افغانستان: تصویر کا ایک اور رُخ —- مجیب الحق حقی

0

ایک خطّے میں اچانک تبدیلی سے جیسے دنیا میں بھونچال آگیا ہے اور مغربی اور سیکولر میڈیا پر چیخیں بلند ہورہی ہیں۔ چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہورہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس پریشانی کی اصل وجہ کیا ہے؟

معاملے کی نوعیّت جاننے کے لیے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں جب سوویت یونین کو سرنگوں کرنے کے لیے امریکہ ایک قدم آگے بڑھا اور ہماری مدد سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ کمیونسٹ بلاک سے محاذ آرائی کے لیے نیٹو بنایا گیا تھا جس کا مقصد دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت اور کمیونزم کو پھیلنے سے روکنا تھا۔ سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد نیٹو کا جواز ختم ہوگیا تھا لیکن اسے ختم نہیں کیا گیا بلکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کھلے عام کہا کہ ابھی اسلام باقی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کےسامنے ایک اور خطرہ موجود تھا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے سیکولر اور ترقّی پسند تو اسلام کے کسی معاشی نظام کیو نہیں مانتےلیکن اس کے برعکس نیٹو یعنی متحدہ مغرب کی نظر میں اسلام ان کے نظام کے لیے ایک پوٹینشل چیلنج تھا اور ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر یہ اتحادکسی بھی مسلم ملک میں اسلامی تحریک کو ابھرنے نہیں دیتااور اسے اسلامی سوچ سے عاری مقامی سیکولر ذہن کے مسلمانوں کے ہاتھوں کچلواتا رہتا ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں ابھرنے والی دینی قوّت جب کسی بھی طرح اقتدار میں آگئی تو انصاف اور امن و امان کےحوالے سےاس کی کار کردگی نے مغرب کے لیے خطرے کے سائرن بجا دیے کہ ایک متوازی نظام دنیا کے سامنے آرہا ہے جس سے موجودہ نظام کا تقابل بھی کیا جائے گا۔ لہذا اسے صرف ناکام ہی نہیں بلکہ تہہ تیغ کر کےنابود کرنے کے لیے بہانے کی تلاش کی گئی یا بہانہ تخلیق کیا گیا جو کہ 11/9 کی شکل میں سامنے آیا۔ اب دیکھیں کہ ایک معمولی ملک کو زیر کرنے کے لیے امریکہ کا صرف ایک بحری بیڑہ ہی کافی تھا لیکن اس سر زمین میں اسلام کے لیے زرخیزی کو دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا پروگرام بنایا گیا جس میں نیٹو کو شامل کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ افغانستان کی نظریاتی اور اسلامی ہیئت کو دیرپا بنیادوں پر تبدیل کردیا جائے۔ اس کے لیے عوام کی ذہن سازی کے لیے جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی نسواں اور دوسرے مغربی نظریات کی مربوط تبلیغ کے علاوہ ترقیاتی کام کے باب میں انتہائی خطیر رقم رکھی گئی۔ وہاں کے بائیں بازو کے اشتراکی نوجوانوں کی جدید نظریات کی روشنی میں برین واشنگ کی گئی تاکہ افغانستان کے اندر اسلام کی مخالف اور اپنی حمایتی قوّت تخلیق کی جاسکے اور اسلامی شریعت کے داعیوں کو افغانستان کے اندر ہی سے للکار کےروکا جاسکے۔ دنیا میں بے شمار اسلامی ممالک ہیں جوبہت پس ماندہ ہیں لیکن نیٹو کے دل میں ان کے لیے کبھی ایسادرد نہیں اٹھتا یعنی یہ سارا نظریاتی کھیل ہے۔

ان سب منصوبہ بندی کے بعد ہوا یوں کہ مزاحمت کرنے والے ڈٹ گئے کہ غیر ملکی فوج قبول نہیں۔ یہ ایسا نعرہ ہے جو افغانوں کی نہ صرف دل کی آواز بلکہ ان کی تاریخ کی گونج بھی ہے۔ اسلام کی تڑپ رکھنے والوں پر بیس سال ہر طرح کا ظلم اورڈیزی کٹر بموں اور میزائلوں کی بارش ہوتی رہی یہاں تک کہ بموں کی ماں بھی ان پر گرائی گئی لیکن اللہ پر بھروسہ ان کے ایمان اورجذبہ شہادت کو جلا دیکر کندن بناتا رہا۔  نتیجے میں طاغوت کا جتھانقصان اٹھاتا رہا یہاں تک کہ اسے اپنی ناکامی کا احساس ہوگیا اور وہ مذاکرات کی میز پر آن بیٹھا کہ جو مقصد طاقت سے حاصل نہیں ہوا اسے مذاکرات سے حاصل کیا جائے کیونکہ اسے بیس سال میں ملک کے اندر ماحول کو اپنے حق میں کر لینے کا یقین یا خوش فہمی تھی۔ ان کو یہ بھی یقین ہو چلا تھا کہ ہم ایک بڑی فوج بناکر چھوڑے جارہے ہیں جو نہ صرف ہمارے مفادات کی نگرانی کرے گی بلکہ اسلامی تحریک سے بر سر پیکار رہے گی گویا یہ آپس میں ہمیشہ لڑتے ہی رہیں گے۔ لیکن ایک بات یہ بھول گئے تھے کہ وہ اسلام کے مقابل جھوٹ اور استحصال پر مبنی نظریہ پر مزاحمت کی عمارت تعمیر کر رہے تھے۔ نظریات ہی جینے اور مرنے کا جذبہ دیتے ہیں جبکہ اسلام کے علاوہ ہر نظریہ دنیا کے عیش و آ رام کے حصول اورصرف جینے کا جذبہ دیتا ہے۔ لہٰذا توقعات کے برعکس ہوا اور کٹھ پتلی حکومت  اور تین لاکھ کی مسلح افواج تاش کے پتوں کی طرح اس لیے بکھر گئیں کیونکہ ان کے پاس اسلام کے مقابل کوئی موئثر نظریہ اور مقصد نہیں تھا۔ اللہ کے سپاہیوں کو بے حساب جدید اسلحہ بھی مل گیا جس نے انہیں اب ایک بہت موئثر قوّت بنادیا۔

اللہُ خیر الماکرین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔

اب بھی حالات کٹھن ہیں اور نیٹو اپنی عبرت ناک پسپائی کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرے گا۔  کوشش یہی ہوگی کہ کوئی بھی نیا نظام پنپنے نہ پائے اور اس کے لیے دنیا کے قوانین کا سہارا لیکر انہیں بے دست و پا کرنے کی سازش ہوتی رہے گی۔ وہ ایسا اس لیے کرینگے کیونکہ اگر ایک عدل پر مبنی نظام نے جڑ پکڑ لی تو دنیا جان لے گی کہ استحصال سے پاک نظام کیا ہوتا ہے اور ناحق اور حق کیا ہے۔ دعا کریں کہ اللہ نیک ارادوے والوں کو قدم قدم کامیابیاں دے اور انسانیت کا استحصال کرنے والوں کو کمزور کرکے ناکام نامراد کردے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply