کائنات، کرونا وائرس اور انسان: حصہ 2 —— سلمان احمد شیخ

0

سائنس کا موضوع اور اس کی افادیت

:سائنسی طرز تحقیق

آسان الفاظ میں سائنس وہ معروضی علم ہے جو تجربہ اور مشاہدہ سے حاصل ہو۔ سائنس مادہ کے بارے میں مفید معلومات جاننے کی کوشش کرتی ہے تاکہ ان معلومات سے استفادہ کیا جاسکے۔ مادی نقطہ نظر سے یہ علم مادی عوامل کی کھوج ہے تاکہ اس کے ذریعے مادہ کے استعمال کو مفید تر اور کارگر بنایا جاسکے۔

جہاں تک مادہ کے اجزاء کی تحقیق کا تعلق ہے کہ جس کے ذریعے زندگی کو سہل تر بنانے کی کوشش کی جائے، مذہب کو سائنس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر سائنس اور مذہب کے دائرہ کار کو سمجھ لیا جائے تو ان میں تصادم کا کوئی امکان نہیں۔ مذہبی بیانیہ مادہ کی تحقیق اور اس کے مادی استعمال کی مخالفت نہیں کرتا چاہے یہ استعمال انفرادی یا اجتماعی مقاصد کے لیے ہو۔

قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو بار بار اس بات کی دعوت نظر آتی ہے کہ انسان اپنے وجود، ماحول، کائنات کے نظم، تنوع اور توازن پر غور کرے اور زندگی کی تفہیم اور معنویت پر تدبر کرے۔

اس بات پر کوئی پابندی مذہب نہیں لگاتا کہ ہم مادی وسائل کو بروئے کار لائیںاور منصوبہ بندی کریں۔ بلکہ اسلام تو رہبانیت کو رد کرتا ہے۔ وہ معاشی جدوجہد کو تسلیم بلکہ اس کی تحسین کرتا ہے۔ وہ مختلف صورتوں میں آسان طریقہ کو اختیار کرنے کی تر غیب دیتا ہے جس میں آسانی اور سہولت ہو۔ مادہ اورخود عقل جسے استعمال کرکے ہم مادہ میں تصرف کرتے ہیں، اپنے وجود کی توجیہ کرنے سے قاصر ہیں۔

ہم ’کیوں موجود ہیں‘ یہ مذہب کا موضوع ہے۔ ’کیا مادہ موجود ہے اور کس طرح ‘ یہ سائنس کا موضو ع ہے۔ خود سائنسی علم میں ہی جدوجہد کرتے ہوئے کس طرح ذمہ داری، ہمدردی اور ماحول اور دیگر مخلوقات کے ساتھ سازگاری کے ساتھ رہنے کو اپنایا جائے، اس کے لیے اخلاقیات کی ضرورت ہے جو سائنسی علم سے ماورا ہیں۔ مذہب نہ صرف اخلاقیات دیتا ہے بلکہ اخلاقی اقدارکی پاسداری پر بھی زور دیتا ہے۔

پروفیسر لارنس کراس کہتے ہیں: ’کیوں کا جواب مقصد کی طرف لے جاتا ہے جب کہ ہم جب اپنی کائنات کو یا نظام شمسی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کی ضرورت نہیں محسوس کرتے کہ کسی مقصد کا تعین ہو‘۔ سائنس اور مذہب کے درمیان تصادم کی فضا اس وقت جنم لیتی ہے جب ایک ایسے ظنی نظریہ کو جس کا رد کیا جانا ممکن ہو، ایک فلسفہ زندگی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حیاتیاتی نظریہ ارتقاء مختلف نوع کی زندگی کے مادی ارتقاء کی ایک توجیہ ہے۔ اگر یہ نظریہ بالکل درست بھی ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زندگی اچانک سے بیک وقت مختلف انواع میں وجود میں نہیں آگئی بلکہ ایک ارتقائی مرحلہ میں مختلف انواع کی زندگی ظہور پذیر ہوتی چلی گئی۔ مگراس کا نقطہ آغاز ہی کیوں اور کس کی مداخلت سے ہوا، اس سے اس نظریہ کا اور بحیثیت مجموعی سائنس کا کوئی تعرض نہیں۔ اس نظریہ کے ذریعے سے تخلیق کے درمیان کے مراحل تو سمجھے جاسکتے ہیں، مگر زندگی کی معنویت اور مقصدیت کی تفہیم نہیں ہوسکتی۔

پروفیسر کارل پوپر لکھتے ہیں:

’یہ ماننا کہ ہم محض مشاہدہ سے شروع کرکے آخری حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں، ایک بے معنی بات ہے۔ ہمارا مشاہدہ بھی ہمارا انتخاب ہے اور ہماری سوچ پر منحصر ہے۔ مشاہدہ کس کا کیا جائے، کیوں کیا جائے، ہم کس میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہمارا نقطہ نظر اس کے بارے میں کیا ہے اورہماری کیا الجھن ہے جسے ہم حل کرنا چاہتے ہیں۔ ان سب عوامل کا ہمارے انتخاب ِموضوع اور مشاہدے پر اثر ہوتا ہے۔ ہماراحقیقت کو بیان کرنا بھی زبان کا محتاج ہے اور زبان ہمارے احساس، نقطہ نظر اور ترجیحات کی عکاس ہوتی ہے‘ [45]۔

سائنس سوال اٹھانے کی تحسین کرتی ہے۔ کیوں کا سوال مادی پس منظر میں اٹھایا جائے تو اس کی تحسین کی جاتی ہے۔ مگر کیوں کا سوال حقیقت کی معنویت کے ضمن میں اٹھایا جائے تو اسے قابل غور نہیں سمجھا جاتا۔ پروفیسر کیمپبل اپنی کتاب ’سائنس کیا ہے‘ میں لکھتے ہیں کہ سائنس اپنے علم اور موضوع میں ان سوالات کو کوئی جگہ نہیں دیتی جن میں حتمی جواب سائنس کے جملہ اصولوں جیسے مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعے نہیں دیا جاسکتا ہو۔ سائنس کا موضوع صرف مادی حقائق ہیں۔ اس بات پر اصرار کہ مادی حقائق کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں، یہ کچھ سائنس دانوں کا اپنا نقطہ نظر ہے اور وہ سائنس کے مضامین میں ترجیحاتِ مطالعہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے کسی عمل کا مفید ہونا اس کا حقیقی طور پر بھی لازمی مفید ہونے کو ظاہرنہیں کرتا۔ تباہ کاری میں کوئی ہتھیا ر زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ اگر مہلک ہتھیار بنانا مقصد ہے تو ایسا ہتھیار موثر اور مفید کہلائے گا ورنہ نہیں۔ حقیقی افادیت کے لیے مقصد کی افادیت ثابت ہونا ضروری ہے۔ مگر مقصدیت سے سائنس کا کوئی تعرض ہی سرے سے نہیں۔ یعنی یہ نا ممکن ہے کہ خدا کے انکار کے باوجود بھی محض سائنس سے مقصدی اور اخلاقی سوالوں کے جواب حاصل کیے جاسکیں۔ ہر نظام زندگی ایک فلسفہ حیات آپ سے آپ رکھتی ہے۔ کچھ سائنس دان محض مذہب بیزاری کی وجہ سے مذہب کے فلسفہ حیات سے جان چھڑانے کے لیے وجودی، مقصدی اور اخلاقی سوالات کی اہمیت کا ہی سرے سے انکار کردیتے ہیں۔

سائنس کا دائرہ کار مادہ کو سمجھنا، اس کے حوالے سے تجرباتی مفروضات قائم کرنا، انہیں تجربہ سے گزارنا اور اس کے ذریعہ سے مفید علم حاصل کرنا ہے۔ پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ لکھتے ہیں:

’ ہر مادی نظریہ ہمیشہ عبوری ہوتا یعنی مفروضہ پر مبنی ہوتا ہے۔ اسے ہم کبھی ثابت نہیں کرسکتے۔ چاہے جتنی دفعہ ایک تجربہ سے ایک ہی نتیجہ نکلے، ہم اس کے باوجود بھی نہیں کہ سکتے کہ اگلی دفعہ نتیجہ ہمارے مفروضہ نظریہ کے مطابق ہوگا یا نہیں‘ [46]۔

پروفیسر کارل پوپر اپنی کتاب ’سائنسی دریافت کی منطق‘ میں لکھتے ہیں: ’سائنسی کھیل یا عمل کا کوئی اختتام نہیں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ سائنس نے آخری حقیقت کو پالیا ہے اور اب مزید تجربات کی ضرورت نہیں تو گویا اس نے سائنسی عمل یا کھیل سے استعفی دیدیا‘[47]۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’ہمارا مقصد سائنس میں معروضی حقیقت، مزیدمعروضی حقیقت، مزید دلچسپ حقیقت اور مزید عقلی حقیقت کو دریافت کرنا ہے‘۔ ہم سائنس سے یقینی علم کو نہیں پاسکتے۔ جب ہم جان لیتے ہیں کہ انسانی علم غلطی کا امکان رکھتا ہے تو پھر ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم کبھی یہ نہیں یقین سے کہ سکتے کہ ہمیں علمی کاوش میں غلطی نہ لگی ہو‘ [48]۔

اس بات کو سمجھانے کے لیے پروفیسر کارل پوپر ایک مثال دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’ ہم حقیقت کو پانے کی تلاش کرتے ہیں۔ ہم اپنے نظریات کو تجربہ سے گزارتے ہیں تاکہ ان نظریات کو الگ کرکسیں جو غلط ہیں۔ اس طرح ہم اپنے نظریات کو نکھار کر اس قابل بناتے ہیں تاکہ وہ ہمارے لیے مفید کام آسکیں۔ یعنی ایک ایسا بہتر جال بچھانا کہ اس میں زیادہ سے زیادہ مچھلیا ں پکڑی جاسکیں۔ مچھلیاں ہماری مادی دنیا کے اجزاء ہیں۔ ہم اپنے نظریات کی تجرباتی تنقیح سے زیادہ سے زیادہ ان اجزاء کو اپنے علم کے دائرہ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے یہ علمی جال ہماری اپنی کاوش ہیں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ مکمل حقیقت نہیں چاہے وہ مفید ہوں اور ہمیں حقیقت کا ایک صحیح مگرنامکمل عکس دکھائیں‘ [49]۔

پروفیسر نارمن کیمپبل کہتے ہیںکہ کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ سائنس نے آخری حقیقت کو پالیا ہے۔ یہ جدید سائنس میں بھی نہیں کہا جاتا نہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر آج بظاہر جوچیز حقیقت نظر آرہی ہے اس کی ماہیت اور تفصیل مزید مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں تبدیل ہوجائے۔ کسی مادی عمل کے پیچھے جو آج وجہ سمجھی جارہی ہے، مزید معلومات آنے سے ہوسکتا ہے کہ یہ پتہ چلے کہ وجہ وہ نہیں جوہم سمجھتے آرہے تھے، بلکہ کچھ اور ہے۔ پروفیسر نارمن کیمپبل مزید لکھتے ہیں کہ ایسے کئی امور ہیں جن میں سائنس ہمیں ترجیح اختیار کرنے میں حتمی جواب نہیں دے سکتی۔ یہ بدقسمتی ہے کہ سائنس کی ان امور میں محدودیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ سے سائنس کے مفید دائرہ کار میں استعمال پر بھی اثر پڑتا ہے جب اس کے دائرہ کار کو بڑھاکر اسے اخلاقی میدان میں بھی مشعلِ راہ بنایا جاتا ہے[50]۔

البرٹ آئنسٹائن اپنے مضمون ’سائنس اور مذہب: ناقابل موافق‘ میں لکھتے ہیں: ’مقصد کو طے کرنا اور اس میں وجہ ترجیح کو بیان کرنا سائنس کے دائرہ کار سے باہر کی چیز ہے‘[51]۔ جب کہ پروفیسر نارمن کیمپبل لکھتے ہیں کہ اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ سائنس ہمیں ترجیحات، مقصد اور ان سے منسلک اخلاقی سوالوں کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں کرسکتی ہے۔ وہ کسی مادی قوت اور توانائی کو سمجھنے میں تو مدد کرسکتی ہے مگر اسے کب، کہاں، کس حد تک اور کس لیے استعمال کیا جائے، اس کے بارے میں نہیں بتاسکتی[52]۔

سائنس محض اپنے علم سے کوئی فلسفہ حیات نہیں دے سکتی جو سائنٹفک ہو۔ ہسٹن اسمتھ اپنی کتاب ’Beyond the Post-Modern Mind‘ میں لکھتے ہیں : ’زمین یا کائنات کل سے تعرض رکھتی ہے جب کہ سائنس کل کے جز سے۔ سائنس کے نظریات کائنات کے جزوی مادی حقائق سے تعرض رکھتے ہیں‘ [53]۔ سائنسی حقائق واضح ہونے کے باوجود اپنے دائرہ کار میں محدود ہوتے ہیں۔ سائنس اپنے دائرہ کار کو خود طے کرتی ہے۔ وہ اپنے دائراہ کار کو مادی حقائق کے مقداری علم تک محدود رکھتی ہے۔ اس دائرہ کار کے اندر سائنس انتہائی مفید علم ہے۔ مگر اسے اس دائرہ کار سے نکال کر جب خود علم کو ہی مادی حقائق کے مقداری علم تک محدود کیا جاتا ہے تو یہ رویہ نہ سائنسی ہے اور نہ ہی سائنس بذات خود اس پر اصرار کرتی ہے۔ ایسا کرنے سے سائنس کو نقصان پہنچتا ہے جب کسی فلسفہ حیات کو اس سے لازمی نتھی کردیا جائے۔

کو ئی بھی سائنسی نظریہ جب مادی حقائق سے اوپر اٹھ کر کسی فلسفہ حیات کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جائے گا تو ایسا کرنا سائنس کے دائرے میں نہیں آئے گا چاہے یہ کام کوئی سائنس دان ہی کیوں نہ کرے۔ سائنس کے جملہ اصول و قواعد کا پاس رکھتے ہوئے کوئی تحقیقی عمل سائنسی کہلاسکتا ہے۔ کسی سائنس دان کا کوئی بھی عمل یہاں تک کہ اس کی ذاتی پسند، ترجیحات اور نظریہ زندگی سائنس نہیں کہلاسکتا محض اس بنیاد پر کہ وہ ایک سائنس دان ہے۔ حیاتیاتی نظریہ حیاتیات کے دائرہ سے نکل کر جب ایک فلسفہ حیات کے طور پر یا عمرانی انتظام کی اساس کے طور پر پیش کیا جائے گا تو ایسا کرنا کوئی سائنسی طرز عمل نہیں ہوگا اور نہ اسے اس ضمن میں سائنس کے طور پر پیش ہی کرنا چاہیے۔

حیاتیاتی سائنس کے ماہر کنیتھ ملر کہتے ہیں کہ جب سائنس دان کوئی دعوی کرتے ہیں مذہب یا لامذہبیت کے حوالے سے تووہ سائنسی استدلال نہیں کررہے ہوتے بلکہ ایسا استدلال فلسفہ کے دائرہ میں آتا ہے۔ کنیتھ ملر کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ سائنس دان جو مذہب پر یقین نہیں رکھتے وہ اپنے فلسفہ حیات کے لیے سائنس کا کیوں کر سہارا لے رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کرنا ایک بے انصافی کی بات ہے کہ سائنسی نظریات کے وزن پر کائنات کی بغیر خدا کے تخلیق کے فلسفہ کو بیان کیا جائے جب کہ سائنس خدا کے وجود اور زندگی کی معنویت کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہ سکتی اور یہ اس کے دائرہ کار سے ہی باہر کی چیز ہے [54]۔

خالق کائنات مذہبی بیانیہ میں ہر مادی اور غیر مادی شے اور قوانین کااصل منبع وماخذ ہے۔ خالقِ کائنات ان قوانین کا بھی خالق ہے جن کے تحت مادہ اپنی ماہیت تبدیل کرتا اور غیرنامیاتی سے نامیاتی میں تبدیل ہوتا ہے۔ خالقِ کائنات نے ہی وجود اور احساس ِوجود مخلوقات میں پیدا کیا۔ ہم اپنے وجود میں ایک قسم کا ارتقاء اپنی ساخت میں بھی دیکھتے ہیں۔ ارتقاء کا پایا جانا وجود کی آخری توجیہ نہیں کردیتا نہ کرسکتا ہے۔ دوسرے جانداروں کی طرح ہم انسانوں کے جسم کی ساخت میں کائناتی مادہ شامل ہے۔ ہمارے جسم میں جو مختلف عمل ہورہے ہوتے ہیں اس کی کیمیائی توجیہ بھی کی جاسکتی ہے۔ ایک لحاظ سے ہمارا وجود کیمیاء یا حیاتیات کا موضوع ہوسکتا ہے۔ مگر یہ علوم ہمارے وجود کا کلی احاطہ نہیں کرسکتے۔ ہم حسِ جمالیات، حسِ مزاح، حسِ محبت اور حس ِاخلاقیات بھی رکھتے ہیں۔ مذہب ہماری ہڈیوں یا ڈھانچہ کو نہیں بلکہ ہماری شخصیت اور وجود سے مخاطب ہوتا ہے جواحساس اور ارادہ رکھتا ہے۔ ہماری شخصیت یا روح ہمارے و جود ہی کا ایک غیر مادی حصہ ہے۔ ہمارا جسمانی وجود کیمیائی عناصر کا مرکب ہے۔ ہمارا جسم جب تک ہم میں زندگی ہے ہماری روح اور شخصیت کا ٹھکانہ ہے۔ جانور بھی جسم رکھتے ہیں اور احساس ِوجود رکھتے ہیں اور کچھ کے جسم کے کیمیائی عناصر ہم سے بہت مماثلت بھی رکھتے ہیں۔ مگر ان کی شخصیت میں وہ پیچیدہ اور کامل حس اخلاق، حس جمالیات اور قوتِ حفظ و ارادہ اور قوتِ تدبر نہیں جو انسانی شخصیت کا خاصہ ہے۔

ہماری شخصیت میں حس اخلاق بہت اعلی صورت میں پنہاں ہے۔ ہمارے اندر اچھائی اور برائی کا احساس ہے۔ ہم اچھے عمل کا اچھا انجام اور برے عمل کا برا انجام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اچھائی اپنانا اور اپنے گردوپیش اچھائی، ایمان داری، سچائی اور ہمدردی دیکھنا چاہتے ہیں اس کائنات میں جہاں دیگر جاندار وں کی زندگی میں صرف بقاء کی جدوجہد ہے۔ مذہب بقاء کی جدوجہد یا خود بقاء کو ہی ہدف تنقید نہیں بناتا۔ وہ زندگی کو ایک نعمت قرار دیتا ہے۔ اس کی بقاء کے تحفظ کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک مثبت مقصد قرار دیتا ہے۔ مگر اس بقاء کی جدوجہد کو اخلاق کا پابند بناتا ہے۔ اس کے مطابق ہماری بقاء محض کائنات میں دیگر موجودات اور مخلوقات سے جنگ و فتح کے ذریعہ نہیں بلکہ ایک رحمان ورحیم ہستی کی عطا ہے جسے وسائل کی کوئی کمی نہیں نہ اس کے ارادہ و اختیار میں کوئی بھی رکاوٹ ہے۔

ہمارے وجود کی امتیازی خصوصیات جن کا پیچھے ذکر کیا گیا ہمارے عمل، احساسات اورفنون میں نظر آتی ہیں۔ اگر ہماری یہ خصوصیات محض ہمارے کیمیائی وجود کا مادی حصہ ہیں تو پھر ہم اپنی تجربہ گاہوں میں ہی کیمیائی عمل سے شیکسپئیر، رومی، اقبال اور پکاسو کا ادب و فن تخلیق کرسکتے ہیں اور آخرکار ہمیں کسی انسانی کاوش، ہدایت اور پروگرامینگ کی ضرورت نہ پڑے، مگر کیا ایسا ہے؟

پروفیسر رچرڈ ڈاکنز بھی کہتے ہیں کہ وہ ڈارون کے حیاتیا تی نظریہ کے تو قائل ہیں مگر اس نظریہ کو وسعت دے کر انسانی معاشرہ کی تنظیم بھی اس کی روشنی میں کی جائے، اس بات کے قائل نہیں۔ وہ خود اپنی زبان میں ڈارون کے حیاتیاتی نظریہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’کائنا ت جو کہ الیکٹرانز اور خودغرض جینزاور اندھی مادی قوتوں اور حیاتیاتی نقل پر مبنی ہے، اس میں کچھ لوگ درد اٹھائیں گے اور کچھ مسرتیں سمیٹیں گے محض قسمت کی بنیاد پر، اور اس کی کوئی وجہ یا مقصد نہیں ہوتا اور نہ ایسا کسی انصاف کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ اس کائنات کو جسے ہم دیکھ رہے ہیں اس کی تو جیہ آخرکار یہی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ارادہ، مقصد، معنویت، منصوبہ اور کوئی اچھائی اور برائی نہیں، بلکہ صرف بے رحمی اوربے بسیــ‘[55]۔

ایلیزبتھ ساہتورس ملیشیا میںعالمی ادارہ اسلامی علوم میں اپنے ایک خطاب میں کہتی ہیں:

ـ’ مغربی لادینی کائناتی علم نے ہمیں وجود کا ایک ایسا نظریہ دیا ہے جس میں ایک بے جان کائنات ایک بہت عظیم دھماکہ سے شروع ہوتی ہے اور مسلسل مادی قوتوں کے تباہ کن عمل کے بعد ارتقائی عمل سے حادثاتی طور پر زندگی کو وجود میں لاتی ہے۔ زندگی وجود میں آنے کے بعد بھی اتفاق سے کائنات کے تباہ کن مادی عوامل کے بیچ کچھ عرصہ زندہ رہتی ہے۔ پھر آخرکار تمام کائنات تباہ ہوجاتی ہے اور تباہی زندگی کو پھر سے ناپید کردیتی ہے۔ میرے خیال میں، اس سے زیادہ امید شکن اور تباہ کن نظریہ حیات نہیں ہوسکتا کہ جس میں زندگی کا وجود بھی ایک اتفاق ہو، اس کا دورانیہ بھی انتہائی مختصر ہو اور اس کی بقاء زندہ حیاتیات ہی کی ایک مسلسل بقائی جنگ سے ممکن ہوسکے اور ایک کے بعدایک طرح کی زندگی کا خاتمہ خود زندگی ہی کرے یہاں تک کہ بے جان مادہ تباہ کن عمل سے اس اتفاقی زندگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیـ‘[56]۔

حس اخلاقیات اور ضمیر رکھتے ہوئے ہم ناانصافی، ظلم، زیادتی اور جھوٹ کوناپسند کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زندگی اور اس کے معاملات انصاف کی بنیاد پر نہیں طے پارہے ہوتے۔ کبھی تو ناانصافی، ظلم اورزیادتی کرنے والے ہی زیادہ مالدار، اثرورسوخ اور شہرت رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل میں ایمان دار، سچے اور با اخلاق لوگ کئی دفعہ اذیت، محرومی اور ظلم کے زور تلے اپنی زندگی گزارتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ انہیں اپنی کوششوں، محنت اور ایمان داری کا مبنی بر انصاف صلہ نہیں ملتا۔ کبھی یہ محرومی صرف ایک فرد کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ پوری قوم اور خطہ کا نصیب ہوتی ہے۔ اگر حیاتیاتی نظریہ ہی آخری اور کامل حقیقت ہے تو پھر اس کے بارے میں مضطرب ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ مگر ہمارا اخلاقی وجود ظلم، نا انصافی اور زیادتی کے بارے میں لاتعلق اور بے حس نہیں رہ سکتا۔

ڈینیئل ڈینیٹ لکھتے ہیں: ’احساس وجود کی توجیہ اب ایک آخری معمہ ہے سائنس کے لیے‘[57]۔ مگر اس کے حل میں کوئی ابتدائی منزل بھی ابھی تک نہیں آئی۔ پروفیسر میشیو کاکو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’کوئی بیس ہزار سے زیادہ تحقیقی مقالے لکھے جاچکے ہیں شعور کی توجیہ میں مگر کوئی پیش رفت اور اجماع نہیں ہوسکا۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ اتنی تعداد میں لوگ ایک معہ کو حل کرنے کے لیے اپنی توانائیاں خرچ کریں اور وہ اس حد تک لاحاصل ثابت ہو‘[58]۔ نہ صرف یہ کہ شعوری احساس کی کوئی توجیہ نہیں ہوپارہی بلکہ یہ شعور آیا ہی کہاں سے، اس کے بارے میں بھی ہم سائنس کے ذریعہ کچھ نہیں جانتے۔ اس بنیاد پر سائنس دان بجائے اس معمہ کو سلجھانے کے الٹا یہ تصور کرنے لگے ہیں کہ شعور کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔

مذہب ہماری شخصیت سے مخاطب ہوتا ہے اور اسے پاکیزہ بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ہمیں ہمارے جسم یا اس کے کسی فعل کے حوالے سے بھی مذہب میں کوئی رہنمائی ملتی ہے تو اس کا مقصد جسم کی پاکیزگی اور اپنے آپ سے دوسروں کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ چاہے ہمارے جسم کی ساخت میں ماضی اور حال میں جو بھی کیمیائی تبدیلیاں ہورہی ہوں یا ہوتی رہی ہوں، مذہبی نظریہ حیات کا اس سے کوئی تعرض نہیں۔

مذہب آغازِوجود کوایک خالق کائنات کے ارادہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کیمیائی عناصر اور قوانین بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ تخلیق ایک طرح یا کسی دوسری طرح سے ہوئی، مذہبی ہدایت اس سوال سے تعرض نہیں کرتی۔ وہ ہمارے شعوری وجود کو مخاطب کرکے بتاتی ہے کہ ہمیں اخلاقی حس دی گئی ہے اور ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اچھے اخلاق کو اپنائیں۔ یہ حس اخلاق کوئی مرئی مادہ نہیں جو ہمارے جسم کا حصہ ہو۔ مگر اس کی موجودگی کی شہادت ہر ذی شعور انسان اپنے وجود سے دے سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ اتنی بڑی حقیقت جس کا ثبوت ہم اپنے باطن میں پاتے ہیں اور اس کا حسی شعور رکھتے ہیں، وہ محض غیر مرئی ہونے کی وجہ سے ایک لامذہب سائنسدان جو صرف مرئی حقیقتوں پر یقین رکھتا ہے، کو تسلیم نہیں۔

ہمارے جسم میں ہوسکتا ہے بیکٹیریا کی ویسے ہی کالونیز ہوں اورویسے ہی خلیات ہوں جیسے کہ جانوروں میں ہیں۔ مگر ہماراوجود صرف کیمیائی عناصر سے ہی پوری طرح بیان نہیں ہوتا۔ ہمارا اخلاقی اور جمالیاتی شعور و احساس ہمارے وجود اور شخصیت کا حصہ ہے۔ یہ ہمیں صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ہم اچھائی کا نہ صرف تصور رکھتے ہیں بلکہ اسے اپنانا چاہتے ہیں اور اسے اپنے گردوپیش دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخرت میں جواب دہی اور کامل انصاف کا تصور شعوری احساس کے تحت عمل کا کامل انصاف ملنا ہے جسے سائنس میں cause and effect کہا جاتا ہے۔ آخرت کا تصور cause and effect کو اخلاقی میدان میں بھی روبہ عمل کردیتا ہے۔ ہر شعوری عمل کو کامل انصاف ملے گا، اچھے عمل کا اچھا صلہ اور برے عمل کا برا صلہ۔ یہ تصور ہر انسان کی زندگی کے ہر شعوری عمل کو بامقصد اور بامعنی بنادیتا ہے۔ یہ کائنات کے ازلی اور ابدی اندھے، بے حس، بے ارادہ، بے رحم تباہ کن عمل کے دوران اتفاق اور قسمت سے اچھے اور برے انجام کے بالمقابل ایک دوسرا نظریہ حیات ہے۔ اس کے ذریعہ اخلاقی روش اپنانا ایک شعوری اور کامل سودمند عمل ہے اور جو ایسی نفسیات اور اخلاق کو جلاِ بخشتا ہے جس میں سچائی، ناانصافی، ایمان داری، صلہ رحمی، ہمدردی اور ذمہ داری کی قدر ہو اور اس کا کامل صلہ آخرت میں ملے۔

کرونا وائرس نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ وائرس اور بیکٹیریا کے مقام پر کائنات ایک بقائی جنگ ہے جہاں ہر عمل بقاء کے مقصد کے تحت ہوتا ہے۔ مگر خالق کائنات نے ہماری شخصیت اورروح کی بقاء محض جسم کے کیمیائی عناصر کی بقاء میں نہیں رکھی ہے۔ اس نے ہماری شخصیت میں اخلاقی حس دے کر اس کی بقاء اخلاقی روش اور پاکیزگی پر رکھی ہے۔ جسم کی بقاء کرونا وائرس سے ہو بھی گئی تو بھی اسے کل کسی اور وجہ سے یہ جنگ ہار ہی جانا ہے۔ اپنی اخلاقی شخصیت کو بھلاکر زندہ رہنا کرونا وائرس کی طرح رہنا ہے جو اپنی بقاء کے لیے صرف بقاء کی جنگ کے اصولوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اگر ہم اخلاقی شعور کے مطابق اخلاقی طرز عمل اپناتے ہیں تو ہماری شخصیت کو وہ بقاء اور دوام حاصل ہوگا جس کا کوئی ویکسین بھی اس دنیا میں دعوی نہیں کرسکتی۔ ایسا ہونا cause and effect کو ہمارے اخلاقی وجود کے لیے بھی ممکن بنادے گا۔ ایسا ہونا یہ بھی ثابت کردے گا کہ کائنات کے ہر نامیاتی اور غیر نامیاتی مادہ میں الٰہی حکمت اور مشیت کے تحت cause and effect روبہ عمل ہے۔

انسانی جسم میںکرونا وائرس کا علاج حیاتیاتی سائنس کی روشنی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مگر انسانی شخصیت کے بگاڑ کا علاج اخلاقی پاکیزگی میں ہے۔ اخلاقی پاکیزگی اپنانے کی طرف میلان اور رغبت اس وقت پیدا ہوگی جب انسان اپنے اخلاقی وجود کا شعور رکھے اور اسے ضروری سمجھے۔ اگر بقاء ہی آخری ہدف ہے تو اخلاقی پاکیزگی ترجیح یا بنیادی ہدف نہیں ہوگا۔ اگردنیا وآخرت میں بقاء اور فلاح خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے اور اس نے آخرت کی ہمیشگی فلاح کو اخلاقی پاکیزگی سے مشروط رکھا ہے تو اس فلسفہ حیات میں اخلاقی عمل کی طرف ایک واضح ترغیب، ترجیح اور نصب العین ہوگا۔

لادینی فلسفہ حیات میں بقاء کی جنگ کو ہر قسم کی حیاتیات جن میںجانور، نباتات، انسان، بیکٹیریا اور وائرسزسب شامل ہیں، ایک دن ہارجائیں گی۔ ہمیں آزادی توہے کہ ہم اپنا مقصدِ حیات اس دنیا میں خود طے کریں۔ کچھ کروڑوں سانسیں لینے کا موقعہ جو ایک عام زندگی میں لینے کو ملتا ہے انہیں ہم بھرپور طرح سے گزارنے کی کوشش کریں۔ مگر فرحت کی تلاش میں سانسیں لینا زندگی گزارنے کا ایک ڈھنگ تو ہوسکتا ہے، مگر زندگی کی توجیہ نہیں۔ مذہب جمالیاتی احساس کو دباتا نہیں ہے۔ اپنی جسمانی، نفسانی اور جمالیاتی ضروریات کو روکنا مذہب کی تعلیم نہیں۔ وہ تو خالق کائنات کی جنت کے تصور میں بھی انسان کی جسمانی، نفسانی اور جمالیاتی خواہشات کی تسکین کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کا زور اخلاقی وجود کی پاکیزگی پرہے جس میں خالق کائنات کی عبادت بھی اس سے اوراسی سے شکر کا اظہار ہے۔

زندگی کی توجیہ کے لیے ضروری ہے کہ محرومیوں، تلخیوں، ظلم اور زندگی کی ناتمامیوں کی بھی توجیہ ہو۔ بہت سے لوگوں کی زندگی اور یہاں تک کہ موت بھی ظلم و ناانصافی کے ساتھ بسرہوتی اور ختم ہوتی ہے۔ ظالم، بے ایمان، جھوٹے اور بد عہد کئی دفعہ ان برے اعمال کے باوجود قانون سے بالا تر ہوتے ہیں اور ان کی زندگی اور موت دونوں مادی آسودگی میں بسرہوتی اور ختم ہوتی ہے۔ کیا زندگی صرف ایک کھیل ہے بقاء کی جنگ کا جس میں کچھ لوگ خوش قسمت اور کچھ بدقسمت ہوتے ہیں۔

ایک خالق کائنات پر یقین انسان میں عاجزی اور انکساری پیدا کرتا ہے کہ خالق وہ نہیں بلکہ ایک اللہ ہے۔ انسان دوسری مخلوقات کی طرح اس ایک اللہ کی ہی مخلوق ہے۔ اس کی بقاء اس کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا اخلاقی احساس ایک اتفاق نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کے عمل کا اخلاقی اور غیر اخلاقی پہلو وسیع کائنات میں گم ہوجانے والا نہیں بلکہ ایک کامل حکیم و سمیع و بصیر ہستی کے مکمل علم میں ہے اور انسان اپنے ہر عمل اور ارادہ پر جواب دہ ہے۔ حقیقت کا یہ ادراک انسان کی زندگی کے ہر پہلو اور عمل کو بامعنی بنادیتا ہے۔ مذہب انسان کی شخصیت پرچند اخلاقی پابندیاں اور حدود ہی لگاتا ہے جس سے انسان کی شخصیت اپنے لیے، دوسروں کے لیے اور معاشرے اور ماحول کے لیے سراپا خیر بن سکتی ہے۔ ایک طرف تاریک کائنات میں اندھی قوتوںکا بلاارادہ و نظم اور بے رحم عمل کا نظریہ ہے جس سے اتفاق سے کبھی کوئی زندگی روشن ہوتی اور پھر بقاء کی جنگ ہار کربھج جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ فلسفہ حیات کہ نہ قوانین آپ سے آپ وجود میں آگئے اور نہ مادہ۔ انسان بے جان مادہ کا محض ڈھیر ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی شعور رکھنے والی ہستی ہے۔ اس کا وجود میں آنا اور انسانی زندگی کی بقاء ایک اتفاق نہیں بلکہ خالق کائنات کی نعمت ہے۔ اس کا وجود بے مقصد نہیں۔ اس وجود اور شخصیت کی اخلاقی پاکیزگی پر اس کی آخرت میں فلاح منحصر ہے۔ اس دنیا میں انصاف کامل اس لیے نہیں کہ یہ آزمائش کی جگہ ہے جس میں انسان کو بھی ایک محدود اختیار دیا گیا ہے جس کے سوء استعمال سے ظلم جنم لیتا ہے۔ مگر اس دنیا کی زندگی کے بعد آخرت میں فلاح و سزا کامل انصاف پر مبنی ہوگی۔

کتاب ’خودغرض جین‘ کے مصنف پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے کہا تھا کہ ارتقاء زمین پر سب سے بڑا ڈرامہ ہے۔ ہم ڈرامہ کے کرداروں سے تو متعارف ہوتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ ڈرامہ کون چلا رہا ہے اور اس ڈرامہ کا مقصد کیا ہے۔ ہم سب بھی کسی نہ کسی موقع پر اس ڈرامہ کا حصہ بنتے ہیں۔ اس ڈرامہ کی ابتداکی کچھ اقساط غائب ہیں۔ ڈرامہ کے اسکرپٹ میںابتدائی صفحات خاموش ہیں۔ ابتدا میں کوئی زندہ کردار نہیں ہیں۔ صرف منظر میں ماحول کی تفصیلات ہیں۔ ایک ایک کر کے کردار سامنے آنے لگتے ہیں۔ ان دیگر کرداروں اور ان کی جسمانی صفات کو جان کر ہم اس ڈرامہ کے پروڈیوسر یا ڈائریکٹر نہیں بن جاتے۔

ارتقائی حیاتیات کے کچھ ماہرین جو کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے ڈرامہ کی پچھلی اقساط کا پلاٹ بغور پڑھتے ہیں۔ لیکن کچھ اہم مناظر سے صرف نظر کرجاتے ہیں جس پر پورے اسکرپٹ کی بنیاد ہے۔ وہ اس نکتہ کوسمجھنے سے بھی محروم رہتے ہیں کہ مصنف اپنے آپ کو واضح طور پر متعارف کروا کر کوئی کہانی شروع نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے کرداروں کا تعارف کراتا ہے۔ ارتقائی حیاتیات کے کچھ ماہرین جو کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے اسکرپٹ سے جو کچھ نقل کرکے ڈرامہ کی وضاحت کررہے ہیں وہ ضروری نہیں کہ غلط معلومات ہوں مگر وہ مکمل معلومات نہیں ہیں۔ شاید وہ اپنی پسند کے حصوںکاہی حوالہ دے رہے ہیں اورانہیں ہی بار بار پڑھتے ہیں۔ لیکن یہ ڈرامہ آخر ہے ہی کیوں ؟اس میں جو کچھ ہو رہا ہے کیوں ہورہا ہے؟ اسے کون چلا رہا ہے؟ اس ڈرامہ میں انسانوںکا کردار کیا ہے؟ ہم صرف ڈرامہ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سے جان سکتے ہیں۔ اس نے ہم سے اپنے کچھ کرداروں کے ذریعہ بات کی ہے۔ اس کی اہم تفصیلات اسکرپٹ کے اندر ان رسولوں کی زندگیوں اور تحریری مکالموں کے ذریعے دستیاب ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کی آنکھیں صرف ان چیزوں پر مرکوز ہوتی ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس ریموٹ ہے جہاںسے اسکرپٹ میں مختلف جگہ پرانہیں پورے پلاٹ کے جوابات مل سکتے ہیں۔ لیکن، وہ ان تفصیلات کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہیں وہ مناظر پسند ہیں جہاں ہر کوئی دن رات متوقع انداز میں اپنا کردار ادا کرتارہتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل کی اقساط کے بارے میں پیشن گوئی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پلاٹ کے صرف منتخب مناظر ہیں، لیکن پورا پلاٹ نہیں۔ لیکن، پورے پلاٹ پر توجہ دینے سے انکار پر پلاٹ تبدیل نہیں ہوگا۔ بالآخر جب ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے تواختتام وہ نہیں ہوگا جو اس کے کردار چاہتے ہیں، بلکہ وہ ہوگاجو اس ڈرامہ کا مصنف چاہتا ہے۔

ڈرامہ میں انسانی کرداروں کو پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اپنی مرضی کے مطابق کردار کے کچھ پہلوؤں کوادا کرنے کاموقع دیتے ہیں۔ کچھ انسان اس آزادی اور اس کی حدود کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ آزادی کی حدکو نظر انداز کرجاتے ہیں اور یہاں تک کہ پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی استعداد کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ دوسرے غیر جاندار اور بظاہر کمزور اور چھوٹے کردار بعض اوقات ڈائریکٹر انسانی کرداروں میں عاجزی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ انسانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود بنائیں۔ اگر وہ ڈائریکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں توڈائریکٹر ان کو اس سے بھی بڑے ڈرامہ کے لیے سائن کرلے گا جو دوبارہ کبھی ختم نہ ہونے کے لیے شروع ہو گا اور جو نیک کرداروں کو بغیر کسی غم، دکھ اور پابندی کے اپنے کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

بعض اوقات یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کائنات اور دیگر حیاتیات کا مقصد کیا ہے؟ کائنات میں انسانوں کا وجود شروع ہونے سے پہلے اربوں سال انتظار کیوں تھا؟ جانوروں اور پودوں میں طرح طرح کی زندگی کی مختلف شکلوں کا مقصد کیا ہے؟ دوسرے سیاروں پر زندگی کیوں نہیں ہے؟

وقت میں کمی یا زیادتی کا تصور مطلق نہیں ہے۔ کرہ ارض پر انسان کا وقت کا تصور یہ ہے کہ ہم کتنے عرصہ میں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین سورج کے گرد اور اپنے محور کے گرد چکر مکمل کرتی ہے۔ اسی سے ہمارے ایام و سال کا تعین ہوتا ہے۔ زہرہ اور مرکری وہ سیارے ہیں جو سورج کے گرد اپنا چکرجلدی مکمل کرلیتے ہیں اور اپنے محور کے گردچکرمکمل کرنے میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ زہرہ اور مرکری کے دن ان کے سالوں سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔ یعنی سورج کے گرد چکر لگانا تیز ہوتا ہے جو سالوں کا تعین کرتا ہے اور ان کے محور کے گرد گردش سست ہوتی ہے جو دنوں کا تعین کرتی ہے۔ بظاہر یہ بات حیران کن لگتی ہے مگر یہ حقیقت ہے۔

زندگی کی مختلف شکلیں موجود ہیں اور ان میں شعور بھی ہے۔ ان حیاتیات کی زندگیاں ہمیں جسم اور سوچ دونوں کے لیے غذا فراہم کرتی ہیں۔ ہم اپنی جسمانی ضروریات کے لیے پودوں، درختوں اور کھیت کے جانوروں سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ ہم اپنی حفاظت اور سفر کے لیے کچھ جانوروں کو استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بیکٹیریابھی فضلے کو تحلیل کرنے میں اہم کردار اداکرتے ہیں اورکئی ادویات اور ویکسین میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے یہ زندگی کی مختلف شکلیں ہماری بقاء کا ذریعہ ہیں اور اس میں معاون ہیں۔ انسان بطور صارف اپنے رزق کے لیے قدرت پر زیادہ انحصار کرتا ہے یہاں تک کہ پودوں سے بھی زیادہ جو اپنی خوراک خود پیدا کرتے ہیں اور انسانوں سمیت دیگر جانوروں کو غذائی اجزا فراہم کرتے ہیں۔

جانوروں پر غور کرتے ہوئے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی حدود ہیں۔ وہ جبلت پر زندگی بسرکرتے ہیں۔ وہ ماضی بعیداور مستقبل کو دیکھنے کی جبلت کے تقاضوں کے علاوہ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ وہ بقا کی جبلت پر کام کرتے ہیں۔ کیا انسانوں کو بھی ان جیسا ہونا چاہیے اور کیا فی الواقع ہم مکمل طور پر اپنی جبلت کے ہی اسیر ہیں۔ کیا ہم صرف بقا اور جانوروں کی جبلت پر توجہ دیں؟ ہم اپنے داخلی احساس سے جانتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک واضح اور مضبوط اخلاقی ضمیر ہے اور ہمارے ارادہ میں اچھائی اور برائی کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ ہمارے پاس نہ صرف یہ پہچان کی طاقت ہے بلکہ معاشرے میں نیکی، عدل اور انصاف کو دیکھنے کی شدید خواہش بھی ہے۔ ہم کبھی بھی دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ سلوک کرنا پسند نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ جو برے طریقوں سے کام کرتے ہیں، وہ بھی برے کاموں کو برا سمجھتے ہیں۔ بعد از زندگی میںاحتساب پر یقین جیسا کہ توحیدی عقیدے میں شامل ہے آزادانہ مرضی سے کیے گئے اعمال کے لیے فیصلہ کن نتائج دے کر زندگی کو معنویت اور مقصدیت دیتا ہے۔ یہ اخلاقی معاملات میں وجہ اور اثر (Cause and Effect)کا رشتہ مکمل کرتا ہے۔ اسٹیون وین برگ نے ایک بار ریمارکس دیے تھے کہ جب ہم خاموش اور تاریک کائنات کو دیکھتے ہیںتو یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ بے معنی ہے[59]۔ تاہم مذہبی نظریہ حیات ہر انسان کی زندگی کو بامقصداور معنی خیزبناتا ہے۔

غیر جاندار مادہ (Abiotic Matter) بھی ہمارے لیے ر زق کی فراہمی میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ اگر مشتری اور زحل سیارے زمین کے گرداسی طرح چکر نہ لگارہے ہوتے جیسے کہ فی الواقع لگارہے ہیں تو زندگی ہمارے سیارے پر قدم جمانے کے قابل نہیں ہو سکتی تھی۔ ان سیاروں نے نظام شمسی کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔ زمین اور دوسرے اندرونی، پتھریلے سیاروں کو بڑی تیزی سے چلنے والے مادہ کے ڈھیر سے ٹکرانے سے بچایا[60]۔ سورج اور چاند ہمیں روشنی دیتے ہیں اور ان کی مقررہ حرکتیںطوالت اور درجہ حرارت کے لحاظ سے ہمارے دن اور رات کو رہنے کے قابل بناتی ہیں۔ سورج اور چاند کی کشش ثقل کی وجہ سے ہمارے پاس جوار (Tides)ہے۔ سمندر اور دریا ہمیں خوراک اور پانی دیتے ہیں۔ اسی طرح جنگلات، جنگلی حیات، پہاڑ اور زندگی کا تنوع مل کر ماحولیاتی توازن فراہم کرتے ہیں جو زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

بحیثیت انسان، جب ہم اپنے باطن کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بھی جانوروں کی طرح بقا کی جبلت ہے۔ لیکن ہمارے پاس صحیح اور غلط میں فرق کرنے کا معیار یعنی ضمیر بھی ہے۔ ہمارے دماغوں میںماضی کی یادیں، جذبات اور ذہانت ہے تاکہ ہم اسے استعمال کرکے جسمانی حقیقت سے آگے بڑھیں اور وجودی سوالات کے جوابات تلاش کریں۔ ہماری جمالیاتی حس خوبصورتی، فن، ثقافت اور فطرت کو پسند کرتی ہے۔ ہمارے پاس ذہنی صلاحیت بھی ہے کہ جسے ہم اشیاء کو بڑی اور طاقتور بنانے میں اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیںتاکہ ہم اپنی جسمانی حدود سے تجاوز کر سکیں۔ سائنس نے ہمیں مادے کو مفید طریقوں سے استعمال کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔ تاہم جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے، ہمارے پاس ضمیر بھی ہے۔ ہمارے اندر اخلاق اور اقدار ہیں۔ مذہب ہماری اخلاقی شخصیت کو مخاطب کرتا ہے تاکہ ہم اسے پاکیزہ بنائیں۔

ایک انسانی بچہ کو زندہ رہنے کے لیے پرورش اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری بقا کی ضروریات کے لیے دوسروںپر انحصار کرنے کا یہ تجربہ ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ جوانی میں اپنی طاقت اور اعلیٰ صلاحیت کے باوجود ہم ایک کمزور وجود تھے اور اپنی کمزوریوں کو نہ بھولیں۔ بعض اوقات ایک وائرس ہماری معمول کی زندگی میں تباہی پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ شعور، اعلی عقل اور علم کے نسلوں سے نسلوں تک منتقل ہونے کے باوجود، ہم اب بھی کمزور ہیں۔ ہم خدا نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ وبائی امراض اور قدرتی آفات ہمیں سوچنے کی دعوت دیتی ہیں کہ اگر زندگی کسی ایک یا دوسری وجہ سے بالآخر ختم ہونے والی ہے تو پھر زندگی کا مقصد اور معنی کیا ہے۔ اگر ہمیں ایک خالق نے تخلیق کیا ہے تو پھر ہماری زندگی کے لیے کیا مقصد متعین کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس مستقبل کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔ اپنی آزاد مرضی کا استعمال کرتے ہوئے اچھے اخلاق اور نیک زندگی ہمیں اس قابل بنا سکتی ہے کہ ہم اس دنیا میں جو کچھ نہیںبھی حاصل کرسکتے اسے کامیابی کے ساتھ آخرت میںحاصل کریں، یعنی ہمیشہ کی زندگی، ذہنی سکون، فطرت کی رکاوٹوں سے چھٹکارااور جس میں ماضی کا نہ کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ آیا ہم مستقبل کے ان امکانات کو دیکھتے ہیں جس کے لیے ہمارے پاس صلاحیت ہے یا ہم اپنی بقا کی جبلتوں کے آگے جھک جاتے ہیں اور ایک اور زندگی کی شکل کے طور پراس کائنات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

سائنس سے اعراض معاشرے میں مذہب اور سائنس دونوں کے دائرہ کار کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنس کو فروغ دینے میں رکاوٹ خود سائنس دان بھی نادانستہ طور پر پیدا کرتے ہیں جب وہ اپنے ذاتی خیالات کو سائنس کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ پاکستان میں ایک معروف فزکس پروفیسر پرویز ہودبھا ئی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

’اگر مسلم معاشرے ٹیکنالوجی کومحض استعمال کرنے کے بجائے اسے ترقی بھی دینا چاہتے ہیں تو بے رحم مسابقتی عالمی مارکیٹ اعلی مہارت کے لیے بھرپور نظم وضبط، یک سوئی اور انہماک پرزور دے گی۔ یہ مطالبات مذہبی تقاضوں کے ساتھ آسانی سے مطابقت پذیر نہیں ہیں جو مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ پانچ وقت روزانہ باجماعت نماز میں حصہ لیں، ایک مہینہ روزہ رکھیں اور روزانہ قرآن کی تلاوت کر تے رہیں‘[61]۔

واٹر لو میں پیریمیٹر انسٹی ٹیوٹ برائے نظریاتی طبیعیات کے ڈائریکٹر نیل تورک نے حال ہی میں تبصرہ کیا کہ 1970 کی دہائی کے بعد سے کیے گئے تمام نظریاتی کاموں میں سے کوئی ایک بھی نئی تھیوری پیدا نہیں ہوئی۔ سائنس میں کئی اہم دریافتیں 19 ویں اور 20 ویں صدی میں کئی ایسے سائنس دانوں کے کاموں کے ذریعے ہوئی ہیںجو خدا پر یقین رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ جدید سائنس کے صرف پچھلے 500 سالوں میں بہت سارے سائنس دان مذہبی تھے جن میں آئزک نیوٹن، نکولس کوپرنیکس، جوہانس کیپلر، رابرٹ بوئل، ولیم تھامسن کیلون، مائیکل فراڈے، جیمز کلرک میکس ویل، لوئس پاسچر اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان شامل ہیں۔ جیسے:

۱۔ میکس پلانک
۲۔ گگلیلمو میکرونی
۳۔ رابرٹ اے ملیکن
۴۔ ایرون شروڈنگر
۵۔ آرتھر کمپٹن
۶۔ اسیدور اسحاق ربی
۷۔ میکس بورن
۸۔ ڈیرک بارٹن
۹۔ نیول ایف موٹ
۰۱۔ چارلس ایچ ٹاؤن
۱۱۔ کرسچن بی اینفنسن
۲۱۔ جان ایکلس
۳۱۔ ارنسٹ بی چین
۴۱۔ انٹونی ہیوش
۵۱۔ ڈینیل نیتھنس
۶۱۔ عبدالسلام
۷۱۔ جوزف مرے
۸۱۔ جوزف ایچ ٹیلر
۹۱۔ ولیم ڈی فلپس
۰۲۔ والٹر کوہن
۱۲۔ احمد زیویل
۲۲۔ عزیز سانکر
۳۲۔ جرہارڈ ارٹل

چنانچہ سائنس کے مشعل برداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار کو جانیں اور اس بات کو اجاگر کریں کہ وہ معاشرے کو بیماریوں کے علاج، خوراک کی پیداوار کو بہتر بنانے اور نقل و حمل اور مواصلاتی نظام کو آسان بنانے کے حوالے سے کیامفید علم پیش کر سکتے ہیں۔ مذہب پر ایمان رکھنے والوںکا مذاق اڑانے سے وہ صرف باایمان لوگوں کی ہی دل آزاری نہیں کررہے ہوتے بلکہ سائنس دانوں کی بھی ایک وسیع تعدادکی جو سائنس دان ہیں لیکن ملحد نہیں۔

سائنس کو واحد ذریعہ علم جاننے کی روش اور اس کے اثرات

جیسا کہ طبیعیات کو تمام سائنسی علم میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح علم معاشیات کو تمام سماجی علوم کی ماں سمجھا جاتا ہے۔ طبیعی سائنس دانوں نے خیال کیاکہ جب ہم خلا میں جاسکتے ہیں، کائنات کے دور دراز علاقوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں اور کائنات میں پیش آنے والے کئی واقعات کی ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کرسکتے ہیں تو کیوں نہ انسانوں کے معاشی رویے اور مارکیٹ کے نتائج کی بھی پیش گوئی کرنے کی کوشش کریں۔ کائنات کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت توکچھ بھی نہیں۔

جب سائنس دان چاند اور مریخ پر پہنچ سکتے ہیں، بلیک ہولز دریافت کرسکتے ہیں، کشش ثقل کی لہروں کو دریافت کرسکتے ہیںتو کیوں نہیں انسانی رویہ کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیںجب کہ حیاتیاتی سائنس اس فلسفہ سے انس رکھتی ہے کہ انسان کا ہر عمل کسی نہ کسی طرح بقاء اور خودغرضی کے مقصد کے تحت ہی ہوتا ہے۔ کیوں نہیں سائنس انسان کے بارے میں بھی حقیقت کا مطالعہ نہیں کرسکتی جب کہ اس نے ایسے قوانین بھی دریافت کیے ہیںجو صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ زمین سے باہر بھی قابل اطلاق ہیں۔

فلکی طبیعیات کے ماہر پروفیسر مشیو کاکو نے اپنے نیو یارک ٹائمز کالم میں لکھا:

’ہم کامل سرمایہ داری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں سپلائی اور ڈیمانڈ کے قوانین چلتے ہیں۔ جہاں بھی کوئی قوانین کارفرما ہوں جو یونیورسل ہوں تو سائنس اور ریاضی سے ہم ٹھیک سے جان سکتے ہیں کہ کس پروڈکٹ کی کیا طلب اور رسد ہوگی۔ ان معاملات میں سائنس اور ریاضی کا استعمال مارکیٹ میں تجارت کو زیادہ موثر بنادے گا‘[62]۔

وہ سائنس دان جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سائنس واحد ذریعہ علم ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ تجرباتی طریقہ زندگی کے تمام معاملات میں واحد ثالث ہے، انہیں اپنے اس دعوی کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں معاشیات کے شعبہ علم کو دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں طبیعیات کے تصورات اور مصادر علم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سائنس اخلاقیات، مقاصد کی وضاحت، عوامی پالیسی اور سیاست میں ثالث نہیں بن سکتی، لیکن یہ جانوروں کے رویہ ( مفاد پرستی اور بقا کی جبلت ) سے تشبیہ لے کرانسان کے معاشی رویے کی وضاحت کرنے میں بھی ایک قابل اطمینان ذریعہ علم نہیں بن سکتی۔

پچھلی نصف صدی سے ریاضی اور طبیعیات کے تصورات کو معاشیات میں بہت زور و شورسے استعمال کیا گیا۔ طبیعیات کے کچھ تصورات جو معاشیات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
1. Equilibrium
2. Efficiency
3. Steady State
4. Input
5. Output
6. Open System
7. Closed System
8. Dynamic System
9. Static System
10. Friction
11. Velocity
12. Speed
13. Acceleration
14. Momentum
15. Inflation
16. Inertia
17. Gravity
18. Leverage
19. Randomness
20. Expansion
21. Signals
22. Collusion
23. Elasticity
24. Waves
25. Drift
26. Buoyancy
27. Bending
28. Cycle
29. Drag
30. Parity

ریاضی کے کئی مصادر علم بھی علمِ معاشیات کی تحقیقات میں استعمال ہوتے ہیں جیسے:

1.Differential Calculus
2. Integral Calculus
3. Linear Algebra
4. Real Analysis
5. Spectral Analysis
6. Chaos Theory
7. Linear Programming
8. Classical Statistics
9. Bayesian Statistics
10. Stochastic Processes
11. Fourier Analysis
12. Fuzzy Logic
13. Neural Networks

. یہ استعمال اس قیاس پر مبنی ہے کہ مادی ذرات کی حرکات کی پیش گوئی کے لیے استعمال ہونے والے ذریعہ علم کو کسی شعوری حیاتیا ت کے طرز عمل کی وضاحت میں بھی کامیابی سے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعہ انسانی معاشی طرزعمل کی وضاحت بھی ممکن ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا کامیابی حاصل ہوئی اور اس کے لیے زیادہ دور جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ نہ صرف معیشت دانوں کی اکثریت اپنے ماڈلز سے 2007 کے عظیم مالیاتی بحران کی پیش گوئی نہیں کر سکی، بلکہ اس کے امکان کو بیان کرنے میں بھی ناکام رہی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے ماڈلز نے یہ پہلے سے قیاس کیا ہوتا ہے کہ مارکیٹیں ہمیشہ موثر طور پر کام کرتی ہیں اور طلب ورسد کے درمیان کوئی فرق دیر تک نہیں رہ سکتا۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پال کروگمین لکھتے ہیں:

’کچھ ہی معیشت دانوں نے ہمارے موجودہ بحران کو آتے دیکھا، لیکن یہ پیش گوئی ہمارے علم میں کوئی جگہ نہ بناسکی اور اسے کسی نے مسئلہ نہیں سمجھا۔ مارکیٹ کی معیشت میں تباہ کن ناکامیوں کے امکان کو مسترد کردیا گیا تھا۔ جدید معاشی علم کے سنہری سالوں کے دوران، مالیاتی ماہرین کو یقین تھا کہ مارکیٹیں فطری طور پر مستحکم ہوتی ہیں۔ بے شک، اسٹاک اور دیگر اثاثوں کی قیمت ہمیشہ صحیح ہوتی ہے اور اس پر جوئے اور سٹہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مروجہ ماڈلز میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو کہ پچھلے سال ہونے والی تباہی کے امکان کو ظاہر کرسکتا تھا‘[63]۔

امریکہ میں فیڈرل ریزرو بینک کے لیے طویل عرصے کام کرنے والے چیئرمین ایلن گرین اسپین کو معیشت کے البرٹ آئنسٹائن کے طور پرجاناجاتا تھا جن کے پاس وسیع علم اور تجربہ تھا اوروہ معیشت کی نبض پر کنٹرول رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے فوری ریمارکس میں اعتراف کیا کہ وہ ششدر رہ گئے ہیںاور انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔

2007کے عظیم مالیاتی بحران کے آغاز پر پالیسی سازوں کے استعمال میںجدید ماڈلز بھی کوئی پیش گوئی نہیں کرسکے۔ بلکہ بحران سے نمٹا کیسے جائے اس کے بارے میں بھی کوئی بات ان ماڈلز سے نہیں پتہ چل سکتی تھی۔ ان متفقہ ماڈلز کی اس مایوس کن کارکردگی نے معاشی ماہرین کو شرمندہ کردیا اور ان کی پوری دنیا میں اور خود امریکہ میں بہت سبکی ہوئی۔

نوبل انعام یافتہ پروفیسر رابرٹ سولو نے کہا:

’معاشی ماڈلز اور نظریات ہمیشہ اور لامحالہ بہت سطحی ہوتے ہیں۔ اس کو گوارا کرلیا جاتا ہے تاکہ ہم پیچیدہ معاملات کو سمجھ سکیں۔ لیکن یہ اہم ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی مسئلہ یا غیر معمولی چیز ظاہر ہوتی ہے تو یہ ماڈلز اس کی نشاندہی کرتے رہیں۔ خاص طور پر جب میکرو اکنامکس جیسے اہم معاملات کی بات آتی ہے تو میرے جیسے مرکزی دھارے کے ماہر معاشیات کا اصرار ہے کہ ہر تجویز کردہ ماڈل کو سونگھنے کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ فی الحال مقبول DSGE ماڈل یہ امتحان پاس کرتے ہیں۔ یہ مثبت کوشش ہے کہ پوری معیشت کو مجموعی سطح پر دیکھا جائے۔ لیکن یہ تصور بعید از حقیقت ہے کہ سارے انسان ہمیشہ عقلی فیصلے کرتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ صرف اپنے مفاد کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور کبھی جذبات سے مغلوب نہیں ہوتے۔ اور یہ کہ مارکیٹ میں کبھی طلب رسد میں فرق نہیں آتا یا برقرار رہ سکتا ہے۔ اس خیال کے مرکزی حاملین یہ کہہ کر احترام حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قیاس آرائی فرد کے رویہ کو تحقیق کا موضوع بناتی ہے اور اس کے عمل کے پیچھے خودغرضانہ محرک کو وجہ جواز قرار دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دعوی عام طور پرغلط ہے۔ کچھ لوگ بلاشبہ ان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سونگھنا چھوڑ دیا ہے یا اپنی سونگھنے کی حس(یعنی عقل) کو مکمل طور پر کھو دیا ہے‘[64]۔

جدید معاشی ماڈلز انسانوں کو ایک خودغرض مشین کے طور پر تصور کرتے ہیںجو ایک ایک پائی اپنی نہ ختم ہونے والی خواہشات پر خرچ کرتی ہے اور پھر بھی اس کی خواہشات کا پیٹ نہیں بھرتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان خواہشات کو لگام دینے اور اپنی لالچ کی صفت کی تہذیب کرنے کی نہ ضرورت ہے، نہ یہ ممکن ہے اور نہ ہی مفید۔ بلکہ لالچ ہی ایک ایسا محرک ہے جو انسان کو اپنی خودغرضی کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک طاقتور مشین بناتا ہے جس سے انسان قدرت کے وسائل کے نت نئے استعمالات دریافت کرتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ پروفیسر امرتیا سین انسانی طرز عمل کو سمجھنے کے لیے نیو کلاسیکل اکنامکس کے طرزفکر میں کوتاہیوں کی وضاحت کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ:

’ یہ تصور کہ ہر انسان خود غرض ہے اور اشیاء سے متعلق ہر ایک کی ایک طرح کی سوچ ہے اور خودغرضانہ رویہ اس کے مفادات کی صحیح عکاسی کرتا ہے، اس کی فلاح و بہبود کی نمائندگی کرتا ہے، اس کے خیالات کا خلاصہ کرتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور اس کے اصل انتخاب اور طرز عمل کو بیان کرتا ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ کیا اتنی یک رخی سوچ سے انسان زندگی کے یہ سارے فیصلے کر سکتا ہے؟ ایسا شخص ماڈلز میںجس طرح بیان کیا گیا ہے، اپنے انتخابی رویے میں کوئی تضاد ظاہرنہ کرنے کے محدود معنوں میں ’عقلی‘ ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے مختلف تصورات کے مابین ان امتیازات کا کوئی فرق ہی نہیں معلوم تو اسے حقیقی دنیا میں تھوڑا سا احمق سمجھنا چاہیے‘[65]۔

تاریخ، سیاست،، متعدد محرکات اور انسانی رویے میں غیر معاشی اہداف کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میںان ماڈلز میں فقدان رہ جاتا ہے اور پھر وہ حقیقت کی ترجمانی نہیں کرپاتے چہ جائیکہ وہ مستقبل کی پیش گوئی کرپائیں۔ ان ماڈلز سے ملنے والی زیادہ تر وضاحتیں عام سطحی علم پر مشتمل ہوتی ہیں جو کہ معاشیات کے میدان سے باہر کے لوگ بھی پہلے سے جانتے ہیں۔ اسی لیے پالیسی سازی میںان ماڈلز کو الگ رکھ کر حقائق پر فیصلہ کیا جاتا ہے اورجس میں سیاسی اور عوامی ردعمل کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایڈہاک ایڈجسٹمنٹ کی کوشش ہوتی ہے۔ پروفیسر گریگوری مانکیو چاہتے تھے کہ معاشی ماہرین پر بھی لوگ ویسا ہی اعتماد رکھیں کہ جیسا کسی دندان ساز پر رکھتے ہیں۔ یہ خواہش جان مینارڈ کینز کی بھی تھی۔ لیکن یہ خواہش تقریبا ایک صدی گزرنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوئی اور نہ اس کا اب کوئی امکان ہی ہے۔ درحقیقت اس سوچ میں ہی غلطی ہے کہ سائنس ہی واحد ذریعہ علم ہے جو ہر جگہ قابل استعمال ہے اور یہ کہ انسان بھی اپنی جبلتوں اور کائنات کی قدرتی رکاوٹوں کا ویساہی لاشعور اسیر ایک وجود ہے جیسے کہ مادہ کے ذرات۔

2007-09 کی عظیم معاشی کساد بازاری کے ایک دہائی بعد، معاشیات میں 2018 کے نوبل انعام یافتہ پال رومر نے اپنے مقالہ ’میکرو اکنامکس کے ساتھ مسائل‘ کا خلاصہ اس طرح کیا:

’تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، میکرو اکنامکس پیچھے کی طرف چلی گئی ہے۔ اب 1970 کی دہائی کے مقابلے میں یہ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہ ابھی بھی بہت زیادہ مبہم ہے۔ میکرو اکنامک نظریاتی ماہرین حقائق کو اس طرح کے سادہ دعووں کے ضمن میں مسترد کردیتے ہیں جیسے ’ سخت مالیاتی پالیسی کساد بازاری کا سبب بن سکتی ہے‘۔ ان کے ماڈلز مجموعی متغیرات میں اتار چڑھاؤکو خیالی قوتوں سے منسوب کرتے ہیں جو کسی بھی شخص کی انفرادی کارروائی سے متاثر نہیں ہوتے ہیں۔ فزکس میں سٹرنگ تھیوری کی طرح علم معاشیات میں بھی اب حقائق سے زیادہ نظریات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب اعلی درجے کے محققین کا احترام اتھارٹی بن جاتا ہے جوانسان کو معروضی حقیقت کو جاننے سے غافل کردیتا ہے‘[66]۔

چنانچہ اب یہ بات سنجیدگی سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ثقافتوں، اقدار، انسانی نفسیات میں موجود متعدد محرکات کو سمجھنا اور ہر ایک مشکل صورتحال میں غیر جانب دارانہ حقائق پر مبنی تشخیص کرنا ضروری ہے بجائے اس کے کہ فرضی ماڈلز کے نتائج پر انحصار کیا جائے جو کہ اکثر اہم عوامل کو نظرانداز کردیتے ہیں کیونکہ ہر عامل ریاضی کے اصولوں سے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے ماڈلز جو اہم تفصیلات کو نظر انداز کردیتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ یہ تفصیلات ریاضی کے استعمال کو محدود کرتی ہیں وہ کم ہی قابل اعتماد نتائج دیتے ہیں۔ زیادہ تر ایسے نامکمل ریاضیاتی معاشیات کے ماڈلز اور ان کے تخمینے حقیقت کے ادراک سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور کبھی کبھی مضحکہ خیز بھی۔ مزدوروں کی صلاحیت کی خریدوفروخت میں بھی یہ تصور کرلیا جاتا ہے کہ طلب و رسد میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا چنانچہ جو مزدور بے روزگار ہیں تو وہ دراصل مزدوری کرنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ یا تو کام سے الگ رہ کر چھٹیاں منارہے ہیں یا کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ایسے مفروضات لطائف کے طور پر نہیں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ کئی فاضل کلاسیکی معاشی ماہرین نے بیان بھی کیے ہیں۔

سائنس اور غیر خودغرضانہ رویہ

ہم حالیہ تاریخ کی ایک اہم وبائی بیماری کا سامنا کر رہے ہیں۔ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔ کورونا وائرس کیسز کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافے سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھنے کو ماہرین نے تجویز کیا ہے۔ معیشت کے زری مکتبہ فکر کے روح رواں ملٹن فریڈمین نے کہا تھاکہ ایک چیز جس پر انسان ہمیشہ یقین رکھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنا مفاد دوسروںسے زیادہ عزیز رکھے گا۔ مگر حکومتوں کو یہ احساس ہو اکہ اس وقت اس بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ لازم نہیں کہ لوگ وبا سے بچنے کے لیے احتیاط کریں۔ لاک ڈاؤن کو حکومتوں نے ہر ایک کے انفرادی اور اجتماعی مفاد میں ضروری سمجھا۔

ملحد سائنس دان سمجھتے ہیں کہ کائنات اتفاق سے چل رہی ہے۔ مگر حقیقت میں حکومتوں کو انسانوں کو ایک خاص رویہ اپنانے کے لیے جو ان کے اپنے مفاد میں بھی ہے، مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ چیزیں خودبخود نہیں ہوتیں۔ اکثر ہدف کو پانے کے لیے مداخلت ضروری ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ ملحد سائنس دانوں کو اس کائنات میں خالق ِکائنات کی مداخلت ایک عجیب چیز محسوس ہوتی ہے جب کہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کا آغاز اور بقاء ایک انتہائی باریک توازن پر قائم ہے اور سائنسی علم نے مزید پیش رفت سے یہ ہی نتیجہ بر آمد کیا ہے کہ جو توازن ماضی کی معلومات میں جتنا باریک لگ رہاتھا وہ درحقیقت اور زیادہ نازک اور باریک حد تک درست اور موافق ِحیات ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر کسی کو اپنے مفاد کی پیروی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور مداخلت ضروری ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد جب مارکیٹیں کم فعال ہوجاتی ہیںتو علم معاشیات کو ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاکھوں غریب لوگ اپنے روزگار سے محروم ہوجاتے ہیں اور ان کا ذریعہ آمدنی ان سے چھن جاتا ہے۔

اس طرح کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے وسائل کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن مارکیٹ پر مبنی معیشت خاص طور پر غریب اور کمزور لوگوں کی ان حالات میںزیادہ مدد نہیں کر سکتی ہے۔ یہاں پر مارکیٹ سے باہر وسائل کی تقسیم ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگ اپنے غیر ضروری اخراجات کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کی بھی ممکن حد تک مدد کریں۔

تاہم علم معاشیات اپنے مفاد سے آگے اٹھنے کو اپنے علم اور تحقیق میں ایک غیر اہم یا بلکہ ایک مفروضہ سمجھتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ معاشیات کا موجودہ علم ہر انسانی عمل کو خودغرضانہ محرک کے تحت دیکھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اینڈرونی جیسے معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ لوگ خیرات بھی اپنے آپ میں اچھا محسوس کرنے کے لیے کرتے ہیں[67]۔

لوگ دوسروں کی مدد کرنا اچھا محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ اس سے ذاتی اوردلی سکون حاصل کرتے ہیں۔ وہ سماجی انتشار سے بچنے کے لیے سماجی انشورنس پالیسی کے طور پر خیرات کرتے ہیں۔ وہ سماجی دباؤ کی وجہ سے یا شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ سماجی امیج کو بہتر بنانے، اپنے سٹیٹس کو ظاہر کرنے یا عوامی خدمت کے لیے کچھ مانگنے والے کوعوام کے درمیان نہ کہنے سے بچنے کے لیے لوگ خیرات میں کچھ رقم دے دیتے ہیں۔ یعنی خیرات بھی لوگ اپنی غرض اور مفاد کے لیے کرتے ہیں اور اپنے آپ کے بجائے اس طرح خرچ کرنا ایک انوکھی اور انہونی بات ہے جس کی وجہ سے علم معاشیات اس کو اپنے موضوع میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسروں کی مدد کرنے یا دوسروں کی مدد نہ کرنے کے فیصلے کے درمیان علم معاشیات غیر جانبدار ہے۔

اگرلوگ خوف اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اوراپنی بچتوں کو سرمایہ کاری سے روکے رکھتے ہیں تو علم معاشیات اس طرح کے طرز عمل پر غیر جانبدار رہتا ہے اور وہ اسے بالکل جائز سمجھتا ہے۔ کئی مقروض اور ناکام اداروں میں دیوالیہ ہونے سے پہلے ان کے اعلی عہدیدار اپنے لیے بیش قیمت مراعات منظور کرالیتے ہیں۔ خودغرضی اور لالچ انسان کی فطرت میں پایا ضرور جاتا ہے مگر علم معاشیات اسے ایک اخلاقی جواز دے دیتا ہے۔ علم معاشیات کا یہ دعوی ہے کہ وہ اقدار سے لاتعلق ہے مگر یہ خود ایک قدر ہے کہ اخلاق کے بارے میں غیر جانبدار رہا جائے۔

دوسری طرف طبیعیات کے مطابق ہم وجود میں آنے سے پہلے کائنات کے سیاروں کی خاک تھے اور پھر ایسے ہی ہوجائیں گے۔ ارتقائی حیاتیات کے مطابق ہم ان لاکھوں اور کروڑوں مختلف طرح کی حیاتیات میں سے ایک نوع ہیں جن کو اتفاق سے ایک قدرتی عمل کے تحت ایک مختصر عرصے تک سورج کے نیچے زندہ رہنے کا حق حاصل ہوگیا ہے یہاں تک کہ جینیاتی تغیرات ہمیں بھی اس کائنات میں ایک دن دفن کردیںگے۔ ہم ایک شدید اور تباہ کن بقائی جنگ کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں اور اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک ہم اس مقابلے میں اپنی بقاء کو قائم رکھ پائیں گے چاہے کسی بھی طرح۔ صبر، سخاوت اور اخلاق پر عمل کرتے ہوئے ہمیں یہ زندگی نہیں ملی ہے تو پھراس کو گزارنے میں بھی اخلاقی طرز زندگی کی اس بے خدا کائنات میں کیا ضرورت ہے۔

اخلاقی رویے اور سماجی تعاون کے فروغ کے لیے طبیعیات اور حیاتیات ہمیں کوئی معروضی اخلاقیات نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے محرک کو کہیں اور سے تلاش کرنا ہوگا۔ پاکستان جیسے غریب ممالک میں زیادہ وسائل رکھنے والے لوگ خیرات، عطیات اور رضاکارانہ کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ متعدد تحقیقی مطالعات میں پاکستان میں تجرباتی شواہد سے پتہ چلا ہے کہ خیراتی عطیات کے پیچھے ایمان سب سے بڑا محرک ہے اور یہ انسانیت پر مبنی مقاصد کا بھی احاطہ کرتاہے [68]۔ یہ رجحان دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جب معاشی وسائل کا مارکیٹ سے باہر تبادلہ اور تقسیم ہوتی ہے توعلم معاشیات بڑی حد تک خاموش اور غیر متعلق ثابت ہوتی ہے۔

خودغرضانہ زاویہ نظر ایک اور مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ اس سوچ میں کوئی بھی پیداواری عمل یہ دیکھتاہے کہ ایسا کرنامنا فع کے اعتبار سے اچھا کاروبار ہے یا نہیں۔ صفائی ستھرائی اور صاف پانی اب بھی ان علاقوں میں ایک مسئلہ ہے جہاں ہر ایک کے پاس فور جی کنکشن اوراسمارٹ فون میں موبائل بینک اکاؤنٹ ہیں۔ مارکیٹ معیشت میںان ہی منصوبوں میں وسائل لگائے جاتے ہیں جن میں زیادہ منافع ہو۔

صنعت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم بھی کاروباری اداروں کے لیے کمرشل ٹیکنالوجسٹ پیدا کرنے کے جال میں پھنس گئی ہے۔ یہ کاروباری ادارے آزاد مارکیٹ پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام میں سماجی ذمہ داری کے لیے نہیں بنے ہیں۔ ملٹن فریڈمین نے کہا تھا کہ کارپوریشن کی سب سے بڑی اور واحد ذمہ داری حصص یافتگان کی دولت میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر یہ کارپوریشنز تحقیق کرتی ہیں اور کوئی ویکسین ڈھونڈتی ہیں تو اس کی قیمت لیتی ہیں۔ اگر کوئی بھی پیداواری عمل منافع بخش نہ ہو تو اس میں وسائل نہیں لگتے۔

سودی معیشت میں صرف منافع بھی کافی نہیں بلکہ وہ منافع اتنا ہونا چاہیے کہ اس سے سود ی سرمایہ کاری سے زیادہ منافع ملے۔ سود نہ صرف وسائل کی تقسیم پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ وسائل کہاں اور کس ضرورت کے تحت لگنے چاہیے ہیں، اس فیصلہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ معاشی محرک ہی ہے کہ جس میں خطرہ اور معاشی بحران کے باوجود کروڑوں یا اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی یورو کپ فٹبال اور المپکس کرائے جاتے ہیں۔ چاہے ان وسائل سے غریب ممالک میں ویکسین کی فراہمی میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہو۔ اگر غریب کے پاس روٹی، دوائی یا ویکسین خریدنے کے بھی پیسے نہیں تو علم معاشیات میں سمجھا جائے گا کہ انہیں اس کی طلب ہی نہیں۔ کیوںکہ علم معاشیات میں کسی چیز کی طلب اس وقت حقیقی تصور کی جاتی ہے جب چیز کو خریدنے کی قوت بھی موجود ہو۔ اگر قوت خرید نہیں ہوتی تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ مارکیٹ کی قیمت پر وہ شخص اس چیز کی سرے سے طلب ہی نہیں رکھتا۔ غریبوں کے لیے اشیائے ضروریات کو نہ خرید سکنا کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک بے بس صورتحال ہے۔ لیکن یہ وہ حقائق ہیں کہ جن سے نہ ہم علم معاشیات میں آغاز کرتے ہیں اور نہ انہیں اہم تسلیم کرتے ہیں۔

پہلے دور میں معاشیات کا موضوع انسانی ضروریات کے مطالعہ پر مبنی تھا۔ اب بنیادی زور مارکیٹ میں لوگوںکے رویے اور قلت وسائل کا سامنا کرتے ہوئے لوگوں کے معاشی فیصلوں کے مطالعہ پر مرکوز ہے۔ علم معاشیات میں انتخابی رویے پر زور معاشیات کے علم اور اس کے بیشتر مندرجات کو غریب لوگوں کے لیے بڑی حد تک غیر متعلق کردیتا ہے جو انتخاب کی ویسی آزادی رکھتے ہی نہیں جو امیروں کے لیے ممکن ہے۔

بنیادی مائیکرو اکنامکس کی درسی کتابوں میںجب فلاح و بہبود توجہ حاصل کرتی ہے تو یہ بحث مارکیٹ میں موثر نتائج کے دائرے میںرہتی ہے۔ ٹیکسوں کے ذریعے وسائل کی تقسیم کو مارکیٹ کے لیے نقصان دہ اوروسائل کا ضیاع سمجھا جاتا ہے (Deadweight Loss) اور اس سے بچنے پر زور دیا جاتا ہے۔

تاہم مارکیٹ فریم ورک سے باہر جو وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اسے لائق ِتوجہ نہیں سمجھا جاتااور نظر انداز کیا جاتا ہے۔ خوراک اور زراعت کی تنظیم کے مطابق تقریبا ہر روز 600 ملین ڈالر زہر انتہائی غریب شخص کو کھانا کھلانے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ہر روز تقریبا 2.75 بلین ڈالر زکی خوراک ضائع ہوجاتی ہے[69]۔ اس کے نتیجے میں، ہر سال 9 ملین افراد بھوک سے مر جاتے ہیں [70]جب کہ ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے[71]۔ معاشی وسائل کے ضیاع میں یہ نااہلی نہ لائقِ توجہ سمجھی جاتی ہے اور نہ اس کے سدباب کو معاشیات کے موضوع میں زیربحث لایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم کے مطابق عالمی سطح پر فی کس خوراک کی سپلائی 1960 کی دہائی کے اوائل میں تقریبا 2,200 کلو کیلوری سے بڑھ کر 2,903 کلوکیلوری سے زیادہ ہو گئی ہے[72]۔ مگر علمِ معاشیات کے مطابق اناج اتنا پیدا کیا جائے جتنے اناج کو لوگ خرید سکیں۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کتنے لوگ ہیں جنہیں اناج کی ضرورت ہے علاوہ اس کے کہ حکومت بھوکے لوگوں کی کفالت کے لیے اناج خرید کر دے سکے۔ پھر بھی معاشیات کے علم میں دعوی کیا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں صارفین کی خودمختاری ایک بنیادی اور ناقابل سمجھوتہ اصول ہے۔

جب مائیکرو اکنامکس کی درسی کتابوں میں فلاح و بہبود کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو یہ صرف مارکیٹ میں معاشی تبادلے کے ضمن میں ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر ہونے والی بحث فلاح و بہبود کو زیادہ سے زیادہ عمدہ نصب العین یا معیار کے طور پردیکھتی ہے۔ مارکیٹ کا توازن وسائل کی منصفانہ تقسیم سے زیادہ بڑی قدر سمجھی جاتی ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو گوارا کرلیا جائے گا اور اس کے سدباب کے لیے کام بھی کیا جائے مگر مارکیٹ میں مداخلت اور ایسے کاروباری طریقوں جیسے سود، جوا، سٹہ اور غیر ضروری اشیاوخدمات پر اسراف کونہیں روکا جائے گا جو کہ وسائل کے ضیاع کا اور دولت کے ارتکازکا کئی حوالوں سے سبب بنتے ہیں۔

معاشی ماہر مانکیو کا مشہور جملہ تھا ’لوگ کوئی بھی عمل مفادکے حصول کے لیے کرتے ہیں۔ معاشیات کے علم میں باقی سب صرف اس بات کی ہی وضاحت ہے‘[73]۔ تاہم غریب لوگ بے بس ہیں۔ ان کے پاس آزاد انتخاب کی صورت حال نہیں ہے۔ معاشیات کا موجودہ علم ضروری اور غیر ضروری خواہشات میں فرق نہیں کرتا۔ اگر کوئی امیر شخص بے گھر لوگوں کی بڑی آبادی کے قریب کسی علاقے میں گولف کورس کا مطالبہ کرتا ہے، تو، اگر وہ اسے خرید سکے تواس کے لیے پہلے گولف کورس بنایا جائے گا۔ کیا غریبوں کا اپنی روٹی نہ خریدسکنا ان کا شعوری اور خودمختارانہ فیصلہ ہے؟

بہر حال، ہم لوگوں، اداروں اور حکومتوں کو غریب اور کمزور لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ تاہم، مساوات، انصاف، سماجی بھلائی اور عوامی فلاح و بہبود کے حصول کے لیے کوئی بھی پالیسی فیصلہ بڑی حد تک ’ایڈہاک‘ ہوتا ہے اورمعاشیات کے علم سے ماخوذ نہیں ہوتا۔

خالق کی وحدانیت کا تصور تمام مخلوقات میں امتیاز کو ختم کردیتا ہے۔ ہم سب خالق کائنات ہی کی مخلوق ہیں اور ہماری آمدنی، دولت اور وسائل اس کی عطا ہیں۔ سائنس نے تو انسان کو یہ بتایا کہ اس کا سانس لینا ہی اتنی بڑی نعمت ہے جو کرہ زمین سے باہر قدرتی طور پر کہیں ممکن نہیں۔ پانی کا ایک قطرہ اتنا قیمتی ہے کہ وہ زمین کے علاوہ اس وقت کہیں دور دور تک قابلِ استعمال حالت میں نایاب ہے۔ اس کے سانس کو کائنات کا نظام اور باریک توازن جاری رکھے ہوئے ہے۔ مگر انسان ذمہ داری سے بچنے کے لیے اپنے رحمن ورحیم خالق کا انکار کردیتا ہے۔ پھراپنے کو مطمئن کرنے کے لیے کبھی خود کائنات ہی کی مختلف چیزوںکو جو اسے پلٹ کر کوئی جواب نہ دے سکیں اپنا منعم حقیقی تسلیم کرلیتا ہے۔

شعور (Consciousness)او ر ضمیر(Conscience)کی وضاحت کرنا سائنس کے دائرے میں نہیں آتا۔ جانوروں کی طرح انسانوں میں بھی شعور ہوتا ہے، لیکن انسانوں کا ضمیر بھی ہوتا ہے جو انہیں غلط اور صحیح میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ لیکن ہمیں صحیح اور غلط کام کیوں اپنانے چاہیے ہیں؟ پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے کہا کہ یہ بقا کے لیے ضروری ہے۔ لیکن پروفیسر ڈاکنز سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم بقا کے کھیل میںدوسری حیاتیا ت سے لڑکر اپنے وجود کے قابل نہیں ہوئے؟ جان رالز نے کہا کہ یہ لاعلمی کہ اگرغلط رویہ کا میں شکار ہوگیا تو یہ انسان کو خود بھی برے رویہ سے بچاتاہے کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ کب اور کس حال میں اس دنیا میں پیدا ہوگا۔ مگر اخلاقی سوالوں کا سامنا ہمیں پیدا ہونے اور شعور حاصل کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ جب ہم پیدا ہوگئے اور اتفاق سے وسائل، قوت اور دولت رکھتے ہیں تو کیوں ہم محدود وسائل کو اپنی لامحدود خواہشات کے علاوہ دوسروں پر خرچ کریں۔ کیوں ہم اپنی خواہشات کو یہ سوچ کر ماریں کہ یہ وسائل اگلی اور اس سے اگلی نسل کے کام آئیں گے جب کہ معلوم ہے کہ کائنات میں یہ ایک انو کھی بات ہے جس میں بہت عظیم ستارے بھی بلیک ہولز بنتے رہتے ہیں۔ اگر میرا وجود ممکن ہی ایک بقائی جنگ میں فتح سے ہوا ہے تو اخلاق کا سوچنا بھی ایک عجیب، انوکھی اور غیر فطری بات ہے۔

ہم زندگی گزار کر موت کے بعددوبارہ واپس دنیا میں نہیں آتے ہیں۔ دنیا میں کون پہلے آتا ہے، اس لاٹری میں ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں اور یہاں ہیں۔ تو پھر کیا محرک ہے جو اخلاقی رویہ کو اپنانے کی طرف راغب کرسکتا ہے؟ ضمیر کی پکار پر عمل کرنے کی سب سے بڑی ترغیب تب ہوتی ہے جب فیصلہ کن انعامات ہوں۔ آخرت کی زندگی میں فیصلہ کن انعامات کا تصور ہر شخص کی زندگی کے ہر لمحے کو معنی خیز بنادیتا ہے۔

کیا سائنس ایک مغربی علم ہے جس میں کوئی اور شریک نہیں

احسان مسعود اپنی کتاب ’سائنس اوراسلام: ایک تاریخی مطالعہ‘ میں لکھتے ہیں کہ سائنس میں مسلمانوں کی شراکت کو زیادہ تر بھلا دیا جاتا ہے یا کم از کم نظر انداز کیا جاتا ہے، سوائے چندمورخین کے[74]۔ سائنس عالمگیر ہے اور یہ صرف ایک مغربی علم نہیں ہے۔ اگر ہم مذہبی لوگوں کی طرف سے کی گئی سائنسی دریافتوں اور تحقیقات کو نظر انداز کر دیں تو ہمارے پاس شاید ہی کوئی منفرد اور نئی بات کرنے کو ہو گی۔ مسلمان سائنس دانوں نے سائنس میں بہت سے کاموں کا آغاز کیا۔ اس کے بعد کئی اور سائنس دانوں نے بھی سائنس کی ترقی میں نمایاں اضافہ کیا اورجو مذہب کے مخالف نہیں، بلکہ مذہبی رجحان رکھتے تھے۔ یقینی طور پر سائنس سمجھنے یا اس میں تحقیقات کرنے کے لیے مذہبی ہونا ضروری نہیں، مگر یہ سمجھنا غلط ہے کہ کوئی شخص مذہب پر ایمان رکھتے ہوئے سائنس کا نہ علم حاصل کرسکتا ہے نہ کوئی تحقیق کرسکتا ہے۔

پچھلی صدی میں نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کی خاصی تعداد مذہب اور خدا پر یقین رکھتی تھی۔ وہ سائنس کی جدید شاخوں میں بھی اہم کام کرچکے ہیں۔ مذہب کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے باوجود، 2009 میں پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ سائنس دانوں میں سے نصف سے زیادہ (51 فیصد) کسی نہ کسی لحاظ سے مذہب پر یقین رکھتے ہیں[75]۔

اسلام معروضی تحقیقات کی نفی نہیں کرتا۔ مسلم علماء جو اس نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں وہ سٹیم سیل ریسرچ، جینیاتی انجینئرنگ اور روبوٹکس کے اخلاقی حدود میں استعمال کے حامی ہیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے اوائل میں روایتی مسلم اسکالرشپ بھی سائنسی وضاحت کے طور پر ارتقاء کے بارے میںبالکل مضطرب نہیں تھی، جسے سید قطب [76]اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی [77]کی تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی مسلم سائنسدان ارتقائی حیاتیات میں تحقیق کرتے ہیں اور اسے پڑھاتے ہیں جن میں یہ حضرات شامل ہیں:

۱۔ محمد الاسری، کنگ سعود بن عبدالعزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ سائنسز، ریاض، سعودی عرب
۲۔ ایہاب ابوحیف، میک گل یونیورسٹی میں کینیڈا ریسرچ چیئر
۳۔ فاطمہ جیکسن، نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں حیاتیاتی بشریات کی پروفیسر
۴۔ رانا دجانی، ہاشیمائٹ یونیورسٹی، اردن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر

تاریخ میں ہمیں معلوم ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے سب سے پہلے سائنس میں مشاہدہ کے بجائے منطقی استدلال سے آزادی حاصل کی اور سائنس کے لیے ایک مشاہداتی نقطہ نظر متعارف کرایا۔ مشاہداتی نقطہ نظر کے ساتھ سائنس کو جو تقویت ملی ہے اس کی ابتدا یورپ کے بجائے ابتدائی مسلم سائنسی کام میں ہوئی ہے۔ رابرٹ بریفالٹ نے اپنی کتاب ’’دی میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ سائنس کا وجود جیسا کہ اسے جدید معنوں میں سمجھا جاتا ہے، اس کی جڑیں مسلم مشرق وسطیٰ سے نکلنے والی سائنسی سوچ اور علم میں ہیں۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیںکہ: ’جسے ہم سائنس کہتے ہیں، وہ یورپ میں ایک نئی روح کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ تفتیش کے نئے طریقوں، تجربات، مشاہدے، پیمائش کے طریقوں اور ریاضی کے کئی اصولوں کو عربوں نے یورپی دنیا میں متعارف کرایا‘[78]۔

مسلمانوں نے یونانی علم لیا، ان کو مرتب کیا، ان میں مزید پیش رفت کی اور مشرق اور مغرب دونوںجگہ وسیع استعمال کے لیے ان کا ترجمہ کیا۔ 763 میں، بغاوت میں’بیت الحکمت ‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ ہر ترجمہ شدہ کتاب کے لیے ریاست کتاب کے وزن کے برابر سونے کی مقدار ادا کرتی تھی تاکہ ریاستی سرپرستی اور مراعات فراہم کی جا سکیں۔ دو مسلم خواتین، فاطمہ اور مریم الفیری نے 859 عیسوی میں مراکش کے شہر فیز میں دنیا کی پہلی یونیورسٹی ’القراویین ‘بنائی۔ الازہر مسجد کی لائبریری میں لاکھوں کتابیں موجود ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ مسلم دنیا میں ایسی سیکڑوں لائبریریاں پھیلی ہوئی تھیں۔

پہلا باقائدہ طبی مرکز احمد بن تلون ہسپتال تھاجو 872 میں قاہرہ میں قائم کیا گیا تھا۔ اس ہسپتال نے بغیر کسی مذہبی، نسلی یا دیگر تفریق کے ہر کسی کو مفت طبی امداد فراہم کی۔ اس زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے متنوع مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگ مسلم تہذیب کی سرپرستی میں تحقیق کر سکتے تھے۔ ڈونلڈ کیمبل لکھتے ہیں: ’یورپ میں، غیر مستحکم حالات وظیفے کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے، جبکہ دوسری طرف بغداد کے خلفاء نے تمام مذاہب کے علماء کو تحفظ اور حوصلہ دیا‘[79]۔

فرانسس گائلز اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ’تقریبا ایک ہزار سال پہلے اپنے عروج پر، مسلم دنیا نے سائنس، خاص طور پر ریاضی اور طب میں قابل ذکر پیشرفت کی۔ بغداد نے اپنے عروج کے دنوں میں وہاں اور جنوبی اسپین میں یونیورسٹیاں تعمیر کیں جہاں ہزاروں لوگ آئے۔ حکمرانوں نے اپنے آپ کو سائنس دانوں اور فنکاروں سے منسلک رکھا‘[80]۔

فلکیات میں مسلم سائنس دانوں نے گراں قدرعلمی کام کیا جو انہیں جدید سائنسی دور سے جوڑتا ہے ان کی تحقیق کے معیارکے لحاظ سے بھی اور اس سے بڑھ کر اس بات کی وجہ سے کہ ان کی تحقیقات نے سائنسی تحقیق کے لیے مشاہدہ، تجربات اور پیمائش کی بنیاد ڈالی۔ عمر خیام اور البطانی نے شمسی سال کی لمبائی کا تعین صرف ایک منٹ کی غلطی سے کیا اور ان کے پاس کام کرنے کے لیے جدید آلات بھی نہیں تھے۔ ان سائنس دانوں نے ایک ایسٹرو لیب استعمال کیا، جس کا جدید ماڈل مسلمان ریاضی دان ابراہیم الفزاری نے بنایا تھا۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں مغربی مورخین کی دریافتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کوپرنیکس (سولہویں صدی) اور تیرہویں اور چودھویں صدی کے مسلم ماہر فلکیات کے درمیان حیرت انگیز طور پر مضبوط تحقیقی روابط ہیں، جیسے ناصر الدین التوسی، ابن الشاطراورالبطانی کے مشاہدات اور جیومیٹرک ماڈلز کوپرنیکس نے بھی استعمال کیے ہیں [81][82]۔ بطلیموسی ماڈل کی تنقید مسلم سائنس دانوں کے کاموں میں بھی ظاہر ہوئی جسے کوپرنیکس نے نتیجہ تک پہنچایا۔

البطانی نے مثلث (Trigonometry) کو بلند درجات تک پہنچایا اور Cotangents کے Tables دیے۔ البیرونی نے جدید مثلث (Trigonometry) کی بنیاد رکھی۔ البیرونی نے زمین کے اپنے محور کے گرد گھومنے کے نظریہ پر بحث کی۔ اس نے جدید دوربینوں کے بغیر زمین کے Circumference کی پیمائش کی۔

یونیسکو نے 2015 کو روشنی کا بین الاقوامی سال قرار دیا تاکہ ابن الہیثم کے نظریات اورریاضی اور فلکیات میں کامیابیوں کاجشن منایا جا سکے۔ ابن الہیثم نے اپنے سائنسی کاموںکی تصدیق کے لیے کئی تجربات فراہم کیے اور ساتھ ہی ایک جدید کیمرہ بنانے میں بنیادی کام بھی کیا۔ درحقیقت انہوں نے طبیعی حقائق کا مطالعہ کرنے کے لیے تجرباتی اور ثبوت پر مبنی نقطہ نظر کو فروغ دیا۔ ول ڈیورنٹ اپنی کتاب ’تہذیب کی تاریخ ‘ میں لکھتے ہیں: ’مسلمان اسکالرز نے مشاہدہ، کنٹرول شدہ تجربات اور محتاط پیمائش متعارف کرائی‘[83]۔

سائنس میں صحیح علمی رویہ بیان کرتے ہوئے ابن الہیثم نے لکھا:

ـ’ان انسانوںکا فرض ہے جو سائنس دانوں کی تحریروں کی تحقیقات کرتے ہیںکہ اگران کاہدف سچ سیکھنا ہے تو وہ غیر جانب داری سے تنقیدی سوچ کے ساتھ مطالعہ کریں اورہر بات کا ہر پہلو سے تنقیدی جائزہ لیں۔ انہیں پھر اپنا بھی تنقیدی جا ئزہ لینا چاہیے ہے تاکہ تعصب یا نرمی میں پڑنے سے بچاجا سکے[84]‘۔

یہاں تک کہ خود امام غزالی بھی سائنس کے خلاف نہیں تھے، بلکہ صرف ایمان کے معاملات میں سائنس کولانے پرمعترض تھے۔ امام غزالی نے کہا: ’جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ سائنسی نظریے کی تردید کرنا مذہبی فریضہ ہے وہ مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسے کمزور کرتا ہے۔ ان معاملات کے لیے مشاہدہ، پیمائش اور ریاضی کافی ہے، جوان معاملات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی‘[85]۔

امام غزالی کے حوالے سے یہ منقول ہے:

’یقینا یہ مذہب کے خلاف بہت بڑاجرم ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ ان ریاضیاتی علوم کا انکار اسلام کے لیے ضروری ہے۔ کیوں کہ نہ مذہب نے ان علوم میں صحیح اور غلط کو جاننے کی ذمہ داری لی ہے اور نہ ہی ان علوم کا مذہب سے کوئی تعارض یا تضاد ہے‘[86]۔

چنانچہ مسلم سائنس دانوں کی تحقیقات میںطبیعی حقائق کو سمجھنے میں معروضی طرزِ تحقیق کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔ الجبرا پر بنیادی کام الخوارزمی سے منسوب ہے اور فیبوناچی (پیسا کے لیونارڈو) نے ان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ الجبرا کے خالق الخوارزمی نے لکھا ہے کہ ایک مساوات کو دیکھتے ہوئے، مساوات کے ایک طرف نامعلوم کو جمع کرنا ’الجبر‘ کہلاتا ہے۔ الجبرا کا لفظ اسی سے آیا ہے۔ انہوں نے Sine, Cosine اور Trigonometric Tables تیار کیے، جن کا بعد میں مغرب میں ترجمہ کیا گیا۔ انہوں نے Algorithm کا استعمال کیا، جو جدید کمپیوٹرز اور پروگرامنگ کے لیے شاہ کلید ثابت ہوا۔ ریاضی میںکئی مسلمان سائنس دانوں جیسے البطانی، البیرونی اور ابوالوفا نے مثلث پر کام کیا۔ مزید یہ کہ عمر خیام نے بائنومیل تھیورم پر کام کیا۔ انہوںنے کیوبک مساوات کی تمام 13 شکلوں کے ریاضی حل تلاش کیے۔

حیاتیات اور طب میں عربوں نے کئی قابل ذکر کام کیے۔ الرّا زی نے چیچک پر پہلی کتاب لکھی، جس کا نام ہے ’الجودری و الحسبہ‘۔ ابن سینا کی کینن آف میڈیسن یورپ میں 17 ویں صدی کے آخر میں بھی ایک معیاری طبی متن کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ الزّہراوی سرخیل سرجنوں میں سے تھے اور انہوں نے مختلف جراحی کے آلات اور طریقے تیار کیے، جو اس وقت جدید ترین تھے اور کچھ آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے پہلا سیزیرین آپریشن کیا تھا۔ ابن النفیس نے خون کی پلمونری گردش کو ولیم ہاروی سے کچھ صدیوں پہلے بیان کیا۔

کیمسٹری میں مسلمان سائنس دانوں نے پرفیوم ڈسٹیلیشن، شیشے بنانے، سکوں کی ٹکسال اور کیمیائی خصوصیات کی بنیاد پرکیمیائی عناصر کو مرتب کیاجو بعد میں جدید Periodic Tables کی صورت میں سامنے آئے۔ 780 میں جابر ابن حیان( ایک مسلمان کیمیا دان، جسے بہت سے لوگ کیمسٹری کا موجد مانتے ہیں) نے کیمسٹری کے لیے تجرباتی سائنسی طریقہ کار متعارف کرایا، نیز لیبارٹری اپریٹس جیسے الیمبک، اسٹیل اور ریٹورٹ اور کیمیائی عمل جیسے سبلیمیشن، ڈسٹیلیشن، لیکویفکیشن، کرسٹلائزیشن اور فلٹریشن متعارف کرائے۔ ابن حیان نے گندھک اور نائٹرک ایسڈ سمیت کئی مادوں کی بھی نشاندہی کی۔ الجزاری نے واٹر ملز جیسے مکینیکل آلات تیار کیے اور پانی کے انتظام کو آسان بنانے کے لیے پانی کے پہیے بھی بنائے۔

یہاں تک کہ سماجی علوم میں بھی مسلمان اپنے عہد کے مقابلے میں جدید اور ترقی یافتہ تھے۔ میکس ویبر کے مطابق سرمایہ داری کی پیدائش ’پروٹسٹنٹ اخلاق اور سرمایہ داری کی روح‘ کی بدولت مغربی یورپ میں ہوئی اور شمالی امریکہ میں پھیل گئی[87]۔ بینیڈکٹ کوہلر نے اپنی حالیہ کتاب ’Early Islam and the Birth of Capitalism‘ میں دلیل دی ہے کہ یہ مسلم تہذیب ہے جس نے تنظیمی اور نظریاتی عناصر مہیا کیے اور سرمایہ داری کی کچھ مثبت خصوصیات کو جنم دیا[88]۔

مصنف نے وضاحت کی ہے کہ حضرت محمدﷺ خود ایک منجھے ہوئے تاجر تھے۔ مصنف مزید اس بات پر زور دیتے ہیںکہ مکہ نہ صرف ایک مقدس مقام تھا بلکہ اس وقت ایک بہت اہم تجارتی مرکز بھی تھا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات نے منصفانہ تجارت کے بارے میں وسیع ہدایات فراہم کیں۔ اسلامی تعلیمات نے کاروباری معاہدوں کو لکھنے اور ان کی عزت کرنے کو بھی اہمیت دی، بیک وقت ایک مذہبی اور شہری فرض کے طور پر۔

مضاربہ اور مشارکہ پر مبنی اسلامی شراکت داری بین الاقوامی تجارت کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔ اس کے ذریعہ سے پیداواری عمل میں اختصاص کا استعمال بھی ممکن ہوا۔ سرمایہ اور محنت کے تعامل سے وسیع پیمانے پر کاروبا ر کے پھیلنے اور ترقی کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ عوامی فلاح وبہبود کے لیے اوقاف نے انشورنس کا کام کیا۔ سونے اور چاندی جیسی اشیاء پر مبنی کرنسی کے نظام نے بارٹر تجارت کی کمزوریوں کو رفع کیا۔ بینیڈکٹ کوہلر لکھتے ہیں:

’بغداد میں دسویں صدی کے اوائل تک ایک مکمل بینکنگ سیکٹر وجود میں آچکا تھا۔ سونے اور چاندی کے سکوں کا تبادلہ کرنا اور حکومت اور تاجروں کو قرض دینا جو ایک شہر میں کھاتوں میں رقم ادا کرنے اور پیسے نکالنے کے قابل تھے۔ دوسرا ان مسودوں کے کئی نام تھے – ان میں سے ایک فارسی لفظ ’’کاک‘‘ تھا جو ہمارے پاس بطور چیک آیا ہے‘۔

مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی نجی جائیداد کا حق بھی اسلامی قانون میں چودہ صدیوں پہلے سے تسلیم شدہ ہے۔ بعد میں وینس اور جینوا میں اسلامی ادارے اور کاروباری طریقے اختیار کیے گئے۔ مصنف نے استدلال کیا کہ مدارس جیسے ادارے جو وقف کی بنیاد پر چلتے تھے آکسفورڈ اور کیمبرج کے پرانے کالجوں کے لیے ماڈل تھے۔

سماجی علوم میں بھی مسلمانوں نے کئی گراں قدر کام کیے۔ امام غزالی اور ابن خلدون نے ایڈم اسمتھ اور ڈیوڈ ریکارڈو سے کئی صدی قبل معاشیات میں مزدور کی قدر (Labour Theory of Value) پر بحث کی۔ اقتصادیات میں مشہور Laffer Curve کوسب سے پہلے ابن خلدون نے دریافت کیا۔

قدیم تاریخ میں لوگ دریاؤں، چشموں اور سمندر کو دیوتا اور عبادت کے لائق سمجھتے تھے۔ انہوں نے انہیں تسخیرکرنے کے بجائے تعظیم کی چیز سمجھا۔ توحید کے فلسفے سے متاثرہوکر مسلمانوں نے فطرت کے ان مظاہر کو خدا کی تخلیق کے طور پر دیکھا۔ توحید پر یقین نے تفتیش کی روش کو آزاد کر دیا اور مادی چیزوں کو عبادت کی چیزوں کے طور پر سمجھنے کے بجائے فائدہ مند طریقوں سے استعمال کرنا ممکن بنا دیا۔

مسلمانوں نے گیلیلیو کو اس کی دریافت کو چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا۔ در حقیقت زیادہ تر سائنسی دریافتوں نے بغیر کسی مخالفت کے مسلم علاقوں میں اپنا راستہ پایا۔ جب منگولوں نے بغداد کے سانحہ میں ہزاروں کتابوں کی سیاہی سے دریائے دجلہ کو سیاہ کر دیا تو یہ تخریبی کام مسلمانوں نے نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ سے ان کا کئی اور بیش بہا علمی کام تاریخ میں گم ہوگیا۔ مسلم سنہری دور کے بعد بھی سائنس د انوں کی اکثریت جنہوں نے جدید سائنس کے بڑے شعبوں میں بنیادی کام کیا، وہ مذہبی تھے۔ سائنس میں تحقیق کے لیے ایمان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم یہ ایک عجیب بات ہوگی کہ کہا جائے کہ کوئی بیک وقت سائنسی تحقیق اور مذہب پر عمل نہیں کرسکتا۔

اسلام اور سائنس ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ 2010-2014 کے ورلڈ ویلیوز سروے کے چھٹے ایڈیشن کے نتائج کے مطابق 32.73 فی صدمسلمان جواب دہندگان مکمل طور پر اس بات پر متفق تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہماری زندگی کو صحت مند، آسان اور زیادہ آرام دہ بنا رہی ہے جبکہ 24.89 فی صد دوسرے لوگوں نے اسی رائے کا اظہار کیا۔

اس تحریر کا اگلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply