اردو، اطلاعیات اور سائبر دنیا: ایک جائزہ  ——- نوشین قمر

0

حافظ صاحب سے میرا تعارف اسباب بغاوت ہند کی وجہ سے ہوا، اس سے پہلے میں نے نہ ہی انہیں باقاعدہ طور پر پڑھا اور نہ ہی ان کی ادب سے متعلق خدمات کی کوئی نوہو رکھتی ہوں، اس میں میری نالائقی اور کم علمی کا دخل شامل ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ اسباب بغاوت ہند کونصابی ضروریات سے ہٹ کر پڑھوں لیکن اس کو پڑھنے سے پہلے بھی بہت کچھ پڑھنا باقی تھا، پھر یوں ہوا کہ ان کی یہ دوسری کتاب میرے دروازے سے سائیڈ ٹیبل تک آن پہنچی اورکئی دن ہماری آنکھ مچولی چلتی رہی۔ بڑی مشکل سے اس کی پکڑائی حاصل ہوئی، وہ دن اور آج کا دن اس کتابی جنگل کی بھول بھلیوں سے راستہ تلاشتے اک ایسی سڑک پر آن کھڑی ہوں جس کے اردگرد کی چھولداریاں ایک خوشگوار احساس پیدا کر رہی ہیں، میری کوشش ہے کہ اردو دنیا کو اس جنگل کی سیر اس طور کروائی جائے کہ وہ اس کے مغز کو سمجھ سکیں کیوں کہ یہ کتاب سوائے چند مضامین کے تکنیکی اعتبار سےاتنی جلدی ہضم ہونے والی نہیں ہے۔

اکیس چھوٹے بڑے مضامین پر مشتمل یہ کتاب آج کے اس دور جدید کی نئی تکنیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اردستانی دنیا کو یہ باور کرواناچاہتی ہے کہ سائبر دور میں اگر زبانی اعتبار سے اردو کی زندگی چاہتے ہیں تو اسے کن نئی تبدیلیوں سے گزارنے کی ضرورت ہے، نئی نسل کو اپنی زبان سے جوڑ کر رکھنے کے لیے انہی کے دور کی ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کرنا ہے، ”اردو اور دنیا کی بڑی زبانوں کی شماریات ” اس مضمون کی مسلمات سے شروع ہونے والی کہانی چند آفاقی دلائل پر مشتمل اپنا سفر شروع کرتی ہے، حرف ، لفظ ، جملوں اور پھر امثال و اقوال کی بنت کے مراحل ، ان کا اطلاق، زبان کی دنیا کی جانب لے جاتا ہے، یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے، میں اس معاملے میں خود کو انتہائی نالائق سمجھتی ہوں۔ گرامر کا لفظ سنتے ہی میرے منہ کا ذائقہ خراب ہونے لگتا ہے یہ ایسی پیچیدہ شے ہے کہ اس میں وہی ہاتھ ڈال سکتا ہے جو پیدائش کے بعد اپنی زبان کے ان ٹیسٹ بڈز سے محبت کرتا ہو جو ہر ذائقےسے اپنی کل سمیت لطف اندوز ہوتے ہیں، اس شے کا ادراک رکھتے ہیں کہ کس ذائقے کو ملائیں گے تو کون سے نئے لہجے سے متعارف ہوں گے، کڑواہٹ کے بغیر کسی لفظ کو نگلیں گے تو اس کا صحت زبان پر کیا اثر ہو گا، اب جب کہ دنیا زبان کی ان چکھنے والی حسوں سے بھی بہت آگے کا سفر کر چکی ہے تو ساتھ ہی یہ طے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ جسے میٹھا سمجھ کر کھا آئے تھے وہ تو محض چند لمحوں کی لذت تھی، اب دھڑکا یہ لگا ہے کہ اگر وقت کے ساتھ چلنے والے ان نئے مشینی ذائقوں کو یا ان کی حسوں کو شاملِ زباں نہ کیا گیا تو حالت کرونا کے اس مریض کے جیسے ہو جائے گی جو سونگھنے ، چکھنے کی تمام صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے اور بس اتنا جانتا ہے کہ ہاں منہ میں زبان نامی ایک شے ضرور موجود ہے مگر ہر ذائقے سے بےنیاز،

اس مضمون میں پیش کیے جانے والےجدول میرے لیے ریاضی کے ان ہندسوں کی طرح ہیں جہاںمیں ہمیشہ ایک جمع ایک کا جواب چار ہی نکالتی ہوں اور نتیجے میں فیل سو ان کو چھیڑنا شجر ممنوعہ، لیکن ان شماریات کے ساتھ ساتھ جو اردو کے چلن پر اور مقامی بولیوں کے حوالے سے بات کی گئی ہے ان کی تعداد کا متعین ہونا میری نظر میں ممکن ہی نہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اردو کو سرکاری سطح پر جو بھی درجہ حاصل ہے بہر حال بولی ، لکھی اور سنی جا رہی ہے، علاقائی زبانیں ایک سطح پر اپنا آپ برقرار رکھے ہوئے ہیں، اس کا سہرا میری نظر میں ان مقامی افراد کو جاتا ہے جو ورثے میں ملنے والی اس بولی کو کسی جائیداد سے کم نہیں گردانتے، مجھے یاد پڑتا ہے سوشل ورک کے طالب علم کی حیثیت سےخانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں میں ایک سروے کی غرض سے جانا پڑا، ان لوگوں سےہمارے رابطے کا ذریعہ ایسے بچے تھے جنہیں پشتو ، بلوچی، سندھی آتی تھی ، چوں کہ سرائیکی ، پنجابی سے میری کچھ نوہو تھی تو کام چلایا جا سکتا تھا، میں نے سوال کرتے کرتے ایک بڑک مار دی کہ آپ کو نہیں لگتاکہ آپ کے بچوں کو قومی زبان آنی چاہیے ( میرا مقصد انہیں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے راضی کرنا تھا )۔ ان کا جواب ویسے تو ان کے لہجے سے ہی عیاں تھا، مفہوم لکھے دیتی ہوں ” قومی زبان وبان تم اپنے بچوں کو سکھاؤ ، ہمارا زبان سیکھو، یہ تمہارا مسلہ ہے کہ ہم سے بات نہیں کر سکتا ہے، ” قومی زبان والوں کو اس چیز پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے،

دوسرا مضمون” اردو کارپس :تکنیکی تعارف ، اہمیت ضرورت اور لائحہ عمل ” اردو کارپس کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے، جس میں اس کی تعریف ، مقاصد ، استعمال، انگریزی اردو کارپس کا فرق اور اس کی تیاری و ماخذات کے حوالے سے بڑے واضح انداز میں تجاویز پیش کی گئی ہیں، کن الفاظ کو اردو کارپس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے ، کن متون کو مواد کی جمع آواری کے لیے مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔ کارپس وہ متن ہے جسے الیکڑانک صورت میں پڑھا جا سکے گا، اس سے اردو پر بطور فطری زبان کے تحقیق ہو سکے گی، وقت کی ضرورت کے اعتبار سے یہ ایک اہم کام ہو سکتا ہےاور بقول مصنف کہ اردو کارپس دنیا بھر کے لسانیاتی محققین کا ایک مشترکہ خواب ہے، ایک جملہ جو مجھے خوف زدہ کر گیا ہے وہ یہ ہے کہ ” کارپس کو اردوئیت کا خون ہونے کا غم نہیں ہوتا، ” زبانی اعتبار سے پھر تو لفظوں کی موت کا خدشہ لاحق ہوجانا چاہیے، اس چیز کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ ابتدائی لغات ، فرہنگیں ، املائی کتب وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے الفاظ کھو چکی ہیں، کچھ متروک ہوگئے ، کچھ میں لفظی تبدیلیاں کر لی گئیں ، دیگر زبانوں کے الفاظ ان میں کھپ گئے۔ وہ الفاظ ، تراکیب ، امثال ، محاورے ، اشکالی الفاظ باقی رہ گئے جو متواتر زیراستعمال رہے یا زبان زد عام کا درجہ اختیار کر گئے، اردوئی دنیا کے پاس اب وہ لوگ بھی نہیں رہے جنہوں نے اس کی کھوج سے لے کر اب تک کی گرتی پڑتی کہانیاں سنائیں، مشینی دور میں کتابوں کی صورت میں ہمارے پاس کچھ سرمایہ محفوظ ہے، کچھ اشرافیہ کے بکسوں میں کیڑوں کی پیٹ پوجا کا سامان کرنے کو محفوظ پڑی ہیں یا لائبریریوں میں تالے لگے کمروں میں الماریوں کی گرد تلے سو رہی ہیں جن پر شجر ممنوعہ کا ٹیگ لگا ہے، انگلیوں پر گنے جانے والے زبان کے محافظ کتنا عرصہ ساتھ رہ سکتے ہیں یا ساتھ دے سکتے ہیں وللہ اعلم، سمجھداری یہی ہے کہ انہی کے ہوتے زبان کو مستقبل کی زندگی بخشی جا سکے، یہ مضمون ایک بہترین تعارفیہ ہے کہ اردو کارپس آخر ہے کیا ، اسے کیوں سامنے لانا چاہیے ، اس پر کس حوالے سے کام کرنا اہمیت کا حامل ہو گا۔ ابتدائی سطح پر جو جدول بطور مثال پیش کیا گیا ہے ، جن لغات کا ذکر کیا گیا ہے ، املا کے حوالے سے جو کام ہوئے ہیں، مختصر یہ کہ اردو زبان کے حوالے سے جن بھی کاموں کا حوالہ یا ذکر کیا گیا ہے راقمہ اس متعلق اتنا زیادہ علم تو نہیں رکھتی لیکن اردو کارپس کے جس طریقہ کار کا ذکر اور جو نمونہ پیش کیا گیا ہےاس میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ پہلی سے کی جانے والی تحقیقات کو یکجا کر کے پڑھے اس میں سے کچھ کو چنے اور پھر جا کر اسے کارپس کا حصہ بنائے، ہمارا مسلہ تو یہ ہے کہ ہم اردو والے زبان کے حوالے سے کسی ایک نظریے پر آج تک اتفاق نہیں کر پائے ہیں یہی وجہ ہے زبانی اعتبار سے ہونے والی پیچیدگیوں کو حل نہیں کیا جا سکا ہے، میری نظر میں اس طرح آگے بڑھنے سے پہلے موجودہ مسائل کو حل کیا جائے تو بہتر ہے کیوں کہ آج تک ہم ہمزہ اور چھوٹی بڑی ”ی، ے” کی بحث سے ہی نہیں نکل سکے ہیں، بہر حال اردو کو سائبر دنیا کا حصہ بنانے کے دوران اس چیز کا علم و خیال ضرور ہونا چاہیے کہ وہ الفاظ جنہیں شامل کارپس کیا جا رہا ہے کتنی زندگی لیے ہوئے ہیں، جس طرح کہیں سعد مسعود سلمان اور کہیں امیر خسرو کے ہاتھوں پلتی یہ اردو نامی اولاد اپنی جھولی میں فارسی ، عربی ، سنسکرت اور انگریزی وغیرہ کے الفاظ اٹھائے مزید دامن وسیع کرے گی یا انہیں جھولی سے گرا ڈالنے میں ہمارے نئے اذہان کوئی نیا کردار ادا کریں گے،

” اردو کارپس کی بنیاد پر تیار کردہ پہلا اردو انگریزی لغت ” اس مضمون میں اردو کے رسم الخط ، مشین ریڈایبل فانٹس جو سائبر دور کی ضروریات کو پورا کریں پر بات کی گئی ہے ساتھ ہی مختلف لغات کا بھی ذکر شامل ہے، کون سے لغات کس دور میں کس حوالے سے جانے جاتے تھے ، کن میں کیا تبدیلیاں ہوئیں ، کون سے وقت کی گرد تلے سو رہے ہیں اور کن کو دوبارہ اشاعت نصیب نہیں ہوئی، اس جملے پر ہم سب جانتے بوجھتے ہوئے ایمان لائے ہوئے ہیں کہ ” نفاذ اردو کی مہما گانے والے ہم لوگ محض باتونی واقع ہوئے ہیں یا کامی۔ ” اس پر بزرگ تلملا اٹھتے ہیں ، کچھ اتفاق ایسے کرتے ہیں جیسے انکار ہی شامل ہو، بہر حال یہ توجہ طلب بات ہے، اس مضمون کی سب سے اچھی چیز اردو انگریزی لغت کا تعارفیہ ہے جسے کسی حد تک کارپس کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، اس میں زیادہ تر ان الفاظ کو شامل کیا گیا ہے جو اردو میں زیادہ استعمالے گئے ہیں، بقول مصنف ” ان الفاظ کی فہرست تقریباََ ڈیڑھ کروڑ الفاظ پر مشتمل اردو کارپس ڈیٹا کی چھٹائی سے بنائی گئی ہے، ” اس فہرست کو مرتب کرنے میں جن ماخذات کا ذکر کیا گیا ہے حیرت انگیز طور پر ناقابل یقین معلوم ہوتے ہیں، اس کی اچھی بات یہ ہے کہ اسے وسطی و ثانوی جماعت کے طلبہ کی سکول و کالج کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے، ساتھ ہی اس کے مندرجات کی ترتیب و تشریح بھی بڑی وضاحت سے کی گئی ہے،

 ” مشینی ترجمے کی سہولیات: اردو کے تناظر میں ایک مطالعہ ” مشینی ترجمہ کیا ہے ، کمپیوٹر کی آمد سے پہلے و مابعد کی صورت حال ، مشینی ترجمے کے ادوار ، کمپیوٹر کی معاونت سے کیے گئے تراجم و مشکلات ، قواعدی ترجمہ کا دائرہ کار و اقسام، مثالی ترجمے کے مسائل، شماریاتی ترجمے کی اقسام ، یونی کوڈ کی اہمیت ، سافٹ ویئرز وغیرہ کے عنوانات کے تحت اردو میں ترجمے کی مختلف نوعیتوں کو باریکی سے دیکھا اور سمجھایا گیا ہے مزید برآں اردو اور پاکستانی زبانوں میں ترجمہ کرنے والے سافٹ ویئرزکا بھی تعارفیہ اور لنکس بتائے گئے ہیں، مشینی ترجمہ میری نظر میں اردو کے لیےکھوتا کام ہے، اگرچہ ٹوٹے پھوٹے جملے ہمارے سامنے آجاتے ہیں لیکن انسانی ذہن کو پھر بھی اس میں اپنا کردار ادا ہوتا ہے، اس مسلے کے حل کے لیے بات وہیں پر آ ٹھہری کہ ایک کارپس ہی اس مشینی ترجمے کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جتنے مسائل اور مشینی و مثالی ترجمے کی اقسام کا ذکر اردو کے حوالے سے کیا گیا ہے، اس میں چاچے گوگل اور دیگر چند ویب سائیٹس نے کچھ حد تک اس متعلق ترجمے کو توڑ پھوڑ کر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے انسانی ہاتھ بخوبی استفادہ کر رہے ہیں اور پیسے بٹور رہے ہیں،

” اردو کے نئے اہم اور بنیادی الفاظ ” مصنف کی ایک کتاب کا تعارفیہ ہے جسے مختلف حوالوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے، اس کی ابتدامیں الفاظ ، زبان اور بولیوں کے ثقافتی و سماجی پس منظر کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ تبدیلیوں کے اعتبار سے قابل توجہ ہے، دوسری جانب جہاں بنیادی الفاظ کو مخصوص اہل علم کی وقتی ضرورت سے جوڑا گیا ہے وہیں انہی اہم الفاظ کو سماج کے ہر طبقے کے لیے الگ الگ گردانا گیا ہے، سائبر جنگوں کے عہد میں جینے والے ہم اسی آج کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ایسے کام کر سکتے ہیں، چوں کہ اس کتاب کا صرف نام سنا ہے لہذا مزید کچھ کہنے سے باز آئی،

” اردو لغت تاریخی اصول پر: بدلتے لسانی تناظر میں چند تجاویز ”بائیس جلدوں پر مشتمل یہ لغت اردو والوں کے لیے کسی قیمتی سرمائے سے کم نہیں ہے، اس مضمون میں اس لغت کی پیدائش سے لے کر اس کی بڑھوتری میں اپنا کردار ادا کرنے والوں کا ایک مکمل پس منظر موجود ہے، مصنف کی جانب سے دی جانے والی تجاویز اور خطوط کے چند اقتباس بھی پیش کیے گئے ہیں، اختتامیے پر جو خوشامد کی بجائے خوش آمد کی گئی ہے تو میں یہ امید رکھ سکتی ہوں کہ کوئی پانچ ہزار خرچ کر میرے اردگرد کے ماحول کو اردوئیت میں رنگنے میں معاون ہو گا، ” مشین ریڈ ایبل اردو رسم الخط : حروف کی کشتیاں ، اعراب ، نقطے ، شوشے اور کششیں ” زبان ، بولی اور رسم الخط سے شروع ہونے والا یہ مضمون اردو کی تحریری صورت جس میں نقطوں ، شوشوں اعراب وغیرہ کی تاریخ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ہونے والی تبدیلیوں، مشکلات و مسائل کا باریک بینی سے ایک جائزہ پیش کرتا ہے، اردو کے قدیم و جدید رسم الخط کو جدید مشینی دور میں کس طرح استعمال کیا جارہا ہے ، یونیکوڈک نظام اس حوالے سے اپنا کیا کردار ادا کر رہا ہے، اس کی پیچیدگیوں کو بہت حد تک سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، اردو کے متن کو مشین ریڈ ایبل کرنے میں کتنی بڑی محنت درکار ہے، جسے اس وقت سمجھنے کی ضرورت ہے،

” اردو کے ہند فاربی رسم الخط میں انگریزی اردو لغات کی آن لائن فراہمی ” یہ مضمون اردوئی دنیا والوں کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ جہاں ہم کتابیں فون میں اٹھائے پھرتے ہیں وہیں وزنی لغات بھی اب اسی دنیا کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، ہم میں سے بہت سے اس کی کچھ نوہو رکھتے ہیں اور اس کے استعمال سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے مصنف نے بیان کیا ہے کہ ہم ” کچھ کھوئے بغیر کاغذ کے دور سے سائبر دور میں داخل ہوگئے ہیں، ” یہ وقت کی ضرورت کے لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے لیکن کچھ ماضی پرست مجھ جیسے کاغذوں کی مہک میں ہی عافیت محسوس کرنے والے ، کچی پینسل سے کتاب پر حاشیے لکھنے والے ، عینک لگا کر انسائیکلو پیڈیا کے صفحے پلٹنے والے ، قلم دوات تختی کے پجاری مشکل محسوس کرتے ہیں، ہماری آنے والی نسل قلم پکڑنا بھول جائے گی یہ کتنی خوفناک بات محسوس ہوتی ہے، ہر دور کی اپنی ضروریات اور روایات ہیں لیکن کچھ زندہ باقی رہیں تو بھلا لگتا ہے، اس مضمون میں اردو لغات کو آن لائن کرنے کے حوالے سے آسان اور پیچیدگیوں سے پاک تجاویز کو دلائل اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، یہ کام وہی شخص انجام دے سکتا ہے جو تکنیکی اور مشینی ذہن کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، ہم وہ لوگ ہیں جو بنے بنائے حلوے کی پلیٹ اٹھاتے بھی کوفت محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کتنی محنت چھپی ہوتی ہے وللہ اعلم، یہاں اردووالوں کو مختلف ویب سائیٹس کا مختصر تعارف اور حوالہ بھی دیا گیا ہے جہاں آن لائن لغت کے حوالے سے کام ہوئے ہیں، Annexکی شکل میں تصویری نمونے بھی مضمون کے اختتام پر دیکھے جا سکتے ہیں،

” سرائیکی لغات اور لغت نگاری ” ، ” سرائیکی کا ایک اہم لغت : شوکت اللغات ” پہلا مضمون ایک مختصر پس منظر لیے ہوئے مقامی بولیوں کے حوالےسے ہونے والے کاموں پر روشنی ڈالتا ہے، ان وجوہات کو بیان کرتا ہے جو فرنگیوں کی آمد کے بعد لسانی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں جن میں ہماری علاقائی بولیاں بھی شامل تھیں، اس کے باوجود ایسے کام ہوتے رہے ہیں جو اپنی اصل سے جڑے ہیں، بنا کسی تفریق کو لیے مقامی بولیوں کے حوالے سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس مضمون میں ان لغات کا ایک مختصر تعارف موجود ہے جو سرائیکی لغات سے متعلق ایک ہی جگہ پر معلومات فراہم کرتا ہے، یہاں شان الحق حقی صاحب کا ایک جملہ قابل غور ہے ” ہماری دعا ہے کہ خدا ہم کو ” زبان پرستی ” کے عذاب سے بچائے، یہ خدا کے بندوں کا شیوہ، یہ نہ انسان کی خدمت ہے نہ زبان کی۔ ” اسی زبان پرستی کے چکر میں ہماری مقامی بولیاں بہت کچھ جھیل چکی ہیں، ایسے مضامین جو ان کے کاموں کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہیں انہیں زندہ رکھنے کا ایک احسن طریقہ ہے، دوسرے مضمون میں سرائیکی کی ایک لغت پر تبصرہ کیا گیا ہے جو شوکت مغل صاحب کا ایک عمدہ کارنامہ ہے، ان دونوں مضامین میں سرائیکی زبان کے حوالے سے بہت سی باریکیاں موجود ہیں جنہیں پڑھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے،

” اردو تحقیقی جرائد کی انڈیکسیشن : تعارف ، ضرورت ، اہمیت اور لائحہ عمل ” یہ مضمون اشاریہ سازی کے حوالے سے اردوئی دنیا کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں رسائل کی اشاریہ سازی کے حوالے سے سائبر دور کی بنیادی ضرورت کو بڑی سہولت سے بیان کیا گیا ہے، اس کی تاریخ ، آغاز ، پیچیدگیاں ، اقسام و اجزائے ترکیبی ، مقالہ جات کی پروف خوانی ، اشاریہ سازی کے لیے تجاویز وغیرہ اپنے اندر مختصر لیکن جامع انداز میں ایک جہاں سمیٹے ہوئے ہے۔ میری نظر سے اردو رسائل کی آن لائن ویب سائٹ سے ایسے مقالے بھی گزرے ہیں جن میں ان کے ساتھ ایک پورٹل ٹائپ آپشن موجود ہے جس میں اسے دیکھنے والوں ، پڑھنے والوں ، ڈانلوڈ کرنے والوں ، کا فیصد کے حساب سے نمبر شمار سامنے آجاتا ہے، ایسا ہر رسالے یا مقالے کے ساتھ نہیں ہے، مصنف نےاس حوالے سے جو اشارہ کیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے کہ ایسی اشاریہ سازی کی کیا وقعت رہ جاتی ہے جسے کتابی صورت میں مختصر تعارف یا صفحہ نمبر دے کر پیش کر دیا جاتا ہے، یہ مضمون اس نوعیت کا ہے کہ اس کے اصل مقصد کو رسائل کی اشاریہ سازی کے حوالے سے سمجھ لیا جائے تو رسائل اور تحقیقی مقالات کی وسعت اور وقعت دونوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس سے عالمی سطح پر بھی اس متن کی اہمیت کو جانچنے میں مدد فراہم ہو گی، اس آن لائینی نظام کو اردوئیت جتنی جلدی قبول کر لے گی تحقیقی مقالات کے حوالےسے اتنا ہی تحقیقی میدان میں چھان پٹک کے معاملات سے نبرد آزما ہوا جا سکے گا،

” اداروں میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کی تدابیر ” یہ مضمون اردو والوں کو تکنیکی اعتبار سے شاید ہی سمجھ آسکے لیکن اس میں ہونے والی جتنی باتیں ہیں اس کو مختصراََ سمجھایا جائے تو مفہوم یہ نکلتا ہے کہ کس طرح اپنے کام کو ، اپنی سرچنگ کو ، اپنی تحقیق کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، بہت سے ایسے لوگ جو فیس بک کی دنیا میں موجود ہیں اور ہیکروں کے زیر اثر آکر بہت سا نقصان اٹھا چکے ہیں، سواس مضمون کو سرسری سا پڑھ لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں،

” اردو اطلاعیات : آج اور کل ”یہ مضمون مرکز فضیلت برائے اردو اطلاعیات مقتدرہ قومی زبان میں مصنف کی جانب سے اس کے افتتاحی سیشن پر پیش کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے اس پراجیکٹ کے مختلف شعبوں میں ہونے والے کاموں پر شرکا کو تکنیکی اعتبار سے ایک بریفنگ دی تھی، مرکز فضیلت برائے اردو اطلاعیات کو انفارمیشن ڈیسک سے تعبیر کیا گیا ہے، جہاں سے مصنفین و محققین کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں، اردو ڈیٹا بیس جسے اردو میں اردو کوائفیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور دوسرے شعبے یعنی کوائف سازی میں اردو کی اصلی حالت، ایک آئی، ٹی سے جڑا ہے اور دوسرا اردو سے، اسے تکنیکی اعتبار سے پڑھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے، اردو کو سائبر دنیا سے جوڑنے کے لیے اور اسے مشین ریڈ ایبل بنانے کے لیے یہ شعبے مختلف طریقوں سے اپنا کام کر رہے ہیں، اس میں شاعری کے حوالےسے ٹرم بیس بنانے ، مشینی ترجمہ کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھی تجاویز سامنے رکھی گئی ہیں، خوش آئند بات یہ ہے کہ مرکز تحقیقات اردو میں مشین کے لیے قابل فہم اردو کی مصنوعات کے لیے کثیر الجہت کاموں کا ذکر کیا گیا ہے، اس وقت کا انتظار ہے جب دی جانے والی تجاویز حتمی شکل اختیارکر کے اردودنیا کے سامنے کھڑی ہوں گی، کیوں کہ زبان تو ادب کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے لیکن زبان کے بغیر ادب زندہ نہیں سکتا، ( اردو اطلاعیات از عطش درانی کی مختلف جلدیں اس حوالے سے مقتدرہ قومی زبان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، ان سے مزید معلومات لی جا سکتی ہیں۔ )

” ریختہ اور سائبر اردو کا رسم الخط ” یہ مضمون اگرچہ دو ڈھائی صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس میں زبان کے جس خطرے کی نشان دہی کی گئی وہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے، مصنف نے ڈاکٹر خورشید رضوی کی ایک بات کا ذکر کیا ہے کہ اردو زبان کو کوئی مسلہ نہیں ، رسم الخط کو شدید خطرہ ہے جو بعد کے آنے والوں نے بھی بھانپا اور اس طرف توجہ دلائی جن میں شان الحق حقی اور مسعود حسین خان شامل تھے۔ اردو کے رومن رسم الخط کو نہ پڑھنے والوں کو ان پڑھ اور جاہل مانا جانے لگا ہے، بنیادی بات یہ ہے کہ زبان کے ایک سے زائد رسوم الخط ہونا ضروری ہیں، وہی زبان عوامی و عالمی سطح پر اپنا آپ برقرار رکھ سکے گی جس میں سمجھنے ، لکھنے اور بولنے کی صلاحیت ہو گی، ریختہ کی ویب گاہ نے اردو رسم الخط کا اضافہ کر کے عالمی سطح پر اردو والوں کے لیے ایک سہولت فراہم کی ہے، جس میں کاروباری و علمی دونوں فوائد شامل ہیں۔

” اردو ، ادب ، اردو ادب اور سائبریت” اس مضمون کا ایک جملہ موجودہ دور کی اردوئی دنیا کے لیے ایسا گھنٹا ہے جو اگر بج جائے تو ہم کافی دیر تک اپنا آپ نہ سنبھال پائیں، ” آج کل کی سائبر اردو کل کی کلاسیکل سائبر اردو کہلائے گی۔ ” ہماری آپ کی آخری پیڑھی جو اردو کی پیدائش سے لے کر اب تک اس کے مختلف ادوار ، بناؤ سنگھار ، لکھاوٹ و بلاوٹ و سناوٹ دیکھتی ، سنتی اور لکھتی آئی ہے، یک دم کی اس بڑی تبدیلی پر جو سائبر دور کی ضرورت ہے صفِ ماتم بچھائے گی یا آنے والی نسلوں کے لیے اپنے باپ دادا کی زبانی ، کلامی ، لکھاوی جائیدادوں کی قربانی دے گی ؟ کیسی بھیانک بات ہے، یہ وہ گھونٹ ہے جسے کڑواہٹ سمیت نگلنے میں ہی ہماری زبان کی بقا ہے۔

اگلا مضمون ” اردو زبان کے بیان میں ” کے عنوان سے ہے، حملہ آوروں کی جانب سے بولیوں یا زبانوں کا رگیدا جانا ہماری سماجی ، و لسانی سطح کی کمزوری تھی ؟ دربار کی زبان کو عوام کی زبان و بولی سے زمین و آسمان تک کے فرق کے ساتھ کا درجہ دیا جائے گا تو کمزور جگہوں پر وہی سل بٹا بولیوں اور زبانوں کی رگڑ میں کام آئے گا جو اشرافیہ نے ہمیں پسوانے کے لیے قائم کر رکھا ہے، انگریزی کو مقام محمود تک پہنچانے والے ہم ہیں اور ہمی ان میں بھی شامل ہو سکتے ہیں جو اسے مقام ضرورتی تک پہنچا ڈالیں، اس وقت کو ذرا سا یاد کر لیا جائے تو اس بےچینی اور تھر تھلی کو نہیں بھلایا جا سکتا ہے جب جسٹس جواد حسین خواجہ کی جانب سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا پروانہ جاری کیا گیا تھا۔

علوم جلائے جا سکتے ہیں، ان اذہان کو ختم کیا جا سکتا ہے جو انہیں کتابوں کی بجائے دلوں میں محفوظ کیے ہوں، کب تک کسی سے اگلوا کر انہیں محفوظ کیا جا سکتا ہے یا تحریر میں لایا جا سکتا ہے ؟، مسعود حسین خان کا ایک جملہ جو مضمون میں بھی شامل ہے دہرانا چاہوں کی کہ ” حروف تہجی ” مردہ لاشیں ” ہیں، یوں ہی نہیں کہا گیا تھا، آج ہم خود اس دور میں جی رہے ہیں اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے دیکھ بھی رہے ہیں، سوشلیائی دنیا نے اردو حروف تہجی کو کیسے کیسے نقصان پہنچاہا ہے خدا حق سمجھائے، ایک ہماری انگلیاں اس کی، بورڈ کی محتاج ہو چکی ہیں جو ہم سے قلم کی پکڑاہٹ بھلوا چکی ہے۔ ہماری لکھاوٹ اور رسم الخط پھر کاہے زندہ رہ پائے گا، رومن اردو اگرچہ اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں اپنا کردار ادا کر ہی ہے، اگر یہی سائبر دور ہے تو ہماری آنے والی نسل سے یہ امید بالکل نہ رکھی جائے کہ وہ تختی پر الف ب لکھنے کا لطف لے سکے گی اور نہ ہی ہم نقطے لگا لگا کر انہیں یہ سکھا سکیں گے کہ الف ب کیسے لکھتے ہیں، ہمیں ان تما م تر املائی کتب، لغات ، فرہنگوں وغیرہ کو دریا برد کر دینا چاہیے جو سائبر دور کی کارپسی دنیا میں مشین کو مواد کی فراہمی تک ہی اپنا کردار ادا کر پائیں گی، اس کے بعد انہیں ناکارہ تصور کیا جانے لگے گا کیوں کہ اب بھی سوائے مخصوص طبقے کے جو اس میں دل چسپی رکھتے ہیں یا تحقیق کے میدان میں کوئی نیا شوشہ چھوڑنا چاہتے ہیں کے سوا کوئی انہیں دیکھنا تو کیا ان کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا ہے،

” سوشل میڈیا ٹرینڈز ”جس سے ہم سب واقف ہیں، دور جدید کا ایسا نیوز چینل جہاں دنیا بھر کی خبریں آپ کو ایک ہی پلیٹ فام پر دستیاب ہیں، ہمسائے کی مرغی چوری ہونے سے لےکر ، شکیلہ جمیلہ کی لڑائی ، شیدے میدے کے معاشقے ، فلاں کے گھر کیا پکا ہے ، پھپھو نے کس کا گھر تباہ کیا ہے ، کس گروپ کو کون فنڈنگ دے رہا ہے ، کس کو کس نے کہاں ہاتھ لگایا ، کس کا جوتا چرایا ، کس کی پگڑی اچھالی غرض ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی خبر مصالحہ جات سمیت ایک پوسٹ کی شکل میں دکھائی دے گی جس کے نیچے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنی دانشوری جھاڑ رہا ہو گا، دیکھو ، سمجھو ، جانو لیکن اسے سر پر سوار مت کرو، کان ، آنکھیں کھلی رکھو یہ نہ ہو انجانے طریقے سے نقصان اٹھا بیٹھو، کسی کا تعارف لینا اور آواز سننا کس حد تک ضروری ہے اب سمجھ میں آتا ہے،

” جائزہ لسانیات ہند اور مابعد ” اس مضمون کا تعارفیہ پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ اگر حکومتی سطح پر پاکستان کی علاقائی و صوبیاتی حوالوں سے زبانوں اور بولیوں کا جائزہ لیا جائے ( ہو سکتا ہے یہ کام ہو چکا ہو کسی نے اس پر نگاہ ڈالی ہو ) لیکن جس طرح کی تفصیلات اس مضمون کے سروے میں پیش کی گئی ہیں شاید اس طرح کا تفصیلی کام علاقائی زبانوں یا بولیوں پر نہیں کیا گیا، جس میں مقامی لوگوں سے سروے کیے جائیں سوال وجواب میں ان کو شامل کیا جائے پھر پڑھے لکھے طبقے اور تعلیمی حوالوں سے لی جانے والی آرا کو شامل کیا جائے۔ ” لغات زبان اردو ، اردو مشینی ترجمہ اور بنیادی اردو قواعد ”اس مضمون کا پہلا اقتباس میرے لیے بالکل نیا ہے اور یہ مکمل حق رکھتا ہے کہ اس پر باقاعدہ تحقیق کی جائے جو کسی دل چسپی سے خالی نہ ہو گی، اقتباس ملاحظہ ہو :

”سید القوم سرسید احمد خاں علیہ الرحمہ وہ پہلے آدمی ہیں جنہیں اردو کے ایک بڑھیا زبان ہونے اور اسے اس حیثیت میں عوام میں چلن دار کرنے کا خیال آیا، انہوں نے اردو کے استعمالی امکانات کو سمجھا اور اسے ادب کی غلام گردشوں سے نکال کر اپنے دور کی سماجی و اصلاحی نیز عملی ضرورتوں کے لیے برتا، اردو کا رسم الخط بھی انہیں فائدہ دیتا نظر آیا اور اس سے انہوں نے وہ کام لیا جو ان سے پہلے کسی نے نہیں لیا تھا ، یعنی اردو رسم الخط میں انگریزی کو لکھنا ( نقل حرفی ) اور پوری قوت کے ساتھ عملاََ برتنا، ۔ ۔ ان عملی ضرورتوں کے پورا کرنے کے دوران ہی میں انہیں زبان اردو کے لغت کا خیال سوجھا جس کا نام انہوں نے گارسیں دتاسی کے مشورے پر لغت زبان اردو رکھا، ان سے پہلے دیسی لوگوں کے جتنے بھی لغت ہیں وہ سب معین الادب یا معین الشعر ا قسم کی چیزیں ہیں، اس دور میں زبان سے مراد ادب ہی لیا جاتا تھا، ”

یہ بیان اردو کی پیدائش اور اس کے مروج ہو جانے کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتی ہےیا ہو چکی ہو جس کا علم مجھے نہ ہو، زندہ زبان کی پیش کی جانے والی تعریف بھی قابل غور اور حیرت زدہ کرنے والی ہے کہ یہ خود مکتفی نہ ہو بل کہ زبانوں کی دنیا میں ماحول دوست ہو اور اپنی حیثیت و شناخت برقرار رکھنے کے لیے ماحول کی دیگر زبانوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس مضمون میں جن لغات کاذکر کیا گیا ہے کیا یہ ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ ان تمام کے مجموعی مطالعات کے پیش نظر انہیں اردو اطلاعیات ، مشینی ترجمے یا اردو کارپس میں استعمالا جائے ؟ مزید برآں جن شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے ان کی اور مزید اس میدان کے نئے ناموں کی گول میز کانفرنس سجائی جائے جس میں کسی ایک لغت پر حتمی رائے پر آمین کہی جائے جو اہل زبان کی اجتماعی عکاس ہو، کسی ایک نظریے ، ایک طبقے یا مکتبہ فکر ، کسی ایک عہد یا زمانے کی ترجمانی نہ کرے بل کہ زبان و ادب کے اجتماع کو لے کر چلے اور ادبی دنیا میں ان کی عکاسی کرتی ہو،

نام بنیادی اردو قواعد کام سہیل عباس بلوچ، جس طرح اس کا تعارف بیان کیا گیا ہے مجھے لگتا ہے جوں جوں نئی تحقیقات ، نئے طور اس میدان میں آتے جائیں گے وہ دہائیوں سے چلی آنے والی تحقیقات پر ایک ایسا نظریہ قائم کر کے اسے رد کر دیں گے کہ سر تک نہ اٹھایا جا سکے گا اور وہ سرمایہ گرد تلے کسی بوڑھے کی جائیداد کے کاغذوں کی طرح کیڑوں کی نظر ہو جائے گا، پھر ہم نئی عمارات بناتے بناتے ان بنیادوں کو کسی دن کھو بیٹھیں گے جس پر اردوستان کا گھر تعمیر ہوا تھا،

” اردو میں لسانی تحقیق : لسانی نظریات کی تشکیل اور باز تشکیل ” اس مضمون کا ابتدائی پیرا گراف ہی ایسی گفتگو پر مشتمل ہے کہ جی چاہتا ہے مشفق خواجہ کے بنائے ہوئے فارمولے کے تحت ہر اس کتاب کو پکڑوں اور ان حاملہ علاقوں کا پیٹ چاک کروں جو اردو کی پیدائش کی حامی بھرتے ہیں، میں اردو زبان کی الف سے بھی آگاہ نہیں ہوں ابھی پڑھنے ، سمجھنے اور سیکھنے کو بہت کچھ باقی ہے لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ آج تک اردو کی جنم بھومی سے متعلق جتنے بھی نظریات سامنے لائے گئے ہیں وہ بھو ل بھلیوں کے سوا کچھ نہیں ہیں جس کے ہر راستے کےآگے ” راستہ بند ہے ” کا بورڈ لگا ہے، اب بڑے شاید اس بیان پر کہہ اٹھیں کہ زمین سے سر نکالا نہیں محترمہ نے اور مہا بیانیہ دے ڈالا ہے، میرا تو کہنا صرف اتنا ہے کہ کوئی بھی زبان نازل نہیں ہوتی ، نہ ہی الہامی طور پر کسی کے دل میں اتار دی جاتی ہے کہ یہ لو بھئی ہم نے تمہیں اردو کی مکمل زبان سونپی جاؤ اور دھرتی پر اس کا پرچار کرو، ایک نومولود بچے کی مثال لے لیجیے جو ابتدائی سطح پر غوں غاں کی آوازیں نکال کر اپنا پیغام ہم تک پہنچاتا ہے اور ہم اسے جوڑ توڑ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ صرف جذبات کی عکاسی ہوتی ہے زبان کی نہیں، ہم اسی بات پر بحث شروع کیے دیتے ہیں کہ ماما بولا یا بابا، چاہے اس نے باجا بولا یا پاپا، یہ اصوات مل کر کوئی حرف تشکیل دیتی ہیں جس سے الفاظ ، جملے وغیرہ بنتے ہیں انہیں زبان کا نام اور حروف کی پہچان تو بعد میں دی جاتی ہے، اس لحاظ سے تو یہ پوری دنیا ہی اردو کی ماں ہے۔ جانے کہاں سے ، کس بولی ، کس زبان ، کس اشارے کنائے میں اردو کے جسم کا کوئی حصہ موجود ہو وللہ اعلم،

ابتدائی پیراگراف کے بعد کی سطور سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کسی کتاب کے بارے میں تبصرہ ہے جو فائزہ بٹ کی ” اردو میں لسانی تحقیق ” کے نام سے ہے، چوں کہ میں نے اس کتاب کو نہ سنا ہے ، نہ دیکھا ہے اور نہ ہی چھوا ہے تو اس پر ہونے والے تبصرے کو پڑھنا مناسب نہیں سمجھتی، تاکہ مصنف کی طرح کہیں میرے دل کے نہاں خانوں میں کوئی بدگمانی پیدا نہ ہوجائے، جب کہ میرا ایمان یہ ہے کہ جب تک کتاب کے متن کو خود نہ پڑھ لیا جائے تب تک ان پر ہونے والے تبصروں کو دور سے بھی نہیں دیکھنا چاہیے ورنہ بدگمانی کی دنیا میں بدگمانیات پیدا ہونے کا خدشہ قوی ہو جاتا ہے،

یہ کتاب بھی جب تک خود پڑھی نہیں جائے گی اس متعلق ہونے والے بدگمانیاتی گفتگو سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکے گا، ناصر عباس نیر صاحب نے خوب فرمایا ہے کہ حافظ صاحب جنوں کی کسی جماعت کو اپنے قبضے میں کیے ہوئے ہیں جن سے وہ ایسے علمی کام نکلواتے رہتے ہیں، ہم بھی اس جملے کی بھرپور تائید کرتے ہیں کیوں کہ ایسے تحقیقی کام جب ایک کتابی شکل میں سامنے آجائیں تو ان کی محنت ، لگن سب اجتماع کی نشاندہی کرتے ہیں اگرچہ الگ الگ مضامین مختلف موقعوں اور تاریخوں میں لکھے گئے ہیں، ہر مضمون کے آخر پہ جو حواشی و حوالہ جات کا اہتمام کیا گیا ہے وہ الگ سے ایک تحقیقی حیثیت رکھتا ہے نیز جن ویب سائٹس سے استفادہ کیا گیا ہے ، جن کا آزادانہ استعمال کیا گیا ہے ان کو بھی مکمل حوالےکے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تحقیقی مقالہ جات ، کتب ، ویب سائٹس ، ای۔ میلز ، خطوط تمام تر کے حوالے موجود ہیں جو تحقیقی مواد کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، اس کتاب میں ایسے بڑے بڑے نام موجود ہیں جن سے مصنف نے اس کتاب میں موجود مضامین ، تجاویز اور اپنے نظریات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے، ان میں اندروں و بیرون ملک کے لسانیات کے کئی نام موجود ہیں، یہ کتاب اردوئی دنیا کے لیے مشین ریڈ ایبل مواد کی فراہمی ، اردو کارپس کی تیاری ، مشینی تراجم کی الجھنوں کو سلجھانے کی راہوں کو ہموار کرتے ہوئے ، اس کے لیے ٹرم بیس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، مقالہ جات کے لیے اشاریہ سازی کے الیکڑانک ہونے کی طرف متوجہ کرنا وقت کے ساتھ ساتھ تحقیقی معیار کو جانچنے کی اہم ضرورت ہے ، لغات کی آن لائن فراہمی ، متن کو مشین ریڈایبل بنانا ، یہ سب اردو دنیا کو اس سائبری دور میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا ہے، جن میں سے کچھ پر ایمان لاتے ہوئے قدم ذرا نہیں ڈگمگاتے لیکن جب قلم اور کاغذ کے چھن جانے کا خوف اپنا احساس دلاتا ہے تو ایسی کتابوں کو جلا دینے کا جی چاہتا ہے لیکن اس میں ہی ہماری آنے والی نسل کی اور ہماری قومی زبان کی بقا شامل ہے سو سینے پر بھاری پتھر رکھ کر ایسی تبدیلیوں کو قبولنے میں ہی ہمارے زبان و ادب کی ہی بھلائی ہے، سو اس کتاب کو اردوئی دنیا میں قبولیے کہ یہ سائبیری دور کی وہ کنجی ہے جس کا تالا تو ہماری زبان ہے لیکن اس کی تمام تر کنجیاں اس کتاب میں موجود ہیں،

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply