اسلامی فیمنزم : عرب ممالک میں تانیثی رجحانات (3) —- وحید مراد

0

مشرق وسطیٰ میں بیس سے زائد ممالک ہیں جن کی متنوع زبانیں، تاریخ اور ثقافت ہے لیکن انکی مضبوط مذہبی شناخت نے انہیں آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ پچھلے کچھ عشروں سے یہاں مادی ترقی کےساتھ ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی شرکت میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم اس کے نتائج مغرب میں پائی جانے والی فیمنسٹ تحریکوں کی تشریحات سے مختلف ہیں کیونکہ مغربی اور مشرقی معاشروں میں خواتین کا کردار ایک جیسا نہیں۔ مغرب کے دعووں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی مسلم خواتین انتہائی خطرناک حالات کا شکار ہیں۔ انکے مطابق مشرق وسطیٰ کی آباد ی میں اضافہ، خواتین کی کم شرح خواندگی اورلیبر فورس میں انکی کم تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ انہیں معاشرے کے پیداواری رکن کے طورپر نہیں دیکھا جاتا اور اسکی ذمہ داری مذہب پر عائد ہوتی ہے۔ مغرب پورے مشرق وسطیٰ کی مسلم خواتین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ مشرق وسطیٰ مختلف ممالک پر محیط ہے اور یہاں ہر علاقے کی سماجی اور ثقافتی خصوصیات الگ ہیں۔ ان عوامل کو مدنظر رکھے بغیر مشرق وسطیٰ میں صنفی معاملات کے بارے میں درست تخمینے نہیں لگائے جا سکتے۔

مسلم معاشروں کو دنیا کے سامنے غیر ترقی یافتہ، ان پڑھ اور پسماندہ ثابت کرنے کیلئے مین اسٹریم فیمنزم کے ساتھ مسلم فیمنسٹ بھی میدان میں نکل چکے ہیں۔ چنانچہ نئی نسل کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ مسلم معاشرے اتنے غیر مہذب ہیں کہ یہاں عورتوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ انہیں مغرب کی طرح تہذیب یافتہ بنانے کیلئے انکے قانون، تعلیم، ثقافت، تمدن، اقدار، روایات اور مذہب میں تبدیلیاں لانا ضروری ہے۔ اس ایجنڈے پر مغرب کے نوآبادیاتی دور سے کام ہو رہا ہے لیکن اب اس میں تیزی لانے کیلئے مشرق وسطیٰ کے فیمنسٹ اسکالرز سے دنیا بھر کے بڑے اخبارات اور میگزینز میں مضامین لکھوائے گئے۔ ان مضامین میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عورت کے خلاف اصل جنگ مشرق وسطیٰ میں لڑی جا رہی ہے اور یہاں خواتین کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو دنیا بھر میں نہیں۔ ایک عشرے سے مشرق وسطیٰ میں عرب اسپرنگ کے نام سے ہونے والے احتجاجات، بغاوتیں اور سیاسی انقلابات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ ان احتجاجات میں خواتین تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اورسیاسی تبدیلی کے بعدصنفی مساوات کے ایجنڈے کے تحت قوانین میں تبدیلیوں کیلئے راہ ہموار کی۔

The reality and future of Islamic feminism | Poverty and Development | Al Jazeeraعرب اسپرنگ:

عرب اسپرنگ حکومت مخالف مظاہروں اور مسلح بغاوتوں کا ایک سلسلہ تھا جو 2010 کے عشرے کے اوائل میں پوری عرب دنیا میں پھیلایا گیا۔ اسکا آغاز کرپشن، معاشی جمود، دولت کے ارتکاز، بے روزگاری، انسانی حقوق کی خلاف ورزی،  بادشاہت و آمریت کے خلاف جمہوری سیاسی نظام اور روشن معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے کی جدوجہد کے نام سے ہوا۔ عام خیال ہے کہ عرب اسپرنگ کی آگ مقامی حکومتوں پر نوجوانوں اور خواتین تنظیموں کے عدم اطمینان کی وجہ سے بھڑکائی گئی اور ان کے کچھ کارکنان کو امریکہ کا مالی تعاون بھی حاصل تھا۔

مظاہروں کا یہ سلسلہ تیونس میں انقلاب کی شکل میں نمودار ہوا اور پھردیگر ممالک لیبیا، مصر، یمن، شام اور بحرین تک پھیل گیا۔ ان ممالک میں یا تو حکمرانوں کو معزول کیا گیا جیسے تیونس کے زین العابدین بن علی، لیبیا کے معمر قذافی، مصر کے حسنی مبارک، یمن کے علی عبداللہ صالح اور سوڈان کے عمر البشیر یا بغاوتوں کے نتیجے میں تشدد، فسادات، خانہ جنگیاں اور شورشیں دیکھنے میں آئیں۔ عراق، الجزائر، لبنان، اردن، کویت، عمان ، بحرین اور سوڈان میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے جبکہ جبوتی، موریطانیہ، فلسطین، مراکش اور سعودی عرب میں نسبتاً چھوٹے مظاہروں کے بعد ہی حالات قابو میں آگئے۔ ان تنازعات کے نتیجے میں شام خانہ جنگی، وسیع پیمانے پر سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات کا شکار ہوا۔ احتجاج کے پھیلائو میں بیرونی عوامل اور سوشل میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ [i]

عرب اسپرنگ کی بغاوتیں کچھ مشترکہ خصوصیات کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے تقریباً ہر ملک میں بحرانوں کا سبب بنیں۔ کچھ لوگوں نے اسے سیاسی بیداری سے تعبیر کیا اور کچھ نے بااختیار نوجوانوں اور متوسط طبقے کے نئے دور کا آغاز قرار دیا لیکن متحدہ قیادت، بہتر سیاسی ایجنڈا، قومی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مستقبل کے روڈ میپ اور مقررہ اہداف کے بغیر اٹھائی جانے والی ان بغاوتوں نے خطے کےعدم استحکام، علاقائی سلامتی کیلئے خطرات اور بحرانوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ [ii]

عرب اسپرنگ میں نسائی تنظیموں کا کردار:

عرب اسپرنگ میں خواتین تنظیموں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی شمولیت سائبر ایکٹوازم سے آگے نکل کر براہ راست احتجاج تک بڑھ گئی۔ بظاہر یہ خواتین تنظیمیں مردوں کے ساتھ مل کر حکومتوں کی تبدیلی کیلئے لڑ رہی تھیں لیکن صنفی حیثیت سے انکے اہداف مختلف تھے۔ فیمنسٹ تنظیموں کا خیال تھا کہ عرب اسپرنگ خواتین کے حقوق کے ایجنڈا کو وسیع پیمانے تک پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا۔ اسکے نتائج انکی توقعات کے مطابق برآمد نہیں ہوئے لیکن مجموعی طورپر فیمنسٹ نظریات اور ڈسکورس کو اس موقع پرخوب پذیرائی ملی۔ حقوق نسواں سے متعلق لڑیچر کو اسلام پسندوں، جدیدیت پسندوں، پوسٹ کالونیل نظریات کے ماننے والوں سمیت ہر طبقے میں بہت مقبولیت ملی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عرب ممالک کے فیمنسٹ لیڈران نے اپنی تحریکوں کو تیزی سے اداروں کی شکل دی۔ ان میں سے اکثریت نے این جی اوز کو غیر ملکی یا سرکاری فنڈنگ سے منسلک کیا اور انکی ترجیحات فنڈز کے رویوں سے طے ہونے لگیں۔ ان تنظیموں کی توجہ قوانین میں تبدیلی، سیاسی اشرافیہ کے ذریعے اثر و رسوخ کے حصول اور خواتین کو با اختیار بنانے پر مرکوز ہیں۔ [iii]

عرب دنیا میں جب حقوق نسواں کے حق میں بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی تو عام خواتین بھی اس سے متاثر ہوئیں لیکن انہوں نے یہ سوچ کر فیمنسٹ تنظیموں میں شمولیت اختیار نہیں کی کہ کہیں اس طرح انکے عقائد اورایمان پر برا اثر نہ پڑے۔ ایک انٹرنیشنل تحریک ‘مساواۃMusawah ‘ نے عرب خواتین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ خواتین اسلامی روایت کے اندر رہتے ہوئے انصاف، حقوق، مساوات اورایمپاورمنٹ کے لئے لڑ سکتی ہیں۔

‘مساواۃMusawah ‘ کا باضابطہ آغاز 2009 میں کوالالمپور میں ایک کانفرنس میں ہوا جس میں سینتالیس ممالک کی 250 خواتین نے شرکت کی اور اب اسکی شاخیں تمام مسلم ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ اس تحریک کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ مردوں کو مذہبی معاملات میں سرپرستی اور مراعات اس لئے حاصل ہیں کہ اسلامی نصوص کے تراجم و تشریحات مردوں نے کئے ہیں اور اسکے نتیجے میں پدرسری کا استحصال قائم ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں بھی مرد علماء کی طرح اسلام کی تعبیر و تشریح کرنے کا مساوی اختیار دیا جائے۔ خواتین ان نصوص کی تشریحات ان اصولوں کے تحت کریں جو انکی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے ممالک میں قانونی اصلاحات پر زور دیں۔ اسکے علاوہ اس تنظیم کی طرف سے اس بات پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ قرآنی تعلیمات کی تشریحات انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنی چاہیں۔ اسی طرح یہ تحریک اقوام عالم سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مسلم خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے میں مدد کریں۔

جیسے جیسے عرب اسپرنگ کے واقعات سامنے آئے، سیاسی عمل میں مسلم خواتین کی شمولیت کی بڑے  پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ مسلم خواتین کئی سالوں سے سیاسی اور سماجی تحریکوں میں سر گرم تھیں لیکن بین الاقوامی میڈیا نے ان مظاہروں کے دوران خواتین تنظیموں کو خصوصی کوریج دی۔ اس کوریج کے دوران عوام تک یہ پیغام بھی پہنچایا گیا کہ ان مظاہروں کے دوران مردوں نے عورتوں کا خاص احترام ملحوظ خاطر رکھا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مغربی طاقتوں، بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کے اداروں اور تانیثی تنظیموں نے ایسا ماحول بنا دیا کہ مشرق وسطیٰ کی تمام حکومتیں اپنا اقتدار بچانے کی خاطر صنفی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے پر مجبور ہوگئیں [iv]۔ صنفی ایجنڈے کے تحت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں آنے والی تبدیلیوں کی تفصیلات درجہ ذیل ہیں۔

تیونس:

تیونس کی 99 فیصد آبادی مسلم ہے اور روایتی طورپر تمام خواتین حجاب پہنتی تھیں۔ 2010 اور 2011 کے عرب اسپرنگ مظاہروں اورانقلاب کے بعد تیونس میں خواتین کے لئے حجاب پہننا یا نہ پہننا انکا انفرادی معاملہ قرار دے دیا گیا۔ اب وہ شارٹس اور بکنی سمیت جو چاہیں پہن سکتی ہیں لیکن سرکاری عمارتوں میں پورا چہرہ ڈھانکنے والا نقاب پہننے پر پابندی ہے۔ 2017 سے تیونسی خواتین کو غیر مسلم مردوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے جبکہ اس سے قبل ایسی صورتحال میں مرد کا اسلام قبول کرنا ضروری تھا۔ [v]

حبیب بورگوئیبہ (Habib Bourguiba) کے دور میں اسلامی روایات ختم کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کیلئے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور پھر اس پابندی کو تعلیمی ادروں تک بڑھا دیا گیا ۔ اسی دور میں تعدد ازدواج کو ختم کیا گیا، خواتین کو طلاق کی اجازت دی گئی، مرد و زن کی مساوات کی ضمانت دی گئی، خواتین کو غیر روایتی شعبہ جات مثلاً فوج وغیرہ میں ملازمت کی اجازت دی گئی اور برتھ کنٹرول و اسقاط حمل تک قانونی رسائی دی گئی۔ حقوق نسواں کی تنظیمیں اس پر بھی خوش نہیں تھیں اور انکی ایماء پر پرسنل لاء میں ایسی ترامیم ہوئیں جنکے نتیجے میں شادی شدہ عورت مرد کی بات ماننے کی پابند نہیں۔

تیونس کی خواتین میں شرح خواندگی91 فیصد ہے، سیکنڈری اسکولز میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے، 60 فیصد خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور 30 فیصد خواتین ملازمت کرتی ہیں[vi]۔ 2011 کے انقلاب کے بعد گورنمنٹ ملازمتوں میں خواتین 15 فیصد، میونسپل کونسلرز میں 27 فیصد اور چیمبر آف ڈپٹی میں15 فیصد نمائندگی کرتی ہیں۔ 2011 کی دستور ساز اسمبلی کیلئے برابری کا اصول اپنایا گیا۔ اس وقت تیونس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 30 فیصد ہے جو کسی بھی عرب ملک سےزیادہ ہے۔ 2017 میں ایک قانون پاس کیا گیا جس میں رضامندی کی عمر کو 13 سے 16 سال کر دیا گیا اور ایسے مرد جو خواتین کے ساتھ ریپ کرتے ہیں انہیں ان خواتین سے شادی کی صورت میں جرم کی سزا سے چھوٹ نہیں ملے گی۔ اس قانون میں جنسی ہراسمنٹ، ملازمت اور تنخواہوں میں امتیازی سلوک کے خلاف بھی سزائیں شامل کی گئی ہیں۔ [vii]

لیبیا:

کرنل قذافی کے فوجی انقلاب کے بعد ستر کے عشرے میں لیبیا کے روایتی معاشرے کو جدیدیت کے خطوط پر استوار کیا گیا۔ قانونی طورپر عورتوں کو مردوں کے مساوی درجہ دیا گیا۔ نوجوان خواتین نے روایتی پردہ ترک کرتے ہوئے مغربی طرز کا لباس پہننا شروع کیا اور تیزی سے اکیلے خریداری کرنے، ڈرائیونگ کرنے اور شوہروں کے بغیرسفر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ لیبر فورس میں خواتین کی تعداد اور شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ خواتین کیلئے الگ فوجی اکیڈمی قائم کی گئی۔ 1973 کے بعد سے خواتین کو طلاق کے سلسلے میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ [viii]

1970 میں خواتین کی کئی انجمنوں نے مل کر ویمن جنرل یونین بنائی جو 1977 میں جمہوریہ ویمن فیڈریشن بن گئی۔ اسکی ابتدائی صدر خدیجہ جہامہ تھیں۔ 1989 سے 1994 تک فاطمہ عبد الحفیظ مختار وزیر تعلیم بنیں۔ سلمیٰ احمد رشید خواتین کی اسسٹنٹ سیکرٹری، پھر سیکرٹری اور 1996 میں عرب ممالک کی لیگ میں سفیر رہیں۔ اسکے بعد جنرل پیپلز کانگریس برائے سماجی امور میں کئی خواتین نے خدمات سرانجام دیں۔ [ix]

2006 تک 27 فیصد خواتین باروزگار تھیں۔ خواتین نجی کاروبار بھی کرتی ہیں اور بینکوں سے قرض لینے کیلئے انہیں شوہر کی رضامندی کی ضرورت نہیں۔ نیٹو کے حمایت یافتہ انقلاب کے بعد ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا۔ معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد تریسٹھ خواتین منتخب ہوئیں۔ اسی طرح بے شمار این جی اوز ابھر کر سامنے آئیں جو خواتین کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہیں۔ مارچ 2021 میں لیبیا کی پانچ خواتین کو حکومت میں شامل کرنے کیلئے نامزد کیا گیا جن میں پہلی خاتون وزیر خارجہ نجلہ المنگش(Najla el-Mangoush) بھی شامل ہیں۔ [x]

الجزائر:

الجزائر کے آئین میں صنفی مساوات کی ضمانت فراہم کرتے ہوئے خواتین کو ووٹ اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کا حق دیاگیا۔ پہلی قومی اسمبلی میں 10 خواتین شامل تھیں۔ اکتوبر 1988 میں ہونے والی بغاوت نے کثیر الجماعتی نظام کو متعارف کراتے ہوئے نیا آئین پیش کیا۔ اسکے تحت کئی انجمنیں تشکیل پائی جن میں نسائی انجمنیں بھی شامل تھیں۔ ان نسائی تنظیموں نے مردو خواتین کے مساوی حقوق اور خواتین کی نجات پر زور دیا۔ تمام جماعتوں میں خواتین کو متناسب نمائندگی دی گئی اور ورکرز پارٹی کی سربراہی ایک خاتون لویزہ حنون (Louisa Hanoune) نے کی۔ 2012 کی پارلیمنٹ میں خواتین نے 31 نشتیں حاصل کرتے ہوئے عرب دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 2014 میں سات خواتین کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔ آج تک عرب دنیا میں کوئی خاتون ملک کی سربراہ منتخب نہیں ہوسکی لیکن لویزہ حنون 2004 میں صدارت کا انتخاب لڑ چکی ہیں۔ [xi]

الجزائر بنیادی طورپر روایتی مذہبی معاشرہ ہے لیکن فرانسیسی استعمار کے دور میں پردے اور مذہبی تعلیم کی مخالفت کی جاتی تھی اور بہت سے مذہبی مدارس اور اسکولوں پر پابندی تھی۔ 2015 کے سروے کے مطابق اب خواتین کی شرح خواندگی 73 فیصد اور مردوں کی شرح87 فیصد ہے۔ پڑوسی ممالک کی نسبت الجزائر میں خواتین کو زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ انہیں جائیداد کی وراثت اور ملکیت کے حقوق، بچوں کی تحویل اورطلاق کے حقوق، تعلیم اور ملازمت کے حقوق حاصل ہیں۔ وکلاء میں خواتین کی نمائندگی 70 فیصد اورججز میں 60 فیصد ہے اور انہیں طب، صحت اور سائنس کے شعبوں میں بھی برتری حاصل ہے۔ یونیورسٹیوں میں خواتین کی شرکت 65 فیصد ہے جن میں سے 80 فیصد فارغ التحصیل ہونے کے بعد ملازمت کرتی ہیں۔ پولیس اور دیگر فورسز میں بھی انکی تعداد بڑھ رہی ہے۔ [xii]

مراکش:

مراکش کی آزادی کی تحریک میں ملکہ الفسی(Malika Al-Fassi) اور فاطمہ رودانیہ(Fatima Roudania) جیسی خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آزادی کے بعد مراکشی خواتین نے علم و ادب کے میدان میں بھی بھرپور شرکت کی۔ فاطمہ مرنیسی(Fatima Mernissi) صنفی علوم کے میدان میں اورلیلیٰ لالمی (Laila Lalmi) ادب کے میدان میں اہم شخصیت کے طوپر ابھریں۔ انکے علاوہ دیگر نمایاں خواتین میں لیلیٰ ابوزید(Leila Abouzeid)، لطیفہ باکا(Latifa Baka)، خنتا بونونا(Khanata Bennouna)، فریدہ دیوری(Farida Diouri)، اور بہا ترابیسی(Bahaa Trabelsi) شامل ہیں۔

1961 کے بعد خواتین کی کئی تنظیمیں تشکیل پائیں۔ شاہ حسن دوم کی بہن شہزادی لالہ ایچہ(Lalla Aicha) بھی خواتین کی ایک تنظیم کی صدر تھیں۔ مراکش کی متعدد خواتین حکومت، کابینہ، سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ ان میں عاصمہ چابی(Asma Chaabi) نوال الموتوکل(Nawal El Moutawakel)، باسیما ہاکائو(Bassima Hakkaoui)، نوزاہا سکلی(Nouzha Skalli)، اور مبار کابائڈا(Mbarka Bouaida) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اپوزیشن جماعتوںمیں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جن میں نادیہ یاسین(Nadia Yassine) اور خدیجہ ریادی(Khadija Ryadi) قابل ذکر ہیں۔ 2011 کے انتخابات کے بعد صرف ایک خاتون وزیر تھیں لیکن اسکے بعد کوٹہ سسٹم کے تحت پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کیلئے مختص کی گئیں اور 395 کے ایوان میں خواتین کو 88 نشستیں ملیں۔ [xiii]

2010 میں عرب اسپرنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب فروٹ بیچنے والی ایک خاتون فوڈولاروئی(Fadoua Laroui) نے میونسپل آفس کے سامنے خود کو آگ لگا کر احتجاج کیا۔ اسی طرح ایک نوجوان لڑکی آمنہ فلالی (جسے عصمت دری کے بعد شادی پر مجبور کیا گیا تھا)کی احتجاجی خودکشی کے بعدخواتین تنظیموں کی طرف سے دبائو ڈالا گیا اور اسکے نتیجے میں تعزیراتی ضابطے میں تبدیلیاں کی گئیں۔  عالمی بینک کے نولبرل حقوق نسواں پالیسی کے زیر اثر اصلاحات کے کئی دیگر اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم مراکش میں اسقاط حمل غیر قانونی ہے اور اسکی اجازت صرف ماں کی جسمانی صحت کو خطرات لاحق ہونے یا عصمت دری کے معاملات میں اجازت ہے۔ کچھ تنظیموں کے دعوے کا مطابق مراکش میں روزانہ 800 غیر قانونی اسقاط حمل کئے جاتے ہیں۔ 2018 میں جنسی ہراسمنٹ کا قانون نافذ کیا گیا اور اب مراکش کے بڑے شہروں مثلا رباط اور کاسا بلانکا وغیرہ کے ہوٹلو ں اور کیفے ٹیریا میں مخلوط اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔ [xiv]

لبنان:

لبنان میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی سب سے بڑی این جی او کافا(Kafa) ہے۔ اس تنظیم نے 2009 میں میریٹل ریپ(Marital Rape) کا مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کروایا لیکن مذہبی شخصیات کے اعتراضات اور مزاحمت کی وجہ سے اس مسودہ قانون میں ترامیم کر دی گئیں۔ 2016 میں اس تنظیم کی ایماء پر لبنان کے اس قانون کے خلاف احتجاج کئے گئے جس کی رو سے عصمت دری کرنے والا مرد اگر وکٹم سے شادی کرلے تو اسے سزا نہیں ہوتی۔ 2020 میں جنسی ہراسمنٹ کا قانون منظورکیا گیا جس کے تحت جرم کرنے والے کو چار سال قید کی سزا مل سکتی ہے۔ [xv]

فرانسیسی طرز کا لبنانی آئین تمام شہریوں کو بلا امتیاز اور ترجیح حقوق اور ذمہ داریوں میں مساوات، صنفی حقوق اور انفرادی آزادی فراہم کرنے کا ضامن ہے۔ لبنان کے کثیر المذاہب شہریوں کیلئے  پرسنل لا ء کے15 مختلف ضابطےموجود ہیں اورتمام فرقوں کو اپنی روایات پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔ مجموعی طورپر ملک میں اسلامی شریعت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ مسلم خواتین کو لبنانی قانون کے مطابق عیسائی اور یہودی مردوں سے شادی کی اجازت ہے۔ لبنان میں خواتین کو تعلیم، روزگار، جائیداد کی ملکیت کے حقوق حاصل ہیں۔ 36 سال سے زائد عمر کی خواتین زیادہ تر گھریلو کام جبکہ نوجوان خواتین خدمات کے شعبوں میں ملازمت کرتی ہیں۔ [xvi]

اردن:

اردن کے آئین میں تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب، زبان، نسل مساوی حقوق حاصل ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ 2003 میں پارلیمنٹ میں ایک ترمیم کے ذریعے خواتین کیلئے 15مخصوص نشتیں رکھی گئیں۔ 2013 کے انتخابات میں خواتین نے 19 نشستیں حاصل کیں اور 2020 کے انتخابات میں صرف مخصوص نشستیں حاصل کر پائیں۔ اردن کی ملکہ رانیہ خواتین کے حقوق کی تائید میں اپنی حیثیت اور طاقت کا خاص طورپر استعمال کرتی ہیں۔ [xvii]

اردن میں خواتین کی خواندگی کی شرح 97 فیصد ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اردن کے آئین اور ثقافت کے مطابق مرد کنبے کی کفالت کے ذمہ دارہیں اس لئے وہ طے کرتے ہیں کہ عورت کو گھر سے باہر کام کاج کرنا ہے یا نہیں تاہم عورت کو ذاتی ملکیت رکھنے اور وراثت میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ اردن میں طلاق کی صورت میں مرد تین سال تک عورت کو نان و نفقہ ادا کرنے کا پابند ہے۔ [xviii]

سوڈان:

شمالی سوڈان میں 97 فیصد لوگ مسلمان ہیں اور مذہب ثقافت کا اہم جزو ہے۔ کام کرنے والی خواتین میں سے 90 فیصد زراعت یا روایتی مزدوری سے وابستہ ہیں جبکہ 10 فیصد جدید سکیٹر میں کام کرتی ہیں۔ سوڈان میں روایتی معاشرت کے باوجود 2012 کی قومی پارلیمنٹ  24 فیصد خواتین نشستوں پر مشتمل تھی تاہم اس میں ملک کی تمام خواتین کی نمائندگی شامل نہیں تھی۔ 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد جنوبی سوڈان کی حکومت میں 29 وزارتی عہدوں میں سے 5 پر خواتین تعینات تھیں اور 28 نائب وزراء میں سے 10 خواتین تھیں۔ جنوبی سوڈان کے آئین میں صنفی مساوات کی ضمانت دی گئی ہے لیکن عملی طورپر معاشرہ روایتی طرز پر ہی آگے بڑھ رہا ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی 16 فیصد ہے جبکہ مردوں کی 40 فیصد۔ اسکولوں میں خواتین اساتذہ کی تعداد 10 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جولائی 2020 میں خواتین کو اکیلے سفر کرنے کیلئے شوہر یا مرد رشتہ دار سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ سوڈان میں جبری شادی اور ازدواجی زیادتی (Marital rape)غیر قانونی ہے۔ [i]

صومالیہ:

1960 میں آزادی کے بعد صومالیہ کے مرد و خوتین کو ووٹ ڈالنے کا حق ایک ساتھ دیا گیا۔ تعلیم، سیاست، فوج اور دیگر شعبہ جات میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہوا۔ 1975 کے خاندانی قانون میں مرد و عورت کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ 1977 میں صومالی ویمن ڈیموکریٹک آرگنائزیشن کا قیام عمل میں آیا۔ 2012 میں وفاقی آئین کے آرٹیکل 15 میں خواتین کی ختنہ کو ممنوع قرار دیا گیا۔ صومالیہ کی قابل ذکر خواتین میں فوزیہ یوسف (Fawzia Yousuf H. Adam))  ہیں جو ممبر پارلیمنٹ، وزیر خارجہ اورسابق نائب وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ وہ فی الحال نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی چیرپرسن اور صومالیہ کے ایک سیاسی اتحاد کی چیرمین ہیں۔ انکے علاوہ پہلی خاتون صدارتی امیدوار فدومو دایب(Fadumo Dayib)، مسلم وومن نیٹ ورک کی ہنان ابراہیم(Hanan Ibrahim)، سابقہ منسٹر سماجی ترقی مریم قاسم اورسابقہ وزیر خارجہ ایڈنا عدن اسمائیل(Edna Adan Ismail)  مشہور خواتین  ہیں۔ [ii]

شام:

شام میں سیکولر اور شرعی دونوں کے طرح کے قوانین اور عدالتیں موجود ہیں۔ خواتین کی خواندگی کی شرح 74 فیصد اور مردوں کی 91 فیصد ہے اور یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم ہے۔ خواتین کو فوج میں بطور رضاکار شامل ہونے کی اجازت ہے۔ 2003 سے 2008 کے دوران بثینہ شعبان(Bouthaina Shaaban) صدر اسد کی میڈیا ایڈوائزر رہیں۔ 2006 سے شامی صدر کے ساتھ دو نائب صدور بھی ہیں جن میں سے ایک خاتون نائب صدر نجاح العطار(Najah al-Attar) ہیں۔ 2012 تک قومی پارلیمنٹ میں 12 فیصد نشتیں خواتین کو حاصل تھیں۔ 2016 میں ھادیہ خلف عباس(Hadiya Khalaf Abbas) شامی پارلیمنٹ کی اسپیکر رہ چکی ہیں۔ آسیہ عبداللہ، یونین ڈیموکریٹک پارٹی کی کو چئیرپرسن اوررندہ قسیس(Randa Kassis) شامی حزب اختلاف کے آستانہ پلٹ فارم کی صدر ہیں۔ [iii]

عراق:

عراق میں خواتین کی آزادی، مکمل معاشرتی مساوات اور سیکولرازم کے فروغ کیلئے ایک غیر سرکاری تنظیم (OWFI) کام کرتی ہے جو خواتین کے حقوق کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔ اسکے صدر ینار محمد(Yanar Mohammed) ہیں۔ اس تحریک کی سرگرمیوں میں شرعی قوانین کے خلاف جنگ، پردے کا خاتمہ، حکومت اور تعلیم سے مذہب کا اخراج، تمام شعبہ جات میں خواتین اور مردوں کی یکساں نمائندگی اورغیر ت کے نام پر قتل کے خلاف جدوجہد شامل ہے۔ اسے امریکہ کا تعاون حاصل ہے اور اسکے ممبران برطانیہ، کنیڈا، سویڈن، سوئٹزر لینڈ، نیدرلینڈ، ناروے، فن لینڈ اور ڈنمارک میں بھی موجود ہیں۔ اسکے علاوہ 8مارچ 2011 کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عراقی خواتین کے 17 گروپوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا۔ [iv]

1970 کے عراقی آئین میں خواتین کو مساوی حقوق دئے گئے جن میں ووٹ کا حق، انتخابات میں حصہ لینے، تعلیم کے حصول اور جائیداد کے حقوق شامل تھے۔ 2007 میں عراق میں خواتین کی شرح خواندگی 80فیصد اور مردوں کی 85 فیصد تھی۔ عراق کی 98 فیصد آبادی مسلم ہے اوراس کے 2005 کے آئین میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی کا ماخذ اسلام ہوگا اور اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ سیکولر گروہ اس عمل سے سخت نالاں ہیں اور انکا کہنا ہے کہ انہوں نے صدام حسین سے اس لئے نجات حاصل نہیں کی تھی کہ اسکے بعد ان پر شرعی قوانین کا نفاذ کر دیا جائے۔ [v]

قطر:

تیل کی دریافت سے پہلے قطری معاشرہ بالکل روایتی اورمذہبی تھا۔ مرد و زن کا اختلاط نہ ہونے کے برابر تھا۔ خواتین گھر سے باہر نکلتے وقت عبایا پہنتیں اورچہرہ ڈھانپتیں۔ لیکن ساٹھ کے عشرے میں تیل کی دریافت کے بعد قطری معاشرے میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے اورہر شعبہ زندگی مثلاً انجنیئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعمیراتی صنعت وغیرہ میں بھی خواتین کی بڑی تعداد شامل ہو رہی ہےقطری خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح عالمی اوسط سے بھی زیادہ ہے اور عرب دنیا میں بھی یہ سب سے بلند ہے۔ لیکن ہوٹل، اشتہارات، ماڈلنگ اور اداکاری کے شعبوں میں آج بھی خواتین کی شرکت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ [vi]

1998 میں پہلی بار قطر ایتھلیٹکس فیڈریشن کے ذریعہ خواتین کے مقابلے منعقد ہوئے۔ 2000 میں قطر ویمن اسپورٹس کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 2012 میں پہلی بار قطری خواتین نے لندن میں ہونے والے اولمپکس میں شرکت کی[vii]۔ 1999 میں خواتین اور مردوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا اور انہوں نے یہ حق میونسپل الیکشن میں استعمال کیا۔ شیخہ یوسف حسن الجفائری پہلی بار میونسپلٹی کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ 2003 میں شیخہ احمد المحمود پہلی بار وزیر (تعلیم) نامزد ہوئیں، 2007 میں غالیہ بنت محمد بن حماد وزیر (صحت) بنیں، حصہ الجابر تیسری خاتون تھیں جو 2012 میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بنیں اور چوتھی خاتون حنان محمد الکواری 2016 میں وزیر صحت بنائی گئیں۔ 2017 میں امیر تمیم بن حماد التھانی نے 45 خواتین کو کونسل میں شامل کیا۔ [viii]

بحرین:

تیل کی دریافت سے قبل ساٹھ کے عشرے تک بحرین کا معاشرہ بھی روایتی اور مذہبی تھا۔ خواتین ملازمت کے بجائے زیادہ تر اپنے شوہروں پر انحصار کرتیں، کام

میں انکی مدد کرتیں یا بچوں کی دیکھ بھال کرتیں۔ اب ایک چوتھا ئی سے زائد خواتین تعلیم، طب، نرسنگ، فنانس، بینکنگ، دفاتر، مینوفیکچرنگ کےشعبہ جات میں ملازمت کرتی ہیں۔ بحرین میں یوم خواتین ہر سال یکم دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ 2005 میں بین الاقوامی طرز کی رائل یونیورسٹی برائے خواتین قائم کی گئی۔ [ix]

2002 میں بحرین کے آئین میں ترمیم کرکے خواتین کو ووٹ ڈالنے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا گیا اور اس سے دو سال قبل چار خواتین کو مشاورتی کونسل میں تعینات کیا گیا۔ 2002 کے انتخابات میں 300 خواتین امیدوار وں نے حصہ لیا اورچھ خواتین کو شوری کونسل میں شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر ندا ہفادہ(Nada Haffadh) پہلی خاتون تھی جنہیں2004 میں بطور وزیر صحت تعینات کیا گیا۔ 2006 کے انتخابات میں لطیفہ القعود (Lateefa Al Gaood)پہلی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں اور 2011 کے ضمنی انتخابات میں یہ تعداد چار ہوگئی۔ 2006 میں بحرین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سربراہی کیلئے منتخب کیا گیا اور اس نے ایک خاتون وکیل حیا بنت راشد الخلیفہ(Haya Rashed Al-Khalifa) کو جنرل اسمبلی کا صدر مقرر کیا اس طرح وہ عالمی ادارہ کی سربراہی کرنے والی دنیا کی تیسری خاتون تھیں۔ 2008 میں ایک یہودی خاتون ہوڈا نونو(Houda Nonoo) کو امریکہ میں بحرین کا سفیر مقرر کیا گیا۔ 2011 میں ایک عیسائی خاتون ایلس سمان(Alees Samaan) کو برطانیہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔ [x]

عمان:

عمان کے سلطان قابوس نے 1996 میں ایک تحریری آئین تشیل دیا جس میں عمانی عوام کوبنیادی شہری آزادیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی طورپر مساوات اور تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ 2000 کے انتخابات میں دو خواتین شوریٰ کا حصہ بنیں۔ 2008 کے ایک شاہی فرمان کے مطابق خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مردوں کی طرح زمین کی مالک بن سکیں۔ اب خواتین کیلئے ملازمت کے مواقع میں اضافہ کے ساتھ انہیں ہر میدان میں انصاف، مساوات اور آزادی دی جا رہی ہے۔ عمان میں 1970 میں خواتین کی شرح خواندگی صفر فیصد تھی جو 2007 میں بڑھ کر 49 فیصد ہوگئی۔ سلطان قابوس یونیورسٹی کے کالج آف انجنئرنگ اب خواتین کے داخلوں کیلئے بھی کھلی ہے۔ عمانی خواتین اب کل ورک فورس کا 30 فیصد ہیں جن میں تعلیم، سیاحت، سماجی تری کے شعبوں میں عام ملازمتوں سے لیکر وزارتی عہدوں، کابینہ ممبران اور سفیر خواتین بھی شامل ہیں۔ [xi]

یمن:

یمنی معاشرہ روایتی اور قبائلی طرز کا ہے اس لئے وہاں عورتوں کی شرکت گھریلوں معاملات میں زیادہ اور سماجی و سیاسی معاملات میں کم ہوتی ہے۔ سیاسی معاملات میں خواتین کی شرکت میں اضافہ کرنے کیلئے 2008 میں پارلیمنٹ میں خواتین کیلئے 15 فیصد مخصوص نشستوں کا کوٹہ متعارف کرانے کی کوشش کی گئی لیکن مختلف حلقوں کی جانب سے اسکی سخت مخالفت ہوئی۔ 2011 میں کچھ خواتین تنظیموں کی طرف سے خواتین کی سیاسی نمائندگی کے مطالبات کیلئے مظاہرے کئے گئے۔ 2014 میں خواتین قومی مکالمہ کانفرنس کے بعد خواتین کی سیاسی شرکت کیلئے 30 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا۔ سابقہ قومی پارلیمنٹ 2003 میں خواتین صرف 0.3 فیصد نشستیں حاصل کر سکیں۔ [xii]

آئین کے مطابق تعلیم تمام شہریوں کا حق ہے اور یاست مختلف قوانین کے ذریعے اسکی ضمانت دیتی ہے لیکن 2014 کے ایک سروے کے مطابق خواتین میں خواندگی کی شرح 49 فیصد جبکہ مردوں میں خواندگی کی شرح82 فیصد ہے۔ یمنی خواتین کو جائیداد اور ملکیت رکھنے کے حقوق حاصل ہیں لیکن کچھ قبائل میں خواتین اپنے یہ اختیارات استعمال نہیں کرتیں۔ 1995 کے لیبر قوانین کے مطابق کام کی جگہ پر امتیازی سلوک پر پابندی ہے اور یمنی خواتین پر کام کرنے کے حوالے سے کوئی قانونی پابندی نہیں [xiii]۔ توکل کرمان(Tawakul Karman) یمنی خواتین کے حقوق کی ایکٹوسٹ اور خواتین صحافیوں کی تنظیم (WJWC)کی بانی و چئیرمین ہیں۔ 2007 کے بعد انہوں نے یمنی خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی مظاہروں اور دھرنوں کی قیادت کی۔ 2011 میں انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ [xiv]

کویت:

کویت میں خواتین کے حقوق کی سرگرمیوں کا آغاز 1950 کی دہائی میں عرب خواتین کی نشاۃ الثانیہ جیسےگروپوں کے قیام سے ہوا۔ 1962 میں فیملی نشاۃ ثانیہ ایسوسی ایشن، 1963 میں خواتین ثقافتی و سماجی سوسائٹی، 1971میں عرب خواتین ڈیولپمنٹ سوسائٹی اور1975 میں گرلز کلب کا قیام عمل میں آیا۔ 1978 میں کویتی حکومت نے سرکاری طورپر اسلامائزیشن کی پالیسیوں اور قوانین کا اعلان کیا اور اس دور میں اسلامسٹ خواتین کی اسلامی سرگرمیوں میں شرکت بہت نمایاں تھی۔ 1981 میں بیداری اسلام کے نام سے خواتین کے ایک ثقافتی گروپ کا قیام عمل میں آیا اور کویتی امیر سعد السلیم الصباح کی اہلیہ نے بھی اسلامی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ [xv]

1990 کی خلیجی جنگ کے بعد خواتین کے حقوق کے حوالے سے مظاہرے ہوتے رہے اور امیر الصباح نے 1999 میں پارلیمنٹ کی تحلیل کے دوران خواتین کے حق رائے دہی کی منظوری دینے کی کوشش کی لیکن قائم ہونے والی پارلیمنٹ نے اسے مسترد کر دیا۔ اسکے بعد بھی مظاہروں کا سلسلہ چلتا رہا اور 2005 میں پارلیمنٹ نے خواتین کو ووٹ ڈالنے اورسیاسی منصب سنبھالنے کے ساتھ تمام سیاسی حقوق کی منظوری دی۔ 2006 کے الیکشن میں خواتین نے ووٹ ڈالا، 2009 میں چار خواتین ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئیں اور 2018 میں کویتی وزارت اوقاف اور اسلامی امور نے خواتین کو سنئیر عہدوں پر رہنے کی اجازت دی ۔ 2019 میں تین خواتین کو کابینہ میں شامل کیا گیا جن میں مریم عقیل السید خاتون وزیر خزانہ بھی شامل تھیں۔ دیگر مشہور کویتی خواتین میں مورخ، مصنفہ، نشریاتی ادارے کی ڈاریکٹر اور وومن رائٹس ایکٹوسٹ نوریہ السدانی (Noureya Al Saddani)، وومن کلچرل سوسائٹی کی بانی لولووا عبدالوہاب(Loulwa Abdulwahab)،وومن رائٹس ایکٹوسٹ خدیجہ المحمت (Khadija AlMahmit) اور پٹرولیم انجنئیر سارہ اکبر(Sara Akbar) شامل ہیں۔ [xvi]

کویت میں اسقاط حمل پر پابندی ہے لیکن ماں کی صحت کے حوالے سےمخصوص حالات میں اسکی اجازت ہے۔ شرعی قوانین کے مطابق عورتوں کو وراثت کا حق اور جائیداد کا حق حاصل ہے۔ 2013 کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق کویتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت 53 فیصد ہے جو مردوں سے زیادہ ہے۔ خواتین مردوں کی اجازت اور رضامندی کے بغیر بھی بینکنگ اور کاروباری نوعیت کے معاہدے کر سکتی ہیں۔ ہاں البتہ خواتین کو ورزش اور کھیلوں میں حصہ لیتے وقت مردوں کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ کویتی حکومت طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین کو خصوصی مالی اعانت فراہم کرتی ہے، خواتین کو زچگی کی چھٹیاں دی جاتی ہیں جن میں 70 یوم تک بمع تنخواہ اور مزید چار ماہ بلا معاوضہ چھٹیاں شامل ہیں اور اس دوران انہیں برطرف نہیں کیا جا سکتا۔ 2014 میں 22 خواتین کو بطور استغاثہ خدمات سرانجام دینے کیلئے مقرر کیا گیااور 2020 میں کویت کے اٹارنی جنرل نے آٹھ خواتین پراسیکیوٹرز کو جج بننے کی منظوری دی۔ [xvii]

جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔

اس سلسلہ کا پچھلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

:References

[i] “Arab Spring” (2020) History.Com Editors. Retrieved from https://www.history.com/topics/middle-east/arab-spring

[ii] Khan, Sabahat (2013) “The Dark side of ‘Revolution’- The Arab Spring and state fragmentation”. Retrieved from http://www.inegma.com/e-reportdetail.aspx?rid=11

[iii] Ghanim, Honaida (2017) “Between Trauma and Resistance: Feminist Engagement with the Arab Spring”. Retrieved from https://lb.boell.org/en/2017/01/18/between-trauma-and-resistance-feminist-engagement-arab-spring

[iv] Segran, Elizabeth (2013) “The Rise of the Islamic Feminists”. Retrievved from https://www.thenation.com/article/archive/rise-islamic-feminists

[v] Malka, Haim (2019) “Beyond Tunisia’s Niqab Ban” Retrieved from https://www.csis.org/analysis/beyond-tunisias-niqab-ban

[vi] “Report National Genre Tunisia 2015” Retrieved from http://www.ins.tn/sites/default/files/publication/pdf/rapport%20national%20genre%20Site%20_0.pdf

[vii] “As Lebanon, Jordan, Tunisia End ‘Marry-Your-Rapist’ Laws, Where Next?” Retrieved from https://deeply.thenewhumanitarian.org/womenandgirls/community/2017/08/22/daughters-of-destiny-wasnt-supposed-to-be-about-girls-director-2

[viii] “Society of the Revolutionary Era” Retrieved from http://countrystudies.us/libya/49.htm

[ix] Brike, Sarah (2011) “At a glance: women’s rights in Libya” Retrieved from https://www.thenationalnews.com/world/africa/at-a-glance-women-s-rights-in-libya-1.433928

[x] “Libyan women want progress after appointment of first female foreign minister” Retrieved from https://www.reuters.com/article/uk-libya-government-women/libyan-women-want-progress-after-appointment-of-first-female-foreign-minister-idUSKBN2B32KE

[xi] Haffaf, Melyssa (2019) “Algerian women have waited 57 years for equality. Now it’s time for action” Retrieved from https://www.washingtonpost.com/opinions/2019/04/04/algerian-women-have-waited-years-equality-now-its-time-action/

[xii] Noh, Yuree (2018) “Politics and education in post-war Algeria” Retrieved from https://www.belfercenter.org/index.php/publication/politics-and-education-post-war-algeria

[xiii] “Women Movements in Morocco” Retrieved from http://www.aui.ma/personal/~991BE736604/women_movements_in_morocco22.htm

[xiv] “Morocco bans forced marriage and sexual violence” BBC News sep. 12, 2018. Retrieved from https://www.bbc.com/news/world-africa-45496337

[xv] “The Status of Women in the Middle East and North Africa: Focus on Lebanon” Retrieved from http://swmena.net/library/uploads/pdf/Economic_and_Education_Status_Topic_Brief.pdf

[xvi] “Women’s Rights in the Middle East and North Africa – Lebanon” refworld. Retrieved from https://www.refworld.org/docid/47387b6c2f.html

[xvii] “Rania al-Abdullah: queen of Jordan” Britannica. Retrieved from https://www.britannica.com/biography/Rania-al-Abdullah

[xviii] “Women in Jordan – Limited Economic Participation and CContinued Inequality” The World Bank. Retrieved from https://www.worldbank.org/en/news/feature/2014/04/17/women-in-jordan—limited-economic-participation-and-continued-inequality

 

[i] Gideon Mabor, Beny (2013) “Women and Political Leadership in Africa: A demand in South Sudan transitional democracy” Retrieved from https://www.sudantribune.com/spip.php?article46320

[ii] “Human Rights Brief: Women in Somalia” UNHCR. Retrieved from https://www.refworld.org/docid/3ae6a83b8.html

[iii] “History of Syrian Women” Retrieved from http://onfaith.washingtonpost.com/postglobal/needtoknow/2006/12/a_history_of_syrian_women.html

[iv] “Founding Statement : Organization of Women’s Freedom in Iraq (OWFI)” Retrieved from http://www.wpiran.org/Organization%20of%20Women’s%20Freedom%20in%20Iraq%20(OWFI).htm

[v] “Women’s Rights in the Middle East and North Africa 2010 – Iraq” refworld June 25, 2021. Retrieved from https://www.refworld.org/docid/4b990123c.html

 

[vi] Anthony, John Duke (2021) “Qatar” Britannica. Retrieved from https://www.britannica.com/place/Qatar

[vii] “Guide to women’s rights in Qatar” Expatica. Retrieved from https://www.expatica.com/qa/living/gov-law-admin/womens-rights-in-qatar-70967/

[viii] “Qatar : Events of 2018” Human Rights Watch. Retrieved from https://www.hrw.org/world-report/2019/country-chapters/qatar#

[ix] “The legal Status of Women in Bahrain” Bahrain Centre for Human Rights. Retrieved from http://bahrainrights.org/sites/default/files/NEW%20BCHR%20Legal%20Status%20of%20Women%20in%20Bahrain.pdf?_ga=2.144494389.1486372711.1625035655-1322691196.1625035655س

[x] “Bahrain names Jewish ambassador” BBC news May 29, 2008. Retrieved from http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7426806.stm

[xi] “Oman – Leadership” Nations Encyclopedia. Retrieved from https://www.nationsencyclopedia.com/World-Leaders-2003/Oman-LEADERSHIP.html

[xii] Antelava, Natalia (2011) “Yemen protests: Women take center stage” Retrieved from https://www.bbc.com/news/world-middle-east-13140438

[xiii] “The world Fact book: Yemen” Retrieved from https://www.cia.gov/the-world-factbook/countries/yemen

[xiv] Sadiki, Larbi (2011) “A Nobel for the Arab Spring” Retrieved from https://www.aljazeera.com/opinions/2011/10/12/a-nobel-for-the-arab-spring/

[xv] Toumi, Habib (2016) “Kuwait leads Gulf states in women in workforce” Retrieved from https://gulfnews.com/world/gulf/kuwait/kuwait-leads-gulf-states-in-women-in-workforce-1.1705940

[xvi] “Kuwait forms new cabinet after dissolution over row” Arab Times December 18, 2019. Retrieved from https://www.arabtimesonline.com/news/kuwait-forms-new-cabinet-after-dissolution-over-row/

[xvii] “OECD Development Centre Report” Country: Kuwait 2019. Retrieved from https://www.genderindex.org/wp-content/uploads/files/datasheets/2019/KW.pdf

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply