بھوک، جنس اور جسم —— فارینہ الماس

1

غلام عباس کے افسانے آنندی کا لب لباب یہ تھا کہ معززین شہر کو یہ فکر لاحق تھی کہ ان کے شہر سے غیرت، شرافت، مردانگی، نیکوکاری، پرہیز گاری اٹھتی چلی جارہی تھی۔ اور اس کی جگہ بے غیرتی، نامردی، منشیات فروشی عام ہو رہی تھی۔ وجہ؟ زنان بازاری کا ناپاک وجود۔ جہاں بھولے بھالے شہری ان طوائفوں کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو کر ہوش و خرد کھو بیٹھتے تھے۔ وہ جامہء انسانیت سے باہر ہو جاتے اور اور قبیح افعال کا ارتکاب کرتے۔ پھر کس مصیبت و آلام کا شکار ہو کر شرفائے شہر نے شہر کے بیچ و بیچ پائے جانے والے اس بازار حسن کو شہر سے باہر چلتا کیا۔ اور انجام و اختتام۔۔۔۔ اک ویرانے میں آباد ”بازار حسن“ کے گرد پھر سے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور ایک نئے شہر ”آنندی“ کی آباد کاری۔

عرض یہ ہے کہ سماج میں جس شے کی مانگ ہوتی ہے وہی شے بکتی ہے۔ بکے گی نہیں تو لوٹ کھسوٹ سے چھینی جائے گی۔ یا نوچ لی جائے گی۔ گویا انسان کے ایسے جنسی اعمال جو سماج کی مقر کردہ حدود سے باہر سرزد کئے جاتے ہیں ان سے فرار کا کوئی راستہ آج تک معاشرے نکال ہی نہیں پائے۔

خود لاہور شہر ہی کی مثال دیکھ لیجئے۔ شہر کے بیچا بیچ تاریخی اہمیت کا حامل بازار حسن جہاں رقص و موسیقی کی کبھی محافل سجا کرتی تھیں۔ جہاں شام چڑھے ہی روشنیاں ہر گلی کوچے کا طواف کرنے لگتیں۔ فلم ساز، نغمہ نگار، شاعر، ادیب آرٹسٹ سبھی ان چوباروں کو رونق بخشا کرتے۔ لیکن وہ ان چوباروں میں منہ چھپا کر چور راستوں سے داخل نہ ہوا کرتے۔ کیونکہ وہ یہاں فن اور ہنر کی قدردانی کے واسطے آتے طوائفوں کے جسم سے کھیلنے کو نہیں۔ ان محلوں کا ایک خاص کلچر تھا جس کی کشش چار سو محسوس کی جاتی۔ وہاں ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔ پھر کچھ شریف شرفاء حکمرانوں نے ان کوٹھوں پر تالے ڈلوا دیے۔ ایک بازار اجڑا تو کئی بازار خود ان نام نہاد عزت داروں ہی کے محلوں میں جا آباد ہوئے۔ جسم کی حرص و ہوس تھم سکتی ہے ناہی مرد کی تماش بینی کو لگام ڈالنا ممکن ہے۔ تو کاروبار تو چلتا رہا بلکہ یہ کاروبار اب چھپ چھپا کے، لیکن بنا کسی اصول قائدے اور تہذیب و لحاظ کے خوب پھلنے پھولنے لگا۔ ان مغنیاؤں کے جلوے جابجا دکھائی دئے تو شرفاؤں کے ہی گھروں کی سادہ مزاج لڑکیوں کے بھی ناز اندام اور تیور بدلنے لگے۔

جسم کی حرص یا ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھوک اور افلاس نے انسان کی نا آسودہ خواہشوں کو ایسا بڑھاوا دیا ہے کہ وہ دوسرے معاملات ہی کی طرح جنسی طور پر بھی پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خونخوار ہوتا چلا گیا ہے۔ آج معاملہ ہوس کو روکنے کا نہیں بلکہ اسے حیوانیت میں ڈھلنے سے روکنے کا ہے۔

ایک انسانی جسم اپنی پیدائش کے بعد سے، ارتقاءکے مختلف طبعی، نفسیاتی، جبلیاتی و شعوری مراحل سے گزرتا ہے۔ جسم کے بننے اور بڑھنے کا عمل ابتدائی مرحلے پر محیط ہے جس میں نشونما تو ہے لیکن جذبات و خواہش اور شعور کم تر۔ بلوغت کا دور شدید ترین جنسی و جذباتی ہیجان کا دور اور پھر بیس سے اکیس سال کی عمر سے شروع ہونے والا عقل و فکر کا آغاز۔ جب وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو محسوس کرنے لگے۔ جس کے لئے درست حقائق اور علم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس دور میں فراہم کردہ علم اور تربیت فرد کے عمر بھر کے مقاصد اور ترجیحات کو سمت عطا کرتے ہیں۔ اس کی باقی ماندہ زندگی کی تمام تر فیصلہ سازی اسی دور کے عقل و شعور پر منحصر ہے۔ لیکن اگر علم اور تربیت میسر نہ ہوں یا وہ علم ناقص، فرسودہ، بے عمل اور تعصبات و نفرت کی آمیزش میں گھلا ہوا ہو تو انسان کا ارتقائی عمل یا تو رک جاتا ہے یا اس عمل میں درست ارتقاء کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ ارتقاءکے رک جانے کا مطلب ہے کہ اس کی سوچ یا تو عمر کے ابتدائی سات آٹھ سالوں کی فہم ہی تک محدود ہے یا پھر وہ پندرہ سولہ سال کی عمر کے جنسی وجسمانی ہیجان کی بھول بھلیوں میں ہی تمام عمر بھٹکتا رہ جائے۔ وہ محض جسم تک محدود ایک ایسا انسان بن کر رہ جائے، جس کی تلاش بھوک اور جسم و زباں کے ذائقے تک ہی محدود ہے۔

ارتقاء سے جڑی قومیں گو کہ جنسی خواہشوں میں آسودگی پاتی ہیں لیکن شعور اور فہم کی بالیدگی کے سفر کو تھمنے نہیں دیتیں۔ وہ اپنی نا آسودہ و تشنہء تکمیل جسمانی خواہشات میں بھٹکتے رہ کر اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ جسم کے ذائقے سے کہیں بڑھ کر روح کا ذائقہ تلاش اور محسوس کرتی ہیں۔ یہ زائقہ انہیں ادب، موسیقی، فلم، شاعری، کتاب، مصوری، فن اور آرٹ میں ملتا ہے، اپنی فکر و دانش اور اس کے ہنر میں ملتا ہے۔ اگر وہ کامیابی سے اس مرحلے پر آجائیں تو ارتقائی امکانات اور بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ہم جنسی خواہش کے حیوانی خیالات میں اس لئے بھٹک رہے ہیں کہ ارتقاءسے بچھڑے ہوئے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔ ایک کائی دار، متعفن معاشرہ۔ جس کے پاس سوچنے اور کرنے کو کچھ نہیں۔ ہم اپنے جیسے انسانوں کو اپنی ہوس میں اس لئے نوچتے ہیں کہ ہمارا ارتقائی عمل جسم اور ذائقے سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ بحیثیت ایک قوم کے ہمیں درست تعلیم اور تربیت میسر نہ آسکی۔

بھگت کبیر نے کہا تھا کہ

”میں لوگوں کے اندر دیکھ سکتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ بے انتہا خوف زدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس گنوانے کے لئے کچھ نہیں۔ وہ اس شخص کی مانند ہیں جو کہ عریاں ہے لیکن دریا میں نہانے کو اس خوف کے باعث نہیں اترتا کہ وہ اپنے گیلے کپڑے کہاں سکھائے گا “

با لکل اسی طرح ہم آج جس سماج میں جی رہے ہیں ہم اس میں ہر دم لٹ جانے کے خوف میں مبتلا ہیں جب کہ ہم جانتے ہیں کہ اب ہمارے پاس لٹنے کے لئے کچھ نہیں۔ ہم ہر دم مذہبی ضابطوں، اخلاقی روایات اور آدرشوں کی بات کرتے ہیں اپنے تئیں ان کے رکھوالے اور پاسدار بننے کا زعم بھی ہے لیکن یہ ضابطے یہ روایات یا تو سرے سے موجود ہی نہیں یا پھر یہ منافقانہ صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کا افضل ترین مذہب ہے۔ لیکن ہم گمراہ ہیں کیونکہ ہمارے لئے ہمارا مذہب محض ایک فخر ہے ضابطہء حیات نہیں۔ ہم دنیا کی سب سے زیادہ عبادت گزار مخلوق ہیں لیکن ایسی بے سود اور بد ذائقہ عبادت جو ہمارا تزکیہءنفس و تصفیہء باطن بھی نہ کر سکے۔ ہمیں خود ہمارے روبرو نہ کر سکے۔ ہماری درسگاہیں اور مدرسے جو ایک انسانی نسل نہیں بلکہ شاہ دولہ کے چوہے تیار کرتی ہوں۔ ۔ ایسے چوہے جو جہالت، اور فرسودگی سے لتھڑے خودساختہ اقدار و نظریات سمیت پورے معاشرے پر تباہی پھیلانے کو چھوڑ دئے جائیں۔

اگر معاشرے میں لوگوں کو مراقبے کا عادی بنایا جائے، ایک ایسا مراقبہ جو خود کو خود اپنے آپ سے اور اپنے رب سے قریب کر سکے، ایک ایسا مراقبہ جو تزکیہء نفس درست انداز میں سکھاپائے تو اس سے بھی معاشرے میں انسان کی وحشتیں اور جنسی بد فعلیاں کم ہونے کا امکان ہے۔ لیکن اس مراقبے کو محض مذہبی عبادت کا حصہ مت بنایا جائے کیونکہ لوگ عموماً مذہبی فرائض کی ادائیگی بیزاری اور اکتاہٹ سے کرتے ہیں۔ اگر عبادت شوق، محبت اور یکسوئی سے نہ کی جائے تو عالم و زاہد بھی تا عمر گمراہی سے نپٹ نہیں پاتے۔

دنیا کے ہر معاشرے اور ہر مذہب میں عریانیت اور جنسی اعضاءکی نمود و نمائش کو کو برا سمجھا جاتا ہے۔ جنسی تعلقات ماورائے نکاح بھی اچھے نہیں سمجھے جاتے۔ لیکن روایتی گھٹن آمیز معاشرتی ماحول میں پلنے والے نوجوانوں کے لئے جنس ایک خبط اور بھوت ہی بن کر رہ جاتی ہے۔ جتنا انہیں جنسی رحجانات سے دور کیا جائے وہ اتنا ہی شہوت انگیز خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور پھر انہی ڈھکے چھپے خیالات میں جنسی حقائق کا علم پاتے ہیں اور منافق و فریب کار بن جاتے ہیں۔ اگر یہ گھٹن، حالات بہتر کر سکتی تو ملا، پنڈت یا پادری کبھی جنسی جرائم میں مبتلا نہ پائے جاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب جنس کو بھی زندگی کے دیگر حقائق میں سے ایک تسلیم کیا جائے۔ اور از سر نو جنسی اخلاقیات کو تشکیل دیا جائے۔ نوجوانی کی طرف بڑھتے بچوں کو محتاط اور قابل قبول طریقے سے تربیت دی جائے تاکہ وہ جنس کو لغو طریقے سے سوچنے اور غلط راہوں پر چلنے سے بچ سکیں۔

غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ معاشرے میں دونوں ہی اصناف جنسی گھٹن کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد اپنی جنسی حرص مٹانے کو بچوں کو نوچ اور عورت کو دبوچ رہا ہے تو عورت محض اپنی گھٹی ہو ئی جنسی خواہشات کا اظہار اپنے جسم کی خودنمائی سے کرتی ہے۔ موٹر سائیکلوں پر جاتی باریک لباس میں ملبوس اپنے زیر جامہ دکھاتی خواتین، لباس کے اندر پہننے کے قابل ٹائٹس کو ٹانگوں سے چپکائے اپنی پنڈلیاں نمایاں کرتیں، اور لمبے چاک سے آدھا پیٹ عریاں کئے ہوئے خواتین کی جنسی نفسیات کو کون نہیں سمجھ سکتا۔ سوشل میڈیا اور شوبز نس جسم نمائی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ عورت کو بڑی چالاکی سے مردوں نے ہی نہیں خود عورت نے بھی مارکیٹنگ کے لئے ایک شہوت انگیز پراڈکٹ بنا کر رکھ دیا۔ اس بات کی تصدیق لازم ہے تو ”ہم“ چینل جو کہ دو خواتین ہی کی پروڈکشن اور سربراہی میں چلایا جا رہا ہے اس کے ڈراموں اور شوز میں عورت کو کس قسم کے لباس میں دکھایا جارہا ہے اس سے ہی کی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا کی مدد سے بھی جسم کی نمود و نمائش اور دکھلاوے سے پیسہ یا سستی شہرت تو بٹوری جا سکتی ہے، عزت اور نیک نامی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ خودنمائی گو کہ عورت کی فطرت کا حصہ ہے جسے دبایا یا روکا جانا بھی درست نہیں لیکن یہ فیصلہ عورت کو کرنا ہے کہ اس حرص کو دولت اور نفس کی ہوس میں مبتلا نہ ہونے دیا جائے تاکہ اپنی شخصیت اور وجود کی قدر کو کھونے سے بچا یا جا سکے۔

بات یہاں تھمتی نہیں، کئی جگہوں پر تو عورت بھی جنسی کھیل کا حصہ اپنی رضا اور رغبت سے بنتی دکھائی دیتی ہے۔ کیا ڈیفنس اور اس جیسی بڑی رہائشی کالونیوں میں ایسے گھر نہیں پائے جاتے جہاں شوہر بیرون ملک ہیں اور بیویاں غیر مردوں کی بانہوں میں جھولتی ہیں۔ کیا جعلی پیروں فقیروں سے خواتین اپنے جسموں پر خود اپنی رضا سے ہاتھ نہیں پھرواتیں ؟ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں میں کچھ ایسی لڑکیاں بھی ہیں جو اپنی مرضی سے لڑکوں سے جنسی تعلق قائم کرتی ہیں ان سے کوئی زور زبردستی نہیں برتی جاتی۔ ۔ عورت معاش کی خاطر بھی جسم بیچتی ہے۔ بیوٹی پالروں یا مساج سینٹروں کی آڑ میں تو کبھی سڑکوں پر کھلے عام جسم فروشی کی دعوت دیتے ہوئے۔ جب کہ معاش کے دیگر چھوٹے لیکن باعزت ذرائع اپنائے جا سکتے ہیں۔

دنیا میں جنسی جبلت کو جھپٹ کر، نوچ کر، بنا دوسرے فریق کی مرضی کے اپنی دسترس میں کرنے جیسے واقعات کو لگام دینے کے لئے جنس کو کاروبار بنا دیا گیاہے۔ یہی اصول دیگر کئی اسلامی ممالک میں بھی رائج ہے۔ جہاں قحبہ خانے بنا کر ہوس اور حرص کو پورا کرنے کے مواقع دئے جا رہے ہیں۔ اگر مردوں کا ہجوم لیڈی گاگا کے جسم کو اس کے پیش کرنے کے باوجود نوچتا نہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہجوم حریص نہیں۔ اب اس کے حریص نہ ہونے کی بھی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ عورت کا جسم اس کے لئے کوئی راز یا انہونی شے نہیں۔ وہ اس جسم کی عزت کرتا ہے جو اس کے سامنے بکنے کو تیار نہیں۔ وہ اپنے ملک کے قانون اور قائدے کا احترام بھی کرتا ہے۔ اور اسے اس قانون کی سختی کا بھی علم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے ملک کا قانون سب کے لئے برابر ہے۔ کوئی بھی اس کی گرفت سے ماورا تر نہیں۔

معاشرے سے جنسی ہوس جیسے فعل کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن ہوس کو حیوانیت سے بچایا جا سکتا ہے۔ ۔ اس کے لئے اب ہمیں سوچنا ہو گا کہ کس طور انسانی و جنسی اخلاقیات کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔

تہذیب کو بچا نے کے لئے مظاہرے یا احتجاج درکار نہیں سماج کو علم اور تربیت فراہم کریں۔ لوگوں کو عزت دیں کہ وہ اپنے وجود کی قدر کرنا سیکھیں۔ جب اپنے وجود کی قدر کرنے لگیں گے تو دوسروں کی عزت اور احترام کرنا بھی سیکھیں گے۔ معاشرے کی گھٹن کو کم کرنے کے لئے بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ضروری ہے۔ جنسی جرائم میں کمی کے لئے لوگوں کو قانون کا احترام کرنا سکھانا ہو گا۔ اور قانون کا احترام اس وقت ممکن ہو گا جب قانون سب کی حفاظت کرے گا اور سب کے لئے ایک جیسا ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اسلام علیکم، سر جی ااداب۔
    میں بہت متاثر ہوا اور افسوس اس بات کا کہ دانش میرے نزدیک تھا مگر میں کیوں اس سے دور تھا بہت بہترین انداز میں مضامین لکھے ہیں اور اس سے ادبی پیاس بجھائی جاسکتی ہے
    اگر آپ کی اجازت ہو تو ان موتیوں میں دوسروں کو شریک کرسکتے ہیں ۔کیا اس کو پیس بک یا میسنجر پر کسی کو بھیج سکتے ہیں ۔اس پر میری رہنمائی فرمائیں شکریہ

Leave A Reply