ذوق: وبا نمبر – کرونا وبا پر ادبی جریدے کا خاص شمارہ —- نعیم الرحمٰن

0

سیدنصرت بخاری اورارشد سیماب ملک ادبی مراکزسے دوراٹک شہرمیں ’’ذوق‘‘ کی شکل میں ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ سہ ماہی ادبی جریدے کے آٹھ شمارے شائع ہوکرادبی حلقوں کی داد حاصل کرچکے ہیں۔ اس دوران ’’ذوق‘‘ نے ’’خواتین نمبر‘‘ شائع کیا۔ ذوق کا تازہ شمارہ ’’وبا نمبر‘‘ کی صورت شائع کیا گیاہے۔ جس میں دنیا بھر کو ڈیڑھ سال سے نرغے میں لیے خطرناک وباکروناکی صورتحال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کرونا وبا پراردوکے کسی ادبی جریدے کاپہلا مکمل شمارہ ہے۔ جس میں افسانہ، شعراورمضامین کی شکل میں کرونا کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس منفرداوربروقت نمبرکی اشاعت پرسی دنصرت بخاری اوران کی ٹیم مبارک بادکی مستحق ہے۔ انہوں نے ذوق کا اگلا شمارہ ’’مقالاتِ اٹک نمبر‘‘ کی صورت میں شائع کرنے کااعلان کیا ہے۔ سیدنصرت بخاری نے اٹک کوملک اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے کئی کتب تحریر کی ہیں۔ مقالات اٹک نمبرانکے اسی مشن کاحصہ ہے۔

مدیراعلیٰ سید نصرت بخاری اداریہ میں لکھتے ہیں۔

’’بیماریوں اوروباؤں کامقابلہ کرنے کے لیے شعبہ طب حکومتوں کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ادارے ہیں۔ لیکن سب کے سب مراعات یافتہ ہیں۔ صرف ادب ایساشعبہ ہے جس کی ہمارے حکمرانوں کی نظرمیں کوئی وقعت نہیں۔ ادیب کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ اس حوصلہ شکن صورتحال میں ادب اورادیب کاخاتمہ فطری عمل ہے لیکن داد دیجئے اپنے ادیبوں کے حوصلے کوجنھوں نے صلے اورستائش کی پرواکیے بغیرادب کا علم بلندرکھاہے۔ تقسیم ہندوستان کی تاریخ ادیبوں نے مرتب کی ہے۔ کوئی جنگ ایسی نہیں جس کے تجزیے، تاثرات اورنتائج اہل قلم کے منت پذیرنہ ہوں۔ سیلاب، زلزلوں دیگر قدرتی آفا ت کے حوالے سے ہمارے ادیبوں نے خوب خوب لکھا۔ لکھنے والوں کو دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں پر ایک فضیلت ہے، وہ یہ کہ یہ معاملات کوخارجی مشاہدے کے ساتھ ساتھ دل کی آنکھ سے بھی دیکھتاہے اور  پھر خلوصِ دل سے افسانہ، غزل، مضمون، مقالہ وغیرہ میں اپنی اس کیفیت کو درج کرتاہے جودراصل معاشرے کی کیفیت ہوتی ہے۔ دل کی آنکھ سے دیکھنے والے اس دنیاکے بھی شاہد ہوتے ہیں، جن سے عام انسان بے خبرہوتاہے۔ اسی لیے ان کی تحریرمیں تاثیرہوتی ہے۔ گذشتہ ایک سال سے پوری دنیا کرونا وبا کی لپیٹ میں ہے، چونتیس لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے اور اموات کایہ سلسلہ جاری ہے۔ وطن عزیزکوبھی کرونا وبا کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر، نرسیں، ڈسپنسر، فوج، پو لیس اور سماجی ادارے اپنے طور پر وبا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن پاکستان سمیت پوری دنیا اس وائرس کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے، اس صورت ِ حال میں ہمارے ادیبوں نے بھی حسب معمول اپناکرداراداکیاہے۔ افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں میں کرونا وبا، سماجی رویوں اور معاشرتی صورتِ حال کے بارے میں لکھاہے۔ شاعروں کی منظومات ان کے دردِ دل کی عکاسی کرتی ہیں، مضمون نگاروں نے وبا کی تفصیلات کو تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ رسائل کے مدیروں نے ’’وبا نمبر‘‘ کی اشاعت کی ہے۔ مجلہ ذوق کی انتظامیہ بھی ’’وبا نمبر‘‘ شا ئع کرکے اپنے آپ کومعاشرے اوراہلِ قلم کے سامنے سرخ رومحسوس کرتی ہے۔‘‘

ذوق کے مدیرارشد ملک نے لکھاہے۔

’’ان گنت صدیوں سے بنی نوع انساننے روئے زمین پراپنی حاکمیت و جابریت قائم رکھنے کے لیے جہاں جنگ وجدل کا بازار گرم رکھا، وہیں حق وباطل کی لازوال تحریکوں نے بھی تاریخ رقم کی۔ اسی حضرتِ انسان کوزندہ رہنے کے جتن کر تے طرح طرح کی ناگہانی آفات، مختلف مہلک امراض اور وباؤں کا سامنا بھی رہا۔ ایسی وباؤں نے دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں انسان ہلاک کیے۔ دوعالمی جنگوں کے بعدعالمِ انسانیت کو اگرکسی چیزنے ذہنی، معاشی اورسماجی طور پر متاثر کیا ہے تووہ ہے کووڈ19۔ اس عالمگیر وبانے دنیا کو یکسر بدل دیا۔ غریب اورترقی پذیر ممالک کی بے بسی اورکرب اپنی جگہ لیکن سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دورمیں دنیا کے ترقی یافتہ اور سپرپاور بھی اس وباسے اذیت اورکرب میں مبتلا رہے۔ اس اذیت اورکرب کے مناظرکو جہاں ہرطبقہ فکراور ہر آنکھ نے محفوظ کیا وہیں ہمارے ادیبوں نے بھی وباکے دنوں میں پروان چڑھنے والی ذہنی، معاشی اور سماجی کشمکش کوصفحہ قرطاس پر بکھیر کر اپنا فریضہ انجا م دیا ہے۔ ہمارے بہت سے ادیب کرونامیں مبتلاہوئے، بعض ہمیں داغِ مفارقت بھی دے گئے، جو ہمیں وباکے دنوں کی یاددلاتے رہیں گے۔ اس سے قبل وباکے دنوں میں تخلیق ہونے والے ادب کی جھلک انگریزی ادب میں نمایاں نظر آتی ہے مگرکرونانے پوری دنیاکے ادیبوں کی طرح اردو دنیا کو بھی شدید رنج وغم میں مبتلا کیا جس سے کرونائی ادب بہ طور صنف متعارف ہوا۔ ذوق کا یہ شمارہ وباکے دنوں میں لکھی جانے والی تحریروں پر مشتمل ’’خاص نمبر‘‘ ہے۔ جسے ہم وباسے متاثرہ داغِ مفارقت دے جانے والے اہلِ قلم کے نام کرتے ہیں۔‘‘

شمارے کی ابتدامشتاق عاجزکی نظم اورخالدمصطفی کی غزل سے کیاگیاہے۔ غزل کے چنداشعارملاحظہ کریں۔
گھرمقفل ہوئے، حبس حد سے بڑھا، جی نہیں لگ رہا۔ ۔ ۔ ذہن ودل پر مسلط ہے خوفِ وبا، جی نہیں لگ رہا
میرے ہم رقص سن، چھیڑسازِ سخن، اورکوئی نظم بن۔ ۔ ۔ باندھ مصرع ذرا کچھ نئی طرز کا، جی نہیں لگ رہا
سامنے والے گھرمیں جو دوشخص تھے کل جو ہم رقص تھے۔ ۔ ۔ ان میں سے ایک کو موت نے آلیا، جی نہیں لگ رہا
میرے رب العلی ہر کڑے وقت میں توہے مشکل کشا۔ ۔ ۔ اپنے خالد کو بھی حوصلہ کر عطا، جی نہیں لگ رہا

وبا نمبرمیں افسانوں کی تعداد چارہے۔ جن میں پروفیسر نثاراحمد کاافسانہ ’’قرنطینہ سینٹر‘‘ ، پروفیسرشوکت کا ’’آتشی شیشہ‘‘ ڈاکٹرعائشہ فرحین کا ’’لاک ڈاؤن: زندہ باد‘‘ اورڈاکٹرریاض توحیدی کا ’’قدرت کالاک ڈاؤن‘‘ شامل ہیں۔ افسانہ ’’قرنطینہ سینٹر‘‘ کے مطابق آج کے دورکی تیز رفتاری نے انسان کواپنوں سے دورکردیاہے۔ بیماروالدہ کی خیریت بھی ملازمہ سے ملتی ہے، ایسے میں ماں کی بیماری پرجب ملک اور بیرون ملک بیٹے یکجاہونے پرمجبورہوتے ہیں توعالمی پابندیاں انہیں ساتھ رہنے پرمجبور ہوکر دراصل اپنے قرنطینہ سینٹرسے آزادہوجاتے ہیں۔ آتشی شیشہ کے مصنف کاکرداروباسے بچاؤکے لیے گرمی بڑھانے کے لیے بادشاہ کو ملک بھرمیں آتشی شیشے لگانے کا مشورہ دیتا ہے، زیادہ درجہ حرارت کے باعث ملک وباسے محفوظ ہوجاتاہے۔ ڈاکٹرعائشہ فرحین کا لاک ڈاؤن گھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع دیتا ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کاافسانہ کروناوائرس نے خداکے منکرین کو بھی اس کے سامنے جھکنے اوراللہ کی رضا کا متلاشی بنانے کے موضوع پر ایک عمدہ تحریرہے۔

مائیکرو فکشن میں محمداکمل فاروق کا ’’یحیٰی کی ہٹ دھرم ماں‘‘ اورمنورپاشاساحل تماپوری کے ’’نیوورلڈآرڈ‘‘ ، ’’گدھ‘‘ اور ’’دھرمی‘‘ شامل ہیں۔ ان میں سے ’’گدھ‘‘ بطورنمومہ پیش ہے۔ ’’لاک ڈاؤن کی چھوٹ کا فائدہ اٹھاکراشرف اورساجدہ گاؤں سے نکل پڑے۔ شہرسے باہربنی حدود پر پولیس نے کار کو روکا اشرف ماسک دستانے اورتمام احتیاطی تدابیرسے لیس تھا کاغذات کی پڑتال کی گئی وہ بھی اطمینان بخش تھے، گاڑی کی حالت بھی صحیح تھی۔ مہینوں کی بند آمدنی کادروازہ کھولنے کی کوشش میں حوالدار انتہائی بے چینی سے کوئی عذرتلاش کر رہا تھا اچانک ساجدہ پر اس کی نظرپڑی حوالدار کے چہرہ پرخوشی چھا گئی ساجدہ کے نقاب کودیکھتے ہوئے کہنا لگا ’’ماسک کہاں ہے؟‘‘

ڈاکٹر محمد شعیب خان ’’ذوق و بانمبر‘‘ میں ڈرامہ ’’فاصلے کافیصلہ‘‘ کے ساتھ شریک ہیں۔ ڈاکٹرشعیب خان کاڈرامہ لوگوں کاکروناوائرس کو مذاق سمجھنے اور مشکلات کا شکار ہوکر ایس اوپیز کی پابندی پر مجبور ہونے کوموضوع بنایا ہے اوربہت خوبصورتی سے اپنا پیغام قارئین کودیاہے۔ بھارت سے اے رحمان انشائیہ ’’فیڈآؤٹ‘‘ لے کر آئے ہیں، جس کا اقتباس ملاحظہ کریں۔

’’کرونا وائرس سے پیداشدہ مہلک بیماری ہنوزلاعلاج ہے اورایسی صورت میں بیماری سے بچے رہناہی واحدحل ہوتاہے۔ لیکن اس سے بچنے کی جودواہم ترین احتیاطی تدابیرتجویز بلکہ نافذ کی گئی ہیں انہوں نے تومعاشرتی طرزِ عمل اور رویے کو یکسر بدل کررکھ دیااوراس احتیاط کاسلسلہ سال دوسال چل گیا تو ہماراطرزِ زندگی، طرزِ فکر، فلسفہ حیات، ادب اور شاعری سب میں ایک مستقل انقلاب برپا ہونا لازم ہے۔ یہ دواحتیاطی تدابیرہیں ماسک یعنی نقاب اور سماجی فاصلہ یعنی آس پاس کے دیگرافراد سے جسمانی طور پردور رہنا۔ (خدا کا شکرہے نوبت ابھی ’خانگی‘ فاصلے تک نہیں پہنچی حالانکہ احتیاط کا دامن چھوڑ دیاجائے تووہ دن بھی دور نہیں) پہلے نقاب کو لیجیے، اردوشاعری میں اسے نت نئے طریقوں سے موضوع بنایاگیاہے۔ عاشق کوہمیشہ معشوق کا دیدار مقصود ہے لیکن وہ ہے کہ چہرے کونقاب میں پوشیدہ رکھنے پرمصر ہے۔ ادھرعاشق کااصرارہے کہ

آنکھیں خدا نے دی ہیں تودیکھیں گے حسن ِ یار
کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی
لیکن اب جبکہ بے نقاب ہونے کو قانونی طورپرممنوع قراردے دیا گیا تو دیدار کی ہر امید گئی پانی میں۔‘‘

کرونا کی صورت ِ حال کومصنف نے خوبصورت انداز میں انشائیہ کے روپ میں پیش کیاہے۔ ’’ذوق وبانمبر‘‘ کابہترین حصہ مضامین کاہے۔ جس میں اے رحمٰن کا ’’کوروناکے بعدنئی دنیا، آغاجہانگیربخاری کا ’’حج 2020:کروناخدشات اوروبائی تاریخ، سیدعارف سعیدبخاری ’’کوروناوائرس کی حقیقت‘‘ ، وسیم سجاد ’’ووہان کرونا اورمیں‘‘ ، ڈاکٹر ذوالفقاردانش ’’کرونا: پاکستانی شعراکی نظرمیں‘‘ ، ڈاکٹرصالحہ صدیقی ’’کرو نا وائرس اورشاعرانہ مصوری‘‘ ، مشتاق احمد نوری ’’زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ ، کوثرجمال ’’کروناشیمنگ‘‘ اورمدیراعلیٰ سیدنصرت بخاری ’’کروناوائرس‘‘ شامل ہیں۔ یہ تمام مضامین اورتحقیقاتی نوعیت کے ہیں، جن سے وبا، اس سے بچاؤ، حفاظتی اقدامات کے بارے میں مفید معلومات دی گئی ہیں۔

سید نصرت بخاری نے اپنے مضمون میں قابلِ قدر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

’’کیمسٹری کے قانون کے مطابق ایک جیسے چیزیں ایک جیسی چیزوں کو تحلیل کرتی ہیں تو کرونا وائرس (جو بیکٹیریا کی طرح زندہ نہیں بلکہ بے جان پروٹین ہے) کو الکوحل پینسٹھ، کوئی بھی صابن اوربیس سے تیس ڈگری تک گرم پانی کافی ہے۔ گرم پانی، صابن یا الکوحل سے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے سے کروناملٹی پل ہونے کے بجائے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتاہے۔ کرونا نقصان کا عمل اس وقت شروع کرتاہے جب اسے سازگار ماحول میسر آتاہے۔ جبکہ ڈس انٹی گریشن کی صورت میں یہ فعال نہیں رہتا کرونا وائرس کی جسمانی ساخت کمزور ہوتی ہے۔ صرف اس کی بیرونی چربی کی تہہ اسے مضبوط بناتی ہے۔ چربی کی تہہ ٹوٹ جائے تو کرو نا کاوارموثرنہیں رہتا۔ گرم  پانی، صابن اور الکوحل سے ہاتھ دھونے سے اس کی بیرونی تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔ ٹھنڈا موسم اور اندھیرا کرونا کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ کوشش کیجئے کہ ایئرکنڈیشنز نہ چلایا جائے اورگھرکی لائٹیں آن رکھی جائیں۔ کپڑے دھونے کے لیے بیس ڈگری سے زیادہ گرم پانی استعمال کیا جائے۔‘‘

’’ذوق وبانمبر‘‘ کے دوبہترین مضامین ڈاکٹرذوالفقار دانش کا ’’کرونا: پاکستانی شعرا کی نظرمیں‘‘ اوربھارت کی ڈاکٹرصالحہ صدیقی کا ’’کرونا وائرس کی شاعرانہ مصوری‘‘ ہیں۔ جن میں پاکستان اوربھارت کے شعرا کی وبا کے بارے میں کی گئی شاعری کابھرپورجائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ذوالفقاردانش لکھتے ہیں۔ ’’کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کی معیشت کومنہ کے بل گرا دیا ہے وہیں زندگی کاکوئی شعبہ ایسانہیں جس پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوئے ہوں۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ طبقہ شعرا بھی اس سے متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکااورایساکیوں نہ ہو کہ عموماً یہ ہمارے معاشرے کاوہ طبقہ ہوتا ہے جو دوسری افراد کی نسبت نہ صرف زیادہ حساس طبیعت کاحامل ہوتاہے بلکہ ماحول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اور اثرات کا اثر سب سے پہلے قبول کرتا ہے۔ شاعروں کوخدانے یہ ہنرعطا کیا ہے کہ وہ اپنے جذبات واحساسات کو تحریر میں ڈھال کر دوسروں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ اس کا اظہار وہ کبھی حالات و واقعات میں آنے والی تبدیلی اورتغیر کی وجہ سے ماحول اورسوچ وفکر پر اس کے اثرات کے اظہارکی شکل میں کرتے ہیں تو کبھی مشکلات اور مصیبتوں میں اللہ کے حضور استغاثہ کی شکل میں۔ دنیا کی ہر زبان میں شاعری ادب کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر دور کے شعرا اپنے اپنے وقت میں اس وقت کے پیش آمدہ حالات پرلکھتے چلے آرہے ہیں۔ آج جب پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے، آئیے جانتے ہیں ہمارے ملک کے شعرا موجودہ صورتحال کو کس نظرسے دیکھتے ہیں۔ طویل مضمون میں اسلام آباد سے افتخارعارف موجودہ حالات کے تناظرمیں کروناوائرس کی تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جس کی وجہ سے شہرکے شہر اجڑ رہے ہیں، تمام انسانوں سے اللہ کی بارگاہ میں مسلسل دعا کا تقاضا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اللہ سے مستقل دعا کرنے کے دن ہیں کہ وہی قادر مطلق ہے، وہی ہماری گریہ وزاریوں کاسننے والاہے۔

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں۔ ۔ ۔ دعاکے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں
کوئی فغاں کوئی نالہ کوئی بکاکوئی بین۔ ۔ ۔ کھلے گا باب مقفل دعا کیے جائیں
قبول ہونا مقدر ہے حرفِ خالص کا۔ ۔ ۔ ہرایک آن ہر اک پل دعا کیے جائیں

لاہورکے اتباف ابرک کہتے ہیں۔
دشمن جاں کو مات کرلیجے۔ ۔ چاردن احتیاط کرلیجے
اپنے گھرکے حسیں مکینوں کو۔ ۔ اپنی کل کائنات کرلیجے
رحم خود پراگرنہیں آتا۔ ۔ اپنے بچوں کے ساتھ کرلیجے

جہاں کروناوائرس کے حوالے سے سنجیدگی کے شعرانے بے شمارموضوعات کوموضوع سخن بنایا، وہیں طنزومزاح لکھنے والوں شعرابھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اورانھوں نے بھی اپنے قلم کی کاٹ سے انتہائی خوبصورتی سے اس تصویرمیں رنگ بھر اوراپناحصہ ڈالا۔‘‘

ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے بھارتی شعراکی وباکے حوالے سے شاعری کو ’’کروناوائرس کی شاعرانہ مصوری‘‘ میں پیش کیاہے۔ ’’ایک وائرس نے پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں قید کرلیاہے، دنیابھرمیں کرونا وائرس کا پھیلاؤ خوف اورپریشانی کاسبب بن چکاہے۔ لیکن سوشل میڈیا پراس وائرس کوایلین بناکرپیش کرنے والے جگت بازکسی صورت آنے کو تیار نہیں۔ لوک ڈاؤن کے سبب فرصت میں بیٹھے قلمکاروں کو اس میں تڑکالگا نے کااچھاموقع فراہم کردیا۔ اب شاعر بھلا اس موقع سے فائدہ کیونکرنہ اٹھاتا انھوں نے بھی اپنی قلم سے کرونا کا ستیاناش کرنے کا اور اچھی خاصی درگت بنانے کافیصلہ لے ہی لیا، یہ شعرملاحظہ کریں۔
رکھانہ کرونانے کسی اک بھرم بھی۔ ۔ مے خانہ بھی خالی ہے، کلیسابھی، حرم بھی

چین، جاپان اوردوسرے ملکوں میں شاید ہی کو چرند پرند ہوگا جسے کھایانہ جاتاہو، کروناکا پیدا ہونا اس کی ایک اہم وجہ ہے، ترقی کے نام پراس چلن کو شعری پیرائے میں اسحاق وردگ بیان کرتے ہیں۔
ایسی ترقی پرتو رونابنتا ہے۔ ۔ جس میں دہشت گرد کرونابنتاہے

چند مزید اشعار دیکھیں۔
افسوس یہ وبا کے دنوں کی محبتیں۔ ۔ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے (سجادبلوچ)
زمیں پر ہم نے پھیلایا ہے شرکاوائرس کیاکیا۔ ۔ کہیں شکل اناکیا کہیں رنگ ہوس کیاکیا (جلیل عالی)
اک بلا کوکتی ہے گلیوں میں۔ ۔ ۔ سب سمٹ کرگھروں میں بیٹھے ہیں (محمد جاویدانور)
میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے۔ ۔ ملنا چاہا توبچھڑنے کی وباپھوٹ گئی (نعیم ضرار)
ہم فقیروں پہ ہو کرم یارب۔ ۔ ۔ شاہ زادے وبا کی زدپر ہیں (عارف امام)
کچھ اپنے اشک بھی شامل کرودعاؤں میں۔ ۔ سنا ہے اس سے وبا کااثربدلتاہے (شکیل جاذب)

زندگی میں سب کچھ کھوجانے کے بعدبھی انسان امید کی رسی تھامے اچھے مستقبل کے انتظارمیں سفرجاری رکھتاہے، آج جب کہ پوری دنیا کروناجیسی وبامیں ڈوبی ہوئی ہے، امیدکادامن تھامے اپنے رب پریقین رکھنے کی اشدضرورت ہے۔‘‘

شہزاد حسین بھٹی ’’ویکسی نیشن کی روداد‘‘ ، علی ارمان ’’قرنطینہ کی روداد‘‘ ، علی اکبرناطق ’’میری بیماری کافسانہ‘‘ ، پروفیسرمحمدسلیم ہاشمی ’’کرونا مثبت سے منفی تک‘‘ اور پروفیسر محمد ذکریا ’’کروناوجوہات اورتاثرات‘‘ نے کرونا وبا میں مبتلا ہونے کی روداد قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔

معروف شاعر، افسانہ وناول نگارعلی اکبرناطق ’’میری بیماری کافسانہ‘‘ کچھ یوں سناتے ہیں۔

’’آج سے پچیس دن پہلے مجھے دوبارہ کرونانے دبوچ لیا۔ مجھے یہ بیماری پہلے بھی ہوچکی تھی اورمیرااندازہ تھاکہ اب نہیں ہوگی مگراب کے ایسے ہوئی کہ جان کے لالے پڑگئے اورچارپانچ دن میں ہی حالت یہ ہوئی کہ مجھے ریمڈی وائزراورسٹیرائڈکے انجکشن لگوانا پڑے۔ خون میں چارسوتک کلوٹنگ چلی گئی اوردوسرے بھی کئی طرح کے انفکشن ہوگئے۔ ، یعنی جسم تیزی سے زوال کی طرف بڑھنے لگا۔ میرے تمام خیال جسم کی طاقت کے دعوے ریت ہوگئے۔ عجب طرح کے وسوسوں نے گھیر لیا کہ میرے مرنے کے بعد فلاں آدمی شکرکاکلمہ پڑھے گا، فلاں کوبہت دکھ ہوگا۔ میرے پاس کون کون سی نیکی ہے جوانجانے میں ہوگئی اورخدانے اسے محفوظ کر لیا ہے۔ یقین کیجئے بڑے بڑے کاموں کی بجائے مجھے بالکل معمولی اورچھوٹی چھوٹی نیکیاں ہی یاد آئیں بیماری کے دوران سوائے دیسی مرغے اور بکرے کی یخنی کے کچھ نہیں کھایاپیا۔ روٹی کے معاملے میں معدہ نومولود بچے کی طرح ہوگیا۔ ڈاکٹر رانجھا ہر وقت کال پر رہے اور مجھے حوصلے کے ساتھ دوائیوں کے استعمال کے بارے میں بتاتے رہے۔ ڈاکٹر منیزہ نقوی اور سعیدنقوی امریک اسے بہت فکرمندرہے۔ عرفان جاوید اور سرمد خان بھائی نے بڑے بھائیوں کا حق ادا کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ اب حالت ٹھیک ہے۔ تمام انفکشن ختم ہوچکے ہیں مگرکمزوری کاکوئی حساب نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں ہمارے لیے فوج، بیوروکریسی، سیاستدان وغیرہ کبھی کچھ نہیں کریں گے۔ یہ لوگ اپنے اپنے بل میں کے چوہے ہیں۔ اپنے کنبوں اور قبیلوں کی زبان بولنے پرہی قدرت رکھتے ہیں۔ ہماری آواز نہیں سمجھتے۔ ہمیںخود ہی غیرسرکاری طور پرایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ بھائی!کووڈ، موت کی طرح واحدمنصف ہے جونہ گورے کوکالے پرفوقیت دیتا ہے، نہ عربی کو عجمی پر، نہ مشہورکوگمنام پراورنہ امیرکو فقیر پر۔ چنانچہ اس موذی سے بچنے کی صرف ایک ہی ڈھال ہے وہ ہے دوہرا ماسک۔ ہروقت ماسک، مجلس میں ماسک، خلوت میں ماسک۔ یہ بدبخت صرف ماسک سے ڈرتاہے۔ باقیوں پر مرتاہے۔‘‘

آخری میں محمدحمیدشاہد، شہنازشازی اورمنورحسین کے تاثرات دیے گئے ہیں۔ محمد حمیدشاہداپنے مکتوب میں لکھتے ہیں۔

’’ادھربھارت میں کوروناوائرس سے یومیہ کیسزاورہلاکتوں میں ریکارڈاضافے کے ساتھ آکسیجن کی قلت سے متعلق خبروں نے حددرجہ دکھی کردیاہے۔ پاکستان میں بھی کروناکی تیسری لہرکاوارشدید ترین ہے۔ خداوندکریم سے عرض گزارہیں کہ یہ دونوں ملک جوپہلے ہی اپنی غریب کش پالیسیو ں کی وجہ سے عام آدمی کوغربت کی سطح پردھکیل چکے ہیں وہ رحم کرے۔ انسان اورانسانیت پریہ بہت کڑاوقت آپڑاہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں، جب کہ موت ہماری گھات میں ہے، کیاہم اجتماعی سطح پرایساکرپائیں گے کہ انسان اورانسانیت دونوں کوبچایاجاسکے؟ ’’

بھارت سے شہنازشازی لکھتی ہیں۔

’’الحمداللہ میرے شریک حیات توکروناسے روبہ صحت ہیں لیکن اطراف کی صورتحال خاصی خراب ہے۔ ہرگھرمیں دو تین مریض تو ہیں ہی اوریہ تعداد نہایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دودن پہلے تیس جنازے آج پینتیس جنازے۔ دفنانے کے لیے وقت لیناپڑرہاہے۔ دوائیوں کی عدم دستیابی سے مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ آپ سب سے اجتماعی دعاؤں کی درخواست ہے۔ یااللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے۔ ہم بے بس ہیں توتوبے بس نہیں۔ اس وباکے خاتمے کاحکم فرمادے میرے مولا۔‘‘

منورحسین لکھتے ہیں۔

’’پرسوں میرے بہنوعی کابوریوالہ میں کروناسے انتقال ہوگیا۔ سرکاری ہسپتال میں داخل تھے۔ سی ٹی اسکین میں پچھہتر فیصد لنگز خراب تھے۔ حقیقت اس سے بھی زیادہ۔ ادویات صرف علامات کوکنٹرول کرسکتی ہیں۔ کروناسے صرف جسم کادفاعی نظام ہی بچاتا ہے۔ دوسری رات سرکاری طورپروہاڑی شفٹنگ کے انتظامات انتظامیہ نے کردیے، گاڑی ساتھ، گیس سلنڈر، دوسرے ہسپتال میں داخل کرانے کی ذمہ داری۔ حکومت اورہسپتال انتظامیہ کی قابل ستائش خدما ت تھیں۔ حکومت نے کروناکے لیے کام کیاہے۔‘‘

جب ہرجانب حکومت کومطعون کیاجارہاہے۔ منورحسین نے بہنوئی کی وفات کے باوجودحکومت کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ جومثبت رویہ ہے۔ مجموعی طور ’’ذوق وبانمبر‘‘ ایک بہترین کاوش ہے۔ جس سے کروناکے بارے میں قارئین کوبہت آگاہی ہوتی ہے۔ وطن عزیزمیں ادیب وشعراوباکے بارے میں جوکچھ کررہے ہیں۔ اس کی بھی عمدہ نمائندگی کی گئی ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply