قاسم یعقوب کا ناول “خلط ملط” —– امان اللہ محسن

0

“خلط ملط” قاسم یعقوب صاحب کا پہلا ناول ہے۔ فکشن کے میدان میں ان کا یہ پہلا قدم، ان فکشن نگاروں کے پہلے قدم جیسا ہرگز نہیں جن کو کسی حادثے، مجبوری، فیشن، طلبِ شہرت یا پیشے وغیرہ نے اس میدان کی طرف راغب کیا ہو بلکہ وہ کسی بھی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس کا محرک ان کا باطن ہوتا ہے نہ کہ بیرونی یا کوئی خارجی دباؤ۔ اس لیے ان کا ناول “خلط ملط” فکشن کے میدان کی جانب اٹھنے والا پہلا شان دار اور کامیاب قدم ہے۔ انھوں نےاس میدان میں یہ پہلی جست ہی بڑے اعتماد اوروقار کے ساتھ لگائی ہے۔ یہ اعتماد اوروقار ادب کے میدان میں ان کی برسوں پر محیط ریاضت کاثمر ہے نہ کہ حادثہ۔ ویسےاگر کسی کوحادثہ بھی لگےتو پھر بھی بقول قابل اجمیری ؎وقت کرتا ہے پرورش برسوں/ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ ناول لکھنا اور خاص کرکے اچھا ناول لکھنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس کے لیے ادب کے میدان میں برسوں کی شعوری یا لاشعوری ریاضت درکار ہوتی ہے۔ آل احمد سرور نے لکھا ہے کہ “ریکس وارنر (Rexwarner) کہتا ہے کہ ناول لکھنا ایک فلسفیانہ مشغلہ ہے۔ فلسفیانہ مشغلہ سے اس کی مراد غالباً یہ ہے کہ ناول لکھنے کے لیے ایک سنجیدہ مہذب شعور اور خیال کی ایک خاص گہرائی اور گیرائی ضروری ہے”(ناول کیاہے، پیش لفظ) اگر وارنر کی اس بات کومدِنظر رکھا جائے تو ناول “خلط ملط” میں انسانی زندگی سے متعلق ایک گہری بصیرت کو کہانی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کے وسیلے سے بہم پہنچائی گئی بصیرت کا فائدہ یہ ہے انسان آسانی سے اس بصیرت کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہانی کی ساخت کوہمارے ذہن سے گہرا اور فطری تعلق ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ معمولی سے معمولی ذہن رکھنے والا شخص بھی کہانی گھڑنے پرقادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ معمولی ذہن رکھنے والا اپنے مطلب اورذاتی غرض یا ضرورت کے لیے کہانی گھڑتا ہے اور غیر معمولی ذہن رکھنے والا گہری بصیرت کی حامل کہانیاں گھڑتا ہے اوراسی وجہ سے ادیب کی مسند پرجا بیٹھتا ہے۔

قاسم یعقوب کا ناول “خلط ملط” بھی اپنے اندرکئی کہانیاں سموکر ایک بڑی کہانی تخلیق کرتاہے۔ اس ناول کے تمام کردار پڑھے لکھے ہیں۔ کچھ کم پڑھے لکھےجیسے راجہ، قادر اور ڈسپنسر خالدہ۔ جب کہ اس ناول کے زیادہ تر کردار جدید دورکے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ جیسے رئیس اوراس کا بھائی وقاص، وقاص کی بیوی نورین، وقاص کادوست اورکاروبار ی شراکت دار عامر غفار، خالدہ ڈسپنسر کے ہاں آنے والی ایشال وغیرہ۔ ایک کردار جو روایتی مذہبی تعلیم سے آراستہ ہے وہ مفتی عنایت اللہ ہے۔ ایک اچھے ناول کی خوبی یہ ہے کہ اس کاآغاز عنوان سے ہی ہوجاتاہے۔ ناول کاعنوان رکھنے میں ناول نگار آزاد نہیں ہوتا کہ وہ باہر کہیں سے بھی کوئی اچھا سا یا پرکشش سا عنوان اٹھا کر ناول پر چسپاں کر لے۔ ناول کاعنوان ایسا ہونو چاہیے جو ناول کے تھیم کی نمائندگی کرتاہو اور جسے ناول کے اندر سے ایسے کشید کیا گیا ہو جیسے پھول سے عرق کا کوئی قطرہ۔ “خلط ملط” میں ناول کے کرداروں کی زندگیوں کا عہدِ جدید میں جدید علوم کے حصول کے باوجود “خلط ملط” ہوجانے کا المیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناول تین حصوں میں بٹاہواہے۔ پہلے حصے کانام صبح، دوسرے حصے کانام دوپہر اورآخری حصے کے نام شام ہے۔ صبح، دوپہر اور شام کے ذیلی عنوان، ناول کے تین حصوں پر چسپاں کرنا بڑا معنی خیز ہے اور ناول نگار کی فنی و فکری چابک دستی کاثبوت بھی۔ ناول کا بنیادی قضیہ فطری زندگی کو نظر انداز کرکے غیرفطری انداز سے زندگی کو بسر کرنا ہے اور ایسا کرنے سےزندگی میں پیدا ہونے والے ذہنی اور نفسیاتی مسائل ہیں۔ یہ ناول لائل پور(فیصل آباد) کے گھنٹہ گھر سے ملحقہ آٹھ بازاروں کے قرب میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کی جیتی جاگتی کہانیاں سناتاہے۔ ناول کی صبح والے حصےمیں بینک کاری اور کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ کرادر رئیس کی کہانی بھی ہے اور کاروبار کے شعبہ سے وابستہ وقاص اور اس کی اعلی ٰ تعلیم یافتہ بیوی نورین کی بھی۔ دوپہر والے حصے میں گھنٹہ گھر لائل پور کے پہلو میں خالدہ ڈسپنسر کا کلینک تو گویا عمروعیار کی زنبیل ہے جس سے چھوٹی چھوٹی پراسرار کہانیوں کی ایک پٹاری کھل جاتی ہے۔ ناول نگار نے کمال فن کاری سے اس کلینک کے وسیلے سے پاکستانی سماج کے بہت سارے طبقات اور اداروں کو طشت از بام کردیاہے۔ ایک اچھے ناو ل میں ایک جملہ بھی ناول کے تھیم سے غیر متعلق نہیں ہو سکتا تو “خلط ملط” ناول کا جو دوسراپورا حصہ “دوپہر” کے نام سے خالدہ ڈسپنسر کے کلینک کی داستان پر مشتمل ہے، اسے کیسے کوئی قاری نظرانداز کرسکتاہے۔ یہ کلینک چلانے والی خالدہ، پیشے کے لحاظ سے ہے توڈسپینسرلیکن وہ زچہ بچہ سے متعلق ایسے سارے امور سرانجام دیتی ہے جو دراصل گائنی کی ایک ماہر ڈاکٹرکا کام ہوتا ہے۔ اس کلینک کو چلانے والی ڈسپنسر خالدہ، زندگی کے فطری اور غیر فطری امور کے نتائج کو آخری انجام تک پہنچاتی ہے۔ یہاں مصنف نے فکشن نگار ہونے کاحق ادا کر دیا ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں فکشن نگار کی بصیرت اور فن کا امتحان تھا۔ یہاں فکشن نگار یہ غلطی کرسکتا تھا کہ وہ یہ دکھاتا کہ یہ کلینک اور اس کو چلانے والی ڈسپنسر خالدہ سماجی برائیوں کی آماج گاہ ہے۔ لیکن ناول نگار نے کمال مہارت اور بیدارمغزی سے نہ صرف یہاں ایک ماہر گائنی کے طور پر خالدہ کو دکھایا ہے بلکہ یہ بھی کر دکھایا ہے کہ یہ کلینک اور اس کی ساری تاریکی اور اس کو چلانے والی ڈسپنسرخالدہ یہاں ہونے والےغیرفطری افعال کےذمہ دار نہیں بلکہ وہ تو اس سماج کے بعض غیرفطری اور غیرانسانی بندھنوں کا ایک مظہرہے۔ ذمہ دار کلینک اورکلینک چلانے والی نہیں بلکہ وہ لوگ اور سماج ہے جوغیرفطری انداز سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ خالدہ کا کلینک اورکردار تو بس اتنا ہےکہ وہ ان لوگوں کی مشکل آسان کرتی ہے جو اس کے پاس زندگی کے فطری اور غیر فطری افعال کا انجام لے کر پہنچتے ہیں۔ خالدہ نے تو کلینک اس لیے کھولا تھا کہ وہ فطری زندگی کی انجام دہی کے امور میں لوگوں کو مشکل کے وقت سہولت پہنچائے گی۔ اب لوگ خود ہی اس کے پاس فطری اور غیرفطری ہر دو طرح کی زندگی کے انجام لےکر آنے لگےتو وہ کیا کرتی؟وہ تو ہر دو طرح کے امور میں صرف لوگوں کی مدد کا ایک وسیلہ بنی نہ کہ سماج اورلوگوں کے کرتوتوں کی ذمہ دار۔ اس طرح ہمارے معاشرے میں عورت نرسسز کے بارے میں جوایک غلط رویہ ہے کہ یہ غیر قانونی اسقاطِ حمل کرتی ہیں لہذا برائی کی وجہ یہ ہیں۔ ناول میں اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوجاتا ہے کہ ذمہ دار وہ نہیں بلکہ سماج اور لوگ خود ہیں۔ اور اس طرح سماج اور لوگوں کو آئینہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بھئی اپنی غلطی کو تسلیم کریں اور اس کا ذمہ دار دوسروں کو نہ ٹھہرائیں۔ ناول کے تیسرے حصے شام میں پہلے دو حصوں کی کہانیوں کی تطبیق ہوجاتی ہے۔ یوں اس تکنیک سے شروع سے لے کر آخر تک پوراناول قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتاہے۔ ناول میں دلچسپی اور تجسّس کی فضا شروع سے آخر تک قائم رہتی ہے۔ اس فضا کو تب تک قائم نہیں رکھا جاسکتا جب تک ناول نگار کوفکشن کے فنی حربوں کو تخلیقی سطح پر جاکر برتنے کا گرُنہ آتا ہو۔ اس ناول کا ہر کردار ایک پوری کہانی ہے۔ ناول نگارنےکسی بھی کردارکو ناول کے احاطے سے سرسری نہیں گزارا۔ ہرکردار خواہ وہ بہت ہی قلیل وقت کے لیے ناول کے پردہ پر نمودار ہوا ہو، ناول نگار نے اس کے اندر تانک جھانک ضرور کی ہے۔ بھئی مجھے تو ناول نگار کی کرداروں اور ماحول کے اندرباریک بینی سے، گہری بصیرت کے ساتھ جھانکنے کی استعداد قابل رشک بھی لگی اور دلچسپ بھی۔ کوئی ناول گہری قوتِ مشاہدہ کی صلاحیت کے بغیرواقعیت نگاری کا حامل تو ہوسکتاہے مگر بصیرت افروز نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ فکشن محض واقعہ نگاری کا نام تو نہیں۔ مذکورہ ناول میں مصنف کی قوتِ مشاہدہ اور واقعات و کردار کے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت اور اس تانکا جھانکی کو بلاکم وکاست معروضی انداز سے بیان کرنے کی لیاقت، قابل داد بھی ہے اور مستقبل کے ایک بڑے فکشن نگار کی آمدکا اعلان بھی۔ ایک مضمون میں ناول کے ہرکردار، واقعے اور مواد کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں اس لیے صرف چند باتیں جو میرے ذہن میں دورانِ مطالعہ رہ گئی ہیں ان کاتذکرہ کررہاہوں۔ ناول کے تھیم کو سمجھنے کے لیے ناول سے ہی ایک جملہ یہاں پیش کرتاہوں”زندگی کو فطرت کے ساتھ بھرپور انداز سے گزارنا چاہیے”(ص۲۳۵) اس ناول میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سماجی اور مذہبی قوانین کے وسیلے سے سماج میں حاشیوں پر دھکیلے جانے والے لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ سماجی اور مذہبی قوانین بنانے کا اصل مقصد توانسانوں کو فطری زندگی بسرکرنے میں سہولت بہم پہنچانا ہوتا ہے۔ اس ناول سے یہ بات بھی سجھائی دیتی ہے کہ بعض انسان کس طرح سماجی اور مذہبی قوانین کی آڑ میں ان کی اصل روح کو مسخ کرکے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ ان سماجی اور مذہبی قوانین کو مسخ کرکے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ انسان فطری زندگی سے دستبردار ہوجانا بھی قبول کرلیتاہے۔ فطری زندگی سےیہ دستبرداری کس طرح دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولتی ہے اور ڈپریشن کا مریض بنادیتی ہے، اس معاملے کو مذکورہ ناول کے ایک کردار نورین کی زندگی کے وسیلے سے آشکار کیا گیاہے۔ حالاں کہ نورین نے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے لیکن نورین جس سماج میں زندگی بسر کر رہی ہے اس کے بندھن اور قوانین اس کی تعلیم کو بے اثر کردیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دبدھبے کا شکار ہوتی ہے جس سے اس کا ذہن “خلط ملط” ہوجاتا ہے۔ نورین کے استحصال اور المیے سے یہ آشکار ہوتاہے کہ عورت سے متعلق ہماراسماجی شعور اور ہمارے سماج میں صنفی بنیادوں پر قائم مراتب ِاقدار نے مردوں کی سوچ پرکیسے کیسے بھیانک اثرات ڈالے ہیں۔ وقاص اور نورین کی شادی فطری انداز سے ہوتی ہے۔ دونوں کادین (اسلام) ایک ہی ہے۔ شادی کے بعد وقاص، جوسنی مسلک سے تعلق رکھتا ہے، وہ ایک مفتی عنایت اللہ کے زیرِاثرمسلکی نظریات کے حوالے سے اتنا شدت پسند ہوجاتا ہے کہ اپنی ہی بیوی، جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے۔ وقاص اپنے گھر والوں کے خوف سے اپنی بیوی کو طلاق بھی نہیں دیتا لیکن اسے کے قرب کو مفتی صاحب کے خیالات کے مطابق حرام سمجھتاہے۔ اس طرح وقاص اور اس کی بیوی ایک گھر میں رہتے تو ساتھ ساتھ ہیں لیکن ایسے جیسے ریل گاڑی کی دو پٹڑیاں۔ مسلک کو وجہ نزاع بنا کر، وقاص وجود کے فطری تقاضوں کو رد کر دیتاہے۔ وہ اپنے ذہن پرمسلک کو اس قدر سوار کرلیتاہےکہ ایک تجریدی زندگی بسر کرنا شروع کر دیتاہے۔ اس دوران اس کا بھائی رئیس اسے سمجھانے کی کوشش کرتاہے لیکن وہ بھی ناکام رہتاہے۔ وقاص کوشش کرتاہے کہ اس کی بیوی اپنامسلک ترک کرکے اپنے خاوند کا مسلک اپنالے لیکن یہ بھی نہیں ہوپاتا۔ یہاں ناول نےایک بڑا اہم نکتہ اٹھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا کسی عورت کو ہمارے سماج میں یہ حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مسلک کے بارے سوال کر سکے؟کیامذہب اور مسلک سے جذباتی لگاؤ کا حق صرف مردوں کو ہی ہے؟ کیاعورت کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے مسلک کے مطابق جی سکے؟نورین اپنے شوہر وقاص کےمسلک پر کوئی اعتراض نہیں کرتی۔ نہ ہی وہ اپنے اندر اس حوالے سے کوئی خلش یا جنون محسوس کرتی ہے۔ جب کہ وقاص کا اس حوالے سے رویہ، ایک جنونی اور متشدد کاساہے۔ نورین تو بس جینے کا حق مانگتی ہے نہ کہ وقاص سے اس کا مسلک ترک کروانے کا کوئی مطالبہ۔ یہ تووقاص ہے جس کے لیے عورت کامسلک وجہ نزاع بناہواہے اور عورت بھی کوئی غیر نہیں اس کی اپنی بیوی ہے۔ یاد رہے دونوں کے درمیان مسئلہ دین کے اختلاف کا نہیں مسلک کے اختلاف کا ہے۔ دین دونوں کا اسلام ہے جب کہ شوہر کا مسلک سنی ہے اور بیوی کا مسلک شیعہ ہے۔ اس طرح یہ ناو ل فطرت سے نبرد آزمائی کی ایک کہانی کے ساتھ ساتھ کفرانِ نعمت کی بھی کہانی بنتاہے۔ وقاص کادل اپنی بیوی کی طرف اس کے حسن اور ذہانت کی وجہ سے کھچتابھی ہے لیکن وہ دماغ میں مسلک کا سودا سمائے ہوئے دل کی سننے سے انکارکردیتاہے۔ المیہ یہ ہے کہ دماغ بھی اس کا اپنا نہیں بلکہ مفتی عنایت اللہ کے قبضے میں ہے۔ یہاں ناول سے یہ نکتہ آشکا ر ہوتاہے کہ وقاص ایک ایسا کردار ہے جو زندگی کو اپنی آنکھ سے دیکھنے کے قابل نہیں۔ یہاں ہماری جدید تعلیم کی ڈگریوں پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ یونیورسٹی سےاعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کرکے بھی زندگی کو اپنی آنکھ سے دیکھنے کا اہل کیوں نہیں؟ اس کا مطلب ہے جدید تعلیم کی اعلیٰ سطحی ڈگری، روزگار کمانے کی سند تو ہوسکتی ہے زندگی کو ڈھنگ سے بسر کرنے کاسرٹیفکیٹ نہیں۔ وقاص اور نورین کے کرداروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ زندگی بسرکرنے کے لیے زندگی کےبیشتربلکہ اہم ترین فیصلے،  خود کرنے کی اہلیت سے محروم ہوتے ہیں تو ان کی زندگی ہر وقت ہواکے رخ پر رکھے چراغ کی مانند ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ جب آپ اپنی زندگی کے بنیادی فیصلے کرنےکااپنااختیار کلی طور پر دوسروں کے سپرد کردیتے ہیں توایسے فیصلے آپ کا جینا دو بھر کردیتے ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوتاہے جب ہم خود صاف طرح سے سوچنے کی اہلیت سے عاری ہوتے ہیں۔ ذہنی پراگندگی کس طرح ہمیں دبدھبے، تذبذب، انتشار اور کنفیوژن کا شکار بنادیتی ہے اورہم نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں، یہ بھی اس کو بھی یہ ناول واضح کردیتا ہے۔ یہیں سے ناول کاعنوان “خلط ملط”بہ طور کلید کے اپنا اثبات کرواتاہے۔ یہ فطرت نہیں جو زندگی کو تہہ وبالا کرتی ہے بلکہ یہ “خلط ملط” اذہان کی کارستانی ہے جس کی وجہ سے ہم نہ چاہتے ہوئےبھی فطری زندگی سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ ناول ہمیں باورکراتاہے کہ ہمارے وجود، فطرت سے ہم آہنگی کے طلب گار ہوتے ہیں اور اپنے اندر فطرت سے ہم آگوش ہونے کی تاہنگ رکھتے ہیں۔ جب کہ ہم ہیں کہ وجود کی جائز پکار پربھی لبیک کہنے کے بجائےدماغی فتورکاشکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں ناول کا ایک جملہ پیش کرتاہوں “فطرت کواس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ انسانوں کے ذہن میں کیاہے، وہ صرف جسموں کی نم یافتگی کو سنتی ہے”(۲۳۷)فطری زندگی کےمبحث کو ناول کے دوکرداروں، راجے اور ایشال کے درمیان ہونے والے ذیل کےمکالمے سے بھی سمجھاجاسکتاہے۔

“میں تو زندگی کی راہ پر چلتاچلتا کھائی میں گرگیا، ہمیں اپنے آپ کوبچاکررکھناچاہیے۔ زندگی کوفطرت کے ساتھ بھرپور انداز سے گزارنا چاہیے۔ “راجے نے بہت ادا س ہوتے ہوئے یہ جملے اداکیے۔

“وہ زندگی ان رسموں، رواجوں، قوانین اور مذاہب سے بہت مختلف ہوتی ہے جو فطرت کے راستے پر چلتی ہے۔ بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہےجب ہم فطرت کوچیلنج کرنے لگتے ہیں۔ راجے کیاتم نےکسی دریا پر بنے پُل پر چلتی بھاری ٹریفک کو دیکھاہے؟پُل کے کناروں پر لگا لوہے کاجنگلا یا سیمنٹ سے جالی دار دیوار سی بنا دی جاتی ہےتاکہ گزرنے والوں کو پتاچلتارہے کہ انھوں نے اس حد سے پار نہیں جانا ورنہ وہ دریا میں گر سکتے ہیں۔ تم نے کبھی سوچا کہ کیا یہ جالی یا لوہے کا جنگلا بھاری گاڑیوں کو دریا میں گرنے سے روک سکتاہے؟نہیں روک سکتانا؟یہ صرف حد بندی متعیّن کرنے کے لیے لگایا جاتاہے، کسی کو حادثے سے روک لینا اس کا کام نہیں ہوتابالکل اسی طرح یہ سماجی اور مذہبی قوانین ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی کام سے روک نہیں سکتے صرف حد متعّین کرتے ہیں۔ ہم خود ہی ہوتے ہیں، جو ان کی رہنمائی میں پُل سے گزرجاتے ہیں یا ناکامی پردریا میں گر جاتے ہیں”(۲۳۵)

بعض انسا ن انھی سماجی اور مذہبی قوانین کے جنگلوں کو توڑ کرایک دیوار یازنجیر بنالیتے ہیں جس سے وہ کمزوروں (ذہنی یاسماجی طور پر) کا استحصال بھی کرتے ہیں۔ یہ استحصال شعوری طور پر بھی ہو سکتاہے اور لاشعوری طور پر بھی۔ ناول کے کردار وقاص کے اندر وجود کی فطری کش مکش اور مسلک کے غیر فطری بکھیڑے نے ایک طوفان اور جنون بپا کرکےاس کے ذہن میں زندگی کو ایک الجھاوا بناکر “خلط ملط” کردیاہے۔ اسی طرح نورین کے باطن میں کئی طرح کے خوف کےسنپولیے کلبلاتے ہیں۔ تفکرات اور طرح طرح کے سوالات اس کے اندرایک گنجل پیداکرکے اس کےذہنی سکون کو تہہ وبالاکر دیتے ہیں۔ اس طرح اس کاذہن بھی “خلط ملط” ہوتا دکھایاگیاہے۔ ناول میں بینک کاری اور کارپوریٹ سیکٹر کے چنگل میں پھنسے ایک کردار رئیس کو دکھایاگیاہے۔ اس کردار کےذریعے سرمایہ دارانہ عہد میں زندگی کامالی اعدادوشمار کےچنگل میں پھنسنا نظر آتا ہے۔ یہ کردار بھی بڑاشان دار ہے اور اس کے ذریعے ناو ل نگار نے ملازم پیشہ جدید قیدیوں کی زندگی کا فطرت سے دور ہونےکا معمہ بیان کیاہے۔ یہ کردار بھی اپنے سارے علم اور فہم وادراک کے باوجود”خلط ملط”کے ساگرمیں غوطے کھاتادیکھاجاسکتاہے۔ لیکن یہ خوش قسمت ہے کہ جلد اس قید سے نجات حاصل کرلیتا ہے اور فطری زندگی کی طرف لوٹ جاتاہے۔

بہ ہر حال کرداروں کے”خلط ملط” باطن کی کہانی پر مشتمل یہ ناول جدید عہد کی زندگی کے مخمصے میں مبتلاکرداروں کے خارج اور باطن کے کونوں کھدروں کو کھنگالتاہے۔ ناول نگارموضوع کے مطابق بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کامیاب رہاہے۔ جہاں ہمہ داں راوی (علاّم راوی میرے مطابق) کی ضرورت تھی وہاں اسی راوی کو وسیلہ بنایا اور جہاں راوی –کردار کے ذریعے بیانیہ تشکیل دیناچاہیے تھا وہاں یہی راوی استعمال ہوا۔ کہیں متکلم راوی زیادہ بہتر تھا تو وہاں اسی راوی کے ذریعے بیانیہ آگے بڑھتاہے۔ یہ شعوری طور پر ہو ا ہے یا لاشعوری طور پر اس سے مصنف کی فکشن کے فن کے حوالے سے پختہ کاری کا نشان ملتاہے۔ ناو ل میں کہیں کہیں ایک آواز بھی ہےجیسے فلم میں بعض مناظر پر وائس اوور(voice over) کی جاتی ہے۔ اس آواز کے وسیلے سے کائنات اور انسانی تاریخ اورفلسفہ و مذہب کے حوالے سے بڑی بصیرت افروز باتیں کی گئی ہیں جو سب ناول کے بنیادی تھیم سے کسی نہ کسی پہلو سے لگاکھاتی ہیں۔ ناول کا ہرکردار کسی نہ کسی خارجی یا باطنی معمے کا شکار دکھائی دیتاہے اور اس سے نجات کےلیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے یا نجات کی تمنّا کرتاہے۔ لیکن ان کرداروں کو سماجی زنجیریں، مسلک کے الجھاوے، وجود کے فطری بلاوے، غمِ روزگار کے تقاضے اور بعض نادیدہ قوتوں کے آہنی شکنجے جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ شکنجے کسی کے وجود کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں تو کسی کے ذہن کو مفلوج کیے ہوئے ہیں۔ ان کرداروں کے پاس سوائے رئیس کے کسی کے پاس ایسا فہم وادراک اور حوصلہ نہیں کہ عہدِجدید وقدیم کی ان غیر فطری، دیدہ و نادیدہ زنجیروں کی قید سے نجات حاصل کرسکیں۔ یہ کردار اس ادھیڑ بن میں نجات کے لیےہاتھ پاؤں مارتے ہیں لیکن اس تگ ودو میں ذہن اور وجود کے گرد کسے ہوئے شکنجے، ریشم کے دھاگوں کی مانند مزید الجھ کر زندگی کو”خلط ملط” کردیتے ہیں۔ یہ ناول زندگی کے پسِ پردہ زندگی کو تہہ وبالا کرنے والے بیانیوں اور اسباب و محرکات، کرداروں اور ان کو پیش آنے والے واقعات کو، اس انداز سے بیان کرتاہے کہ قاری بہت کچھ سوچنے اور سوال کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتاہے۔ کیایہ ایک فکشن نگار کی کامیابی نہیں ہے کہ وہ پڑھنے والے کو سوال کرنے اور سوچنے پر مجبورکردے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply