افغان صورتحال: لبرل جمہورے اور دم چھل فطورے —- عزیز ابن الحسن

1

ہمارے انصاری بھائی نے اگلے روز ایک بڑے مزے کا سوال سامنے رکھا۔ تب سے سوچ رہا ہوں کہ ہاں واقعی، بات تو کچھ ایسی ہی ہے

سن 80 کی دہائی میں جب بیسویں صدی کی دوسری بڑی سپر پاور نے افغانستان پر حملہ کیا تو نہتے افغانی اس کے مقابلے کے لئے خم ٹھونک کر سامنے آگئے تھے۔ سفید ریچھ کی جارحیت کا مقابلہ، وطن کی آزادی کی جدوجہر اور اپنے حق خود ارادیت کا تحفظ افغانوں کے لیے محض یو این او کی عطا کردہ اجازت و مہیا کردہ سہولت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ مزاحمت انکے دین و ایمان کا تقاضا اور ایک جہاد تھا اس لئے وہ روس کے خلاف اگلی دو تین دہائیوں تک بڑی بے جگری سے لڑتے رہے تھے۔

دنیا بھر کے مسلمان چو نکہ خود کو ایک جسد واحد خیال کرتے ہیں اس لئے افغان مزاحمت کاروں پر پڑی اس بپتا میں اکثر مسلمان ملکوں کے لوگ اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے افراد جوق در جوق ان کی مدد کے لیے وہاں پہنچتے رہے اور کئی برسوں تک اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔

سوویت یونین اس وقت اپنی طاقت کے نصف النہار پر تھا۔ افغانستان پر اس کی چڑھائی دیکھ کر 1949 کے چینی اشتراکی انقلاب کے بعد یہ دوسرا موقع تھا جب ہمارے ہاں کے اشتراکی کوچہ گردوں کے سوئے ہوئے ارمان پھر سے جاگ اٹھے اور وہ وہ بن بن کر بیٹھنے لگے کہ اس دفعہ تو پاکستان میں سرخ انقلاب آیا ہی آیا۔ [پاکستان بنتے ہی چینی کمیونسٹ انقلاب کے بعد یہاں کے ترقی پسندوں کا دماغ کیسے خراب ہوا تھا، اس کے لئے انتظار حسین کے ساتھ سبط حسن کی گفتگو مشمولہ چراغوں کا دھواں ملاحظہ ہو] اس زمانے میں بہت سے پاکستانی سرخ انقلابیوں نے افغانستان سے روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر فاتحانہ پھبن سے پاکستان میں داخل ہونے کی تیاریاں بھی کرلی تھیں مگر برا ہو اس “امریکی اسپانسرڈ جہاد” کا جسکے نتیجے میں انکا قبلۂ اول سوویت روس ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ھمارے دیسی ترقی پسندوں کو مارکسیت کی مظبوط بنیادوں پر قائم سوویت روس کا یہ زوال پہلے تو سمجھ ہی نہیں آیا مگر پھر سنہرے سپنوں کی شکست سے رتی بھر مایوس ہوئے بنا اور سابقہ آئیڈیالوجی کے حضور ذرا بھی شرمندہ ہوئے بغیر ہمارے ان ترقی پسندوں میں سے کچھ راتوں رات یو این او کے مختلف ذیلی اداروں میں نوکر ہوگئے اور باقی ماندہ امریکی سرمائے سے چلنے والی این جی اوز کو پیارے ہوکر مارکسی اشتراکیت کے بجائے سرمایہ دارانہ لبرل جمہوریت کے چیمپئن بن گئے۔

Taliban declare 'war is over' as Ashraf Ghani flees to 'avoid bloodshed' - World News2001 میں جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا تو سوویت روس کے ٹینکوں پر چڑھکر پاکستان کو فتح کرنے کے خواہشمند یہ سابقہ ترقی پسند سوشلسٹ، لبرل جمہورے بن کر امریکہ کو اپنا دوسرا قبلہ بنا چکے تھے۔ اگلے بیس برس انہوں امریکی پونجی واد سماج کے ترانے گاتے ہوئے گزارے! ان کی آنکھیں اس وقت بھی نہیں کھلیں جب امریکہ نے انہی “طلبہگانی دہشتیوں” کے ساتھ دوحہ مذاکرات کی آڑ میں چپکے چپکے افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا جنہیں تباہ و برباد کرنے کیلیے یہ بیس سال قبل آیا تھا۔ انہیں اس بات پر شدید تاؤ تھا کہ امریکہ نے افغانستان کی جائز لبرل سیکولر حاکم اشرف غنی کو کیوں مکھن کے بال کی طرح باہر کر چھوڑا ہے! گذشتہ 1، 2 مہینوں کے دوران جب طلبہگان نے حیرت انگیز سرعت کے ساتھ افغانستان کے مختلف صوبوں پر قبضہ شروع کردیا تو بدلے کے طور پر اشرف غنی بھی چپکے سے افغانستان سے سٹک گیا۔

بالآخر جب کابل بھی بغیر لڑے مجاہدوں کے لگ گیا تو ہمارے یہ لبرل بچہ ہائے جمہورے اور ان کے چند مولوی فطورے اسے بھی امریکی چال ہی باور کراتے رہے اور اس انتظار میں بیٹھ رہے کہ کب کابل میں خانہ جنگی شروع ہو اور امریکہ پلٹ کر پھر سے ان دہشت کے پرکالوں بر بمباری کرے اور انہیں بغلیں بجانے کا موقع ملے! ان کا خیال تھا کہ گزشتہ بیس سال کے عرصے میں امریکہ نے افغانی عوام میں اپنے ہمنوا لبرلوں کا ایک اچھا خاصہ جتھہ تیار کر رکھا ہوگا جو امریکہ کی عدم موجودگی میں طلبہگان کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوگا مگر یہ افغانی لبرل، طلبہگان کے لئے خطرہ کیا بنتے الٹا، بھاگتے امریکی جہازوں کے پروں اور پہیوں میں چھپ کر بنا پاسپورٹ اور ویزا امریکی پیا کے دیس جانے کے شوق میں جانیں قربان کرنے لگے۔ جوں جوں امریکی فوجی افغانستان سے سگِّ ہزیمت خوردہ کی طرح نکلتے رہے ہمارے لبرلوں اور کچھ جدید مولویوں کی یاس آمیز چیاؤں چیاؤں بھی بتدریج کم ہونا شروع ہوگئی!

انصاری بھائی کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی میں جس طرح مسلمان نوجوان مجاہدین کی مدد کے لیے جوق در جوق اپنے گھروں سے نکلے تھے، اب جبکہ افغانی لبرلز پر کڑا وقت پڑا ہے چاہیے تو یہ تھا کہ امریکی جہازوں سے لٹک کر افغانستان سے فرار ہوتے ان سورماؤں اور مغربی میڈیا پر “طلبہگانی ظلم و ستم” کی ویڈیوز بھیجتی لبرل افغانی خواتین کو جہادیوں کے نرغے سے بچانے کے لیے کم سے کم ہمارے پاکستانی لبرل بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسی طرح بگرام ایئر بیس پر جاتے افغانی لبرلز و لبرلنیوں کی چھوٹتی نبضوں پر انگشت دلداری رکھتے ان کی اسی طرح دلجوئی کرتے جس طرح پون صدی پہلے مجاہدین کی دلجوئی اور مدد کے لیے اہل ایمان پہنچے تھے۔

مگر ہو صرف یہ رہا ہے کہ آج جبکہ پورا ہندوستانی اور مغربی میڈیا امریکہ کی اس لاحاصل مہم جوئی اور ہزیمت پر سر پر خاک ڈالتا ن م راشد کی نظم والی “ابو لہب کی بیوی” کی تصویر بنا ہوا ہے ہمارا پاکستانی لبرل و جدید مولوی طبقہ اپنے افغان لبرل بھائیوں کی مدد کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکلنے کے بجائے یا تو طلبہگان کی ممکنہ دہشتگردی، اپنے ہم وطنوں کے گلے کاٹنے اور اب تک حکومت سازی نہ کر سکنے طعن کرنے، ٹھٹھہ اڑانے اور پھبتیاں کسنے پر مشغول ہے، یا این جی اوز کے گوداموں میں ٹنوں کے حساب سے بٹتی عقل و دانش کے بل پر سوشل میڈیا پر اعلی قسم کے تجزیے کرکے امریکہ کے دفاعی ٹھیکیداروں، کارپوریٹ اداروں، سٹاک مارکیٹوں اور اسلحہ فروشوں کو پہنچنے والے بے حساب فائدے گنوا کر امریکی معاشی فتح کے کہ وہ اندرونی گوشے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے جو دانتوں سے دمڑی سنبھال کر رکھنے والے امریکی بنیوں اور مغربی میڈیا کو بالکل نظر نہیں آرہے۔

اپنی کم مائیگی اور گرہ گانٹھ کے امور سے کلی ناواقفی کے سبب افغانستانی مہم جوئی سے پہنچنے والی اس عظیم امریکی مالی منفعت کی یہ ساری پیچیدگیاں ہم ایسے سادہ لوح تو جانتے نہیں بس ڈرتے ڈرتے اس علمناک سیکولر لبرل دانش سے صرف اتنا پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں کہ اس بیس سالہ مہم جوئی سے اگر امریکہ کی جی ڈی پی کو اتنا ہی فائدہ ہو رہا تھا جتنا آپ گراف بنا بنا کر دکھا رہے ہیں تو سوال ہے کہ دنیا میں ایسا کونسا ساہوکار ہوتا ہے جو اچھے بھلے چلتے کاروبار کو اچانک یوں سمیٹ کر واپس چل پڑے جہاں نہ صرف یہ کہ اس کا جانی مالی نقصان افغانیوں کے مقابلے میں کچھ تھا ہی نہیں بلکہ اس کی اسٹاک مارکیٹ مسلسل بلندی کے نئے ریکارڈ قائم کرتی جا رہی تھی؟

اے بندگان خدا، امریکی فتح کے جو پیمانے مقرر کرکے آپ اپنے اور اپنے جیسوں کی طفل تسلیوں کا سامان کر رہے ہیں سوال ہے کہ یہ بہی کھاتے امریکی صدر نے کھول کے کیوں اپنے عوام کو نہ دکھائے؟ اسی منطق پر جوبائڈن کو بھی چاہیے تھا کہ وہ بھی بش، اوبامہ اور ٹرمپ کیطرح افغانستان والے منفعت بخش سیاسی کاروبار کا 20 سالہ ریکارڈ اپنی عوام کے سامنے رکھتا، آئندہ چار پانچ سال اس کاروبار کو مزید ترقی دے کر امریکیوں کی نظر میں سرخرو ہوتا اور آئندہ الیکشن میں بھی جیتنے کا بے خطا امکان پیدا کر لیتا!

خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان سیاسی و طلبہگانی امور کی نہ کوئی خاص فہم ہے اور نہ ہی فتحِ مجاہدین سے کوئی بہت بڑی خوش فہمی لاحق ہے۔ ہماری دلچسپی تو بس اس سوال سے ہے کہ

“چلئے مان لیا کہ طلبہبگان ہمیشہ سے دہشت گرد تھے اور آئندہ بھی ایسے ہی رہیں گے، مگر اپنے نظریے کے مطابق ان کی جدوجہد کو جہاد سمجھتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمان نوجوان اپنے ان ہم خیال بھائیوں کی مدد کے لیے گزشتہ عشروں میں اپنی جان ومال کی پرواہ کئے بغیر پہنچتے رہے تھے. آپ جس نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں وہ آپ کے نزدیک آزادی مساوات جمہوریت اعلیٰ انسانی اقدار کے ان آدرشوں سے جڑا ہوا ہے جسے آپ سیکولرازم کہتے ہیں، جن کے فروغ کے لیے آپ دن رات ہونکتے کانکھتے رہتے ہیں، اور آپ کے خیال میں افغانی لبرل مرد و زن بھی انہی کے حصول کے لیے امریکی جہازوں کے پہیوں سے لٹکر قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ سوال ہے کہ اگر “دہشت گرد” اپنے کام ک جان تک قربان کرنے کو تیار تھے تو آپ ان اعلیٰ انسانی اقدار کو محفوظ کرنے والے اپنے لبرل بھائیوں کی مدد کو کیوں نہیں نکلے؟ آپ اور آپکی موم بتی بردار فیمینسٹ برادری مشکل کی اس گھڑی میں طلبہگانی غنڈوں کے نرغے میں گھرے اپنے افغانی لبرل بہن بھائیوں کی مدد کو کیوں نہیں پہنچتے؟ کب تک یوں سوشل میڈیا پر بیٹھتے دانشورانہ تجزئیے بگھارتے رہو گے؟

گوگول کے ایک کردار کے معرف جملے میں ذرا تصرف کیساتھ ہم آپ سے پوچھتے ہیں

“ماںا کہ ‘سکندر امریکوی’ مہا سورما ہے اور بیس سالہ افغان جنگ میں اسےعظیم معاشی فتح حاصل ہوئی مگر، صاحبان، اس میں سوشل میڈیا کی کرسیاں توڑنے کی کیا بات ہے؟

اے آہوانِ کعبہ نہ اینڈو حرم کے گرد
کھاؤ کسو کی تیغ، کسو کے شکار ہو

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں امریکی ذلت عالمی تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ - پیٹر اوبورن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Muhammad Hasan Ghazali on

    اس پرلطف تحریر کی بنیاد میں ٹھوس دلائل ہیں۔ اس میں بڑا ہی شائستہ طنز ہے اور یہ معقولیت اور دیانت کے تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہے۔
    لبرل رائٹرز کی ایک ٹیم بھی اس کا شاید جواب نہیں لکھ سکے۔

Leave A Reply