بھیڑ اور بھیڑیے: نئی کہانی، پرانا انجام —– سعدیہ بشیر

0

بھیڑ کا بچہ ندی پر پانی پینے آیا تو بھوکے بھیڑیے کی نیت خراب ہو گئی۔بھیڑیا بھیڑ کے بچے کو کھانا چاہتا تھا اس لیے اس نے بھیڑ کے بچے پر الزام لگایا کہ تم نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی تھی۔ بھیڑ کے بچے نے معصوم نظروں سے بھیڑیے کو دیکھا اور کہا لیکن میں تو پہلی بار اس ندی پر آیا ہوں۔ بھیڑیے نے کہا لیکن میں پھر بھی تمہیں کھاوں گا مجھے یاد آیا کہ وہ تمہاری ماں تھی جس نے مجھے نقصان پہنچایا تھا۔ اس کہانی کے دو انجام پڑھے تھے۔

1۔ بھیڑیے نے بھیڑ کے بچے کو کھا لیا۔

2۔ بھیڑ کا بچہ بھیڑیے کی نیت سمجھ کر بھاگ نکلا۔

بس اس دن سے بھیڑیا روپ بدل بدل بدل کر بھیڑ کے پیچھے ہے۔ اس کی نیت میں کھوٹ ہے۔وہ جانتا ہے بھیڑ نے اسے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا لیکن اس کی الزام تراشی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہر بار بھیڑ کو نئے سرے الزام دینا جانتا ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ کچھ بھیڑیں بھی روایت اور اقدار کے نام پر اس الزام تراشی میں شامل ہو جاتی ہیں۔

شیطان کے چیلوں کے بارے میں تو سنا ہے لیکن اس غلیظ بھیڑیے کے گرگے ہیں جن کے پاس احساس یا شعور نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ ان کے پاس ہزارہا جواز ہیں۔کبھی بھیڑ کے کپڑے، کبھی اس کی تربیت، کہیں اس کے مقام، کبھی اس کی حدود اور کہیں خدا بن کر بھیڑ کی نیت کو بنیاد بنا لیتے ہیں اور کئی مقامات پر تو خود اس کی بنائی حدود میں جا کر اسے نوچ لیتے ہیں۔بھیڑ کسی ندی پر پانی پینے نہ بھی جائے تو بھی اس کو تلاش کر لیتے ہیں۔کئی بھیڑیے تو اپنی آئی ڈی پر بھیڑ کی تصویر سجا کر بھیڑ سے دوستی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور موقع نہ ملنے پر لعنت بھیج پر اپنا لبادہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ کہیں پر تو وحشی بھیڑیے بھیڑ کو شرعی طور عزت سے اپنے گھر لاتے ہیں اور کبھی فورا ہی اور کہیں سسکا سسکا کر اور تڑپا کر اسے جان سے مار دیتے ہیں۔اور خود کو نفسیاتی مریض قرار دلوا لیتے ہیں۔کئی نفسیاتی مریض بھیڑیے جن کی روحیں بھی گل سڑ چکی ہیں

کبھی اسمبلی کے اندر بھیڑ کو غیر اخلاقی القابات سے نوازتے ہیں اور کبھی جلسوں میں بھیڑ کو للکارتے ہیں۔ کبھی چنگ جی پر سوار بچی پر، کبھی ماں پر، کبھی قبر کھول کر اور کفن اتار کر، کبھی ٹک ٹاکر کو ویڈیو بناتا دیکھ کر، کبھی کسی بچی کو مسجد یا سکول جاتا دیکھ کر ان کی بد نیتی اور ہوس سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ یہ بھیڑیے کسی بازار میں بھیڑ کو چٹکی کاٹتے ہیں،کبھی اس کے کاندھے یا جسم کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی دوپٹہ کھینچتے ہیں،کہیں برقعہ کے اندر جھانکنے کی ہوس،

ان۔کو اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ کس ہاتھ میں قران ہے،کن آنکھوں۔میں اعتماد ہے، کس چہرے پر بے زاری ہے، کن ہاتھوں نے اس کے لیے دعا کی ہے۔ کس نے اس کے لیے کھانے پکائے ہیں کون ان کے بچوں کی ماں ہے۔ killing game گیم میں ایک شیر ہے جو شہر کی سڑکوں پر گھومتا ہے اور اپنے رستے میں آنے والے ہر فرد کا خون پی لیتا ہے۔اب شاید کچھ شیر بھی بھیڑیے بن چکے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ شہر میں بھیڑیے ناچتے پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف ہلہ شیری دیتے ہیں بلکہ دوسروں کی حیوانی حرکات پر داد بھی دیتے ہیں۔ اب بھیڑیے خالص بھیڑیے نہیں رہے ان میں دوسرے جانوروں خاص طور پر سور،گدھ اور پاگل کتوں کی خصوصیات پیدا ہو چکی ہیں اور بھیڑ صرف بھیڑ ہے خوف زدہ، ڈری سراسیمہ۔۔ بھیڑیے کے پاس کوئی بہانہ یا جواز نہ بھی ہو لیکن وہ اپنے آپ کو روبوٹ ثابت کرنے سے بچانے کے لیے بھیڑ پر پل پڑتا ہے آخر اسے تحفظ اسی جواز نے ہی فراہم کیا ہے ناں۔ بھیڑ سمجھ لے کہ اس کہانی کا تیسرا انجام بھی لکھنا ہے۔اگر اس بھیڑیے کی حدود اور فوری قانونی سزا نہ دی گئی تو باہر کے دشمن کے بچے پڑھانے اور رائفلوں کے رخ باہر کے بجائے ان بھیڑیوں کی طرف کر دیے جائیں ورنہ یہ مہلت کم ہوتی جائے گی۔

سعدیہ بشیر

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply