ہم جنس پرستی LGBT اسباب اور تدارک‎‎ —– عظمی خان

0

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جب کراچی کی LGBT community سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر سے پوچھا گیا تو اس نے کہا “آج سے بارہ سال پہلے میں نے لفظ GAY لکھ کر ہٹ کیا تو میں صرف بارہ افراد سے کنیکٹ ہوپایا لیکن آج اگر آپ یہ لفظ لکھ کر ہٹ کرتے ہیں تو جی پی ایس سروس کی بدولت آپ اپنے قریب ترین ہزاروں لوگوں سے کنیکٹ ہوجاتے ہیں۔ ”

بارہ سال میں بارہ کی تعداد ہزاروں اور مجموعی طور پر لاکھوں میں پہنچنا الارمنگ صورتحال ہے۔

ہمارے معاشرے میں یہ اصطلاح ایک taboo ہے۔ اگر بات ہوتی بھی تھی تو مذاقاََ.

جون 2021 میں لاہور کے ایک مدرسے کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں مدرسے کے استاد اپنے ایک شاگرد کے ساتھ جنسی زیادتی کررہے ہوتے ہیں۔

ایک مہینہ بعد ایک اور واقعہ اسلام آباد کی یونیورسٹی میں پیش آتا ہے جس میں ہاسٹل میں مقیم چند افراد ایک فوڈ ڈلیوری بوائے کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں۔

ان دونوں واقعات میں گناہ اور جرم صرف جنسی زیادتی نہیں بلکہ ہم جنس پرستی بھی ہے جو اسلام میں گناہ اور تعزیرات پاکستان میں جرم ہے۔

ان واقعات کے بعد ہم جنس پرستی کا موضوع مزاق سے نکل کر سنجیدہ بحث کا حصہ بنا۔ بہت سے لوگوں نے اس کے حل اور معاشرے میں اس سے ممکنہ بچاو پر بات شروع کی۔

جہاں بہت سی تجاویز سامنے آئیں وہاں سب سے زیادہ جو تجویز سامنے آئی وہ غیر مخلوط ماحول کی فراہمی تھی۔ ایک حلقے کا ماننا ہے کہ چونکہ پاکستانی معاشرہ تمدنی لحاظ سے ایک غیر مخلوط معاشرہ ہے اس لئے یہاں ہم جنس پرستی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔

اوپر بیان کئے گئے واقعات اس لئے رپورٹ ہوگئے کہ ان میں ہم جنس پرستی کے ساتھ ساتھ زیادتی کا گناہ اور جرم بھی شامل تھا لیکن ایسے واقعات جو رپورٹ نہیں ہوئے یا ایسے کپلز کی تعداد جو ہم جنس پرست ہیں بہت زیادہ ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی اور لاہور Gay Man Hub ہیں۔

ہم جنس پرستی کا یہ بڑھتا رجحان پاکستان جیسے بظاہر مذہبی ماحول رکھنے والے ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

سو اس رجحان کے ممکنہ تدارک پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس رجحان کی وجوہات کیا ہیں۔

مولانا مودودی اپنی کتاب پردہ میں امریکی رسالہ کی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہیں جو امریکہ میں غیر اعتدال اور غیر فطری جنسی رجحان سے متعلق ہے۔ امریکی رسالہ لکھتا ہے:

” تین شیطان قوتیں ہیں جن کی تثلیث آج ہماری دنیا پر چھا گئی ہے۔ اور یہ تینوں جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں۔

1۔ فحش لٹریچر جو جنگ عظیم کے بعد حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بے شرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا چلا جارہا ہے۔

2۔ متحرک تصویریں جو شہوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکاتی ہیں بلکہ عملی سبق بھی دیتی ہیں۔

3۔ عورتوں کا گرا ہوا اخلاقی معیار جو انکے لباس اور بسا اوقات انکی برہنگی اور سگریٹ کے روزافزوں استعمال اور مردوں کے ساتھ انکے ہر قیدوامتیاز سے ناآشنا اختلاط کئ صورت ظاہر ہوتا ہے۔

یہ تین چیزیں ہمارے ہاں بڑھتی چلی جارہی ہیں اور انکا نتیجہ مسیحی تہذیب و معاشرت کا زوال اور آخرکار تباہی ہے۔ اگر انہیں نہ روکا گیا تو ہماری تاریخ بھی روم اور ان دوسری اقوام کے مماثل ہوگی جنہیں یہی نفس پرستی اور شہوانیت ان کی شراب، عورتوں اور ناچ رنگ سمیت فنا کے گھاٹ اتار چکی۔”

یاد رکھئے یہ تمام الفاظ ایک امریکی رسالے میں آج سے چوراسی سال قبل شائع ہوئے تھے۔ بہرحال یہ تمام محرکات صرف ہم جنس پرستی ہی نہیں بلکہ تمام آزادانہ جنسی تعلقات کے لئے بیان کئے گئے تھے۔

اگر ہم موجودہ دور میں ہم جنس پرستی کی حالیہ صورتحال کو مدنظر رکھیں توبیان کی گئی تمام وجوہات کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ کیسے آیئے دیکھتے ہیں۔

فحش لٹریچر: ہماری موجودہ نسل کا ادب سے تعلق برائے نام ہے۔ درسی کتب نے بھی ڈیجیٹل کتب کی شکل اختیار کرلی ہے۔ یہ فحش لٹریچر سے ملنا والا مواد بھی اب ڈیجیٹل مواد ہے جس کی سب سے آسان دستیابی پورن سائٹس ہیں۔ درجنوں پورن سائٹس پی ٹی اے کی طرف سے لگائی گئی پابندی کے باوجود ایکٹو ہیں اور باآسانی فحش مواد دستیاب کرتی ہیں۔

متحرک تصویریں: چوراسی سال قبل متحرک تصویریں سینیما کی صورت ہئ دستیاب تھیں لیکن جدید دور میں گھر بیٹھے نیٹ فلکس اور اس جیسے دوسرے ویب چینلز یہ ضرورت پوری کررہے ہیں۔ نیٹ فلکس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ adultry اور خاص طور پر LGBT مواد کو سپورٹ کرتا ہے اور اس موضوع پر مبنی مواد اسکی تقریبا ہر سیریز کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ قدغن جو نیشنل ٹی وی یا سینما پر ہیں یہ ویب چینلز ایسی ہر بندش سے آزاد ہیں اور باآسانی موبایل پر دستیاب ہونے کی وجہ سے parental guide سے بھی محروم۔

عورتوں کا لباس اور مردوں سے آزادانہ اختلاط: پاکستان جیسا معاشرہ جہاں زیادہ علاقہ قبائلی روایات کا حامل ہے جہاں عورتیں اکثر علاقوں میں گھروں میں محدود ہوتی ہیں اور جہاں وہ کام کررہی ہیں چاہے کھیت کھلیان ہی ہوں یا آفسز زیادہ تر تعداد مکمل اور ساتر لباس میں ملبوس ہوتی ہیں۔ عورتیں زیادہ تر جتھوں کی صورت کام کرتی ہیں سو باہر کام کرنے کے باوجود مکمل غیر مخلوط اور آزادانہ ماحول میسر نہیں۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین پر اخلاقی، معاشرتی پابندیاں بھی زیادہ ہیں اور وہ انکی پابندی بھی کرتی ہیں۔ مذہب سے قطع نظر کہ پاکستان کی ہندو کمیونٹی کی خواتین بھی سندھ کے دیہی علاقوں میں لمبے گھونگھٹ میں نظر آتی ہیں وہاں یہ محرک غیر متعلق محسوس ہوتا ہےلیکن ہاتھوں میں موجود یہ ڈیوائس جس کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی اس پر یہ محرک بھی باآسانی دستیاب ہے۔ تمام دنیا میں پھیلی بےشمار Dating Sites کے علاوہ ٹک ٹاک، اسنیک ویڈیو اور اس جیسی کئی دوسری ایپلیکیشنز کی بدولت۔ اچھے گھرانوں کی لڑکیاں بنی سنوری آپ کو ان ایپلیکیشنز پر گاتی ہوئی، تھرکتی ہوئی ملیں گی۔ جس کے ویوز جتنے زیادہ اتنا زیادہ پیسہ۔ عالم یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ جہاں شوبز سے تعلق اب بھی ایک taboo ہے وہاں والدین فخریہ اپنی اولاد کے ٹک ٹاکس اور اسنیک ویڈیوز پر فین فالوونگ کا ذکر کرتے ہیں۔ پاکستان سے باہر ایک بڑی تعداد ان ایپلیکیشنز کا استعمال بہت مثبت انداز میں بھی کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس کا مقصد ہیجان اور خاص طور پر جنسی ہیجان پر مبنی مواد ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان اسباب کا جرائم خاص طور پر ہم جنس پرستی سے کیا تعلق ہے؟

تو جواب ہے اشتعال۔ جذبات کی اشتعال انگیزی اور جنسی ہیجان جو ان تمام باآسانی اور ہر وقت میسر اسباب کی صورت برپا رہتا ہے۔ ریسرچ کے اعتبار سے جب بھی انسان پورن پر منبی مواد دیکھتا ہے یا پڑھتا ہے تو بے شمار ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جو مسلسل ہیجان کا باعث بنتے ہیں۔ اور انسان کی اخلاقی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرتےہیں۔ یہ کون کون سے ہارمونز ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں یہ ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ بہرحال ریلیز ہونے والے ہارمونز میں سے Oxytocin and Vasopressin جو نہ صرف پورن دیکھنے کی صورت میں ایک ہیجان انگیز کیفیت پیدا کرتا ہے بلکہ اس کیفیت اور احساس اور اسکے محرک کو یادداشت کا حصہ بنا دیتے ہیں اور اگلی دفعہ ایسا محرک سامنے آتے ہی فورا ایکٹو ہوجاتے ہیں اور یہ ہلچل دماغ میں ایک چین ری ایکشن کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔

سو انسانی صحت، اسکے اخلاق اور اسکی نفسیات ان تمام محرکات کے باعث متاثر ہوتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ یہ تمام محرکات اس وقت باآسانی پری ٹین ایج میں ہی دستیاب ہیں جو قبل از وقت صنفی احساسات کی بیداری کا باعث بنتے ہیں۔ جب یہ پری ٹین نسل غیر مخلوط مدرسوں یا تعلیمی اداروں میں داخل ہوتی ہے تو اپنی تسکین کے لئے انہیں اپنی ہی صنف میسر ہوتی ہے۔ سو کم عمری میں کیا گیا پہلا غیر فطری فعل دماغ کے حافظہ کا ایسا حصہ بنتا ہے جس سے کسی بھی عمر میں پیچھا چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ ایک چین ری ایکشن کی صورت جب بھی جسم یہ ہارمونز جس بھی وجہ سے خارج کرتا ہے یادداشت میں موجود وہ عمل جس نے تسکین پہنچائی ہوتی ہے پوری شدت سے حاوی ہوتا ہے اور یہ گناہ سرزد ہوجاتا ہے۔

ایک ریسرچ کے مطابق پاکستانی معاشرے میں اکثر اور lasbian Gay کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے Bi sexual بھی ہوتے ہیں یہ مخالف جنس سے شادیاں بھی کرتےہیں اور عام خانگی ازدواجی زندگی بھی گزار رہے ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس علت میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔

سو اس گناہ، جرم یا علت سے پیچھا چھڑانا کے لئے ان تمام محرکات کا خاتمہ ضروری ہے ساتھ ہی ساتھ تمام ضروری تدابیر کرنا بھی شامل ہیں۔ جب ہی معاشرے سے اس بھیانک فعل کا خاتمہ نہ بھی ہوا تو کم ضرور ہوسکے گا۔ ورنہ غیر فطری اور غیر اسلامی تدارک کے تجربے جس میں زیادہ سے زیادہ جنسی آزادی اور غیر مخلوط ماحول کی فراہمی ہے تمام ترقی یافتہ ممالک کرچکے ہیں اور ان میں ہی LGBT کمیونٹی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انکے تحفظ کے لئے قانون بنانے پڑگئے ہیں اور اس علت میں مبتلا افراد کو قانونی اور معاشرتی تحفظ فراہم کیا جانا ناگزیر ہوگیا ہے۔

سو ہماری فلاح کا راستہ وہی ہے جوہمارا دین بتاتا ہے کہ ایک صالحیت پر مبنی معاشرہ کا قیام جس میں جذبات کی اشتعال انگیزی کے محرکات کم سے کم میسر ہوں اور تربیت کے ذریعے ان جذبات پر قابو اور انکے اخراج کے فطری دینی اور معاشرتی ذرائع موجود ہوں۔
جیسے کہ بالغ افراد میں نکاح کی جلدی اور نکاح کے معاملات میں آسانی۔ گھراور خاندان کے ادارے کو آسان نکاح اور بہت سی غیر ضروری روایات کے خاتمے کے ذریعے موثر بنانا۔

وہ تمام اسباب جو جذبات میں اشتعال انگیزی کی وجہ بن رہے ہیں انکی فراہمی روکنا یا انکی دستیابی میں رکاوٹ پیدا کرنا۔
والدین اور اساتذہ کا نوجوان ہوتے بچوں کے ساتھ جذباتی اور جنسی معاملات اور ان معاملات میں حیا کی اہمیت پر گفتگو کرنا تاکہ معلومات انہیں درست ذرائع سے میسر ہوں اور درست معلومات ہی میسر ہوں۔

نوعمر بچوں پر کسی نگران خاص طور پر والدین میں سے ہی کسی کا نگران ہونا ضروری ہے تاکہ بچے کو تنہا پاکر کوئی اسے جنسی نقصان نہ پہنچا سکے ساتھ ہی ساتھ بچوں کی دوسرے افراد کے رویئے کے متعلق شکایت کو سننا اور اس معاملہ میں انکی حوصلہ افزائی کرنا۔ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہی اور اس صورتحال میں ردعمل کی آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔

اور سب سے اہم طریقہ نئی نسل کو قرآن سے جوڑنا۔ انہیں قوم لوط کے حالات اور انکی تباہی و بربادی کی داستان سے روشناس کروانا تاکہ اگر کبھی یہ گناہ سرزد کرنا کا خیال بھی آئے تو یہ یاد رہے کہ آپ دنیا میں پہلی بار یہ ایڈونچر نہیں کررہے بلکہ دنیا میں ایک قوم اس گناہ کی لذت کا مزہ چکھ کر تباہ و برباد ہوئی اور نشان عبرت بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا ; Joseph Massad ترجمہ و تلخیص: وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply