مجمع کو مزہ نہیں آیا —–ڈاکٹر مریم عرفان

0

غالباً دسمبر 2012 کا سورج غروب ہو رہا تھا جب وہ اپنے دوست کے ساتھ بس میں سوار ہوئی۔ بس میں موجود چھ مردوں نے دونوں کو بڑے معنی خیز انداز میں دیکھا اور ڈرامائی طور پر سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ ان چھ مردوں نے لڑکے کو زخمی کر کے بس کی پچھلی سیٹوں کے پاس پھینکا اور لڑکی کو بھوکی نظروں سے گھورتے ہوئے گھیرے میں لے لیا۔ وہ روتی رہی، چلاتی رہی اور بس مزے سے دلی کی سڑکوں پر دوڑنے بھاگنے میں مصروف تھی۔ بالآخر جوتی گینگ ریپ اور شدید جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر پھینک دی گئی۔ اس خبر نے ہمسایہ ملک کی سلامتی اور عورتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کو بے نقاب کر دیا۔ چلتی بس میں ایک دوشیزہ اپنی عزت گنواتی رہی اور دنیا نے اس فلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے برہنہ دیکھا۔

14 اگست 2021 کی شام مینار پاکستان کا صحن بہت سارے مردوں سے بھرا ہوا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں جھنڈیاں تھیں اور کسی کے منہ میں باجا۔ ہلڑ بازی اور طوفان بدتمیزی کا بازار گرم تھا جب ملت اسلامیہ کی غیرتِ ناہید اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مینار کے صحن میں وارد ہوئی۔ وہ ٹک ٹاکر خود کو بڑی سٹار محسوس کر رہی تھی۔ ابھی وہ اپنے کسی پوز کو کیمرے کے سپرد کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ مجمعے کی بھوکی ننگی نظریں اس پر ٹک گئیں۔ شہوت میں ڈوبے چار سو مرد اس کی جانب بڑھے اور اسے مال غنیمت سمجھ کر بازوؤں میں بھر لیا۔ جس کا جہاں ہاتھ پڑا اس نے چھونے سے گریز نہیں کیا۔ بہت ساری انگلیاں اور ہاتھ اس کے نرم گرم جسم کو چھو رہی تھی۔ کوئی چٹکیاں کاٹ رہا تھا تو کوئی بانہوں میں جھولے دینے پر مصر تھا۔ مجمعے کی بدقسمتی یہ تھی کہ مینار پاکستان کا صحن جم غفیر کی خواہش پوری کرنے کے لیے ناکافی تھا۔ اس مجمع میں بہت سے کنوارے اور شادی شدہ مرد بھی موجود تھے، سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ سب اتنے بھوکے اور ترسے ہوئے تھے کہ بغیر کسی ترغیب کے انھوں نے نہتی لڑکی کو یر غمال بنا لیا ؟

سوال یہ بھی نہیں کہ وہ وہاں کیوں اور کیا لینے گئی ؟ اکیلی عورت چاہے اپنے دوستوں یا کزنوں کے ساتھ بھی پبلک مقامات پر جائے تو بھی اسے اپنی عزت گھر چھوڑ کر جانی چاہیے۔ ابھی موٹر وے والا زیادتی کیس بند نہیں ہوا کہ ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مجھے قصور کی معصوم زینب بھی یاد آ رہی ہے جس کے بے حس والدین خود تو عمرہ کرنے چلے گئے اور بچی رشتہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے۔ اصل قصور وار تو بچی تھی جو رات کو اکیلے گھر سے نکلی اور کوڑے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی۔ بھلا اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ چھوٹی ہونے کے باوجود بڑی قیمتی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ حالیہ واقعہ محرم الحرام جیسے سوگ والے مہینے میں ہوا اور خاص طور پر یوم پاکستان کے موقع پر اسی جگہ ایک عزت شطرنج کی بازی بنی رہی جہاں بانی پاکستان کے قدم جمے تھے۔ آج ہمسایہ ملک کے باسیوں نے بھی فخر سے ہماری مثال دے کر کہا ہوگا کہ دیکھو یہ ہے قائد کا پاکستان، عزتیں وہاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو الگ ہونے کی کیا ضرورت تھی، مل کر ساتھ میں رہتے اور راضی بہ رضا سب کچھ کرتے۔

موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تھی تو ہم جیسی ورکنگ کلاس خواتین کو ان سے بڑی امید تھی کہ وہ اپنے نئے پاکستان میں کچھ الگ اور نیا کر کے دکھائیں گے۔ مگر افسوس باتوں اور تقریروں کے سوا کچھ نیا نظر نہیں آیا۔ جب اپنے ہی وطن میں مارا ماری چل رہی ہے اور ریپ جیسے واقعات بھی جاری ہیں تو خان صاحب نے کہا کہ خواتین پورا لباس پہنیں پھر انھیں کوئی خطرہ نہیں۔ ان کا کہا سر آنکھوں پر، حقیقت بھی یہی ہے۔ عورت جتنی عیاں اور بے باک ہو گی مردوں کی نظریں اتنی ہی ہموار ہوتی چلی جائیں گی لیکن اب اس مسئلے کا کیا کریں جس نے مینار پاکستان کے صحن میں جنم لیا ہے۔ عائشہ تو پورے کپڑوں میں ملبو س تھی، وہ کیسے چار سو کے مجمعے کو ایک ساتھ اشارہ کر کے راغب کر سکتی ہے ؟ موٹر وے کیس میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون بھی پورے کپڑوں میں تھی بس وہ غلطی سے رات کو سفر کرتے ہوئے پکڑی گئی۔ اب اس بات کا تعین کون کرے گا کہ چھ سال سے سولہ سال تک کی بچیاں کیسے قصور وار ہو سکتی ہیں ؟ قبروں میں کفن اوڑھ کر سونے والی خواتین کیسے شہوت انگیزی کی وجہ بنتی ہیں ؟ مدرسوں میں پڑھنے والی کم عمر بچیوں کو درندے کس وجہ سے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں؟

مینار پاکستان ایک تفریحی مقام ہے جس کی تاریخی حیثیت بھی مسلمہ ہے۔ لاہور شہر کے وسط میں واقع اس مینار پر پردیسیوں کا بسیرا رہتا ہے جو لاری اڈے سے چھٹتے ہی یہاں وارد ہوتے ہیں۔ کسی دور میں یہاں سرکس لگتا تھا، کھیل تماشے ہوتے تھے۔ پھر یہ بے راہرو نوجوانوں کی آماجگاہ بن گیا اور شرفا نے یہاں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ ن لیگ کے دور میں جب سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور اقبال پارک کا کافی حصہ سڑک بننے میں کام آیا تو مینار پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا۔ یہ مینار بے روزگاروں اور مفلسوں کے لیے خودکشی پوائنٹ تھا اس لیے اسے جنگلے لگا کر بند کر دیا گیا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اس کا صحن بھی اونچے جنگلے لگا کر بند کر دے ورنہ جیسے چار سو حرصی مرد بے نیل مرام گھروں کو لوٹے ہیں اگر یہ سب ایک ہی لڑکی سے مستفید ہو جاتے تو مینار بھی کسی کو منہ دکھانے کے قبل نہ رہتا۔

جنگل کا بھی ایک قانون ہے جہاں ہم نے تو کبھی نہیں سنا یا دیکھا کہ ببر شیر نے لومڑی کی عزت لوٹی ہو، چیتے نے ہرنی کو قابو کیا ہو، زرافہ ہتھنی کے گینگ ریپ میں ملوث رہا ہو یا مورنی کو شتر مرغ سے خطرہ محسوس ہوتا ہو۔ جنگل میں مور ناچے تو سب کو دکھتا ہے لیکن قیامت ہے کہ یہاں کچھ بھی ہو جائے کسی کو کچھ نظر نہیں آتا۔ تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ ہو، جیسے جنگل کے قانون میں جانور اپنی ضرورتوں کے لیے اپنی ہی نسل کے محتاج ہیں ویسے ہی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مجمعے کو اکسانے والی خاتون انہی میں سے تھی۔ اسے علم تھا کہ وہ ایک لشکر کے سامنے جلوہ گر ہونے جا رہی ہے لیکن یہ خبر نہیں تھی کہ جنگجو اسے بھی اپنا شکار بنا لیں گے۔ موٹر وے کیس میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی ایک بھی تصویر وائرل نہیں ہوئی کسی ہم وطن نے اس کا چہرہ تو درکنار اس کے زخمی جسم کی جھلکی بھی نہیں دیکھی لیکن اس کیس میں ایسا کچھ نہیں۔ متاثرہ لڑکی انٹرویو بھی دے رہی ہے اور دہائیاں بھی۔ الزام تراش اپنی زبانیں پتھر پر خوب رگڑ چکے ہیں کہ عائشہ ٹک ٹاک بنانے وہاں کیوں گئی ؟ اس پورے واقعے میں عائشہ تو نظر آ گئی لیکن ٹک ٹاک پر پابندی کسی کو دکھائی نہیں دی۔ کیا یہ ٹک ٹاک چائینہ پراڈکٹ ہونے کے باعث پابندی سے آزاد ہے ؟ بچے کو کھلونا دے کر یہ کہنا کہ اب اسے استعمال نہ کرے کہاں کا انصاف ہے ؟ رہ گیا لباس تو میں حیران ہوں ان ماؤں پر بھی جن کی بیٹیاں ٹائیڈز نما ٹانگوں سے چپکنے والے پاجامے اور اونچے کرتے پہن کر نکلتی ہیں تو انھیں تشویش کیوں نہیں ہوتی ؟ یہ تنگ نائلون کے پاجامے تو آج سے دس بارہ سال پہلے سردیوں میں بچیوں کو گرم رکھنے کے لیے لباس کے نیچے پہنائے جاتے تھے۔ اب لباس غائب ہے اور تنگئی داماں کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔ ۱۹۹۹ء میں لاہور کے چڑیا گھر میں ریچھ نے ایک بچے کو دوٹکڑے کر کے رکھ دیا تھا جب اس کے والدین نے تصویر کی خاطر اسے پنجرے کے آگے کیا۔ اب تو لگتا ہے ہر جگہ ہی چڑیا گھر کھل چکا ہے جانور دندنا رہے ہیں لیکن قصووار یہاں بھی تصویر بنوانے والے ہی ملیں گے۔

سب حقیقتیں شانہ بشانہ کھڑی ہیں لیکن بنام سرکار ایک التجا ہے کہ خدارا ! گینگ ریپ یا سنگل زیادتی کیس کے کسی ایک مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکا کر تو دیکھیں۔ شاید اس سے کوئی تبدیلی پیدا ہو جائے۔ بے کس ناہید اور جری محمد بن قاسم کا دور ختم ہوا چاہتا ہے۔ ناہید کی ایک پکار نے قیامت اٹھا دی تھی حالانکہ تب ٹک ٹاک بھی نہیں تھا اور نہ ہی سوشل میڈیا کی پاور تھی۔ اگر ایسی صورت حال برقرار رہی تو پھر ہر عورت لفٹ میں اکیلے سفر نہیں کر سکے گی اور نہ ہی کوئی خاتون تنہا کسی سٹور میں شاپنگ کرنے پر آمادہ ہو گی۔ آپ جتنے مرضی پہرے بٹھا لیں، تاویلیں پیش کریں یا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں وقت اب فیصلہ سازی اور عمل پرستی کا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے پاس دینے کے لیے سزائیں ہی نہیں ہیں۔ ورنہ یہ کیس غیرجانبدارانہ انداز میں حل ہونے کا متقاضی ہے۔ چار سو کا مجمع لڑکی اپنے ساتھ لائی یا وہاں اسے دیکھ کر اکٹھا ہو گیا اس کی پوچھ گچھ ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی سستی شہرت کے لیے ناکارہ حربے استعمال نہ کر سکے۔

خاتون نے اپنی ٹک ٹاک لائیو بنوا کر کافی سبق سیکھ لیا ہو گا۔ ایک لڑکی یا خاتون کی کسی بھی حرکت سے آپ سب خواتین کے راستے بند نہیں کر سکتے۔ 2006 ء میں خواتین کے حقوق کا بل تو پاس کر لیا گیا لیکن اس ضمن میں بہت سی تجاویز اور شقوں کو شامل کرنے کی ضرورت تاحال موجود ہے۔ اب یہ کہنا کہ عالمی طاقتیںپاکستان میں سرعام پھانسی کی سزاؤں کو پسند نہیں کرتیں دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ سائبرکرائم بہت فعال ادارہ ہے ان جیسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ قصوروار چاہے نشانہ بننے والا ہی کیوں نہ ہو تحقیقات کر کے لوگوں کے واہمات کو ختم کیا جائے۔ تفریحی مقامات نوجوان نسل کے لیے ڈیٹنگ پوائنٹس بن گئے ہیں جس کی مثال مزارِ قائد بھی ہے۔ جوانی شتر بے مہار ان بے لگام گھوڑوں کو دوڑائے جا رہی ہے لیکن اس کے نتیجے میں سنجیدہ طبقہ فکر زیادہ متاثر ہونے لگا ہے۔ آخر کو عائشہ جب گھر سے ٹک ٹاک بنانے نکلی تو اس کے گھر والوں نے پوچھا تو ہوگا کہ بیٹی کہاں چلی ہو؟ بیٹی کا جواب جو بھی ہو لیکن یاد رکھیں کہ والدین بھی ایسے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ بن رہے ہیں۔

مینار پاکستان سے یاد آیا اس کے عقب میں ایک بدنام زمانہ بازار بھی آباد ہے جہاں تنگ گلیوں میں بسنے والی کچھ لڑکیاں باپردہ اور مذہبی خواتین پر ہنس رہی ہوں گی۔ شاید وہ کہتی ہوں کہ چار سو مردوں کے اس مجمعے سے ایک اکیلی لڑکی نہ سنبھالی گئی۔ ہم اس کی جگہ ہوتیں تو ضرور باآواز بلند کہتیں :’’ حرام زادو! مزہ نئیں آیا۔ ‘‘ دلی کی جوتی زیادہ قابل رحم ہے جو گھر سے صبح پڑھنے کے لیے نکلی تھی۔ ہمسایہ ملک میں جس قدر جنسی بھوک اور اشتعال ہے اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی لیے جاپان نے بھارت کو خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک قرار دے دیا ہے۔ ہمارے ہاں جنسی بھوک کے مظاہر ہی اور ہیں۔ اس مجمعے سے اچھے تو طالبان رہے جنہوں نے خون کی ایک بوند نہیں گرائی اور نہ ہی کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالا۔ جبکہ ہمارے لوکل طالبان دوسروں کی ماؤں بہنوں کے گریبانوں میں زبردستی جھانکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگر یہ چار سو کا مجمع اپنے گھروں کی عورتوں کو دیکھ لے کہ ان میں اور عائشہ میں کچھ فرق نہیں تو شاید تبدیلی آ جائے ورنہ صاحب ! مجمعے کو مزہ نہیں آیا۔
کہیں ایسا نہ ہو یارب کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تری جنت میں حوروں کی فراوانی سے مر جائیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply