میونخ کی غم انگیز دوپہروں سے —- کومل راجہ

0

عزیزانِ من!

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں

شب غم میں گھلتے ہمارے ظلمت کدے پر روشنی کی شال اوڑھے جو سحر نمودار ہوئی توچلمنوں کی اوٹ سے برستی بارش دکھائی تو دی مگر سنائی نہ دی۔ برسن کا یہ طور اس قدر خاموش اور متوازی تھا کہ نہ ہوا کا زور نہ برسنے کا شور۔ یوں گمان ہوا گویا سارے میں فلک سے زمیں تلک چمکیلے باریک دھاگوں کی عمودی قطاریں اتر رہی ہوں۔ دریچوں پر بھی بارش کا کوئی نشان کوئی قطرہ تک موجود نہ تھا جب کہ بارش لگاتار برس رہی تھی۔ گویا گلزار کی ایک نظم کی چند سطریں آج ہم نے نہ صرف محسوس کیں بلکہ دیکھ بھی لیں۔

” یہ بارش
گنگناتی تھی
اسی چھت کی منڈیروں پر
یہ گھر کی کھڑکیوں کے کانچ پر
انگلی سے لکھ جاتی تھی
سندیسے
بلکتی رہتی ہے بیٹھی ہوئی اب
بند روشندانوں کے پیچھے”

کہ پردیس کی بارشوں میں نہ تو کوئی دستک سنائی دیتی ہے نہ کوئی سندیس آتا ہے۔

نہ گلیوں میں لگی کوئلے کی بھٹیوں میں کوئی دانے بھونتا ہے نہ برآمدوں میں گرم چائے کی پیالیوں کی کھنک سنائی دیتی ہے، نہ پکوڑوں کی خوشبو آتی ہے نہ گیلی لکڑیوں کا دھواں۔ ایک سرد دھندھ چھائی رہتی ہے فضا میں بھی اور دل میں بھی۔

خیر!

اپنی زلفیں اپنے ہی کاندھوں پر پریشان کیے ہم نے رات بھر پُر سکون اور بڑی میٹھی نیند کیا کی مگر پھر بھی دل میں کہیں نہ کہیں تنہائی میں کاٹی شب غم کا خاموش سا اثر موجود تھا جسکی شدت کو بڑھاوا آج کے ابر آلود موسم نے دیا تھا۔

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

اپنی حالتِ حال کو آواز و الفاظ میں ڈھالنے کے لیے ہم نے ورثہ ھیریٹیج کےپروگرام غالبستان (یہ ترا بیان غالب) کا ریکارڈ فون پر چلا لیا (اگلے زمانے میں ریکارڈ گراموفون پر چلا کرتے تھے آج کے زمانے میں آئی فون پر بھی چل جاتے ہیں۔ ) جیسے جیسے پروگرام آگے بڑھتا گیا ہماری حالت مزید غیر ہوتی گئی بلکہ بقول جون ایلیا

ع حالت دل کی تھی خراب اور خراب کی گئی

اس سے پہلے کہ حنا نصراللہ غزل گانا شروع کرتیں، یوسف صلی نے ایک قصہ سنایا جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ غزل دہلی میں مزارِ مرزا نوشہ پر بیٹھ کر کمپوز کی گئی اور وہیں پر پہلی بار اس کمپوزیشن کے ساتھ گائی بھی گئی۔ جب حنا نصراللہ نے گانا شروع کیا

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں

توجذب و مستی کی ایک ایسی لہر نے ہم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ پہلے تو ہم مرزا نوشہ کو منوں مٹی تلے دفن تصور کر کے آبدیدہ ہوگئے پھر ہمیں زندگی کی بے ثباتی کا شدت سے احساس ہوا۔ احساس کے اس گھیرے نے ہمیں افسردگی کی ہر منزل پار کراتے ہوئے نائہلیزم کے در پر لا کھڑا کر دیا۔ جہاں کبھی نہ ختم ہونے والے ان سوالوں کا وحشت انگیز بسیرا رہا جنکا جواب دینے میں کئی فلسفلی ہلکاں ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ ہاں وہی ایگزسٹینشئیل (وجودی) سوال کہ ہم کون ہیں، زندگی کیا ہے، معنویت کیا ہے، مقصد ِ حیات و کائنات کیا ہے، خوشی کیا غم کیا ہے، انسان کی پیدائش کا پیٹرن کیا ہے۔ احساساتی سچ کیا صرف فرصت کے لمحات کا سچ ہے ؟کائناتی سچایئوں کی وسعتوں میں انفرادیت کا کیا مقام ہے، وغیرہ۔ ایسے ہی فکر اینگیز سوالوں کے بیچ سمجھ بوجھ کی نہ ہموار پینگ اُمیدی و نا امیدی کے جھولے جُھولتی رہی اور ہم مختلف گلوکاروں کے ساتھ ساتھ ریکارڈ پر بجتا کلامِ غالب گنگناتے رہے۔

ع غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج

ایسے میں ہمیں ہمارے ابا جان کی یاد بھی ستانے لگی جن کو اس دنیا سے پردہ کیے، ہم سے بچھڑے تین برس ہو چکے۔ ابا مرحوم کی یاد نے جب ہمیں خوب رلا لیا توتسلی دل کے واسطے بھی غالب کے ہی اشعار کام آئے۔

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
حوران خلد میں تری صورت مگر ملے

خیر خود کو سوختہ سری کے چنگل سے کھینچ باہر کرتے ہوئے ہم نے کلام غالب میں پژمردگی و افسردگی محسوس کرنے کے بجائے انکی شاعری کے لسانی اور جمالیاتی پہلوؤں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ غالب کے یہاں ہمیں اردو زبان کا انتہائی پیچیدہ، خوبصورت اور شوخی سے بھر پور زخیرہ الفاظ ملتا ہے۔ اگر دماغ کے کچھ حصوں مثلا” امگڈلا، سیریبلم وغیرہ (جنکی زمہ داری ایموشنز کو ریگولیٹ کرنا، انفارمیشن کو پراسیس کرنا اور معنی کے اعتبار سے مضامین کی سینس مینکینگ کرنا ہے) کو نظر انداز یا میوٹ کر کے شعر کی شعریت کو صرف زبان کے استعمال، الفاظ کے چناؤ اور اس سے پیدا ہونے والی آواز اور تصویر کودیکھ کر کیا جائے تو یقین جانیے شاعری پڑھنے اور سننے کا جو لطف اس تجربے سے حاصل ہوتا ہے وہ کلامِ غالب جیسی شاعری کو اپنی ذاتی حالتِ زار کے ساتھ جوڑ کر محسوس کرنے سے ہر گز حاصل نہیں ہوتا۔ یہ تو بڑے کلام کو برتنے کی سراسر رِڈکشنسٹ اپروچ ہے۔

خیرایسا کرنے سے کرب و لذت کے امتزاج سے پُر ایک ایسی کیفیت ہم پر طاری ہو گئی جسکا سراغ جرمن نفسیاتدان سگمنڈ فرائیڈ کے پرنسپل آف پَین اینڈ پلیئر میں بھی ملتا ہے

کہ ہم ہر مصرعہ پر اپنی حسرتوں کا ماتم کرنے کے بجائے سر دھنتے چلے گئے۔ بقول غالب

ع عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

پروگرام میں شامل چند مہمانانِ گرامی کی گفتگو کے ساتھ ساتھ ہم مختلف گلوکاروں کی آواز میں یوسف صلی کی کمپوز کردہ غالب کی غزلیں سنتے اور سر دھنتے رہے اور یوں ہمارا ظلمت کدے کی تاریکیوں سے نکلا افسردہ دن اردو زبان کی شوخیوں، نصیر الدین شاہ کی گفتگو، یوسف صلی کی کمپوزیشنوں اور اردو شاعری کی خوشبو سے معطر روشن کدے میں تبدیل ہو گیا۔ ریکارڈنگ کے اختتام پر ہی ہم نے اپنے اس تجربے کو تحریری شکل دے کر یوسف صلی صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے کا ارادہ کر لیا کہ انکی ایسی کاوشوں کی وجہ سے آج اپنے دیس سے کوسوں دور بیٹھی ایک تنہا لڑکی کا افسردہ دن کیسے جمالیاتی اعتبار سے بھرپور شاعری و موسیقی میں گندھا ہوا ایک خوشگوار دن بن گیا اور میں یہ چٹھی ایک ایسی جگہ بیٹھ کر تحریر کر رہی ہوں جو میری اب تک کی اس شہر کی دیکھی تمام جگہوں میں سب سے خوبصورت ہے۔ یہ میونخ کے شمال مشرق میں واقع ‘کلایئن گارتن فرائین’ یعنی چھوٹے باغات کا الاٹمنٹ کلب ہے جہاں ہر طرف چھوٹے چھوٹے خوبصورت باغات کا ایک چمنستان بنا ہوا ہے۔ جس قدر یہ ماحول پرفضا اور خوبصورت ہے اس قدر ہی سرشار میں اب خود کو اندر سے محسوس کر رہی ہوں۔ اگر یہ میرا کھلا پَتر کبھی یوسف صلی تک پہنچ پایا تو مجھے خوشی ہوگی۔ ڈاک کے ہرکاروں اور نامہ بروں کا زمانہ نہ رہا ورنہ ہم بھی کبھی مرزا نوشہ کے اس شعر کا حقیقی معنوں میں لطف اٹھاتے۔

دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے

طالبِ دُعا
کومل راجہ
وِلی گراف ستراسے ۲۱
۸۰۸۰۵
میونخ، جرمنی            ۲۵ ستمبر ۲۰۲۰

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply