کائنات، کرونا وائرس اور انسان: حصہ 3 —— سلمان احمد شیخ

0

مذہبی نظریہ حیات

ایمان کی بنیاد:

ہمارے مزاج میں مستقل تجسس اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم اپنے وجود اور اس کے مقصد پر غور کریں اور اپنے وجود کی توجیہ کریں۔ اس باب کے شروع میں مذہبی نظریہ حیات جیسا کہ وہ ہے اسے اللہ کے دین کی آخری کتاب سے بعینیہ بیان کیا جارہا ہے۔ یہ زمین پر اللہ کی ہدایت کے آخری الفاظ ہیں جو ہم تک اتصال کے ساتھ قولی تواتر سے منتقل ہوئے ہیں۔

i) – آفاق وانفس اور زندگی کے معنی پر غور

’اِس میں شبہ نہیں کہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں، اور شب و روزکے بدل کر آنے میں، اور لوگوں کے لیے دریا میں نفع کی چیزیں لے کر چلتی ہوئی کشتیوں میں، اور اُس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مر جانے کے بعدزندہ کیا ہے اور اُس میں ہر قسم کے جان دار پھیلائے ہیں اور ہواؤں کے پھیرنے میں، اور آسمان و زمین کے درمیان حکم کے تابع بادلوں میں، (حقیقت کو سمجھنے کے لیے) بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں‘ (البقرہ: 164)۔

’وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند کو روشنی بنایا اور اُس کے لیے منزلیں ٹھیرا دیں تاکہ تم اُس سے برسوں کی گنتی اور اُن کا حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ با مقصد ہی بنایا ہے۔ وہ اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔ یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور جو کچھ زمین اور آسمانوں میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اُس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں‘ (یونس: 5-6)۔

’وہ اللہ ہی ہے جو تمھیں خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں لوگوں کو لے کر موافق ہوا سے چل رہی ہوتی ہیں اور لوگ اُس سے شاداں و فرحاں ہوتے ہیں کہ یکایک اُس پر تند ہوا آجاتی ہے اور کشتی کے مسافروں پر ہر طرف سے موجیں اُٹھنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے ہیں، اُس وقت وہ اپنی اطاعت کو اللہ ہی کے لیے خالص کرکے اُس کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اِس سے نجات دے دی تو یقیناً ہم شکر گزار ہو کر رہیں گے۔ پھر جب وہ اُنھیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغیر کسی حق کے زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو، تمھاری سرکشی کا وبال تمھی پر آنے والا ہے۔ دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر تم کو پلٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، اُس وقت ہم تمھیں بتا دیں گے جو کچھ تم کر رہے تھے۔ دنیا کی یہ زندگی، اِس کی مثال اِس طرح ہے جیسے بارش کہ ہم نے اُسے آسمان سے برسایا تو زمین کی نباتات اُس سے خوب گھنی نکلیں، وہ بھی جنھیں آدمی کھاتے ہیں اور وہ بھی جنھیں جانور کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنی رونق پر آگئی اور اُس نے بناؤ سنگھار کرلیا اور زمین والوں نے خیال کیا کہ اب وہ اُس پر پوری قدرت رکھتے ہیں تو اچانک رات یا دن میں (کسی وقت) ہمارا حکم اُس پر آگیا، پھر ہم نے اُسے ایسا کاٹ کر ڈھیر کر دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو غور کریں، اپنی نشانیاں اِسی طرح کھول کر بیان کرتے ہیں‘ (یونس: 22-24)۔

’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے رات کو تاریک بنایا تاکہ اُس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنا دیا تاکہ معاش کی جدوجہد کرو۔ اِس میں یقینا اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں‘ (یونس:67)۔

’زمین پر چلنے والا کوئی جان دار نہیں ہے، جس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ اور وہ اُس کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے اور اُس جگہ کو بھی جہاں وہ (مرنے کے بعد زمین کے) سپرد کیا جائے گا۔ یہ سب ایک کھلی کتاب میں درج ہے‘ (ہود:6)۔

’اور زمین میں پاس پاس ملے ہوئے قطعات ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے، کھجور کے درخت ہیں، جن میں جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں، لیکن اُن کے پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے پر برتری دے دیتے ہیں۔ یقیناً اِن سب چیزوں میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں‘ (الرّعد:4)۔

’اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی اتارا، پھر اُس سے تمھاری روزی کے لیے طرح طرح کے پھل نکالے اور کشتی کو تمھارے کام میں لگا دیا کہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلے اور اُس نے دریاؤں کو تمھارے کام میں لگایا۔ اور سورج اور چاند کو تمھارے کام میں لگایا، دونوں برابر چلے جا رہے ہیں۔ اِسی طرح دن اور رات کو بھی اُس نے تمھارے کام میں لگایا۔ اور تمھیں ہر چیز میں سے، جو تم نے مانگی، عطا فرمایا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو نہیں گن سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور بڑا ناشکرا ہے‘ (ابراہیم: 32-34)۔

’ہم نے زمین کو پھیلایا، (اُس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے) اُس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے، ہر قسم کی چیزیں ایک تناسب کے ساتھ اُس میں اگا دیں۔ اور اُس میں تمھاری معیشت کے اسباب بھی فراہم کر دیے اور اُن کی معیشت کے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں ہو‘ (الحجر:19-20)۔

’اُس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ وہ برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔ اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا تو دیکھتے ہو کہ یکایک وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ چوپائے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں۔ اِن میں تمھارے لیے جاڑے کی پوشاک ہے اور دوسرے فائدے بھی اور اِن سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ اِن کے اندر تمھارے لیے جمال بھی ہے، جب کہ شام کے وقت اِن کو واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ یہ تمھارے بوجھ ایسے شہروں تک لے جاتے ہیں، جہاں تم جان توڑ کر ہی پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار بڑا ہی شفیق، بڑا مہربان ہے۔ یہ گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم اِن پر سوار ہو اور یہ زینت بھی ہیں۔ وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جنھیں تم نہیں جانتے‘ (النّحل:3-8)۔

’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیا۔ اِس میں یقیناً اُن لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سنتے ہیں۔ اور تمھارے لیے چوپایوں میں بھی یقیناً بڑا سبق ہے۔ ہم اُن کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے نہایت خوش گوار ہے۔ اِسی طرح کھجور اور انگور کے پھلوں سے بھی۔ تم اُن سے نشے کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی اچھی چیزیں بھی۔ اِس میں یقیناً اُن لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ تمھارے پروردگار نے شہد کی مکھی پر وحی کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں اور درختوں میں اوراونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بنا لیتے ہیں، اُن میں اپنے گھر بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس اور اپنے پروردگار کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اُس کے پیٹ سے ایک مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اُس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ اِس کے اندر بھی یقیناً اُن لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو غور کرتے ہیں‘ (النّحل:65-69)۔

’کیا اِنھوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی فضا میں حکم کے پابند بنے ہوئے ہیں؟ اُن کو صرف اللہ تھامے ہوئے ہے۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لانا چاہیں۔ تمھارے لیے تمھارے گھروں کا سکون بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ اُسی نے تمھارے لیے چوپایوں کی کھال کے گھر بنائے ہیں جنھیں تم اپنے کوچ اور قیام کے وقت نہایت ہلکا پاتے ہو۔ اور اُن کی اون اور اُن کے روؤں اور اُن کے بالوں سے (تمھارے ) گھروں کا سامان اور برتنے کی بہت سی چیزیں بنائی ہیں جن سے ایک وقت تک فائدہ اٹھاتے ہو‘ (النّحل: 79-80)۔

’تمھارا پروردگار وہی ہے جو تمھارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اُس کا فضل تلاش کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ تمھارے حال پر بڑا مہربان ہے۔ تمھیں جب سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو جن کو پکارتے ہو، وہ سب بھولے بسرے ہو جاتے ہیں، صرف وہی ایک یاد رہ جاتا ہے۔ پھر وہ جب تمھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو منہ موڑ جاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے‘ (الاسراء:66-67)۔

’وہی جس نے زمین کو تمھارے لیے گہوارہ بنایا اور اُس میں تمھارے لیے راہیں نکال دیں اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اُس سے ہم نے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کر دیں۔ کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ اِس کے اندر عقل والوں کے لیے، یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔ ہم نے اِسی زمین سے تم کو پیدا کیا ہے، ہم اِسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اِسی سے تم کو دوبارہ نکال کھڑا کریں گے‘ (طٰہ:53-55)۔

’کیا اِنکار کرنے والوںنے دیکھا نہیں کہ آسمان اور زمین، دونوںملے ہوئے تھے، پھر ہم نے اُن کو جدا جداکردیا اور ہم نے ہر زندہ چیز کو آسمان کے پانی ہی سے پیدا کیا ہے؟ کیا وہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے؟اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے کہ وہ اُن کو لے کر جھک نہ پڑے اور اُن پہاڑوں کے اندر راستے کے لیے درے بنائے تاکہ لوگ (اپنے لیے) راہ پا لیں۔ اور آسمان کو ہم نے ایک محفوظ چھت بنا دیا اور یہ لوگ ہیں کہ اُس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ اِن میں سے ہر ایک (اپنے) ایک مدار میں گردش کر رہا ہے‘ (الانبیاء:30-33)۔

’ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا تھا۔ پھر اُس کو ہم نے پانی کی ایک (ٹپکی ہوئی) بوند بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا۔ پھر پانی کی اُس بوند کو ہم نے ایک لوتھڑے کی صورت دی اور لوتھڑے کو گوشت کی ایک بندھی ہوئی بوٹی بنایا اور اُس بوٹی کی ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا۔ پھر ہم نے اُس کو ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ پھر یہ کہ قیامت کے دن تم لازماً اٹھائے بھی جاؤ گے‘ (المومنون:12-16)۔

’اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی برسایا، پھر اُس کو زمین میں ٹھیرا دیا اور ہم (اگر چاہتے تو) اُس کو واپس بھی لے جا سکتے تھے۔ پھر اِسی سے ہم نے تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے ہیں۔ اِن میں تمھارے لیے بہت سے میوے ہیں جن سے تم لذت اٹھاتے ہو اور اِنھی سے اپنی غذا کا سامان بھی کرتے ہو۔ اِسی طرح وہ درخت بھی اگایا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے۔ وہ روغن لیے ہوئے اگتا ہے اور (روغن کی صورت میں) کھانے والوں کے لیے ایک اچھا سالن بھی۔ اور تمھارے لیے چوپایوں میں بھی یقیناً بڑا سبق ہے۔ ہم اُن چیزوں کے اندر سے جو اُن کے پیٹ میں ہیں، تمھیں (خوش ذائقہ دودھ) پلاتے ہیں اور تمھارے لیے اِن میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں اور تم اِنھی سے اپنی غذا حاصل کرتے ہو۔ اور اِن پر اور کشتیوں پر سوار بھی ہوجاتے ہو‘ (المومنون:18-22)۔

’اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور (ایک دن آئے گا کہ) اُسی کی طرف سمیٹے جاؤ گے۔ اور وہی ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے اور رات اور دن کی گردش، سب اُسی کے اختیار میں ہے۔ پھر کیا سمجھتے نہیں ہو؟‘ (المومنون:79-80)۔

’اِس کے برخلاف جو لوگ اِس روشنی کے منکر ہیں، اُن کے اعمال کی تمثیل یہ ہے کہ جیسے چٹیل صحرا میں سراب جس کو پیاسا پانی گمان کرے، یہاں تک کہ جب اُس کے پاس آئے تو کچھ نہ پائے۔ البتہ وہاں اللہ کو پائے، پھر وہ اُس کا حساب پورا پورا چکا دے گااور اللہ کو حساب چکاتے کبھی دیر نہیں لگتی‘ (النّور:39)۔

’ہر جان دار کو اللہ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے۔ پھر (تم دیکھتے ہو کہ) اِن میں سے کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے تو اِن میں سے کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے اور اِن میں سے کوئی چار پاؤں پر۔ اللہ جو چاہے، پیدا کر دیتا ہے۔ بے شک، اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘ (النّور:45)۔

ـ’ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حال پر ہو، اللہ اُس کو جان چکا ہے۔ جس دن یہ اُس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ اِنھیں بتا دے گا جو کچھ یہ کر کے آئے ہیں۔ اور (یاد رکھو کہ) اللہ ہر چیز سے واقف ہے‘ (النّور:64)۔

’اوروہی ہے جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے۔ ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیںکہ اُس سے شہر کی مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو اُس سے سیراب کر دیں‘ (الفرقان: 48-49)۔

’کس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے تمھارے لیے پانی اتارا، پھر اُس سے ہم نے خوش منظر باغ اگائے، تمھارے لیے ممکن نہیں تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہی لوگ ہیں جو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں۔ کس نے زمین کو ٹھکانا بنایا اور اُس کے درمیان ندیاں بہا دیں اور اُس (کو قائم رکھنے) کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان پردہ ڈال دیا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ اِن کے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘ (النّمل:60-61)۔

’کیا اِنھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کردیتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے لیے یہ نہایت آسان ہے۔ اِن سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر وہی اللہ اُسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘ (العنکبوت: 19-20)۔

’وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرنو زندہ و شاداب کر دیتا ہے۔ اِسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے‘ (الرّوم: 19)۔

’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر (زمین میں) پھیل جاتے ہو۔ اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ اِس میں یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرنے والے ہیں۔ زمین اور آسمانوں کی پیدائش اور تمھاری بولیوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں یقیناً علم والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے (سمجھتے )ہیں۔ اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمھیں بجلیاں دکھاتا ہے جو خوف بھی پیدا کرتی ہیں اور امیدبھی، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ اِس میں، یقیناً اُ ن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑو گے۔ زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اُسی کے ہیں، سب اُسی کے فرماں بردار ہیں۔ وہی ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اُسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ زمین اور آسمانوں میں سب سے بالاتر صفت اُسی کی ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے‘ (الرّوم: 20-27)۔

’ دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ ایک میٹھا ہے، پیاس بجھانے والا، پینے کے لیے خوش گوار اور ایک کھارا کڑوا ہے اور تم دونوں سے تازہ گوشت حاصل کرکے کھاتے ہو اور زینت کا سامان نکالتے ہو، جس کو پہنتے ہو۔ اور کشتیوں کو دیکھتے ہوکہ اُسی پانی میں اُس کا سینہ چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں، اِس لیے کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اِس لیے کہ اُس کا شکر ادا کرو۔ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے۔ دونوں ایک بندھے ہوئے وقت کے لیے چل رہے ہیں۔ یہی اللہ تمھارا پروردگار ہے، اُسی کی بادشاہی ہے، اور جنھیں تم اُس کے سوا پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ‘ (فاطر: 12-13)۔

’تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اُس سے ہم نے رنگ رنگ کے پھل پیدا کر دیے اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ، مختلف رنگوں کی دھاریوں والے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اِسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں کے اندر بھی کئی رنگ کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے اُس کے بندوں میں سے وہی ڈریں گے جو علم والے ہیں۔ بے شک، اللہ زبردست ہے، درگذر فرمانے والا ہے‘ (فاطر: 27-28)۔

’اللہ ہی ہے جس نے زمین کو تمھارے لیے مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور تمھاری صورت گری کی تو تمھاری صورتیں نہایت عمدہ بنائیں اور تم کو پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا فرمایا۔ یہی اللہ تمھارا پروردگار ہے۔ سو بڑا ہی با برکت ہے اللہ، جہانوں کا پروردگار۔ وہی زندہ ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا اُسی کو پکارو، اطاعت کو اُس کے لیے خالص کرکے۔ شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے، جہانوں کا پروردگار‘ (غافر: 64-65)۔

’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے چوپائے پیدا کیے کہ اُن میں سے کسی سے سواری کا کام لو اور کسی کو تم کھاتے ہو۔ اور اُن میں تمھارے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔ یہ اِس لیے بھی پیدا کیے گئے کہ تمھارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو، تم اُن پر سوار ہو کر وہاں پہنچ جاؤ۔ تم اُن پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔ وہ اپنی اور بھی نشانیاں تمھیں دکھاتا ہے، پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے!‘ (غافر: 79-81)۔

’اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ بالکل بے جان پڑی ہے۔ پھر جب ہم اُس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہاتی اور ابھرتی ہے۔ جس نے اُس کو زندہ کیا، یقیناً وہی مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘ (فصّلت: 39)۔

اِنھیں ہم عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود اِن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اِن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے۔ اور (تمھاری تسلی کے لیے) کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمھارا پروردگار ہر چیز کا گواہ ہے؟ نہیں، یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کی طرف ہی سے شک میں ہیں۔ سنو، وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے‘ (فصّلت: 53-54)۔

’اور سمندر میں چلنے والے پہاڑوں کی طرح (اونچے) جہاز بھی اُسی کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے، پھر وہ سمندر کی سطح ہی پر ٹھیرے رہ جائیں۔ اِس میں یقیناً ہر اُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو صبر کرنے والا، شکر کرنے والا ہو‘ (الشّورٰی:32-33)۔

’زمین اورآسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں‘ (آل عمران: 109)۔

’نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ سب ایک ایک مدار میں گردش کر رہے ہیں‘ (یٰسین: 40)۔

’کیا اِنھوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے چوپائے پیدا کیے ہیں اور اب یہ اُن کے مالک ہیں؟اور ہم نے اُن کو اِس طرح اِن کا تابع بنا دیا ہے کہ اُن میں سے بعض اِن کی سواریاں ہیں اور اُن میں سے بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔ اور اِن کے لیے اُن کے اندر دوسری منفعتیں بھی ہیں اور (خاص کر) پینے کی چیزیں بھی۔ پھر کیا یہ شکر نہیں کرتے؟‘ (یٰسین: 71-73)۔

’توکیا اِنھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا؟ ہم نے کس طرح اُس کو بنایا اور اُس کو سنوارا ہے اور اُس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اُس میں پہاڑ جمائے اور ہر قسم کی خوش منظر چیزیں اُس میں اگا دیں، ہراُس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لیے جو توجہ کرنے والا ہو۔ اور آسمان سے ہم نے برکتوں والا پانی برسایا، پھر اُس سے باغ اور فصلیں اگائیں جو کاٹ لی جاتی ہیںاور کھجوروں کے بلندو بالا درخت اگا دیے جن میں تہ بر تہ خوشے لگتے ہیں، بندوں کی روزی کے لیے۔ اور مردہ زمین کو ہم نے اِسی پانی سے زندہ کر دیا۔ (مرنے والوں کا زمین سے) نکلنا بھی اِسی طرح ہو گا‘ (ق: 6-11)۔

’ کیا اِن لوگوں نے اپنے اوپرپرندے نہیں دیکھے؟ پر پھیلائے ہوئے، اور وہ اُن کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو اُنھیں تھامے ہوئے ہو۔ بے شک، وہی ہر چیزپر نگران ہے‘ (الملک: 19)۔

’ کیا زمین کو ہم نے گہوارہ اور پہاڑوں کو (اُس کی) میخیں نہیں بنایا؟اور تم کو جوڑوں کی صورت میں پیدا نہیں کیا؟اور تمھاری نیند کو تمھارے لیے باعث راحت نہیں بنایا؟اور رات کوپردہ اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا؟اور تمھارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے؟اور اِن میں ایک دہکتا چراغ نہیں بنایا؟اور نچڑتی بدلیوں سے چھاجوں مینہ نہیں برسایا؟اُس سے اناج اور سبزہ اور گھنے باغ نہیںاگائے؟یہ سب منادی کر رہا ہے کہ یقیناً فیصلے کا ایک دن مقرر ہے‘ (النّبا:6-17)۔

’اِن سے کہہ دو: وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں بویا۔ (وہ اپنی فصل ضرور کاٹے گا) اور تم اُسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے‘ (الملک: 24)۔

’… رحمن کی تخلیق میں تم کوئی خلل نہ پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو، کیا کوئی نقص کہیں پاتے ہو؟ پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمھاری نگاہ تھک کر تمھارے پاس نامرادلوٹ آئے گی‘ (الملک: 3-4)۔

’وہی صبح نکالنے والا ہے۔ رات کو سکون کی چیز اُسی نے بنایا ہے اور سورج اور چاند ایک حساب سے رکھے ہیں۔ یہ اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔ وہی ہے جس نے تمھارے لیے تارے بنائے تاکہ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں اُن سے رہنمائی حاصل کرو۔ ہم نے اپنی نشانیاں اُن لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دی ہیں جو جاننا چاہیں‘ (الانعام: 96-97)۔

’وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم ہی اس سے ہر طرح کی پیداوار نکالتے ہیں، پھر اُس سے سرسبز شاخیں اٹھائیں جن سے ہم تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے پیدا کر دیتے ہیں۔ اور کھجور کے شگوفوں سے لٹکتے ہوئے گچھے بھی اِسی سے پیدا ہوتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار بھی ہم نے اِسی سے پیدا کیے ہیں، جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور الگ الگ بھی۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو، جب وہ پھلتا ہے اور اُس کے پکنے کو دیکھو، جب وہ پکتا ہے۔ اِن کے اندر اُن لوگوں کے لیے بڑی غیر معمولی نشانیاں ہیں جو ماننا چاہتے ہیں‘ (الانعام: 99)۔

’ زمین پر جتنے جانور اپنے پاؤں سے چلتے ہیں اور فضا میں جتنے پرندے اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں، سب تمھاری ہی طرح امتیں ہیں (سمجھانے کے لیے)ہم نے اپنی کتاب میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اِس کے بعد ( ایک دن) یہ اپنے پروردگار کے حضور میں اکٹھے کر دیے جائیں گے‘ (الانعام: 38)۔

’وہی ہے جو اپنی رحمت (باراں) سے پہلے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو ہم اُسے کسی مردہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں اور وہاں مینہ برسا دیتے ہیں، پھر اُس سے طرح طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اِسی طرح ہم مردوں کو بھی اٹھا کھڑا کریں گے، شاید تم یاددہانی حاصل کرو۔ جو زمین اچھی ہوتی ہے، وہ اپنے پروردگار کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو ناقص ہوتی ہے، اُس کی پیداوار بھی ناقص ہی ہوتی ہے۔ ہم اپنی نشانیاں اِسی طرح گوناگوں پہلوؤں سے دکھاتے ہیں، اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار بننا چاہیں‘ (الاعراف: 57-58)۔

’کیا تمھیں بنانا مشکل ہے یا آسمان کو؟ اللہ نے اُسے بنایا ہے، اُس کی چھت کو اونچا کیا، پھر اُس کو خوب درست کیا ہے اور اسی نے رات تاریک بنائی اور دن کو دھوپ نکالی۔ اِس کے بعد زمین کو اُس نے بچھایا ہے۔ اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارا نکالا ہے اور اُس کے پہاڑ (اُس میں) گاڑے ہیں۔ یہ سب کچھ تمہارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے فائدے کے لیے ہے ‘ (النّازعات: 27-33)۔

’ تو یہ انسان ذرا اپنا کھانا ہی دیکھ لے کہ ہم نے خوب پانی برسایاہے، پھر زمین کو پھاڑ کر چیر اہے، پھر اُس میں غلے اُگا دیے ہیںاور انگور اور ترکاریاںاور زیتون اور کھجوراور گھنے باغ، میوے اور تازہ و شاداب سبزہ، تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے، متاع زیست کے طور پر‘ (عبس: 24-32)۔

’تو کیا اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟‘ (الغاشیہ: 17-20)۔

’اور زمین کو اُس نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھا دیا ہے۔ اُس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، اور بھوسی والے غلے اور خوشبو والے پھول بھی۔ پھرتم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے!‘ (الرّحمٰن: 10-13)۔

’ کیایہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے ہیں یا آپ ہی اپنے خالق ہیں؟یا زمین اور آسمانوں کو اِنھوں نے پیدا کیا ہے؟ نہیں، یہ بات نہیں ہے، بلکہ یہ یقین نہیں رکھتے‘ (الطّور: 35-36)۔

’زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کے بھید تک جانتا ہے‘ (الحدید: 5-6)۔

ii) – خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

’ اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمھیں روزی دی، پھر تم کو مارتا ہے، پھرتمھیں زندہ کرے گا۔ کیا تمھارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو اِن کاموں میں سے کوئی کام کرتا ہو؟ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن سب چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں‘ (الرّوم:40)۔

’لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے، سو اُس کو غور سے سنو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا تم جن کو پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ اِس کے لیے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر وہ مکھی اُن سے کچھ چھین لے تو اُس سے وہ اُس کو چھڑا بھی نہیں سکتے۔ لوگ اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، دونوں بے عقل ہیں ‘ (الحج:73)۔

’تم اُس کے سوا چند ناموں ہی کی بندگی کر رہے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے اُن کی کوئی سند نہیں اتاری ہے۔ اقتدار صرف اللہ کا ہے۔ اُس نے حکم دیا ہے کہ خود اُس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی دین قیم ہے، مگر بہت سے لوگ (اِس حقیقت کو) نہیں جانتے ‘ (یوسف: 40)۔

’جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح مخلوق ہیں۔ پھر ان کو پکارو، اور انہیں تمہیں جواب دینے دو، اگر تمہاری بات سچ ہے۔ کیا ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ہیں؟ کیا ان کے پاس ہاتھ ہیں؟ کیا ان کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں؟ کیا ان کے پاس سننے کے لیے کان ہیں؟۔ ۔ ۔ ‘ (الاعرا ف: 194-195)

’جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنی مدد کر سکتے ہیں ‘(الاعراف: 197)۔

’اِنھیں ابراہیم کا واقعہ سناؤ، جب اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا:کیا تم بتوں کو معبود بنائے بیٹھے ہو؟ میں تو تمھیں اور تمھاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ ابراہیم کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مشاہدہ کراتے تھے تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرے اور خود بھی اُن لوگوں میں سے ہو جائے جو پورا یقین رکھنے والے ہوں۔ چنانچہ (ایک دن)جب اُس پر رات طاری ہوئی تو اُس نے تارا دیکھا (اور لوگوں کو متوجہ دیکھ کر) کہا: یہ میرا رب ہے۔ پھر (اِسی طرح کے ایک موقع پر) جب تارا ڈوب گیا تو اُس نے کہا: میں (خدائی کے لیے) اُن کو پسند نہیں کرسکتا جو ڈوب جاتے ہیں۔ پھر (ایک دن) جب چاند کو چمکتے دیکھا تو کہا:یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو اُس نے کہا: اگر میرے پروردگار نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گم راہ لوگوں میں سے ہو کر رہ جاؤں گا۔ پھر (ایک دن) جب سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو اُس نے (اپنی قوم کو مخاطب کرکے) کہا: میری قوم کے لوگو، میں اُن سب سے بری ہوں جنھیں تم (خدا کے) شریک ٹھیراتے ہو۔ میں نے یک سو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ‘ (الانعام: 74-79)۔

ابراہیم نے ایک نظر تاروں پر ڈالی۔ پھر کہا: میں تو بیمار محسوس کر رہا ہوں۔ چنانچہ وہ لوگ اُس کو چھوڑ کر پلٹے اورچلے گئے۔ سو ابراہیم نظر بچا کر اُن کے معبودوں کی طرف گیا اور کہا: تم کھاتے کیوں نہیں؟کیا بات ہے، تم بولتے بھی نہیں۔ اِس کے بعد وہ موقع دیکھتے ہی اُن پر پل پڑا اور بھرپور ہاتھ مارا۔ (لوگوں کو خبر ہوئی) تو وہ بھاگے ہوئے اُس کی طرف آئے۔ ابراہیم نے کہا: کیا تم لوگ اپنی گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی نے تمھیں بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو (الصّفّٰت:88-96)۔

’جب (ابراہیم) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا: یہ کیا مورتیں ہیں جن سے تم لگے بیٹھے ہو؟اُنھوں نے جواب دیا: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِنھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ اُس نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمھارے باپ دادا بھی ایک کھلی گمراہی میں پڑے رہے ہو۔ اُنھوں نے پوچھا: کیا ہمارے پاس سوچی سمجھی بات لے کر آئے ہو یا ہنسی مسخری کر رہے ہو؟اُس نے کہا: نہیں، بلکہ تمھارا پروردگار وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا پروردگارہے، جس نے اُن کو پیدا کیا ہے اور میں (تمھارے سامنے) اُس پر گواہی دے رہا ہوں۔ (پھر اپنے دل میں کہا): خدا کی قسم، جب تم پیٹھ پھیر کر جا چکو گے تو میں تمھارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک چال کروں گا۔ چنانچہ (وہ چلے گئے تو) ابراہیم نے اُن سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اُن کے ایک بڑے کے سوا تاکہ وہ اُسی کی طرف رجوع کریں۔ (اُنھوں نے آ کر بتوں کی یہ حالت دیکھی تو) کہنے لگے: ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے؟ یقیناً وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان کو اِنھیں کچھ برا کہتے ہوئے سنا تھا، جس کو ابراہیم پکارتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا: تو اُس کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ وہ بھی دیکھ لیں۔ (چنانچہ ابراہیم لائے گئے تو) اُنھوں نے پوچھا: ابراہیم، یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تمھی نے کی ہے؟ابراہیم نے جواب دیا: بلکہ اِن کے اِس بڑے نے کی ہوگی۔ تو اِنھی سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے ہوں۔ اِس پر اُن کو اپنے باطن کی طرف ذرا تنبہ ہوا اور اُنھوں نے ایک دوسرے سے کہا: حقیقت میں تم ہی ظالم ہو۔ لیکن پھر اوندھے ہو گئے اور بولے: تمھیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ ابراہیم نے کہا: پھر کیا اللہ کے سوا اُن چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو تمھیں نہ کوئی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان؟‘ (الانبیاء:52-66)۔

’ کیا تم نے اُس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اُس کے پروردگار کے معاملے میں حجت کرنا چاہی، اِس لیے کہ اللہ نے اُسے اقتدار عطا فرمایا تھا؟ اُس وقت، جب ابراہیم نے اُس سے کہا کہ میرا پروردگار تو وہ ہے جو مارتا اور جِلاتا ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ میں بھی مارتا اورجِلاتا ہوں۔ ابراہیم نے فوراً کہا: اچھا تو یوں ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اُسے مغرب سے نکال لائو۔ سو (یہ سن کر) وہ منکر حق بالکل حیران رہ گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا ‘ (البقرہ: 258)۔

’خدا نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں‘ (المومنون: 91)۔

’جنھیں یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ مگر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اُن کے دل منکر ہیں اور وہ غرورمیں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ یقیناً جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو اِس طرح غرور نفس میں مبتلا ہیں‘ (النّحل:20-23)۔

’اِن سے کہو، کبھی تم نے غور بھی کیا ہے کہ خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ اُنھوں نے زمین میں کیا بنایا ہے یا اُن کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے (کہ اُنھیں معبود بنا لیا جائے)؟ اِس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے سامنے پیش کرو یا کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم سچے ہو۔ اُن سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا اُن کو پکارتے ہیں جو اُنھیں قیامت کے دن تک جواب دینے والے نہیں ہیں؟ اُن کو تو اِن لوگوں کی دعاؤں کی خبر بھی نہیں ہے‘ (الاحقاف: 4-5)۔

iii) – انسانی زندگی کا مقصد

’ہم نے زمین و آسمان کو اور اُس کو جو اُن کے درمیان ہے، کچھ کھیل تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے‘ (الانبیاء:16)۔

’سورج گواہی دیتا ہے اور اُس کا چڑھنا؛اور چاند جب اُس کے پیچھے آئے؛اور دن جب اُس کو روشن کرے؛اور رات جب اُس کو ڈھانپ لے؛اور آسمان اور جیسا اُسے بنایا؛اور زمین اور جیسا اُسے بچھایا؛اور نفس اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی(کہ روز قیامت شدنی ہے، اِس لیے) فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کرڈالا‘ (الشّمس:1-10)۔

’بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے، وہ(پروردگار) جس کے ہاتھ میں عالم کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (وہی ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگذر فرمانے والا بھی ‘ (الملک: 1-2)۔

’حقیقت یہ ہے کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور(یہ اپنی حیثیت پراترائیں نہیں)، ہم اچھے اوربرے حالات سے تم لوگوں کو آزما رہے ہیں، پرکھنے کے لیے اور (ایک دن) تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ (الانبیاء:35)۔

’ہم نے تمھیں پیدا کیا ہے تو قیامت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے؟ پھرکبھی سوچا ہے، یہ نطفہ جو تم ٹپکاتے ہو، اُس سے جو کچھ بنتا ہے، اُسے تم بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں؟ہم نے تمھارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں، بلکہ پوری قدرت رکھتے ہیں کہ تمھاری جگہ تمھارے جیسے اور لوگ لے آئیں ور تمھیں اُس دنیا میں اٹھا کھڑا کریں جسے تم نہیں جانتے۔ اپنی پہلی پیدایش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں یاددہانی حاصل نہیں کرتے؟ پھرتم نے کبھی سوچا ہے، یہ جو کچھ تم بوتے ہو، اِسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟ہم چاہیں تو اِسے ریزہ ریزہ کر دیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤکہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی، بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔ پھرتم نے کبھی سوچا ہے، یہ پانی جو تم پیتے ہو، اِسے تم نے بادلوں سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں؟ہم چاہیں تو اِسے سخت کھاری بنا دیں۔ پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟‘ (الواقعہ:57-70)۔

’اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف بڑھ جانے کے لیے دوڑو جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اورجو اُن پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ تنگی ہو یا کشادگی، اور غصے کو دبا لیتے اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اور اللہ اُن لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو خوبی سے عمل کرنے والے ہوں ‘ (آل عمران:133-134)۔

’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو‘ (الاسراء:37)۔

’اِس کے برخلاف جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔ تم اپنی کوئی بات چھپا کر کہو یا علانیہ، وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ دراں حالیکہ وہ بڑا دقیقہ رس اوربڑا ہی خبردارہے۔ وہی جس نے زمین کو تمھارے لیے ایک فرماں بردار ناقہ بنا دیا ہے، تو اب تم اُس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے پروردگارکے رزق میں سے کھاؤ اور (یاد رکھو کہ ایک دن) اُسی کے حضور میں جی اٹھنا ہے‘ (الملک: 12-15)۔

’جس دن ہر نفس اپنی کی ہوئی نیکی سامنے پائے گا اور اُس نے جو برائی کی ہوگی، اُسے بھی دیکھے گا، اُ س دن وہ تمنا کرے گا کہ کاش اُس کے اور اِس دن کی پیشی کے درمیان ایک لمبی مدت حائل ہوجاتی۔ اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اِس لیے ڈراتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے لیے بڑا مہربان ہے‘ (آل عمران: 30)۔

’کیا یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اللہ اُن سب باتوں سے باخبر ہے؟‘ (البقرہ:77)۔

’تو کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے؟تمھیں کیا ہوا ہے، تم کیسا حکم لگاتے ہو؟کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہوکہ وہاں تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم پسند کرو گے؟کیا تمھارے لیے ہم پر کوئی قسمیں ہیں جو قیامت تک چلتی جائیں گی کہ تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم حکم لگاؤ گے؟اِن سے پوچھو کہ اِن میں سے کون اِس کا ذمہ لیتا ہے؟کیا اِن کے (ٹھیرائے ہوئے)کوئی شریک ہیں (جو اِس کا ذمہ لیں گے)؟ تو لائیں اپنے اِن شریکوں کو، اگر یہ سچے ہیں‘ (القلم: 35-41)۔

’پھر(آخرت میں) جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہے، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا‘ (الزّلزال:7-8)۔

مذہبی بیانیہ میں زندگی کی معنویت

خدا پر یقین نہ رکھنے والے سائنس دان جانتے ہیں کہ سائنس نہ تو خدا کو ثابت کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کر سکتی ہے۔ لیکن وہ آرام سے سطحی ریمارکس دے کر وجودی سوالات کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے ایک بار کہا تھا کہ خدا کے وجود کو غلط نہیں ٹھہرایا جا سکتا جیسا کہ اس بات کو غلط نہیں کہا جا سکتا کہ اڑتا ہوا گھوڑا موجود ہے یا باغ کے نیچے پریاں رہتی ہیں[89]۔

پہلی بات یہ کہ یہ سائنس کے دائرہ کار میں ہی نہیں آتا کہ ایسے معاملات میں ثالث بن جائے۔ یہ سائنس کی محدودیت ہے، لیکن انسانی عقلیت کی نہیں۔ انسانی عقلیت صرف طبیعی طور پر قابل مشاہدہ حقائق پرہی تمام علم کو محدود نہیں سمجھتی ہے۔ اگرچہ پروفیسر لارنس کراس یہ سمجھتے ہیں کہ سچائی کا حتمی ثالث تجربہ ہے، مگر سائنس اس وقت رک جائے گی جب ان حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا جوتجرباتی یا مشاہداتی علم میں زیر مطالعہ نہیں لائے جاسکتے ہیں۔ سائنس ہمیں محرک، ارادہ اور اخلاق کے بارے میں قطعی طور پرکچھ نہیں بتاسکتی ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ تمام عقائد درست نہیں ہوتے۔ کچھ یا اکثر محض توہمات ہوتے ہیں۔ کوئی بھی عقیدہ سچا یا غلط ہو سکتا ہے۔ اگر ہم صرف سائنسی طریقہ سے خدا کے وجود کو ثابت یا غیر ثابت نہیں کر سکتے تو ہمیں طبیعیات اور حسی مشاہدات سے نکل کرعقلیت، منطق اور فلسفہ سے اس سوال کے جواب کو تلاش کرنے میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر کوئی عقیدہ یا تصور تاریخ کے بارے میں ہے تو ہمیں تاریخ اور آثار قدیمہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کوئی عقیدہ یا تصور کسی کتاب میں لکھا گیا ہے اور لاکھوں لوگ اپنے خیالات کو اس کتاب سے منسوب کرتے ہیں تو پھر اس کتاب میں موجود معلومات کو پڑھنا اور اس کابغور جائزہ لینا چاہیے۔ فطری تجسس انسان سے اس طرح تحقیق میں آگے بڑھنے کا تقا ضا کرتا ہے۔ کوئی بھی انسان جو حقیقت، علم اور سچائی کی تلاش میں دلچسپی رکھتا ہے، اسے ایسے ہی اپنے مطالعہ میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اصل چیز مصادر علم نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش ہے۔ انسان کئی حقیقتوں تک اپنے عقلی استدلال سے پہنچتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی عقلیت اور منطق پر مبنی استدلال کو مشاہدہ سے متصادم نہیں ہونا چاہیے ہے اور حقیقت کی ایک قابلِ اعتماد توجیہ ہونا چاہیے ہے۔

سائنس کے نقطہ نظر سے ناقابل توجیہ تصور لے لیں کہ باغ کے نیچے پریوں کا وجود ہے جو دکھائی نہیں دیتیں جیسا پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے مثال دیتے ہوئے کہا۔ جب انسانی عقلیت سمجھ جائے گی کہ سائنسی طرزِ تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ایک ناقابلِ حل تصور ہے تووہ تجربات یا جسمانی حواس پر انحصار کرنے کے بجائے اس کی مزید تحقیق کے لیے دیگر ذرائع علم کو استعمال کرے گی۔

مثال کے طور پر، پوچھیں کہ کون یقین کرتا ہے کہ ان دیکھی پریاں باغات کے نیچے موجود ہیں۔ اگر کوئی نہیں تو ہمیں غیر متعلقہ فرضی عقیدے کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہی سرے سے نہیں ہے کہ یہ سچ ہے یا غلط۔ اگر کوئی باغ کے نیچے ان دیکھی پریوں پر یقین رکھتا ہے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ تصور اس کے لیے کس سوال کی کیا توجیہ کرتا ہے۔ علم میں وہ کیا کمی یا نقص تھا جس کے جواب میں یہ تصور اس کے علم میں اضافہ کرتا ہے خود اس کے اپنے الفاظ اور استدلال میں۔ پھر یہ کہ اس تصور کو جس نے حقیقت جانا اس کا اس تصور کا ماخذ کیا ہے۔ اس طرح کے کچھ ہی سوالات کے ذریعہ غیر متعلقہ، غیر سنجیدہ، غیر علمی اور لغو تصورات کی تنقیح ہوتی جائے گی۔ یہ ہی چند سوالات اڑنے والے گھوڑے اور اس چائے کی پیالی کے لیے پوچھے جائیں گے جو برٹرینڈ رسل کی مثال میں ایک سیارے کے گرد گھوم رہی ہے۔

یہ سائنس کی محدودیت ظاہر کرتا ہے کہ وہ غیر مشاہداتی تصورات چاہے وہ حقیقی ہوں یا محض لغوتصورات، ان دونوں میں کوئی جواب دینے کے قابل نہیں ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات میں ’ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا‘کا ہی جواب دے سکتی ہے۔ مگر انسان اپنی عقل کو اگربالکل ہی نہ کھودے تو وہ بہت آسانی سے کم از کم لغوتصورات کو عقلی استدلال سے غیر متعلق جان سکتا اور بیان کرسکتا ہے۔

اب خدا کے وجود کا سوال لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص تھوڑا سا بھی سائنس کو جانتا ہے، تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ یہ نہ توسائنس سے ثابت ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس یا سائنسی طریقہ سے قطعی طور پر رد کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کوئی منطقی اور عقلی استدلال کا استعمال کر کے دیکھ سکتا ہے کہ آیا یہ صحیح عقیدہ ہے یا اس کے برعکس۔

جب ہم ایک منظم چیز دیکھتے ہیں اور اس کی اصلیت یا وجود پر غور کرتے ہیں تو یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اسے کس نے بنایا، کیسے بنایا گیا اور کیوں بنایا گیا۔ ملحدین حضرات کیوں کے سوال کو چھوڑ دیتے ہیں اور مادی حقائق کے پیچھے ارادہ یا مقصد کو بھی اپنے مطالعہ میں جگہ نہیں دیتے۔

کچھ کیسے ہوتا ہے حقیقت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے جوابات تلاش کرنا سائنس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اکیلے ’کیسے‘ کا جواب ہمیں مکمل حقیقت بتا سکتاہے اور یہ بھی جواب دے سکتا ہے کہ ’یہ کس نے کیا‘ اور ’کیوں‘ کیا۔

کسی چیز کے بارے میں علم کی توثیق کے لیے ہمیشہ حسی مشاہدہ ضروری نہیں ہے۔ ہم معلوم علم کے ذریعہ نا معلوم کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم استقرائی منطق کو بھی بروئے کار لاتے ہیں جہاں مشاہدہ یا تجربہ حقیقت کو مکمل طور پر ظاہروواضح نہیں کردیتا۔

ہم یہ اندازہ لگائیں گے کہ کسی نے میز پر کتاب رکھی ہے اگر یہ پہلے الماری میں رکھی ہوئی تھی اور ہمارے مشاہدہ میں میز پر پڑی نظر آئی۔ ایسااس لیے کیوں کہ کتاب میں خود حرکت کی صفت نہیں۔ اگر ہم کسی نومولود بچہ کو پارک میںاکیلے روتے ہوئے دیکھتے ہیں تو نظر دوڑاکر اس کے والدین یا خدمت گا ر کو تلاش کرتے ہیں جس کے ساتھ یہ بچہ آیا ہوگا کیوں کہ ہجوم میں اپنے پیروں پر چل کر راستوں سے ہوتے ہوئے کسی عوامی جگہ پر آموجود ہونا ایک نوزائیدہ بچہ کے لیے خود سے ممکن نہیں۔ کچھ حقائق کو ہم مادہ کی صفات، حرکات یا اثرات سے پہچان پاتے ہیں جیسے کہ کششِ ثقل۔ ہم جانتے ہیں کہ ڈارک انرجی اور ڈارک مادہ، صرف نظر آنے والے مادے پر ان کے اثر کی وجہ سے ایک حقیقت تسلیم کیا جاتاہے۔ ہم جانتے تھے کہ بلیک ہولزموجود ہیں اس سے بہت پہلے کہ جب ہم ان کو 2019 میںایک تصویر کے ذریعے بھی دیکھ پائے۔

سائنس نے ہمیں واقعی حیرت زدہ کر دیا ہے کہ ہم متعدد متغیرات میں ٹھیک ٹھیک توازن کے ذریعے کیسے اس کرہ ارض پر موجود ہیں۔ فطری سوال یہ ہے کہ یہ مہمان نوازی کون کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے۔ اگر ہم ایک ہوٹل میں اکیلے بیٹھے ہوں اور اچانک سے ہمیں کئی قسم کے کھانے اور مشروبات پیش کیے جانے شروع ہوجائیں تو یہ فطری بات ہے کہ ہم جاننا چاہیں گے کہ یہ سب کس کی طرف سے ہے اور اس کی کیاوجہ ہے۔ جو ملحدین حضرات کائنات میں زندگی کو محض اتفاق سمجھتے ہیں تو انہیں اتفاق سے کتاب کے الماری سے نکل کر میز پر آنے کو، ایک نومولود بچہ کو سڑکوں پر لوگوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے پارک میں آجانے کو اور بے ترتیب الفاظ کاغذ پر لکھ کرپھاڑنے ور اچھالنے کے بعد زمین پر آکر ایک زبردست نظم بن جانے کو بھی اتفاق کی وجہ سے ایک قابلِ قبول حقیقت کے طور پر تسلیم کرلینا چاہیے۔ پھر تو انہیں ہر سوال کے جواب میں اتفاق کا لفظ بول کر کوئی حتمی بات ہی نہیں کہنی چاہیے اور صرف امکانا ت کی فہرست گنوانی چاہیے۔ حیرت ہے کہ اتفاق کا لفظ بولتے ہوئے شرمندگی نہیں ہوتی اور اس کے بعد بھی کوئی رائے حتمی طور پر بیان کرنے کی جسارت بھی ہوتی ہے اور کسی دوسری رائے پر تنقید بھی۔

انسان تھوڑی دیر کے لیے رک کر اپنے احساسات اور تمناؤں کا جائزہ لیتا ہے تواسے خلش محسوس ہوتی ہے کہ وہ انصاف کو پسند کرتا ہے، اپنانا چاہتا ہے اور دوسروں کو حاصل کرتے دیکھنا چاہتا ہے مگر اسے دکھائی دیتا ہے کہ یہ بہت حدتک ممکن ہی نہیں۔ کیا مطلق انصاف کبھی قائم ہو سکتا ہے؟ کیا دائمی خوشی حاصل کی جا سکتی ہے؟ کیا نسل کشی کے ذمہ داروں کو کبھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے؟ کیا ایماندار اور سچے لوگ جو غیر منصفانہ زندگی گزار رہے ہیں ان کو ان کا محروم ماضی اور گزرا وقت واپس دیا جاسکتا ہے ؟ نہیںان میں سے کچھ بھی نہیں۔ پھر جب طبیعیات اس کے وجودی سوالات کو ذہن کا خلل کہ کر کائنات کا یہ تصور دیتی ہے کہ وہ ایک ایسی بقائی جنگ میں ہے جس میں ہر نوعِ حیات کی سانسیں گنی جاچکی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کون کتنی سانسیں دوسری حیاتیا ت سے جنگ کرکے حاصل کرسکتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کرونا وائرس جیساجرثومہ بھی اپنی بقاء کی جنگ جینیاتی تغیرات سے لڑرہا ہے۔ ہر نوعِ حیات دیگر نوعِ حیاتیات سے مسابقت میں ہے۔ وائرسز کا اپنے میزبان کو مارنا یا انسان کا اپنے جیسے انسانوںکو، یہ کائنات کی حیاتیاتی یا جینیاتی عینک میں ایک ہی جیسا مشاہدہ یا حقیقت ہے۔

انسانی ذہن کے اضطراب کو ایک جانب رکھ کر واپس آغازِ وجود کے سوال پر آتے ہیں۔ بگ بینگ نے اس بات کو سائنسی طور پر ثابت کیا کہ کائنات کا آغاز ہوا ہے۔ ہر وہ چیز جو وجود رکھنا شروع کرتی ہے وہ خود نہیں بن سکتی۔ یہ بات ہم عقلی استدلال سے جانتے ہیں۔ کوئی بھی چیز وجود میں نہ ہوتے ہوئے خود کو ہی تخلیق نہیں کر سکتی۔ لہذا کوئی بھی چیز بیک وقت موجود اور غیر موجود نہیں ہو سکتی۔

اس کے وجود کو لانے میں اس کی ذات کے علاوہ کسی کا عمل دخل ہوگا۔ کائنات کے وجود کا بھی ایک آغاز ہوا ہے تو اس کا کوئی خالق ہونا چاہیے اور اس خالق کو کائنا ت سے ماورا ہونا چاہیے ہے۔ یہ بالکل عقلی اور فطری بات ہے۔ لہذا اس کائنات کی محدودیت اس خالق پر لاگو نہیں ہوگی نہ ہونی چاہیے۔ اگر کسی وڈیو گیم کو بنایا جائے اور اس میںکسی پلئیر کو برف سے تکلیف اور آگ سے طاقت یا کسی اور وڈیو گیم میں اس کے برعکس ہوتا ہو تو یہ اصول چاہے اس گیم میں فطری ہوں، یہ لازم نہیں کہ یہ اس وڈیو گیم کے بنانے والے پروگرامر پر بھی لاگو ہوں گے اور وہ ان کے آگے مجبور ہوگا۔ خالق کائنات اس کائنات کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے ہر جز اور اس میں کارفرما قوانین کا بھی خالق ہے۔

کائنات کے وجود میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ایک ایسا خالق ہو جسے تخلیق نہ کیا گیا ہو اور وہ ہمیشہ سے ہو۔ کیوں کہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہر خالق کا بھی ایک خالق ہونا ضروری ہوگا اور اس طرح کائنات جیسی مخلوق جس کا ایک آغاز ہوا ہے وہ وجود ہی میں نہیں آسکتی ہوگی۔ کیا کائنات ہی کو خالق مان لیا جائے۔ مگر بگ بینگ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنا ت ازلی نہیں بلکہ اس کا آغاز ہوا ہے۔ اسی لیے کئی ملحدین کو پہلے پہل بگ بینگ کے نظریہ کو ماننے میں سخت تامل تھا۔ آج بھی بہت سے سائنس دان کائنات کے زندگی کو بقاء دینے کے لیے حیرت انگیز توازن کی توجیہ کرتے ہوئے بے شمار متوازی کائناتوں کے وجود تک کو تسلیم کرنے کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جب کہ یہ مفروضہ سائنس کے مشاہداتی اور تجرباتی طرزِ تحقیق کے لحاظ سے قابل تحقیق ہی نہیں۔

ہم کسی ایسی چیز کا سبب یا خالق ڈھونڈتے ہیں جو تخلیق کیا گیا ہو اور جو کسی خاص وقت پر وجود میں آیا ہو جیسے کائنات جو 13.7ارب سال پہلے وجود میں آئی۔ ازلی یا غیر تخلیق شدہ خالق کا نہ کوئی خالق ہے نہ ہونا چاہیے، وہ کائنات سے ماورا اور کائنات کے قوانین کا پابند بھی نہیں ہونا چاہیے ہے اور نہ ہے۔ وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ خالق ِکائنات کی ضرورت بھرپور عقلی استدلال رکھتی ہے۔ اس کی ذات کائنات کے وجود کو ماننے ہی کے لئے واجب الوجود ہے۔

یہ خدا ـ’God of the Gaps‘ نہیں ہے جو ناول میں ایسے صفحات کے لیے موزوں ہے جو ناول میں نہیں ملتے۔ یہ خدا پورے ناول کا مصنف ہے۔ وہ پینٹنگ کا پکسل یا برش یا رنگ یا خود پینٹنگ نہیں ہے۔ وہ ہی مصورِکامل ہے۔ وہ صرف طبیعیات کے قوانین یا ریاضی کے اصول نہیں ہے۔ یہ ان قوانین کا ماخذ ہے۔ آئزک نیوٹن نے درست کہا کہ کشش ِثقل سیاروں کی حرکات کی وضاحت کرتی ہے، لیکن یہ وضاحت نہیں کر سکتی کہ سیاروں کو حرکت میں کون لاتا ہے۔

یہاں تک کہ بہت سے سائنس دان جو اپنے آپ کو ملحد یا متشکک کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ خالق کے ایسے تصور پر راضی ہیں جو کائنات بنانے کے بعد مداخلت نہ کرے۔ انسانوں کی زندگی سے سروکار نہیں رکھے۔ انسان کے اندر یہ داعیہ بھی فطری طور پر آسکتا ہے مگر یہ کوئی قابلِ قبول توجیہ نہیں بن سکتا۔ ہوٹل کی مثال میں ہم یہ خواہش تو رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں جو کھانا اور مشروبات پیش کیے گئے انہیں تناول کرکے ہم ہوٹل سے اس طرح بھاگیں کہ ہمیں کوئی دیکھ نہ سکتا ہو۔ مگر اس طرح کی سوچ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ناکافی ہے کہ یہ طرح طرح کے کھانے اور مشروبات ہمیں کس نے اور کیوں پیش کیے۔ اتنی حقیقت تو ہم جانتے ہیں کہ ہم وجود رکھتے ہیں، ہمارا وجود اور اس کی ہر ایک سانس کائنات میں مختلف عوامل، طبیعی قوتوں اور طبیعی قوانین کے بہت ہی باریک تناسب سے ممکن ہے اور نہ صرف سانس بلکہ اپنی خوراک کے لیے بھی ہم کائنات میں موجود وسائل کودستیاب پاتے ہیں۔ کائنات میں ایک ذرہ کا بھی اضافہ ہماری ذات سے نہیں ہورہا۔ ہم صرف اس کائنات کے ایک ہوٹل میں مہمان ہیں۔ جو سائنس دان ملحدین ہیں وہ صرف ہوٹل میں موجود ظروف، سلیقہ مندی اور سہولیات کے مطالعہ میں منہمک ہیں مگر مکمل حقیقت میں نہیں۔

غیر مداخلتی خدا کا تصور مختلف الفاظ میں ولیم پالے، والٹیئر اور اسپنوزا نے دیا۔ اگر ہمیں کہیں کوئی گھڑی نظر آئے گی تو ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ہمارا مشاہدہ وہمی اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ ہم کہیں گے کہ یہ ایک گھڑی ہے۔ پھر جب ہم اس پر غور کریں گے اور اس میں وقت جاننے کا ایک نظام دیکھیں گے تو لازمی طور پر کہیں گے کہ اسے کسی نے بنایا ہوگا۔ یہ گھڑی کسی کوڑے کے ڈھیر یا بے ترتیب لکڑی کے ٹکڑوں کی طرح تو نہیں۔ آخر میں جب ہم یہ بات بھی دیکھ رہے ہیں کہ گھڑی و قت کے گزرنے کو بتاپارہی ہے بغیر کسی مداخلت کے تو پھر یہ ہی مثال اس کائنات پر بھی لاگو کی جاسکتی ہے۔ ان حضرات کے خیال میں کائنات ایک گھڑی کی طرح خود بخود چل رہی ہے۔ اسے کسی خالق نے ہوسکتا ہے بنایا ہو، مگر اگر وہ ایک خاص ڈھنگ سے کچھ قوانین کے تحت چلی جارہی ہے تو ہم کہ سکتے ہیں کہ اس کے خالق (گھڑی ساز) کو اب کائنات (گھڑی) سے کوئی سروکار نہیں۔

مگر ہوٹل والی مثال میں جب بار بار یہ اعلان ہورہا ہو اور جسے ہم سماعت بھی کررہے ہوں کہ کوئی بل دیے بغیر نہ جائے اور بل کاؤنٹر ایگزٹ کاؤنٹر سے پہلے ہے تو ہم میز کے نیچے ہوں یا ریسٹ روم میں یا لفٹ میں۔ بہرحال کچھ دیر بعد ہمیں بل کاؤنٹر پر حساب دینا ہی ہوگا۔ خالقِ کائنات کو ہم سے کوئی سروکار نہیں یہ ہم اس وقت نہیں کہ سکتے جب ہم اس کی نعمتوں سے بھرپور مستفید بھی ہورہے ہوں۔ بے نیاز رہنا ایسا ہی ہے کہ بل کی ادائیگی کے اعلان کے بعد اور یہ جانتے ہوئے کہ آخرکار ہوٹل بند ہوجائے گاہم محض ریسٹ روم، لفٹ، لابی اور میز کے اوپر یا نیچے وقت بتانے سے خود اپنے ذمہ سے بری نہیں ہوسکتے۔

اس کے علاوہ بے نیازی کا یہ رویہ انسانی تجسس سے متضاد ہے۔ اگر ہم مانتے ہیں کہ ایک خدا ہے تو ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہیے۔ خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم تک اپنا پیغام پہنچایا ہے اور آخری دو رسولوں، عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ تاریخ کے روشن دور میں آ ئے۔ قرآن خدا کا کلام ہے جو تخلیق کے مقصد کی وضاحت کرتا ہے۔ خدا کو ایک گھڑی ساز، ریاضی دان، ماسٹر مساوات اور ایک پائلٹ کے طور پر ماننے کے بجائے (جو انجن شروع کرتا ہے لیکن مشین کو آٹو پائلٹ میں بدل دیتا ہے)، ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم خدا کی تلاش کے لیے اپنے تجسس کے موافق عقلی رویہ رکھیں۔ ہمیں اس سے بچنا نہیں چاہیے صرف اس وجہ سے کہ ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

توحید پرست مذاہب کے مطابق اللہ نے کائنات میں تمام جاندار اور غیر جاندار چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کائنات کا ا ٓغاز ایک خاص وقت ہوا جو ہم سائنس سے بھی جانتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کی طبیعیات نے تائید کی ہے۔ یہ کائنات اپنی خود خالق نہیں ہو سکتی۔ جیمز کلارک میکسویل جنہوں نے برقی مقناطیسی تابکاری کا کلاسیکی نظریہ وضع کیا ہے، اس بارے میں کہتے ہیں: ’سائنس خود مادہ کی تخلیق پر استدلال کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم اپنے سوچنے کی صلاحیتوں کی انتہائی حد تک پہنچ چکے ہیں اور پھر بھی ہمیں تسلیم کرنا پڑا ہے کہ چونکہ مادہ ابدی اور خود موجود نہیں ہو سکتا، اس لیے اسے تخلیق کیا جانا چاہیے‘[90]۔

پروفیسر لارنس کراس سوال کرتے ہیں: ’خالق ِ کائنات کو کس نے پیدا کیا؟‘ [91] خالق کائنات کو کائنا ت سے ماورا ہونا چاہیے ہے۔ یہ بالکل عقلی اور فطری بات ہے۔ لہذا اس کائنات کی محدودیت اس خالق پر لاگو نہیں ہوگی نہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ازلی یا غیر تخلیق شدہ خالق کا نہ کوئی خالق ہے نہ ہونا چاہیے، وہ کائنات سے ماورا اور کائنات کے قوانین کا پابند بھی نہیں ہونا چاہیے ہے اور نہ ہے۔ وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ خالق ِ کائنات کی ضرورت بھرپور عقلی استدلال رکھتی ہے۔ اس کی ذات کائنات کے وجود کو ماننے ہی کے لئے واجب الوجود ہے۔

بگ بینگ نے ثابت کیا ہے کہ اس کائنات کا آغاز 13.7 ارب سال پہلے ہوا تھا۔ یہ ابدی طور پر موجود کائنات نہیں ہے۔ اس کائنات میں یا تو جان دار مادہ ہے یا بے جان مادہ۔ بے جان مادے کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خود کو آزادانہ طور پر تخلیق کرتا ہے۔ ہم مادہ کا استعمال کرتے ہیں اور اسے ہوائی جہاز، راکٹ، خلائی جہاز، فلک بوس عمارتیں اور وسیع باغات بنانے کے لیے مختلف شکلوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ ہم انسا ن تعمیری یا تخریبی ہر طرح سے بے جان مادہ پر تصرف کی آزادی رکھتے ہیں۔ مگر خود اپنے بارے میں بھی ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کائنات میں وجود میں آنا کائنات کی مکمل تاریخ میں بالکل ماضیِ قریب کا واقعہ ہے۔ ہم اس سیارے پر چند لاکھ سال پہلے سے بمشکل وجود میں آئے ہیں۔ ہم اپنے اندر کی جسمانی اور ارادہ کی کمزوری سے واقف ہیں۔ ہماری عقل دوسری حیاتیات سے بہت برتر ہونے کے باوجود بھی ٹھوکر کھاجاتی ہے۔ نفسیات اور معاشیات میں اس پر کافی تحقیق ہوچکی ہے اور مزید ہونا باقی ہے۔ ہمارے عقلی تضادات اتنے زیادہ ہیں کہ علمِ معاشیات میں مصروف ترین شعبہ ابھی یہی ہے۔ ہربرٹ سائمن لکھتے ہیں:

’پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے انسانی ذہن کی صلاحیت ان مسائل کی پیچیدگی کے مقابلے میں بہت کم ہے جن کا حل حقیقی دنیا میں معقول عقلی رویے کے لیے درکار ہے [92]‘۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ریاضی کے امیریٹس پروفیسر، جان لینکس نے اس سطحی سوال کا مختصر جواب دیا کہ خدا کو کس نے بنایا ہے۔ پروفیسر ڈاکنزکی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا کی ذات کو وہم قرار دینا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ، اگر خدا نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے تو ہمیں پوچھنا پڑے گا کہ خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ لیکن اس سوال کے پوچھنے سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکنز کے ذہن میں ایک تخلیق کردہ خدا ہے۔ یہ خالص ان کے ذہن کا وہم ہے[93]۔ وہ مزید کہتے ہیں: ’ اگر ڈاکنز کا سوال درست ہے تو اسے ان کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ ڈاکنز کو یقین ہے کہ کائنات نے انہیں پیدا کیا ہے۔ لہذا، ہم ان سے یہ پوچھنے میں جائز ہیںکہ: آپ کے خالق کو کس نے پیدا کیا ہے؟‘[94]۔ یعنی مسلسل سوالوں کا سلسلہ آخر کار ایک ازلی غیر تخلیق شدہ خالق تک ہی جاکر رکے گا۔

اسلام کے نظریہ حیات کے مطابق انسان اللہ کی طرف سے اس زمین پر ایک امتحان کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔ اس امتحان میں ہماری کامیابی کا انحصار معاملات میںآزادانہ مرضی سے اخلاقی رویہ کو اپنانے میں ہے۔ امتحان کی نوعیت آزادانہ مرضی سے کیے گئے انسانی اعمال کی جانچ کرتی ہے۔ اس نظریہ حیات میں انسان کی زندگی بامعنی، بامقصد اور اخلاقی ہدایت کے اثر میں آجاتی ہے۔ بعد اززندگی میں اخلاقی فضیلت کی بنیاد پر کامل انصاف انسان کی ان داخلی خواہشات کا حصول بھی ممکن بنادیتا ہے جو انسان اپنے اندر رکھنے کے باوجود اس دنیا میں حاصل نہیں کرسکتا، یعنی دائمی خوشی، ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں سے نجات، کامل انصاف اور بے قید زندگی۔

اس امتحان میں کامیابی ان لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے جنہوں نے زندگی بھر ناانصافی برداشت کی۔ ناکامی ان امیر ترین، طاقتور اور غاصب لوگوںکے لیے بھی ممکن ہے جو اس دنیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچ جاتے ہیں۔

پروفیسر نیل ٹائسن اس تصور سے مطمئن ہیں کہ ہم کسی خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے کھیت میں قید ہیں[95]۔ لیکن وہ خالقِ کائنات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے لیے اس خالق پر یقین کرنا مشکل ہے جس نے یہ کائنات اور ہمیں بنایا ہے۔ یہ شاید اس لیے ہے کہ مذکورہ بالا عقیدے پر مبنی نظریہ حیات اگرچہ سچا اور گہرا ہے اور ہر ایک کو اپنی زندگی میں معنی دیتا ہے، لیکن یہ ہم سے ذمہ داری اٹھانے کو بھی کہتا ہے جس سے ہم بچنا چاہتے ہیں۔ یہ مثالیں اور قیاس آرائیاں ذمہ داری سے بچنے کی سوچ اور ذہن کی عکاسی کرتی ہیں اور یہ زندگی کے معنی کے بارے میں سوالات کے جوابات کے لحاظ سے کچھ بھی وضاحت نہیں کرتی ہیں۔

یہ دنیا ہر لحاظ سے منصفانہ نہیں ہے۔ اخلاقی طور پر ایک نیک آدمی ضروری نہیں کہ دنیا کا سب سے معزز آدمی ہو۔ اخلاقی طور پرکھراتاجر ضروری نہیں کہ دنیا کا سب سے امیر فردہو۔ تمام قاتل اس دنیا میں سزا نہیں پاتے۔ یہاں تک کہ اگر تمام قاتلوں کو مجرم قرار دیا جا سکتاہوتا، تب بھی یہ فطری طور پر ممکن نہیں ہوگا کہ ایک سے زیادہ انسانوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو ایک سے زیادہ بار قتل کی سزا دی جائے۔ مزید یہ کہ جرم اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج اور گزرا وقت اور اذیت لوٹائی نہیں جاسکتی۔

کچھ لوگ تجویز کرتے ہیں کہ مذہبی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم غیر اخلاقی ہیں یا بن جائیں گے۔ تاہم ایمانی نقطہ نظر یہ نہیں کہتا کہ اخلاقی اقدار صرف مذہبی ہدایت سے جنم لیتی ہیں۔ ہمارے شعور میں فطری صلاحیت موجود ہے کہ وہ غلط اور صحیح میں اخلاقی لحاظ سے فرق کر سکے۔ مگر اخلاقی رویہ اپنایا کیوں جائے اور جو نہ اپنائے اسے کس بنیاد پر سمجھایا جائے۔ آخرت میں جواب دہی کا تصور اخلاقی داعیہ کو رویہ میں تبدیل ہونے پر ابھارتا ہے۔ وہ صبر، استقامت اور حق کا ساتھ دینے پر راغب کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آخرت میں فلاح خود غرضی میںنہیں بلکہ اچھے عمل میں ہے۔ اس نظریہ حیات میں قدر خودغرضی کی نہیں بے لوثی اور نثارکی ہے۔ اخلاق صرف یہ نہیں کہ بد اخلاقی سے رکا جائے۔ معاملات کو تبدیل کرنے میں مدد نہ کرنا بھی غیر اخلاقی ہے۔ اگر کسی کے پاس وسائل ہیں اور اسے اپنے مال کوعوامی خدمت میں خرچ کرنے اور سماجی و سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے برائی یا بگاڑ کو روکنے کے لیے کچھ کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس سے ان مواقع کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ مذہب رویوں میں اخلاقی انتخاب کو بامعنی بنادیتا ہے۔ بصورت دیگرلامذہب نظریہ حیات میں ظالم اور دوسری طرف ایماندار لوگ دونوں کے مرنے کے بعدجسم کیڑوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔

اگر کوئی صرف اس زندگی پر یقین رکھتا ہے تب وہ شخص اس زندگی میں سب کچھ حاصل کرنے کے لیے زیادہ خود غرض ہو جائے گا۔ اگر ہم اپنے وجود کو صرف اس دنیا تک محدود رکھتے ہیں جس کے بعد کی زندگی میں کوئی جواب دہی نہیں ہے تو پھر میں ’نیک‘ ہوں اگر میری شہرت ’نیک‘ ہے حالانکہ ہوسکتا ہے میں نے ایسے جرائم کیے ہوںجو معاشرے نے مجھے کبھی کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔ اس کے برعکس مجھے معاشرے کی طرف سے ’مجرم‘ سمجھا جا سکتا ہے اگر وہ مجھے شواہد کی بنیاد پر مجرم ٹھہرائے جو کہ جھوٹے ہو سکتے ہیں۔ آخرت کی زندگی ہمارے تمام اعمال کو معنی دیتی ہے اور ہر انسان سے کامل انصاف کا وعدہ کرتی ہے۔

مذہب کا تعلق بنیادی طور پر زندگی کے اخلاقی دائرے سے ہے۔ اس کا تعلق اخلاقی ضمیر سے ہے اور وہ اسے مثبت اعمال اور رویے کے لیے مضبوط بناتا ہے۔ جدید سائنس کے ذریعے ٹیکنالوجی میں پیش رفت کسی بھی طرح اخلاقی اقدار کا متبادل نہیں ہے۔ جس طرح ہم نہ تو سورج کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں نہ قدیم زمانے میں اور نہ ہی آج بھی، اسی طرح مذہب بھی انسانی معاشرے کا ایک بنیادی حصہ ہے جو اسے اقدار اور معنویت دیتا ہے۔

اگر زندگی کے قیمتی لمحات اخلاقی رویے اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے حوالے سے خالق کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں گزریں تو موت کے بعد ایک لازوال خوشی مل سکتی ہے اور یہ دوبارہ کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہوگی۔ آخرت میں احتساب کا تصور اس زندگی میں ہر چھوٹی برائی یا نیکی کے لیے کامل انصاف کا وعدہ کرتا ہے۔

ایمانوئل کانٹ سے منقول ہے: ’قانون میںایک آدمی اس وقت مجرم ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اخلاقیات میںوہ مجرم ہے اگر وہ ایسا کرنے کے بارے میں سوچتا بھی ہے‘[96]۔ مگر یہاں تک کہ اگر ہم تمام مجرموں کے محرکات کو جان بھی سکتے ہوں اور سزا کو نافذ بھی کر سکتے ہوں، ہم جرم کو پلٹ نہیں سکتے، وقت کو واپس نہیں لاسکتے اور بیتی ہوئی اذیتوں کو مٹا نہیں سکتے۔ کڑی سے کڑی سزا بھی صرف قاتل کی جان لے سکتی ہے۔ نسل کشی اور ناجائز جنگوں کے ذمہ دار مجرموں کو مکمل انصاف نہیں دیا جا سکتا چاہے وہ اپنے تمام جرائم کو خود قبول کر لیں۔ آ خرت میں کامل انصاف کا نظریہ ہر انسان کی زندگی کو بامعنی بناتا ہے اور اسے روشن کردیتا ہے۔ یہ اخلاقی معاملات میں وجہ اور اثر (Cause and Effect) کو حقیقت بناتا ہے۔

ہماری عقل اور اخلاقی ضمیر اللہ کی عطا ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ خالق ِ کائنات نے تخلیق کیا ہے۔ ہم صرف اس کی نعمتوں کا استعمال کررہے ہیں۔ کچھ لوگ اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ جو لوگ کسی عقیدے سے تعلق نہیں رکھتے، لیکن جو معاشرتی کام کرتے ہیں وہ اللہ سے آخرت میں کچھ کیوں نہیں پائیں گے۔ اگر کوئی شخص اللہ اور بعد کی زندگی پر یقین نہیں رکھتا ہے، تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس شخص کے اچھے اعمال کا مقصد کیا ہوگا۔ یہ ان چیزوں میں سے کوئی ایک یاایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں: 1) دوسروں کی مدد کرنا اور ان کی زندگی کو اس دنیا میں بہتر دیکھنا، 2) اچھا نام کمانا اور اس دنیا کے ختم ہونے تک اچھی شہرت سے مرنا اور 3) زندگی ختم ہونے تک خود اطمینان حاصل کرنا۔ یہ اس شخص کے لیے کچھ بڑے مقاصد ہوسکتے ہیں جو اچھے کام کرتا ہے اور جو جان بوجھ کر اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ جہاں تک یہ دنیا انصاف فراہم کر سکتی ہے، یہ تمام مقاصد ایک حد تک حاصل ہو جائیں گے۔ اگر حاصل نہیں ہوپائے یا اگر کوئی شخص یہ خدشہ رکھتا ہے کہ دنیا اچھے اعمال اور نیتوں کا انصاف کے ساتھ بدلہ نہیں دے گی تو پھر اس شخص کو یہ سوال کرنا چاہیے ہے کہ ’مطلق انصاف کی خواہش‘ کیسے پوری ہو سکتی ہے؟ یہ مذہبی نظریہ حیات ہی ہے جس میں ہر اچھائی اور برائی کا پورا پورا صلہ آخرت میں ضرور ملے گا۔

کیا ایمان صرف خوف سے نکلنے والاانسانی تصور ہے؟ ایسا نہیں ہے کیوں کہ حقیقت میںمذہب پر ایمان رکھنے ہوالے لوگ انتہائی قدیم تہذیبوں کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق نسل پرستی، تعصب، امتیازی سلوک، نسل کشی اور بعض صورتوں میں ان کی آبائی زمینوں کے خاتمے کے باوجود 2050 تک صرف مسلمان اور عیسائی آبادی عالمی آبادی کے 60 فیصد سے تجاوز کر جائے گی[97]۔ صرف برطانیہ میں ہر سال تقریبا 5,200لوگ اسلام قبول کرتے ہیں[98]۔ لہذا، ان لوگوں کی جانب سے شعوری طور پر مذہب کو قبول کرنے کو نظرانداز کرنا نامناسب ہے اس کے باوجود کہ انہیں تعصب، امتیازی سلوک اور نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خالق ِ کائنات انسان کو خود اپنے آپ سے متعارف کرواتاہے بجائے اس کے کہ کچھ لوگ خود سے اسے فرض کرتے ہوں۔ قرآن اپناخدا کی طرف سے الٰہی ہدایت ہونے کو خود ثابت کرتا ہے۔ اس کا فطرت کا بیان حیرت انگیز طور پر جدید سائنس کے دریافت کردہ حقائق سے ہم آہنگ ہے اور متصادم نہیں ہے۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں مگر اپنے استدلال میں کہیں اگر قرآن قدرتی حقائق کی طرف توجہ دلاتا ہے تو اس میں اور جدید سائنسی دریافتوں میںکوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

قوانین کے ساتھ ہر مہذب معاشرہ آزادی کو صرف ذمہ داری کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ جب یہ ذمہ داری خود خالق کی طرف سے مقررکردہ ہو تو نہ صرف یہ رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے، بلکہ توحید پر یقین انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک خالق کے علاوہ کسی اور کے تابع نہ ہو۔ توحید پر یقین مساوات کو یقینی بناتا ہے کیونکہ ہر انسان اللہ کی مخلوق ہے جیسے کہ ہر کوئی دوسرا انسان اور دیگر جان دار اور بے جان مخلوقات۔

مذہب صرف ’ تخلیق‘ کے نظریے سے ہی بحث نہیں کرتا۔ یہ ایک مکمل نظریہ حیات پیش کرتا ہے جو زندگی کے معنی اور مقصد کی وضاحت کرتا ہے، یعنی اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور اعمال کی اخلاقی تطہیر کرنااور جو کہ آخرت میں مطلق انصاف کے ساتھ فیصلہ کن انعامات کی نوید لائے گا۔

سیدھا راستہ دکھانے کے لیے ضمیر ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ مگر صحیح راستے کا علم رکھنے کے بعد، نیک کاموں کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا محرک ہوگا؟ کیا محرک ہوگا جو ضمیر کی آواز پر عمل کرنے پر ابھارے؟ مذہب صرف صحیح اور غلط جاننے کے لیے معلومات کا ذریعہ ہی نہیں ہے۔ مذہب ایک نظریہ حیات پیش کرتا ہے جو زندگی کا مقصد بیان کرتا ہے۔ دینی رہنمائی کا مقصد صرف اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور اپنے اعمال کی اخلاقی تطہیر ہے۔ یہ عقیدہ فرائض میں ذمہ دار رویہ کی صورت میں پوری زندگی کا احاطہ کرلیتا ہے۔ یہ نفس کو لگام دینے اوربے لوث رویہ اپنانے کی تحسین کرتا ہے اور انسان کے رویوں اور اعمال کی بنیاد پر آخرت میں کامل انصاف کا وعدہ کرتا ہے۔ انسانی ذہن مطلق انصاف چاہتا ہے، لیکن یہ فطری وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں ہے جیسے کسی آرمی جنرل کو نسل کشی کے جرم میں متناسب سزا نہیں دی جا سکتی اور ایسے معاملات میں بھی کامل انصاف ممکن نہیں ہوتا جہاں مظلوم قانونی، سفارتی، سیاسی اور عسکری لحاظ سے کمزورحالت میں ہوں۔ ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں دو انسانوں کو قتل کیا، لیکن بغیر کسی سزا کے پاکستان سے آزاد چلاگیا۔ بعد میںاس پر امریکہ میں ٹریفک کی معمولی خلاف ورزی پر فردجرم عائد کی گئی۔ برطانیہ میں چلکوٹ کی رپورٹ عراق جنگ میں 150 برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں انتہائی افسوس کا اظہار کرتی ہے جبکہ عراق کی غیر منصفانہ جنگ میں دس لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی ہلاک ہوئے۔

کچھ لوگ بحث کرتے ہیں کہ اللہ انتہائی مہربان ہونے کے باوجود مصائب اور برائیوں کو ختم کیوں نہیں کردیتا؟ چارلس ڈارون کو بھی یہ سمجھنے میں دشوا ری تھی کہ برائی کیوں ہے۔ ہم اللہ کو اس کی صفات سے جانتے ہیں، جن سے آگاہی ہمیں آسمانی صحیفوں سے ملتی ہے۔ ا گر کوئی الٰہی صحیفوں پر یقین نہیں بھی رکھتا ہے، اسے بھی بہرحال مذہبی نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے ان صحیفوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اللہ انتہائی رحم کرنے والا اور مطلق انصاف کرنے والا ہے اور وہ اپنی تمام صفات میںبیک وقت کامل ہے۔ اس دنیا میں لوگ جن مشکلات سے گزرتے ہیں وہ ضروری نہیں کہ صرف نافرمانی کے جواب میں سزا ہو۔ جو نعمتیں ہم اس دنیا میں حاصل کرتے ہیں وہ بھی ضروری نہیں کہ صرف نیک اعمال کے نتیجہ میں ہوں۔ اس دنیا میں دولت اور وسائل کی عدم مساوات ہم میں شکر اور صبر کو جانچنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس آزمائش کا تعلق ہمارے اخلاقی وجود سے ہے کہ کیا ہم الٰہی ہدایت کو اپنا کر اخلاقی پاکیزگی اختیار کرتے ہیں جو اس نے ہمیں حسِ اخلاقی دے کر اور پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہیں۔ اللہ ہمارے اعمال کا کامل مبنی بر انصاف صلہ آخرت میں دے گا جہاں فیصلہ اعمال کے معیار اور نیتوں کے اخلاص پرہو گا۔

اس دنیا میں کچھ لوگ جن تکالیف سے گزرتے ہیں وہ بعض صورتوں میں دوسرے ہی انسانوں کی بد فعلی اور فساد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ معاشرتی انصاف کا فقدان، غیر مساوی مواقع، اور جنگوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کے پیچھے اکثر انسانی ہاتھ ہی ہوتا ہے۔ جدید سائنسی دور میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ مذہب تو نیک عمل کی ترغیب دیتا ہے۔ تکلیف میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔ وہ ضرورت مندوں کے کام آنے پر ابھارتا ہے۔ لامذہبی نظریہ حیات میں زندگی کے کوئی معنی نہیں۔ اس میں نعمت اور مصیبت صرف قسمت اور اتفاق کا کھیل ہے۔ یہ نظریہ ان لوگوں کو کوئی سکون اور معنی فراہم نہیں کر سکتاجو اپنی زندگی بھی غیر منصفانہ حالات میں گزارتے ہیں اور جو ناحق مر جاتے ہیں۔

یہ بھی اکثر پوچھا جاتا ہے کہ بعض اوقات ہم لوگوں کو مقدس مقامات پر بھی حادثات میں مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بچوں سمیت اکثر لوگ معمول کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ وہ زندگی سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوسکیں۔ مذہب کے نقطہ نظر سے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ جن امور میں بھی آزادانہ مرضی استعمال نہیں کرسکتے، ان سے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ مثال کے طور پر وہ کہاں پیدا ہوئے، ان کا رنگ و نسل کیا ہے، وہ کتنی عمر پائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

موت ایک حقیقت ہے۔ تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ انسان روز مرتے ہیں۔ قدرتی آفات صرف ایک خاص وقت اور جگہ پر الگ تھلگ ہونے والی اموات کو اکھٹا کردیتی ہیں۔ یہ واقعات موت کی یاد دہانی کا کام کرتے ہیں۔ یہ واقعات خود شناسی، خود احتسابی اور سنبھلنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ حالات بعض اوقات ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بھی بنتے ہیں جو حادثات سے محفوظ رہتے ہیں اور وسائل رکھنے کی وجہ سے لوگوں کے کام آسکتے ہیں۔ مصائب وآفات صاحبِ ثروت لوگوں کے ایثار کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ اگر اس کائنات میں زندگی اتفاقیہ طور پر ہی وجود میں آگئی اور اس دنیاوی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں جہاں کامل انصاف ہو تو یہ دنیاوی زندگی کامل انصاف سے خالی ہے۔ اس میں ہر مجرم کو نہ سزا ہوتی ہے نہ ہر مظلوم کے دکھوں کا مداوا۔ توحید اورآخرت پر ایمان انسان کی زندگی کو بامعنی بھی بنادیتا ہے اور اس کے ساتھ آخرت میں کامل انصاف فراہم کرکے اس دنیا کی ناتمامیوں اور نا انصافیوں کا سدباب بھی کردیتا ہے۔

یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر اللہ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تو پھر وہ برے لوگوں کو تکلیف دینے سے پہلے کیوں نہیں روکتا۔ اس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمان پر مبنی نظریہ حیات اس دنیا میں زندگی کی وضاحت کیسے کرتا ہے۔ اس دنیا میں انسانی زندگی ایک آزمائش ہے جس میں اگر ہم زندگی کے تمام معمول کے فرائض انجام دینے میں سچائی اور اعلی اخلاق کو اختیار کریں گے تو ہمیں اس کاکامل صلہ آخرت کی زندگی میںملے گا۔ اگر ہم نیک رویہ اختیار نہیں کرتے اور ظلم و نا انصافی کو روا رکھتے ہیں تو ہم تادیب کے مستحق ہوں گے۔ چونکہ اس دنیاوی زندگی کی حقیقت ایک آزمائش یا امتحان ہے تو اس میں کامل انصاف نہیں نظر آتا۔ اگر خدا مداخلت کرکے ہر برائی کو روک دے تو آزمائش کا کوئی مقصد ہی نہیں رہے گا۔ مذہب ہی صرف معروضی اخلاقیات دیتا ہے اور اپنے نظریہ حیات میںکامل انصاف کا تصور رکھتا ہے جس میں زندگی صرف اس دنیا کی زندگی تک محدود نہیں۔ اس دنیاوی زندگی میں آزمائش اس وقت تک بے معنی رہے گی جب تک انسان کو ارادہ واختیار کی آزادی نہ ہو۔ تب ہی اسے اپنے اعمال پر جواب دہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں اللہ ہمیشہ ہی مکمل انصاف فراہم کرنے کے لیے مداخلت نہیں کرتا۔ تاہم مذہب میں اخلاقی تعلیمات نیک رویے پر زور دیتی ہیں اورآخرت میں کامل انصاف کی صورت میں کسی بھی انسان کی زندگی اور اس کا عمل بے معنی نہیں رہتا۔

ایمان اور سائنس کے درمیان عدم تضاد

پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہم سب ان دیوتاؤں کے بارے میں ملحد ہیں جن پر معاشروں نے کبھی یقین کیا ہے۔ ہم میں سے کچھ صرف ایک اور خدا کے بارے میں بھی ملحد ہوجاتے ہیں‘[99]۔ مذہبی عقائد کے بارے میں اس طرح سوچنا انتہائی بچکانہ بات ہے۔ ہم بھی ایک سے زیادہ پروفیسر رچرڈ ڈاکنز کے شخصی وجود پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور اس سے بھی یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نام کی کوئی شخصیت ہے۔

انتھونی کینی اس طرح کی مضحکہ خیزکلامی باتوں پر کہتے ہیں: ’لفظ خداکی بہت سی مختلف تعریفیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے، الحاد مذہب سے کہیں زیادہ بڑا دعویٰ کررہا ہوتا ہے۔ ملحد حضرات کہتے ہیںکہ چاہے آپ کوئی بھی تعریف منتخب کریں، ’ خدا موجود ہے‘ یہ بات ہمارے نزدیک ہمیشہ غلط ہے۔ مذہبی شخص تو صرف یہ ایمان رکھتا ہے کہ خدا کی ایک تعریف جو مذہبی حقائق سے واضح ہے، وہ ٹھیک ہے ‘[100]۔

مسلمانوں کا ماننا ہے کہ توحیدی مذہب ایک ہی تھا۔ یہ وہی مذہب تھا جس کی تبلیغ آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام نے دی تھی۔ عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تو ایمان رکھتے ہیں مگر محمد ﷺ پر نہیںحالانکہ تحریف کے باوجود بائبل نے ان کی آمد اور خصوصیات کی واضح نشانیاں دی ہیں۔ یہودیوں نے محمد ﷺ کے ساتھ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا بھی انکار کردیا حالانکہ تورات میں محمد ﷺ کے آنے کی واضح نشانیاں مذکور ہیں[101]۔ قرآن نے تبصرہ کیا ایک جگہ کہ یہودی محمدﷺ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنی اولاد کو۔ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ مسلمان تمام مقدس کتابوں پر یقین رکھتے ہیں۔ چونکہ ان مقدس کتابوں میں تحریف کردی گئی ہے اس لیے اللہ کی ہدایت اور منشا کو پانے کے لیے ہمارے پاس الہامی ہدایت قرآن کی صورت میں موجود ہے جس کا حرف حرف اتصال کے ساتھ تواتر سے منتقل ہوا ہے۔ قرآن اللہ کا آخری پیغام تاریخ کی روشنی میں نازل ہواہے اور جو حقیقی توحید پرست مذہب کی حقیقی تعلیمات اور بنیادی عقائد کو سموئے ہوئے ہے۔ قرآن اس زمین پر خدا کا آخری کلام ہے کیوں کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے قیامت تک کے لیے لیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا حر ف حرف آج تک لاکھوں سینوں اور کروڑوں سفینوں میں محفوظ ہے۔

کائنات پھیل رہی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مستقبل کی دوربینیں صرف کائنات کو دیکھنے کے لیے تاریخی ریکارڈز پر انحصار کریں گی جسے ہم ایک آج دیکھ سکتے ہیں۔ آج کا دور ایک خاص دور ہے جب کائنات کے دیگر سیارے اور کہکشائیں ہماری دوربینوں کے ذریعہ قابلِ بصارت ہیں۔ جب یہ کہکشائیں مزید تیز رفتاری سے دور ہوتی جائیں گی توہمیں آج کی دوربینوں سے خلا میں کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ مستقبل کی وہ تصویریں ہوں گی تو جدید مگر ضروری نہیں کہ وہ حقیقت کا ہی عکس ہوں کہ کائنات کے خلا میں ہماری کہکشاں کے سواکچھ بھی نہیں۔

بہت سے حقائق تاریخ میں زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمارے لیے ایک داستان ہے۔ مگر گزرے ہوئے لوگوں کے لیے ایک مشہود حقیقت ہوتی ہے۔ قرآن عربوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کی تاریخ اور ان کے پاس موجود تاریخی ریکارڈ کے بارے میں یاد دلاتا ہے اور جس سے انہیں سچائی کی تصدیق اور اس کا جائزہ لینے کا واضح موقع فراہم کرتا ہے۔ بادشاہ نجاشی اور ورقہ بن نوفل نے اپنے تاریخی ریکارڈ اور قرآن کے بیان کا تقا بلی جائزہ لے کر محمدﷺکی شہادت کی تصدیق کی۔ فطری تجسس جو انسان میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اس سے تقاضاکرتا ہے کہ وہ اپنی عقل، قابل وثوق تاریخی میراث، علم کی میراث اور باطنی حقائق سے صرفِ نظر نہ کرے۔ جس طرح ایک مؤرخ، ماہر بشریات، آثار قدیمہ کا محقق اور طبیعیات دان کام کرتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی مذہب کا مقدمہ جاننے کے لیے قرآن مجیدکا بھی غیر جانب دار انداز سے مطالعہ کرنا چاہیے۔

قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے۔ لیکن اپنے بنیادی پیغام کو پیش کرنے کے لیے یہ ہماری توجہ مختلف حقائق کی طرف لے کر جاتا ہے۔ یہ حقائق آفاق و انفس میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ جدید سائنس نے قدرت کے بارے میں قرآن کے وضاحتی بیانات میں کوئی غلطی نہیں پائی۔ چودہ صدیوں پہلے بھی قرآن یہ نہیں کہتا کہ زمین چند ہزار سال پہلے ہی وجود میں آئی تھی۔ درحقیقت قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف مقامات پر ایک دن کی طوالت زمین کے مقابلے میں بہت مختلف ہو سکتی ہے۔ جب قرآن مادی دنیا پر بحث کرتا ہے تو اس کی تفصیل جدید سائنس کے قائم کردہ حقائق سے مطابقت رکھتی ہے۔ 650 عیسوی میں، ان چیزوں کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، نہ ہی مشاہدہ کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی آج کے کسی شخص سے رابطہ کیا جا سکتا تھا۔ ان حقائق کا بیان ایک ایسے شخص کی جانب سے جس نے کوئی رسمی سائنسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ علم کسبی نہیں بلکہ الہامی ہے۔

جب قرآن ہماری توجہ فطرت پر مرکوز کراتا ہے تو ابتدائی کائنات کی حالت کے بارے میں اس کے کچھ وضاحتی بیانات (فصّلت: 11)، پہاڑوں اور براعظموں کی نقل و حرکت (النّمل: 88)، ماں کے پیٹ میں انسانی نشوونما (المو منون: 13-16)، سمندروں اور دریاؤںکی غیر اختلاطی نوعیت (الرحمٰن: 19-20)، سیاروں اور ستاروں کی گردش (الزّمر: 5)، کائنات کی توسیع اور پھیلاؤ(الذّاریات: 47)، کائنات میں وقت کی حقیقت نسبتی ہونا (السّجدہ: 5)، چاند کاسورج کی منعکس روشنی سے چمکنا (الفرقان: 61) اور جنس کے تعین کے حقائق (النّجم: 45-46) میںقرآ ن کے بیان اور جدید سائنسی دریافتوں میں کوئی تضاد نہیں نظر آتا۔

یہ بات بہت سے جدید سائنس دانوں کے لیے ناقابل فہم ہے جنہوں نے قرآن کا مطالعہ بھی کیا ہے کہ ایک شخص جو جہاں دیدہ بھی نہ ہو، لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت بھی نہ رکھتا ہو اور ہماری طرح اعلی تعلیم کی جدید یونیورسٹیوں سے فارغ نہ ہو وہ کس طرح تاریخی اورسائنسی حقائق بیک وقت بتا سکتا ہے اور زمانہ کی گردش اس کے بیان اور جدید علم میں کوئی تضاد نہیں دیکھتی۔

ڈاکٹر کیتھ مور کینیڈین ایسوسی ایشن آف اناٹومسٹس اور امریکن ایسوسی ایشن آف کلینیکل اناٹومسٹس کے سابق صدرتھے۔ انہوں نے قاہرہ میں ایک کانفرنس میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی پیدائش کے مراحل جیسا کہ قرآن میں مذکور ہیں، ان کی تصدیق جدید سائنس نے آج جدید آلات کی مدد سے کی ہے۔ ان حقائق کا محمدﷺ کی زبان سے بیان ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے لیے یہ علم کسبی نہیں بلکہ فیضی تھا کیوں کہ اس علم کا بیشتر حصہ کئی صدیوں بعد تک بھی دریافت نہیں ہوا تھا [102]۔

قرآن کی سماجی و سیاسی پیش گوئیوں کی تاریخی درستگی، اس کے متن کی نسل بعدِ نسل قولی تواتر سے منتقلی، اس کی منفرد فصیح زبان اور انسانوں اور فطرت کے بارے میں اس کی درست وضاحت انسان کو اس کو پڑھنے اور اس کے بنیادی پیغام پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اگر ایک کتاب نسل در نسل تواتر سے منتقل ہوتی ہے اور جس میں بیان کیے گئے تاریخ اور مستقبل کے واقعات کے بارے میں وضاحتی بیانات مکمل تصدیق شدہ ہیں اور جس کے فطرت اور قدرتی مظاہر کے بارے میں بیانات جدید سائنس کی دریافتوں سے درست اور تصدیق شدہ ہیںتو یہ کتاب اگر مذہنی بیانیہ کی اساسی کتاب ہے اور اس تعارف سے ہی پیش کی جاتی ہے تو مذہب کے ناقدین حضرات کو اسے سنجیدگی سے پڑھنا چاہیے اور اس ضمن میں غیر علمی رویہ نہیں اپنانا چاہیے ہے۔

کیا ایمان ترقی اور سائنس کے استعمال کو روکتا ہے؟

کیا ایمان حقائق کی تحقیق سے روکتا ہے ؟ ہرگز نہیںبلکہ قرآن میں سیکڑوں آیات عقل کے استعمال، تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتی ہیں۔ مذہب کے مطابق کوئی بھی مادی ذریعہ، تجرباتی طور پر ثابت شدہ علم، آلات اور ادویات ضرورت کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ انسانی اور دیگر حیاتیات کی زندگی کو سہل تر بنانے کے لیے ہر کاوش کی مذہب نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اسے نیکی کا کام جانتے ہوئے اس کی ترغیب دلاتا ہے۔ جسمانی یا نفسیاتی عوارض میں علاج کے لیے مذہب سائنسی تحقیق، سائنسی ذرائع، سائنسی علم کے ذریعہ سے تصدیق شدہ طریقہ علاج اور ادویات کے استعمال کی نہ صرف اجازت دیتاہے بلکہ اسے ایک دینی فریضہ قرار دیتاہے۔ اسلام میں مقاصدِشریعت کے ضمن میں حفطِ جان، حفظِ نسل اور حفظِ عقل کو اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام کی تعلیمات رہبانیت، توہمات، روحانی مشقوں یا جادوسے خالی ہیں اور اس کے بالمقابل تعقل پر زور ہے۔ مذہب کا تعلق روحانی علاج اور مراقبہ سے نہیں ہے۔ مذہب کا بنیادی مقدمہ اس سوال سے متعلق ہے کہ زندگی کیوں اور کس مقصد کے لیے ہے۔

انسانی ذہن مطالبہ کرتاہے کہ ہر مخلوق کا خالق ہونا چاہیے کیوں کہ مخلوق خود اپنی خالق نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک انتہائی عقلی اور منطقی بات ہے۔ ہمارے خالق نے اپنا تعارف خود کرایا ہے۔ خدا پر یقین پر ہمارا باطنی احساس دلالت کرتا ہے کہ جب میں آپ اپنا خالق نہیں تو ضرور میرا کوئی خالق ہوگا۔ اس کائنات کے مشاہدہ اور تصرف سے میں یہ جانتا ہوں کہ اس کائنات کے اجزاء بھی آپ اپنے خالق نہیں ہوسکتے۔ ان میں تو شعور، ارادہ، عقل اور تصرف کی طاقت مجھ سے بھی کم یا ناپید ہے۔ قوانین بھی آپ اپنے خالق نہیں ہوسکتے۔ وہ جس قدرت کو بیان کرتے ہیں، اس قدرت کا وجود پہلے سے ہوتا ہے۔ اپنے ماحول میں ہم اپنی معلوم تاریخ میں خدا کا پیغام پاتے ہیں۔ اللہ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے اپنا تعارف کرایا ہے۔ ہمارے مقصدِ وجود کو واضح کیا ہے۔ اپنی نعمتیں گنوائی ہیں اور جن کو ہم دن و رات استعمال کرتے ہیں۔ افسوس ہم نعمتوں پر یقین رکھتے ہیں، منعمِ حقیقی پر نہیں۔ مگر یہ کتنا غیر عقلی رویہ ہے، عقل اس پر نادم ہے۔

اسلام میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ کسی کوطبیعی اور قدرتی حقائق کو بالائے طاق رکھ کر صرف دعائیں کرنی چاہیے ہیں۔ اسلام مسلمانوں پر زور دیتا ہے کہ وہ معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ضرور کام کریں۔ وہ رزق کی فراہمی کو بھی کسب ِ رزق سے مشروط کرتا ہے۔ ابتدائی مسلم سماج میںسائنس میں زبردست ترقی ہوئی جو جزوی طور پر صلیبی جنگوں اور منگولوں کے بغداد پر حملے میں قتل عام کی وجہ سے رک گئی اور بہت سا متاعِ علم ضائع ہوگیا۔ وہ لوگ جنہوں نے مغرب میں سائنس کو آگے بڑھایا وہ بھی زیادہ تر مذہبی لوگ تھے۔ الحادی فکر کا سائنس پر کسی بھی لحاظ سے اجارہ داری کا دعوی نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ دانستہ طور پر ایک مذہبی ذہن کو سائنس سے برگشتہ کرنے کی سوچ ہے۔ سائنس کے ساتھ الحادی مذہب کو نتھی کردینا نہ سائنس کے ساتھ کوئی اچھا رویہ ہے اور نہ ہی اس سے الحادی فکر کو کوئی بھی جواز مل سکتا ہے۔ ایک سائنس دان نے خوب کہا کہ ملحدین کو اپنی فکر کے جواز کے لیے فلسفہ کے شعبہ سے تو شاید کچھ مل سکتا ہو مگر طبیعیات کے شعبہ سے کچھ نہیں مل سکتا۔ ابھی حال ہی میں 2019 میں ٹیمپلٹن پرائز وصول کرنے والے سائنس دان مارسیلو گلیسر نے بھی سائنٹفک امریکن کو ایک انٹرویو میں کہا کہ الحاد سائنسی طرزِ تحقیق کی رو سے ایک بالکل ہی غلط نظریہ ہے۔

نامور طبیعیات دان پروفیسر پرویز ہود بھائی صاحب نے ایک دفعہ یہ سوال اٹھایا کہ اگر نمازِ استسقاء اداکی جاتی ہے تو اکثر بارش کیوں نہیں ہوتی۔ انہوں نے لکھا: ’Fluid Flowکی مساوات، نہ کہ دعا کرنے والوں کی تعداد یا ان کی نمازوں کا معیار، موسم کے نتائج کا تعین کرتے ہیں‘[103]۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نماز استسقا ایک دعا ہے جو اللہ کی رحمت مانگتی ہے اس یقین کے ساتھ کہ ان نعمتوں اور ان کے پیچھے کام کرنے والے عوامل اور قوانین کا خالق بھی اللہ کی ذات ہے۔ اس نماز یا دعا کا مانگنا قدرتی حقائق کی نفی کرنا نہیں بلکہ ان کے بھی ماخذ کی یاد دہانی ہے۔ اپنے دنیاوی معاملات میںمذہب انسان کو کوشش اوروسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود نہ بدلے۔ مذہب وجہ اور اثر کا انکار نہیں (Cause and Effect) بلکہ اخلاقی معاملات میں بھی وجہ اور اثر(Cause and Effect) کو نتیجہ کے اعتبار سے قائم ہونے کا تصور دیتا ہے اور اسی کے بارے میں غفلت کو خود کائنات میں پھیلے وجہ اور اثر (Cause and Effect)کے قوانین سے واضح کرتا ہے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ رزق دیتا ہے تواس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بیکار بیٹھے ر ہیں اور کسبِ حلال میں مشغول نہیں ہوں۔

پروفیسرا سٹیفن ہاکنگ نے ایک بار کہا: ’میں نے ان لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر چیز پہلے سے طے شدہ ہے، اور یہ کہ ہم اسے تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، وہ بھی سڑک پار کرنے سے پہلے غور سے دائیں اور بائیں دیکھتے ہیں‘[104]۔ اس سادہ سے نقطہ نظر کا جواب یہ ہے کہ مذہب نے کبھی نہیں کہا کہ اسے مان کر کوئی قدرتی قوانین سے بالاتر ہوسکتاہے، پانی پر چل سکتا ہے یاہوا میں اڑ سکتا ہے۔ مذہب آزادانہ مرضی سے کیے گئے انتخابِ عمل کی آخرت میں ایک واحد خدا کے سامنے جواب دہی کا تصور دیتا ہے جس نے انسان سمیت تمام مخلوقات اور اس کائنات کو بنایا ہے۔ یہ انتخابِ عمل اس دنیا میں ہی دیکھا جارہا ہے۔ مذہبی ہدایت ہمیں کسبِ معاش، حصولِ علم، تسکینِ نفس اور تعقل، تدبر یا تفکر سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے تمام معمول کے کام انجام دینے میں اخلاقی پاکیزگی کو مدنظر رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔

مذہب معاشی کوششوں اور سائنسی کوششوں کی اجازت دیتا ہے۔ یہ کسی کو بیکار بیٹھنے اور خود بخود کھلانے کا وعدہ نہیںکرتا ہے۔ یہ بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات اور علاج سے بچنے کے لیے نہیں کہتا۔ یہ کائنات میں وجہ اور اثر کے تعلقات کو دریافت کرنے اور اس طرح کے علم کو استعمال کرنے کے لیے دانشورانہ اور سائنسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ مذہبی علم میں بھی، مذہب خود بخود دماغ میں مذہبی علم نہیں لاددیتا، بلکہ یہ اس علم کی تحصیل کے لیے بھی پڑھنے، سمجھنے، سوچنے اور غور کرنے کو کہتا ہے۔ درحقیقت، ہر وہ کوشش جو سہولت، سماجی بھلائی اور فلاح و بہبود لاتی ہے ایک نیک کام ہے اور مذہب انسان کو نیک کاموں میں تعاون کرنے کی ترغیب دیتا ہے (المائدہ: 2)۔

مذہب تمام انسانی کوششوں بشمول سائنسی کوششوں میں اخلاقیات اور اخلاقیات کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مذہب کسی کو مارنے، دوسروں کو نقصان پہنچانے اور وسائل اور ماحول کو تباہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ بیس کروڑ افرادبیسویں صدی کی جنگوں میں مارے گئے۔ یہ تعداد اتنی ہے جتنی پوری روئے زمین پر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دور میں انسانوں کی تعداد تھی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ نے بتایا ہے کہ انسانوں نے صرف پچھلے 40 سالوں میں تمام جانوروں کی نصف انواع کوتباہ کر دیا ہے۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انسان پوری موجود زندگی کا صرف 0.01 فیصد بنتا ہے لیکن 83 فیصد جنگلی حیاتیات کو تباہ کرچکا ہے[105]۔ سائنس دانوں نے موجودہ دور کو ’اینتھروپوسین‘ قرار دیا تھا کیونکہ جدید دور میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بے مثال نقصان ہوا ہے [106]۔ دوسری طرف مذہبی اقدار ذمہ داری، دیکھ بھال، تحفظ اور تعاون پر زور دینے میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔

کیمیائی عمل کے ذریعے فصلوں کی پیداوار کو سائنس کے ذریعے سمجھاجا سکتا ہے، لیکن وہ کس مقصد کے لیے استعمال ہونی چاہیے ہیں، یہ سائنس کے دائرے میں نہیں آتا۔ کیمسٹری خوراک کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ کیمیائی ہتھیار بنانے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔ ماں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر بچے کے اسقاط حمل کی وضاحت حیاتیات کے ذریعے کی جا سکتی ہے، لیکن سائنس اس کا جواب نہیں دیتی کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔ ایٹمی طبیعیات جیسے شعبوں کے علم کے ذریعہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں، لیکن کسی شہر یا ملک میں پوری انسانی آبادی کو ختم کرنے کے لیے اس علم کا استعمال ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی درستگی یا غلطی کا فیصلہ سائنس سے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔

وہ تمام ابتدائی مادے اور مادی قوانین کہاں سے آئے جن کے ذریعے ہم زندگی کی ترکیب بتاتے ہیں؟ ہم نے سائنس کے ذریعے جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کے اندر پہلے سے موجود مادے کو ان طریقوں سے استعمال کیا جائے جو مشاہدے اور تجربات سے ملے علم کے مطابق ہمیں فائدہ پہنچاتے ہیں۔

جب ہم ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں تو تجربے کے ذریعے ہم کھیل کے اصول سیکھتے ہیں اور ترقی یافتہ مراحل تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم اس تجربے سے یہ نہیں نتیجہ نکالتے کہ یہ وڈیو گیم کسی نے تیار نہیں کیا ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی نے اصول بنائے ہوں گے۔ اگر ہم کسی کمپیوٹر سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن کو دیکھتے ہیں، تو مشاہدے کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے بنایا گیا ہوگا۔ کمپیوٹر پروگرامنگ کو سمجھنے سے ہم ہدایات کی جانچ کر سکتے ہیں، یعنی کوڈ اور الگورتھم جو اس کمپیوٹر ایپلی کیشن کے پیچھے کام کررہا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کمپیوٹر پروگرام کے پروگرامنگ کوڈ اور الگورتھم کو دریافت کرنے سے ہم یہ نتیجہ نکال سکیں کہ اس کا بنانے والا کوئی ڈویلپر نہیں ہوگا۔

کچھ سائنس دان یہ تو مانتے ہیں کہ زندگی ایک انعام ہے، مگر کہتے ہیں کہ یہ انعام انسان اور لال بیگ دونوں کو حاصل ہے۔ اگر مذہبی مقدمہ صرف یہ بات ہی منوانا چاہ رہا ہوتا کہ زندگی ایک انعام ہے زندہ حیاتیات کے لیے تو یقینی طور پر یہ نعمت صرف انسان کو نہیں بلکہ دیگر حیاتیات کو بھی عطا ہوئی ہے۔ اپنے شعوری تجربے میں ہم اپنے آپ کو کائنات کی دیگر بے جان اشیاء کی طرح نہیں پاتے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے جسموں میں ایک ہی بے جان مادہ ہو جو غیر جاندار اشیاء کا بھی حصہ ہو، لیکن ہمارے پاس شعور ہے۔ دیگر زندگی کی شکلوں میں بھی شعور ہوتا ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک واضح اور پر زور اخلاقی حس ہے، حس جمالیات ہے اور تعقل، تدبر اور تفکر کی صلاحیت ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے تخلیق کار نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتے تو ہم درد، بیماری اور موت سے کیوں نہیں بچ پاتے؟ ایک اور متبادل قیاس یہ ہے کہ ہم اس کائنات میں حادثاتی طور پر وجود میں آئے ہیں۔ لیکن سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زندگی قدرتی عوامل، قوتوں اور قوانین کے مابین ایک باریک توازن پر قائم ہے۔ اس کا حادثاتی اور اتفاقی ہونا ناممکن ہے۔

مزید یہ کہ ہم انسان خاص طور پر شعور کے علاوہ ضمیر رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہمارے پاس خود آگاہی ہے۔ اگر ہم بغیر کسی خالق کے اکیلے جینیاتی تغیرات کا نتیجہ ہیں اور ہم ایک بقائی جنگ میں کچھ دیر کے لیے فتح کے نتیجہ میں وجود میں آئے ہیں، تو پھر اگر ہم دوسری حیاتیاتی شکلوں کو بدلتے یا تباہ کردیتے ہیں تو اس میں کیاغلط ہے؟

اگر پانی کی کمی ہے اور ہم اپنی طرز زندگی اور غیر ضروری اشیاء کی صنعتی پیداوار کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہیں تو اگر ہم اس کے بجائے چند ہزار اونٹوں کو مار ڈالیں تو کیا غلط ہے؟ اگر ہم ایسا انسانی آبادی کے لیے بھی کریں تو انسان اور لال بیگ میں آخر کیا فرق ہے؟ارتقائی حیاتیات کے تصور ِ حیات میں کسی ٹھوس بنیادیا معروضی اخلاقیات پر اسے غلط نہیں کہا جاسکتا۔ ارتقائی حیاتیات کو جب نظریہ حیات کے طور پر لیا جائے تو اس کے مطابق انسان سمیت تمام حیاتیات کائنات کے بے جان مادہ سے زندگی پاکر پھر بالآخر مادہ ہی کے ملبے میں گل جاتے ہیں۔ اس کائنات میں انسانی نسل کا اختتام مادہ کے تغیر کے اعتبار سے عظیم ستاروں کا بلیک ہولز میں تبدیل ہوجانے کے مقابلہ میں ایک نہایت معمولی چیزہے۔

خدا کی وحدانیت کا صحیح معرفت کے ساتھ اقرا ر ہمارا مخلوق ہونا ثابت کرتا ہے اور ہمیں دوسری مخلوقات کے ساتھ کسی تکبر اور زیادتی سے روکتا ہے۔ مگر سائنس کے زعم میں درحقیقت ہم نے پچھلے 50 سالوں میں حیاتیاتی توازن اور تنوع کو صرف تیزی سے تباہ کیا ہے جب سائنس اپنے عروج پر ہے۔ اخلاقیات ارتقائی حیاتیات سے نہیں آتی ہیں۔ اس نظریہ حیات میں تخریب ہی تعمیر کی بنیاد ہے۔ ایک مسلسل بقائی جنگ ہے۔ یہ ایک افسوس ناک کہانی ہے جس کے دوران اور اختتام میں کوئی امید اور انصاف نہیں۔ صرف حادثات اور اتفاقات ہیں۔ جب کچھ سائنس دان خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور اپنے الحادی فلسفیانہ نقطہ نظر کو ارتقائی حیاتیات سے جوڑتے ہیں تو وہ فلسفیانہ قیاس آرائی کر رہے ہوتے ہیں۔ مادی وجہ اور اثر کے تعلق کے پیچھے ’ارادہ‘ اور ’مقصد‘ پر بحث کرنا سائنس کے دائرہ کار میں ہی نہیں آتا۔ سائنس کا تعلق مادی تر کیب (کیسے) سے ہے، مقصد (کیوں) سے نہیں۔

مذہب بتاتا ہے کہ اس کائنات کی ایک ابتدا تھی اور یہ تخلیق ہوئی۔ طویل عرصے کے بعد، انسان اس کائنات میں سیارہ زمین پر آباد ہوئے۔ انسانوں کو تخلیق کیا گیا ہے اور یہ زندگی خالق نے دی ہے تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ ان میں سے کون نیک اور اخلاقی زندگی گزارتا ہے۔ اس زندگی کے دوران قلیل مدتی فائدہ حاصل کرنے کے درمیان فساد اور برائی بھی پنپ سکتی ہے، لیکن غیر اخلاقی طرز عمل انسانوں کو آخرت کی زندگی میں سزا کا مستحق بنا دے گا۔ اس کے برعکس، عدل، انصاف، سخاوت، احسان، تعاون اور بے لوث خدمت سے لبریز نیک اعمال آخرت کی زندگی میں فیصلہ کن انعامات کے مستحق ہوں گے۔ چونکہ یہ زندگی ایک آزمائش ہے، اس لیے اس زندگی میںکامل انصاف نظر نہیں آتا۔ اس مقدمہ اور اس نظریہ حیات میںاس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس زمین پر زندگی کسی بھی مادی عمل سے وجود میں آئی ہو۔ مذہب انسان کی تخلیق کے پیچھے خدا کے ارادہ کو بیان کرتا ہے اور ارادہ کا جاننا سائنس کے دائرہ میں سرے سے آتا ہی نہیں ہے۔

ایک سو چنے والا انسانی ذہن کرونا وا ئرس کے وبائی مرض کو دیکھے گا تو وہ اسے یاد دلائے گا کہ یہ زندگی ایک دن اس کے لیے کسی نہ کسی مادی وجہ سے ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے ہوگا۔ تاہم، اس کی زندگی اور دوسروں کی زندگی بے معنی نہیں ہے۔

تعقل، تفکر اور تدبر کرنے والا ذہن سائنسی اور تاریخی شواہد کو ذہن میں رکھے گا کہ موت ایک حقیقت ہے ویسے ہی جیسے زندگی ایک حقیقت ہے۔ ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف جو مریضوں کی جان بچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں وہ اس عمل میں اپنی جان کھو سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں تو ان کی خدمات آخرت میں بے صلہ نہیں جائیں گی۔ وہ مریض جو اس وبائی مرض سے مرتے ہیں اور جو دیگر وجوہات کی وجہ سے مرتے ہیں، ان کی زندگی اور اس میں کیے جانے والے اعمال بیکار نہیں جائیں گے۔ آخرت میںہر انسانی نفس کے ہر ارادی عمل کو کامل انصاف ملے گا۔ وہ خوش قسمت جو اس وبائی مرض سے بچ جاتے ہیں وہ بھی ایک دن مر جائیں گے۔ اگر انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی جو بیمار تھے، جو بھوکے تھے، جو محروم تھے اور جنہیں مدد کی ضرورت تھی تو ان کی مہربانی، سخاوت اور ایثارکے کام ان لوگوں کو آخرت میں اجر کا مستحق بنائیں گے جو دوبارہ کبھی نہ ختم ہونے کے لیے شروع ہوگی۔

امام غزالی نے لکھا ہے کہ دولت مرنے تک مفید ہے اور رشتہ داراس وقت تک جب تک وہ ہمیں قبر میں نہیں ڈال جاتے۔ صرف نیک اعمال ہی آ خرت میں فیصلے کے دن کام آئیں گے[107]۔ اگر ہمارے پاس اگلی زندگی میں بھیجنے کے لیے اس دنیا میں اچھے اعمال ہیں تو ہم ہمیشہ کی خوشی حاصل کر سکتے ہیں جو کسی بھی کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوگی۔

اولمپکس میں ہر معمولی سے معمولی کھیل ایک قاعدہ اور ضابطہ سے کھیلا جاتا ہے۔ ان اصول وقوائد کو قبول کرنے میں کوئی مانع نہیں۔ ہزاروں یہ کھیل کھیلتے، لاکھوں کھیلنے کی تمنا رکھتے اور کروڑوں انہیں دیکھتے ہیں۔ چھوٹے سے انعام کے لیے لوگ اپنے بس میں ممکن ہر کوشش کرتے ہیں کہ درکار وزن، جسامت، پھرتی اور برداشت پیدا ہوجائے۔ مگر بہت سے لوگ اپنے خالق کے کسی اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اپنی کسی اولمپک کامیابی کو کوئی ایتھلیٹ محض ایک اتفاق نہیں تصور کرسکتا۔ اس کے پیچھے ارادہ، محنت اور عمل ہے۔ مگر کائنات کے سارے اصول وقواعد اور ان کے باریک توازن پر قائم زندگی ایک اتفاق مان لی جاتی ہے۔ ہر دوڑ، چھلانگ اور نشانہ کا مقابلہ تو نتیجہ خیز ہو مگر انسان کے نیک اعمال اور ظالم کا ہر ظلم بے نتیجہ رہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آخرت پر ایمان رکھ کر زندگی کے ہر ارادی عمل کے نتیجہ خیز ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس دوڑ میں نایاب ایتھلیٹیسزم، موقع، جوانی اور وسائل ضروری نہیں۔ نیک ارادہ اور اخلاص بھی کافی ہے۔ اے کاش زندگی کے اس سب سے بڑے امتحان اور اس میں کامیابی کے قابل حصول اصولوں کو اپنا کر ہم بھی پوڈیم پر جگہ بنالیں۔ آمین۔

اس تحریر کا اگلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply