گیدڑ اور گیدڑی کا بیاہ —- احمد اقبال

0

نہیں معلوم ایسا کہنے میں کیا مصلحت کی سائنس تھی۔ جب برستے بادل چھٹتے تھے تو کبھی ایسا بھی ہو تا تھا کہ ایک ہی وقت میں دھوپ بھی ہوتی تھی اور پھوار بھی پڑنے لگتی تھی۔ تب یہ کیوں کہا جاتا تھا؟ بخدا منطق کبھی سمجھ میں نہ آئی۔ اب ہم الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سےدی جانے والی معلومات پر غور کرتے ہیں تو یونہی برکھا بادل اور کڑی دھوپ کی آنکھ مچولی کا گمان ہوتا ہے۔ مدت ہوئی اپنی عقل کے گھوڑے کھول دیۓ جو بچپن میں بحر ظلمات کو ریس کورس سمجھتے تھے۔ کسی بات پریقین کرتے ہوئے ڈر سا لگتا ہے۔ ہماری زندگی کو اپنے عہد کا نام دینے والے مشتاق یوسفی بھی تضادات کی دنیا میں جیئے۔ معاشی حقائق کی سنگین دنیا میں رہے اور مزاح کے پھول کھلاتے گۓ۔ زرگزشت میں کہیں لکھ دیا کہ۔۔ ’’جھوٹ تین طرح کے ہیں۔ جھوٹ سفید جھوٹ اور اعداد و شمار‘‘

آج قدم قدم پر جھوٹ کی اس تیسری سب سے سنگین صورت ہی جب کلمۂ حق کے طور پر کہی جاتی ہے تو اپنی بے چارگی پر ترس آتا ہے۔ اب اسے کیا کہیں۔ یہ رمز خسرواں تو بہت پہلے سمجھ لی تھی کہ مملکت کے دو سچ ہوتے ہیں۔ ایک سمجھنے والوں کیلیۓ دوسرے عوام کیلیۓ۔ اس کا اعتراف تب نظر آیا جب بانی پاکستان کی پالیسی ساز گیارہ اگست ۴۷ کی تقریر کی اشاعت انگریزی کے ڈان اخبار تک محدود کی گئی، عوام اردو سمجھتے ہیں تو ان کو ساراسچ سمجھنے کی کیا ضرورت ہے۔ رموز مملکت پر حکمرانوں کی کوکھ شاستر چانکیہ نے سینکڑوں سال قبل لکھی جو شطرنج (چتر۔انگ) کا موجد بھی تھا۔ اس کی ہر سطر میں کامیاب حکمرانی کے گر ہیں۔۔ ایسی ہی تصنیف میکاولی کی ’’پرنس‘‘ ہے۔ ان کی تعلیمات کا انسانی حقوق کے کسی چارٹر سے وہی رشتہ ہے جو کفر کا اسلام سے ممکن ہے۔ لیکن دنیا کے سب حکمراں اسی نصاب سیاست کا مطالعہ کرتے رہے یہاں تک کہ بھٹو صاحب بھی آخری ایام تک یہ پڑھتے رہے (دروغ بر گردن راوی)۔

آج کل بھی حکومت کایہی فارمولا کارگر ہے۔ تمام دن نیوز چینل ایک ہی قسم کی خبریں چلاتے ہیں۔ سرکاری ترجمانوں کی چرب زبانی آج کل بد زبانی کا نیا انداز ہے۔ اس میں ایک خاتون اگر رسوا ہوئیں تو شاید مستحق تھیں لیکن ایک اور ہستی نے ولدیت کے غرور کو رسوا کیا۔ رفتہ رفتہ محسوس نہ ہونے والے طریقے پر صحافت کے علمبردار پس منظر میں چلےگیے اور ’’ناحقائق‘‘ کو سچ کےاعداد و شماربنا کے پیش کرنے والے ذہنوں پر چھا گئے۔ اکبر الہ آبادی کے بقول
تھی شب تاریک چور آۓ جو تھا سب لے گئے
کر ہی کیا سکتا تھا بندہ کھانس لینے کے سوا

تو یہ بندہ بھی بس کھانس ہی رہا ہے۔ سمجھنے والے سمجھ گئے ہیں کہ تکرار سے جھوٹ کو سچ بنایا جا سکتا ہے اور بہت سے سفید جھوٹ اب سنہرے سچ ہیں۔ جو سچ دیکھنے کے بعد دکھانے کی کوشش کرتے ہیں خود کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ ماضی کو مرضی کے مدفن میں دبا کے زمین برابر کر دی گئی ہے پچاس سال کا بڈھا بھی کیا جانے ایک مشرقی پاکستان بھی تھا۔ تب وہ پیدا ہوا تھا۔

آج چیلنج ہے سامنے کے حقائق سے انکار کا۔ اس کا جو طریقہ فوری درد سے آرام دلانے والی گولی ہے وہ عوامی جذبات میں آگ بھڑکانے کا حربہ ہے۔ درد کیا ہے۔۔ یہ جاننے والوں کیلئے سب در بند نہیں کیۓ گیۓ ہیں۔ جب ایک پی ٹی وی کا دم تھا تو یار لوگ کہنے لگے تھے ’’چلو یار صدر نامہ شروع ہوگیا۔ بند کرو ٹی وی کھانا کھاو آرام سے‘‘ ۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ نیک بی بیاں ’ساس بہو جہاد‘ کے ڈراموں میں مگن ہوں تو حضرات ہر نیوز چینل پر مرغے لڑوانے کے پروگرام سے مستفید ہوتے ہیں اور پھر عموماََ کھانے کے وقفے میں خود لڑتے ہیں۔ رات کو بھانڈ محفل سجا کے شرفا کی پگڑی اچھالتے ہیں اور اس تذلیل کو تفریح بنانے والے ایک نامور شاعر کے سپوت ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں سیاسی تفریق یعنی پولرائزیشن جس انتہا کو پہنچی وہ ایک نیا فینومینا ہے۔ (واقعہ یا تجربہ اس لفظ کا صحیح متبادل نہیں)۔ آج ہمارے ایک دوست نے گلہ کیا کہ سیاسی اختلاف نے فیس بک پر کیا ماں بہن ایک کر رکھی ہے۔ ایک حیران کن تجربہ مجھے کل فیس بک پر ہوا جب ایک خاصے معقول اور پڑھے لکھے دوست نے لندن میں ہونے والی ایک روایتی سی خاندانی شادی کی تصویر پر تبصرہ کیا۔ جو ہماری بیگم کی تحقیق کے مطابق ماموں زاد بھائی سے ہوئی تھی۔ اب دولت مند کیا غریب بھی شادی میں ارمان تو نکالتا ہے۔ یہاں بھی شادی کا جوڑا دلہن کی نانی نے خود سنگر سلائی مشین پر بیٹھ کر نہیں سیا تھا۔ انڈیا کے کسی نامور فیشن ڈیزائنر نے بنایا تھا۔ تصویر میں صرف تین افراد دولھا دلہن اور دلہن کے نانا تھے۔ مگر ہمارے مہرباں نے لکھا کہ ’’تصویر دیکھ کے پتا چلتا ہے کہ شادی بھی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے‘‘۔ ان کے اس خیال پر ۲۵ افراد مہر تصدیق بھی ثبت کر چکے تھے۔ تین سال بعد ہر گھر میں بھی یہ سہ فریقی سیاسی تقسیم نظر آنے لگی ہے۔ ایک ہی گھر میں پٹواری جیالے اور یوتھیے بر سر پیکار ہیں۔ دادا ایک کے لئے بیٹا دوسرے کیلۓ پوتا تیسرے کیلئے۔۔ واللہ کیا جمہوریت ہے۔

لیکن اس سے زیادہ سنگین مسائل وہ ہیں جن کو دیگر معاملات کی گرد میں چھپایا جاتا ہے۔۔ یہ کوئی انوکھی سیاست نہیں ایک بار لاہور میں جاوید اقبال نام کے ایک شخص کا معاملہ اچانک سامنے آیا اور بتایا گیا کہ اس شیطان نے سو بچوں کو اغوا کرکے زیادتی کی اور پھر قتل کر دیا۔ اخبارات نے کچھ بچوں کی تصاویر لگائیں۔ ان کی باقیات میں جوتے اور خون آلود کپڑے بھی دکھائے گئے سارے ملک میں کہرام مچ گیا۔ لوگ پاگل ہو گئے۔کچھ عرصے بعد ۔یاد نہیں کتنے ماہ بعد۔۔ اچانک خبر دی گئی ’’جاوید اقبال نے اس عمارت سے کود کر خودکشی کرلی جہاں وہ زیر تفتیش تھا‘‘۔ آں دفتر را گاۓ خورد۔گاۓ را قصاب برد ۔قصاب ہم مرد۔ ترجمہ یہ کہ کیس فایل کوگائے کھاگئی۔ گائے کو قصائی لے گیا اور قصائی تو مر گیا۔ ہمیں تاریخ کے حوالے سے متعدد واقعات یاد ہیں مگر دہرانے کی کیا ضرورت ہے۔

اس مرتبہ نہایت حساس دن اور جگہ منتخب کر کے لاہور میں یادگار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر کی فریاد کو تماشا بنایا گیا۔ کچھ بیک گراونڈ میوزک وزیر اعظم کے اس بیان کی تھی کی عورت اپنے لباس سے مرد کو ورغلاتی ہے۔ ’’چار سو افراد کی وڈیو‘‘ نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کیا۔ دو طرفہ بیانات کی توپوں نے وہ محاذ کھولے کہ نہ کوئی بندی رہی اور نہ کوئی بندہ نواز۔ ابھی گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا کہ دوسرا دھماکا۔۔ ایک رکشا میں بربریت کی خبر۔۔ پھر ایک اور۔ سٹی اٖف گارڈن۔ انڈیا کا تیسرا فلم اور فنون کا مرکز، سٹی آف کالجز یکلخت ہوس کے بھوکے بھیڑیوں کا مسکن ہوگیا۔ اف یہ لہور لہور ہے۔۔ اچھا ہوا ہم نے نہیں دیکھا کہ پیدا ہی نہیں ہوۓ۔ مزید بیان بازیاں، انتظامی بر طرفیاں۔ پارک کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی بر طرف، ڈیزائنر کو بھی پکڑو، نئی پرانی ریپ کی خبریں ایک تواتر سے چلانے پر گڑے مردے دینی مدارس سے بھی بر آمد کئے گئے۔ ٹیپ کا بند ’یہ سب سابقہ ادوار کی لعنت ہے جی‘۔۔ ایسے میں ایک اور بیان آ گیا کہ ذمہ دار موبایل فون بھی ہے۔ پنجابی میں بحث کا نواں کٹا کھل گیا۔ سب سے پہلے تھیٹر تھا۔ (احوال اس کا قرہ العین حیدر کے ناول چاندنی بیگم میں پڑھئے)۔ پھر منڈوا یعنی سینیما آیا۔ اس کے بعد ٹی وی آیا تو یہی کہرام مچا کہ اخلا قی قدروں کا جنازہ نکل گیا۔ جب دوسرا ٹی وی چینل ایس ٹی این شروع ہوا اور چوبیس گھنٹے نشریات ہونے لگیں تو نئی قیامت آگئی۔ غالبا دادا بھائی فیملی میں سے کسی نے وزیر اعظم کو لکھا کہ بند کریں یہ چینل جس نے نوجوان نسل کو تباہ کر دیا ہے ہر وقت ٹی وی کے سامنے ہے۔۔ جواب ملا کہ آپ کا اس بٹن پر کنٹرول نہیں جس سے ٹی وی بند ہوتا ہے اور حکومت چینل بند کرے؟ کیا بات ہے۔

سر عام پھانسی یعنی وہ سزا دینے کا مطالبہ بے حد مقبول ہے جو قانون میں ہی نہیں۔۔ کوئی موجود قانون کی بے توقیری نہیں دیکھتا جو اردو شاعری کے معشوق کی کمر ہو گیا ہے۔۔ کہاں ہے کس طرف کو ہے کدھر ہے۔ سنا ہے گوروں کے دور میں قانون تھا ۔ ڈپٹی کمشنر کی ڈائری میں لکھا ہے کہ تھانے سے ایک سپاہی آتا تھا تو لچے لفنگے چور اچکے ادھر ادھر غائب ہو جاتے تھے اور سپاہی پندرہ بیس کوایک رسی سے باندھ کے تھانے لے جاتا تھا۔ہماری حکومت نے حال ہی میں تین قانون بناۓ۔۔ جنسی ہراسانی کے بعد خواتین پر تشدد کا قانون (سارے تیس مار خاں شوہر عورت کی ایک شکایت پر اندر)۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کا قانون۔ اسکول کے بچوں پر تشدد کا قانون۔۔ سب قانون کی کتابوں میں پورے اعزاز کےساتھ دفن کئے گئے۔ عمل کون کرے اور کیسے جب ساری نفری ہی وی آئی پی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہو۔ اور تھانوں والے ایسے بھی احمق نہیں کہ خود اپنی خوشحالی کے دشمن ہو جائیں۔

حالیہ طوفانی خبروں کے پس منظر میں بہت کچھ اور بھی چل رہا تھا۔ سیاسی محاذ پر عالمی مسایل ہیں۔۔ کچھ معاشی بحران ہے۔ اس کا اعتراف وزیر خزانہ کو کرتے ہی بنا۔ (ہاں مستعفی ہونے والے مشیر مسعود صاحب بہت قابل ہیں مگر میرا طریقہ کار مختلف ہے)۔ ساتواں نیا چیٔیرمین ایف بی آر کب آیا اور کون۔ ڈالر بلند ترین شرح پر کیوں ہے اگر ان کی برسات ہے۔۔چینی کے سکینڈل۔ گندم کی رکارڈ پیداوار اور امپورٹ ساتھ ساتھ کیسے۔ بنگلہ دیش اور انڈیا کے مقابلے میں سب سے کم سرمایہ کاری اور سب سے زیادہ مہنگائی کیوں؟ سپریم کورٹ نے صحافیوں کی ہراسانی پر سو موٹو نوٹس کب لیا جس کی سماعت ۳۰ اگست کو ہوگی۔

ان خبروں کے پیچھے کیا ہےعام آدمی کیا جانے یہ اقتصادیات کے گورکھ دھندے۔۔ اسے کیا کہ دنیا میں جنگ اب اسلحے کی نہیں معاشی برتری کی ہے۔ اور خطے میں ہم کہاں کھڑے ہیں
اسے تو سوشل میڈیا پر بارش کے ساتھ دھوپ دکھائی دیتی ہے۔۔۔ گیدڑ گیدڑی کا بیاہ نظر آرہا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply