احمد ہمیش سے ایک یادگار، تاریخی گفتگو —- طاہر مسعود

0

دانش کے قارئین کے لئے ممتاز ادیب احمد ہمیش سے طاہر مسعود کی ایک تاریخی گفتگو پیش ہے۔ یہ مصاحبہ نومبر۱۹۸۲ء میں شایع ہوا۔ (اسامہ صدیقی، مرتب)


تعارف:
حکایات بید پائے میں ایک حکایت مذکور ہے کہ ایک گدھے کی دُم نہ تھی۔ ایک دن اُسے بہت خیال آیا کہ میری دم نہیں ہے، کہیں سے دُم پیدا کرنی چاہیے۔ اسی فکر میں نکلا اور اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیے مارنے لگا۔ پھرتے پھرتے کسی کھیت میں جاگھسا، کسان نے دیکھ لیا، پکڑ کر گدھے کے دونوں کان کاٹ لیے۔ اردو کے بہت سے نئے اور اچھے غزل گو شعراء نثری نظم کی دُم اگانے کی کوشش میں اچھی بھلی شاعری سے بھی محروم ہوگئے۔ اور اگر احمد ہمیش کے نثری نظم کے بانی ہونے کا دعویٰ درست ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔ جس کے لیے اُنہیں معاف نہیں کیا جاسکتا۔

انٹرویو:
طاہر مسعود: احمد ہمیش صاحب آپ سے انٹرویو کا فیصلہ کرنے میں مجھے کئی دشواریاں درپیش ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ جب آپ کا انٹرویو شایع ہوگا تو بہت سے شاعر اور ادیب کہیں گے کہ’’ اُف احمد ہمیش‘‘ یہ کس شخص کاانٹرویو چھپ گیا۔ یہ آدمی تواتنی اہمیت کا مستحق ہی نہیں تھا تو جناب آپ کی کیا رائے ہے ایسے تبصروں کے بارے میں۔ کیا وہ صحیح کہیں گے؟ اور کیا آپ سے انٹرویو کرنے کا میرا فیصلہ درست ہے؟
احمد ہمیش: (بدلی ہوئی آواز میں) بہت سی اہمیتیں مفروضوں پر قائم ہوتی ہیں۔ اور بہت سی اہمیتیں مشروط ہوتی ہیں۔ میری مشکل یہ ہے کہ میں کسی مشروط یا مفروضے پر قائم کی گئی اہمیت کا آدمی نہیں ہوں۔ ممکن ہے لوگ مجھے اس اعتبار سے اہم نہ سمجھیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے میں ان کو اہم نہیں سمجھتا۔ لیکن ایک اہمیت جوان دونوں قسم کی اہمیتوں سے الگ اور زیادہ پائیدار ہے۔ وہ مجھے حاصل ہے اور وہ یہاں بہت سے ادیبوں اور سماج کے مختلف شعبوں میں اہم سمجھے جانے والے لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔

سوال: کیا آپ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی کریں گے جو آپ کو ’’اہم‘‘ بناتے ہیں؟
جواب: وہ میرا تخلیقی سفر ہے جو میں نے اردو شاعری اور افسانے میں کیا ہے اور جو ۱۹۶۰ء سے لے کر ۱۹۸۲ء تک جاری ہے اور ختم نہیں ہوا میں نے ایک سو سے زائد نظمیں بے شمار تنقیدی مضامین اور ۱۷ طویل و مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ ان دنوں ’’مکرچاندنی‘‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھ رہا ہوں۔ میری ایک کہانی کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

سوال: آپ کا اشارہ کہانی ’’مکھی‘‘ کی جانب ہے؟
جواب: جی ہاں! یونیسکو نے ۱۹۷۰ء میں ایک انتھولوجی شایع کی تھی۔ یہ مختلف زبانوں میں شایع ہوئی تھی۔ اس میں میری کہانی ’’مکھی‘‘ شامل تھی۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکیڈمی دہلی نے ’’ماڈرن شارٹ اسٹوریز‘‘ کے نام سے اپنے مجموعے میں میری بھی کہانی کو منتخب کیا تھا۔ یہ ایک بین الاقوامی اہمیت کا حامل انتخاب تھا۔ میری ایک نظم اور ایک کہانی علی گڑھ اور ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے ایسی کوئی اہمیت اختیار نہیں کی جو مشاعرے یا شوبزنس سے بنتی ہے۔ میں مشاعرے کو مجرا سمجھتا ہوں۔ میں نے شعر و ادب کے اعلیٰ منصب سے اپنا تعلق رکھا ہے۔ جلدی جلدی مشہور ہونے کے متعدد طریقے ہیں اور انہی طریقوں کو اختیار کرکے صہبا اختر جیسے لوگوں نے شہرت حاصل کی ہے۔ میں جو کچھ بنا ہوں اپنی ادبی کوششوں سے بناہوں۔ اور اس کے لیے میں نے زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ غیر مشروط طریقے سے گنوایا ہے۔

سوال: آپ نے مشاعرے کو مجرا قرار دیا ایک نقّاد مجھ سے کہہ رہے تھے کہ آپ اور آپ کے قبیل کے دوسرے جدید شعراء متروک مشاعرہ نہیں بلکہ تارک مشاعرہ ہیں۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
جواب: اصل بات یہ ہے کہ آدمی اپنی قدروقیمت خود متعین کرتا ہے اور اس کے لیے اسے کبھی کبھی قبیح تجربوں سے گذرنا پڑتا ہے ممکن ہے میں نے کسی مشاعرے میں شعر سنانے کی کوشش کی ہوگی۔ اور ہوٹ کردیاگیا ہوں گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میری آواز بری ہے، نہیں، میں مشاعرے میں شعر سنانے ہی کو برا سمجھتا ہوں۔ البتہ میں نے سمپوزیم اور سیمینار کی سطح پر سنایا ہے۔ مشاعرے کی پبلک کو میں مبصر نہیں سمجھتا۔ اس لیے اگر میں نے کسی مشاعرے میں کچھ سنایاہو تو یہ میری غلطی تھی۔
دنیا میں دو طرح کے روّیے پائے جاتے ہیں۔ کپتان کک جس نے ساؤتھ پول دریافت کیا تھا۔ اس مہم میں اسے اپنی جان بچانے کے لیے چوہے بھی کھانے پڑے تھے۔ لیکن اصل مقصد ساؤتھ پول دریافت کرنا تھا۔ ایک روّیہ کہے گا کہ کپتان کک نے چوہے کھائے تھے اور دوسرے روّیے کی زبانی کہا جائے گا کہ اس نے ساؤتھ پول دریافت کیا تھا۔ آدمی جب اعلیٰ ترین مقاصد کی طرف سفر کرتا ہے تو کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ اسے چوہے بھی کھانے پڑتے ہیں۔ یعنی قبیح تجربات سے گذرنا پڑتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قبیح تجربات کا عادی ہوجائے اگر میں نے کسی مشاعرے میں شعر پڑھنے کا قبیح تجربہ کیا ہے تو وہ چوہے کھانے کے مترادف ہے۔

سوال: میں نے پچھلے ہفتے قمر جمیل صاحب کا انٹرویو کیا تھا، آپ نے یقینا اس کا مطالعہ کیا ہوگا، اس انٹرویو پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟
جواب: اس انٹرویو میں غیر ضروری بقراطیت کی گئی ہے۔ اور اس بقراطی میں بھی نثری نظم کے بانی ہونے کا دعویٰ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ قمر جمیل یا تو شدید کمپلیکس میں مبتلا ہیں یا ان میں ادبی دیانت نہیں ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اردو میں نثری نظم لکھنے کا سب سے پہلے میں نے خطرہ مول لیا۔ تب افتخار جالبؔ، انیس ناگی، عباس اطہر جیسے حضرات ایسی نظمیں لکھ رہے تھے جن میں آہنگ نہیں ٹوٹتا تھا۔ انہوں نے نظم آزاد کی توسیع ضرور کی ہے۔ لیکن اردو میں پہلی بار ۱۹۶۱ء میں، میں نے نظموں کے مروّجہ آہنگ اور بحور کوتوڑا۔ اس زمانے میں، میں نے جتنی نظمیں لکھیں انہیں میں باطنی آہنگ کی نظمیں کہتا تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی کینٹین میں ایک بار میری انیس ناگی سے باقاعدہ بحث ہوئی۔ انیس ناگی نے میری نظموں کو سن کر ڈکٹیٹرانہ انداز میں کہا کہ اظہار کا کوئی تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اردو میں نثری شاعری کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’میں تو یہ تجربہ کروں گا اور یہ نظمیں چھپیں گی۔ لہٰذا میری نثری نظمیں ماہنامہ ’’نصرت‘‘ لاہور، سہ ماہی ’’سویرا‘‘ لاہور، ’’سات رنگ‘‘ کراچی، اور ’’تلاش‘‘ دہلی میں چھپیں۔ جس میں سے ۱۹۶۳ء کے ’’سویرا‘‘ میں چھپنے والی طویل نظم کی چند لائنیں میں آپ کو سناتا ہوں۔
ہم ہر پل کیا کچھ کھو دیتے ہیں۰۰۰
خود وچن دیتے ہیں۰۰۰پچھتاتے ہیں
فاسفورس اکارت جاتا ہے ہمارے اعصاب کا، تمام گتھیوں کا بھنور، مسلسل اٹوٹ۔
’’آپ بہت گہری دکھائی دیتی ہیں تو سوچتی کیوں نہیں! ڈوبتی حدود میں یوں ہی بیکار کھڑی ہمیں کیا بتا رہی ہیں۔ کھلے میدان کا وجود، میدان میں ان گنت میدان سارے سماگئے۔ سمائے ڈوبے اور ڈوبے تو پھر نہ نکلے۔
سفر میں شیشے کے آرپار کتنے سورج تھے؟ کتنی تھالیاں وہاں گریں جہاں کچھ حاشیے سے دکھائی دیتے تھے۔
م، ا کے گھر کے پیچھے ٹین کے ڈرموں کی قطاریں تھیں وہاں شام اُتر رہی تھی۔
صرف یہی نہیں کہ میں نے نظمیں لکھیں اور وہ چھپ گئیں، بلکہ اسی کو برقرار رکھتے ہوئے زمانے کے ایک عرصے پر پھیلانا۔ یہ کام کون کر رہا تھا؟

سوال: لاہور میں ایک شاعر ہیں مبارک احمد، ان کا دعویٰ ہے کہ سب سے پہلے نثری نظمیں انہوں نے لکھیں؟
جواب: (بگڑکر) بکواس کرتے ہیں، غلط کہتے ہیں۔ وہ تو ایک خبط الحواس شخص ہے۔ اس طرح تو بہت سے لوگ خدائی کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو سند پیش کریں۔ خلیل الرحمن اعظمیٰ کی ایک گفتگو ’’شب خون‘‘ میں چھپی تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سب سے پہلے نثری نظم احمد ہمیش نے لکھی۔ سلیم احمد جو کئی معاملات میں مجھے لعن طعن کرتے رہتے ہیں انہوں نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق کی ایک میٹنگ میں جہاں ن۔ م۔ راشد نے اپنی نثری نظمیں سنائی تھیں تو ضیاء جالندھری نے کہا تھاکہ آپ یہ کون سی نظمیں سنا رہے ہیں۔ یہ کام تو احمد ہمیش بہت پہلے کرچکے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو میں نے رشوت نہیں دی تھی۔ بلکہ انہوں نے اپنی ادبی دیانت کا اظہار کیا تھا۔

احمد ہمیش کی Profile | ریختہسوال: ان محرکات کی نشاندہی کرنا پسند کریں گے۔ جنہوں نے آپ کو نثری نظمیں لکھنے پر مجبور کیا؟
جواب: دراصل میرا شعری مزاج نثری شاعری سے ہم آہنگ تھا۔

سوال: کیا اس کی وجہ پابند شاعری میں ناکام ہوجانا تو نہیں تھا؟
جواب: میں نے دوسرے شعراء سے زیادہ پابند نظمیں لکھی ہیں۔ اور وہ اچھی بھی ہیں۔ میں نے غزلیں بھی کہی ہیں۔ لیکن میں اپنے مزاج کو نثری شاعری سے زیادہ قریب پاتا ہوں۔ نثری نظم میرا لباس ہے۔

سوال: قمر جمیل صاحب سے آپ کے ادبی اختلافات کی کیا نوعیت ہے؟
جواب: میں نے ۱۹۶۱ء میں اردو میں نثری شاعری کا ایک مکان بنایا۔ ۷۱۔ ۱۹۷۰ء کے عرصے میں قمر جمیل سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک دن مجھے غافل پاکر (آدمی پر غفلت کا لمحہ تو آتا ہی ہے) میرے مکان پر قبضہ کرلیا۔ اور اس پر اپنے نام کی تختی لگالی۔ نہ صرف یہ کیا بلکہ وہ اپنے چیلے چانٹوں کو بلانے لگے۔ یہ بتانے کے لیے کہ یہ مکان انہوں نے بنایا ہے۔ بس صرف اتنا سا کیس ہے۔ قمر جمیل بنیادی طور پر غزل کے آدمی ہیں لیکن ان کو اپنی زندگی میں بہت سے مغالطے ہوئے۔ جتنی نثری نظمیں انہوں نے لکھی ہیں، ان سب پر میری چھاپ ہے۔ اور یہ بات پروفیسر ممتاز حسین نے کہی۔

سوال: لیکن جہاں تک میں ے قمر جمیل صاحب کی نثری نظموں کا مطالعہ کیا ہے، آپ کا یہ دعویٰ مجھے درست دکھائی نہیں دیتا۔ قمر جمیل صاحب کانثری نظموں میں اپنا ایک علیحدہ اور منفرد لب و لہجہ ہے مثلاً ان کی نظم ’’بلیک کیٹ‘‘ یا اس طرح کی دیگر نظموں میں وہ کہیں بھی آپ کی نظموں سے متاثر نہیں ہیں۔
جواب: ممکن ہے ایک آدھ نظموں میں نہ ہوں لیکن ان کی نظم ’’جنگلی لڑکیوں‘‘ کے نام پر احمد ہمیش کی چھاپ واضح ہے۔

سوال: بہرحال۔ اب یہ بحث لاحاصل ہے۔ کیوں کہ ادب کے سنجیدہ قارئین اور نقادوں کی اکثریت نے تو نثری نظم کی تحریک کو ردکردیا ہے اور
جواب: (بات کاٹ کر) کسی بھی زبان میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی فارم کو لے کر تحریک چلائی گئی ہو۔ کیوں کہ تحریک تو نظریات آدرشوں اور آئیڈیلز پر چلائی جاتی ہے۔ نثری نظم کی تحریک کوئی تحریک نہیں ہے۔ اسے ہم زیادہ سے زیادہ رجحان کہہ سکتے ہیں۔ اس رجحان کو ایک شخص فروغ دیتا ہے۔ اور بہت سے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ شعر و ادب کے معاملے میں کامیابی یا ناکامی کا اس طرح تعین نہیں کیا جاتا۔ یہ نفع و نقصان کا کاروبار نہیں ہے۔ بلکہ پوری زندگی کا معاملہ ہے اس میں بھیڑ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہوتی۔ دو ایک آدمی ہوتے ہیں جو کسی عصری اہمیت کا پتہ دیتے ہیں اور اپنا رول ادا کرکے چلے جاتے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر ان کے رول میں واقعی کوئی خامی پائی جاتی ہے تو اس تجربے کو لوگ مسترد کر دیتے ہیں۔ اور اگر خامی دریافت نہیں ہوپاتی تو اس تجربے کو یاد رکھا جاتا ہے یا تاریخی حوالوں میں ذکر آتا ہے۔

سوال: نثری نظم کے حوالے سے ہی کہا جاتا ہے کہ اردو میں نثری نظم کو سجاد ظہیر نے متعارف کرایا تھا۔ اور ان کی کتاب ’’پگھلا نیلم‘‘ دراصل نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔
جواب: پہلی بات تو یہ کہ سجاد ظہیر ترقی پسندوں کی لابی سے تعلق رکھتے تھے۔ اور یہ لابی ہر ادبی کارنامے کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی مدعی ہوجاتی ہے۔ تاریخی واقعہ یہ ہے کہ ’’پگھلا نیلم‘‘ ۱۹۶۴ء میں چھپی تھی۔ جو نثری نظم نہیں۔ سپاٹ نثری خطابیے ہیں جبکہ میری نثری نظمیں ۶۳۔ ۱۹۶۱ء میں چھپ چکی تھیں۔ علاوہ ازیں ’’پگھلا نیلم‘‘ کی نظمیں یوں بھی شاعری نہیں کہی جاسکتیں کیوں کہ ان میں سے ایک نظم بھی پڑھنے والوں کو ہانٹ نہیں کرتی۔

سوال: اگر شاعری کے لیے قاری کو ہانٹ کرنے کی شرط ہی اصل معیار ہے۔ پھر تو آپ کی نثری نظمیں بھی شاعری نہیں ہیں کہ یہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی صاحب کو ہانٹ نہیں کرتیں۔
جواب: ہندوستان میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو وزیرآغا اور احمد ندیم قاسمی کو شاعر ہی تسلیم نہیں کرتی۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ وزیرآغا ’’اوراق‘‘ میں احمد قاسمی صاحب ’’فنون‘‘ میں نثری نظمیں نہیں چھاپیں گے تو اس کی ایک مثال یہاں پر دینا چاہوں گا۔
کچھ عرصے پہلے اخباروں میں خبر چھپی تھی کہ فلپائن کے جنگلوں میں ایک فوجی باقاعدہ اٹین شن کی حالت میں ایک درخت کے اوپر بندوق لیے کھڑا تھا، اسے کچھ لوگوں نے دیکھا اور پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ دوسری جنگِ عظیم کے وقت سے اس درخت پر اسی حالت میں کھڑا ہے اور منتظر ہے کہ حکم ملے تو دشمن پر گولیاں برسائے۔ لیکن آرڈر کون دیتا کہ جنگ تو ختم ہوچکی تھی۔ شعر و ادب کی فیلڈ میں بھی کچھ لوگ اسی فوجی کی مثال یاد دلاتے ہیں کہ زندگی بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے اور وہ آرڈر کے منتظر ہوتے ہیں بہت سے ادبی تجربات کا سفر دور نکل جاتا ہے لیکن لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا۔

سوال: آپ کی دی گئی مثال کویوں بھی تو بیان کیا جاسکتا ہے کہ دراصل وہ فوجی آپ ہیں جو ہاتھ میں نثری نظم کی بندوق لیے کھڑے ہیں۔ حالاں کہ زندگی بہت آگے نکل چکی ہے۔
جواب: یہ مثال نہیں دی جاسکتی کیوں کہ دنیا کی کسی زبان میں نثری شاعری کے بعد کوئی ایڈوانس تجربہ اب تک نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ افسانے میں تجربات کیے گئے ہیں میں نے خود افسانے میں اظہار کا تجربہ کیا ہے۔

سوال: آپ کی مراد ان علامتی افسانوں سے ہے جن کا عام قاری تک ابلاغ ہی نہیں ہوتا؟
جواب: میرا کوئی افسانہ ایسا نہیں ہے جو عام قاری کی سمجھ میں نہ آتا ہو۔ میں نے ’’مکھی‘‘ سے لے کر ’’کہانی مجھے لکھتی ہے‘‘ تک جو کچھ لکھا ہے اس میں، میں نے کہانی بیان کی ہے اور کہانی لکھتے ہوئے جو زندگی میں نے گزاری ہے اس کا اظہار کیا ہے۔ بعض افراد جس طرح کیمرہ کالنش ہوتے ہیں اسی طرح بعض ادیب ادب میں چلنے والے مختلف رجحانات سے کانشس ہوکر لکھتے ہیں۔ میں نے اس طرح کبھی بھی نہیں لکھا۔

سوال: آپ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انورسجاد، انیس ناگی، رشید امجد، مرزا حامد بیگ یا اس قبیل کے جتنے افسانہ نگار یا ناول نگار ہیں وہ فیشن کے تحت لکھ رہے ہیں؟
جواب: امریکہ میں ایک چلن عرصے ۰۰۰ سے رہا ہے کہ وہاں ہر تین یا چار سال کے بعد مختلف شعبوں میں رجحانات بدلتے رہتے ہیں، ادب میں بھی لوگ زبردستی رجحانات بدلتے ہیں اور چار سال پرانے ادیبوں کو آؤٹ ڈیٹیڈ کہتے ہیں لیکن حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں ہے اور خاص طور پر ادب و آرٹ کے میدان میں زندگی جتنے تجربوں سے گزری ہے، وہ سارے تجربے غیر مشروط ہوتے ہیں۔ وہ رجحان کمٹمنٹ کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ جینوئن ادیب، شاعر اور فن کار زیادہ تر سیلف کمیٹڈ ہوتے ہیں۔ انور سجاد اور انیس ناگی وغیرہ کی لابیاں ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ انور سجاد کو میں کہانی کار مانتا ہی نہیں ہوں۔ انور سجاد ایک فراڈ ہے۔ اسے کہانی لکھنی ہی نہیں آتی۔

سوال: اگر انور سجاد کہانی کار نہیں ہے تو آپ نے اپنے مرتب کردہ انتخابِ عصرِ حاضر کی بہترین کہانیوں میں ان کی کہانی کیوں شامل کی؟
جواب: میں نے اس انتخاب میں انور سجاد کی ایسی کہانی شامل کی ہے جو کہانی سے کچھ کچھ قریب ہے۔ لیکن بحیثیت مجموعی وہ کہانی کار ہی نہیں ہے۔

سوال: آپ انور سجاد پر بہت بڑا الزام عائد کر رہے ہیں اتنابڑا الزام تو آج تک انتظار حسین نے بھی انور سجاد پر عائد نہیں کیا حالاں کہ وہ مخالف پول کے آدمی ہیں؟
جواب: اس میں بہت سی ذاتی باتیں آجائیں گی، لیکن یہ سچ ہے کہ انتظار حسین ایک ڈرے ہوئے آدمی ہیں اور مقامی مصلحتوں کا شکار ہیں۔ میں انتظار حسین کو کہانی کار تو مانتا ہوں لیکن وہ کہانی میں اس ماضی کو لکھتے ہیں جس کا ہندوستان میں کہیں وجود نہیں ہے۔

سوال: کیا آپ یہ دعویٰ انتظار حسین کا ’’زرد کتا‘‘، ’’آخری آدمی‘‘، ’’جو کھوے گئے‘‘، جیسی شاہکار کہانیوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کر رہے ہیں؟
جواب: یہ ساری کہانیاں فرانز کافکا کی نقل میں لکھی گئی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انتظارحسین کو عصری شعور نہیں ہے۔ وہ کرنٹ حقائق سے لاعلم ہیں۔ انسان کس طرح زندگی گزار رہا ہے وہ نہیں جانتے۔

سوال: لیکن آپ نے فرانز کا فکا کو انتظار حسین سے کہاں بھڑادیا؟
جواب: آپ نے زرد کتا کی مثال دی۔ اس میں جس طرح سے کہانی بیان کی گئی ہے وہ تمثیلی ہے۔ اس کا محرک ہی کافکاؔ تھا اور کافکاؔ کے اثرات کس پر نہیں پڑے ہیں پروفیسر احمد علی بھی متاثر ہیں۔ کافکاؔ نے جیسی کہانیاں لکھیں اسی طرح کی زندگی گزاری ہر آدمی کو وہی بننا چاہیے جو وہ ہے یا جو وہ بن سکتا ہے۔ انتظار حسین کو جتنا بننا تھا وہ بن چکے۔ کیوں کہ وہ آج تک مراجعت کی تکرار میں مبتلا ہیں۔

سوال: میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ انتظار حسین نے اردو افسانے کو جتنی اچھی کہانیاں دی ہیں کیا آپ نے اتنی یا اس سے زیادہ اچھی کہانیاں تخلیق کی ہیں؟
جواب: یہ بات آپ نے نقادوں اور قارئین کی پسندیدگی کے حوالے سے کہی ہے اس طرح یہ بات تو نقادوں نے میرے لیے بھی کہی ہے۔

سوال: مثلاً نقادوں کے نام لینا پسند کریں گے؟
جواب: جی ہاں! مثلاً شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر گوپی چندنارنگ، آل احمد سرور، چوہدری محمد نعیم کئی نئے نقاد بھی ہیں جن کے نام میں بھول رہا ہوں۔

سوال: یعنی ان نقادوں کی رائے ہے کہ انتظار حسین احمد ہیش سے چھوٹے افسانہ نگارہیں؟
جواب: اس طرح تو انہوں نے موازنہ نہیں کیا ہے لیکن یہ میں کہہ رہا ہوں جب میں ہندوستان میں منعقد ہونے والے اردو افسانہ کے سیمینار میں گیا تھا تو انتظار حسین کے بارے میں میں نے وہاں یہی تاثر پایا۔ ہندی اور بعض دوسری زبانوں کے بہت سے جینوئن ادیب مثلاً سیکنہ سردیشور دیال نے کہا کہ انتظار حسین جو کچھ لکھتے ہیں وہ کلیشے ہے اور ایسا ہندوستان تو ہندوستان میں موجود ہی نہیں ہے جس کو انتظار حسین اپنی کہانیوں میں لکھتے ہیں اور جس قسم کی حکایتی زبان وہ استعمال کرتے ہیں وہ ہندی یا مراٹھی میں پہلے ہی لوگ لکھ چکے ہیں۔

سوال: کیا سیکسنہ سردیشور دیال جو یقینا بہت بڑے ادیب ہیں یہ نہیں جانتے کہ ادیب بعض اوقات گزرے ہوئے زمانے کی بازیافت بھی کرتا ہے اور اسے
جواب: (بات کاٹ کر) ان کا کہنا تھا کہ ادیب کو ماضی کا صحیح شعور ہونا چاہیے۔ ماضی کو بیان کرنا اور ماضی کا شعور رکھنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

سوال: براہِ کرم کسی ایسے ادیب کا حوالہ دیں جسے ماضی کا صحیح شعور ہو؟
جواب: میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انتظارحسین کے بہت بعد کے لکھنے والوں کو ماضی کا شعور ہے۔ ماضی کے شعور سے مراد یہ ہے کہ ماضی سے آپ گائیڈ لائن لے سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جس زمانے میں آپ رہ رہے ہیں ان تقاضوں سے ماضی کو کس طرح مربوط اور ہم آہنگ کرتے ہیں جس چیز کی زندگی میں ضرورت نہیں ہے۔ انتظار حسین اس کا رٹا لگارہے ہیں۔ وہ جس نیم کے درخت کو دکھاتے ہیں اس نیم کے درخت کی جگہ اب سڑک بن گئی ہے اور ٹرک دوڑ رہے ہیں۔

سوال: انتظار حسین اسی المیے کو تو بیان کرتے ہیں کہ نیم کے گھنے سایہ دار درخت کٹ گئے ہیں اور اس کی جگہ ٹرکوں کا بے معنی، تھکا دینے والا شور گونج رہا ہے۔ یعنی زندگی میں آنے والی تبدیلی مثبت نہیں منفی ہے۔
جواب: یہ ماضی سے فرار ہے۔ آدمی جب حال سے ایڈجسٹ نہیں کرپاتا تو وہ پرانے سکے چلانا چاہتا ہے۔ حالاں کہ سکے بدل چکے ہیں۔ عصری شعور یہ ہے کہ جو آدمی گلی میں جا رہا ہے وہ بیمار ہے لیکن انتظار حسین لاہور میں اپنے مکان کی کھڑکی سے اس آدمی کو دیکھنا نہیں چاہتے جو میو ہسپتال جارہا ہے۔ یا ان کا موضوع وہ آدمی نہیں ہے جو پولیس مقابلے میں مارا جاتا ہے۔ انتظار حسین کا موضوع کیا ہے؟ برآمدوں میں ٹہلنے والا مور، اسے دیکھ کر وہ بہت انسپائر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد کے حصار سے نہیں نکلے ہیں۔

سوال: بحث بہت طویل ہوجائے گی۔ مختصراً اتنا بتا دیجیے کہ آپ انتظار حسین میں جن کمیوں کا ذکر کر رہے ہیں وہ آپ کو کس افسانہ نگار میں پوری ہوتی نظر آتی ہیں؟
جواب: یہ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا ہوں۔ اس لیے کہ ذاتی طور پر میری جو سب سے بڑی تکلیف ہے وہ یہ کہ میں بحیثیت کہانی کار (میں یہ دعویٰ نہیں کررہا کہ مجھے ماضی کا شعور حاصل ہے) ماضی کو سامنے رکھ کر جب اپنے حال میں سفر کرتا ہوں تو میں بہت سے چیلنج کو اپنے سامنے، اپنے اردگرد پاتا ہوں۔ میں ہر چیلنجز سے لڑنا چاہتا ہوں اس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کماحقہ لڑ نہیں پاتا اور یہ پیاس مجھے مرتے دم تک رہے گی کہ میں اپنے زمانے کے بہت سے چیلنج سے نہیں لڑسکا۔ صرف اتنا ہی اطمینان کافی رہتا ہے کہ کم از کم مجھے یہ تکلیف تو ہے کہ جب کہ سچی بات یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں اس وقت ادب و فن کا اب صرف دفتری اور سماجیاتی رول باقی رہ گیا ہے جیسے خانہ پُری کرنے کا انداز ہوتا ہے۔ ادبی سماجیات کا بازار ہر جگہ گرم ہے مگر سوشل چیلنج یا کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے سب پر نامردی مسلط ہوگئی ہے میں ایسی مثالیں دے سکتا ہوں۔ شاعر و ادیب اب دونوں ملکوں میں ہر جگہ سماجی اور سیاسی سطح کی حق تلفی میں منافقانہ طور پر شریک رہتے ہیں اور تعاون کرتے ہیں۔ مختلف ادیبوں سے مال کماتے ہیں۔

سوال: آپ نے یہ موضوع چھیڑ کر میرے لیے آسانی پیدا کردی ہے کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ اس موضوع پر میں آپ کی ذات کے حوالے سے کچھ سوالات کروں۔ پاکستان و بھارت کے ادبی رسائل و اخبارات میں یہ خبریں نہایت طمطراق سے چھپیں کہ آپ صلاح الدین پرویز نامی ایک شخص سے روپیہ لیتے رہے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق اس خط سے بھی ہوتی ہے جو آپ نے صلاح الدین پرویز کو لکھا اور اس ڈرافٹ سے بھی جو اس شخص نے آپ کے نام بھیجا۔ کیا ان افسوسناک حقائق کی موجودگی میں آپ کا دوسرے ادیبوں کی آنکھ میں تنکا تلاش کرنا درست کہا جاتا ہے جب کہ آپ کو خود اپنی آنکھ کا شہتیر دکھائی نہیں دے رہا ہے؟
جواب: (چہرہ متغیر ہوجاتا ہے اور اُٹھ کر ٹہلنے لگتے ہیں) میں اس کا جواب حقائق کی روشنی میں دوں گا میں زندہ ہوں مرا نہیں ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ صلاح الدین پرویز میرے اشاعتی مکتبہ سے اپنی کتابیں چھپوانا چاہتا تھا اور اس سلسلے میں اس نے مجھے اپنی کتاب چھپوانے کے لیے قسط وار پانچ سو روپے کے حساب سے چند مہینوں تک کچھ رقم ضرور دی۔ اور میری الماری میں اس کا کتابت شدہ مسودہ اب تک موجود ہے۔ بات یہ ہے کہ اس کے مذموم مقاصد کا مجھے شروع میں علم نہیں تھا۔ میں اِسے ایک معصوم آدمی سمجھتا تھا۔ لیکن بہت جلد ی مجھے معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف فراڈ ہے بلکہ بیشتر و ڈالر کی لابی کاآدمی ہے۔ اس انکشاف کے بعد میں نے اس کی رقم واپس کردی اوراس کا سارا واقعاتی حال ہندوستان و پاکستان کے اخبارات و رسائل میں درج ہے صلاح الدین پرویز ادیب ہے نہیں بلکہ ہندوپاکستان کے نامور ادیبوں کو اپنی دولت کے ٹریپ میں پھانسنے کی کوشش کرتا رہا ہے میں اس ٹریپ میں پھنستے پھنستے رہ گیا لیکن پھنسا نہیں۔

سوال: ہمیں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ جب وعدے کے مطابق اس نے آپ کو مقررہ رقم نہیں دی تو آپ اس کے خلاف ہوگئے؟
جواب: یہ بات غلط ہے، بات یہ ہے کہ میری جینوئن ادبی صلاحیتوں سے لوگ جلتے ہیں تو اس قسم کی نجی باتوں کو لے کر میرا امیج بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ میں کچھ چھپاتا نہیں ہوں۔ جو کچھ گزرتی ہے دنیا کو بتادیتا ہوں چوں کہ وہ مجھے ادب کے میدان میں نہیں مارسکتے تو مجھے ذیلی سماجی معاملات میں الزام لگا کر مارنا چاہتے ہیں۔

سوال: سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنے روپیے پیسے کے معاملات اتنے گڑبڑ کیوں کر رکھے ہیں؟
جواب: دنیا میں کون ایسا آدمی ہے جسے زندگی گزارتے ہوئے کوئی قبیح تجربہ نہ ہوا ہو اور پھر گڑبڑکیا؟ مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔ اس معاشرے میں جہاں اسمگلنگ اور بڑے بڑے ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں کا خون چوس چوس کر ہزاروں روپے کے پلاٹ خرید خرید کر بڑی بڑی عمارتوں میں رہ رہے ہیں جن کے گھر غیر ملکی سازوسامان سے بھرے پڑے ہیں۔ ناجائز ذرائع سے مال کما رہے ہیں۔ میں نے تو ان کے مقابلے میں رقم حاصل کرنے کے لیے جائز ذرائع اختیار کیے۔ ریڈیوپاکستان میں ایک کنٹریکٹ کے عوض مجھے اتنی محدود رقم ملتی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کرسکتا۔ شرم آئے گی سن کر، میں نے اپنے بال بچوں کی پرورش کے لیے ایک مکتبہ قائم کیا کون سی غلطی کی؟ کنٹریکٹ پر کتابیں چھاپ رہا ہوں۔

سوال: دیکھیے نا! دنیا کے بیشتر ادیبوں اور شاعروں کا مالی پہلو تو ہمیشہ ہی سے کمزور رہا ہے۔ خواہ وہ دوستو فیسکی ہوں، مرزا غالبؔ، لیکن یہ تو اپنی مالی ضرورتوں سے بے نیاز رہے ہیں۔ اور اسی کسمپرسی کی حالت میں ان لوگوں نے بڑاادب تخلیق کیا ہے؟
جواب: میرا بھی مجموعی روّیہ یہی رہا ہے آپ دوستوفیسکی یا ٹالسٹائی کی مثالیں دیں گے۔ لیکن ان سب نے اپنی جنیوئن ضرورتوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے۔ مکتبہ قائم کرنا اسمگلنگ کا کاروبار نہیں ہے۔ میں علامہ اقبال کا حوالہ دیتا ہوں کہ نواب بھوپال ان کو وظیفہ دیتے تھے اور علامہ ااپنے خطوں میں ان کا شکریہ ادا کرتے تھے۔ لیکن نواب بھوپال وضعدار آدمی تھے وہ صلاح الدین پرویز نہیں تھے۔

سوال: تو آپ نے صلاح الدین پرویز کو نواب بھوپال سمجھ کر رابطہ قائم کیا تھا؟
جواب: نہیں یہ مثال غلط ہے۔ میں نے ان کی کتاب چھپوانے کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن ان کی شرائط عجیب وغریب تھیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں قرۃ العین حیدر، پریم چند اور کرشن چندر کو زیرو کرکے انہیں سب سے بڑا ادیب قرار دے دوں۔ میں نے یہ ماننے سے انکارکردیا۔

سوال: یہ بھی افواہ ہے کہ آپ کو ایک پڑوسی ملک کی لابی سے پیسہ ملتا ہے۔
جواب: اولاً تو یہ سراسراتہام ہے لیکن عملی طور پر بھی دیکھا جائے تو بھائی اگر کسی شخص کو کسی سے پیسہ ملتا ہے۔ تو اس کی کچھ جھلکیاں اس کی زندگی میں بھی نظر آنی چاہئیں اگر مجھے پیسہ ملتا، پھر تو مجھے کچھ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مکتبہ قائم کرنے اور ریڈیو پر کام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

سوال: اگر آپ مکتبہ قائم نہ کریں اور ریڈیوسے ملازمت بھی چھوڑ دیں۔ پھر تو یہ الزام خود بہ خود ثابت ہوجائے گا۔
جواب: کیا مطلب؟

سوال: یہی کہ لوگ سوچنا شروع کر دیں گے کہ آپ کے پاس اخراجات کے لیے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟
سوال: (افسردہ ہوکر) آپ بالکل غلط باتیں کر رہے ہیں۔ حقیقتاً پھر بھی حالت تباہ ہے۔ میرے گھر کا خرچ اٹھارہ سو روپے کا ہے۔ ریڈیو سے مجھے چند سو روپے ملتے ہیں موجودہ گراف کو دیکھتے ہوئے میں نے کتابیں چھاپنی شروع کیں۔ ان کے اشتہارات کے لیے سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہوںاس کے باوجودہر مہینے اپنے گھر کا بجٹ فیل پاتا ہوں۔ بارہ سو اور کبھی ۱۴؍سو رپے گھر دیتا ہوں۔ اورمقروض رہتا ہوں۔ میرے گھر میں فریج، ٹی وی، اور کوئی ساز و سامان نہیں ہے۔ ضرورت کی چیزیں بھی نہیں ہیں۔ میرا اکاؤنٹ چیک کرلیں۔ ایک دھیلا نہیں ہے۔ لوگ آکر میرے ساتھ ۲۴گھنٹے گزار لیں اور میری زندگی کو دیکھ لیں اور مجھے یہ حق دیں کہ میں اُنہیں شرمندہ کرسکوں۔ طاہر؟ چار سال پہلے میں نے ایک ادبی رسالے کے لیے ڈیکلریشن کی درخواست دی تھی۔ یہ میرا جینوئن حق تھا کہا گیا کہ نیا ڈیکلیئریشن نہیں دیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک ایکٹر طارق عزیز کو پندرہویں صدی کا ڈیکلیئریشن دے دیاگیا۔ کس گراؤنڈ پر دیا گیا؟ کیا میرے حقوق نہیں ہیں۔ کیا میں ٹیکس ادا نہیں کرتا؟زندہ رہنے کی سہولتیں کیوں نہیں ملتیں؟ ادھر آؤ میں تمہیں دکھاؤں۔ (روٹی کے ڈھیرکو دکھا کرکہا) بیوی کل کہہ رہی تھی کہ سردیاں آرہی ہیں یہ روٹی ہے۔ انہیں لحاف میں بھروا دو لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔
(جسارت اخبار، ادبی ایڈیشن، ۵؍نومبر۱۹۸۲ء)
بشکریہ: اسامہ صدیقی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply