سےعقل اور شواہد کی منزل تو خدا ہے لیکن کوئی مذہب نہیں۔ ہر انسان چاہے تو اپنے خدا کو کوئی بھی حیثیت دے دے لیکن معاشرتی سطح پر اس کی اہمیت نہیں۔ گویا مذہب محض ایک تصوّراتی مظہر ہوا۔ فی الوقت دنیا میں رائج اصول وقوانین جیسے جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی نسواں، آزادی اظہار وغیرہ کا مبداڈی ازم ہی ہے۔ اس ڈی ازم کے پیروکار کہیں لبرل، کہیں سیکولر، کہیں جدّد پسند اور کہیں کسی اور نام سے اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ اس وقت دنیا جس فلسفے کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے وہ یہی ہے کہ انسان خود ایک انفرادی “خدا” ہے کیونکہ وہ کائنات میں واحد سوچتا ہوا ذی روح ہے۔

در حقیقت دنیا اس وقت نظریاتی طور پر دو حصّوں میں بٹ چکی ہے، ایک اسلای سوچ جو ایک نظریہ حیات کی علمبردار ہے اور دوسرا ڈی ازم جو دنیا میں رائج لامذہب طرز زندگی کی نمائندہ ہے۔ یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شروع میں ہی برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ لوگ ہمارا طرز زندگی، وے آف لائف بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ نیٹو کے سیکریٹری سولانا نے بھی کہا تھا کہ ابھی اسلام باقی ہے نیٹو کو نہیں توڑ سکتے۔ یہی خوف مغرب کو جو پوری دنیا میں اپنا طرز حیات نافذکرنے میں ہر حربہ استعمال کر رہا ہے افغانستان لایا کیونکہ یہاں پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا غلغلہ اٹھ رہا تھا۔

افغانستان میں ڈی ازم کے علمبرداروں کی سنسنی خیز اور ناقابل یقین ہزیمت اور رسوائی پر شور اسی لئے مچ رہا ہے کہ ایک انہونی ہوگئی اب آگے کیا ہوگا؟

دنیا کا ہر مذہب اس ڈی ازم کے آگے سر نگوں ہوکر مذہب کو انسان کا ذاتی مسئلہ مان چکا ہے لیکن اسلام اس کے مقابل صف آرا ہے۔

اسلام سے بغض کی وجہ یہی ہے کہ اسلام خدا کو فعّال مانتا ہے اور اس کے احکامات کا نفاذ چاہتا ہے، ، ،

بس یہی وہ ہڈّی ہے جو مغرب کے گلے میں پھنس چکی ہے۔

پروگرام تو یہی تھا کہ مذہب کے آخری مورچے اسلام کے مقابل جمہوریت، انسانی بے مہار آزادی، بے مہار اظہار رائے کےنظریہ کو ایک مسلم معاشرے میں زبردستی چسپاں کرکے وہاں سے اٹھنے والے اسلامی انقلاب کو وہیں پر دفن کردیا جائے۔ جس کے لیے مغرب نے خزانے کے منہ کھول دیے۔

مگرآفرین ہے ان لوگوں پر جو جدیدیت کے شیطانی طوفان کے آگے سینہ سپر ہوئے۔ وہ لوگ مادّے کی بے پناہ قوّت کے آگے ایمان، عقیدے اور روحانیت کی برہان لیکر للکارتے آن کھڑے ہوئے۔ مادیّت کے بے رحم اور خونی تھپیڑوں کو عشروں برداشت کرتے رہے اور یہ ثابت کرنے میں تن من دھن سے جُتے رہے کہ جب حق آتا ہے تو باطل کو بھاگنا پڑتا ہے۔ ہم یہ سنتے اور پڑھتے تھے کہ جآ الحق و ذھق الباطل۔ ۔ ۔ ۔ ہر مسلمان کا یقین تھا اور ہے کہ ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال مومن باطل سے ٹکر میں ثابت قدم ہو تو باطل کو معدوم ہی ہوناہوتا ہے۔

۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔

افغان جواںمردوں نے ہمارے یقین کومہمیز ہی نہیں ہمیں عین الیقین کی سوغات دی۔

یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں۔ ۔ اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں( قرآن: الطارق)

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply