کالرہ اور کلاسرا ——– محمد خان قلندر

0

پہلی بار جب رؤف کلاسرا کا نام سنا تو ہم کلاسرا کو پرانے ضلع شاہ پور اب سرگودھا کے تاریخی گاؤں کالرہ سٹیٹ سے مکس اپ کر گئے، جو متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعلی خضر حیات ٹوانہ کی جاگیر تھی، اب تو وہاں سنا ہے کھنڈرات ہیں، ہماری یاد میں کالرہ کالری۔ کوئلے کی کان اور کالرہ گڈز ٹرانسپورٹ چلتی تھیں۔

Rauf Klasra on Twitter: "#NewProfilePic… "یہ سٹیٹ سالٹ رینج کے جنوب میں اور ہمارا چکوال شمال میں لیکن علاقائ عصبیت تو لازم تھی، ہم رؤف کو جب بھی اسکی خبر اخبار دیکھتے تو گرائیں تصور کرتے، اس نے میڈیا کی سیڑھیاں کیسے چڑھیں ہم نہی جانتے، وہ تو ایک روز ایک اور لکھاری گرائیں ایاز امیر جن کے ہم ٹیکس کے وکیل تھے تو ان کا ہمارے ڈیرہ کم آفس میں آنا جانا اس وقت مجبوری تھی، انہوں نے ہمارے دفتر میں کسی سکینڈل کی خبر پر تبصرہ کرتے فرمایا “ یہ رؤف کلاسرہ کی کہانی، وہ بڑا معتمد اخباری ہے “ ہم نے کالرہ کا ذکر کیا۔ تب پتہ چلا کہ کلاسرہ کوئ سرائیکی بیلٹ کا گاؤں ہے، خیر اب ٹی وی ٹاک شو میں اینکر اور ایکسپرٹ کلاسرا زبان کی لکنت پر بھی قابو پا چکے، ولایت ہو آئے، شائد کوئ پلاٹ بھی الاٹ ہو گیا ہو گا، مشہور ہوتے گئے، ہم بھی چلتے پھرتے شام کو انکے اور ایاز کے شو دیکھتے، دن میں انکے اخباری کالم پڑھتے۔

رپھڑ تب بنا جب ہم نے ٹیکس کی وکالت چھوڑ دی، اور بچوں کے سپرد کر کے گھر بیٹھ گئے سوشل میڈیا جائن کر لیا۔ دانش پر کالم لکھنے شروع کئے، جنید اقبال کے اخبار نے وہاں سے اٹھا کے چھاپ دیا، انکی ایڈیٹر نے فون کیا معذرت کی۔ اگلے روز جنید سے بات ہوئ، اشارے کنائے میں روکڑ کی بات ہوئ۔

Ayaz Amir (@ayazamir) | Twitterہم نے ہنس کے کہا، “ جنید صاحب اگر پیسہ کمانا ہی مقصود ہوتا تو وکیل رہتے، ایک اپیل کی لاکھ روپیہ فیس تو عام ہوتی” ہم تو پچاس سال فنانس، اور ٹیکس میں نوکری، اور دیگر سروسز کر چکے، تھک گئے، اب کالم لکھنے ہیں، اگر آپ کے ہاں میرا کالم ایاز امیر کے کالم جو ہم عصر میں چھپتے ہیں اس سے ادب و انشا تجزیہ زبان بیان میں اس سے اوپر چھپ جائے تو آپ ہمیں بے دام خرید لیں گے، چند ہفتے بعد جنیداقبال نے اخبار کے ایڈی ٹوریل پیج کا لنک بھیجا۔ ایڈیٹوریل اور ایک مذہبی مضمون کے درمیان ٹاپ پے میرا کالم، ، باعث تحریر آنکہ، ، اس کے عین نیچے ایاز کا کالم اسکے ساتھ ایک طرف ہارون الرشید کا، دوسری طرف کلاسرا کے کالم تھے۔

ہم جیس بڈھے وارے لکھاری بننے والے پروفیشنل نہی ہوتے جلدی بور ہو جاتے ہیں تو سال کے اندر کالم نگاری موقوف ہو گئی اور ہم رومانوی کہانیاں، سالٹ رینج کی عشقیہ داستانیں، ناول اور آپ بیتی لکھنے لگے، بادبان اور داستان زیست ایمل مطبوعات نے چھاپ چھوپ کے مارکیٹ کر دیں، افسانے کتاب کی صورت زیر طباعت ہیں۔

مقصد ہم اس اخباری کھُوہ کا پانی بھی پی چکے، قلندر نام سے مصنف بھی بن گئے تو اب ہم ان کلاسرہ صاحب اور اپنے اب موقوف سابقہ جگری یار ایاز امیر صاحب کی اخباری، ٹی وی، اور دیگر ہر فنکاری سے آگاہ ہیں، یہ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ ہے، اور انکو یہ احساس دلانا ہے کہ۔
اخباریوں کے وڈکے فقط تم ہی تو نہیں
اگلے موڑ پے اک محمد خان بھی تو ہے
ان دونوں جیّد ہستیوں سے کالم کا تقابل نہی مسئلہ کتب نگاری ہے۔

کلاسرا نے کتابیں لکھیں، اچھا کیا، چھپوا دیں خوب ہوا، لیکن پبلشر کی دکان پے دوسرے شہر جا کے یہ روداد سفر میں بطور پبلشنگ ہاؤس کی اشتہار بازی کرنا، ایک اور رائیٹر بی بی سے مل کے اس کتابوں کی دکان کو مشہور کرنا۔ ۔ ۔ معذرت کے ساتھ تمام کتب نویس رائیٹرز کی توہین ہے، پبلشر کا روزگار ہے انہیں مصنف کی مشہوری کرنی چاہئیے۔

ایاز امیر سے سخت گلہ ہے، ہم نے دو کتابیں، ایک جدید آہنگ میں ناول، بادبان اور دوسری آپ بیتی، داستان زیست لکھی بھی چھپوائ بھی، داستان تو ان تمام رنگینیوں سے مزین ہے جن کا ذکر ایاز روزانہ اپنے کالم میں گلو گیر ہو کر کرتے ہیں، ہم نے کوئ لگی لپٹی نہی رکھی، شباب کو شوخ بتایا ڈرنک کو ڈرنک ہی رکھا۔ دونوں کتابیں ایاز امیر کو انکے گاؤں بھگوال بھجوائیں، ان کو مل گئیں۔ ہم توقع رکھتے تھے کہ چوہدری ایاز صاحب خوش ہوں گے کہ کرنل محمدخان، بجنگ آمد فیم کے بعد دھن دھرتی نے ایک اور محمدخان کوئ کرنل نہی، مصنف پیدا کیا، کالم میں ان کتابوں پر تعارف لکھیں گے، لیکن۔ ۔

ہم سادہ لوح یہ بھول گئے کہ جس طرح اس دائی کو جس کے ہاتھوں بچے پیدا ہوئے ہوں انکی ماں بچے بند ہونے پر دائی سے کتراتی ہے کہ نجانے کسی اونچ نیچ میں دائ کا داؤ چل گیا تو اس خاتون کے نہاں راز آشکار ہو سکتے ہیں، عین اسی طرح اِنکم ٹیکس مؤکل اس وکیل سے نہی ملتے جس نے ان کے پیچیدہ اور مشکل ٹیکس معاملات محکمے کے ریکارڈ میں بھی سنوار دئیے ہوں لیکن وکیل صاحب نے وکالت چھوڑ دی ہو یا بیٹے کے حوالے کر دی ہو۔ تو جناب ایاز صاحب مجھ سے تو ملتے نہی، دو چار بار کتابوں پر تبصرے کو فون کیا تو آئیں بائیں شائیں۔ وہ آج کل میرے بیٹے کو جسے بچپن میں شانی بیٹا کہتے تھے اب چوہدری سلطان صاحب مخاطب کرتے ہیں کہ اب مطلب اس سے ہے۔

میری تیسری کتاب زیر طباعت ہے، میں کتب فروش نہی مصنف ہوں، مجھے اس صنف کی عزت عزیز ہے۔ امید کرتا ہوں کہ کلاسرا جی اور ایاز صاحب، کتاب، لکھنے والوں کی غیرت کے محافظ بنیں گے تعصب کے نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply