ڈیجیٹل دنیا میں رازداری Privacy : خطرات، خدشات اور متبادل —— علی شیرانی

0

سوال یہ ہے کہ پرائیویسی یا رازداری کسے کہتے ہیں؟ آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمیں یہ یقین کرا دیا گیا ہے کہ ہماری پرائیویسی (یعنی کے ہمارے بارے میں مکمل معلومات) کا لِیک ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں، ہمارا نام، پتہ، فون نمبر، ای میل ایڈرس، رشتے یہاں تک کہ ہمارے مزاج کے بارے میں بھی کسی غیر ضروری کمپنی یا بندے کو معلوم ہو تو کوئی بڑی بات نہیں۔ کیا آپ کسی بدمعاش، غنڈے، ڈاکہ زن، قاتل، اغوا کار، شرابی، بردہ فروش (الغرض کسی بھی بدکار) کو اپنا پتہ نام فون بتانا چاہیں گے؟ کبھی نہیں۔ تو پھر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں، کہ:

۔ گُوگل، یوٹیوب، فیس بُک، وٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹوئیٹر، لنکڈ اِن، ٹِک ٹوک کو آپ یہ تمام معلومات کیوں فراہم کرتے ہیں؟
۔ اینڈروئیڈ اور ایپل فون یا ٹیبلٹ مستقل بنیادوں پر آپ کی کیا کیا انفارمیشن باہر بھیجتے رہتے ہیں، آپ جانتے ہیں؟
۔ مائیکروسوفٹ ونڈوز کس کس سرور سے کنیکٹ ہو کر مسلسل آپ کی کیا انفارمیشن بھیجا رہتا ہے آپ کو علم ہے؟
۔ آپ کے فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس کا کیمرہ اور مائکروفون کون کون سی ایپلیکیشن آپ کی اجازت کے بغیر استعمال کر رہی ہے آپ کو اس بات کا علم ہے؟
۔ اینٹی وائرس، اینٹی سپائی وئر، اینٹی میل وئر کے نام پر آپ جو سافٹوئر انسٹال کرتے ہیں کیا یہ واقعی آپ کے کمپیوٹر میں موجود سسٹم اور آپ کی دستاویزات کی حفاظت کرتا بھی ہے؟
۔ آپ کا فائر وال کیا اس قدر مؤثر ہے کہ آپ تک رسائی ممکن نہ رہے؟

Encoding Privacy in a Digital World - Indian Liberalsان تمام سوالات کے جوابات قریبا تمام “نہیں” ہوں گے !

آپ خود سوچیں کہ اگر ہمارے کمپیوٹر میں انسٹال ہوا ہوا آپریٹنگ سسٹم ہی ہمیں تحفظ فرماہم نہ کر سکے تو عوام الناس جسے علم ہی نہیں کہ یہ سسٹمز کیا کیا تماشے بیک گراؤنڈ میں کرتے رہتے ہیں، اب تک کتنی معلومات پہنچا چکے ہوں گے، عام عوام کا چھپانے کا کچھ نہیں (یہ تو چلیں ان کا مدعا ہے)، مجھے یہ بتائیے کہ سرکاری دفاتر جہاں کا ڈیٹا کانفیڈینشل ہوتا ہے وہاں بھی مائیکروسوفٹ ونڈوز جیسا آپریٹنگ سسٹم اگر استعمال ہو رہا ہے، تو ہماری کونسی ایسی معلومات ہیں جو ان کمپنیوں سے مخفی ہیں؟

مائیکروسوفٹ ونڈوز جو ہم بخوشی انسٹال کر لیتے ہیں کہ چند روپوں میں دستیاب ہے، کبھی سوچا ہے اتنا سستا کیوں مل جاتا ہے؟ یا پھر ہمیں کمپیوٹر بیچنے والا پہلے سے ہی انسٹال کرکے دیتا ہے، ارے بھائی یہ چوری کا ہوتا ہے اس لیے سستے میں مل جاتا ہے۔ پائیریسی کے گناہ سے قطع نظر، یہ سوال خود سے کریں کہ مائیکروسوفٹ اتنا اندھا یا بے وقوف ہے کہ آپ اس کا پورا آپریٹنگ سسٹم چوری کر کے استعمال کر رہے ہیں اور اسے اس بات کا علم نہیں؟ یا وہ روکنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ ایسا ہرگز نہیں ہے! اپنے بچے کو تو آپ بڑے درس دیتے ہیں کہ اجنبی سے کچھ نہیں لینا، چوری نہیں کرنی، کیا چوری کا مال خریدنا چوری نہیں ہے؟ مائیکرو سوفٹ ونڈوز، ایپل میک او ایس، آئی فون کا آئی او ایس، انڈروئیڈ کے متعدد ورژنز، یہ تمام تر آپریٹنگ سسٹم ہمیں تو پہلے سے انسٹال ہوئے ملتے ہیں، اور ان میں سے خواہ کوئی بھی اوپن سورس ہو (یہ فقط ایک لیبل ہے اور آپ کے کام کی بات بھی نہیں،) آپ کو تو اس کا بائنری ورژن ملتا ہے (اس بات پر بھی دھیان نہ دیں) جسے مشین سمجھ سکتی ہے بندہ نہیں پڑھ سکتا۔ تو! سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی ہونے کے ناطے (چونکہ آپ فقط صارف ہیں)، آپ کو کیسے علم ہو سکتا ہے کہ آپ کا فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اور کیا کیا کرتا ہے؟ کون کون سی انفارمیشن اکٹھی کرتا ہے، کہاں بھیجتا ہے، اس سے کیا کیا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اور اس کے کیا کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

ایک ہی جملے میں کہوں (گو کہ آپ کو ناگوارتو گزرے گا) تو، “آپ پراڈکٹ ہیں اور ایڈورٹائزر کنزیومر”۔ یہ تما م تر ٹیکنالوجی جائنٹس، آپ کی انفارمیشن مشین لرننگ میں استعمال کرتے ہیں، آپ کا مزاج آپ کی حرکات و سکنات تمام تر نوٹ کرتے ہیں، یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر کس تصویر یا وڈیو پر آپ نے کتنا وقت گزارا یہ بھی ان کے علم میں ہوتا ہے، اور اس سب انفارمیشن سے وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آپ کو کون سی خبر یا اشتہار دکھانا ہے، اور کس طرح مزید مصروف رکھنا ہے، آپ واقعی ان کے لیے پولٹری فارم میں پلنے والی مرغی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ آپ کو بیچ کر انہوں نے ایڈورٹائزر سے مال کمانا ہوتا ہے۔ اب غور فرمائیے گا، ہم چھوٹی سے ایپ سے شروع کر کے مکمل ایک سوشل نیٹ ورک اور آپریٹنگ سسٹم تک کی مختصر جانچ کر لیتے ہیں۔

آپ نے نیا فون لیا اور اس میں وٹس ایپ انسٹال کیا، پہلی چیز جو اس نے مانگی وہ آپ کا فون نمبر ہے۔ بلے بلے، پہلا کام ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے آپ سے اجازت مانگی کہ ایڈرس بُک چاہیے آپ اجازت دینے پر مجبور ہیں اور آپ کے تمام تر روابط کی فہرست اس کی تحویل میں آگئی، پھر آپ سے فوٹوز اور فائلز کی اجازت مانگی، آپ نے دے دی؛ پھر جب آپ کال کرنے لگے تو مائکروفون اور کیمرہ تک کی اجازت دے دی! فون میں اور کیا بچ گیا جس کی اجازت آپ نے وٹس ایپ کو نہیں دی؟ کچھ بھی نہیں۔ اب چونکہ وٹس ایپ فیس بک کی تحویل میں ہے گویا، جو لوگ فیس بک پر اکاؤنٹ ای میل ایڈرس سے بنایا کرتے تھے، مگر یہ معلومات فیس بک کے لیے ناکافی تھیں تو اب وہ بھی فون نمبر مانگتا ہے اور کراس چیک کرکے وٹس ایپ سے بقیہ معلومات بھی حاصل کر لیتا ہے۔

سوال: وٹس ایپ فیس بک وغیرہ وغیرہ تمام تر سہولیات آپ کو مفت کیوں دی جاتی ہیں بھئی؟
جواب: آپ کو چکر دے کر مصروف رکھنے اور آپ کو پراڈکٹ بنا کر بیچنے کے لیے !

جی اب، آپ نے فیس بُک ایپ انسٹال کر لی (جسے میسنجر کہا جاتا ہے)، ان تمام ایپس سے آپ کا کچھ بھی نہیں بچا، تمام تر معلومات آپ فراہم کر چکے ہیں۔ وہ ان معلومات پر بھی اکتفیٰ نہیں کرتے بلکہ مستقل بنیادوں پر آپ کو ٹریک کرتے ہیں۔ وٹس ایپ یا فیس بک ایپ کی کون سی سروس بیک گراؤنڈ میں چل رہی ہے آپ کو علم نہیں۔ وہ آپ کا مائیکروفون اور کیمرہ استعمال کر رہی ہے یا نہیں، کیا آپ کو علم ہے؟ نہیں! آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ یہ ایپس ایسا کچھ نہیں کریں گی؟ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ کو جان لینا چاہیے کہ آپ غلط ہیں!

آپ نے یو ٹیوب ایپ انسٹال کر لی (یا پہلے کی انسٹال ملی)، آپ نے کہیں جانا ہے تو گوگل میپس آپ کی راہنما ایپ ہے جو کہ جی پی ایس استعمال کر رہی ہوتی ہے، اور سسٹم کو آپ کی ہر حرکت کا علم ہوتا ہے۔ دنیا جہان کی ایپ انسٹال کر لی مگر یہ نہیں دیکھا کہ کس ایپ نے ایڈرس بک تصاویر مائیکرو فون اور کیمرہ کی مکمل اجازت لے رکھی ہے! آپ تو فقط اتنا جانتے ہیں کہ ایپ بند کر دی تو فیس بک اور وٹس ایپ بند ہو گئے، اللہ کے بندو آپ کو کیسے پتہ ہے کہ یہ بیک گراؤنڈ میں نہیں چل رہے؟ چلیں ہو سکتا ہے آپ خاصے ہوشیار ہیں اور آپ نے متعدد ایپس کو اس کی اجازت نہیں دے رکھی، گریٹ! لیکن!

What is Privacy in the Digital World? | by Bismah Yousuf | Digital Society | Mediumسوشل نیٹ ورک پر تو آپ تمام تر باتیں لکھ رہے ہیں! یہ کھایا، یہاں گیا! یہ پہنا! وہ خریدا! اس سے ملا یہ اچھا ہے وہ برا ہے! وغیرہ وغیرہ، آج کل تو ہماری بے وقوف بچیاں چھینکتی بھی ہیں تو فیس بک پر جا لکھتی ہیں۔ اپنی اور اپنی فیملی کی تصاویر لگانے میں کسی کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ یہ تو بتائیں کہ سوشل میڈیا سے پہلے کیا آپ کسی اجنبی کو اپنی فیملی کی تصاویر کا البم دکھاتے تھے؟ تو اب کیوں؟ اب آپ کو پرائیویسی کی پرواہ کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان ڈیجیٹل کمپنیز نے آپ کو یہ باور کرا دیا ہے کہ
1۔ وہ آپ کی انفارمیشن کا کوئی غلط استعمال نہیں کرتے، 2۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوشل میڈیا پر کون کیا ہے اس کا فیملی بیک گراؤنڈ کیا ہے، وہ چور قاتل دھوکے باز یا شرابی ہے اور سامنے اس نے نماز ادا کرتے ایک تصویر لے کر لگا رکھی ہے آپ اس کی تصدیق کیسے کر سکتے ہیں؟

یو اے ای میں مقیم اینتھروپولوجی کے پروفیسر جناب علی کامران صاحب سے میں نے یہ سوال کیا کہ ہم ایک وقت میں کتنے دوستوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں، یا مختصراً یہ کہیں کہ کتنے لوگوں کو یاد رکھ سکتے ہیں؟ جواب: تیز ترین اذہان بھی ایک وقت میں زیادہ بھی کہیں تو 150 بندوں سے، وقت کو تقسیم کرکے (مہینوں میں) رابطے میں رہ سکتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر تو 5000 کی تعداد بھی ہو سکتی ہے، اور فالؤرز تو جتنے جی چاہے بنا لیں۔ وہ سب کون ہیں کیا ہیں آپ کو علم نہیں مگر آپ اپنا سب کچھ ان سے شئر کر رہے ہیں۔ پرائیویسی کو بھی چند لمحے اگر نظر انداز کر بھی دیں تو جو بڑا دیو ہمارے سامنے کھڑا ہے وہ اس منحوس سہولت کی ایڈکشن ہے، جس کے سبب بچوں بڑوں میں بدمزاجی، نا امیدی، نیچر سے دوری، توجہ کا فقدان، طرح طرح کے ذہنی امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ الغرض آپ وہاں موجود رہتے ہیں، اور جتنی زیادہ ایکٹوٹی کرتے ہیں وہ تمام ریکارڈ ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پر بلآخر آپکو مرضی کی خبریں اور اشتہارات دکھائے جاتےہیں۔ کئی بار جب آپ کی ایکٹوٹی کم ہونے لگے تو آپ کو مزید دوست شامل کرنے کی سجیشن آنے لگتے ہیں، اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ، آپ کے نوٹیفیکیشن روک لیے جاتے ہیں، اور جب آپ اس منحوس نیٹ ورک کے استعمال میں سست ہونے لگتے ہیں تو تب وہ نوٹیفیکیشن آپ کو بھیج دیے جاتے ہیں، اور کچھ بھی نہ ملے تو آپ کو آپ کے ہی بھیجے ہوئے ان باکس میسجز کے نوٹیفیکیشن منے لگتے ہیں (بھئی میں نے خود میسج بھیجا ہے تو مجھے علم ہوگا مجھے ہی بتانے کی کیا ضرورت)، تاکہ بھئی جو بھی کرتے رہو یہاں سے جانا نہیں ہے، اشتہار دیکھتے رہو اور جھوٹی خبیں پڑھتے رہو! یہ سب کیوں ہو رہا ہے آپ کے ساتھ؟ سادہ سا جواب ہے، چونکہ آپ نے مفت سہولیات کےعوض اپنی پرائیویسی قربان کی ہے۔ آپ فیس بک سے کوئی بھی لنک کلک کریں تو وہ کسی بھی ویب سائیٹ پر جا رہا ہے آپ کی انفارمیشن ساتھ لے کر جاتا ہے ! کبھی غور کیا لنک پر؟ نہیں ! اب سے ضرور کریں! یا، گوگل میں سرچ کرنے کے بعد جب نتائج پر کلک کرتے ہیں تو کبھی نوٹ کیا ہے کہ پہلے آپ کا کلک ریکارڈ ہوتا ہے اور پھر آپ ویب سائیٹ پر پہنچتے ہیں! کیوں؟ کیونکہ آپ کی تمام حرکات و سکنات نوٹ کرنی ہیں اور آپ کو اسی سرچ سے متعلق ہی ایڈورٹائزر کی جانب سے موا د دکھانا ہے۔ یاد رکھیں ان کے لیے آپ صرف اور صرف ایک پروڈکٹ ہیں۔

چلیں سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی آپ نے بہت احتیاط شروع کر دی! مگر آپ اسے اپنا ای میل تو دے چکے ہیں اور شاید فون نمبر بھی۔ اب آپ جب بھی اس نمبر سے وٹس ایپ چلائیں گے تو جو کسر فیس بک پر رہ گئی تھی وہ وٹس ایپ نکال دے گا اور وہ سارا مواد فیس بک کی تحویل میں آ ہی جائے گا۔ چلیں یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے وٹس ایپ بھی ڈیلیٹ کر دیا۔

تو اب سوال پیدا ہوتا ہے، میری انفارمیشن گوگل فیس بک مائیکروسوفٹ ایپل کیسے لےسکتے ہیں ؟

تو جناب عرض یہ ہے (جیسا کہ پہلے بھی بتا چکے ہیں،) کہ، خواہ آپ نے آپریٹنگ سسٹم فون یا لیپ ٹاپ کےساتھ خریدا ہے یا پھر مفت والا استعمال کر رہے ہیں (جو کہ 99 فیصد پاکستانی کر رہا ہے، اور لاعلمی کے سبب)، آپ کی انفارمیشن پھر بھی ان کے لیے قیمتی ہے اور وہ آپ کو چُھوٹ دیے جاتے ہیں۔ تو آپ دو دو کام ایک ساتھ کر رہے ہیں، ایک تو سافٹوئر کی چوری، اوپر سے پرائیویسی کی قربانی، سبحان اللہ۔

اینڈروئیڈ اور ایپل کے بارے میں مستند معلومات موجود ہیں کہ آپ کچھ بھی کر لیں، یہ بظاہر آپ کو جی پی ایس (آف) off دکھاتے ہیں مگر در اصل یہ ہر ایک سیکنڈ میں یہ انفارمیشن اکٹھی کر رہے ہوتے ہیں اور سٹور کر رہے ہوتے ہیں، اور جونہی آپ انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہوتے ہیں (خواہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی سے)، یہ وہ تمام انفارمیشن اپنے سرورز پر بھیجتے ہیں۔ کیوں بھیجتے ہیں؟ تاکہ آپ کے مزاج پسند نا پسند کو سمجھا جائے اور آپ کو اچھے داموں فروخت کیا جائے، اور ایڈورٹائزر یا پھر کوئی اور ادارہ اس انفارمیشن کو استمعال کرکے اپنے عزائم (درست یا غلط) طے کر سکے۔ چلیں یہ تصور کر لیتے ہیں کہ آپ نے GPS بند کر دیا اور وہ بند بھی ہو گیا۔ اینڈروئیڈ اور ایپل دونوں قریبی موجود وائی فائی کے کنیکشنز سے ٹرائی اینگولیشن کے ذریعے بھی آپ کی موجودہ لوکیشن کی انفارمیشن حاصل کرتے رہتے ہیں، اور وہ استعمال ہوتی ہے۔ گویا کسی فون، ٹیبلٹ کمپیوٹر یا پھر mac پر آپ قطعا اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ تمام تر دروازے بند کرنے کے باوجود آپریٹنگ سسٹم آپ کی معلومات آگے نہیں بھیجے گا۔ اب آپ کا سسٹم خواہ اینٹی میل وئر یا کسی بھی سروس کے نام پر آپ کی کیا انفارمیشن لے جاتا ہے آپ کو علم نہیں۔ مائیکروسوفٹ ونڈوز کی بات کریں تو وہ بھی دھڑا دھڑا پنے سرورز سے رابطے میں رہا ہے، وہ سسٹم لیول پر کیا بھیجتا ہے آپ کو علم نہیں۔

اس کا حل کیا ہے؟

کمپیوٹر آپ کی ضرورت ہے، فون آپ کی ضرورت ہے، ٹیبلٹ آپ کی ضرورت ہے۔
انٹر نیٹ آپ نے ہرحال استعمال کرنا ہے، تو ان نحوست زدہ سسٹمز سے کیسے جان چھڑائی جائے؟

پہلے یہ سمجھیں، کہ آپ کمپیوٹر پر کیا کیا کام کرتے ہیں؟ فلم دیکھتے ہوں گے، گیت سنتے ہوں گے، کوئی ڈاکومنٹ لکھتے ہوں گے، ویب براؤزر میں ویب سائیٹس استعمال کرتے ہوں گے جیسے کہ فیس بک گوگل وغیرہ، ای میل کرتے اور پڑھتے ہوں گے، یا پھر آفس کے کام کاج کے لیے کوئی ایک مزید سافٹوئر بھی استعمال کرتے ہوں گے مثلاً پروگرامنگ کے ٹولز۔ اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟ ایک عام آدمی بس یہی کچھ ہی کرتا ہے !اس کے علاوہ اور کچھ بھی ایسا نہیں جو آپ کرتے ہوں، خود سے سوال کریں۔

تو پھر اب آپ کا سوال ہوگا کہ ان تمام امور ے لیے کمپیوٹر پر ونڈوز نہ ہو تو کیسے کریں؟

بہت ہی سادہ سی بات ہے اور غور سے پڑھ لیں سن لیں۔ آپ کے کمپیوٹر کو ونڈوز جہیز میں مل جاتی ہے اور آپ کی عوام 99 فیصد کو یہ علم بھی شاید نہیں کہ ونڈوز کے علاوہ بھی کوئی آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے! تو اب حل کی طرف چلیں؟ Linux ایک مکمل ترین آپریٹنگ سسٹم ہے جس کی بنیاد پر یہ انڈروئیڈ، ایپل آئی او ایس، حتیٰ کہ mac os بھی تیار کیے گئے ہیں۔ linux کے موجد Linus torvalds نے اسے اوپن سورس کر دیا ہے (سادہ لفظوں میں مکمل مفت کر دیا ہے)۔ اس کا کوڈ ٹیکنالوجی کے لوگ اچھے سے پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں کہ یہ سسٹم کو چلانے کے علاوہ اور کون کون سی حرکات کر سکتا ہے اور ایک نہیں ہزاروں ایسے ٹیکنیکل حضرات اسے دیکھتے ہیں اور کبھی اگر کہیں پرائیویسی سے متعلق کچھ بھی آتا ہے تو اسے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اپنے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر linux انسٹال کریں، اس کے بہت زیادہ ورژن انٹر نیٹ پر مفت موجود ہیں، اور مذکورہ آپریٹنگ سسٹم میں کوئی بھی ایسی کمی نہیں جس پر آپ گلہ کر سکیں، میں ذاتی طور پر 2005 سے یہی استعمال کر رہا ہوں اور میرا یسا کوئی بھی کام نہیں جو اس پر نہ ہو سکتا ہو۔ یہاں تک کہ اس میں آفس (یعنی ڈسکٹاپ پبلشنگ) کے تمام تر ٹولز پہلے سے انسٹال ملتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر لینکس میں اینٹی وائرس انسٹان کرنے کا آپ نے سوچنا بھی نہیں، اس کی وجہ اس کی مضبوط ترین سیکیورٹی ہے، کوئی بھی سافٹوئر آپ کی مرضی (آپ کے پاسورڈ) کے بغیر انسٹال ہی نہیں ہو سکتا۔ اپنے کمپیوٹر پر آپ ونڈوز کے ساتھ اسے بھی انسٹال کر سکتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کی عادت بنا کر ونڈوز سے مکمل جان چھڑا سکتے ہیں۔ آسانی اور مُفت نہ دیکھیں اپنی پرائیویسی کو دیکھیں۔ انسٹال کرنا اور استعمال کرنے کےمتعلق یوٹیوب پر بے تہاشا ٹیوٹورئل موجود ہیں (اس پر الگ سے بھی بات کر لیں گے)۔ لینکس کی اقسام میں سے سب سے بہترین، تیز، سادہ اور خوبصورت ورژن Ubuntu ہے، بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کسی ٹیکنیشن کی مدد لے لیں، یا آن لائن وڈیو دیکھ لیں۔

اب بات رہ گئی فون کی ! اس کا کیا کریں؟ یہ تو ہمارا تمام کچا چٹھا نکال کر بھیج رہا ہوگا!

کوئی بات نہیں، لینکس جو اوپر تجویز کیا گیا ہے آپ اپنے فون پر بھی انسٹال کر سکتے ہیں۔ اگر سستا فون ہے (جس کی طاقت بہت کم ہے) تو آپ لینکس کا کوئی چھوٹا ورژن چن کر بھی انسٹال کر سکتے ہیں، جس میں فون کی تمام تر سہولیات موجود ہوں گی۔ البتہ یہ یاد رکھیں کہ اس پر یہ پروپرائیٹری ٹولز استعمال نہیں ہو سکیں گے (جیسا کہ وٹس ایپ وغیرہ)، مگر کچھ لوگوں نے اس کا بھی حل کر رکھا ہے (جس پر بات کرنا اس مضموں کے حصے میں نہیں آتا)۔ یا پھر کسی ٹیکنیکل بندے سے اینڈروئیڈ کا De-googled ورژن انسٹال کرائیں جس میں گوگل کی کوئی سروس موجود نہیں ہوتی۔ زیادہ تر کمپنیاں جو اینڈروئیڈ اپنے فون کے ساتھ بیچتی ہیں وہ آپریٹنگ سسٹم کی شکل و صورت پر زیادہ سے زیادہ دھیان دیتی ہیں اور یوزر ایکپیرئنس بدلتی ہیں، 99 فیصد گوگل سروسز کے ساتھ ہی آپ کو فون دیتے ہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان فضولیات سے محفوظ رہیں اور آپ کی پرائیویسی مکمل محفوظ رہے تو آپ کو کچھ چیزیں ہمیشہ کے لیے ترک کرنی ہوں گی، فیس بک استعمال کرنی ہے تو کمپیوٹر پر استعمال کریں ایپ انسٹال نہ کریں۔ بات چیت کرنی ہے کسی الہامی کتاب میں نہیں لکھا کہ وٹس ایپ انسٹال کرنا ہے، آپ لینکس پر سکائیپ انسٹال کریں اور جہاں جہاں رابطہ ہے ان کو بھی قائل کریں کہ وہ اس کا ستعمال شروع کریں، پھر خواہ آڈیو ہو یا وڈیو چیٹ سب چلتا ہے۔ ای میل کرنی ہے تو تھنڈر بَرڈ یا پھر ایوولوشن میل استعمال کریں۔ ڈاکومنٹس لکھنی ہیں تو Libre آفس میں لکھیں، مائیکروسوفت آفس کی تمام تر ڈاکومنٹس کو پڑھنے اور ایڈٹ کرنے کے لیے کھولتا بھی ہے اور واپس save بھی کرتا ہے، گوگل کی تمام تر ٹریکنگ سے بچنا ہے تو گوگل کروم ہرگز ہرگز انسٹال نہ کریں صرف Firefox ویب براؤزر استعمال کریں۔ ایپل فون والے صارفین بھی پریشان نہ ہوں وہ بھی فون پر لینکس یا اینڈروئیںڈ کا ڈی گوگلڈ ورژن انسٹال کرا سکتے ہیں، آپ کو بہتر ٹیکنیشن ڈھونڈنا ہوگا، بات پرائیویسی کی ہے کوئی معمولی بات نہیں، فیصلہ کریں !

صرف یہ سوچیں کہ کل کو اگر الیکشن کے وقت پر کوئی آپ کے ملک میں سِول ڈِس آرڈر کرانا چاہے تو آپ کو مرضی کا اشتہار اور خبر دکھا کر کچھ بھی کر ا سکتا ہے۔

سب سے ضروری بات: اپنے بچوں کو سوشل میڈیا اور طرح طرح کی ایپس سے دور رکھیں، خصوصا فیس بک، انسٹاگرام، اور کچرے کے ڈبے یعنی ٹِک ٹاک سے، اور خاص طور پر طرح طرح کی کیمرہ کی ایپس سے جن کو بچیاں زیادہ استعمال کرتی ہیں اپنی تصویر کو بہتر کرنے کے لیے فلٹرز ایپلائی کرتی ہیں۔ ان کو پیار سے سمجھائیں کہ بیٹا باہر کے لوگوں سے ہر انفارمیشن اور تصاویر شئر نہیں کی جاتیں، اور ہر ایپ پر یقین نہیں کیا جاتا خواہ کوئی بھی بنا رہا ہو۔

 آپ کی پرائیویسی میں اور کس کس طرح سے دخل اندازی ممکن ہے؟ فون ریپئرنگ کی دکانیں، پبلک وائی فائی کنکشن، بایو میٹرک اور سِم کارڈ، شناختی کارڈ کی ریکؤائرمنٹ، پبلک سپاٹس، جعلی کمپنیاں، سرویلنس کیمراز، مالز اور شاپس پر میں مارکیٹنگ سٹاف، لاٹری وغیرہ۔

پرائیویسی کے مزید اہم مسائل بھی موجود ہیں، جن پر بات کرنا نہایت ضروری ہے۔

آپ اپنا فون درست کرانے کی غرض سے موبائل ریپئرنگ کی دکان پر لے کر جاتے ہیں اور ٹیکنیشن کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، اس کے بعد فون میں موجود انفارمیشن کے ساتھ وہ کیا کرتا ہے آپ کو بالکل علم نہیں۔ وہ اس میں سے آپ کی تمام تر تصاویر، ایڈرس بُک، تمام تر میسجز، (یہاں تک کہ وٹس ایپ کی مکمل ڈیٹا بیس)، الغرض کچھ بھی ایک منٹ کے دورانیے میں حاصل کر کے اپنے پاس محفوظ کر سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک بزرگ نے فون ریپئر کرانے کے لیے کسی شاپ پر دیا اور کچھ دیر بعد ان کی تمام فیملی کو کسی فضول سے وٹس ایپ گروپ میں شامل کر دیا گیا۔ اگر اتنی سخت ضرورت پیش آئی بھی ہے تو کم از کم ایک بار انٹرنیٹ پر اس کا حل تلاش تو کریں، اگ نہیں ملتا تب آپ کسی قابلِ اعتماد بندے کو اپنا فون دیں۔ دوسرا یہ کہ بہت سے لوگ فون کو فروخت کرنے کی غرض سے شاپ پر پہنچتے ہیں، اور اس سے پہلے تمام تر معلومات ڈیلیٹ کر چکے ہوتے ہیں۔ فون دے دیتے ہیں اور بخوشی نیا فون لے کر استعمال کرتے ہیں۔ کیا آپ کو علم ہے کہ اگر کمپیوٹر اور فون پر آپ جو کچھ بظاہر ڈیلیٹ کر چکے ہیں وہ بآسانی ریکور ہو سکتا ہے؟ آپ کی تمام تر معومات واپس لائی جا سکتی ہیں۔ آپ نے لیپ ٹاپ میں سب ڈیلیٹ کیا، ڈسک کو فارمیٹ کیا، پارٹیشن دوبارہ سے کی، ونڈوز دوبارہ انسٹال کی اور آپ خوش ہو گئے کہ اب میرے ڈاکومنٹس وغیرہ کوئی نہیں دیکھ سکتا، یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اور نہیں تو کم از کم 70 سے 80 فیصد تک ڈیٹا واپس ریکوَر کیا جا سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے فون کی ڈسک میں سے ریکوَر کیا جا سکتا ہے۔

عوام الناس ہمیشہ وائی فائی کے کنیکشن کو فقط ایک سہولت کی شکل میں دیکھتی ہے، مگر زیادہ تر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ وائی فائی پر سے گزرنے والی تمام ٹریفک کی جانچ کی جا سکتی ہے، اور کافی حد تک آپ اپنی ڈیوائس کے ڈیٹا کی ترسیل پر کنٹرول دے دیتے ہیں۔ پبلک میں موجود (مالز میں، ہوٹیلز میں، ٹرانسپورٹ میں) آپ کو جو فری وائی فائی دیا جاتا ہے اس کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں اور اپنے فون کے ڈیٹا کنیکش پر ہی اکتفیٰ کریں، ؛ اپنے فون یا ڈیوائس کی سیٹنگز کا بغور جائزہ لیں کہ کہیں یہ خود بخود فری وائی فائی سے کنیکٹ تو نہیں ہو جاتا۔ مارکیٹ میں کچھ ایسی ڈیوائسز بھی موجود ہیں جن کو آپ اپنے لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کر کے کسی پر ہجوم جگہ پر بیٹھ کر گرد و نواح کے فونز کی کمیونیکیشن کے پیکٹس دیکھ سکتے ہیں (مگر یہ بات بعد میں کبھی ڈسکس کرتے ہیں)۔

پاکستان میں ایک نیا تماشہ دیکھنے میں آیا ہے کہ متعدد پرائیویٹ آرگنائزیشنز آپ سے بایو میڑک پر ریکارڈ کرئیٹ کرنے اور تصدیق کرنے پر زور دیتی ہیں۔ اپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کےانگوٹھے کا نقش آپ کی ملکیت ہے، یہ آپ کی تمام تر آئیڈینٹیفیکیشن ہے، اور اس کی جانچ یا استعمال صرف اور صرف ریاست یا ادارے کرسکتے ہیں۔ آپ کسی بھی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور آپ پر زور دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے انگوٹھے کا امپریشن ریکارڈ کرائیں، تو آپ ان سے کہیں کہ مجھے کارڈ یا پاسورڈ اشو کیا جائے، میں انگوٹھا نہیں لگانا چاہتا / چاہتی۔ ریاستی اداروں (جیسے کہ نادرا وغیرہ) کے علاوہ کوئی بھی ادارہ آپ کی یہ معلومات حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ البتہ جب آپ سم کارڈ خریدنے جاتے ہیں تو وہاں آپ کے سامنے بایو میٹرک کی مشین پیش کی جاتی ہے، آپ نے یہ غو کرنا ہے کہ یہ مشین کسی رجسٹرڈ نیٹ ورک کی ہے بھی کہ نہیں (یعنی موبی لنک یو فون ٹیلی نار وغیرہ)۔

شناختی کارڈ آپکی ملکیت ہے، اور ریاستی اداروں کے سوا کہیں پر بھی اس کی ضرورت ہے تو اپنا شناختی کارڈ نہ تھما دیا کریں، بلکہ اس کی کاپی دیا کریں، اور دو کراس لائنیں لگا کر اور اس میں استعمال کی وجہ بھی چند لفظوں میں ضرور درج کیا کریں۔

دوسری بات سِم کارڈ کی کرتے ہیں۔ آپ کوئی بھی سِم کارڈ جب استعمال نہیں کرتے تو عموماً اسے رکھ لیتے ہیں یا پھر اسے کینسل کرا دیتے ہیں۔ سِم کارڈ خیردنے میں جلدی نہ کیا کریں، اور اگر آپ نے ایک سم کارڈ خرید لیا ہے تو اسی کو استعمال کریں۔ مثال کے طور پر آپ نے سم کارڈ استعمال خریدا استعمال کیا اور پھر کینسل کرا دیا، اب نیٹ ورک وہی سم کارڈ اسی نمبر کے ساتھ کسی اور کو اشو کرے گا، اور عین ممکن ہے کہ اس کا کال لوگ (call log) بھی نکلوا سکے۔ اس طرح آپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی دونوں کمپرومائز ہو جاتی ہیں۔ اگر آپ کمپنی چلاتے ہیں اور آپ کو بہت سے سم کارڈز کی ضرورت پڑتی ہے تو تمام سم کارڈ اپنے نام پر نہیں بلکہ کمپنی کے نام پر نکلوا سکتے ہیں۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ جب کمپنی کا سم کارڈ استعمال کریں تو کوشش کریں کہ اس نمبر سے فیملی اور حلقہ احباب کی نہ تو کال ریسیو کریں اور نہ اس سے کا ل کریں، چونکہ کمپنی چھوڑتے وقت آپ کو وہ سم کارڈ واپس کرنا ہوتا ہے۔ (اگر آپ کمپنی کی بے جا دخل اندازی اور بے جا انٹرسٹ سے بچنا چاہتے ہیں)۔

اب چند ایسی چیزوں کی بات کرتے ہیں جن پر کبھی ہمارا دھیان نہیں گیا، اور ان کو ہماری سیکیورٹی کہہ کر ہم پر لاگو کر دیا جاتا ہے۔ پبلک میں تصویریں لیتے کی بہت بری عادت بن چکی ہے جس کو آپ اورہم بدل نہیں سکتے (خصوصاً سیلفی لینے کی عادت)، آپکو یقیناً معلوم ہوگا کہ جب آپ تصویر لیتے ہیں تو اس میں فون کیمرہ کے ساتھ جی پی ایس کی انفارمیشن بھی سیو ہو جاتی ہے، جو کوئی بھی بآسانی نکال سکتا ہے جس کے پاس وہ تصوہر ہو۔ گرد و نواح میں موجود لوگوں کی ایکٹوٹی نوٹ کیا کریں، لوگ دوسروں کی تصاویر لیتے ہیں، ضروری نہیں کہ ان کے عزائم غلط ہوں، مگر یاد رکھیں کسی بھی غلط امر میں استعمال ہو سکتی ہیں۔ فوٹو ایڈٹنگ اس قدر پاورفل ہو چکی ہے کہ تصویر تو دور وڈیو میں بھی بندے کا سر بدل کر آپ کا لگایا جا سکتا ہے اور پوری تقریر کرائی جاسکتی ہے۔ اپنی شناخت کی حفاظت کریں اور بے وجہ تصویریں نہ پھیلاتے پھریں، اور نہ ہی کسی دوسرے کو بے وجہ اپنی تصویر لینے دیں، کوئی اس جگہ کی تصویر لے رہا ہے جہاں آپ بھی موجود ہیں، تو اس میں کوئی ہرج نہیں کہ انہیں کہیں کہ میں ہٹ جاتا/جاتی ہوں آپ بعد میں لیجئے۔

جعلی کمپنیز: فری لینسگ کے پلیٹ فارمز پر ایسی کمپنیز آچکی ہیں جو آپ کو صرف اس بات پر اجرت کا وعدہ کرتی ہیں کہ اپ اپنے گھر کی چند تصاویر لے کر بھیج دیں۔ یہ مکمل جھوٹ ہے۔ ایسے کسی چکر میں نہ پڑیں، یہ کرمنلز ہیں اور وہ یہی تصاویر آپ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ آسانی سے گھر بیٹھے کام سیکھنا اور کرنا ہے تو فیس بک پر AisaMentor گروپ جؤائن کریں جہاں پر صد فی صد مفت ٹیکنیکل ایجوکیشن فراہم کی جاتی ہے۔

جگہ جگہ آپ کو سرویلنس کمیرہ لگے ملیں گے۔ کسی نہایت غیر ضروری جگہ معلوم پڑے تو اس پر اعتراض ضرور اٹھائیں، چونکہ اس میں ریکارڈنگ ہوتی ہے اور وہ کسی غلط مقصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

آپ کسی کیش اینڈ کیری میں جائیں تو سودا اٹھاتے ٹوکری میں بھرتے آپ کے پاس ایک خاتون یا حضرت آ کر کھڑے ہوں گے اور وہ پہلے آپ کو کوئی ایک پراڈکٹ تجویز فرمائیں گے اور عین اس کے بعد آپ سے نام اور فون پوچھیں گے۔ بالکل نہ دیں۔ کمپنی خواہ کتنی بھی اچھی ہو، یہ کسٹمرز کی لسٹیں آگے اچھے داموں بِکتی ہیں اس میں بیچنے والا یہ تفصیل بھی شامل کرتا ہے کہ آپ نے کتنے کی خریداری کی۔ پھر spam ایڈورٹائزنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اس پر سائبر کرائیم نے بہت اچھے سے کام شروع کر دیا ہے، مگر ابھی بھی ایسے ایسے نمبروں اور بزنسز سے میسج آ جاتے ہیں جن سے کبھی آپ نے نہ تو رابطہ کیا ہوتا ہے نہ ہی ان سے کھ خیردا ہوتا ہے۔ مثال یہ ہے کہ آپ نے دکان سے جوتا خریدا نام فون نمبر لکھوا دیا، اور دوسے دن آپ کو بینک سے پرسل لون کی آفر کی کال آ گئی۔ آپ کا نمبر آگ کی طرح پھیل جاتا ہے اور جگہ جگہ سے آپ کو میسج آتے ہیں، جو نہایت غیر ضروری ہوتے ہیں، فقظ ایڈورٹائزنگ ایک طرف، اگو کسی آپ کو دھمکی یا اغوا کے لیے بھی یہ انفارمیشن استعمال کرے تو آپ اس کا کیا کر سکتے ہیں؟ اور سب سے ضروری بات تو یہ کہ آپ یہ انفارمیشن دیں ہی کیوں، آپ نے پیسے دیے سودہ خریدا او ربات ختم۔

دوسرا انہی مالز اور کیش اینڈ کیریز کی کمپین ہوتی ہیں جن میں یہ لاکھوں فون نمبر صرف ایڈورٹائزنگ کے لیے اکٹھے کرتے ہیں، سامنے ایک جھوٹ موٹ کا لاٹری کا دربار سجاتے ہیں (گو کہ کسی کا کچھ اس لاٹری میں سے نکلتا نہیں)، مگر تمام تر لوگ ٹکٹ لے کر اس پر نام پتہ فون ای میل لکھ کر بخوشی ڈبے میں ڈالکر چلے جاتےہیں، اس سے بھی اجتناب کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply