کائنات، کرونا وائرس اور انسان: حصہ 1 —— سلمان احمد شیخ

0

کائنات، کرونا وائرس اور انسان: وجود کی توجیہ سائنس، فلسفہ اور مذہب کی روشنی میں

کورونا وائرس نے کروڑوں افراد کو متاثر کیا ہے اور دنیا بھر میں پہلے ہی لاکھوں افراد اس وبا کے نتیجہ میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ زندگی کے تقریبا تمام معمولات متاثر ہوئے ہیں۔ سائنسی، تیکنیکی، صنعتی اور معاشی ترقی میں ہمارا زبردست سفر پچھلے چند مہینوں میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا ہے۔ اب جب کہ ہم کورونا وائرس کی اصلیت اور اس کے سدباب پر غور کررہے ہیں، تو یہ مناسب وقت ہے کہ ساتھ ساتھ ہم کائنات میں زندگی کے وجود پر بھی گہرائی سے غور و فکر کریں اور زندگی کے معنی اور جوہر کے بارے میں سنجیدہ سوالات کے جوابات تلاش کریں۔

ہم یہاں زمین پر کیوں ہیں؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اچھے اور برے میں فرق کرنے کے لیے ہمارے پاس شعور اور ضمیر کیوں ہے؟ ہمیں اپنے اردگرد عدل اور انصاف نظر نہیں آتا، لیکن کیا ہم کبھی کامل اور مطلق انصاف حاصل کر سکتے ہیں؟ زندگی کا جوہر اور مقصد کیا ہے؟ کیا ہم زمین میں مختصر قیام کے کچھ دن بغیر کسی مقصد کے گزار رہے ہیں؟ نیک کام کرنے اور برائی سے بچنے کا کیا مطلب ہے؟ اچھے اور برے کا فیصلہ کرنے کا معروضی معیار کیا ہے؟

ہمیں بڑھاپے، تکلیف، غم اور رکاوٹوں کے بغیر جینے، دائمی خوشی کے ساتھ رہنے اور مطلق انصاف کو دیکھنے کی آرزو ہے۔ لیکن، ہر انسان کی زندگی مال، صلاحیت اور خواہشات اور اس کے بالمقابل محرومی، مسائل اور دکھوں کے ساتھ بالآخر اور اکثر اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ نیکی، مہربانی اور سخاوت کی حقیقت کیا ہے اور یہ سب برائی، تکبر اور لالچ سے کیسے مختلف ہیں؟ ہم اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی فطری خواہش کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اگر دنیا میں زندگی اور موت بہت سے لوگوں کے لیے غیر منصفانہ ہے تو انسان کے اچھے اور برے کاموں کا مطلب کیا ہے؟ یہ مختصر کتاب قارئین کو مدعو کرتی ہے کہ وہ مل کر سائنس، فلسفہ اور روحانیت کے تناظر میں جوابات تلاش کریں۔  سلمان احمد شیخ


زندگی کا وجود اورشعور کی توجیہ

زندگی کا وجود: ایک حیرت انگیز حقیقت:
پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ اپنی کتاب “A Brief History of Time” میں لکھتے ہیں: ’اگر بگ بینگ کے ایک لمحہ بعد کائنات کی توسیع کی شرح ایک سو ملین ملین میں ایک حصہ سے بھی کم ہوتی تو کائنات اپنی وسعت کی موجودہ حد تک پہنچنے سے پہلے ہی فنا ہوجاتی۔ دوسری طرف اگر توسیع کی شرح ایک ملین کے ایک حصہ سے بھی زیادہ ہوتی، تو کائنات میں توسیع اس تیزرفتاری سے ہوتی کہ چاند اور سیارے جنم ہی نہ لے پاتے [1]۔ ‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض اتفاق سے کائنات کے وجود میں آسکنے کا کیا امکان ہے۔

برطانیہ کے ریاضی دان راجر پینروز نے اس بات کا حساب لگانے کی کوشش کی ہے کہ محض اتفاق سے اس کائنات میں زندگی پیدا ہونے کا کیا امکان ہے[2]۔ ان کے حساب کے مطابق اس کا امکان اتنا کم ہے کہ جیسے محض 1 عدد کوتقسیم کیا جائے ایک ایسے بڑے نمبر کے ساتھ جو 10کواس نمبر سے ضرب دے کر حاصل ہو جس میں 1کے بعد 123 صفر ہوں یعنی 10^(10^123)۔ یہاں ^ کا نشان ریاضی کے قائدہ exponent کو بیان کررہا ہے یعنی ایک نمبر کو کتنی دفعہ ضرب دیا جائے کہ درکار نمبر حاصل ہو۔

ہمیں معلوم ہے کہ کائنات تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار روز بروز بڑھ رہی ہے۔ سائنسی شواہد کے مطابق اس کائنات کی عمر 13.7ارب سال بنتی ہے۔ اوپر دی گئی چند مثالوں سے واضح ہے کہ بگ بینگ سے لے کر زندگی کے وجود میں آنے تک بہت سے عوامل کا بالکل ٹھیک تناسب میں ہونا ضروری تھا۔ اسٹیون وینبرگ کے مطابق Cosmological Constant کی ویلیو بغیر کسی کمی یا زیادتی کہ اس حد تک چھوٹی ہونی چاہیے تھی کہ جیسے عدد 1 کو تقسیم کیا جائے ایک ایسے بڑے نمبر کے ساتھ جس کی ویلیو 10 کو 120 دفعہ ضرب دے کر حاصل ہو۔ اس1 عدد کو اگر اتنے بڑے نمبر سے تقسیم کیا جائے تو ایک نہایت ہی کم ویلیو حاصل ہوگی جو صفر کے برابر ہوگی مگر صفر نہ ہوگی۔ Cosmological Constant کی اس ویلیو کا بالکل ٹھیک اتنا ہی ہونا ضروری ہے۔ ا گر معمولی فرق سے بھی یہ ویلیو زیادہ ہوتی تو ستارے اور کہکشائیں بن نہیں پاتے اور اگر معمولی فرق سے بھی یہ ویلیو کم ہوتی تو یہ کائنات پیچیدہ زندگی کے وجود میں آنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی[3]۔

رینی دیکارٹ نے کہا ’میں سوچ سکتا ہوں، اس لیے میں حقیقی وجود رکھتا ہوں[4]‘۔ ہم اور آپ بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ مگریہ کائنات اگر اتفاق سے وجود میں نہیں آئی تو اس کائنات کو کس نے بنایا۔ ہم اتنا تو جانتے ہیں کہ ہم خود اپنے خالق نہیں تو پھر ہمیں، ہمارے احساسِ وجود، ضمیر اور ارادے کو کس نے بنایا اگر یہ کائنات ازلی نہیں اور اس کا ایک آغاز ہوا ہے۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ محض اتفاق سے کئی کروڑوں سالوں میں بلا ارادہ اور بلا کسی کی مداخلت کے یہ سب کچھ قدرتی عوامل سے وجود میں آگیا۔ مگر ہمیں معلوم ہے کہ محض اتفاق سے کائنات کی ہر چیز کا ترتیب پاجانا، زندگی کا وجود میں آجانا، وجود میں حیاتیاتی تناسب خودبخود پیدا ہوجانا اور اخلاقی حس، عقل اور ارادہ و اختیار کی قوت کا خود اپنے آپ ہم میں پیدا ہوجانا بعید از قیاس ہے۔

ایلن سینڈیج کے مطابق یہ سب ترتیب وتنظیم مادہ کے ڈھیر سے خودبخود ہوجانا ممکن نہیں۔ وہ بھی اس سوال کا جواب سوچ رہے ہیں جو لیبنیز نے اٹھایا تھا ’ آخر نہ ہونے کی جگہ کچھ ہے تو کیوں ہے[5]‘۔ نوبل انعام یافتہ ولیم فلیپس اپنے خیا ل کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’کائنات کے اندر نظم و ضبط کے مشاہدات اورعوامل میں حیرت انگیز تناسب ویسے ہی جیسا کہ زندگی کے وجود کے لیے ضروری ہے، ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی باشعور اور بااختیار ہستی کا ہاتھ ہے‘۔

البرٹ آئنسٹائن اس ضمن میں کہتے ہیں: ’جو کوئی بھی سائنسی علم کے حصول میں کوشاں ہے اس پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ قدرتی قوانین اور عوامل کے پیچھے کسی ہستی کا ہاتھ ہے جو ہم سے زیادہ قوت رکھتی ہے اور اس کے سامنے ہم اپنے آپ کو عاجز پاتے ہیں[6]‘۔ کسی بھی مادی عمل کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ ہم اس مادی عمل میں آغاز سے آخر تک سلسلہ کی مختلف کڑیاں دریافت کرتے جاتے ہیں۔ سائنسی تشریح میں آغاز سے آخر تک نظر مادہ یا مادی عمل پر ہوتی ہے۔ پروفیسر لارنس کراس ابتدائے کائنات کی توجیہ کسی ہستی کوبیان میں لائے بغیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پروفیسر لارنس کراس کوانٹم مکینکس کے پیرائے میں غیر موجود ‘Nothing’ کا لفظ استعمال کرتے ہیں مگر اس سے مراد ایک موجود ‘Something’تصور لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ Empty Space میں مجازی یا تصوراتی مادہ اتنی تیزی سے وجود میں آتا اور فنا ہوتا ہے کہ اتنا وقت ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کے وجود کے تصور کو زمان ومکان میں بیان کیا جاسکے۔ چنانچہ پروفیسر کراس کے نزدیک عدم سے جہاں زمان و مکان کا وجود بھی نہیں، مادی عمل کا ظہور اور آغاز ممکن ہے[7]۔ بجا طور پر ڈیوڈ البرٹ اس غیر عقلی اورغیر سائنسی مفروضہ سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ لکھتے ہیں: ’کوانٹم فیلڈ یا تصوراتی Vacuum States ویسے ہی ایک مادہ اور موجود شے کا تصور رکھتے ہیں جیسے ریفریجریٹر یا پھر نظام شمسی۔ یہ مادہ کی ہی متنوع شکلوں میں سے مختلف شکلیں ہیں۔ اگر عدم سے کائنات کے آغاز کو سلجھانے کی سعی کی جائے گی تو پھر مادہ کی کسی ابتدائی شکل سے آغاز نہیں کرسکتے۔ کوانٹم فیلڈ اور اس کی ایک خاص ترکیب وترتیب خود ایک وجودی چیز ہے، اسے معدوم یا غیر موجود نہیں کہا جاسکتا[8]‘۔

ہمارے نظام شمسی کے سورج میں۳۱ لاکھ زمین جتنے سیارے سما سکتے ہیں۔ ہماری ملکی وے جیسی کہکشاں میں دو سو ارب ستارے ہوتے ہیں۔ اب سائنس دان کئی کہکشائوں کو جدید دوربینوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک نوری سال میں دس کھرب کلومیٹر فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے۔ ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات کا حجم اس وقت اتنا بڑا ہے کہ روشنی کی رفتار سے اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے میں150 ارب سال لگ جائیں۔ مگر چونکہ کائنات تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے اس لیے ہم پھر بھی کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نہیں پہنچ سکیںگے۔ کچھ سائنس دان اس باریک تناسب کی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو مختلف عوامل میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے زندگی کی بقا اس زمین پر ممکن ہے۔

کوانٹم مکینکس نے کئی سائنس دانوں کو مضطرب کیا۔ البرٹ آئنسٹائن بھی کوانٹم مکینکس کے بارے میں ایک عرصہ تک تذبذب اور اضطراب کا شکار رہے۔ کوانٹم مکینکس حقیقت کے بارے میں ہی بہت بنیادی اشکالات پیدا کردیتی ہے۔ جب ہم مادہ کی بہت باریک اکائیوں کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے مشاہدے سے ہی ان مادی اکائیوں کی رفتار اور جگہ متاثر ہوتی ہے۔ فطری طور پر ہم یہ سوچتے آئے ہیں کہ حقیقت اٹل ہوتی ہے۔ اگر مختلف افراد ایک حقیقی چیز کا مشاہدہ کریں تو انہیں ایک ہی حقیقت نظر آئیگی۔ کوانٹم مکینکس کے ضمن میں کیا حقیقت اٹل نہیں اور کیا یہ محض مختلف ممکنات کا ظہور ہے جس پر ہمارا مشاہدہ بھی اثر کرتا ہے۔ کچھ سائنس دان اس کی توجیہ کئی ایک متوازی کائنات کے تصور سے کرتے ہیں۔

پروفیسر برائن گرین اپنے ایک انٹرویو میں اس پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اگر ایک نہیں کئی بلکہ بے شمار کائناتیں ہیں تو پھر اس کے مقابلے میںحقیقی ممکنات کم ہیں۔ اس صورت میں محدود ممکنات کا بے شمار کائناتوں میں ایک سے زیادہ دفعہ وقوع پذیر ہونا ایک ممکن بات ہے۔ چنانچہ یہ ممکن بات ہے کہ میرا یہ انٹرویو مختلف کائناتوں میںکئی دفعہ وقوع پذیر ہورہا ہو‘۔

وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ہم جب کوانٹم مکینکس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ابھی بھی ہم پوری طرح نہیں جانتے کہ کس طرح کئی ممکنات میں سے ایک ہی حقیقت ممکن الوقوع ہوتی ہے اور مشاہدہ میں آتی ہے۔ کوانٹم مکینکس کے مطابق مادہ ایک متعین جگہ اور ایک دوسری متعین جگہ بھی بیک وقت موجود ہوسکتا ہے۔ مگر کیوں مشاہدہ میں ایک ہی جگہ نظر آتا ہے۔ ہم حقیقی مشاہدہ میں اسے ایک متعین جگہ پاتے ہیں یا ایک دوسری متعین جگہ۔ اس الجھن کی توجیہ مشکل ہے۔

پروفیسر گرین ہماری توجہ ہیوگ ایوریٹ کی جانب مبذول کراتے ہیں جنہوں نے اس الجھن کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مادہ کے حوالے سے دو امکان ہیں کہ وہ ایک متعین جگہ ہوگا یا ایک دوسری متعین جگہ۔ ہوتا یوں ہے کہ دو مختلف کائناتوں میں مادہ ایک کائنات میں ایک جگہ اور دوسری کائنات میں دوسری جگہ ہوگا۔ ہمارا مشاہدہ چوں کہ ایک کائنات میں ہوتا ہے تو جہاں ہم ہیں وہاں ہمیں مادہ ایک متعین جگہ ہی نظر آتا ہے۔ چناںچہ اگر آپ اس کائنات میں مادہ کو ایک جگہ مشاہدہ کرنے کے بعد اس کو حتمی حقیقت سمجھتے ہیں تو آپ ہی کا وجود ایک دوسری کائنات میں مادہ کو ایک د وسری جگہ مشاہدہ کرنے کے بعد اس کو حتمی حقیقت سمجھتا ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ متوازی حقیقتیں ایک سے زیادہ متوازی کائناتوں میں وقوع پذیر ہوتی ہیں[9]۔

متوازی کائناتوں کے وجود کو سائنسی مشاہدہ کے ذریعے نہیں پرکھا جاسکتا۔ پروفیسر برائن گرین بھی محض ریاضیاتی بنیادوں پراس مفروضے کو فی الوقت حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ بہت سے سائنس دان اس تصور کو سائنسی بنیادوں پر تسلیم نہیں کرتے کیوںکہ مشاہدے اور تجربہ سے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ بہت سے سائنس دان اس طرح کی قیاس آرائی سے خوش نہیں ہیں کہ ایک کائنات کی گھتی سلجھانے کے لیے کئی اور بلکہ بے شمار کائناتوں کو فرض کرلینا، جب کہ تجربہ اور مشاہدے سے اس کے بارے میں کچھ نہ کہا جاسکتا ہو، کوئی سائنسی طرزِعمل نہیں اور اس طرح پھر مذہب سے سائنسی استدلال مانگنا بے معنی بات ہوجائیگی۔

مونس اپنے اضطراب کو اس طرح بیان کرتے ہیں: ’جواہرات کا رنگ ایک جیسا رہتا ہے جب کہ ان کا مشاہدہ ہم بھی کئی بار اور دیگر لوگ بھی کرتے ہیں۔ اگر بے شمار کائناتوں کا وجود ہے اور ممکن حقیقتیں مختلف کائناتوں میں وقوع پذیر ہوتی ہیںتو ہمارے بار بار کے مشاہدے میں کبھی تو تغیر آنا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہوتا[10]‘۔

ریاضی کے اکسفورڈ یونیورسٹی میں سینئر پروفیسر جان لینکس کہتے ہیں: ’یہ مفروضہ قائم کرنا کہ کھربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور کائناتی توازن میں جو تغیر اور بد انتظامی ہوسکتی ہے وہ مختلف کائناتوں میںہوتی رہتی ہے اور اسی ایک کائنات میں نہیں ہوتی اور وہ بھی اتفاق سے، تو یہ بعید از قیاس ہے۔ ایک خدا کے وجود کا انکار کرکے اس مفروضے پر یقین رکھنا انتہائی غیر عقلی بات ہے[11]‘۔ اس ضمن میںایڈورڈ رابرٹ ہیریسن کہتے ہیں کہ ’ ہمارے پاس دو توجیہات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات کے اندر نظم و ضبط اور مختلف عوامل میں باریک تناسب جیسا کہ زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے، محض اتفاق ہے جو دوسری بے شمار کائناتوں میں نہیں پایا جاتا۔ دوسری توجیہ یہ کہ ایک ہی کائنات ہے جو ہمارے مشاہدے اور تجربہ سے ثابت ہے[12] ‘۔ ـیہ اتفاق نہیں تو پھر یہ عقلی بات ہے کہ اس عظیم کارخانہ کے پیچھے ایک باشعور ہستی کا ارادہ اور اختیار ہے۔

پروفیسر رچرڈ ڈاکنز اپنی کتاب کا نام رکھتے ہیں ـ”The Greatest Show on Earth: Evidence for Evolution” یعنی ’زمین پر ایک عظیم ترین تماشہ: ارتقاء کا ثبوت[13]‘۔ مگرنظریہ ارتقاء ممکنہ طور پریہ تو بتاسکتا ہے کہ مادی عمل کے درمیانی سلسلہ میںکیا عوامل کارفرما ہوتے ہیںاور وہ کس طرح اور ترتیب سے کام کرتے ہیں، مگر مادہ ہی کی ابتداء کے بارے میںہم اس حیاتیاتی نظریہ سے مکمل معلومات نہیں حاصل کرسکتے۔ ہر عظیم تماشہ کے پیچھے کوئی ہدایت کار ہوتا ہے۔ کیا کائنات کا یہ عظیم نظام محض تماشہ ہے اور اسے چلانے اور ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ کیا ہماری تمام تخلیقات اور صلاحیتوں کے جوہری مظاہر محض اتفاقات ہوتے ہیں۔

پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ ایک بہت اہم سوال اپنی کتاب میں اٹھاتے ہیں: ’ہم ایک حیرت انگیز دنیا میں ہیں۔ ہم اپنے ارد گرد موجود چیزوں کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کائنات کی اصل کیا ہے۔ ہمارا اس کائنات میں مقام کیا ہے۔ ہم کہاں سے یہاں آموجود ہوئے ہیں۔ چیزیں اسی طرح کیوں ہیں جیسا کہ وہ ہیں[14]ـ‘۔

مقصد حیات: سائنس اور فلسفہ کی روشنی میں

افلاطون نے ایک دفعہ کہا تھا کہ: ’انسان ایک ایسا حیوان ہے جو اپنے وجود کی توجیہ چاہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں مقصدِحیات جاننے کی جستجو رکھتا ہے[15]‘۔

ہم بغیر کچھ خرچ کیے سورج کی روشنی، ہوا، پانی اور کرہ ارض پر موجود زندگی کی بقاء کے لیے قائم قدرتی نظام سے ہر لمحہ مستفید ہوتے ہیں۔ ہماری تمام راحتیں اور تکلیفیںہماری زندگی کی سانسوں تک محدود ہیں۔ ہماری تمام مشکلات اور ان کے متوقع، ممکن اور مطلوب حل اس وقت بے معنی ہوجاتے ہیںجب ہم اپنا وجود کھودیتے ہیں۔ امید اور خوف کے سائے میں ہم ٹھہر کر اپنا مقصدِ حیات جاننا چاہتے ہیں۔

بیسویں صدی کو بجا طور پر سائنس کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ سائنس نے ہمیں مادہ کو اور مادی عوامل کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے۔ اور جس کے ذریعے ہم مادہ کے متنوع استعمال پر قدرت حاصل کرکے اپنی مادی زندگی کو بہتر کرپائے ہیں۔ آج ہم جن مادی تصرفات پر قادر ہیں، قدیم دور کے بادشاہ بھی اس کا خواب نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اس کے باوجود سائنس نے جہاں ہمیں یہ سہولیات دیں وہیں بیسویں صدی میں بیس کروڑ لوگ مختلف جنگوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس عظیم انسانی نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ہر روز ساڑھے پانچ ہزار لوگ جنگ میں مارے جائیں تو یہ جانی نقصان ایک صدی میں جاکر بیس کروڑ تک پہنچے گا۔ کیا اتنے وسیع پیمانے پر انسانی جان کا ضیاع صرف مادہ کاایک ساخت سے دوسری ساخت میں تبدیل ہوجانا ہے۔ کیا انسانی جان کاایٹمی ہتھیاروں سے بڑے پیمانے پر ضیاع کائنات میںایسا ہی ایک واقعہ ہے جیسے زلزلے آتے اور آتش فشاں پھٹتے ہیں۔ ہمیں اپنی بقا ء کے لیے جہاں سائنس کی ضرورت ہے وہاں شعور، اخلاق اور بامعنی زندگی کی بھی اہمیت ہے۔ سائنسی ایجادات سے ایسا نہیں ہوجاتا کہ غلط صحیح اور صحیح غلط ہوجائے۔ بلکہ اگر اخلاقی قدروں کو بھلادیا جائے تو سائنسی ایجادات بجائے فائدہ پہنچانے کے الٹا تباہ کن انداز میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔

ہم اپنے ضمیر کی آواز سنیں تو ہماری اخلاقی حس ہمیں صحیح راستہ دکھادیتی ہے۔ مگر، اگر میں سمجھتا ہوں کہ اس دنیا کے بعد کوئی زندگی نہیں، تو پھر میں اپنا محدود وقت، زندگی اور وسائل کیوں دوسروں کی مدد کرنے میں خرچ کروں۔ اگر یہ زندگی نہ انصاف کے مطابق شروع ہوتی ہے نہ ختم، تو پھر عدل اور انصاف کیا ہماری محض خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ ایسے مجرم جو وسیع پیمانے پر انسانی ہلاکت کا ذریعہ بنے ہوں انہیں ان کی جان لینے کے باوجود بھی اپنے جرم کی قرارِواقعی سزانہیں دی جاسکتی۔ اگر دیگر جرائم میں مجرموں کو سزائیں دی بھی جاسکیں تو بھی مظلوم کی زندگی اور اس کا وقت واپس نہیں لایا جاسکتا۔ ہمارا کائنات کو دیکھنے کا تصور اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ ہم اس کائنات سے اپنے تعلق اور اس میں اپنے مقام کے بارے میں کیا تصور رکھتے ہیں۔ طبیعیات کے نقطہ نظر سے تو مختلف انواع کی زندگی کا ختم ہوجانا محض ایک مادی عمل ہے۔

پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے ایک دفعہ کہا تھا: ’ہم محض کائنات کے ابتدائی لمحے میں کوانٹم تغیرات کا نتیجہ ہیں[16]‘۔ پروفیسر نیل ڈی گراس ٹائسن سمجھتے ہیں :’ ممکن ہے کہ یہ کائنات اور اس میں موجود ہر شے اور واقعہ ایک کمپیوٹر پروگرام ہو جو کسی کی ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ ہو اور اس پروگرام کو کسی نے محض اپنی تفریح کے لیے بنایا ہو جیسے ہم وڈیو گیمز بناتے، اس میں فرضی کردار تخلیق کرتے، انہیں کچھ صلاحیتیں دیتے، ان کا استعمال کرتے اور محظوظ ہونے کے بعد انہیں فنا کردیتے ہیں[17]‘۔ کائنات کے وجود اور نظام میں کیمیائی اور حیاتیاتی عمل ہے مگر کیا یہی اس کی آخری اور بنیادی حقیقت بھی ہے۔

انسان سماج میں رہتا، اخلاقی احساسات رکھتا اور اپنے عقل و شعور کو استعمال کرکے جیتا ہے۔ وہ ایک گھڑی کی طرح نہیں جو سوچ نہیں سکتی اور جو ایک لگے بندھے طریقے سے حرکت کرتی ہے۔ انسان اپنے ارادہ اور اخلاقی حس کے زیرِ اثر ایثار بھی کرسکتا ہے اور اپنے ارادہ واختیا ر کا سوء استعمال بھی کرسکتا ہے۔ مگر، اگر میری یہ محدود زندگی کا کوئی مقصد نہیںاور میں کسی کو جوابدہ نہیں تو کیوں میں اسے کسی بھی پابندی یااخلاقی قیدکے ساتھ گزاروں۔ وہ اجنبی جس سے شاید میں کبھی نہ ملا ہوںاور نہ آئندہ ملوں، اگر مجھے اس سے کوئی ذاتی غرض نہیں توکیوں میں اس کی مدد کرنے کا سوچوں۔ اگر میری آمدنی اور وسائل محدود ہیں تو کیوں میں انہیں دوسروں پر خرچ کروں اگر میرے وسائل میری ہی تمام خواہشات کو پورا نہیں کرسکتے۔

سائنس کوشش کرتی ہے کہ سبب اور اس کے نتیجہ کا مطالعہ کرے۔ ریاضی اس کے اس مطالعہ میں آسانی اور وسعت پیدا کرتی ہے جہاں ہر جگہ مشاہدہ کام نہ دے مگر کچھ اٹل اصولوں کی بنیاد پر استدلال کیا جاسکے۔ کچھ سائنس دان علم کے حصول کو مشاہدہ یا اس پر مبنی استدلال تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ انہیں بنیادی حقیقت مشاہدہ ہی نظر آتی ہے یا مشاہدہ کو بیان کرنے والی ریاضی، مادہ اور قدرتی عوامل۔ سائنس ہماری مدد یہاں تک ہی کرسکتی ہے۔ مگر ہمیں مادی حقیقتوں کے پیچھے ارادہ، مقصداور معنی کی تلاش کے لیے بھی جستجو ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر برائن گرین سمجھتے ہیں کہ سائنس ہمیں مادہ کیسے کام کرتا ہے اس کا جواب تو دے سکتی ہے، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے، کا جواب نہیں دے سکتی۔ یہ کائنات کیسے مادی عوامل کیچچ نتیجے میں اپنی ابتدائی حالت سے اس موجودہ حالت میں آئی، اس کا جواب سائنس دے سکتی ہے۔ مگر سائنسی علم اس بارے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرسکتا کہ وہ اس کا مقصد بتاسکے۔ یہ کائنا ت ہے ہی کیوں؟ ان مقصدی سوالوں کا سائنس کے پاس نہ کوئی جواب ہے نہ جواب جاننے کا ذریعہ۔ تاریخ میں اور موجودہ دور میں بھی بہت سے لوگ یہ سمجھتے آئے ہیں کہ ان سوالات کے جوابات مذہبی علم کے ذریعہ دیے جاسکتے ہیں[18]۔

کھانا پکانا صرف ایک کیمیائی عمل نہیں ہے۔ جب ہم کھانا پکاتے ہیں تو ہمارا مختلف مصالحوں کوایک خاص ترکیب، ترتیب اور تناسب سے استعمال کرنا حقیقت کے ایک پہلو کا بیان ہے۔ حقیقت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ کھانا ہم کس کے لیے اور کیوں بنارہے ہیں۔ کھانا بنانے والا، کھانے والے، بھوک اور اجزاء ترکیب سب حقیقت میں شامل ہیں۔ حقیقت کے بیان میں ان سب کی اہمیت ہے۔ ہم پانی پیتے ہیں جو ہائیڈروجن اور آکسیجن کے امتزاج سے بنا ہے۔ مگر ہم پانی کیوں پیتے ہیں تاکہ ہم اپنی پیاس بجھائیں۔ کسی بھی واقعے میں’ کیوں ‘اور’کیسے ‘ دونوں اہم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سوال پوچھے کہ یہ کمپیوٹر کس نے بنایا تو صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ استعمال ہونے والے پرزے اور ان کا آپس میں باہمی تعلق بیان کردیاجائے۔ پروفیسر سید حسین نصر اس بارے میں لکھتے ہیں: ’مادہ کی تحلیل کرنا اور مادی عمل کے درمیانی سلسلہ کی کڑیوں کو پر کرنا جدید سائنس کا امتیاز ہے۔ مگر اس طرح ہم اپنے اخلاقی وجود اور شعور کو محض مادی اجزاء میں محدود نہیں کرسکتے۔ سائنسی رجحان یہ ہے کہ وجود کو مادی اجزاء اور جن کوپھر غیر مادی اجزاء اور پھر غیر مادی اجزاء کو قوت کے ڈھیر میں تحلیل کرتے جائیں جب تک کہ ہم ان کی حرکت کو ناپ سکیں[19]‘۔

سائنس کا رجحان مادی عوامل کے پیچھے ’کیسے‘ کا جواب تلاش کرنا ہے۔ مگرجیسا کہ ہم نے جانا کہ حقیقت کے مکمل بیان میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ البرٹ آئنسٹائن اپنے ایک مضمون ’مذہب اور سائنس ‘ میں لکھتے ہیں: ’اتنا علم کہ کیا ہے کافی نہیں ہوتا اس کے لیے کہ ایسا کیوں ہے۔ ہم چاہے بہت تفصیل ہی سے یہ کیوں نہ جان لیں کہ کیا ہے، مگر یہ ہمارے مقصدیت اور معنویت کے جواب کے لیے کافی علم نہیں ہے۔ معروضی علم ہمیں کچھ نتائج فکر دیتا ہے جسے ہم اپنے فائدے اور مقصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، مگر ہمارا مقصد کیا ہونا چاہیے، اس کا جواب ہمیں کہیں اور سے تلاش کرنا ہوگا[20]‘۔

عقل، جسے استعمال کرکے ہم طبیعی علوم میں مادہ کے علم میں پیش رفت کرتے ہیں اور اخلاقی حس یا ضمیر جس کے ذریعے ہم اچھائی اور برائی میں تمیز کرپاتے ہیں، نہ ہماری اپنی تخلیق ہیں نہ یہ خودبخود وجود میں آئے ہیں۔ الیکٹریکل مصنوعات الیکٹریکل اور مکینیکل قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں۔ مگر کسی صناع کے بغیر یہ محض ان قوانین سے وجود میں نہیں آجاتے۔

پروفیسر رچرڈ ڈاکنز اس ضمن میں کہتے ہیں: ’لاکھوں کروڑوں سالوں کی نیند کے بعد ہم اس زمین پر آنکھ کھولتے ہیں، جہاں مختلف رنگ ہیں اور زندگی ہے۔ پھر کچھ دہائیوں بعد ہی ہم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ کیا یہ عظیم موقع نہیں کہ ہم اس بات کو جاننے میں اپنی زندگی بسر کریں کہ ہم کس طرح اس دنیا میں آنکھ کھول پائے ہیں[21]‘۔

مگر پھر ہمیں یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ ہم نے یہ آنکھیں کھولی ہیں تو کس لیے۔ اگر ہم آپ اپنے خالق نہیں تو ہماری خلقت کے پیچھے کیا ہے۔ مادہ اور مادی عوامل خود سے تصرف کے قابل نہیں۔ اگر مادی اسباب ہی اس کائنات کے ہر عمل میں کارفرما ہیں تو ہماری اخلاقی قدروں کی کیا اہمیت یا حیثیت ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم اخلاقی رویہ اختیار کریں یا غیر اخلاقی۔ بہت سے جاندار جیسا کہ ڈائناسور ز ہمارے اس دنیا سے میں آنے سے پہلے ہی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ایک چیل یا شیر دوسرے جانور کو شکار کرے یا پھر انسان ایک دوسرے کو۔ ہماری اخلاقی حس اس بقاء کی حیاتیاتی جنگ میں اچھے اور برے کے بارے میں سوچتی ہی کیوں ہے۔ اگر زمین پر سورج کے نیچے سانس لیتا ہوا میرا وجود محض مادہ کا ڈھیر ہے اور اس نے ایک دوسری مادی شکل میں جذب ہوجانا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہم کیا عمل کریں۔ کیا اچھے اخلاق اور برے اخلاق کا ایک ہی نتیجہ ہوگا کہ ہم زمیں پر زندگی گزار کر اسی میں دفن ہوجائیں ہمیشہ کے لیے۔

سائنس دان مادی اور قدرتی عوامل میں ’کیسے‘ کی تلاش میں نت نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس کائنات میں ہم محض اپنے آپ کو مہمان پاتے ہیں۔ ہماری پیدائش کائنات کی کل تاریخ میں کل کا واقعہ ہے۔ سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ زندگی کا وجود قدرتی عوامل کے باریک اور ٹھیک تناسب کے ساتھ ہی قائم ہے اور قائم رہ سکتا ہے۔ اس باریک اور ٹھیک تناسب کو بگاڑنے میں تو ہمارا کوئی دخل ہے، مگر اسے قائم رکھنے میں ہمارا کوئی کردار نہیں۔ ہم کائناتی توازن میں خنجر کی نوک پر زندہ ہیں۔ ہم مہمان کی حیثیت سے اس کائنات سے لطف تو اٹھاتے ہیں، مگر کچھ سائنس دان اس میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ میزبان کے بارے میں جانا جائے اور اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ ہم زمین پر موجود ہر سہولت اور نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر نہیں خیال آتا تو میزبان کا۔

قدرتی قوانین نہ ہمارے بنائے ہوئے ہیں نہ ہماری پیدائش ان سے زیادہ قدیم ہے۔ کیا ہم مہمان نوازی کا پورا فائدہ اٹھانے کے بعد اپنا ساراوقت محض مزید سہولیات کو ڈھونڈنے میں ہی لگادیں اور میزبان کی معرفت اور شکریہ کا خیال ہی ہمیں نہ آئے۔ ہم آپ اپنے تو میزبان نہیں۔ مزید معلومات سے تو بار بار یہ ہی متحقق ہورہا ہے کہ میزبان کی بنائی ہوئی مادی چیزیں اور قوانینِ قدرت ہمارے لیے سازگار اور بقاء کا ذریعہ ہیں۔ انہی کے استعمال سے ہم آسائش حاصل کرتے ہیں اور انہی کے سوء استعمال سے اپنے اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بنتے ہیں۔

کمپیوٹر پروگرامنگ کی زبان کو سیکھ کر ہم مفید کمپیوٹر پروگرامز بناسکتے ہیں۔ مگر ہمارا یہ عمل اس بات کی نفی نہیں کردیتا کہ اس پروگرامنگ کی زبان کا کوئی خالق نہیں۔ اسی طرح قدرتی قوانین اور مادہ ہم سے زیادہ قدیم ہے۔ ہم محض مادہ کو قدرتی قوانین کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔

سائنس اس دنیا اور کائنات کا نظام نہیں چلارہی ہے۔ وہ اس چلتے ہوئے نظام کا مطالعہ ہے۔ سورج، چاند، سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، بادل اور کیمیائی اجزاء ہم سے زیادہ قدیم ہیں۔ ان میں سے کئی چیزیں دوسرے سیاروں پر بھی موجود ہیں، مگر ایسے تناسب میں نہیں۔ اگر اتفاق کچھ واقعات اور مادی عمل کے بارے میں کرنا پڑتا تھا، تو اب سائنس کی ترقی اور مزید علم نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ اگر اتفاق سے اس کائنات کے وجود اور نظام کی توجیہ کی جائے گی تو اب یہ اتفاق اور مزید باریکیوں کے بارے میں کرنا ہوگا جن کے بارے میں ہمیں پہلے علم نہ تھا۔

اگر کسی کو کہا جائے کہ ایک ناول کا تجزیہ لکھیں جو کسی اور نے تحریر کیا ہے، تو تجزیہ کرنے والا یہ جانتا ہے کہ یہ ناول اس کی تحریر نہیں۔ وہ اس ناول کے مختلف اوراق کا مطالعہ کرے گا اور اس میں موجود کرداروں اور ان کی گفتگو کا تجزیہ کرے گا۔ اس مطالعہ سے تجزیہ کار اس قابل ہوسکتا ہے کہ وہ اس ناول کے بارے میں کچھ لکھ سکے۔ اس ناول میں ناول کا لکھنے والا ناول میں نہیں آتا۔ وہ ناول کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ناول کاتجزیہ لکھنے والا ناول میں آنے والے کرداروں کے بارے میں لکھ سکتا ہے۔ مگر وہ ناول پڑھ کر کیایہ کہ سکتا ہے کہ اس ناول کا کوئی مصنف نہیں کیوں کہ ناول کے کرداروںاور مختلف مناظر میں مصنف کا ذکر نہیںاور نہ ہی وہ موجود ہوتا ہے۔ کیا وہ یہ کہ سکتا ہے کہ کرداروں کے بارے میں تجزیہ ان کی گفتگو پڑھ کر کیا جاسکتا ہے اس لیے اس ناول کے مصنف کو تسلیم کرنا ضروری نہیں۔

اگر ہم اس استدلال سے یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ یہ ناول کسی مصنف کی تحریر نہیں تو پھر ہم اس کائنات، جس کا ایک آغاز ہے، جس میں مادہ اور قدرتی قوانین قدیم سے موجودہیں اور جس میں نہایت باریک اور ٹھیک تناسب سے متنوع قسم کی زندگی کروڑوں سالوں میںوجود میں آتی ہے بشمول انسانی زندگی کے جس میں شعور، ارادہ، عقل، اخلاقی حس اورجمالیاتی حس موجود ہے، کوکسی خالق کے ارادہ کے علاوہ محض ایک اتفاق قرار دے سکتے ہیں؟ہم ناول کے مصنف اور خالق کی تخلیق کا مختلف طرح سے تجزیہ تو کرسکتے ہیں، مگر ہم اس بات سے تو انکار نہیں کرسکتے کہ ناول کا مصنف ہوتا ہے اور مخلوق آپ اپنی خالق نہیں ہوتی۔

جب ہم کمپیوٹر پروگرام کو دیکھتے ہیں اور اس کے code میں loops دیکھتے ہیںجس کی وجہ سے وہ پروگرام مستقل چلتا رہتا ہے، تو اس کے باوجود ہم یہ نہیں سمجھتے اور کہتے کہ یہ پروگرام خودبخود وجود میں آگیا ہوگا اور اگر یہ مستقل چل سکتا ہے تو اس کا کوئی آغاز نہیں ہوگا۔ اگر ہم کوئی کمپیوٹر پروگرام چلائیں اور اسکرین پر حرکت کرتے ہوئے کردار نظر آئیں جیسا کہ ہم کارٹون میں دیکھتے ہیں، تو ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ پروگرام کسی نے بنایا نہیں ہوگا اور یہ محض اتفاق سے وجود میں آگیا ہوگا۔

پروفیسر لارنس کراس اپنی کتاب “A Universe from Nothing” میں لکھتے ہیں کہ اس کائنات کا آغاز کسی مادہ کے بغیر ہوا اور یہ ایک دن فنا ہوجائیگی اور اس کے آغاز سے اختتام تک ہم سائنس کی مدد سے پتہ لگاسکتے ہیں کہ یہ کس طرح، کیسے اور کن قدرتی قوانین پر کام کرتی ہے اور یہ جاننے کے لیے ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا ایک خالق ہے اور وہ اسے چلارہا ہے[22]۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ جس چیز کو پروفیسر nothing کہ رہے ہیں وہ سائنس ہی کے نزدیک something ہے۔ مادہ کی کسی خاص شکل، جس کی کیفیت اور کردار عام قابل مشاہدہ اور قابل مطالعہ مادہ سے مختلف ہو تواسے nothing نہیں کہا جاسکتا۔ اس پر مزید اعتراض جارج ایلس اٹھاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’ قدرتی قوانین کیوں ہیں اور کہاں سے آئے[23]‘۔ پروفیسر پرویز ہودبھائی اس بات کو تو تسلیم کرتے ہیں کہ سائنس قدرتی قوانین کے آغاز اور ابتدا ء کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتی۔ سائنس اس بارے میں کوئی حتمی بات نہ اثبات میں یا نفی میں کہ سکتی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور اس نے ہی ان قوانین کو وجود بخشا ہے[24]۔

پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ: ’اگر ہمارے پاس ایک نظریہ بھی ہو جس سے ہم کائنات کی مادی توجیہ کرسکیں، پھر بھی وہ نظریہ کچھ قوانین اور equations پر مشتمل ہوگا۔ وہ کون ہے جو ان equations میں حرکت پیدا کرتا ہے اور ان قوانین کو وجود میں لاتا ہے جن کی مدد سے ہم کائنات میں مادی توجیہ کرپاتے ہیں۔ ہمارا یہ رجحان کہ ہم ایک ریاضیاتی ماڈل بنائیں اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکتا کہ یہ کائنات ہے ہی کیوں کہ اس کی توجیہ کی جائے[25]‘۔

جدید سائنس نے کائنات یا زمین پر کوئی نیا مادہ تخلیق نہیں کیا۔ ہماری تمام کاوشیں اور ان میں کامیابی محض تسخیریا مادہ کے مفید تصرفات سے عبارت ہے۔ مادہ کی ابتدء اور خصوصیات ہم پر منحصر نہیں۔ ہم صرف ان کی خصوصیات کو جان کر ان کے استعمالات میں پیشرفت کرپاتے ہیں۔

سائنس مادہ اور مادی عوامل کے بارے میں وہ علم دیتا ہے جو تجربہ اور مشاہدہ کے نتیجے سے حاصل ہوتا ہے۔ سائنس نے تو اس کائنات کے مادی رموز سے پردہ اٹھا کر اس کے حسن، تنوع اور انتظام کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں۔ سائنس مادہ کی معلومات کو اس کے مفید تصرف میں لانے کے لیے انتہائی مفید علم ہے۔ مگر جیسا کہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان رچرڈ فین مین نے کہا: ’سائنس اخلاقی معاملات میں تصفیہ نہیں کراسکتی[26]‘۔

پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’میں یقین رکھتا ہوں کہ کائنات کا نظام قدرتی قوانین چلارہے ہیں۔ یہ قوانین ہوسکتا ہے کہ کسی خدا نے بنائے ہوں، مگروہ ان قوانین میں مداخلت نہیں کرتا[27]‘۔ ہم کائنات کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، اس کے بعید مستقبل کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں اورسیاروں سے لے ایٹمی ذرات پر تحقیق کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ پروفیسر برائن گرین نے ایک دفعہ کہا تھا کہ : ’کئی دفعہ قدرت قوانین کے پیچھے اپنے راز چھپاکر رکھتی ہے اورکبھی حقیقت ہم پر بہت قریب سے خود ہی آشکار ہوجاتی ہے[28]‘۔

قدرت اور قدرتی قوانین زندگی کی معنویت یا مقصدیت نہیں بتاسکتے۔ قدرتی قوانین تو خود اپنے وجود کی ابتداء کی توجیہ چاہتے ہیں۔ رینی دیکارٹ نے کہا تھا: ’میں سوچ سکتا ہوں، اس لیے میں کہ سکتا ہوں کہ میں وجود رکھتا ہوں‘۔ مگر پھر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ’میں کیوں وجود رکھتا ہوں اور میں کہاںاور کس طرح ہوں گا جب اس دنیا سے میرا وجود ختم ہوجائے گا‘۔

جب ہم ٹیکسی، کشتی یا ہوائی جہاز میں کسی منزل کی طرف سفر کرتے ہیں تو ہم یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ یہ سواریاں موجود ہیں کہ نہیں۔ ہاں ہم یہ سوال اٹھاسکتے ہیں کہ کیا یہ سواریاں خودبخود چلتی ہیں یا انہیں چلانے والا کوئی ماہر ڈرائیور ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی عمارت کو دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس کے بنانے والے کا خیال آتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں تو کیسا لگے گا کہ لکڑی، سریا، ماربل، سمینٹ اور پینٹ خودبخود مل گئے اورآپس میں ایک خاص ترتیب اور تناسب سے مل کر ایک عمارت بن گئے جس میں لوگ رہ سکیں۔ جو خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ یہ منطق معمولی چیزوں جیسے کہ گاڑی یا عمارت پر تو لاگو نہیں کرتے مگر وسیع و عریض کائنات پر اس کا اطلاق کرتے ہیں جو اپنے اندر حیرت انگیز نظم وضبط، انتظام اور ترتیب وتناسب رکھتی ہے۔

ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جیسے غذائی اجناس کی کاشت میں اضافہ، اس کی بروقت ترسیل، بیماریوں میں شفاء کے لیے ادویات اور بہتر زندگی کے لیے سہولیات وغیرہ۔ اس کے برعکس ٹیکنالوجی کے غلط اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سے ہم اپنی اور دیگر حیاتیات کی بقاء کے لیے بھی مسئلے کھڑے کرسکتے ہیں۔ جدید سائنس کے دور میں مذہبی اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال کر انسان کو جو تجربات ہوئے ہیں وہ باعث اطمینان نہیں۔ جہاں ایک طرف بیسویں صدی میں بیس کروڑ لوگ مختلف جنگوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ہمارے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کی وجہ سے جو ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہوا، اس سے آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ہزاروںانواع کی زندگی معدوم ہوگئی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ سائنس دانوں کو مذہبی اخلاقی قدروں سے کبھی کوئی پریشانی ہوئی ہے یا سائنسی علم اور مذہبی اخلاقی اقدار میں کوئی تفاوت محسوس ہوا ہے۔ سائنس دانوں کی ایک کثیر تعداد ہمیشہ سے اور آج بھی سائنسی علم کو طبیعی اور قدرتی قوانین سمجھنے میں مفید سمجھتی ہے اور اس علم کی بنیاد پر یہ توقع نہیں رکھتی کہ اس کے ذریعے ہمیں ابتداء یا اس سے پہلے کا احوال اور اس کے موجود ہونے کے پیچھے کسی ذہن یا ارادہ کا پتہ چل سکتا ہے۔ آئزک نیوٹن نے بہت خوب کہا کہ کششِ ثقل سیاروں کی حرکت کو تو بیان کرسکتی ہے، مگر یہ نہیں بتاسکتی کہ اس کو حرکت دینے والا کون ہے[29]۔

طبیعی دنیا میں باقائدگی اور قدرتی قوانین کے جاننے سے وجود کی مقصدیت واضح نہیں ہوتی۔ ہم کس طرح نشونما پاکر بڑے ہوتے ہیںیا انسانی نسل کن مراحل سے گزر کر اپنے موجودہ قالب میں ڈھلی، اس کا ان بنیادی باتوں سے کوئی تعلق نہیں جن میں ہم معنویت اور مقصدیت تلاش کرتے ہیں۔

البرٹ آئنسٹائن اپنے مضمون ـ’مذہب اور سائنس‘ میں لکھتے ہیں: ’حقیقت کے بارے میں علم ایک بڑی چیز ہے، مگر وہ اس بات کا تشفی جواب نہیں کہ کیا وجہ ہے اس حقیقت کے پیچھے اور ہم حقیقت کے بارے میں علم جاننا ہی کیوں چاہتے ہیں۔ یہاں آکر ہم اپنے وجود کی محض عقلی توجیہ کرنے میں میں ناکام ہوجاتے ہیں[30]‘۔ پروفیسر کارل پوپر بیان کرتے ہیں: ’سائنسی علم اگر سائنسی ہے تو یہ ضروری ہے کہ اس کو جھٹلایا جاسکتا ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا علم سائنسی نہیں کہلاسکتا[31]‘۔

یہ اور بات ہے کہ جھٹلائے جانے کے اہل سائنسی نظریہ میں حقیقت کے طبیعی پہلو کو بیان کرنے کی کیا اہلیت ہے اور اس کا انسانی سوچ، فکر، سماج اور زندگی کے حوالے سے بنیادی خیالات پر کیا اثر ہے۔ مثال کے طور پر ارتقاء کا نظریہ حقیقت کے اس طبیعی پہلو کے بارے میں ایک وضاحت ہے کہ انواع و اقسام کی زندگی کا وجودیک دم نہیں بلکہ ایک ارتقائی عمل کے تحت ہوا ہے۔ اس نظریہ کا تعلق زندگی کی معنویت بیان کرنے سے نہیں ہے نہ ہی وہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب دے سکتا ہے کہ ارتقاء کے قدرتی عمل کے پیچھے کوئی ذہن یا ارادہ ہے کہ نہیں۔

اگرکچھ لوگ اس نظریہ کی بنیاد پر خدا کا انکار کرتے ہیں تو ان کے اس خیال کو اس نظریہ سے کوئی بنیادی استدلال نہیں مل سکتا۔ کیوں کہ اس نظریہ کا تعلق اس سوال سے ہے ہی نہیں۔ اس سے الحاد کا فلسفہ کشید کرنا ایک انسانی خیال ہے، کوئی سائنسی استدلال نہیں۔ سائنس کا تعلق طبیعی حقیقتوں سے ہے ان کے پیچھے موجود وجہ یا ارادے سے نہیں۔ ہائیڈروجن بم اور پانی دونوں میں ہائیڈروجن ایک تناسب سے شامل ہے۔ سائنس کا کام اس مادی عنصر کی مادی خصوصیات جاننا ہے اور اس علم کی بنیاد پر اس کے مختلف ممکنہ مصارف بیان کرنا ہے۔ مگر مصرف کیا ہو اور کیا وہ انسان کے لیے مفید ہے یا نہیں، سائنس کا اس بحث سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اسی لیے مائیکل روس جو اپنے آپ کو بہرحال ایک مذہبی شخص نہیں کہتے مگر وہ ان لوگوں کے بارے میں جو الحاد کی بنیاد نظریہ ارتقاء سے لاتے ہیں، کہتے ہیں: ’نظریہ ارتقاء کے سائنسی اور طبیعی استدلال سے آگے جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ سائنس نہیں۔ اسے ایسا سمجھنے والے اپنا فلسفہ بیان کررہے ہوتے ہیںجو سائنس نہیں بلکہ ان کا مذہب ہے اوروہ اسے لادینی مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں[32]‘۔

ڈاکٹر فرانسس کولنس امریکہ کے National Human Genome Research Institute کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہیں اپنے سائنسی کام’حیاتیاتی ارتقاء‘ اور مذہبی خیالات میں کوئی تفاوت یا چپقلش محسوس نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ حیاتیاتی ارتقاء ایک حیاتیاتی نظریہ ہے جو حیاتیاتی نقطہ نظر سے جسم جس میں زندگی ہے، اس کے حیاتیاتی اجزاء کے بارے میں علم دیتا ہے کہ یہ اجزاء کیسے کام کرتے ہیں۔ انسانی زندگی میں جسم اور روح (جو انسانی شخصیت ہے)، دونوں ہیں۔ بحیثیت انسان ہم اس کا تجربہ خود رکھتے ہیں۔ جسم پر چوٹ کو خود محسوس کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ انسانی شخصیت میں اخلاقی حس ہے، جمالیاتی حس ہے، عقلی صلاحیت ہے، شعور ہے اور معلوم سے نامعلوم کے بارے میں جاننے کی طلب ہے۔ حیاتیاتی نظریہ ہماری زندگی کی حیاتیاتی تکمیل اور اس میں جاری حیاتیاتی عمل کا علم دیتی ہے۔ میں اس علم کو مفید جانتے ہوئے بھی اسے خدا کے حقیققت کو عمل میں لانے کا ذریعہ سمجھتا ہوں[33] ‘۔

جانور ہر روز نیند سے اٹھتے ہیں، خوراک تلاش کرتے ہیں اور پھر سوجاتے ہیں۔ کیا انسانوں کی زندگی کا بھی یہی مقصد ہے کہ وہ اپنی خوراک تلاش کرے اور اس تلاش میں جو تھکن آئے تو اسے آرام کرکے دور کرے اور پھر ایک دن ہمیشہ کے لیے سوجائے اور زمیں کے کیڑوں کی خورا ک بن جائے۔ ہمارا ضمیر ہمیں نیک راہ تو سجھا سکتا ہے، مگر اس پر چلنا کیوں چاہیے، یہ اس پر منحصر ہے کہ ہم انسانی زندگی کی حقیقت اور مقصد کے بارے میں کیا تصور رکھتے ہیں۔ اگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ دنیا اور اس میں موجود ایک محدود وقت میں زندگی ہی واحد زندگی ہے تو پھر میں اپنا محدود وقت، صلاحیتیںاور وسائل کیوں نہ اپنے آپ پر ہی خرچ کروں۔ اگر میں محض ارتقاء کے نتیجے میں کائنات کے کچھ عرصہ میںہونے والا ایک حادثہ ہوں تو پھرمیرے شعور میں نیکی اور بدی کیا چیز ہے۔ اس اخلاقی شعور اور مٹی وہوا میں کیا فرق ہے۔

پروفیسر رچرڈ ڈاکنز اپنی کتاب God Delusion ’خدا کا وہم‘ میں لکھتے ہیںکہ ہمیںبااخلاق ہونے میں مذہبی اخلاقیات کی ضرورت نہیں ہے [34]۔ مگر اگر ہم اخلاقی عمل بھی جبلت اور بقاء کے لیے کرتے ہیں تو پھر اخلاقیات کی کوئی اساس نہیں ہوگی۔ ہم نیک عمل یا برا عمل کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ جس طرح جانور ایک دوسرے کی جان لے کر اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں تو پھر اگر انسان بھی ایسا کریں تو کائنات کے مادی نظام میں کیا فرق پڑتا ہے۔

ڈاکٹر سیم ہیرس کہتے ہیں: ـ’ہم جسے آج مقدس سمجھ رہے ہیں اس کی جہ یہ ہے کہ ہم اسے کل سے مقدس سمجھتے آرہے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھنا چھوڑدیں تو وہ خیال یا بات مقدس نہیں رہے گی[35]‘۔ ایسا ہی ہے تو پھر کوئی معروضی اخلاقیات نہیں رہیں گی۔ سیم ہیرس ارادہ کی آزادی کے بھی قائل نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اپنی عدالتوں اورجرائم میں سزا کو ختم کردینا چاہیے۔ مگرکیا ایسا ہے اور کیا ہم ایسا کریں گے۔ پروفیسر سید حسین نصر کہتے ہیں: ’اگر انسان اندھی طبیعی قوتوں اور قوانین کے مادے پرعمل کاایک حادثہ ہے تو پھر اس بات کی کوئی حقیقت نہیں رہتی کہ انسانی زندگی مقدس ہے۔ پھر یہ محض ایک بے بنیاد جذباتی خیال ہے۔ پھر انسانی شرف ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔ اگر ہم صرف مادہ کا ڈھیر ہیں تو انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے خیالات، تحفظات اور توقعات بالکل ایک بے معنی چیز ہے[36]‘۔

ولیم پالے اور والٹئیرخدا کے وجود کو گھڑی ساز سے تشبیہ دیتے ہیں۔ والٹئیر سے منسوب ہے کہ اس نے کہا: ’میں اس بات کا تصور نہیں کرسکتا کہ کائنات کی گھڑی یعنی تخلیقی عمل بغیر کسی گھڑی ساز یعنی خالق کے عمل میں آگیا ہوگا [37]‘۔ مگر ہم اس سے آگے بڑھ کر سائنس سے ہی خدا کی ذات اور صفات کے بارے میں نہیں جان سکتے۔ بلکہ سائنس سے تو ہم انسانی شخصیت کے ہر پہلو کو بھی مکمل اور ٹھیک طرح سے نہیں جان سکتے۔ ہماری میڈیکل رپورٹس ہماری حیاتیاتی یا کیمیائی ساخت کے بارے میں تو بتا سکتی ہیں، مگر وہ ہماری شخصیت اور روح کو بالکل ٹھیک طرح سے مکمل طور پر نہیں جان سکتیں۔

ارتقاء کو قدرتی انتخاب کے ذریعے ہی بیان کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پروفیسر رچرڈڈاکنز خدا کے وجود کو گھڑی ساز نہیں بلکہ اندھا گھڑی ساز سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طبیعی قوانین ہی ’اندھا گھڑ ی ساز‘ ہیں[38]۔ پروفیسر لارنس کراس بھی اس ضمن میں کہتے ہیں: ’سائنس کے بغیر ہر چیز ایک معجزہ لگتی ہے اور معجزہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ سائنسی علم کی ترقی اور اس کے علم کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ ہمیں اب کسی چیز کو محض معجزہ نہ ماننا پڑے[39]‘۔

مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان قدرتی قوانین کو کس نے بنایا۔ ان بنیادی طبیعی قوتوں کو کس نے بنایا جن کے ذریعے ہم کائنات کی طبیعی توجیہ کرتے ہیں۔ ان بنیادی قوتوں کی ویلیو وہی کیوں ہے جو زندگی کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک ضروری تھی اور جن میں ذرا سی بھی کمی بیشی اس کائنات کے پورے نظام کو الٹ دیتی۔ یہ قدرتی قوانین خود سے کیسے عمل میں آتے ہیں۔ نظریہ ارتقاء مادی سلسلہ کی درمیانی کڑیوں کو ملاتا ہے تو جس مادہ کی ہم توجیہ کرتے ہیں اس کی ابتداہی کس طرح خودبخود ہوگئی۔

سی ایس لویس لکھتے ہیں: ’ہماری عادت ہے یہ بولنے کی کہ اگر کچھ ہوتاہے تو ان قدرتی قوانین کی وجہ سے ہوتا ہے، مگر یہ بات درست نہیں کہ محض قوانین ہی کسی واقعہ کا تمام تر سبب ہوتے ہیں۔ ہر طبیعی قانون یہ کہتا ہے کہ اگر الف ہوگا تو ب ہوگا۔ مگر یہ الف کہاں سے آیا۔ کوئی قدرتی قانون آپ کو یہ الف پیدا کرکے نہیں دے گا[40]‘۔ ڈاکٹر جان لینکس بھی اس نقطہ کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں: ’قدرتی قانون، جوکچھ بھی بیان کرتا ہے، اس میں یہ بات پہلے سے تصور کی جارہی ہوتی ہے کہ قدرت پہلے سے موجود ہے[41]‘۔ یعنی قدرتی قوانین موجود حقیقت کی مادی توجیہ کرتے ہیں مگر اس استدلال میں یہ تصور پہلے سے موجود ہے کہ مادہ اپنا وجود رکھتا ہے۔ قدرتی قوانین خود مادہ کو تخلیق نہیں کرتے بلکہ مادی عمل اور اثرکو بیان کررہے ہوتے ہیں[42]۔

کیرل ایک سوال اٹھاتی ہیں اور پھر خود اس کا جواب دیتی ہیں: ’کیا سائنس میں جو بھی پیش رفت ہوئی ہے وہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ جو کائنات ہے، یہ ہے ہی کیوں اور یہ قدرتی قوانین کیوں ہیںاور کیوں یہ قوانین ایک خاص قائدہ کے مطابق کام کررہے ہوتے ہیں جس کو ہم ریاضی کے اصولوں کے تحت بیان کرپاتے ہیں؟ اس کا ایک لفظ میں جواب ہے کہ نہیں اور نہ میرے نزدیک یہ ممکن ہے[43]‘۔

جو سائنس دان الحاد کی طرف مائل ہیں ان کا خدا کے بارے میں تصور ایک خلا کے تصور کا ہے جسے god of the gaps کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس ہی کا علم اصل اور واحد علم ہے۔ جہاں پرانے وقت میں لوگوں کو قدرتی اور مادی عمل کی توجیہ کرنے میں مشکل آتی تھی وہاں وہ حقیقت کے نامعلوم یا ناقابل توضیح پہلو کو خدا کی طرف منسوب کردیتے تھے یعنی خدا نے ایسا کیا ہوگا۔ اب ہم بہت سے مادی حقائق کی مادی توجیہ اور وضاحت کرسکتے ہیں تو ہمیں god of the gaps assumptionکی ضرورت نہیں۔ اگر ہم کائنات کی مادی توجیہ میں کائنات کی ابتدا کے پہلے سیکنڈ تک جاکر کچھ قوانین اور قوتوں کے باہمی عمل سے کائنات کی مادی توجیہ کرسکتے ہیں تو ہمیں خدا کے تصور کی کائنات کی طبیعی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے ضرورت نہیں۔

اگر ہم ذہین روبوٹس بناسکتے ہیں تو وہ اپنے بنانے والے کو اسی وقت جان سکتے ہیں جب ہم انہیں بتائیں۔ اگر ہم انہیں اس طرح بنائیں کہ وہ ہماری آوازمیں مخصوص الفاظ کو مناسب فاصلے پر سن کر کوئی مخصوص کام کریں تو وہ ویسا ہی کریں گے۔ اگر ان روبوٹس کو ہم اپنے بارے میں نہیں بتائیں تو وہ ہمارے بارے میں نہیں جانیں گے۔ ہمارا انہیں بنانا ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو وہ نہ جانیں یا نہ تسلیم کریں تو اس سے حقیقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ صرف ہمارے بتانے پر یہ جان سکتے ہیں کہ انہیں ہم نے بنایا ہے اور انہیں ہماری ہدایات پر عمل کرنا ہے۔

ہمیں چاہے اس کائنات کی ابتداء کے بارے میں، قدرتی قوانین کے بارے میں، مادہ کی ساخت اور خصائص کے بارے میں علم نہ بھی ہو جیسا کہ آج سے کئی صدیوں پہلے تک ہم بہت سے سائنسی حقائق کو نہیں جانتے تھے، اس کے باوجود اپنے وجود کی معنویت اور مقصدیت کے پہلو سے توجیہ کرنا ہماری بنیادی ضرورت اور سوال رہا ہے۔ ہمارے جسم میں حیاتیاتی، کیمیائی اور کائنات میں طبیعی قوانین کیا ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں، ان سوالات کے جوابات بھی اہم ہیں۔ مگر ان سوالوں کے جو بھی جواب ملیں اور جو درست بھی ہوں، اس سے ہمارے وجود کی معنویت اور مقصدیت کے حوالے سے سوالات کا جواب نہیں ملتا۔

ہم آپ اپنے خالق نہیں اور یہ کائنا ت آپ اپنی خالق نہیں۔ یہ بات تو ہم اپنے مشاہداتی علم اور عقلی استدلال سے بھی جانتے ہیں۔ کچھ سائنس دان جو خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی ایک ہستی یا ذہن کا وجود ماننے پرمجبور ہیں۔ مگر اپنی خواہش کے مطابق ذمہ داری سے فرار کے لیے اسے ایک ایسی ہستی ماننا چاہتے ہیں جسے ہم سے دلچسپی نہ ہو یعنی impersonal god یا پھر گھڑی ساز، اندھا گھڑی ساز، ایک simulator جو simulation بناتا ہے اور وہ خودکار طریقے سے چلتی رہتی ہے یا ایک پروگرامر جو پروگرام بناتا ہے اور وہinfinite loops کی مددسے چلتا رہتا ہے۔ نطشے نے کہا کہ خدا تھا مگر اب نہیں۔ یہ محض راہِ فرار کے لیے خواہشات کا اظہار تو ہوسکتا ہے مگر کوئی عقلی یا سائنسی بات نہیں جس کے لیے کوئی عقلی استدلال یا شہادت ہو۔

ہم میں سے کوئی مصور تصویر بناتا ہے یاکوئی شاعر نظمیں لکھتا ہے، تو ہم اسے نمائش اور مشاعرہ میں پیش کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں بات کرنا اور سننا پسند کرتے ہیں۔ بحیثیت سائنس دان اگر ہم کوئی چیزدریافت کریں تو ہم اس کو کامیابی سمجھتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں، اس کام کو اپنے نام سے بیان کرتے ہیں اور اس پر ناز کرتے ہیں۔ اپنے کام کے کاپی رائٹس کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مگر یہ کتنا غیر عقلی خیال ہے کہ خالقِ کائنات جس نے مادہ اور قدرتی قوانین کو وجود بخشا اورمختلف انواع کی زندگی کو وجود بخشا، اس نے یہ سب بغیر کسی وجہ کے کیا ہوگا اور وہ اپنی اس تخلیق سے مکمل بے نیاز ہوگا۔ ہم ناچیز مخلوق جب کوئی تحقیقی مقالہ لکھے، وہ تو اپنا مقصدِ تحقیق research objectivesرکھے، اسے بتائے اور دوسروں سے بھی اس طرح توقعات رکھے، مگراس کائنات کے خالق کا تخلیق کا نہ کوئی مقصد ہو، نہ اس سے کوئی سروکار۔

کچھ سائنس دان اس بات کو ماننے کے لیے تو تیار ہیں کہ کسی خلائی مخلوق نے وہ ابتدئی مادہ ہمارے سیارے پر لاکر رکھ دیا ہوگا کہ جس سے پھر زندگی وجود میں آئی۔ نوبل انعام یافتہ فرانسس کرک اورلیسلی اورجیل کہتے ہیں کہ زندگی کو ہوسکتا ہے کسی خلائی مخلوق نے وجود بخشا ہو[44]۔ مگر وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ایک خالق نے اس کائنات کو ابتداء سے تخلیق کیا ہو۔

ہم اپنی عقلی صلاحیت اور اس کے ساتھ اپنے ارادہ اور اختیا ر کے اندر ضعف کا خود ذاتی ادراک اور تجربہ رکھتے ہیں۔ اگر اپنی صلاحیت کے استعمال سے مادہ میں تصرف کرسکتے ہیں اور اس سے کئی فائدے اٹھا سکتے ہیں تو خالقِ کائنات کے لیے تخلیقی صلاحیت ماننے میں ہمیں کیا دشواری ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک خلائی مخلوق کوزندگی کے آغاز کا سبب سمجھتے ہیں تو یہ مفروضہ غیر عقلی ہونے کے باوجود بھی اس خلائی مخلوق کے خالق تک ہمیں جانے پر مجبور کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خالق کی صفات ہم خود طے کرنا چاہتے ہیں اسے بے نیاز گھڑی ساز کہ کر، آئندہ نسل کے کسی نوجوان پروگرامر کی کارستانی بتاکر، ایک ریاضی دان کہ کریا ایک ریاضی مساوات ‘equation’ کہ کر۔ یہ سب باتیں غیر عقلی اور بے بنیاد تو ہیں ہی مگر وہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ان باتوں کے پیچھے جو فکر کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ مخلوق کی حیثیت کو مان کر ذمہ داری سے بھا گا جائے۔

مگر حیرت کی بات ہے کہ حقائق میں دلچسپی کا نعرہ لگانے کے باوجود اپنے استدلال میں کہیں کسی مذہبی کتاب سے براہ ِراست حوالہ ان سائنس دانوں کی جانب سے نہیں پیش کیا جاتا جو مذہب پر اس کے باوجود بھی شدید تنقید کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکنز، پروفیسر لارنس کراس اور پروفیسر ہاکنگ مذہب پر تنقید تو کرتے ہیں مگر نہ مذہبی بیانیہ کا براہِ راست مطالعہ کرتے ہیں اورنہ ان سے براہِ راست حوالے دے کر نقد کرتے ہیں۔ مذہب اور سائنس میں ایک بے وجہ تفریق قائم کرتے ہیں اور ایک کے وجود کو دوسرے کے لیے زہرِ قاتل سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیںکہ سائنس سے ہی تعلق رکھنے والے ان کے دیگرہم پیشہ احباب کی اکثریت ایسا نہیں سوچتی اور کسی نہ کسی زاویہ سے مذہب اور خدا پر یقین بھی رکھتے ہیں اور سائنسی علم کے فروغ میں اپنا حصہ بھی ڈال رہے ہیں۔

علم کے شعبہ جات میں تقسیم اور تخصص کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ وجودیت کے بنیادی سوالات کا جواب ہر ایک صاحبِ فکر نے اپنے شعبہ کی معلومات کے ضمن میں سوچا۔ پروفیسر ڈاکنز ایک جگہ خدا کو نہ ماننے کی وجوہات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ اگر اتنی چھوٹی مخلوقات میں حیاتیاتی پیچیدگی ہے تو خالق کی ہستی کتنی پیچیدہ اور ناقابلِ ادراک ہوگی۔ جو طبیعیات کے شعبہ سے شغف رکھتے ہیں وہ آخری حقیقت طبیعی قوتوں اور قوانین کو سمجھتے ہیں۔ پروفیسر میشیو کاکو جن کا تخصص ریاضی میں ہے وہ خدا کے ذہن کو گیارہ جہات میں اسٹرنگز کی حرکت سے جاری موسیقی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اپنی ایک کتاب کا نام انہوں نے God Equation رکھا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین جیسے ایلن مسک زمین پر موجود زندگی کو ایک simulation ’تصوراتی‘ چیز سمجھتے ہیں اس بنیاد پر کہ آج اگر ہم Role Play Games بناسکتے ہیں جن میں ہماری طرح کے کردار ایک کہانی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو پھر ہم بھی کسی کہانی کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ اگر آج جنگِ عظیم دوم کے حوالے سے ایسے گیمز بعد کے زمانے میں بنائے جارہے ہیں تو پھر ہوسکتاہے ہم بھی کسی ایسے گیم کا حصہ ہوں جو کسی نوجوان پروگرامر نے آئندہ زمانے میں ماضی کے لوگوں کے اوپر بنایا ہو۔ ان مثالوں سے واضح ہے کہ ان سائنس دانوں کا اپنا خود کا استدلال کن مفروضات پر کھڑا ہوا ہے۔ ہر سائنس دان جو کچھ کہے وہ سائنس نہیں ہوتی۔ جب سائنس دان کوئی ایسا فلسفہ حیات پیش کرتے ہیں جس سے وہ متاثر ہیں، تو چوںکہ وہ سائنس دان بھی ہیں، محض یہ بات ان کے فلسفہ کو سائنس نہیں بنادیتی۔ ان مفروضات کی سائنسی بنیاد تو کیا عقلی بنیاد بھی نہیں۔ اس کے باوجود ان سائنس دانوں کی جانب سے مذہبی بیانیہ کو سمجھنے کی کوئی براہِ راست کوشش نظر نہیں آتی۔ وہ صرف اپنے شعبہ کی جملہ معلومات کے اثر میں کچھ مفروضات قائم کرتے ہیں جس کی بنیاد میں کوئی مشاہدہ اور تجرباتی شہادت نہیں۔

زمین سے باہر خلا سنسان ہے۔ فزکس میں Fermi Paradox یہ سوال اٹھاتاہے کہ ’باقی سب کہاں ہیں‘۔ وہ ستارے جو ہم سے پہلے وجود میں آئے، وہاں زندگی کے کوئی آثار کیوں نہیں۔ سائنس دان جو الحاد پر یقین رکھتے ہیں انہیں یہ ماننے میں بہت تامل ہوگا کہ اس کرہ ارض کو ایک خصوصی مظہر سمجھیں۔ یہ بات ان کے استدلال کے بارے میں سوالات اور مذہبی بیانیہ کے لیے ایک جواز پیش کرتی ہے کہ ایسا اتفاق سے نہیں ہوسکتا کہ زندگی اور جگہ متوقع ہونے کے باوجود کہیں اور نہیں۔ اب تک ہم کوئی اور ایسا خطہ نہیں دریافت کرسکے ہیں جہاں ہم قدرتی طور پر سانس لے سکیں۔

اس کے جواب میں پھر کئی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ شاید ہم اتنی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ اپنی خالق ’خلائی مخلوق ‘کو دیکھ پائیں۔ ایک چیونٹی کو ہم اس کی خوراک اور نسل کی افزائش کے انتظام کے ساتھ کہیں قید کردیں تو وہ اس جگہ کی حقیقت کے علاوہ کوئی اور حقیقت نہیں جانتی ہوگی۔ شاید ہم ایک پنجرے، جزیرے یا کسی کھیت میں بند ہیں جسے خلائی مخلوق نے اپنی وقت گزاری اور تفریح کے لیے بنایا ہے۔ یا شاید جو خلائی مخلوق ہماری زندگی کے آغاز کی وجہ بنی اس نے بھی ہماری طرح ایسے ہتھیار بنالیے جن سے انہوں نے اپنے آپ کو تباہ کرلیا۔ ان مفروضات سے واضح ہے کہ سائنس دانوں کی زبان سے نکلی ہر بات سائنسی نہیں ہوتی۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ ایک خالق کو نہ ماننے کے لیے کیاکیا اور عجیب توجیہات کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کائنات ہمارے سامنے ہے۔ اس کا مطالعہ ہر سوچنے والا ذہن کررہا ہے۔ آسٹروفزکس نے ہمیں کائنات کے ابتدائی لمحات سے لے کر اس قابل بنادیا کہ اس کی عمر جان سکیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں بھی ٹھیک اندازہ لگاسکیں۔ اپنے اس مطالعہ پر اتنا بھروسہ کرنے کے قابل بنادیا کہ بلیک ہولز کی موجودگی ہم نے طبیعیاتی قوانین سے سیکھی اور پھر بعد میں اس کا مشاہدہ کرپائے۔ بگ بینگ کو ہم دیکھ تو نہیں سکتے مگر اس کے بعد طبیعی قوانین کے مطابق جو gravitational waves بنتی ہیںان کاتصور ایک صدی پہلے آئنسٹائن پیش کرتے ہیں اور آج ہم اس کا LIGO پراجیکٹ کے نتیجہ میں پتہ لگاچکے ہیں۔

اس مخصوص دور میں جب کہ کائنات اتنی پھیلی نہیں کہ ہم اپنی کہکشاں سے دور کچھ نہ دیکھ پائیں، ہم نے بہت کچھ مشاہدہ کرلیا۔ مگر بگ بینگ ہمیں کائنات کے ابتدائی لمحہ تک لے جاسکتا ہے۔ اس کے پہلے یا بعد میں کسی مادی عمل کے پیچھے کیا ارادہ یا ہستی ہے، نہیں بتاسکتا۔ کوئی سائنسی نظریہ اس بات سے تعلق نہیں رکھتا کہ کسی بھی مادی عمل میں مقصدیت کیا ہے۔ کچھ سائنس دان اس سوال کو غیر اہم کہ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ بے نیازی نہ انسان کی ذہنی جستجو اور عقل کے شایانِ شان ہے اور نہ تسلی بخش۔ انسانی نسل کے بہترین اذہان ان سوالوں میں دلچسپی رکھتے آئے ہیں۔ اس پر ہمارے رویوں اور اخلاقیات کی بنیاد بنتی ہے۔ اس سوال سے بے نیاز رہ کر اسے وقتی طور پر چھپایا تو جاسکتا ہے مگر ذہن سے محو نہیں کیا جاسکتا۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply