زندگی کے واقعات کو پہچاننا —- نعیم صادق

0

27 جولائی 2021 کو ایک چھ سالہ بچی کو اغوا کیا گیا اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے زمان ٹاون کورنگی کی ایک کچرا کنڈی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اس طرح کے کئی بار پیش آنے والے سانحات کی طرح دہرایا جانے والا ایک وقعہ ہے۔ جو لگتا ہے کہ ہماری اجتماعی زندگیوں کا لازمی معمول بن گیا ہے۔ تاہم اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ ہم نے اس برائی کو روکنے کے لیے محض لفظوں سے لدے جذباتی اشتعال سے آگے بھی کچھ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع جو ہمارے معاشرے کے تاریک ترین اور انتہائی وحشی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔ جس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ کم از کم ہم یہ کر سکتے تھے کہ ایک بڑے مسئلے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ اور اس مسلئے کو حل کرنے کے قدم بقدم آگے بڑھنے کے طریقے پر عمل کریں۔

جہاں کورنگی کی اس چھ سالہ بچی کے افسوسناک واقعے کو کئی دنوں تک پریس اور سوشل میڈیا پر زیر بحث رکھا گیا، وہاں کسی نے بھی اس حقیقت کو اجاگر نہیں کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی بھی سرکاری ریکارڈ میں اس بچی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس بچی کی پیدائش کی اطلاع کبھی یونین کونسل کے ریکارڈ میں درج نہیں کرائی گئی۔ اس کے پاس نادرا کا جاری کردہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ اس کے پاس نہ تو چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC تھا، اور نہ ہی فارم B) تھا اور نہ ہی اس کا نام فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) میں درج تھا۔ چھ برسوں پر محیط طویل عرصے تک، اس کے زندہ رہنے کی حقیقت کا اعتراف نہیں کیا۔ اور شناخت کے حق اور بچے کے حقوق سے انکار کیا گیا۔ افسوسناک امر ہے کہ پاکستان میں تقریبا ایسے ساٹھ ملین بے نام بچے موجود ہیں، جو زندہ سلامت ہیں اور کلکاریاں مار رہے ہیں لیکن ان کا اندراج کسی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ اس لیئے ان کی ویکسینیشن، اسکول جانے، چائلڈ لیبر، شناخت اور کم عمری کی شادی پر نظر رکھنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

آج کل والدین کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پیدائش کے کوائف رجسٹر کرائیں، یا اس میں کئی برسوں کی تاخیر کریں، یا سرے سے ان کے کوائف کا اندراج ہی نہ کرائیں۔ ریاست کو اس اختیارکو بائی پاس کرنا چاہیے اور ہسپتالوں / زچہ خانوں اور دائیوں کے ساتھ براہ راست روابط قائم کرنے چاہئیں، جنہیں رجسٹرڈ کیا جا سکتا ہے.انھیں منفرد شناختی نمبر دیے جائیں اور قانونی طور پر بچے کی پیدائش کے فورا بعد نادرا کے مخصوص نمبر پر ایس ایم ایس بھیجنے کی پابند ہوں۔ ایس ایم ایس صرف بنیادی معلومات دی جائیں۔ جیسے ہسپتال یا دائی کی منفرد شناخت، CNIC اور والد / والدہ کا نام، جنس، بچے کا نام اور تاریخ اور پیدائش کا وقت۔ نادرا فوری طور پر اور خود بخود اس معلومات کو مختلف دیگر ریکارڈز جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، سی آر سی اور ایف آر سی میں ڈال سکتا ہے۔ یہ سب کسی دوسری درخواست کیے بغیر، یا کوئی دوسرا فارم /حلف نامہ جمع کرانے یا کسی دفتر میں جائے بغیر مطلوبہ ادائیگی کے بعد ڈاؤن لوڈ کیے جانے کی سہولت ہونا چاہیے۔

ریاست نے اموات کے بارے میں جاننے سے یکساں طور پر غافل رہنے کا انتخاب کیا ہے۔ مرنے والوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ کے بارے میں یا تو باضابطہ طور پر کبھی اطلاع ہی نہیں دی جاتی، یا کئی سال بعد مرنے کی اطلاع دی جاتی ہے۔ ہر سال گھوسٹ پنیشرز کے سبب 30 سے ​​40 بلین روپے کے نقصان کے علاوہ، یہ غیرحاصل شدہ معلومات متعدد مسائل کا باعث بنتی ہے جیسے کہ سم کا غلط استعمال اورمرحوم کا CNIC کارڈ۔ اس عمل کو ایک میکانزم کے ذریعے دوبارہ آسانی سے روکا جا سکتا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ معلومات براہ راست نادرا میں ریکارڈ کرادی گئی ہیں۔

اسی طرح ملک بھر میں ہر ہسپتال اور قبرستان کو رجسٹر کیا جا سکتا ہے، انھیں ایک منفرد شناختی نمبر جاری کیا جاسکتا ہے اور قبرستان اور ہسپتال کو جب بھی کوئی شخص ہسپتال میں مرتا ہے یا قبرستان میں دفن ہوتا ہے تو نادرا کو مطلع کرنے کا قانونی طور پر پابند بنایا جاسکتا ہے۔ نادرا کو بھیجی جانے والی ایس ایم ایس میں بنیادی معلومات ہو سکتی ہیں جیسے ہسپتال / قبرستان کی شناخت، میت کا نام اور شناختی کارڈ (جو ہسپتال میں فوت ہوا یا قبرستان میں دفن کیا گیا) اور موت / تدفین کی تاریخ اور وقت۔ اس سے نادرا تمام اموات کے بارے میں پہلے معلومات حاصل کرنے اور پنشن، سمز، سی این آئی سی کارڈ وغیرہ کو بلاک کرنے جیسے اہم اقدامات کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔

ریاست کی طرف سے دیکھ بھال اور تشویش کی پہلی علامات اس کے لوگوں کی شناخت اورمیں جاننے میں دلچسپی سے ظاہر ہوتی ہیں – کون، کتنے، کہاں، ملازمت یا بے روزگار، کب پیدا ہوا ہے، زندہ ہے یا مر گیا ہے۔ آج ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو ہماری سب سے بڑی رکاوٹ یعنی ہمارے نوآبادیاتی طریقہ کار کو بائی پاس کر سکتی ہے۔ پاکستان کو لازمی طور پر اپنے شہریوں کو غیر ضروری بھاگ دوڑ اور بے معنی حلف ناموں سے بچانا چاہیے۔ یعنی ایک ایسا خود مختار طریقہ کار جو خود بخود تمام پیدائش اور اموات کو ریکارڈ کرتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply