افغانستان میں امریکی ذلت عالمی تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ —- پیٹر اوبورن

0

روس کو ذلت کے ساتھ افغانستان سے نکلے ابھی تین عشرے ہی گزرے ہیں۔بتیس سال بعد اسی ہفتے امریکہ کو بھی ویسی ہی ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دونوں صورتوں میں کہانی ایک ہی ہے کہ ایک عالمی سپر پاور کو دنیا کے غریب ترین ملک کی دیہاتی/قبائلی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔یہ تاریخی لمحہ ہے۔ اس پیش رفت نے دو بہت اہم سوال پیدا کردیئے ہیں۔ پہلے سوال کا تعلق افغانستان سے ہے۔کیا افغان قوم خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گی جس طرح کہ روس کے زوال اور انخلاء کے وقت ہوئی تھی؟دوسرے سوال کا تعلق امریکہ سے ہے۔کیا طالبان کی فتح امریکہ کی عالمی طاقت کے خاتمے کا آغاز ہے۔ کئی وجوہات کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ تاہم میں پہلے افغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ افغانستان کے خانہ جنگی میں پڑنے کا امکان ہے لیکن کئی وجوہات کی بناء پر امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

کیا طالبان بدل گئے ہیں؟

پہلی وجہ یہ ہے کہ 1979 میں روس کے حملے کے بعد سے چالیس سال تک افغانستان تصادم کے حالات سے گزرا ہے۔زیادہ تر لوگ اب پر سکون زندگی کے خواہاں ہیں۔ افغانیوں کے پاس جنگ سے اکتانے کی وجوہات پہلے کی نسبت زیادہ ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ طالبان جنہوں نے نوے کی دہائی میں افغانستان میں اقتدار حاصل کیا تھا اور اس طرح کی سفاکانہ چیزوں کا ارتکاب کیا تھا وہ قدامت پرست اور گروہی طور پر متعصب تھے۔ مصائب اور غربت نے ان کی صورت گری کی تھی ۔اس کے برعکس اب طال-بان کے درمیان کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو شائستہ، یونیورسٹیوں کے سند یافتہ اور کم فرقہ پرست ہیں۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جب سے انہیں فتح ملی ہے وہ تمام گروہوں سے بات چیت کرنے کا پیغام تسلسل کے ساتھ کیوں جاری کررہے ہیں ۔

پچیس برس پہلے انہوں نے ہزارہ شیعہ کا قتل عام کیا تھا ۔ ہزارہ افغانستان کا تیسرا بڑا نسلی گروہ اور سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے طالبان نے شیعہ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرلیئے ہیں۔

چائنہ کا کردار بھی بہت بنیادی ہے۔ چائنہ افغانستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اور توقع ہے کہ وہ شنگھائی تنظیم برائے اقتصادی تعاون کے فورم سے روس اور قازقستان سمیت دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ شمولیت اختیار کرے گا۔چائنہ سرمایہ کاری کے بدلے میں سیاسی استحکام چاہے گا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بیس سال پہلے صدر منتخب ہونے والا حامد کرزئی جسے امریکہ کی کٹھ پتلی سمجھا جاتا تھا وہ بھی اب طالبان سے بات چیت کررہا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ برطانوی پارلیمانی ارکان نے طال-بان کے دہشت – گردوں کو پناہ دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے . فتح کابل کے بعد طال-بان نے پہلا کام یہ کیا ہے کہ انہوں نے دا-عش کے گروپ لیڈر اب و-ع م ر- خ را-سان ی کو پھانسی دے دی ہے۔اسے پچھلے سال افغان فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ اس طرح کے اقدام سے علاقائی طاقتوں کو یہ پیغام جائے گا کہ طال-بان عدم استحکام کو ہوا نہیں دیں گے۔

عورتوں کے حقوق بارے بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ماضی میں طالبان کی عورتوں کے (حقوق) بارے ناپسندیدگی کو دیکھا جائے تو یہ خدشات بلکل جائز ہیں۔اس حوالے سے بھی یعنی بچیوں کی تعلیم کے بارے میں بھی طالبان اب مثبت باتیں کررہے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کا یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان پر شبہ تو ہم سب کو ہی کرنا چاہیئے۔

امریکی سلطنت کا مستقبل!

اب میں امریکی سلطنت کے مستقبل کے مسئلے کی طرف آتا ہوں۔1945 یا بعض لوگوں کی رائے میں اس سے بھی پہلے سے امریکہ عالمی طاقت کے منصب پر فائز چلا آتا ہے۔ پچھلے ہفتے کی ذلت نے امریکہ کے اس منصب پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگادیا ہے اور اس ذلت کو عالمی تاریخ کے اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس طرح سے سوچنے کی کئی وجوہات ہیں۔اس بات کی پیش بینی کرنے میں ناکامی کہ طالبان کتنی تیزی سے کابل میں داخل ہوں گے،اس ملک کو سمجھنے میں امریکہ کی خلقی نالائقی کا اظہار ہے جس ملک پر امریکہ نے بیس سال قبضہ کیئے رکھا ہے ۔ انٹیلی جنس کی اتنی بڑی ناکامی امریکہ کے دوستوں کے لیئے خوف جبکہ اسکے دشمنوں کے لیئے اطمینان کا باعث بنے گی۔لیکن بائڈن کو معلوم ہے کہ اس کا ملک اب بیرونی مداخلت اور جنگ کرنے میں عدم دلچسپی کا شکارہوگیا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دوسرے ممالک کی قیادتیں بھلے اس کا مذاق اڑائیں تاہم بائڈن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ امریکی ووٹرز جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔

امریکہ کے اتحادیوں کو اس سے کیا پیغام گیا ہے!

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بے مروتی سے سعودی بادشاہ سلمان کو بتایا تھا کہ امریکہ کی مدد کے بغیر وہ دوہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ پائے گا۔پچھلے ہفتے کے واقعات نے آشکار کردیا ہے کہ امریکہ خوشی سے اپنے اتحادیوں کو دھوکہ دے گا۔ امریکہ کو پیٹھ پھیرتا دیکھ کر صرف آل سعود ہی نئے اتحادیوں کی تلاش میں نہیں ہیں بلکہ یورپ کو بھی اپنے سیکورٹی حصار کے بارے میں پھر سے سوچنا پڑے گا۔اس دوران میں مشرق وسطی کا جھکاو بھی آہستہ آہستہ مغربی ایشیا کی طرف ہوتا جا رہا ہے۔ ہنری کسنجر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ “امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہوسکتا ہے لیکن امریکہ کا دوست ہونا تباہ کن ہے”۔
یہ بیان آج سے پہلے اس قدر مناسب حال کبھی بھی نہیں دکھائی نہیں دیا۔

پیٹر اوبورن کا یہ مضمون 20 اگست کو Middle East Eye میں چھپا ہے۔ اوبورن برطانوی صحافی ہے اور 2015 تک ڈیلی ٹیلی گراف کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔  ترجمہ: ابرار حسین

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply