عرفان صدیقی کی شاعری کا مطالعہ کلاسیکی شعریات کے تناظر میں —- معراج رعنا

0

عرفان صدیقی کا شمار جدید نسل کے ان شعرا میں ہوتا ہے جو اپنے منفرد لب و لہجے، اظہار و بیان کی شگفتگی اور الفاظ کے خلاقانہ استعمالات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ چونکہ عرفان صدیقی خالص غزل کے شاعر ہیں اس لیے ان کے یہاں غزلیہ شاعری کے تمام لوازم موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ ان کی شاعری کی جڑیں اردو کی عظیم شعری روایت میں پیوست نظر آتی ہیں۔ یہاں عظیم شعری روایت سے وابستگی کے معنی روایت کو من و عن قبول کرنے یا اس کے اتباع سے نہیں بلکہ اس کے نئے تناظر سے عبارت ہے۔ کوئی شاعری محض اس بنیاد پر نئی نہیں ہوتی کہ اس میں کسی نئی فکر یا نئے خیال کو پیش کر دیا گیا ہے۔ یوں بھی شاعری خیال سے نہیں بنتی بلکہ بنتی ہے طریقۂ اظہار اور تناظر سے۔ فی زمانہ ساختیاتی فکر کا بنیادی وظیفہ بھی یہی کہ تخلیقی متن کے مطالعے میں کسی ایک جامد یا علٰحدہ تناظر سے گریز کیا جائےیعنی سے گریز کیا جائے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان طویل ساختیے کی دریافت ممکن نہیں ہوگی جو اس متن میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ موٹے موٹے الفاظ میں یہی بات کہی جائے تو کہی جا سکتی ہے کہ تخلیقی زبان کی سب سے بڑی خوبی اس کا صوتی تاثر ہے جو مختلف تناظر میں مختلف پیکر یا معنی خلق کرتے ہیں۔ عرفان صدیقی کی شاعری موضوعی اعتبار سے محدود ہونے کے با وجود بھی اہم ہے۔ جب یہ بات کہی جاتی ہے تو اس سے یہ نتیجہ ہرگز اخذ نہیں کیا جانا چاہئیے کہ موضوعی اعتبار سے محدود ہونے والی ہر شاعری اہم ہوتی ہے۔ موضوعی اعتبار سے محدود ہونے والی کوئی بھی شاعری اس وقت تک اہم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے طریقۂ اظہار میں نیا پن نہ ہو۔ طریقۂ اظہار کے ساتھ ساتھ تناظر بھی اہم ہوتا ہے جو عملِ اطہار کی معراج ہوتا ہے۔ یہی عملِ اظہار پہلے شعر کے پیش منظر کی تعمیر کرتا ہے پھر معنیات کی تقلیب کا سبب بنتا ہے۔ معنیات کی تقلیب کے وقت تناظر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ غالب کا شعر ہے:

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ مئے تری رفتار دیکھ کر

شعر کی تین خوبیاں ہیں یا ہو سکتی ہیں:

۱۔ معشوق کے اندازِ قاتلانہ کا بیان
۲۔ ہنگامہ آرائیِ عشاق کی غیر واضح صورتِ حال
۳۔ محاورے اور مناسباتِ الفاظ کا غیر معمولی استعمال

شعر کے پہلے مصرعے میں ایک بیان ہے جو بہ ظاہر سیدھا سادہ معلوم ہوتا ہے۔ سیدھا سادہ اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں گردنِ مینا پہ خون ثابت ہونے کا محاورہ موجود ہے، اور اسی محاورے کے تعلق سے موجِ مئے اور رفتار جیسے متحرک الفاظ دوسرے مصرعے میں رکھے گئے ہیں۔ ۔ یہاں متحرک الفاظ سے مراد جامد کی ضد نہیں بلکہ معنوی صفات سے ہے۔ شعر کی تشریح دو طرح سے ہو سکتی ہے۔ پہلی تشریح یوں ہوگی کہ مئے خانے میں معشوق نے شراب پی، شراب پینے کے بعد نشہ طاری ہوا جس کا نمایاں اثر اس کی چال پر پڑا۔ جب مئے خانے سے وہ نکلا تو اس کی لڑکھڑاتی ہوئی مستانہ چال کو دیکھ کر بہت سے لوگ اس پرمر مٹے عام قاعدہ ہے کہ قاتل کا مواخذہ ہوتا ہے جس کے بعد اسے مناسب سزا دی جاتی ہے۔ لیکن یہاں اس قاعدے کے خلاف یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کہ خون معشوق کر رہا ہے لیکن اس کا خوف مینا پر طاری ہے کہ مواخذہ اسی کا ہوگا کیوں کہ اسی کے سبب معشوق کی چال میں دلفریبی پیدا ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ نہ معشوق شراب پیتا نہ اس پر نشہ طاری ہوتا اور نہ ہی اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوتی، اور نہ ہی اس کی مستانہ چال پر لوگ فدا ہوتے۔ یہی سوچ سوچ کر موجِ مئے لرز رہی ہے۔ بیشتر شارحین ِ غالب نے اسی تشریح پر اکتفا کیا ہے۔ جو اس لحاظ سے بالکل درست ہے کہ شعر کے پیش منظر پر یہی معنی واضح ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ شعر کی عظمت پیش منظر پر موجود معنی میں مضمر ہے، کسی طور پر مناسب نہیں۔ لیکن جب شعر کی دوسری تشریح کی جاتی ہے متعین معنی پر ایک غلاف سا پڑنے لگتا ہے۔ یعنی یہ کہ شعر میں معنویت کی ایک جہت اور بھی دریافت کی جا سکتی ہے اگر شعر کو تعلیل کے حوالے سے پڑھا جائے۔ شراب جب جام مین انڈیلی جاتی ہے تو اس میں حرکت کا پیدا ہونا فطری ہے لیکن شاعر اس کی وجہ یہ متعین کرتا ہے کہ اس میں حرکت معشوق کی خوش گفتاری سے پیدا ہونے والی آواز کے سبب قائم ہے۔ اس مچال سے یہ ثابت ہوا کہ شعر کے پیش منطر پر جو معنی ہوتے ہیں وہ متغیر اور نئے نئے سیاق و سباق کے حامل ہوتے ہیں۔ غالب کے مذکورہ شعر کے جتنے معنی بیان کیے گئے ہیں وہ ایک طے شدہ تناظر میں بیان نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا یہ کہنا بالکل بر حق ہے کہ معنی کی تقلیب میں تناظر اہم ہوتا ہے۔ نئے تناظر نئے معنی خلق کرتے ہیں۔ جسے قرات کے تفاعل سے دریافت کیا جاتا ہے۔ یہاں اس مثال سے غالب کے شعر کی تشریح مقصد نہیں بلکہ اس حقیقت کی وضاحت مطلوب ہے کہ عرفان صدیقی کی شاعری کا نیا پن اظہار و بیان اور تناظر کے نئے پن سے عبارت ہے۔ ان کے یہاں ایسے اشعار بہ کثرت موجود ہیں جن کے اظہار و بیان میں انوکھی سج دھج نمایاں ہے۔ مچال کے لیے ان کا یہ شعر پیش کیا جاسکتا ہے:

جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاٗو

اس شعر کی بنیاد بھی اسی محاورے پر قائم ہے جس پر غالب کے مذکورہ شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اور یہی بات دونوں شعروں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا نکتہ، بات یا امر موجود نہیں جسے دونوں شعروں کی مشترک خوبی قرار دی جاسکتی۔ مطلب یہ کہ گردن پر خون ثابت ہونے کا محاورہ دونوں شعروں میں موجود ہے لیکن دونوں میں اس محاورے کو برتنے کے لیے جو طریقے استعمال کیے گئے ہیں ان میں دور دراز کی بھی کوئی مماثلت نظر نہیں آتی۔ غالب کے شعر کے محاورے کا منظر نامہ مینا، موجِ مئے اور رفتار جیسے الفاظ سے تعمیر ہوتا ہے۔ جب کہ عرفان صدیقی کے زیرِ بحث شعر میں اس نوع کے الفاظ کی تفصیل موجود نہیں۔ وہی الفاظ بہ روئے کار لائے گئے ہیں جو محاورے سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا حمائل کو لیا جا سکتا ہے۔ خود مختار ہونے کے باوجود بھی یہ لفظ اس وقت تک با معنی نہیں بنتا جب تک کہ وہ دوسرے لفظ سے اپنی نسبت قائم نہیں کر لیتا۔ یہ نسبت لفظ گردن کی ہے، اور لفظ گردن محاورے سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ دونوں اشعار کا تناطر ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے۔ اس لیے دونوں شعروں کے معنی و مفاہیم میں بھی یکسانیت تلاش نہیں کی جاسکتی۔

عرفان صدیقی کے شعر پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ متکلم کا روئے سخن براہِ راست معشوق کی طرف نہیں بلکہ کنایتہ اس گردن پر ہے جو یقینا معشوق کی ہی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ خون کرنے کے با وجود بھی اس پر خون کا جرم ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ معاملہ صرف الزام کی حد تک ہی محدود رہتا ہے۔ اور نہ ہی اس میں غالب کے شعر کی طرح جام و مینا کے معروض کے سہارے خون ثابت ہونے یا نہ ہونے کا کوئی اشارہ ملتا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ قاتل تو معشوق ہے لیکن اس کی گردن پر خونِ عشاق ثابت نہیں ہوتا۔ یہ تو عام بات ہے کہ کسی پر خون ثابت کرنے کے لیے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ معشوق تو پھر معشوق ہی ہے۔ اس پر خون چابت کرنے کے لیے یہ تو اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ثبوتوں کے ساتھ ساتھ عینی شہادتیں بھی مہیا کی جائیں۔ لیکن یہاں عینی شہادتیں تو دور کوئی چبوت تک موجود نہیں۔ غالب کے یہاں معشوق کی گردن پہ نہ سہی گردن، مینا پر کم سے کم خونِ خلق ثابت ہونے کا رمزیاتی اظہار تو موجود ہے۔ لیکن عرفان صدیقی کے یہاں اس صورتِ حال کی سرے سے نفی کی گئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے شعر کے پہلے مصرعے میں خفیف سی پریشانی پوشیدہ ہے۔ یہ نکتہ لفظ دو عالم میں پوشیدہ ہے۔ یہ لفظ یقینا عشاق کی طرف واضح اشارہ ہے۔ یعنی معشوق کے حسن پر مر مٹنے والوں میں سرف زمینی مخلوق شامل نہیں بلکہ آسمانی مخلوق (ملائک) بھی شامل ہے۔ پھر بھی چبوت کا حصول ممکن نہیں۔ انسان تو انسان ملائک بھی معشوق کے تئیں اپنی فریفتگی و شیفتگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دیوانگی (جو موت ہی کی ایک شکل ہے) کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وہ پریشان کن صورتِ حال ہے جو عاشق کو اکساتی ہے کہ وہ بڑھ کر معشوق کی گردن میں حمائل ہو جائے۔ شاعر کا یہ مشورہ خود کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے عاشقوں کے لیے بھی۔ مطلب یہ کہ یہی وہ آخری عمل ہے جسے عاشق انجام دے کر معشوق کے تئیں اپنی دیوانگی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ معشوق کی گردن میں حمائل ہونا یا اس سے دیوانہ وار لپٹ جانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ وہ کام ہے جسے کوئی عاشق اس وقت تک انجام نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ واقعی عشق و وارفتگی کے نقطۂ عروج پر نہ پہنچ جائے۔ شائد اسی لیے شاعر لفظ بڑھ کر کے وسیلے سے اس کام کو انجام دینے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس لفظ سے نہ صرف یہ کہ عاشق و معشوق کے بیچ کی دوری واضح ہوتی ہے بلکہ موجودہ حالت کا تعین بھی ہوتا ہے۔ لفظ بڑھ کر نہ تو استعارہ ہے اورنہ کنایہ پھر بھی اس معمولی لفظ نے شعر میں بے پناہ کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اسی لفظ سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ عاشق یا عشاق بہ ظاہر معشوق کے تئیں اپنی عاشقی یا دیونگی کا دم تو بھرتے ہیں لیکن در اصل وہ داخلی جذبے کے اس سوز و گداز سے محروم ہیں جس سے معشوق کا دل تو کیا پتھر جیسی چیز بھی پانی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ثابت ہو کہ عاشق نہ تو کبھی عشق کی اس بلندی پر پہنچیں گے جہاں سے دیوانگی جنم لیتی ہیاور نہ ہی کبھی ان کے اندر یہ جرات و بیباکی پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ سرِ راہ یا سرِ بزم معشوق کی گردن میں حمائل ہو جائیں۔ مطلب یہ کہ معشوق کی گردن پر خون کرنے کا یہ آخری راستہ بھی مسدود ہی نظر آتا ہے۔ لیکن شعر میں کون ثابت ہونے یا کرنے کا امکان ضرور موجود ہے۔ غالب کے شعر مین معشوق کی شوخی اور اس کے اندازِ قاتلانہ کے بیان میں معروضی طریقِ کار کو اپنایا گیا ہے۔ اس لیے اس میں معنی و مفاہیم کی ایک بسیط دنیا آباد ہو گئی ہے۔ جب کہ عرفان صدیقی کے شعر میں معروضی طریقِ کار کی عدم موجودگی نمایاں ہے جس کے سبب اس کا معنوی دائرہ محدود ہو گیا ہے۔ لیکن اس محدود دائرے میں بھی بلا کا حسن موجود ہے۔ غالب کے شعر کے ساتھ عرفان صدیقی کے شعر کو رکھ کر دیکھنے کا مقصد دونوں کا تقابلی مطالعہ پیش کرنا نہیں تھا بلکہ یہ دکھانا تھا کہ ایک ہی لفظ یا محاورے پر دونوں شعر کی بنیاد قائم ہونے کے با وجود بھی یہ دونوں اپنے طریقِ اظہار اور معنوی پھیلاو کے اعتبار سے قدرے مختلف واقع ہوئے ہیں۔ عرفان صدیقی کے مندرجۂ ذیل اشعار میں بھی اظہار و بیان کی یہ خوبی دیکھی جا سکتی ہے

میرے ہونٹوں سے جو سورج کا کنارا ٹوٹا
                  بن گیا ایک ستارہ تری پیشانی پر

مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
                  خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی

میں نے اتنا اسے چاہا ہے کہ وہ جانِ مراد
                  خود کو زنجیرِ محبت سے رہا چاہاتا ہے

ریت پہ تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
                 آپ کیوں آئے تھے اس دشت میں وحشت کے بغیر

مضمون کے شروع میں یہ بات عرج کی جا چکی ہے کہ عرفان صدیقی کی شاعری روایت کے قریب ہے۔ مطلب یہ کہ ان کی غزلوں میں کلاسیکی غزلوں کا سا رچاؤ موجود ہے۔ ساتھ ہی اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی تھی کہ روایت سے قریب ہونے کے معنی روایت کی پیروی نہیں بلکہ روایت کو عصری شعور سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ شعری سطح پر روایت سے وابستگی اس وقت تک کار آمد ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ شاعر ماضی کے شعور کو عصری تناظر میں دریافت نہ کر لے۔ ماضی کے اس شعور کو ایلیٹ تاریخی شعور سے تعبیر کرتا ہے جو زماں سے ماورا بھی ہوتا ہے اور زماں کے زیرِ نگیں بھی۔ عرفان صدیقی کی شاعری میں تاریخی شعور کی دونوں صورتیں موجود ہیں۔ یعنی ان کی غزلوں میں جہاں روایتی غزلوں کی بعض چیزیں محترم سمجھی گئی ہیں وہیں بعض چیزوں سے انحراف بھی کیا گیا ہے۔ مثال کے لیے معشوق کے کردار کو لیا جا سکتا ہے۔ قلی قطب شاہ سے لے کر میر و غالب تک کی غزلوں کے معشوق میں کچھ صفتیں مثلا تغافل، تجاہل، کج ادائی، ہرجائی پن وغیرہ مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وہ عاشق کے دامِ محبت میں آسانی سے گرفتار نہیں ہوتا۔ یعنی اس کا دیدار یا وصال عاشق کو بڑی مشکل سے نصیب ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات تو عاشق کو اس راہ میں ناکامی کا ہی سامنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں میر کے شعر سے کوئی عمدہ مثال نہیں ہو سکتی

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
                 حالت اب اصطراب کی سی ہے

عاشق کے تئیں معشوق کا عدم التفات عاشق کے اندر اضطرابی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ عاشق اس امید پر معشوق کے در پر بار بار جاتا ہے کہ شائد کبھی اس کا دیدار ہو جائے اور اس کی بے چینی کو قرار مل جائے۔ بار بار درِ معشوق پر جانے سے نہ صرف یہ کہ عاشق کی سیمابی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ معشوق کے تغافل کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ معشوق کی اس صفتِ تغافل کو عرفان صدیقی نے نہایت خوبصورتی سے اس شعر میں پیش کیا ہے:

امید واروں پہ کھلتا نہیں وہ بابِ وصال
                اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی

لیکن اس التزام کے ساتھ کہ شعر کی مکمل کیفیت میر کے شعر کی کیفیت سے مختلف ہو جاتی ہے۔ میر کے شعر میں تجربے کی انفرادیت دیکھی جاسکتی ہے۔ یعنی معشوق کے جلوۂ حسن سے متاثر ہونے اور اس پر فریفتہ ہونے والی ذاتِ عاشق میں کوئی دوسری ذات شامل نہیں۔ یہی سبب ہے کہ معشوق کی عدم توجہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے تابی کا واحد مرکز عاشق کی ذات بنتی ہے۔ جب کہ عرفان صدیقی کے شعر میں مشاہدے کی اجتماعیت نمایاں ہے۔ مطلب یہ کہ معشوق کے حسن و جمال پر نثار ہونے اور اس کے وصال کی تمنا کرنے والے عاشقوں کی ایک جماعت موجود ہے، اور جو معشوق کے شہر میں بابِ وصال کے کھلنے کی امید میں قیام پذیر ہے۔ لیکن عاشقوں کے دل میں یہ احساس بھی گھر کر چکا ہے کہ اس کا وصال ممکن نہیں۔ وصال کی امید تو وہیں کی جاسکتی ہے جہاں معشوق کا کوئی ایک عاشق ہو لیکن یہاں تو عاشقوں کا ایک جمِ غفیر موجود ہے۔ اس احساس کے با وجود بھی کوئی عاشق، معشوق کے شہر سے کنارہ کش ہونے پر آمادہ نطر نہیں آتا۔ جس سے ان کی بوالہوسی اور پریشانی ظاہر ہوتی ہے۔ لہٰذا دونوں شعر کو معشوق اساس قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں میں معشو ق اپنی صفتِ تغافل کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن دونوں میں معشوق کا مقام اور منصب ایک نہیں۔ میر کا معشوق اعلٰی طبقے سے تعلق رکھنے والا پردہ نشیں ہے۔ اس لیے اس کا جلوہ عام نہیں۔ عاشق پر اس کے حسن کا ظہور محض اتفاقی ہی معلوم ہوتا ہے۔ جس نے میر کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عاشق معشوق کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھنے کے لیے بار بار اس کے در پر جاتا اور لوٹ آتا ہے۔ وہاں ٹھہرتا نہیں۔ عاشق کے اس عمل سے معشوق کے جلیل القدر ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ کوچۂ معشو ق میں عاشق کے نہ ٹھہرنے کی ایک وجہ اس کی یا اپنی رسوائی کا خوف بھی ہو سکتی۔ اس کے برعکس عرفان صدیقی کے شعر میں معشوق کی جو کیفیاتی تسویر ابھرتی ہے وہ میر کے معشوق کی تصویر سے اس اعتبار سے مختلف نظر آتی ہے کہ اس میں بے حجابی نمایاں ہے۔ اس کی یہی بے حجابی اس پر فریفتہ ہونے والے عاشقوں کی کثرت کا سبب ہے۔ ہجومِ عشاق سے ہنگامہ آرائی کا جو تصور ابھرتا ہے اس سے معاصر حسیت کی ترجمانی ہوتی ہے۔ موجودہ عہد میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں خواہ وہ حسنِ معشوق ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا اس بدلی ہوئی صورتِ حال میں معشوق کا پردے میں رہنا کسی طور پر مناسب نہیں۔

دونوں اشعار کے مطالعے سے یہ بات تقریبا صاف ہو جاتی ہے کہ دونوں میں معشوق اپنی صفتِ تغافل کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن عرفان صدیقی کے شعر میں معشوق کا دائرۂ کار وہ نہیں جو میر کے معشوق کا ہے۔ ۔ دائرۂ کار کی یہ تبدیلی شاعر کی انحراف پسند ی کی مظہر ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری میں انحراف اور تقلیب کی کار فرمائی جگہ جگہ نمایاں ہے جو انھیں روایت سے دور بھی کرتی ہے اور اس سے قریب بھی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے میر کے شعر پر غور کیا جائے:

آنکھ اٹھا کر ٹک جو دیکھا گھر کے گھر بٹھلا دیے
                 اک نگہ میں سیکڑوں کی خانہ ویرانی ہوئی

شعر میں صرف اتنی سی بات بیان کی گئی ہے کہ معشوق نے ایک لمحے کے لیے آنکھ اٹھا جن لوگوں کو دیکھا یا جن لوگوں پر اس کی نگاہِ پر جلال پڑی وہ اس کی تاب نہ لا کر جل مرے۔ یعنی اس کی چشمِ نرگسیں کے دیوانے ہو گئے۔ خوبیِ چشم شعر کا مرکزی موضوع تو ہو سکتا ہے لیکن شعر کا حسن نہیں۔ کیوں کہ حسن اور موضوع دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ حسن ایک تصوراتی کیفیت ہے جو بذاتِ خود اشیا میں موجود نہیں ہوتی بلکہ پیدا کی جاتی ہے۔ پورا شعر حسن کاری کی عمدہ مثال ہے۔ حسن کاری کا یہ عمل موضوع میں پوشیدہ نہیں بلکہ اس کے طرزِ ادا میں نمایاں ہے۔ شعر میں چشمِ سرمگیں یا چشمِ قاتل یا چشمِ غزال یا چشمِ مخمور جیسے کسی بھی صفاتی الفاظ سے آنکھ کی تعریف نہیں کی گئی ہے بلکہ چند چیزوں کے حوالے سے حشر سامانیِ چشم کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں آنکھ کے اٹھنے کو گھر کے بیٹھنے یعنی تباہ ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ایک چیز (آنکھ) کے عروج کو متعدد چیزوں (گھروں)کے زوال کا نتیجہ بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جنھوں نے معشوق کی مست نگاہی کو دیکھا وہ اس کے عاشق ہوگئے۔ ممکن ہے معشوق نے نادانستہ طور پر آنکھ اٹھا کر جھکالی ہو اور دیکھنے والے یہ سمجھتے ہوں کہ اس نے قصدا انھیں دیکھا ہو۔ جو بھی ہو لیکن ایک جھلک دیکھنے کے بعد عاشق اس انتطار میں ہیں کہ معشوق دوبارہ پلکیں اٹھا کر انھیں دیکھے۔ شعر میں یہ احساس بھی نمایاں ہے کہ معشوق اپنی ایک جھلک دکھا کر روپوش ہو گیا ہے۔ اور عاشق اس کے دیدار کی جستجو میں قریہ بہ قریہ مارے پھر رہے ہیں۔ مطلب آوارہ ہو گئے ہیں۔ اس شعر کے بعد عرفان صدیقی کا شعر پیش کیا جاتا ہے

                  جس طرف دیکھ لیں دنیا تہہ وبالا کر دیں
                  ایسی آنکھوں کو تو بیمار نہیں مانتا میں

اس شعر میں بھی علت و معلول کی کم و بیش وہی کیفیت موجود ہے جو میر کے شعر میں ہے۔ مطلب یہ کہ اس شعر میں بھی چشمِ معشوق کی غیر رسمی تعریف کی گئی ہے۔ روایتی تصور یہ ہے کہ معشوق کی آنکھ کو بیمار کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ بیمار کی طرح ہی وہ بھی کمزور ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جو چیز کمزور ہوگی اس کی فعالیت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ لیکن شعر میں بیمار کے اس روایتی تصور کو کس خوبصورتی بدل دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر معشوق آنکھ بھر کے دنیا کو دیکھ لے تو وہ بھی نیس و نابود ہوسکتی ہے۔ اس کے ایک معنی یہ بھی ہوئے کہ عام طور پر معشوق آنکھیں اٹھا کر کسی کو نہیں دیکھتا جس کے سبب لوگ اس کی آنکھ کے بیمار متصور کرتے ہیں لیکن عاشق کو چشمِ معشوق کی توانائی اور اس کی تخریبی قوت کا خوب اندازہ ہے۔ اس لیے وہ اس کی آنکھ کو بیمار ماننے سے انکار کرتا ہے۔ عاشق کے پر اعتماد لہجے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی معشوق کے فعلِ چشم کا فاعل ضرور رہا ہے ورنہ اس کے انکار میں جو طنطنہ ہے، نہ ہوتا۔ دونوں شعروں کا باریک بیں مطالعہ ایسے نکتے سامنے لاتا ہے جن کی بنیاد پر دونوں میں فرق و امتیاز کیا جاسکتا ہے۔ میر کے یہاں ایک ایسا واقعہ بیان ہوا ہے جو پوری طرح ان کے تجربے کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے تجربے کو ماضی قریب کے صیغے میں بیان کیا ہے۔ جب کہ عرفان صدیقی کے یہاں یہاں جو واقعہ بیان ہوا ہے اس پر ان کے تجربے کا کم اور مشاہدے کا رنگ زیادہ گہرا ہے۔ اس لیے ان کے مشاہدے کو تصور یا تخئیل سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس بات کی مزید وضاحت کے لیے مندرجۂ ذیل اشعار پر غور کیا جاسکتا ہے:

گرم آکر ایک دن سینے سے لگ گیا تھا
            ) تب سے ہماری چھاتی ہر شب جلا کرے ہے  (میر

دیکھتے ہیں تو لہو جیسے رگیں توڑتا ہے
        ) ہم تو مر جائیں گے سینے سے لگا کر اس کو  (عرفان صدیقی

دونوں اشعار کا بنیادی موضوع ایک ہے لیکن دونوں کے طرزِ اظہار میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ میر کے شعر میں معشوق کے قربِ آتشیں کا لطیف حسی تجربہ بیان ہوا ہے۔ پہلے مصرعے میں معشوق کا عاشق کے سینے سے لگ جانا غیر متوقع تو تھا ہی لیکن دوسرے مصرعے میں ہر شب چھاتی کے جلنے کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ثابت ہوتا ہے۔ ایک پل کے لمسی احساس کو زندگی کے طول و عرض پر پھیلا دینا اس ایک پل کی لطافت، اثر آفرینی اور پائداری کو ظاہر کرتا ہے۔ پھر گرم کی رعایت سے چھاتی کا جلنا اور جلنے کے تعلق سے روشنی اور روشنی کے تعلق سے رات اور رات کے تعلق سے تاریکی وغیرہ کی واضح اور غیر واضح کارکردگی نے شعر میں بلا کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ موضوعی مماثلت ہونے کی وجہ سے عرفان صدیقی کے شعر بھی میر کے شعر کی کیفیت کے قریب ہے۔ یہاں قریب ہونے کے معنی ایک ہونے کے نہیں ہیں۔ اگر کوشش کی بھی جائے تو یہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی کہ دونوں شعر ایک ہی کیفیت کے ترجمان ہیں۔ کیوں کہ میر کے یہاں عملی تجربے کے بعد جو نتیجہ کیفیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے، عرفان صدیقی کے یہاں وہ نتیجہ قیاسی تجربے کا رہینِ منت ہے۔ یہاں معشوق کو دور ہی سے دیکھ کر عاشق کے لہو کی گردشیں تیز ہو جاتی ہیں۔ جس سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ جس معشوق کو دیکھ کر رگیں ٹوٹنے کا احساس ہو اگر وہ قریب آ جائے یا سینے سے لگ جائے تو عاشق کا مرنا یقینی ہے۔ معشوق کو دیکھ کر عاشق کے لہو کی گردشیں تیز ہونے کی دو لطیف وجہیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی کا تعلق معشوق کے برقی حسن سے ہو سکتا ہے۔ جب کہ دوسری کا تعلق اس کے جاہ و جلال یا رعب سے۔ ان وجوہ کے پیشِ نظر معشوق کے لمسی قرب کا تصور نہ صرف یہ کہ عاشق کا متحیر کر سکتا ہے بلکہ اس سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہی ڈرامائی عنصر عرفان صدیقی کے شعر کو میر کے شعر کے کیفیت کے قریب کرتا ہے۔ حالا نکہ میر کے دوسرے مصرعے میں موت کا تصور پوشیدہ ہے مگر اس میں عرفان صدیقی کے تصورِ موت کا سا اچانک پن موجود نہیں۔ اس طرح کی متعدد مثالیں عرفان صدیقی موجود ہیں جن اس نتیجے پر آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری اک ایک بڑا حصہ کلاسیکی شعریات کی متقلب صورت کی جلوہ افروزی سے عبارت ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply