کہانی سناو پیارے۔۔۔ (۱) —– خبیب کیانی

0

پہیہ۔ ۔ نہیں پہیہ نہیں۔ ۔ کچھ اور ہے۔ ۔ پہیے کو تو بہت کریڈٹ ملا ہے، کچھ اور ہے جس نے انسان کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے مگر اس کو کبھی پوراکریڈٹ نہیں دیا گیا۔ میں اکثر نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے اپنے سیشنز میں ان کے سامنے یہ چھوٹی سی پہیلی رکھتا ہوں۔ پہیہ، ٹرین، جہاز، ٹریکٹر وغیرہ جیسے نسبتا نئے زمانے کے جواب سننے اور بڑی احتیاط سے انہیں رد کرنے کے بعد جب نوجوان یہ کہتے کہ ہیں کہ سر بہتر ہے آپ ہی بتا دیںتو میرا جواب ہوتا ہے، آگ۔ ۔ اس پر فورا سے کوئی نہ کوئی یہ جائز اعتراض اٹھاتا ہے کہ سر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ آگ کو کریڈٹ نہیں ملتا؟ انسانی ترقی کے بارے میں ہر کتاب میں آگ کی دریافت اور اس کے فوائد کا ذکر ملتا تو ہے؟ نہیں ملتا؟؟ میں کیونکہ سوال سوال میں بہتر سمجھ بھی سکتا ہوں اور سمجھا بھی سکتا ہوں اس لیے جواب کے طور پر ایک اور سوال داغ دیتا ہوں کہ آگ کا ذکر ملتا تو ہے مگر کن فوائد کے ساتھ؟؟ نوجوانوں کی طرف سے عام طور پر کڑکتی ٹھنڈ میں گرمائش کی فراہمی، اندھیری راتوں میں روشنی، وحشی درندوں سے بچائو اور خوراک کو پکانے کی اہلیت جیسے فوائد کو سامنے لایا جاتا ہے اور یہیں میں اپنا پوائنٹ ان کے سامنے رکھتا ہوں کہ ان سارے فوائد کے ساتھ ساتھ آگ کا ہم انسانوں کی اجتماعی کہانی پر ایک اور احسان بھی ہے جس کا ذکر بہت کم ملتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس نے ہمارے اندر کے کہانی گو یا story tellerکو اپنے فن میں یکتائی حاصل کرنے کے لیے بہت سہولت دی۔ انتھروپولوجسٹ جو ماضی اور حال کے انسانوں اور ان کے رویوں کو پڑھ کر انسانی ارتقاء کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ آگ کی دریافت نے اچھی خوراک، محفوظ ماحول اور مناسب درجہ حرارت فراہم کر کے انسانوں کو موقع دیا کہ و ہ د ن بھر شکار کے بعد رات کو آگ کے الائو کے گرد اکٹھے بیٹھیں اور اپنی اپنی کہانیاں سنائیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ آغاز میں تو بہت محدود آوازوں، جسمانی حرکات یا بدن بولی کی مدد لی جاتی رہی ہو گی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زبانیں وجود میں آتی گئیں اور یہ فن بھی اپنی معراج کی طر ف گامزن رہا اور بات آج تک پہنچ گئی، میرا ماننا ہے کہ ایک ملین سال پہلے کا انسان ہو یا آج کا انسان کہانی ہماری ضرورت تھی، ہے اور رہے گی۔

میں 2011 میں نفسیات میں بی ایس آنرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد تقریبا اگلے دو سال لوگوں کو اپنی ڈگری دکھا کر یہ بتانے اور منوانے کی کوشش کرتا رہا کہ جناب مجھ سے ملیے میں ہوں ایک ماہر نفسیات۔ جہاں چار لوگ اکٹھے نظر آتے انہیں بتانے اور منوانے کی کوشش کی جاتی کہ آپ کا بھائی ماہر نفسیات ہے مگر مجال ہے جو ان دنوں کبھی کسی کے سر پر جوں بھی رینگی ہو۔ اس سے پہلے کہ لوگوں کو منواتے منواتے میں تھک ہارکر خود یہ مان لیتا کہ میں سب کچھ ہو سکتا ہوں مگر ایک ماہر نفسیات نہیں، مجھے ایک نوکری مل گئی جس میں چند مہینوں کی اچھی کارکردگی کے بعد مجھے تھائی لینڈ میں کونسلنگ کے ایک تربیتی پروگرام میں بھیجنے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

یہ میرا پاکستان سے باہر پہلا سفر تھا، ہم بنکاک پہنچے۔ اس ورکشاپ میں تمام سارک ممالک سے ماہرین نفسیات مدعو تھے، ٹرینننگ کے پہلے دن کے دوران خوب ڈٹ کر ٹرینرز کے سامنے اپنا کچا پکا علم جھاڑنے کے بعد ہم ہر نو بینکاکیے کی طرح واقعی نویں نکور جینز بشرٹ پہن کر بنکاک کے شعلوں کی تلاش میں نکل گئے، جلوے بقدر ظرف نظر یا ہوس دیکھنے کے بعد جب ہم رات کو اپنے ہوٹل میں پہنچے توہمارے کمرے کا فون کا بج اٹھا، حیرانی کی بات تھی کہ ہم تو کسی حسینہ کو اپنا نمبر نہیںدے کے آئے پھر ہمارے بھاگ کیسے جاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، خیر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کرذہن کو سگنل دیا کہ بھائی ہالی وڈ لیول کی انگریزی بولنی ہے تیار ہو جا، کنگھی کرنے کے بعد فون کا ریسیور اٹھا کرہیلو بولا تو دوسری طرف سے انگریزی میں آواز آئی ترجمہ جس کا یہ تھا کہ میں آپ کی ٹرینر بول رہی ہوں آج آپ نے دوران ٹریننگ جو علمی پھرتیاں دکھانے کی کوشش کی ہے وہ ہمیں بھا گئی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ کل کے دن میں آپ بطور ٹرینر سیشن کروائیں، کہاں آپ اس امید پر فون اٹھائیں کہ شاید بنکاک کے شعلوں کا کچھ سیک آپ کو بذریعہ فون ہی مل جائے اور کہاں ایک انٹرنیشنل آڈینس کو ٹریننگ فراہم کرنا، دل میں آیا کہ فورا معافی مانگ لی جائے کہ باجی جی آج کے لیے معاف کر دیں کل میں اپنی زبان کمرے کے لاکر میں چھوڑ کر آئوں گا، خاموشی کا وقفہ تھوڑا طویل ہوا تو دوسری طرف سے دوبارہ آواز آئی کہ ـ i hope its ok for you، جواب کے پریشر میں ہم معافی مانگنے ہی والے تھے کہ ہمارے اندر کے گکھڑ نے جو اس وقت شدید اتھرا تھا انگڑائی لی اور ہمارے منہ سے بجائے معافی مانگنے کے بس یہی نکل پایاکہ جی yes sure, i will prepare accordingly ۔ چند ہدایات سننے کے بعد فون بند ہوتے ہی ہم نے اپنے اندر کے گکھڑ کو با آواز بلند پانچ سات خالص پوٹھوہاری گالیاں سنائیں کہ بھائی جینے دو ہمیں، کیا تم ہر موقعے پر اپنی انا کے چکر میں ہمیں رگڑا دے جاتے ہو؟ خیر، سیشن جو ہمارے ذمے لگاوہ یہ تھا کہ نوے منٹ میں ہم نے کونسلنگ کے دوران باڈی لینگوئج کی اہمیت کو تمام شرکاء کو نہ صرف باور کروانا تھا بلکہ اس سلسلے میں بہترین اور آزمائی ہوئی حکمت عملیاں بھی انہیں ازبر کروانی تھیں۔ یہ رات کوئی دس بجے کا واقعہ تھا اور ہمارے پاس تیاری کے لیے رات کے چند ہی گھنٹے تھے، کافی سوچا کہ ا س سیشن کو کیسے اپروچ کیا جائے۔

ہم اس سے پہلے اتنے بڑے سٹیج پر کسی بین الاقوامی ٹریننگ تو کیا کسی قومی لیول کی ٹریننگ کا تجربہ بھی نہیں رکھتے تھے، معافی مانگ لینے کا آئیڈیا کئی بار پھر ذہن میں آیا لیکن ہر بار گکھڑ صاحب کے کھنگورے کی آواز نے اسے فورا بھگا دیا، سخت پریشانی تھی کہ کیا کیا جائے۔ بنیادی نکات اور نفسیات کی کتابوں کے مطابق تو کونسلنگ ہمیں آتی تھی مگر اتنے بڑے سٹیج پر ہم sage on the stage بن کر سلائیڈیں نہیں پڑھنا چاہتے تھے، لمبی سوچ بچار کے بعد تان آخر یہاں ٹوٹی کہ بات سمجھانے کے لیے کسی کہانی کا سہارا لیا جانا چاہیے اور اس تان کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی اگلی پریشانی یہ تھی کہ کہانی تو ٹھیک ہے پر کونسی؟؟ اپنے ذہنی اصطبل میں بندھے گھوڑوں کو دوڑایا کہ دوستو، جو بات ہمیں کل سمجھانی ہے اس سے جڑی کوئی کہانی اگر ہمارے ذہنستان کے کسی گوشے میں موجود ہے تو اسے حاضر کیا جائے، خوش قسمتی ہماری یہ رہی کہ ذہن میں فورا ایک کہانی آگئی جسے اپنے سیشن کے دوران ہم شاندار انداز میں استعمال کر سکتے تھے۔

کہانی تھی ویسٹ از ویسٹ نامی ایک فلم کی جس میں دکھایا گیا تھا جارج خان نام کے ایک پاکستانی صاحب جو کہ کچھ دہائیاں قبل پاکستان کے ایک گائوں میں سے اپنی شادی کے کچھ عرصہ بعد معاش کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور پھر وہاں ایک گوری میم صاحب کے ایسے اسیر ہوئے کہ شادی رچالی۔ شادی ہوئی بچے ہوئے اور جوان ہوتے ہوتے وہ پاکستانی باپ کی ثقافتی توقعات اور انگلینڈ میں اپنے گردو پیش میں موجود رہن سہن کے طور طریقوں میں ایسے کنفیوز ہوئے کہ جارج خان مایوس ہو کراپنی گوری بیوی کو ایک مہینے بعد واپس لوٹنے کا کہہ کر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو لے کر پاکستان اپنی پہلی بیوی کے پاس واپس آگئے، وہی پہلی بیوی جس کو چھوڑ کر گئے انہیں لگ بھگ تیس سال ہو چکے تھے، یہاں آنے کے بعد ان کی نیت ایسی بدلی ایسی بدلی کہ وہ کئی مہینے بعد بھی واپس نہ گئے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ گوری میم کے اکائونٹ سے سارے پیسے نکلوا کر یہاں پاکستان میں گھر بنوانا شروع کر دیا۔ اب آپ خود بتائیں کہ میم صاحب کے پاس سوائے پاکستان آکر اپنا بچہ واپس لینے کے کیا راستہ بچا تھا؟ کوئی اور راستہ نہیں تھا، گوری بیوی پاکستان آئی اور یہاں فلم میں وہ سین آتا ہے جس کا میرے سیشن کے موضوع سے ڈائریکٹ لنک تھا، ہوتا کچھ یوں ہے کہ جارج کے پاکستانی دیہاتی قسم کے گھر میںجب جارج اور دونوں بیویوں میں نوک جھونک شروع ہونے کے بالکل قریب ہوتی ہے تو عین اسی وقت گرد بھرا طوفان جسے عرف عام نیری یا جھکھڑ بھی کہتے ہیں آجاتا ہے، طوفان سے گبھرا کر سب کو جدھر راستہ دکھائی دیتا ہے ادھر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، جارج کی دونوں بیویاں اس طوفان سے بھاگ کر بائی چانس ایک ہی کمرے میں چلی جاتی ہیں، گوری میم بعد میں پہنچتی ہے اور پاکستانی بیوی کو دیکھ کر کمرے سے باہر جانے کا ارادہ ہی کرتی ہے کہ پاکستانی بیوی اسے اپنے پاس بلا لیتی ہے، اب آپ خود سوچیں کہ اس وقت اس چھوٹے سے دیہاتی کمرے میں ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہوئے تیس سال کی دشمنی کی وجہ سے ان دونوں خواتین کے ذہن میںایک دوسرے کے لیے غصے، حسد، انتقام اور ان جیسے دیگر کتنے منفی جذبات ہوں گے ؟ تیس سال کی سوکنوں کی اس ملاقات میں یہ سب جذبات پہلی بار اظہارکے اس قدر نزدیک پہنچے تھے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے دونوں بیویاں چھوٹتے ہی ایک دوسرے کو پڑ گئی ہوں گی؟ ایسا نہیں ہوا، کہانی میں twist یہ تھاکہ گوری کو صرف انگلش آتی تھی جب پاکستانی بیوی کو صرف مقامی پنجابی، اس قدر پیچیدہ انسانی جذبات کی ترجمانی شاید زبان کے ساتھ کرنا بھی ایک بہت مشکل کام تھا اور وہاں مسئلہ یہ درپیش تھا کہ زبان کاتو آپشن ہی موجود نہیں تھا۔ دونوں بیویوں نے جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی زبان سمجھ نہیں آسکتی بات چیت شروع کی اور اپنی اپنی تیس سال کی کہانی بدن بولی یا باڈی لینگوئج سے ایک دوسرے کو سمجھا دی۔ یہ ایک بہت خوبصورت سین ہے جو سخت جذبات سے شروع ہو کر بہت بہتر ماحول کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہیں میں نے ٹریننگ کے شرکاء کو یہ نکتہ سمجھایا کہ مجھے لگتا ہے کہ کچھ انسانی جذبات کو سمجھنے کے لیے الفاظ سے کہیں بڑھ کر باڈی لینگوئج ایک ٹول ہے اور ابھی جو کہانی ہم نے سنی وہ اس نکتے کو سمجھانے کے لیے ایک بہترین مثال تھی۔ میں نے اپنے سیشن میں چندسلائیڈ زکی مدد سے کونسلنگ کی تعریف اور مختلف حکمت عملیاں سمجھانے کے بعد فلم کا سین شرکاء کے سامنے یہ کہہ کر چلا دیا کہ باڈی لینگوئج کی جس مثال کو ابھی آپ نے سنا آئیے اب ہم اس کو دیکھ بھی لیتے ہیں۔ سین دیکھنے کے بعد میرے پورے سیشن کا مقصد شرکاء پر مکمل طور پر واضح ہو چکا تھا، وہ جان چکے تھے کہ ایک اچھا کونسلر کونسلنگ سیشن کے دوران نہ صرف اپنے کلائینٹ کی باڈی لینگوئج سے فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ اپنی باڈی لینگوئج کا بھی بھر پور استعمال کرتا ہے۔ ٹرینرز بھی بات کو سمجھانے کے لیے میرے کہانی کے استعمال اور پریزنٹیشن سے بہت خوش ہوئے دن کے اختتام پر مجھے ٹریننگ میں موجود تقریبا ہر ملک کے لوگوں نے کہا کہ آج آپ کا سیشن سب سیشنز میں بیسٹ اور دلچسپ تھا اور آپ کی اپنے سیشن کے موضوع پر گرپ لاجواب تھی۔ اگر آپ ایک انٹر نیشنل آڈینس کے سامنے پہلی ہی کوشش میں ایسی شاندار کامیابی سمیٹ لیں تو آپ شدید انسپائر ڈ بھی محسوس کرتے ہیں اور آپ کو موٹیویشن بھی ملتی ہے۔

اسی موٹیویشن کی مدد سے میں پاکستان آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ میں نے بطور ماہر نفسیات اپنی کہانی لکھی اور اس کے بعد جب بھی موقعہ ملا تو لوگوں کو اپنی ڈگری کے بجائے اپنی کہانی سنا کر اپنے آپ کو بطور ماہر نفسیات منوایا۔ اس دن کہانی کے موثر استعمال کے معجزے دیکھ کر میں نے اپنی ٹریننگز میں لاکھوں لوگوں کو کہانیا ں سنا کر بہت کچھ سکھا یاجس سے نہ صرف ان کی زندگیاں تبدیل ہوئیں بلکہ مجھے بھی رب نے بہت عزت اور محبت سے نوازا، یہ سفر آج بھی جاری ہے کیونکہ یہ ایک سچ تھا، ہے اور رہے گا کہ ایک ملین سال پہلے کا انسان ہو یا آج کا انسان کہانی ہماری ضرورت تھی، ہے اور رہے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply