کائنات، کرونا وائرس اور انسان: حصہ 4 —— سلمان احمد شیخ

0

جدید معاشرے میں اقدار کا کردار

سائنس کے دور میں بقاء کے چیلنجز:

60 ممالک کے لیے ورلڈ ویلیوز سروے کے چھٹے ایڈیشن (2010-2014) کے اعداد و شمار کے مطابق، 27.7 فیصدمسلمانوں نے کہا کہ ’ماحول کی دیکھ بھال، قدرتی وسائل کی دیکھ بھال اور زندگی کے وسائل کو بچانا‘ ماحولیات کے بارے میں ان کے نقطہ نظر اور رویے کی بہترین وضاحت کرتا ہے[108]۔ جب کہ 22.5 فیصدغیر مسلم افراد اسی نقطہ سے متفق نظر آئے۔ یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ سب سے زیادہ کاربن کے اخراج کے حساب سے سرفہرست پانچ ممالک یہ ہیں: چین، امریکہ، بھارت، روس اور جاپان [109]۔

مختلف نوع کی حیاتیات کا ناپید ہونا، گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلی، اوزون کی تہہ میں کمی اور بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ایسے اہم عصری مسائل ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔ صنعتی ترقی کے آغاز کے بعد کے معاشرے میںانسانوں نے کاربن کے بے مثال اخراج، جنگلات کی کٹائی اور سمندری آلودگی کے ذریعے زمین پر بقاء کی حدود کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ سب عوامل گلوبل وارمنگ کو تیز کر رہے ہیں۔ زندگی کے پائیدار وجود اور زندگی کو سہارا دینے والے نظام فطری کو بچانے کے لیے خود لذتی کی سوچ کے بجائے ذمہ داری، عاجزی، قناعت اور عزم کی ضرورت ہے۔ ہم نے بے تحاشہ ا یندھن کو جلایا، تیزی سے جنگلات کوکاٹا اور سمندروں کو آلودہ کیا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ، بار بار گرمی کی لہریں، گلیشیر پگھلنااور سیلاب آنا معمول بن گئے ہیں۔ زمین، سمندر اور جنگلات میں موجود انواع واقسام کی حیاتیات کی بقاء اور ناپیدگی اب ایک سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔

صنعتی انقلاب کے آغاز کے تقریبا تین صدیوں بعدہم نے غیر معمولی معاشی ترقی حاصل کی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی عالمی پیداوارسن 1700 میںمحض سو بلین ڈالر سے بڑھ کرآج 85 ٹریلین ڈالر ہو گئی ہے۔ 20 ویں صدی کے دورا ن دنیا کی آبادی میں چار گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا، جب کہ صنعتی پیداوار میں چالیس گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ تاہم جس شدت کے ساتھ ماحولیاتی وسائل استعمال کیے گئے ہیں، اس کی رفتار بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ بیسویں صدی میں صرف پچھلی دو نسلوں نے توانائی کی کھپت میں 16 گنا سے زیادہ اضافہ کیا[110]۔ ایک اندازے کے مطابق توانائی کا مسلسل استعمال آنے والے پچاس سے سو سالوں میں اوسطا عالمی درجہ حرارت میں 1.0–3.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ کرے گا[111]۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 97.1 فیصد سائنس دانوں نے اس متفقہ موقف کی تائید کی کہ انسان ہی گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہے ہیں[112]۔

ورلڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق انسان کے تیزی سے ماحولیاتی وسائل کو خرچ کرنے کی روش کی وجہ سے 1870 کے بعد سے عالمی سمندری سطح میں تقریبا 8 8 انچ اضافہ ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے پاس بھارت، یورپ اور میکسیکو کے سائز کا ایک کوڑا کرکٹ جزیرہ ہے جو ہمارے سمندروں میں تیرتا ہے۔ دوسری طرف ہم تقریبا پیدا کی ہوئی ایک تہائی خوراک بھی ضائع کردیتے ہیں [113]۔

چنانچہ ہم نے جو بے پناہ معاشی نمو حاصل کی ہے وہ زمین پر ماحول اور زندگی کو سہارا دینے والے نظام کے بگاڑ کی ایک بڑی قیمت پر ہمارے ہاتھ آئی ہے[114]۔ یہاں تک کہ معاشی ترقی کے فوائد بھی پچھلی پانچ انسانی نسلوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ آکسفیم ادارہ کے مطابق26 امیر ترین ارب پتی اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی کہ دنیا کی نصف آبادی کے پاس دولت ہے [115]۔

ورلڈ بینک کے مطابق767 ملین لوگ روزانہ 1.90 ڈالر کی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ غربت میں کمی کے لیے ہر سال 531.9 بلین ڈالرزکی ضرورت ہے جس سے ہر غریب انسان کو روزانہ 1.90 ڈالرز دیے جاسکتے ہیں۔ صرف چندامیر ترین افراد کی مجموعی دولت عالمی غربت کو مٹانے کی فنڈنگ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ دیکھاجاسکتا ہے کہ دولت کی منصفانہ تقسیم غربت کے خاتمے کے لیے فنڈز کو جمع کرنے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ آکسفیم ادارہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ عالمی دولت تقریبا255 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو 767 ملین غریبوں کو 910 سالوں کے لیے یومیہ ایک ڈالر دینے کے لیے کافی ہے[116]۔

اس کے برعکس، خوراک اور زراعت کی تنظیم کے مطابق افریقہ میں ہر چار میں سے ایک شخص بھوکا سوتا ہے[117]۔ بھوک ہر سال ایڈز، ملیریا اور تپ دق سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرتی ہے[118]۔ کیا ہمارے پاس واقعی وسائل کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم غربت، بھوک اور قحط کو ختم نہیں کر سکتے؟ نوبل انعام یافتہ پروفیسر امرتیا سین نے بنگال میں قحط پر تحقیق کی اور انہوں نے مدلل دعوی کیا کہ قحط وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں آیا تھا[119]۔ حیرت انگیز طور پر فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق پوری دنیا کے لیے فی کس خوراک کی سپلائی جو 1960 کی دہائی کے اوائل میں تقریبا 2,200 کلو کیلوری تھی، وہ بڑھ کر 2014 میں 2,903 کلو کیلوری ہوگئی ہے۔

یہ صورتحال ایک بہت بڑے اخلاقی بحران کو ظاہر کرتی ہے[120]۔ ماحولیات کا تیزی سے بگاڑ اقدار کے بحران کے سوا کچھ نہیں [121]۔ یہ صورت حال مادے کے بے ترتیب تعامل کا لازمی نتیجہ نہیں ہے۔ ہم شعوری مگر غیر ذمہ دارانہ رویہ کے نتیجے میں اس مقام تک پہنچے ہیں چاہے وہ ہم میں سے کچھ متمول انسانوں کی اقلیت ہی ہو۔ زندگی کی مقصدیت کے بارے میں خیالات ہماری ترجیحات اور انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔ زندگی کی بقاء اور پائیدارماحولیاتی نظام کے لیے ایک ایسے نظریہ حیات اور عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے ذہنوں میں حسد اور لاپرواہی کے ساتھ فطری لذتوں کے نفسیاتی تعاقب کی جگہ ذمہ داری، عاجزی، قناعت اور عزم کے تصور کو جنم دے سکتا ہو۔

اگر بے قیمت پیسہ ضرورت سے زیادہ پرنٹ کیا جائے تو یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ فطری ماحولیات کے بگاڑ کو واپس لاسکے۔ اندازے بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی نظام کی کم از کم سالانہ اوسط قیمت عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی این پی) سے 1.8 گنا زیادہ ہے[122]۔ لہذا، قدرتی وسائل کی متبادل قیمت اس معاشی پیداوار سے زیادہ ہے جو ہم سالانہ پیدا کرتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سی ماحولیاتی خدمات مالی طور پر ناقابل تلافی ہیں۔ فطرت اپنے خالصتامقداری پہلو سے ناقابل تلافی ہے، جس طرح ایک کتاب کی قیمت محض اس کے وزن سے نہیں لگائی جاسکتی۔

معاشرے کے مستقبل میں ایمان کتنا اہم ہے

توحید، خلافت اور آخرت کے نظریاتی تصورات اسلامی نظریہ حیات کو بیان کرتے ہیں۔ تخلیق کے واحد ماخذ پر یقین نسلی اور صنفی بنیاد پر تعصب کی نفی کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق تمام مخلوقات کو پیدا کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔ اللہ کے علاوہ تمام مخلوقات انسان سمیت محض مخلوق ہی ہیں۔ یہ نظریہ انسان کو اپنے اندر عاجزی، انکساری اور شکرگزاری پیدا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ جانور اورپودے کائنات میں انسانوں کے شراکت دار ہیں[123]۔ اس کے ساتھ ساتھ خلافت کا تصور انسان کو ذمہ داربناتا ہے جو کہ ایک باطنی اور فعال ضمیر کے ساتھ اخلاقی مخلوق ہے۔ انسان اخلاقی رویہ کو غیر اخلاقی رویوں سے ممتاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خلافت کا تصور ماحولیاتی وسائل کے استعمال اور ملکیت کے حوالے سے انسانوں میں نگرانی، امانت داری اور ذمہ داری کا تصور پیدا کرتاہے۔ اسلام میں زندگی کے بارے میں دنیاوی زندگی کے بعد آخرت کا تصوراعمال کی جواب دہی کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔

اگرچہ دینی تصور انسانوں کے لیے فطرت میں دی گئی چیزوں کو استعمال کرنے کی اجازت تو دیتا ہے، مگراس کے ساتھ ساتھ خلافت کا تصور قدرتی اور ماحولیاتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔ کچھ محققین نے ماحولیاتی مسائل پر ایمان اور رویوں کے درمیان تعلق پر تحقیقات کیں۔ نتائج کے مطابق مسلم شرکاء نے استدلال کیا کہ ایندھن کا مسلسل جلنا غیر اخلاقی ہے کیونکہ یہ فطرت کے توازن میں خلل ڈال سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے[124]۔ کچھ تحقیقات میں یہ بھی واضح ہوا کہ مذہبی محرکات دنیاوی قوانین کے مقابلے میں ماحولیاتی تحفظ اور درخت لگانے جیسے ماحول دوست اقدامات کے لیے مضبوط محرک ثابت ہوتے ہیں[125]۔

ماحولیاتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم قدرتی وسائل کو اخلاقی طور پر استعمال کریں تاکہ ماحول میں انسانوں، دیگر جانداروں اور آئندہ نسلوں کی فلاح و بہبود کو یکساں طور پر بہتر بنایا جا سکے [126]۔ اسلام کے نظریہ حیات میںانسانوں اور فطرت کے مابین تعلق حریفانہ یا خوغرضانہ نہیں ہے[127]۔ زمین کے وسائل انسانیت کے استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ لیکن یہ نعمتیں کچھ اخلاقی پابندیوں کے ساتھ خدا کی طرف سے ملتی ہیں۔ ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن صرف اس طریقے سے جو ماحولیاتی توازن کو نہ بگاڑے اور آئندہ نسلوں کوان کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت سے محروم نہ کرے[128]۔

اسلامی اخلاقی احکامات اخلاقی ’برائیوں‘ کی نشاندہی کرکے اور خلاقی ہدایت کے ذریعے ترجیحات کو متاثر کرتے ہیں۔ اسلام کا اخلاقی فلسفہ معاشرتی اور اخلاقی جذبے سے لبریز ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کے مطابق دولت کے صرف میں ہمیں حرام، اسراف اور تبذیر سے بچنا چاہیے اور ممکن حد تک اپنی جائز ضروریات کو پوراکرنے بعد وسائل کو معاشرہ کی ضرورتوں میں خرچ کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر سماجی مفاد کا خیال رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

اسلامی معاشی تعلیمات دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتی ہیں۔ ایک حد سے زیادہ معاشی عدم توازن خود پائیدار ترقی کے لیے بھی زہر قاتل ہے۔ یہاں تک کہ معاشی نامساوات کا اثر معاشرے میں امن وامان کی صورت حال اور اتحادکی فضاء کے اوپر بھی پڑتا ہے۔

اگرچہ اسلامی اصول اخلاقی حدود کے اندر حلا ل ذرائع میں خرچ کی اجازت دیتے ہیں، لیکن جب لوگوں کے پاس اپنی جائز ضروریات و خواہشات کو پورا کرنے کے بعد بھی اگر دستیاب وسائل ہوں تو بہتریہ ہے کہ وہ فلاح و بہبود کے کاموں میں انفاق کریں۔ اس کے برعکس صارفین کی خودمختاری کے نظریہ کے مطابق جب تک لوگ اپنی ہر طرح کی خواہشات کو پورا کرنے کا شوق اور اس کے لیے درکار آمدنی رکھتے ہوں تو ان کی خواہشات کا سامان کیا جائے گا چاہے اس کے لیے وسائل کو ضروریات زندگی کی اشیاء کی پیداوار سے نکالنا پڑے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زیادہ ترلوگ غریب ہیں اور انہیں روٹی اور علاج کی ضرورت ہے۔ پیداوار اس چیز کی ہوگی جس کے خریدار موجود ہوں اور جو اسے خریدنے کی سکت رکھتے ہوں چاہے وہ چیز بجائے خود محض ایک سامان تعیش ہو۔

اسلامی معاشی نقطہ نظر انسانوں کو ان کی حیوانی جبلتوں کی محض تسکین کرنے کے بجائے ان میںخدا شناسی، مہربانی، تعاون اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ اسلام اسراف، عیاشی اور کچھ ایسی مصنوعات اور خدمات کے استعمال سے بچنے کے لیے واضح طور پر رہنمائی کرتا ہے جو انسان کے اخلاقی وجود اور فلاح و بہبود کو انفرادی طور پر یا بحیثیت مجموعی پورے معاشرہ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اسلامی نظریہ حیات ارادہ وعمل میں آخرت میں جواب دہی کے تصور کو سامنے رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ نظریہ ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سوچ کایہ زاویہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اپنے متعلق لوگوں اور ماحول کے بارے میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔

بہت سے وسائل جن کی ملکیت اس دنیا میں انسانوں کے ہاتھوں میں آتی ہے وہ انسانی زندگی سے زیادہ فطری عمر رکھتے ہیں۔ اپنی ذات میں سوچنے والا ذہن لازمی اور فطری طور پر ان وسائل کو تیزی سے اپنی ذات ہی پر خرچ کرنا چاہے گا۔ مگر آخرت میں جواب دہی اور نہ ختم ہونے والی زندگی کا تصور جو مطلق انصاف کی بنیاد پر عطا ہوگی، انسان کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ قناعت، انکساری اور برداشت کو اختیار کرے۔ وہ وسائل کا مالک نہیں بلکہ نگہبان ہے۔ وسائل کی ملکیت اسے ان کے بارے میں جواب دہ بناتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی گو سست ہے، لیکن ایک اٹل حقیقت ہے۔ انفرادی انسانی زندگی ماحولیاتی وسائل اور ماحولیاتی نظام کی زندگی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ لہذا، زندگی کا خود غرضانہ اور دنیاوی نظریہ سماجی طور پر ذمہ دارانہ رویے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگر میری پھیلائی ہوئی آلودگی کا برا اثر میری اپنی زندگی ہی میں اتنا خوفناک نہیں ہوگا تو میں کیوں کسی دوسرے آنے والی مخلوق یا خود انسان کے لیے اپنی آج کی خواہش اور ہوس کو روکوں۔ اگر ایسا کرنا میرے لیے قانونی طور پر لازمی نہیں توکیوں میں اپنے آپ کو وقتی زندگی کی وقتی خوشی اور لذت سے روکوں۔ یہ خود غرضی پر مبنی رویہ آلودگی میں اضافہ کو ناگزیر طور پر پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

جدید معاشی علم اقدار سے عاری علم بن گیا ہے۔ قدرتی ماحول کے استحصال کو روکاجا سکتا ہے جب افراد اپنے معاشی فیصلوں میں باہمی فلاح و بہبود اور انصاف کو اہم عوامل سمجھتے ہوں۔ ماحولیاتی مسائل کے مؤثر حل کا انحصار نظریہ حیات پر ہے جو انسان، فطرت اور اس کے خالق کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے۔ مذہب اپنے نظریہ حیات میں مقصدیت اور معنویت کے ذریعے انسانی خواہشات اور فطرت کی حدود کے درمیان صحیح توازن رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ مذہب جنت میں اس دنیاوی زندگی کی محدودیت سے نجات کا بھی وعدہ کرتا ہے جس میں جگہ نیک لوگوں کو دی جائے گی۔ یہ نظریہ اس دنیا میں نیک رویے کو منتخب کرنے کے لیے ایک مستقل ترغیب فراہم کرتا ہے جس کے ساتھ آخرت کی زندگی میں فیصلہ کن نتائج کی امید ہے۔

ذمہ دارانہ رویہ صحیح اقدار کے فروغ کے ذریعے ممکن ہے

پائیدار ترقیاتی کے سترہ اہداف (Sustainable Development Goals) ایک وسیع تر بین الحکومتی معاہدے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے ذریعے معاشی ترقی، انسانی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری پر محیط وسیع بنیادوں پر ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کم از کم چھ ایسے اہداف ہیں کہ جن کا ماحولیات سے گہرا تعلق ہے۔ پانی اور حفظان صحت کا ہدف سب کے لیے پانی اور صفائی کی دستیابی اور پائیدار انتظام کو یقینی بنانے پرمرکوزہے۔ توانائی کے حوالے سے ساتواں ہدف سب کے لیے سستی، قابل اعتماد، پائیدار اور جدید توانائی تک رسائی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ اخراجات پر ہدف پیداوار اور اس کے استعمال اور خرچ میں ذمہ داری کو نشانہ بناتا ہے۔ آب و ہوا سے متعلق ہدف موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر زور دیتا ہے۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے حوالے سے ہدف پائیدار ترقی کے لیے سمندروں اورسمندری وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال پر زور دیتا ہے۔ آخر میںماحولیاتی نظام پرہدف زمینی ماحولیاتی نظام کے پائیدار استعمال، جنگلات کے پائیدار انتظام، زمین کے بنجر ہونے کا مقابلہ کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے کا عزم رکھتا ہے۔

جب ہم اسلامی اصولوں میں شامل اسلامی ماحولیاتی اخلاقیات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ SDGs اسلامی ماحولیاتی اخلاقیات کے پیچھے کارفرما حکمت سے کافی قریب ہیں۔ ماحول کے ساتھ پائیدار اور خوشگوار بقائے باہمی کے لیے عزم کرنے، ذمہ داری اپنانے اور مثبت عمل کو فروغ دینے کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ مقاصدِ شریعت میں نسل کا تحفظ باقاعدہ ایک ہدف کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ذیل میں ہم قرآن کی کچھ آیات اور پیغمبر محمدﷺ کے اقوال کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں اسلام کی ماحولیاتی ضمن میں اخلاقیات کی ایک جھلک ملتی ہے۔

اگر ہم اپنے لیے صاف ہوا، تازہ پانی اور مناسب صفائی چاہتے ہیں، تو ہمیں موجودہ دور میں رہنے والے دوسروں لوگوںکے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی یہ چیزیں پسند کرنی چاہئیں جو اس دنیا میں آنے والی نسلوں میں پیدا ہوں گے۔ حضرت محمدﷺنے فرمایا کہ ’ مسلمان وہ ہے جو اپنی زبان اور ہاتھوں سے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے‘ (ماخذ: صحیح البخاری، جلد 1، کتاب 2، حدیث نمبر 9)۔

فطرت اور ماحول کی بے پناہ قدر کا ادراک چاہے وہ کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ بھی ہو ماحولیاتی تحفظ کے ضمن میں دیکھ بھال اور ذمہ داری کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔ قرآن فطرت کو ’آیات‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔ ماحولیاتی پائیداری کے حصول کے لیے ماحول کے تحفظ اور اس کے لیے مثبت اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات ان اقدامات کی ترغیب دیتی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ’جو کوئی درخت لگائے گا، خدا اسے اس کے پھل کی مقدارجتنااجر دے گا‘ (ماخذ: مسند، جلد 5، حدیث نمبر 415)۔

موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ ایک سست مگر سنگین عمل ہے۔ چنانچہ ماحول کے تحفظ کے لیے کوششوں کا بھی مستقل ہونا ضروری ہے۔ ہر ایک کو اپنی بساط کی حد تک اپنا رویہ درست رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک دوسرے کا انتظار اور ایک دوسرے پر انحصار کی روش اپنائی جائیگی توہر کسی کے لیے پہلا قدم اٹھانا بھی بھاری ہوگا۔ چنانچہ نتیجہ پر معمولی عمل کے براہ راست اور فوری نتیجہ کو بالائے طاق رکھ کر ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے پر دھیان دینا چاہیے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ’اگر قیامت قائم ہو جائے جبکہ تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک پودا بھی ہو تو اسے اس پودے کو لگادینا چاہیے‘(ماخوذ: مسند احمد، حدیث نمبر 12491)۔

قرآن کریم بتاتا ہے کہ دوسری انواع حیات بھی نعمتوں کے لیے خالق کائنات کی تعریف اوراس کا شکر ادا کرتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے آگے سجدہ کرتی ہیںتمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں – سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور انسانوں میں بڑی تعداد؟ ‘ (الحج: 18)۔

زندگی کا آغاز اگر ایک بقائی جنگ کے ذریعہ ہی ہوا ہے تو پھر انسان کا دوسری انواع کے لیے عرصہ حیات تنگ کردینا کائنات کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں اور نہ ہی کسی بھی طرح غیر اخلاقی ہے۔ کائنات کے الحاد پر مبنی نظریہ میں اخلاق کی اساس صرف بقاء ہوسکتی ہے۔ مگرتخلیق کے الٰہی نظریہ میں حیات اللہ کی عطا ہے اورانسان ایک مخلوق۔ اسے نعمتوں پر شکرگزار ہونا چاہیے۔ یہ زاویہ نظر کائنات میںموجود دوسری انواعِ زندگی کے ساتھ عاجزی، ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’ایک نیکی جو چاہے جانور کے ساتھ کی جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہے جیسا کہ انسان کے ساتھ اچھا ئی کی جائے۔ جب کہ کسی جانورپر ظلم کیا جائے، یہ اتنا ہی برا ہے جیسا کہ انسانوں پر ظلم‘ (ماخذ: مشکوۃالمصابیح کتاب 6 ,باب 7,8 178,)۔

ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا جانوروں سے اچھے رویہ کابھی اللہ نے انعام رکھا ہے یا نہیں؟ تو آپ ﷺنے جواب دیا: ’’جی ہاں، ہر جانور سے اچھے رویہ کا اجر ہے۔ ‘‘ (ماخذ: صحیح مسلم، کتاب 26، حدیث نمبر 5577)۔

تفریح یا محض کھیل کے لیے جانوروں کو قتل کرنا اسلام میں سختی سے منع ہے۔ زمین، جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے حضرت محمد ﷺنے ممنوعہ علاقے بنائے جن میں موجود وسائل میں تصرف نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان جگہوں پر چرنے اور لکڑی کاٹنے پر پابندی ہوتی تھی اور جہاں جانوروں کی بعض اقسام محفوظ رکھی جاتی تھیں۔

ہم انسان خوراک کا تقریبا ایک تہائی حصہ ضائع کردیتے ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا میں ہر نو میں سے ایک شخص بھوک سے دوچار ہے۔ اسلامی اصول عیش و آرام پر دولت کے مسرفانہ استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’ضائع نہ کرو کیونکہ اللہ ضائع کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘ (الانعام: 141) جب حضرت محمد ﷺ نے سعدؓ کو وضو کرتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’یہ کیا ہے؟ آپ پانی ضائع کر رہے ہیں‘۔ سعدؓ نے جواب دیا: کیا وضو کرتے وقت فضول خرچی ہو سکتی ہے؟ حضرت محمدﷺ نے جواب دیا: ہاں یہاں تک کہ اگر آپ اسے بہتے ہوئے دریا میں بھی کر یں(ماخذ: ابن ماجہ، ششم، حدیث نمبر 425)۔

محدود وسائل کے باوجود ہم بھوک، غذائیت کی کمی، بچوں کی اموات اور آسانی سے قابل علاج بیماریوں سے ہونے والی اموات کو کم کرنے میں بہت بہتر کام کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے بارے میں خودغرضی کے بجائے ہم اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔ حضرت محمدﷺنے فرمایا: ’تین قسم کے لوگ ہیں جن کے ساتھ خدا قیامت کے دن نہ تو الفاظ کا تبادلہ کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جو پانی کی زیادتی رکھتا ہے لیکن اسے دوسروں سے روکتا ہے۔ خدا اس سے کہے گا: آج میں تم سے اپنے فضل کو روک دوں گا جیسا کہ تم نے دوسروں سے روک رکھا تھا۔ جو تمہارے پاس تھا اس کی زیادتی تھی، لیکن جو تم نے پیدا نہیں کی تھی‘ (ماخذ: صحیح البخاری، جلد 3، کتاب 40، حدیث نمبر 557)۔

چنانچہ ہمیں باہمی مدد و تعاون، حیاتیاتی تنوع کا احترام کرنے، مساوات قا ئم کرنے اور اخلاقی اقدار کا پاس رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے رویے مذہبی نظریہ حیات سے مضبوط ہوتے ہیں۔ بصورت دیگر، اسی سائنسی ترقی کوعوام پر ایٹم بم گرانے، کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور بھوک میں کمی لانے سے زیادہ جنگی اخراجات کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ الحادی نظریہ حیات انفرادیت اور خود غرضی کو فروغ دیتا ہے۔

وسائل کے استعمال اور خرچ میں رہنما اصول

انسان کی فطرت کو بیان کرتے ہوئے قرآن نے ذکر کیا ہے کہ انسان عام طور پر جلد باز ہوتے ہیں (الاسراء: 11)، بخل کرتے ہیں (الاسراء: 100)، بے صبرے ہوتے ہیں (المعارج: 19) اور مال سے محبت رکھتے ہیں (ال- آدیات: 8) چنانچہ انسانوں میں بے صبری، اجر یا فائدہ وصول کرنے میں جلدی، اخراجات میں بچت کا رجحان اور مادی وسائل کی خواہش ہوتی ہے۔

قرآن میں انسانی نفسیات کے بیان میںیہ ذکر ملتا ہے کہ انسان خرچ کرتے ہوئے اپنے مفاد کے علاوہ بھی تقابلی نفسیات میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے خرچ سے اپنی شخصیت کی کیا جھلک دوسروں پر ظاہر ہوگی اس کے بارے میں حساسیت رکھتے ہیں(التکاثر: 1-2)۔ انسانی جبلت ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ آرام اور آسائش کی خواہش بھی رکھتی ہے (آل عمران: 14)قرآن میں ذکر ہے کہ یہودی موسیٰ علیہ السلام سے طرح طرح کے مختلف قسم کے کھانوںکی خواہش کا ذکر کرتے تھے (البقرہ: 61)۔ اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان تنوع چاہتا ہے اوراسے پسند کرتا ہے۔

ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’اگر آدم کے بیٹے کی ایک وادی سونے سے بھری ہوتی تو وہ دو وادیاں رکھنا پسند کرتا، کیونکہ اس کے منہ کی حرص کو (قبر کی)خاک کے سوا کوئی چیز نہیں بھرسکتی ‘ (البخاری، کتاب الرقیق، جلد 8، حدیث نمبر 6436)۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ انسان اپنی فطری جبلت کی تہذیب نہ کرے تو اس کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’کسی بوڑھے کا دل بھی دو چیزوں کے حوالے سے جوان رہتا ہے: جان سے محبت اور مال سے محبت ‘۔ (المسلم، کتاب زکوٰۃ،، جلد 3، حدیث نمبر 2410)۔ تاہم، ہم دیکھیں گے کہ کس طرح اسلامی تعلیمات ان جبلتوں کو معتدل کرتی، ان کی تہذیب کرتی اور طرز عمل میں ہمدردی پیدا کرنے کے لیے ہدایات دیتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات جائز اور ناجائز اشیاء میں فرق کرتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ’زمین میں حلال اور اچھی چیزوں میں سے کھاؤ‘ (البقرہ: 168) اسلام منع کرتا ہے نشہ آور چیزوں سے(البقرہ: 219)، مردہ جانوروں کے گوشت، خون اور سور کے گوشت سے(البقرہ: 173) مالی معاملات میں سود سے (البقرہ: 276) اورجوے سے (المائدہ: 90)۔ بعض مواقع پر حلال اشیاء بھی ناجائز ہو جاتی ہیںجیسے روزے کے وقت (البقرہ: 183) کھانا بھی ناجائز ہوجاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی خواہشات کو روک کر اور اخلاقی شعور حاصل کر کے خدا ترس بن جائیں۔ مگر اسلام رہبانیت کو بھی منظور نہیں کرتا (الحدید: 27)۔

کنجوسی اوربے جا خرچ کرنے کے بجائے اسلام یہ ہدایت کرتاہے کہ مسلمان اپنے خرچ میں اعتدال رکھیں۔ اپنی موجودہ اور آئندہ ضرورتوں کے لحاظ سے خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: ’اور نہ تمہارا ہاتھ (کسی کنجوس کی طرح) اپنی گردن سے باندھ لو، اور نہ اس کو اتنا پھیلادوکہ تم بعد میں ملامت کرو اور سخت غربت میں پڑجاؤ‘ (الاسرا: 29)۔ ایک اور آیت میں قرآن کہتا ہے: ’اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی بخل کرتے ہیں بلکہ ان (انتہاؤں) کے درمیان اعتدال کارویہ رکھتے ہیں‘ (الفرقان: 67)۔

ایک حدیث میں حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’اپنے وسائل کے مطابق خرچ کرو اور ذخیرہ اندوزی نہ کرو، کیونکہ اللہ تمہیں روک دے گا‘۔ (المسلم، کتاب الزّکوٰۃ،، جلد 3، حدیث نمبر 2378)۔ اسلام تنبیہ کرتا ہے کہ مسلمان فضول خرچی اور اسراف سے بچیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’فضول خرچی سے ضائع نہ کرو۔ بے شک وہ ضائع کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘ (الانعام: 141)۔ ایک اور آیت میں اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ ’… اپنے مال کو فضول خرچی کے طریقے سے خرچ نہ کرو‘ (الاسراء: 26)۔

اسلامی تعلیمات حسد، انا پرستی اور غرور کو واضح طور پر منع کرتی ہیں۔ نمودونمائش اوردکھاوے میں ملوث ہونے کے بجائے اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان عاجزی کا مظاہرہ کریں اور تکبر سے دور رہیں (الاسراء: 37، لقمان 18)۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (الحدید: 23)۔

اسلام حسد کرنے والے رویے کو بھی منظور نہیں کرتا۔ قرآن کہتا ہے: ’دنیاوی چیزوں کے ڈھیر لگانے کی خواہش تمہیں اس وقت تک غافل رکھتی ہے جب تک تم قبروں میں نہ پہنچ جاؤ‘ (التکاثر: 1-2)۔ اس کے بجائے قرآن تجویز کرتا ہے ’… مت کروان نعمتوں کی حرص جو اللہ نے تم میں سے بعض کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دی ہیں ‘ (النّساء: 32)۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’حسد اچھے کاموں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے، اور صدقہ برائیوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتاہے۔ ‘ (سنن ابن ماجہ، سنت پر ابواب، جلد 5، حدیث نمبر 4210)۔ حضرت محمدﷺ نے مسلمانوں کو تعلیم دی کہ وہ کسی اور کی طرح نہ ہوں سوائے اس کے جس کو قرآن کا علم دیا گیا ہو اور جو صدقہ میں خرچ کرتا ہو (البخاری، قرآن کی فضیلت کی کتاب، جلد 6، حدیث نمبر 5025)۔ حضرت محمد ﷺنے مشورہ دیا کہ: ’اس شخص کو دیکھو جو تم سے کم درجے پر ہے اور اپنے اوپر والے کی طرف مت دیکھوکیونکہ یہ تمہیں اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے سے روک سکتا ہے ‘ (المسلم، کتاب سنت، جلد 7، حدیث نمبر 7430)۔

قرآن مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ دولت ہمیشہ نہیں رہے گی (الحمزہ: 1-3)۔ دولت اور اولاد صرف آزمائش ہیں (التّغابن: 15)۔ دنیاوی زندگی اور مادی تقسیم کی عارضی نوعیت کو قرآن نے فصاحت کے ساتھ بیان کیا ہے: ’جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل اور تماشا ہے۔ تم میں شادمانی اور باہمی فخر ہے اور دولت اور اولاد کے حوالے سے مسابقت ہے۔ بارش کے بعد کھیتی کی مثال کے طور پر۔ اس کی نشوونما کاشتکار کو پسند ہے۔ بعد میں یہ سوکھ جاتی ہے اور تم اسے زرد ہوتے دیکھتے ہو۔ پھر یہ بھوسہ بن جاتی ہے… ‘ (الحدید: 20)۔ ایک حدیث میں حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’صاحب ثروت ہونابہت سا مال رکھنے سے نہیں ہے، بلکہ اصل دولت اپنے آپ میں مطمئن ہونا ہے۔ ‘ (جامع التّرمذی، باب زہد، جلد 4، حدیث نمبر 2373)۔

اسلام انا کو مطمئن کرنے اور شہرت اور پہچان حاصل کرنے کے لیے کی گئی خیرات کو تسلیم نہیں کرتا (البقرہ: 264؛ الما عون: 6)۔ حضرت محمدﷺ نے صدقہ دینے میں رازداری کا مشورہ دیایہاں تک کہ دائیں ہاتھ کو پتہ نہیںچلے کہ بائیں ہاتھ کیا دے رہا ہے (المسلم، کتاب الزّکوٰۃ،، جلد 3، حدیث نمبر 2380)۔ اللہ قرآن میں مثالی مومنین کے بارے میں کہتا ہے: ’اور وہ مسکین، یتیم اور اسیر کوخودرزق کی محبت رکھنے کے باوجودانہیں کھانا دیتے ہیں۔ (کہتے ہوئے): ’’ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور نہ ہی شکریہ ‘(الانسان: 8-9)۔ قرآن مومنوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو خرچ کریں تاکہ وہ راستبازی حاصل کر سکیں (آل عمران: 92)۔ زندگی بھر خرچ کریں (المنافقون: 10) اور بہتریہ ہے کہ جو کچھ ان کی ضروریات سے زائد ہو اسے خرچ کریں (البقرہ: 219)۔

قرآن مسلمانوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ سخاوت اور احسان کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ: ’والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مساکین، پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہوں، پڑوسی جو اجنبی ہو، دوست اور مسافر کے ساتھ اچھا سلوک کروجو تمہیں ملیں… ‘(النّساء: 36) قرآن نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’پس رشتہ داروں کو ان کا حق دو، اور مسکینوںاور مسافروں کو…‘ (الرّوم: 38)۔ یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا انتہائی نیک عمل گردانا جاتا ہے (البلاد: 12-16)۔ قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ یتیموں کی دیکھ بھال کریں اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور فیاضی سے پیش آئیں (الفجر: 17-20)، ان کی جائیداد میں ایمانداری سے کام کریں (البقرہ: 220) اور سخت رویے سے پرہیز کریں (الماعون: 2)۔ قرآن یتیموں کی املاک پر قبضہ کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے (النّساء: 2)۔

نبی کریم ﷺ نے اعلان کیا کہ بہترین صدقہ خرچ کرنا ہے اس وقت جب تم تندرست ہو، پرامید ہو، جوان ہو، فقیری سے خوفزدہ ہو اورخرچ کرنے میںموت کا وقت قریب آنے کا انتظار نہ کرتے ہو (ماخذ: سنن ابی داؤد، کتاب الوصایا، جلد3، حدیث نمبر 2865)۔ اللہ چاہتا ہے کہ مومن کنجوسی سے بچیں (النّساء: 37)۔ بخل کی تلقین کرنے کے بجائے اسلام مسلمانوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اچھے کاموں اور کوششوں میں ایک دوسرے کی مدد کریں (المائدہ: 2)۔

چونکہ اسلام صرف خالص پرہیزگاری ہی کو قبول کرتا ہے اس لیے زندگی کے بارے میں اس کے دو دنیاوی نقطہ نظر میں اس کے لیے بے شمار انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات خالص پرہیزی کے لیے مناسب انعام کا وعدہ کرتی ہیں (التّو بہ: 121، فاطر: 29، الحدید: 7)۔ کئی دیگر آیات میں اللہ کی خاطر خیراتی کاموں میں خرچ کرنے کا موازنہ ایک اچھے قرض سے کیا گیا ہے جسے اللہ کئی گنا اضافہ کے ساتھ ادا کرے گا (الحدید11:، الحدید18:، التغابن17:، المزّمّل20:)۔ متعدد احادیث میں بھی مسلمانوں کو خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ اللہ ان پر اپنی نعمتوں سے خرچ کرے (البخاری، کتاب تفسیر، جلد 6، حدیث نمبر 4684)۔

معاشی جدوجہد میں اخلاقی اصول

اسلامی تعلیمات حلال (جائز) ذرائع کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جب تک کہ دوسرے فرائض مثلا اللہ کی عبادت کی جاتی رہے جب وہ فرض ہو (الجمعہ: 10) اور ناجائز ذرائع اور کمانے کے طریقے سے گریز کیا جاتار ہے، جیسے سود (البقرہ: 276)، رشوت (البقرہ: 188)، دھوکہ دہی (المطفّفین: 1-4)، جوا (المائدہ: 90)، چوری (المائدہ: 38)، نشہ آور چیزوں کا کاروبار (المائدہ:
90) اور جسم فروشی (النور: 19)۔ عام طور پر مذکورہ بالا استثناء کو چھوڑ کر، قرآن باہمی فائدہ مند معاشی تبادلے کی اجازت دیتا ہے (النّساء: 29)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، اولیاء اور شہداء کی صحبت میں رہے گا‘ (جامع التّرمذی، جلد 3، باب تجارت، حدیث نمبر 1209)۔

اسلام بے کاربیٹھنے اوردوسروں پر انحصارکرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’تم میں سے کوئی صبح جلدی لکڑی جمع کرنے اور اسے اپنی پیٹھ پر لے جانے کے لیے باہر جائے تاکہ وہ اس سے صدقہ دے اور لوگوں سے بے نیاز ہو، اس کے لیے یہ کرنامانگنے سے بہتر ہے۔ اگر وہ مانگے توکوئی آدمی اسے دے سکتا ہے یا انکار کر سکتا ہے۔ بے شک، اوپر والا ہاتھ (دینا) نچلے ہاتھ (وصول کرنے) سے زیادہ بہتر ہے، اوردینے اور خرچ کرنے میں (ان لوگوں سے) شروع کرو جو تمہاری کفالت میں ہیں‘ (جامع التّرمذی، جلد 2، باب زکوۃ، حدیث نمبر 680)۔ ایک اور حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے وضاحت کی: ’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے‘ (سنن ابوداؤد، جلد 2، کتاب الزّکوٰۃ،، حدیث نمبر 1648)۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ بھیک مانگنا امیر اور جسمانی طور پر قابل انسان کے لیے جائز نہیں ہے سوائے اس کے جو شدید غریب ہو یا بہت بڑے قرض میں جکڑا ہواہو (جامع التّرمذی، جلد 2، باب زکوۃ، حدیث نمبر 653)۔

اسلامی تعلیمات جائز اور ناجائز اشیاء میں فرق کرتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ’زمین میں حلال اور اچھی چیزوں میں سے کھاؤ‘ (البقرہ: 168)۔

اسلامی فقہ میں ضرورتوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ امام شاطبی نے انسانی ضروریات کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ i) ضروریات، ii) سہولیات اور iii) تحسینیات [129]۔ امام شاطبی کی طرف سے دی گئی ضروریات کی درجہ بندی کے ڈھانچے میںضروریات میں ایسی سرگرمیاں اور چیزیں شامل ہیں جو کہ حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ اسلام جسمانی اور جمالیاتی ضروریات کو تسلیم کرتا ہے لیکن وسائل کے استعمال میں اعتدال کی ضرورت پر زور دیتاہے۔

اس دنیا میں ایک یا دوسری قسم کے وسائل میں لوگوںکے درمیان تفاوت اسلامی معاشرتی فریم ورک میں برتری کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف باہمی اور سماجی و معاشی تعلقات میں شکر، صبر اور انصاف کا امتحان لینا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’کیا یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟ یہ ہم ہیں جو ان کے درمیان دنیا میں ان کی روزی تقسیم کرتے ہیں، اور ہم نے ان میں سے کچھ کو دوسروں سے اونچے درجے پر رکھا، تاکہ کچھ دوسروں کو ان کے کام میں لگائیں۔ لیکن آپ کے رب کی رحمت (جنت) اس (دنیا کی دولت) سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں‘ (الزّخرف: 32)۔

قرآن کہتا ہے: ’اور ان چیزوں کی آرزو میں اپنی آنکھیں مت لگاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو لطف اندوز کرنے کے لیے دی ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کی رونق ہے (اوراس لیے دی ہے )تاکہ ہم اس کے ذریعے ان کو آزمائیں۔ لیکن تمہارے رب کا رزق (آخرت میں اچھا اجر) بہتر اور زیادہ دیرپا ہے ‘ (طٰہٰ: 131)۔

اسلام تجارت کی اجازت دیتا ہے، لیکن ناانصافی، استحصال اور دھوکہ دہی سے روکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’ایک دوسرے کی جائیداد کو غلط طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ ہی اسے قاضی کے سامنے پھینک دو تاکہ دوسرے کی جائیداد کا ایک حصہ گناہ سے اور جان بوجھ کر کھا جاؤ‘ (البقرہ: 188)۔ ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: ’کسی دوسرے کی جائیداد کو غلط طریقے سے مت کھاؤجب تک کہ یہ باہمی رضامندی کی بنیاد پر تجارت سے نہ ہو‘ (النّساء: 29)۔

تجارت سے متعلق اسلامی تعلیمات تجارتی معاملات میں انصاف پر عمل پرسخت زور دیتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’اور جب ناپتے ہو تو پورا ناپ لو۔ اور یکساں توازن کے ساتھ وزن کرو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے‘ (الاسراء: 35)۔ ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: ’افسوس ان پرجو دھوکہ دہی کا سودا کرتے ہیں، وہ، جب انہیں لوگوںسے پیمائش کے حساب سے وصول کرنا ہوتا ہے، تو عین مطابقِ پیمانہ پورا وصول کرتے ہیں، لیکن، جب انہیں لوگوں کو ناپ یا وزن کے حساب سے دینا ہو تو، مقررہ مقدار سے کم دیتے ہیں۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان سے حساب لیا جائے گا؟‘ (المطفّفین: 1-4)۔ مزید یہ کہ اسلام باہمی تبادلے میں معاہدہ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’اے ایمان والو! اپنی ذمہ داریاں پوری کرو… ‘(المائدہ: 1)۔

اسلام منافع کا مقصد رکھنا اور منافع کوخرچ کرنا یا اور مزید سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا، اس کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم اسلامی تعلیمات ذخیرہ اندوزی کے مقصد کے لیے جمع کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ‘ (التّوبہ: 34)۔

تجارت سے متعلق اسلامی تعلیمات دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے حلف اٹھانے کی مذمت کرتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’۔ ۔ ۔ تم قسموں کو باہمی دھوکہ دہی کے آلات کے طور پر استعمال کرتے ہو، تاکہ ایک شخص دوسرے سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ حالانکہ اللہ تم کو اس کے ذریعے امتحان میں ڈالتا ہے۔ بے شک وہ قیامت کے دن ان معاملات کے بارے میں حقیقت واضح کر دے گا جن میںتم اختلاف کرتے تھے‘ (النّحل: 92)۔

تجارتی معاملات میں اسلام دھوکہ دہی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے معاہدے کی شرائط کو تحریرکرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’اے ایمان والو! جب بھی تم کسی خاص مدت کے لیے رقم دیتے ہو، تو لکھ لیا کرو اورتم میں سے کسی کو لازمی طور پر لکھنا چاہیے۔ اور جو لکھ سکتا ہے اسے انکار نہیں کرنا چاہیے ‘ (البقرہ: 282)۔

تجارت کے اسلامی اصول ادھار لین دین اور قرضوں کی اجازت دیتے ہیں لیکن قرضوں میں نادہندگی کی مذمت کرتے ہیں۔ حضرت محمدﷺنے فرمایا: ’جو کوئی قرض لیتا ہے اور اسے واپس نہ کرنے کا عزم رکھتا ہے تو اللہ اس سے (آخرت میں بحیثیت)چور کی طرح ملے گا‘ (سنن ابن ماجہ، جلد 3، باب صدقہ، حدیث نمبر 2410)۔

تجارت کے اسلامی اصول باہمی سودے بازی میں اپنے لیے بہترین نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کی اجازت دیتے ہیں۔ لیکن کاروبارکرنے میں نرمی کی سفارش کرتے ہیں تاکہ ناجائز فائدہ سے بچ سکیں۔ حضرت محمدﷺنے فرمایا: ’اللہ کی رحمت اس پر ہو جو خریدنے، بیچنے اور اپنے پیسے واپس مانگنے میں نرمی کرے‘ (صحیح بخاری، جلد 3، کتاب فروخت، حدیث نمبر 2076)۔

سامان بیچنے میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مصنوعات بنانے اور فروخت کرنے میں دھوکہ دہی سے گریز کیا جائے۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کوسامان بیچ دے جس میں کوئی خرابی ہو اور اس خرابی کو بتائے بغیر‘ (سنن ابن ماجہ، جلد 3، باب تجارتی لین دین، حدیث نمبر 2246)۔

ایک اور حدیث میں حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’بیچنے والے اور خریدنے والے کو حق ہے کہ وہ سامان رکھے یا واپس کرے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو اور اگر دونوں فریق سچ بولتے ہیں اور سامان کے نقائص اور خوبیاں بیان کرتے ہیں تو وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے، اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا یا کچھ چھپایا تو ان کے لین دین کی برکتیں ضائع ہو جائیں گی‘۔ (صحیح بخاری، جلد 3، کتاب فروخت، حدیث نمبر 2079)۔

غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے معاہدوں میں دھوکہ دہی کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ’جو شخص کسی کوجائیداد سے محروم کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے گا وہ اللہ سے ملاقات کرے گااس طرح کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا‘ (صحیح بخاری، جلد 3، کتاب پانی، حدیث نمبر 2356)۔

اسلامی تعلیمات عام حالات میںمارکیٹ میں قیمت کی دریافت کے عمل کو قدرتی اور بغیر کسی رکاوٹ کے طے پاجانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ قیمت بغیر کسی مداخلت کے بغیر مسابقتی طور پر متعین ہو، پیغمبر محمدﷺنے شہر کے باشندے کو دیہاتی کی جانب سے فروخت کرنے اور مصنوعی طور پر قیمتوں میں اضافہ کرنے سے منع فرمایا ہے (صحیح مسلم، جلد 4، شادی کی کتاب، حدیث نمبر 3459)۔ حضرت محمدﷺ نے تاجروں کو اس وقت تک خریدوفروخت سے منع کیا جب تک باہر سے فروخت کے لیے آنے والے اپنے سامان کے ساتھ بازاروں میں نہ پہنچ جائیں تاکہ انہیں غلط یا نامکمل اطلاعات کی وجہ سے تجارت میں نقصان نہ اٹھانا پڑے (صحیح مسلم، جلد 4، مالی لین دین کی کتاب، حدیث نمبر 3821)۔ مزید برآں، سامان، اثاثوں یا کاروبار کے لیے بولی لگانے میں، خریدنے کے حقیقی ارادے کے بغیر زیادہ بولی لگانابھی ممنوع ہے۔

سٹہ کی تجارت قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے اورنتیجہ کے طور پر اس طرح بحرانوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ تجارت میں دھوکہ دہی اور سٹہ کے سدباب کے لیے نبی اکرم ﷺ نے مستقبل کے سودوں سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ’جو شخص اناج خریدتا ہے اسے اناج اس وقت تک فروخت نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ اس کا قبضہ لے نہ لے ‘ (صحیح مسلم، جلد 4، مالی معاملات کی کتاب، حدیث نمبر 3836)۔

جدید پیداواری عمل میں اکثر مزدوروںکو سامان کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیبر مینجمنٹ اور تعلقات میں اسلام سرمایہ داری کے برعکس مزدور کو مناسب تحفظ اور حقوق دیتا ہے۔ مزدوروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ’میں قیامت کے دن تین افراد کا دشمن ہوں گا: ان میں سے ایک وہ شخص ہے کہ جب وہ کسی ایسے شخص کو ملازمت دیتا ہے جس نے اپنا فرض پورا کیا ہو، اور اسے اس کا حق نہیں دیتا‘ (صحیح بخاری، جلد 3، کرائے کی کتاب، حدیث نمبر 2270)۔ مزدور کو بروقت معاوضہ دینے پر حضرت محمدﷺنے فرمایا: ’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو‘ (سنن ابن ماجہ، جلد 3، کتاب موتی، حدیث نمبر 2443)۔

ایک اور حدیث میں، پیغمبر محمد ﷺ نے فرمایا: ’یہ تمہارے بھائی ہیں جو تمہارے ماتحت ہیںاورجو تمہارے آس پاس ہیں۔ اللہ نے انہیں تمہارے زیردست رکھا ہے۔ لہذا، اگر تم میں سے کسی کے زیردست کوئی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے وہ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے، اسی طرح کے کپڑے پہنائے جو وہ خود پہنتاہے، اور اس پر اتنا بوجھ نہ ڈالے کہ وہ برداشت کرنے کے قابل نہ ہو، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس کی مدد بھی کرے‘ (صحیح بخاری، جلد 3، کتاب منومیشن، حدیث نمبر 2545)۔

اس تحریر کا اگلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply