چلو لمحے چھیلیں، عظیم گلزار کامجموعہ کلام —- نعیم الرحمٰن

0

سمپورن سنگھ کالرا جو گلزار کے نام سے دنیائے ادب میں منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ گلزارکی نظموں کا تازہ مجموعہ ’’چلولمحے چھیلیں‘‘ پاکستان کے صریرپبلی کیشنزنے شائع کیاہے۔ جس میں گلزار کی ایک سو ایک نظمیں شامل ہیں۔ ساتھ ہی ٹیگورکی نظموں کے تراجم پر مبنی گلزار کا مجموعہ ’’باغبان اورنندیا چور‘‘ بھی صریرنے شائع کیاہے۔ گلزار ہندوستان میں ہی نہیں پاکستان میں بھی بہت مشہورہیں۔ خود گلزار دینہ جہلم میں پیدا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی محبت کو کبھی اپنے دل سے نہ نکال سکے۔ ان کی شاعری میں بھی دینہ کا بہت ذکر ہے۔

اقبال نظرکی وقیع ادبی جریدے ’’کولاژ‘‘ نے چند سال قبل شاندار ’’گلزارنمبر‘‘ شائع کیا تھا۔ جس میں ٹی وی پروڈیوسراورمصنف بختیاراحمد نے انتہائی خوبصورت خاکے میںہمہ جہت گلزارکی تمام جہات کا خوبصورتی سے احاطہ کیاتھا، بختیار احمد نے لکھاہے۔ ’’لگتاہے خیال سے ماوراکوئی شخصیت ہے۔ ہمہ پہلو، ہمہ جہت۔ شاعر، فلمساز، گیت نگار، افسانہ نگار، کہیں تو کیا کہیں! کہ جوکچھ کہیں بجاہے۔ موصوف، بلکہ ہمہ صفت موصوف زمانہ قبل ازجنگ عظیم دوم1934ء میں ماہ ِاگست، کہ ہندمیں موسمِ بادوباراں ہوتا ہے، کی اٹھارویں کے روزوادی جہلم کے علاقے ’دینہ‘ نامی قصبے میں اس بلاخیزدنیائے ہست وبودمیں تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم دہلی میں پائی اورپھرعلاقہ اندھیری کی نگری بمبئے، کہ فی زمانہ ممبئی کہلاتی ہے، کی فلمی دنیامیں ورود فرمایا۔ چونکہ زمانہ قبل از’جلیبی بائی‘ میں فلمی دنیاسے وابستہ ہوئے تھے، لہٰذاعلم وادب کی شمع جلائے رکھی۔ گلزار صاحب ’شیلاکی جوانی‘ سے مزین فلموں کے بجائے’معصوم‘ سی فلمیں بناتے ہیں۔ وہ فلمی مسودات کی نصف سنچری مکمل کرچکے ہیں اورابھی ناٹ آؤٹ ہیں۔ ان دنوں گلزاربہت آرام سے تھے، جن دنوں فلم ’آنند‘ لکھی ہوگی۔ بچوں کی کہانیوں سے فارغ ہوکر ’گڈی ‘ لکھی۔ پھرانہوں نے ’باورچی ‘ ڈھونڈ نکالا۔ دوستوں کی خوب خوب دعوتیں کی ہوں گی جن میں حسبِ دستورِزمانہ کوئی’نمک حرام‘ بھی نکلا ہوگا۔ اس صدمے پر’خاموشی‘ اختیار کرلی، پھر کوئی نیا’انداز‘ سوجھ گیا۔ یوں سمندر کنارے جاکر ’گھروندا‘ بنا ڈالا۔ بھلا صحافت کامیدان ان سے کیونکربچ سکتا تھا سو’نیو دہلی ٹائمز‘ لکھ ڈالی۔ ہدایتکاری کی ابتدا’میرے اپنے‘سے کی اور ’آندھی‘ کی صورت ’موسم‘ میں نئی رتیں تراشتے رہے۔ یوں انہیں ’خوشبو‘ سے لطف اندوزہونے کا موقع مل گیا۔ خوش قسمتی سے’اچانک‘ انہیں’کنارا‘ مل گیا۔ ’میرا‘ سے بھی ملے۔ ’پریچے‘ کے بعدکھٹے نہیں میٹھے’انگور‘ لوگوں کو کھلائے۔ پتہ نہیں کس ہستی سے’اجازت‘ لے کرانہوں نے ’لباس‘ زیب تک کرلیا۔ مزید ایک فلم ’لیکن ‘ کی ہدایات بھی دیں۔ پھرسماج کو ’ماچس‘ دکھاکر سماج پرتھوتھو کرتے ہوئے’ہوتوتو‘ کو بھی ہدایت یافتہ کردیا۔ موصوف نے دودستاویزی فلمیں دو باکمال فنکاروں ’سرودنواز استادامجدعلی خان‘ اور’کلاسیکی گلوکارپنڈت بھیم سین جوشی‘ پربنائیں۔ ’غالب‘ پرتوسیریل بنایاہی تھااوروں کو بھی نہیں بخشا اور ’کردار‘ کے عنوان سے ہندوستان کی مختلف زبانوں کی تحریروں کوٹی وی پرروشناس کرایا۔ منشی پریم چندکے افسانوں کوبھی ٹی وی ناظرین سے متعارف کرایا۔ سات بار گلزارنے قومی ایوارڈکواعزاز بخشا۔ ان کی دستاویزی فلموں پر ایوارڈ دیے گئے۔ بچوںکی کتاب ’ایکتا‘ پر ایوارڈ حاصل کیا۔ بھارتی حکومت نے جب ساہتیہ اکیڈمی سمیت گلزار پر ہر طرف سے ایوارڈزکی بارش ہوتے دیکھی تو اس نے بھی بہتی گنگامیں ہاتھ دھولیے اور بھار تی سرکار کا تیسرا بڑا ایورڈ ’پدم بھوشن‘ گلزار کی نذر کردیا۔ فلم ’’سلم ڈاگ ملینئر‘‘ میں ان کے گیت ’جے ہو‘ نے آسکرایوارڈبھی جیت لیا۔ گلزارکے تیر نظر سے بھارتی صدر بھی نہیں بچے۔ جنہوں نے 2013ء میں پانچ سال کے لیے گلزارکو آسام یونیورسٹی کا وائس چانسلرمقررکردیا۔ ‘‘

2013ء میں گلزارکوبھارتی سینماکاسب سے بڑے داداصاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازاگیا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پینتالیس ویں شخص تھے۔ اس موقع پرمیڈیاسے بات کرتے ہوئے گلزارنے کہا۔ ’’یہ میرے لیے بہت اعزازکی بات ہے اورمجھے خوشی ہے کہ اس بار سیاہ کوٹ کامعاملہ نہیں ہوگا، جب بلاواآئے گا، تواس اعزاز کولینے دہلی ضرورجاؤں گا۔ ‘‘ واضح رہے کہ 2009ء میں جب فلم ’سلم ڈاگ ملیئر‘ پرگیت ’جے ہو‘ پرانہیں آسکرایوارڈ کاحقدارقراردیاگیا۔ تووہ صرف اس لیے یہ ایوارڈ لینے نہیں گئے کیونکہ وہ آسکرکاروایتی سیاہ کوٹ پہننے کوتیارنہ تھے۔ اس سے گلزارکی اصول پرستی بھی واضح ہے کہ وہ بڑے سے بڑے مفاد کے لیے بھی اپنے اصول قربان نہیں کرتے۔

گلزار نے جس شعبے میں ہاتھ ڈالا، اس میں اپنی انفرادیت کی چھاپ چھوڑی۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب’’جنم‘‘نے1962ء میں جنم لیا۔ ’’کچھ اور نظمیں‘‘ کے بعد’’چاند پکھراج کا‘‘زمین پراتارا۔ انہوں نے شاعری میں نئی صنف ’’تروینی ‘ متعارف کرائی۔ پھر’’رات پشمینے کی‘‘، ’’پلوٹو‘‘، ’’یارجلاہے‘‘، ’’پندرہ پانچ پچھہتر‘‘، ’’تروینی‘‘ دوکلیات’’بال وپرسارے‘‘ اور’’غزلیںنظمیں گیت تروینی‘‘ کے علاوہ بھی کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ نثرمیں مختصرافسانہ، ناول، خاکہ نگاری پران کی کتابیں شائع ہوئیں۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’چورس رات‘‘1963ء میں شائع ہوا۔ پھرکئی برس بعد ’’دستخط‘‘، ’’دھواں‘‘ اورڈیوڑھی‘‘ منظر عام پرآئے۔ ایک ناول ’’دولوگ‘‘بھی تقسیم کے موضوع پرلکھا۔ ایک ایساقیامت خیزسانحہ جوگلزارپربیتا۔ وہ جوایک سرزمین تھی، دوحصوں میں بٹ گئی اوراس کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل ہوگئی جسے پاٹانہیں جاسکتاتھا اورجس نے شب بھرمیں لاکھوںافرادکورفیوجی بنادیا۔ لگ بھگ ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگ۔ ۔ مرد، عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے ایک ایسی تقدیرکے سبب بے گھرہوگئے تھے جس کاانتخاب انھوں نے خود نہیں کیاتھا۔ اس تقسیم کے ہمراہ خون کی جوہولی کھیلی گئی، اس میں اندازاً بیس لاکھ افرادکی جانیں گئیں۔ تقسیم کایہ المیہ گلزارکبھی نہ بھلاسکے اوران کی نظم ونثرمیں اس کا ذکر کثرت سے ملتاہے۔ شخصی خاکوں، مضامین اورنظموں کامجموعہ ’’گریادرہے‘‘ سامنے آیا۔ تقسیم کے موضوع پران کی کتاب’’قدم زیرولائن پر‘‘کاانتساب گلزار نے کچھ یوں کیاہے۔ ’’ دینہ ضلع جہلم، پاکستان جہاں میں پیدا ہوا۔ ‘‘ انیس سوسینتالیس کی تقسیم نے ادیبوں کی ایک پوری نسل کی تحریروںکومتاثر کیا او ریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گلزارتقسیم کی الم ناکیوںکے چشم دیدگواہ ہیںاوریہ وہ موضوع ہے جس کی جانب وہ اپنی تحریروںمیں بار بارلوٹ کرآتے رہے ہیں۔ ڈرامے کامیدان بھی گلزارنے نہیں چھوڑا۔ ’’خراشیں‘‘ کے عنوان سے ان کے ڈراموں کامجموعہ زیورطبع سے آراستہ ہوا۔ گلزارنے بچوں پربھی دستِ شفقت رکھااوران کیلیے اکٹھی سولہ کتابیں لکھ دیںجن کی پذیرائی کایہ عالم رہاکہ بھارت کی دیگرزبانوں میں بھی ان کے ترجمے ہوئے۔

سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیرشکیل عادل زادہ، گلزارکے بارے میں کہتے ہیں۔ ’’ گلزارکے بارے میں کوئی کیاکہے، ایک عجوبہ روزگار، نادرہ کارشخص۔ سر بہ سر، سرتاپاایک تخلیق کار، ایک بے شمارفن کار۔ ان پربہت کچھ لکھااورکہاگیاہے اورجولکھ اورکہاگیاہے، وہ بہت کم لگتاہے۔ وہ اب اسی سال سے اوپر ہوچکے ہیں اورکام کررہے ہیں اور مسلسل چونکارہے ہیں۔ شعرہویاکہانی، وہ کچھ ایسامختلف، جدااورسواکردیتے ہیں کہ بے اختیارانھیں پیارکرنے کوجی چاہتاہے۔ فنون کے ہرشعبے میں تخلیقی قدرت پہلی شرط ہے، قوتِ اظہاردوسری۔ دونوں لازم وملزوم ہیں کہ تبھی کوئی بات بنتی ہے۔ نت نئے خیالوں کی کثرت وفراوانی گلزارپہ بے پناہ ہے، اظہاروبیان کاسلیقہ مستزاد۔ کہتے ہیں، اظہاروبیان کی ہنرمندی کوبھی ایک تخلیقی جستجواورتسلسلِ ریاضت چاہیے جواول تاآخر گلزارکے قریباً تمام قلم پاروںسے آشکارہے۔ جزرسی اورنکتہ طرازی ان کاطرہ امتیازہے۔ بہت نازک اورحساس قلم کارہی ادب کی سب سے مشکل صنف کہانی کاری کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ سرِعام کسی واقعے یاحادثے کے شاہد اپنے اپنے طورتفصیل بیان کرتے ہیں۔ ان میں کوئی ایسا بھی ہوتاہے جوکسی مبالغے اورحاشیہ آرائی کے بغیر ایسے لب ولہجے پرقادرہوکہ سننے والوںکوخودجائے واقعہ پرموجودہونے کاگمان گزرے۔ گلزار کی کہانیوں میں جزئیات سے ان کے غیرمعمو لی مشاہدے کااندازہ کیاجاسکتاہے۔ افسانے اورناول میں جزئیات، کہانی کاماحول اورکرداروں کے خال وخد اجاگر کرتی ہیں۔ گلزارنے بیشتردلی، کلکتے، بمبئی جیسے عروس البلادشہروں اورپردہ سیمیں کے رنگارنگ روزوشب میں زندگی گزاری ہے مگرگیارہ سال کی عمرمیں ترک کیے ہوئے ایک سادہ قصبے دینہ، جہلم سے باہرنہیں نکلے۔ دینہ کے صبح وشام ان کے رگ وپے میں دھڑکتے ہیں۔ تقسیم کے ستر سال بعد تیسری اور چوتھی نسل نمودارہوچکی ہے۔ یہ ہجرت گزیدہ نسلیں اپنی نئی بستیوں میں رچ بس چکی ہیں اورصرف دکھ کااظہارکرسکتی ہیں۔ گلزار صاحب کی نسل آخری نسل ہے، تقسیم کے لرزہ خیزمناظرسے جس کی آنکھیں ابھی تک جلتی ہیں اورجوکسی بازگشت، بازیافت کے خواب ابھی تک دیکھتی ہے۔ ان کی کہانی، نظموں کا بیانیہ بہت آنسو، بڑاکرب ہے۔ سینہ سوزاں اورقلب مضطرکے بغیرایسی تخلیق ممکن نہیں۔ انھیں کوئی ایساقلم کارہی تخلیق کرسکتا تھا، شدتِ احساس، فکروخیال، مثال آفرینی وندرت کاری میں جوگلزارکامثیل ہو، اوردوردورتک ایساکوئی نظرنہیں آتا۔ ‘‘

’’چلولمحے چھیلیں‘‘ کاعنوان کی گلزارکی انفرادیت کاآئینہ دارہے۔ یہ عنوان اسی نام کی نظم سے لیاگیاہے۔ نظم ملاحظہ کریں۔

چلولمحے چھیلیں!/ کسی ایک لمحے کوروکیں/گُزرتے ہوئے وقت سے توڑلیں/ تم لبوں پہ رکھو، میں زباں سے اُٹھالوں/ وہ لمحہ نگل لیں/ چلو لمحے چھیلیں!/ اُتاریں ہتھیلی پہ، پھونکیں اُسے، اوررکھ کے/ سُلگتے ہوئے جسم میں، / وہ لمحہ جلادیں۔ ۔ / چلولمحے چھیلیں!/ مروڑیں اُسے، اُنگلیو ںمیں لپیٹیں، اُڑائیں/ ستاروں کی ڈھیری میں ڈھک دیں! / کبھی چھیل کر، ایک لمحے میں جھانکو، / تواُس میں بھنور، جیسی نابھی ملے گی / تمہیں کال کی۔ ۔ / جہاں سے وہ لمحہ چلاتھا/ وہیں پہ ڈبودیں؟/ چلولمحے چھیلیں۔ ۔ !

گلزارکے لفظ، استعارے اورامیجری اس کی اپنی ہے۔ فکرانگیزکیفیات کووہ منفردمصرعوں شکل میں بیان کرتاہے۔ کیاوقت کوکوئی روک سکا ہے۔ وقت کاسفرتوہرصورت، ہرلمحہ، ہرآن جاری وساری رہتاہے۔ وقت کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ ایک بہت عمدہ خیال کو گلزارنے خوبصورتی سے الفاظ کاجامہ پہنایاہے۔

’’چلولمحے چھیلیں‘‘ کے پہلے صفحے پرگلزارکی ایک تروینی درج ہے۔ جس میں انہوں نے دینہ جہلم سے اپنی وابستگی کااظہاران الفاظ میں کیاہے۔ ’’میرے شہردینہ۔ ۔ / میرانواسا، سمئے گلزارسندھو/ کبھی آئے تواُسے میراگھردکھادینا!۔ ‘‘

پاکستان کے منفردنظم گوشاعرنصیراحمدناصر ’’فلیش بیک سے باہر‘‘ کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔ ’’ یوں توشاعر، ادیب، فنکار علاقوں، ملکوں، قوموںاورسرحدوں سے ورااورایک دوسرے کے دائمی دردآشناہوتے ہیں لیکن یہ دنیاجونہ صرف انسانوں کے رنگ و نسل اور قوم ومذہب کی بنیاد پرتقسیم ہے بلکہ مظاہرفطرت بھی ملکوں اورسرحدوں میں بٹے ہوئے ہیں اورجہاں بادلوں، بارشوں اورپانیوں کوبھی ایک دوسرے کی طرف بلاروک ٹوک اوربغیرپوچھ گچھ کے آنے جانے کی اجازت نہیں وہاں گلزارکوبھی اپنے آبائی وطن آنے کے لیے ویزااور اپنے ملک سے اجازت لیناپڑتی ہے۔ گلزاراس لحاظ سے خوش قسمت ہیںکہ انہیںدنیابھرمیں، جہاں جہاں اردوبولنے، لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے والے موجود ہیں، بلاتفریق ملک وقوم ایک جیسی پذیرائی ملی ہے۔ ان کے الفاظ قلم سے نکلتے اورزبان سے اداہوتے ہی یاکسی نظم، غزل، فلمی گیت یابول کاروپ دھارتے ہی ہواکے دوش پر سفر کرتے ہوئے دنیابھرمیں پھیل جاتے ہیں جنہیں نہ کوئی باڑ روک سکتی ہے نہ کوئی سرحدی چوکی۔ ادیب وشاعرہوں یاعالم لوگ، شعروادب کے قاری ہوں یاعام لوگ، شعروادب کاقاری ہوں یافلم بین، گلزارسے سب ہی محبت کرتے ہیں۔ وہ لوگ جوان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے وہ بھی صرف ان کا نام ’گلزار‘ سن کراوران کی فلم ’اجازت‘ دیکھ کر بلا اجازت ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ مختصریہ کہ گلزارکوسب ہی جانتے، پہچانتے اورمانتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے ’گلزار‘ شعروادب، آرٹ، ثقا فت اورفلم کاخوبصورت امتزاج اورانسانی جذبوںکاایک غیرمتنازعہ ’ذوسرحدی‘ استعارہ اوربرصغیرکے عوام و خواص کامشترکہ اثاثہ ہیں۔ جب امریکی کنٹری سنگراورگیت نگارباب ڈلن کوادب کانوبل انعام ملاتوادبی دنیامیں اس پرحیرت کااظہارکیاگیا۔ جانچ کے جس اصول اور محک کی روشنی میں یہ فیصلہ کیاگیااس کے مطابق توگلزارسے زیادہ اس انعام کاکوئی حقدارنہیں۔ ‘‘

’’چلولمحے چھیلیں‘‘ صریرپبلشرزنے انتہائی اعلیٰ آفسٹ پیپرپرخوبصورتی سے شائع کی ہے۔ جس کی کتابت، طباعت، سرورق اورجلدبندی بھی بہت عمدہ کی گئی ہے۔ ایک سوچوراسی صفحات کی کتاب کی قیمت آٹھ سوچالیس روپے مناسب ہے۔ کتاب کی پہلی نظم ’’برس بدلا، توکیا بدلا؟‘‘ ہے۔ جس میں اپنے مخصوص انداز میںان کاکہناہے کہ سال بدلنے پرکوئی فرق نہیں پڑتا، ایک تاریخ بدلنے کے بعدبھی سب کچھ ویسا ہی رہتاہے، جیساتھا۔

گلزارنے ’’باغبان اورنندیاچور‘‘ میں بتایاکہ بچپن میں وہ ایک دکان میں شب بسرکرتے تھے اوروقت گزاری کے لیے قریبی کھوکھالائبریری سے روزکتابیں لاکر پڑھتے۔ بھارت کے مشہورفلم کہانی ومکالمہ نگاراورخاکہ نگارجاوید اخترنے گلزارکے اس دورکوان کے مکمل تخلیق کاربننے کاباعث قراردیاہے۔ جاوید اختر خاکے میں گلزارکی کہانی اورسراپایوں بیان کرتے ہیں۔ ’’ بچپن بہت تکلیف میں گزرا۔ گزرناہی چاہیے تھا کیوں کہ سونا پگھلانے کی یہ کٹھالی ہر بڑے آدمی کی قسمت میں لکھی جاتی ہے۔ جس میں اسے پگھلایااورڈھالاجاتاہے۔ سوتیلی ماں گھرمیں سونے کی اجاز ت نہیں دیتی تھی تودکان میں جاکر راتیں کاٹتے تھے اورراتوں کوکاٹنے کاسب سے تیزہتھیارہے کتابیں اورکتابیں توآپ جانتے ہی ہیں غضب کی استادہوتی ہیں۔ چنددنوں میں وہ سب کچھ سکھا دیتی ہیں جسے وقت بھی سکھاتاہے، مگربرسوں لگادیتاہے۔ کم عمری ہی میں تقسیم دیکھی، اعمال اچھے تھے اس لیے بچ بچاکربمبئی آگئے اور۔ گلزار صاحب کوجب بھی دیکھوبڑے دھلے دھلائے، نکھرے نکھرے نظرآتے ہیں۔ بالکل ایسالگتاہے جیسے ابھی ابھی نہاکے، کپڑے بدل کے، کنگھاکرکے آرہے ہیں۔ کپڑے سفیداورسادہ۔ چائنیز کالر کا کرتا جوگھٹنوں تک نہیں پہنچتامگربہت اکڑا ہواہوتاہے۔ پتانہیں کلف سے یاگلزارکے جسم پرہونے کے غرور سے۔ سیدھا پاجامہ، جس کی موہری علی گڑھ والوں کی طرح نہ چھوٹی ہوتی ہے، نہ لکھنؤ والوں کی طرح پھیلی ہوئی۔ پاؤں میں سنہری کام کی پنجابی جوتیاں جنہیں کھسے کہا جاتاہے۔ سنہری فریم سے جھانکتی ہوئی آنکھیں اورہونٹوں کے اوپرایک شفیق مسکراہٹ جس کے نشان چہرے کے دونوں طرف جم گئے ہیں۔ کھچڑی بال جن میں اب چاول زیادہ دال کم دکھائی دیتی ہے اورہاں وہ نہایت سفیدمونچھیں، جن کے بغیرگلزارکاسراپامکمل نہیں ہوتا۔ منہ میں دانت بھی ہیں جوخاص خاص موقعوں پرنظرآتے ہیں۔ ‘‘

گلزاراردوکے عاشق ہیں اوران کابیشتروقت اسی محبوبہ کے ساتھ گزرتاہے۔ کتابوں، مسودوں اورخاموشی سے مہکتاان کاوہ کمرہ گواہ ہے کہ وہاں ایک عاشق نے اپنی معشوق کے خمِ کاکل کی آرائش کس کس طرح کی ہے۔ نظم ’’کسی موسم کاجھونکاتھا‘‘ کے چندمصرعے ملاحظہ کریں اور گلزارکی امیجری کے جادوکاشکارہوجائیں۔ ’’ دوپہریںایسی لگتی ہیں/ بنامُہروںکے خالی خانے رکھے ہیں/ نہ کوئی کھیلنے والاہے بازی، اورنہ کوئی چال چلتاہے/ نہ دن ہوتاہے اب، نہ رات ہوتی ہے/ سبھی کچھ رُک گیاہے/ کسی موسم کاجھونکاتھا/ مِری دیوارپرلٹکی ہوئی تصویرترچھی کرگیا ہے!‘‘

گلزارکے پاس اظہارکے لیے مختلف زبانوں کااتناوافرذخیرہ الفاظ موجود ہے جن کے ساتھ دلِ دردمندکے سبب ان کی ہرتخلیق سانس لیتی ہوئی اورزندگی سے بھرپورنظرآتی ہے، وہ بڑی آسانی سے کسی ماحول کی ایسی تصویرکھینچ کررکھ دیتے ہیں جس سے متعلقہ ماحول قاری کی نظر میں پھرجاتاہے۔ ان کی لفظیات میں اردو، بنگالی، فارسی، پنجابی، ہندی اورانگریزی اس خوبصورتی سے ٹانکے جاتے ہیں کہ لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ گلزار مصوربھی ہیں لیکن ان کاقلم بھی موقلم معلوم ہوتاہے۔ احساسات اورکیفیات رقم کرنے میں انہیں کمال مہارت حاصل ہے۔ گلزار صاحب کی تخلیقی رعنائیاں، ان کابے پناہ بلندتخیل، چونکانے والی لسانی فضا، محبت اورانسان دوستی اوران سب کے بہت لطیف ایکسپریشن رنگین ریشم کی طرح ان کے تمام کام میں اس طرح بکھرے ہوئے ہیںکہ ان کویکجاکرنااوران کااحاطہ کرناآسان نہیں ہے۔

ایک مختصرنظم’’نیشنل پارک میں لان کنارے‘‘ دیکھیں۔ ’’نیشنل پارک میں لان کنارے ایک پراناسانکلاہے/ تھوڑی تھوڑی دیرمیں ٹپ ٹپ۔ ۔ / ٹپ ٹپ ٹپ بہتارہتاہے/ اُس کے پاس ہی بینچ پہ بیٹھااک بوڑھا/ گردن پھینکے، کھونٹی ٹیکے، بُڑبُڑ، بُڑبُڑ۔ ۔ / بُڑبُڑکچھ کہتارہتاہے / دونوں ایک سے لگتے ہیں/ جلدہی دونوں خارج ہونے والے ہیں!!‘‘

زندگی کی بے ثباتی اوروقتِ آخرکے اس دورکاموازنہ ایک ناکارہ نلکے سے گلزارکاتخیل ہی کرسکتاہے۔ اردوگلزارکی معشوق ہے اوروہ اپنے اس عشق کااظہارانہوں نے کس خوبصورتی سے نظم ’’اردو‘‘ میں کیاہے۔

یہ کیساعشق ہے اُردوزباں کا/ مزاگھُلتاہے لفظوں کازباں پر/ کہ جیسے پان میں مہنگاقِوامی ذائقہ ہو/ نشہ آتاہے اُردوبولنے میں/ گلوری کی طرح ہیں منھ لگی سب اصطلاحیں/ گلاچھُوتی ہے اُردوتو، / گلے سے جیسے مے کاگھونٹ اترتاہے/ بڑی’ایرِسٹوکریسی‘ہے زباں میں/ فقیری میں نوابی کامزادیتی ہے اردو/ اگرچہ معنی کم ہوتے ہیں اورالفاظ کی افراط ہوتی ہے/ مگرپھربھی۔ ۔ / بلندآوازپڑھیے تو، بہت ہی معتبرلگتی ہیں باتیں/ کہیں کچھ دورسے کانوں میں پڑتی ہے اگراردو/ تولگتاہے، / کہ دن جاڑوں کے ہیں، کھڑکی کھُلی ہے، دھوپ اندرآرہی ہے/ عجب ہے یہ زباں اردو/ کبھی یوںہی سفرکرتے، / اگرکوئی مسافرشعرپڑھ دے، میر، غالب، کا/ وہ چاہے اجنبی ہو، / یہی لگتاہے وہ میرے وطن کاہے/ بڑے شائستہ لہجے میں کسی سے اُردوسُن کر، / کیانہیں لگتا۔ ۔ / کہ اِک تہذیب کی آوازہے اُردو!‘‘

افغان جنگ کے بارے میں نظم’’بھاگتے بھاگتے‘‘میں بارہ مصرعوں میںکیاجنگ کی ہولناکی نقشہ کشی کے ساتھ ایسے عالم میں انسانی ذہن میں اللہ کے بارے میں پیداہونے والاسوال بھی پیش کیا ہے۔ ’’بھاگتے بھاگتے۔ ۔ / پاؤںکے تلووں کاچمڑہ پکنے لگاتھا/ گولیاں چلتی تھیں گلیوں میں/ جیسے ستارے ٹوٹ رہے ہوںکابل پر/ جگہ جگہ سورج پھٹتے تھے/ اللہ اللہ کرتے ابونے پھرکھینچا، ’’بھا گ چلو‘‘/ اس بارمگرمحمودنے اپناہاتھ چھڑاکر/ جیب سے ایک غلیل نکالی/ ’’ابواللہ کس کی طرف ہے؟/ اُن کی طرف یامیرے ساتھ؟‘‘

جب خداکی ذات ہی کلّ ِامرہے تودنیابھرمیں ہونے والی یہ آبادیاں، بردیاں، افراط وتفریط اورنشیب وفراز، غم اورآفات پرشاعرکے ذہن میں مختلف سوالات تواٹھیں گے۔ اقبال نے بھی خداپرسوالات اٹھائے ہیں۔ ’شکوہ ‘ لکھنے پرتوان پرکفرکے فتوے بھی لگے، اورانہیں ’جوابِ شکوہ‘ لکھ کرروایتی ردعمل کومتوازن کرناپڑا۔ اسی طرح گلزارنے بھی یہاں ایک بچے کی زبانی خداپرسوال اٹھایاہے۔ گلزاربنیادی طورپرترقی پسندسوچ کاحامل اورذات پات، دکھلاوے کے مذہبی عقیدوں اوران سے جنم لینے والی منافرتوںکے خلاف عملی طورپرشریک ایساشاعرہے جس کی ذہنی اورفکری چشموں سے ایسے شاہکارنکلتے ہیں جنہیں بلاشبہ ہم ایک پرخلوص قلمکارکابے لاگ تبصرہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کی مشاہداتی آنکھ جومنظردیکھتی ہے اسے سینے کی بھٹی میں کندن بناکرجب وہ صفحہ قرطاس پرمنتقل کرتاہے تواس شہ پار ے اثردوچندہوجاتاہے۔

رضاعلی عابدی نے لکھاہے۔ ’’ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصرہوں کہ گلزارکوپاکستان والے اس قدرکیوںچاہتے ہیں۔ گلزارمیں نہ توفلم والو ں کاگلیمرہے، نہ وہ کبھی چاکلیٹ ہیرورہے ہیں، نہ ان میں دلیپ کماراورامیتابھ بچن والی بات ہے۔ صرف مصرعے موزوں کرتے ہیں اور اتنی سی بات پرسینکڑوں لوگ انہیں لینے ایئرپورٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اتناضرورہے کہ وہ جہلم کے قصبے دینہ میں پیداہوئے تھے اورکئی باروہاں جاکراپناآبائی گھر دیکھ چکے ہیں لیکن ہربارکراچی ضرور جاتے ہیں۔ سبب سیدھاسادہ ہے۔ کراچی ان کے مداحوں سے بھراپڑاہے۔ اور مداحی بھی کس بات کی، انوکھے اورتیکھے نغمے لکھنے کی اورویسی ہی فلمیں بنانے کی۔ یہ اعلیٰ ذوق کی عمدہ مثال ہے جس کی قدروہ بھی کرتے ہیں اورہم بھی۔ ‘‘

ذراگلزارکے کچھ فلمی نغمات تویادکریں۔ موراگورا انگ لئی لے، موہے شام رنگ دئی دے/ ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں میں مہکتی خوشبو۔ ہاتھ سے چھوکے اسے رشتوں کاالزام نہ دو/ وہ شام کچھ عجیب تھی، یہ شام بھی عجیب ہے، وہ کل بھی پاس پاس تھی، وہ آج بھی قریب ہے/ میں نے تیرے لیے ہی سات رنگ کے سپنے چنے/ مسافرہوں یارو، نہ گھرہے نہ ٹھکانا/ بیتے نہ بتائی رینا، برہاکی جائی رینا/ تیرے بنازندگی سے کوئی شکوہ تونہیں، تیرے بنازندگی بھی لیکن کوئی زندگی تونہیں/ تم آگئے ہونورآگیاہے، نہیں تو، چراغوں کی لوجارہی تھی/ اس موڑسے جاتے ہیں، کچھ سست قدم رستے، کچھ تیزقدم راہیں/ اوماجھی رے، اپناکنارا، ندیاکی دھاراہے/ نام گم جائے گا، چہرہ یہ بدل جائے گا، میری آواز ہی پہچان ہے، گریادرہے/ ایک اکیلااس شہرمیں، رات میں اوردوپہرمیں، آب ودانہ ڈھونڈتاہے، آشیانہ ڈھونڈتاہے/ آنے والا پل، جانے والاہے/ ہزارراہیں مڑکے دیکھیں، کہیں سے کوئی صدانہ آئی / بڑی وفاسے نبھائی تم نے، ہماری تھوڑی سی بے وفائی/ تجھ سے ناراض نہیںزندگی، حیران ہوں میں، تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں۔

یہ گلزارکے سپرہٹ گانوں میں سے صرف چند ہیں۔ ایسے نغمہ نگاراورانسان دوست شخص سے کون محبت نہیں کرے گا۔ گلزارکی لفظیات یکسر جداہیں۔ نرالے خیالات اورمشکل علامتوں کے باوجودانہیں عوام وخواص میں مقبولیت حاصل ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مشکل تشبیہا ت اورعلامتی اندازکے استعاروں کوسیدھے سادے اورعام فہم لفظوں میں اداکرنے کافن جانتے ہیں۔

مختصربحرکی یہ نظم ’’اِک نظم کی سوئی سے‘‘دیکھیں۔ ’’اِک نظم کی سوئی سے/ سب زخم حیاتی کے/ سیتاہواگُزراہُوں/ چبھتی تھی تولگتی تھی/ جب پار نکلتی تھی/ تودردکوتسکیں سے/ سیتی ہوئی چلتی تھی/ اک غلطی ہوئی مجھ سے/ جس دھاگے سے سیتاتھا/ اُس دھاگے کے آخرمیں/ اِک گرہ لگانا بھُول گیا!۔ ‘‘

ایک عام فہم حقیقت ہے کہ جس طرح دھاگے میں گرہ لگائے بغیرکچھ بھی سیاجائے توتمام سلائی کے بعددھاگاباہرآجائے گا۔ اسی طرح ہر کام کاطریقہ کارہے۔ جس کے بغیرہرعمل بے معنی ہوجائے گا۔ فٹ پاتھ پرزندگی بسرکرنے والوں کی زندگی کی بے معنویت نظم ’’ روز کسی فٹ پاتھ پہ رات کو‘‘ میں بیان کی ہے۔

روزکسی فٹ پاتھ پہ رات کو/ چاک سے لاش کاخاکہ کھینچ کے/ ارونداس میں سوجاتاتھا/ روزصبح پھراٹھ کرہنستاتھا، کہتاتھا/ ’’کل پھراپنی لاش سے باہرآن گرامیں کروٹ لے کر، آج کادن پھرجیناہوگا!‘‘/ جب سے اس کومورگ میں لے جاکررکھاہے/ خاکے سب فٹ پاتھ پہ کروٹ لیتے ہیں!‘‘

ڈاکٹرشکیل الرحمٰن نے گلزارکے شعری تجربات کے بارے میں لکھاہے۔ ’’گلزارکی شاعری موزارٹ کی موسیقی کی طرح محسوسات کی شاعری ہے۔ محسوسات کاآہنگ ہی متاثرکرتاہے۔ محسوسات اوراس کے آہنگ کے پیچھے وہ سبلائم تجربے ہیں جواس سچائی سے آشناکرتے ہیں کہ ’وجود‘ حقیقت کے اندرسمایاہواہے۔ نظمیں اس طرح سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں کہ جس طرح اچھی تخلیقی مصوری اوراچھے تخلیقی مجسمے کرنے لگتے ہیں۔ المیہ جذبے بھی گہرے غم کومحسوس بناتے ہوئے جمالیاتی آسودگی عطاکرنے لگتے ہیں۔ یہ گلزارکی شاعری کاسب سے بڑا وصف ہے۔‘‘

انسان دوستی گلزارکے ایمان میں شامل ہے۔ وہ اپنی فلموں، کہانیوں اورشاعری میں بھی ہمیشہ انسان دوستی کاپرچارکرتاہے۔ ایسی ہی ایک نظم ’’ایک اتوارکبھی یوں بھی منایاجائے‘‘ دیکھیں۔

ایک اتوارکبھی یوں بھی منایاجائے/اورسب کاموں سے چھٹی لے کر، / پوری کی جائے صفائی گھرکی!/ چھوٹی چھوٹی سی کئی رنجشوںکے جالے
لگے ہیں/ کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے کانچ سے اب/ سب کی سب چٹخی ہوئی شکلیں نظرآتی ہیں/ درددہلیزکی تھوڑی سی مرمت کرلیں/ کچھ گلے چپکے ہوئے ہیں جواترتے ہی نہیں/ داغ کچھ نفرتوں کے پھیلے رہتے ہیں ہمیشہ!/ روشنی پوت کے دیواروں کواُجلاکرلیں!!

گلزارکے ہرگیت، نظم اورغزل کی شاعری انفرادیت کی حامل ہے، جوسننے والے کے دل میں اترجاتی ہے اوراس کا تاثردیرتک قائم رہتاہے عناصرفطرت کاخوبصورت بیان اس کانظموں کااختصاص ہے اورہرباران کامطالعہ ایک نیامفہوم قاری کی قلب پرالقاہوتاہے اورہربار قاری ایک نئے لطف سے ہمکنارہوتاہے۔ گلزارکی نظموں میں رومانویت درحقیقت فطرت پسندی، وفور، جذبات، انفرادیت پسندی، انانیت، جدت طرازی، فلسفیانہ تصورات، معاشرتی وسیاسی قوانین کے خلاف صدائے احتجاج، مافوق الفطرت اورپراسراررموزسے شغف، ماضی پرستی اورتصوف سے مزین ادبی رحجان ہے۔ مغرب میں نشاط ثانیہ کے ساتھ ہی جدیدیت نے جنم لیا جس میں انسان نے خود کواوراس کائنات کے سربستہ رازوںکوازسرنوسمجھناشروع کیا۔ ’’چلولمحے چھیلیں‘‘ میں گلزارنے’’کائنات 1 اور2‘‘ میں انہی رازوں کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس وسیع کائنات میں زندگی کی تلاش، گلیکسی، سیارے جیوپیٹر اورمارس، گریوٹی اوربلیک ہولزکوبیان کیاہے۔ یوں ان کی شاعری آفاقی نوعیت اختیارکرتی ہے۔

گلزارکی نظموں میںنثری آہنگ کااحساس ہوتاہے لیکن یہ نظمیںنثریت کاشکارہونے کے بجائے شاعرانہ شدت کازیادہ انگیزکرتی ہیں۔ ان کی ہرنظم لفظیات، آہنگ اوراسلوب کاایک نیارخ پیش کرتی ہیں۔ گلزارکے گہرے مشاہدے دھرتی سے منسلک ہیں اورزمینی حقائق، اقدار، رشتوں، رویوں، سماجی تناظر، فلسفہ طبیعات ومابعدطبیعات کی محاکماتی فضانمودارہوتی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا۔ ’’ میں ان آفاق پرآگے بڑھ رہاہوں جن سے میں مانوس ہوں اوران سے آگے نئے آفاق میں سرگرداں ہوں۔ میں عصرِحاضرکے عطاکردہ احساسا ت کولیے زندگی کے مراحل طے کررہاہوں۔ ‘‘

’’چلولمحے چھیلیں‘‘ میں شامل ایک سوایک نظموں میں گلزارنے اتنے متنوع موضوعات کوچھیڑاہے، جس سے ان کی ہمہ جہتی آشکارہے۔ ان کااندازہ ’’اک نظم کی سوئی سے‘‘، ’’آنکھ مچولی‘‘، ’’پلپلے لمحے‘‘، ’’ناظم نے کہاتھا‘‘ِ’’ اوکتاویوپازکی نظم ایش ٹری اورہمایوں کامقبرہ پرنظم‘‘، ’’چال چلو تم‘‘، ’’بودھ ورکش کے نیچے‘‘، ’’ اک باراتارآسمان کو‘‘، ’’ میں اپنی فلموں میںسب جگہ ہوں‘‘، ’’ دوست تمہاری باتوں پر‘‘، ’’ وہ شایدآخری سانسوں پہ تھا‘‘، ’’ بڑھاپا‘‘، ’’ادیب دوست‘‘، ’’کتنی گرہیںکھولی ہیں میں نے‘‘، ’’سوئیاں گھڑی کی پھرپریڈکرتے کرتے‘‘، ’’ میں بے معنی سا اک بھٹکاہواپل ہوں‘‘اور’’لفظ لفظ‘‘ سے بخوبی کیاجاسکتاہے۔

دینہ کی جویادیں گلزارکی شاعری میں پیش کرکے امرکی گئی ہیں۔ بچپن کی یہ خوشگواریادیں ان کاذاتی تجربہ ہی نہیں بنتابلکہ ہرانسان کے بچپن کی معصوم یادبن جاتاہے۔ گلزارتقسیم کے المیے سے کبھی نکل نہ سکے۔ ’’چلولمحے چھیلیں‘‘کی آخری چندنظمیں بھی ایسے ہی موضوعات اورسرحد پارکے حوالے سے ہیں۔ ’گلزارکی مختصر نظم’کراچی‘‘دیکھیں۔ ’’تیرے شہرمیں بھی توچیلیں/اُسی طرح لاشوں کے اوپرمنڈلاتی ہیں/ جیسے میرے شہرکے چوراہوں پر/ بندوبست کی گولیاں کھاکر/ لوگوں کی لاشیں جب گرتی ہیں/ آسمان پرمنڈلاتے گِدھ نیچے اترآتے ہیں/ دونوں ہم!۔ ۔ دوملکوں والے، کتنے ملتے جلتے ہیں/ ہم دونوں کے، دوملکوں میں/ عام آدمی کتنے ملتے جلتے ہیں۔ ‘‘

’’پڑوسی‘‘ کے بعدان شہرہ آفاق نظم’’آنکھوں کوویزانہیں لگتا‘‘ ہے۔ جس کاہرمصرعہ قاری کے دل میں اترجاتاہے۔

’’آنکھوں کوویزانہیں لگتا/ سپنوں کی سرحدنہیں ہوتی/ بندآنکھوں سے روزمیں سرحدپارچلاجاتاہوں، / ملنے مہدی حسن سے !/ سُنتاہوں ان کی آوازکوچوٹ لگی ہے/ اورغزل خاموش ہے سامنے بیٹھی ہوئی ہے/کانپ رہے ہیں ہونٹ غزل کے!/ جب کہتے ہیں۔ ۔ /’’سوکھ گئے ہیں پھول کتابوں میں /یارفرازبھی بچھڑ گئے، اب شایدملیں وہ خوابوں میں!‘‘/ بندآنکھوںسے اکثرسرحدپارچلاجاتاہوں میں!/ آنکھوں کو ویزانہیں لگتا/ سپنوں کی سرحد، نہیں کوئی!!‘‘

اورپھریہ کتاب کی آخری نظم’’سنو، اِس باربھی۔ ۔ ‘‘

سُنو، اِس باربھی رمضان کے دن تھے، /میں پاکستان آیاتھا۔ ۔ / مِرے ’ویزا‘ میں ’افطاری‘ تلک رُکنے کی گُنجائش نہ تھی/ میں بومبے لوٹ آیا/ کراچی کے سمندرپہ میں اِک کاغذکی کشتی رکھ کے آیاہوں/ہواکارُخ کبھی بدلاتوبہ کے آجائے/ وگرنہ چاندنکلاعید کاجس دن، / اسی کو پھونک سے تم میری جانب ٹھیل دینا/ میں ساحل پرکھڑاہوں/ میں ساحل پرملوں گا!
گلزارساحل پرمحبتوں کاگلدستہ لیے منتظرہیں۔ ان کے لکھے ہوئے لفظ تتلیاں اورپھول بن کرسماعتوںپراثراندازہوتے ہیں، ان ست رنگے لفظوںکی مہک روح کوجل تھل کیے رکھتی ہے۔ یہ لفظ سیدھے روح پراثراندازہوتے ہیں اوران کی تاثیردیرتک قائم رہتی ہے۔ یہی ان کے سچے ہونے کی گواہی ہے۔ خیال کے زورپران کے ساتھ قاری بھی ادھرکوبھی نکل جاتے ہیں، جدھرجانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

’’چلولمحے چھیلیں‘‘ کے بارے میں اس تجزیاتی مضمون کااختتام گلزارکادوست اوراردوکے صفِ اول کے نظم نگارنصیراحمدناصرکے ان الفاظ پرکرتاہوں۔ ’’ گلزارایک ایسے فنکار، ایسے شاعراورایسے انسان ہیں جن کے فن، الفاظ اورشخصیت کی خوشبوپاک وہندسرحدکے دونوں جانب پھیلی ہوئی ہے۔ سرحدکے ایک طرف ان کاوطن ہے جہاں وہ پیداہوئے اوردوسری طرف ان کاملک ہے جس کے اب وہ شہری ہیں۔ ‘‘

گلزارکی شعری تخلیقات کے جائزے سے عیاں ہے کہ انھوں نے روایتی موضوعات کوانفرادی اسلوب سے آراستہ کرکے صاحبِ طرزشاعر ہونے کاثبوت دیاہے۔ وہ ایک ایسے کثیرالجہتی تخلیق کارہیں جن کی شاعری میں جدیدادبی رویوں کے ساتھ ان کی انفرادی اوراختراعی فکر بھی نمایاں ہے۔ وہ موضوعات کواس فنی پختگی کے ساتھ شاعری کاروپ دیتے ہیںکہ ان کے شعری تجربات قاری کے دل میں گھرکرلیتے ہیں۔ وہ ایک ایسی تخیلاتی دنیاکے خالق ہیں جس پرحقیقت کاگمان گزرتاہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply