اسلامی فیمنزم : مصر، ترکی اور ایران میں تانیثی رجحانات (2) —- وحید مراد

0

اسلام اپنے ابتدائی دور میں جن علاقوں تک پھیلا اور وہ اسلامی خلافت و تہذیب کا حصہ بنے ان میں عراق، شام، ایران، ترکی اوردیگر عرب ممالک شامل تھے۔ ان ممالک کی زبان، تاریخ اور ثقافتوں میں تنوع پایا جاتا تھا لیکن مضبوط مذہبی شناخت نے انہیں تہذیب اسلامی کا حصہ بنا دیا۔ یہ تہذیب چودہ سو سال سے اس خطے میں قائم ہے اور آج بھی اسکے غالب اثرات موجود ہیں۔ یہ خطہ منگولوں کے حملوں سے لیکر برطانوی، فرانسیسی، اطالوی اور دیگر یورپی سامراجی طاقتوں کے فوجی تسلط کے دوران سیاسی اور معاشی طورپر تو متاثر ہوا لیکن کوئی بڑی تہذیبی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ لیکن پچھلی نصف صدی میں تیل کی دریافت کے بعد جدیدکاری اور ترقی کے عمل نے سماجی، سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ تعلیم، ملازمت اور کاروبار کی غرض سے مغربی ممالک میں رہائش اختیار کرنے اور وہاں سے پلٹ کر واپس آنے والے لوگوں نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔

مغرب کی ترقی سے متاثر حلقے مسلم ممالک میں بھی سماجی و معاشرتی تبدیلی کیلئے ماڈرن ازم، سیکولرازم، لبرل ازم اور فیمنزم جیسی آئیڈیالوجیز کو اپنانے پر زور دیتے ہیں اس لئے اس وقت ان معاشروں میں ہونے والے مباحثوں کا یہ اہم موضوع ہیں۔ مسلم معاشروں میں خواتین نے صنفی مباحث اور سماجی و سیاسی جدوجہد میں جو فعال کردار ادا کیا ہے وہ بھی مغرب سے درآمد شدہ آئیڈیالوجیز کے زیر اثر رہا ہے۔ اسلامی فیمنزم ان میں بالکل نیا رجحان ہے جو سیکولرازم اور اسلامی معاشرت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن مغرب اور مشرق میں عورت کے مختلف کردار کی وجہ سے اسلامی فیمنزم اور مغربی فیمنزم کا رشتہ بہت پیچیدہ ہے۔ جب مغرب کے فیمنسٹ آئیڈیلز اور آئیڈیالوجی کو مسلم معاشروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ رشتہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

اسلامی فیمنزم، یورپ اور امریکہ کے فیمنسٹ اسکالر ز اورایسٹرن اسٹڈیز کے ماہرین کی ایجاد ہے۔ اس میں ان مسلم خواتین اسکالرز کا کام بھی شامل ہے جو وہاں کی یونیورسٹیوں سے منسلک ہیں۔ مسلم ممالک میں پچھلے دو تین عشروں سے مقامی یونیورسٹیوں کے سوشل سائنسز، وومن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے پروگرامز سے فارغ التحصیل اور سیاسی خانوادوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی اس تحریک کوآگے بڑھا رہی ہے۔ اس مضمون میں ترکی، مصر، ایران اور عرب ممالک میں تانیثی رجحانات کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

مصر میں فیمنسٹ رجحانات:
1798 میں نپولین بونا پارٹ کی زیر قیادت مصر پر فرانسیسی یلغار نے نمایاں معاشرتی اثرات مرتب کیے۔ فرانسیسی فوجی افسران سے مصری خواتین کی شادیوں کے بعد انکے کردار اور ثقافت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ 1805 میں فرانسیسی حکمرانی کے خاتمے پر البانوی نژاد عثمانی وائسرے جنرل محمد علی پاشا کو تعینات کیا گیا۔ انکے دور اقتدار میں مصر میں جدید اصطلاحات کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں صنعت کاری، عام تعلیم اور تعلیم نسواں وغیرہ شامل تھی۔ محمد علی کے بعد اسکے بیٹوں اور خاندان میں یہ سلسلہ حکمرانی 1953 تک قائم رہا۔

اسماعیل پاشا کے دور میں مصری معاشرے اور خواتین میں مزید تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ 1873 میں انکی اہلیہ جاشم عفت (Jashem Afet Hanum) نے امیر خاندانوں کی لڑکیوں کیلئے باقاعدہ اسکولز کا آغاز کیا جنکی تعلیم خانہ داری اورگھریلو امور تک محدود ہونے کے باوجودثقافتی تبدیلوں کا باعث بنی۔ اسماعیل پاشا کی معاشی اور معاشرتی اصلاحات کے باجود مصر یورپی طاقتوں کے قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ نہر سویز وغیرہ سے مالی مفادات حاصل کرنے کی غرض سے برطانیہ نے 1882 میں مصر کا کنڑول حاصل کر لیا۔ اسکے رد عمل میں مصر میں قوم پرستی کی تحریک ابھری جس نے اصلاحات اور خواتین کی پوزیشن میں بہتری کا مطالبہ کیا۔ وفد پارٹی (Wafd Party) مصر کی پہلی منظم جماعت تھی جس نے برطانیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ [i]

What Does It Mean To Be A Feminist In Islam? - YouTubeمصر کے ممتاز قوم پرست لیڈر طلعت ہارب (Talaat Harb) نے 1905 میں اپنے ایک خطاب میں فیمنسٹ تحریک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصری قوم کو کمزور کرنے کیلئے سامراج نے سازش کے تحت یہ تحریک شروع کروائی تاکہ مصری خواتین بدکاری کے رستے پر چل کر قوم میں تفریق پیدا کریں اور قوم کے سامنے انکا امیج خراب ہو۔ طلعت ہارب کے مطابق اگر فیمنسٹ تحریک شروع نہ کی جاتی تو مصری قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بآسانی سامراجی قوتوں کو شکست دے سکتی تھی۔ تاہم کچھ قوم پرست رہنما اس تحریک کی حمایت بھی کرتے تھے۔

جب برطانیہ نے وفد پارٹی کے لیڈرسعد ظغول (Saad Zaghlul) کو ملک بدر کیا تو پہلی بار پردہ دار عورتیں بھی ہدیٰ شعراوی (Hoda Shaarawi) کی قیادت میں سڑکوں پر نکل آئیں اور انہوں نے برطانوی قبضے کے خلاف آزادی کےنعرے لگائے اور یہی سے مصری فیمنسٹ یونین (EFU) کی بنیاد پڑی۔ فیمنسٹ یونین کا بنیادی مقصد مصر میں اپر کلاس کی خواتین کیلئے تعلیم، معاشرتی بہبود، مساوات اور قانونی اصلاحات کی سیاسی جدوجہد کرنا تھا۔ اس میں زیادہ تر وہ خواتین شامل تھیں جو فرانسیسی زبان لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔ اس تنظیم کا مشہور جریدہ بھی فرانسیسی زبان میں ہی شائع ہوتا تھا۔

مصری فیمنسٹ یونین کے قیام سے قبل ہدیٰ شعراوی وفد پارٹی کی ایک کمیٹی کی لیڈر تھیں۔ ہدیٰ شعراوی نے روم میں ایک بین الاقوامی حقوق نسواں کانفرنس میں حصہ لینے کے بعد واپسی پرجب دیکھا کہ مصری حکام میں اس بات پر غم و غصہ پایا جاتا ہے تو انہوں نے مصری روایات اور حکام سے بغاوت کا اظہار کرنے کی خاطر اپنا دوپٹہ سمندر میں پھینک دیا۔ اس سے دیگر خواتین کو پردہ ترک کرنے کی ترغیب ملی۔ اس پارٹی نے1924 کے مصری آئین میں خواتین کی شادی کی عمر 16 سال کروانے میں کامیابی حاصل کی لیکن دیگر مطالبات مثلاً تعدد ازدواج کا خاتمہ یا خواتین کو طلاق کا حق دلوانے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدمقتدر حلقوں کی بدعنوانی اور معاشی مسائل کی وجہ سے فیمنسٹ تحریک سے اشرافیہ کے طبقات چھٹ گئے۔ سیاست میں نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء، مزدور وغیرہ شامل ہوئے جو فیمنسٹ تحریک کے کام سے مطمعن نہیں تھے چنانچہ یہ پارٹی غیر موثر ہو کر رہ گئی۔ [ii]

1942 میں فاطمہ نعمت رشید (Fatma Neamat Rashed) کی قیادت میں مصری فیمنسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جسکا مقصد تعلیم، ملازمت، سیاسی نمائندگی اور حقوق میں خواتین اور مردوں کے مابین مکمل مساوات کا حصول تھا۔ اس کے تحت غربت کے خاتمے، خواندگی اور صحت کی خدمات بہتر بنانے کیلئے بھی مہمات چلائی گئیں۔ ڈوریا شفق (Doria Shafik) کی رہنمائی میں ریاست کو کھلے عام چیلنج کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے باہر خواتین کےسیاسی حقوق اور مساوی تنخواہ کے مطالبات پر احتجاج اور بھوک ہڑتالیں کی گئیں۔ [iii]

1952 میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ شاہ فاروق پرشیرخوار بیٹے احمد فواد کے حق میں دستبردار ہونے کیلئے دبائو ڈالاگیا اورایک سال بعد شہنشاہیت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو تحلیل کرتے ہوئے خواتین کی تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی چنانچہ خواتین تنظیموں نے خیراتی انجمنوں کی شکل اختیار کر لی۔ تاہم1956 میں جمال عبد الناصر نے “ریاستی حقوق نسواں” کا آغاز کیا اور صنفی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا۔ 1956 کے آئین میں خواتین کو مساوی حقوق کے ساتھ پہلی بار ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کا حق دیا گیا۔

سادات کی صدارت کے دوران اسکی بیگم جہاں سادات نے عوامی طور پر خواتین کے حقوق کی وکالت کی۔ لیکن اسلامی تحریک کے نمودار ہونے اور عوام میں اسکی بھرپور پذیرائی کے نتیجے میں فیمنسٹ سرگرمیاں دب گئیں۔ تاہم اسلامی سرگرمیوں کے حق میں رائے عامہ کا اندازہ لگاتے ہوئے کچھ فیمنسٹ قائدین نے اسلامی فریم ورک اور“اسلامی فیمنزم” کی اصطلاحات کے تحت حقوق نسواں اور صنفی مساوات کی بات جاری رکھی۔ [iv]

1972 میں نوال السعداوی (Nawal El Saadawi) کی کتاب ‘Women and Sex’ شائع ہوئی جس میں خواتین کے وقار، آزادی، صنفی مساوات اور مردوزن کی برابری کے مطالبات دہرائے گئے۔ مذہبی و روایتی معاشرتی طریقوں کو خواتین پر ہونے والے ظلم کا جواز قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔ یہ کتاب فیمنسٹ تحریک کی علامت بن گئی اور دوبارہ حقوق نسواں کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔

1980 کے بعد مصر میں حقوق نسواں کے کئی گروپ سامنے آئے جن میں اسلامی فیمنزم کا گروپ بھی شامل تھا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے بھی خواتین ونگز قائم کئے اورسیاسی، معاشی، معاشرتی معاملات میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا۔ 2000 میں خواتین کی قومی کونسل (NCW) کی بنیاد رکھی گئی جو خواتین کے حقوق کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسی سال ایسی قانون سازی کی گئی جس کے تحت خواتین کو طلاق دینے کی اجازت دی گئی۔

مصر میں ریڈیکل فیمنسٹ گروپ بھی سرگرم عمل ہے اورمعروف مصری نژاد امریکن جرنلسٹ مونا التحاوی (Mona Eltahawy) بھی اسکی نمائندگی کرتی ہیں۔ 2011 میں مصر میں تحریر اسکوائر پر ہونے والے مظاہروں میں مونا التحاوی فیمنسٹ گروپ کی قیادت کرتے ہوئے زخمی اور گرفتار ہوئیں۔ و ہ حسنی مبارک، فوجی حکام، اخوان المسلمون اور دیگر عرب لیڈروں کے خلاف ہیں لیکن اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو سیکولر، ریڈیکل فیمنسٹ مسلم قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عرب ممالک میں ایک بھی ایسا نہیں جو مذہب اور ثقافت کے زہریلے امتزاج سے پاک ہو اور عورتوں پر زیادتیوں کے ساتھ ساتھ توہین رسالت اور توہین مذہب کے الزامات نہ لگاتا ہو۔ وہ مصر میں نسوانی انقلاب کیلئے پر امید ہیں کیونکہ انکے خیال میں مصر کا قانونی نظام لڑکیوں اور دیگر اصناف کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکا ہے اور اب عوام تیزی سے اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ [v]

پچھلے دو تین عشروں سے مصر میں اسلامی فیمنزم بہت متحرک ہے۔ یہ مذہبی فریم ورک میں کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ فقہ، روایت اور تاریخ کے ان پہلوئوں پر تنقید کرتا ہے جنہیں اسکے خیال میں پدرسری کا جنسی نقطہ نظر بیان کرنے کیلئے تخلیق کیا گیا۔ اسلامی فیمنزم مختلف تنظیموں، نیٹ ورکس، کانفرنسوں اور میڈیا کے ذریعے اظہار کرتا ہے۔ مصر کے اہم اسلامک فیمنسٹ اسکالرز میں عمائمہ ابوبکر (Omaima Abu Bakr)، آمنہ نصیر (Amna Nossseir)، مروہ شراف الدین (Marwa Sharafeldin) قابل ذکر ہیں۔

قاہرہ میں پائی جانے والی خواتین کی دعوت موومنٹ بھی وسیع تناظر میں اسلامی فیمنزم کا حصہ ہے۔ اس تحریک کے کارکنان مذہبی اور اخلاقی معاملات تو اسلامی نصوص سے اخذ کرتے ہیں لیکن روزگار، تعلیم، گھریلو زندگی اور سماجی سرگرمیوں کے معاملات، خواتین سے متعلق مسائل کو کسی نہ کسی انداز سے فیمنسٹ ڈسکورس سے اخذ کرتے ہیں۔ دعوت موومنٹ بنیادی طورپر سماجی و نظریاتی تحریک نہیں بلکہ عملی مذہبی تحریک ہے لیکن اسکے باوجود اس نے مصر کا سماجی و سیاسی منظر نامہ تشکیل دیا ہے۔ اس تحریک میں مساجد اور عبادتگاہیں مظاہرین کے مراکز کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان میں خواتین بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ [vi]

مصر ی معاشرہ ایک مذہبی معاشرہ ہے اورجب اسلام کے نام سے کوئی پیغام دیا جاتا ہے تو اسکی جلدی قبولیت کے ساتھ مضبوط اثر پڑتا ہے۔ اسلامی فیمنزم اپنی کچھ نظریاتی اور فکری باتیں سیکولر ازم سے اخذ کرتا ہے لیکن جب یہ اپنے ڈسکورس کا دفاع نہیں کر پاتا تو اس میں اسلامی باتیں شامل کرکے مصری ثقافت پر لاگو کرتا ہے۔ لیکن اس طرح یہ اسلامی فیمنزم مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوتا۔ مارگوٹ بدران کا خیال ہے کہ اسلامی فیمنزم صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ یہ ایک عالمگیر رجحان ہے لیکن اسکی قبولیت میں قدامت پسند اسلام پسند رکاوٹ ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہ بہتر طورپر دین سکھا سکتے ہیں۔ اگر علماء رکاوٹ نہ ڈالیں تو عوام کی اکثریت نظریات اور افکار کی پرواہ کئے بغیر کسی بھی ثقافت کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں۔ [vii]

ترکی میں فیمنسٹ رجحانات:
سلطنت عثمانیہ کےدور میں ماڈرنائزیشن اور ویسٹرنائزیشن پروجیکٹ کے تحت جو سیاسی، تعلیمی، عدالتی، معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کیلئے’تنظیمات Tanzzimat Decree1839′ کے فرمان نے راہ ہموار کی۔ ان اصلاحات نے فوج، بیوروکریسی، انتظامیہ، ٹیکسیشن، تعلیم، مواصلات اور عدالتی نظام میں جدید کاری کی۔ اس سے قبل مصطفیٰ سوم، سلیم سوم اور محمود دوم کے زمانے میں بھی اصلاحات ہوئی تھیں لیکن ان اصلاحات کے دوران نہ تنظیمات جیسی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں اورنہ ترک سلطنت کا سیاسی، فوجی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ تبدیل ہوا۔ انیسویں صدی میں ہونے والی ان اصلاحات کے بعد خاندانی زندگی اور معاشرے میں خواتین کے کردار کے حوالے سے بھی مغربی طرز پر مباحثے اورتنقید شروع ہوئی۔

یورپ سے تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹنے والے نوجوانوں نے خواتین کی آزادی اور حقوق کے سوالات اٹھائے۔ احمد آفندی (Ahmet Mithat Efendi)، نامک کمال (Nmik Kemal) اور سمیع پاشا زادے سیزی (Sami Pashazade Sezai) وغیرہ جیسے مصنفین نے خواتین کے موضوعات پر ناول، ڈرامے، نظمیں اور مضامین لکھے۔ خواتین کی آزادی، سماجی شمولیت، معاشی زندگی، تعلیم، شادی، طلاق، وراثت کے معاملات میں برابری اور مساوات کے موضوعات پر سب سے زیادہ ضیا گوکلپ (Ziya Gokalp) نے آواز اٹھائی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان مصنفین کی تحریروں سے متاثر ہونے والی نوجوان نسل ہی بعد میں روشن خیالی اور حقوق نسواں کے کارکنان کہلائے اورانہی مباحثوں کے نتیجے میں ہی ترک فیمنزم وجود میں آیا۔

حقوق نسواں تحریک کے ابتدائی دور میں جو خواتین مشہور ہوئیں ان میں مکبولے لیمان (Makbule Leman)، شاعرہ نگار اور فاطمہ عالیہ تھیں جنہوں نے خواتین کے موضوعات پر نظمیں، کہانیاں اور ناول لکھے۔ سلطان عبد الحمید دوم کی آئینی بادشاہت کے دور میں خواتین کی آزادی، کام کرنے کے حقوق، تعلیم کے حقوق، نقل و حمل اور لباس سے متعلق جابرانہ رویوں کے خاتمے جیسے مطالبات نے زور پکڑا اور 1911 میں استنبول میں حقوق نسواں کے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں ان مطالبات کو دہرایا گیا۔ [viii]

پہلی جنگ عظیم کے بعد اتحادیوں نے ترک قومی تحریک کو ابھارااور مصطفیٰ کمال نے جنگ گلیپولی کے دوران ایک فوجی کمانڈر کے طور پر متبادل قیادت پیش کی۔ 1920 میں عبوری ترک حکومت قائم ہوئی اور1922 میں ترک پارلیمنٹ نے باضابطہ طورپر عثمانی سلطنت کے 623 سالہ دور کا خاتمہ کر دیا۔ جدید ترکی اسکی جانشین ریاست کہلائی اور مصطفیٰ کمال اتاترک اسکے پہلے صدر بنے۔ انہوں نےبہت سی اصطلاحات متعارف کروائیں جنکا مقصد عثمانی، مذہبی، کثیر الجماعتی، آئینی بادشاہت کو قومی اور سیکولر ترک ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ [ix]

1926 میں ترکی وہ واحد اسلامی ملک تھا جس نے اپنے سول اورخاندانی قانون و ضوابط کو یکسر تبدیل کیا۔ سوئس سیکولر سول کوڈ کو معمولی ترامیم کے ساتھ اپنایا اور سول سوسائٹی و بیوروکریٹک ریاستی ڈھانچے کے ذریعے مذہبی حلقوں پر سخت کنٹرول قائم کیا۔ 1935 کے عام انتخابات میں خواتین نے ووٹ ڈالا اوراٹھارہ خواتین پارلیمنٹ میں شامل ہوئیں۔ ترکی میں حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز 1908 میں اس وقت ہوا جب عثمانی ویلفئیر آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی اور کثرت ازدواج پر پابندی جیسی اصلاحات لائی گئیں۔ صطفیٰ کمال کے دور میں خواتین کووراثت اور طلاق کے مساوی حقوق کے ساتھ مکمل سیاسی حقوق دئے گئے اور تانیثی تحریک آہستہ آہستہ کمالسٹ جدیدکاری(Kamalist modernization) کا حصہ بن گئی۔ [x]

1980 کی دہائی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد شہری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اسٹڈی سرکلز بنائے۔ فیمنسٹ لٹریچر پر بحث مباحثے کا آغاز ہوا، خاندان، خاندانی روایات اور صنفی امتیازی رویوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مغرب کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل خواتین نے وومن اسٹڈیز، جینڈر اسٹڈیز، سماجی علوم اور ثقافتی مطالعات میں گریجوئیٹ پروگرامز متعارف کروائے۔ خواتین کے میگزینز میں جنسی ہراسمنٹ کے واقعات کی خوب تشہیر کی گئی اور 1987 میں مردانہ تشدد کے خلاف پہلا عوامی احتجاج کیا گیا۔ اسکے بعد جنسی ہراسمنٹ کے خلاف کئی مہمات چلائی گئیں جن میں مذہبی روایات، ضابطہ اخلاق، خاندانی اقدار اور پدرسری کو مسترد کرنے کی باتیں ہوئیں اور خواتین گروہوں میں بہت زیادہ جوش و خروش دکھائی دیا۔

1980 کی دہائی میں پروان چڑھنے والی فیمنسٹ تحریک نے خواتین کے ایجنڈے میں سیاست کو اہم موضوع بنایا۔ 1985 میں ترکی نے اقوام متحدہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے جس میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے اور صنفی مساوات قائم کرنے کی غرض سے نئی قانون سازی پر اتفاق کیا گیا۔ ترکی کے پانچویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے (1985-90) میں خواتین کے مسائل کو ایک آزاد سیاسی اور منصوبہ بندی کے مسئلے کے طور پر قبول کرتے ہوئے خواتین کیلئے جنرل ڈاٹریکٹوریٹ قائم کیا گیا۔ یہ ڈائریکٹوریٹ ایک وزارت کے ذریعے وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے منسلک تھا اوراسکا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ، سماجی، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی زندگی میں انکی پوزیشن کو مضبوط بنانے، انہیں بہتر سہولیات اور مساوی مواقع مہیا کرنا تھا۔ [xi]

1990 میں ویمنز لائبریری اینڈ انفارمیشن سینٹر فائونڈیشن قائم ہوئی جس نے خواتین کے موضوعات پر کتابیں، سوانحی مطالعات، کیٹلاگ اور بین الاقوامی خواتین کانفرنسوں کے پروٹوکول شائع کئے اور خواتین کے ڈسکورس کو تبدیل کیا۔ 1993 میں تانسو چلر پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 1995 کو سیاسی جماعتوں کو خواتین کی شاخیں کھولنے کی اجازت دی گئی اوراسکے بعد قوم پرستی اور اعتدال پسند ی کی ترکیب ترکی کا سرکردہ سرکاری نظریہ بن گئی۔

1995 میں بیجنگ میں ہونے والی عالمی خواتین کانفرنس کے بعد ترکی میں اسلامی فیمنزم کے نام سے بھی خواتین کا ایک حلقہ نمودار ہوا جس نے استدلال کیا کہ اسلام نے انہیں تشدد اور جنسی ہراسانی کے خلاف حقوق اور تحفظات فراہم کئے ہیں۔ ڈینیز کانڈیوتی (Deniz Kandiyoti) نے کہاکہ ان ممالک میں جہاں کی مضبوط ثقافتی شناخت اسلام کے ساتھ وابستہ ہے وہاں حقوق نسواں کا ڈسکورس اسلامی اصولوں کے حوالے سے طے ہونا چاہیے کیونکہ مسلم خواتین مذہبی شناخت کو نسائی شناخت کیلئے خطرہ نہیں سمجھتیں۔ [xii]

2002 میں ترک فوجداری اور سول قوانین میں اصلاحات ہوئیں۔ شادی، طلاق اورجائیداد میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دئے گئے۔ آئین کے ذریعے ریاست کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ صنفی مساوات کے فروغ کیلئے تمام ذرائع استعمال کرے۔ گھریلو تشدد اورجنسی تعصب کے خلاف خواتین کو آگہی دینے اورتعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کیلئے پروگرامز بنائے گئے۔ 2005 میں ازدواجی عصمت دری (Marital rape) کو جرم قرار دیا گیا اور غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کی سزائیں سخت کی گئیں۔ عالمی سول سوسائٹی، بین الاقوامی تنظیموں اور یورپی یونین سے الحاق کے عمل نے ترکی کی خواتین تنظیموں کے غیر ملکی فنڈز تک رسائی کے امکانات کو بڑھا دیا اور ان تنظیموں کے منصوبوں میں بہت اضافہ ہوا۔

2011 میں حکمران جماعت اور صدر طیب اردگان نے خواتین کے مسائل سے متعلقہ وزارت کا نام تبدیل کرکے ‘خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی وزارت’ کر دیا اور خواتین کے معاملات کو مائوں، بہنوں، بیویوں اور خاندان کے افراد کے مسائل قرار دیا۔ اسی طرح طیب اردگان نے اسقاط حمل پر مکمل طورپر پابندی تو نہیں لگائی لیکن سرکاری ہسپتالوں میں اس عمل کی حوصلہ شکنی ضرورکی۔ فیمنسٹ تنظیموں نے حکمران جماعت کے ان اقدمات کو قدامت پرستانہ اور مذہبی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ [xiii]

2011 کے عام انتخابات کے بعد ترک پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد بڑھ کر 14.3 فیصد ہوگئی۔ اسکے علاوہ 5.58 فیصد خواتین مئیرز، ایک خاتون گورنر اور 14 خواتین کو لوکل گورنر تعینات کیا گیا۔ 2018 میں ترک پولیس کی طرف سے گھریلو تشدد کے واقعات کی اطلاع دینے کیلئے ویمن ایمرجنسی اسسٹنس نوٹیفیکیشن ایپ لانچ کی گئی اور ایک غیر سرکاری ترک تنظیم نے گھریلو تشدد سے نمٹنے کیلئے خواتین کو لائسنس یافتہ بندوقیں دینے کا مشورہ دیا۔ 2012 میں ترکی، استنبول کنونشن کی توثیق کرنے ولا پہلا ملک تھا جس میں خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کیلئے اقدامات اور قوانین تجویز کئے گئے تھے۔ یہ کنونشن 2014 میں نافذ ہوا لیکن موجودہ ترک حکمران جماعت نے اسے ماضی کا غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے مارچ 2021 میں اس سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ حکومتی پارٹی کے مطابق اس سے خاندانی نظام کو شدید خطرات لاحق تھے، طلاقوں کی شرح بڑھ گئی تھی، اس کنونشن کا غلط استعمال کرتےہوئے ہم جنس پرستی کا غلبہ ہو رہا تھا اور یہ ترکی کی روایتی اقدار سے متصادم ہے۔ [xiv]

ترکی میں خواتین کی شرح خواندگی 2016 میں 93.6 فیصد اور لڑکیوں کی اسکول جانے کی شرح 99.6 فیصد تھی۔ سیکنڈری تعلیم میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح 5.3 فیصد کم ہے اور اعلیٰ تعلیم میں یہ فرق 9.5 فیصد ہے۔ پرائمری سطح پر لڑکیوں کے ڈراپ آئوٹ کی شرح بھی لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 2018 کے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے مطابق ترکی کی لیبر فورس میں 34فیصد خواتین شامل ہیں۔ ترک انٹر پرائز اینڈ بزنس کنفیڈریشن کے مطابق ترکی کی لیبر فورس میں آدھی خواتین غیر رجسٹرڈ ہیں اور انکا تناسب مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ترکی کی خواتین کاروباری دنیا میں کافی اچھی نمائندگی رکھتی ہیں اور یہ تناسب جرمنی کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ [xv]

ترکی میں فیمنسٹ تحریک اورصنفی سیاست کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں اس حوالے سے تاریخی طورپر ہونے والے تجربات کودیکھا جائے۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری سو سال، ترکی کی جدید قومی و سیکولر ریاست، فوجی انقلابات، جمہوری ادوار، مختلف نسائی لہروں، ترک قوم پرستی اور اسلام پسندی کے رجحانات کا مشاہدہ کئے بغیر نسائی نقطہ نظر اور اسلامک فیمنزم کے مباحث کو سمجھنا آسان ہیں۔ گزشتہ صدی میں ترکی کی سیاست میں حقوق نسواں اورصنفی رجحانات اچانک نمودار نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے عثمانی سرپرستی، ترک سرپرستی، کمال ازم، کرد خواتین تنظیموں، سول سوسائٹی، این جی اوز، بین القوامی اداروں کی شمولیت اور اسلام پسندی کا کردار شامل تھا۔

موجودہ حکومت کے تبدیلی ڈسکورس میں صنفی مساوات کے بجائے صنفی انصاف کی تلاش کے ساتھ حقوق نسواں کی ایک نئی شکل نمودار ہو رہی ہے۔ استنبول کنونشن سے دستبرداری کے بعد سول سوسائٹی کے مطالبات اور حکومتی اقدامات کے درمیان تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ صدر اردگان نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ ہم مرد اور عورت کی مساوات پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم مساوی مواقع پر یقین رکھتے ہیں۔ مرد اور عورت دو مختلف وجود ہیں لیکن ایک دوسرے پر انحصار، اشتراک اور تعاون کے بغیر دونوں زندہ نہیں رہ سکتے۔ ترک سیاست میں ان نئے رجحانات کے ارتقاء کا بغور مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کے بعد ہی خواتین کے کردار اور مستقبل پر انکے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ [xvi]

ایران میں فیمنسٹ رجحانات:
ایران میں حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز 1910 میں آئینی انقلاب کے بعد ہوا۔ یہ تحریک کئی انجمنوں اور تنظیموں پر مشتمل تھی۔ اخبارات و رسائل کے ذریعے اپنا پیغام پہنچاتی تھی اور 1933 تک جاری رہی۔ ان کے مباحث میں شادی، معاشی و سماجی اختیار، خواتین کے حقوق اور قانونی حیثیت جیسے موضوعات شامل تھے۔

رضاشاہ پہلو ی کے دور میں علماء کی مخالفت کے باوجود سفید انقلاب کے نام سے ایک قومی ریفرنڈم کروایا گیا جس میں چھ نکاتی اصلاحات پروگرام شامل تھا۔ اس میں خواتین کو ووٹ ڈالنے اور عوامی عہدوں پر بطورامیدوار کھڑے ہونے کی اجازت دی گئی۔ پارلیمنٹ میں چھ خواتین منتخب ہوئیں۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں عدلیہ، پولیس فورس، تعلیم، صحت اور ڈپلومیٹک کور میں خواتین کو شامل کیا گیا۔ 1966 میں خواتین کے حقوق کیلئے ایک تنظیم تشکیل دی گئی اور اس تنظیم کی سرپرستی شہزادی اشرف( شاہ کی جڑواں بہن) کرتی تھی۔ 1968 میں فروخرو پارسا(Farrokhroo Parsa)پہلی خاتون وزیر تعلیم بنیں۔ 1969 میں پانچ خواتین کو جج مقرر کیا گیا جن میں مستقبل کی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی بھی شامل تھیں۔

اس تنظیم نے خاندانی تحفظ قانون کے تحت خواتین کو شادی، طلاق اور بچوں کی تحویل کے مساوی حقوق دلائے۔ شادی کی کم ازکم عمر 18 سال کی گئی اور اسقاط حمل کو بھی قانونی شکل دی گئی۔ کام کے مساوی مواقع اور مساوی تنخواہوں کے ضوابط بنائے گئے اور خواتین کو انتخاب لڑنے کی ترغیب دی گئی۔ 1978 تک ایران میں 40 فیصد سے زائد خواتین خواندہ تھیں۔ مقامی کونسلوں میں 333 خواتین، 22 ممبران پارلیمنٹ، 2 سینیٹ ممبر، ایک کابینہ کی وزیر، 3 کابینہ کی انڈر سیکرٹری، ایک گورنر، ایک سفیر اور پانچ مئیر کے عہدوں پر تعینات تھیں۔ [xvii]

1979 کے اسلامی انقلاب میں خواتین نے بڑے پیمانے پر شرکت کی لیکن جب خاندان سے متعلق قوانین کو تبدیل کرتے ہوئے خواتین کے لئے پردے کو لازمی قرار دیا گیا تو فیمنسٹ خواتین نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دئے۔ اس سے قبل شاہ کے زمانے میں لازمی پردے کو قانون سازی کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔ خواتین کے حقوق سے متعلق زیادہ تر تنظیمیں بائیں بازو کے لیڈران اور کارکنان پر مشتمل تھیں اور انکے پاس اسکے علاوہ کوئی منصوبہ یا وژن نہیں تھا کہ جب مثالی سوشلسٹ ریاست قائم ہوگی تو خواتین کی حیثیت خود بخود بہتر ہوجائے گی۔ اس لئے اسلامی انقلاب کے بعد تمام فیمنسٹ تنظیمیں بے اثر ہوگئیں۔ [xviii]

1980 کی دہائی میں خواتین نے زیادہ سے زیادہ تعلیمی میدان میں شرکت کی اور حکومت نے انکے لئے اعلیٰ تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ بہت سی خواتین نے کاروباری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور پارلیمنٹ سمیت دیگر کئی شعبوں میں کام کیا۔ 1997 میں خصوصی عدالتوں میں خواتین قانونی مشیروں کو متعارف کروایا گیا۔ 2006 میں ایک ملین خواتین نے دستخطوں کے ساتھ امتیازی قوانین کے خلاف مہم چلائی جس میں خاندانی قوانین میں اصلاحات اور سنگسار کرنے کی سزا کو ختم کرنے کی تجویز تھی۔

1990 میں نوشین احمدی خراسانی اور پروین اردلان نے ‘خواتین ثقافتی مرکز ‘کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ 2005 سے یہ تنظیم خواتین کے حقوق سے متعلق آن لائن میگزین شائع کرتی ہے اور اس میں شادی، جسم فروشی، تعلیم، ایڈز اور خواتین کے خلاف تشدد جیسے موضوعات پر لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک اور میگزین ‘زنان’ بھی 1992 میں شروع کیا گیا۔ اس کی اشاعت دوبار معطل ہو چکی ہے۔ اس کی توجہ اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ ایرانی خواتین کے تحفظات، حقوق، اصلاحات، گھریلو زیادتی، جنسی تعلقات، پلاسٹک سرجری، صنفی مساوات وغیرہ جیسے موضوعات پر مرکوز ہے۔ [xix]

2014 میں ‘My Stealthy Freedom’ کے نام سے ایرانی نژاد امریکی صحافی مسیح الینجاد(Masih Alinejad)نے آن لائن موومنٹ کا آغاز کیا۔ اس کے فیس بک پیج پر ایرانی خواتین پردے کے بغیر اپنی تصاویر شائع کرتی تھیں اور 2016 تک اسے ایک ملین لوگوں نے لائک کیا ہوا تھا۔ اس کا اہم مقصد پردہ کے قوانین کا خاتمہ ہے۔ اسے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پرکوریج دی جاتی ہے۔ کچھ نسائی پسند خواتین کے ذریعے 2001 میں کئی ایرانی یونیورسٹیوں میں وومن اسٹڈیز پروگرام بھی شروع کئے گئے۔ نسائی پسندوں کے کئی گروپ ہیں جن میں کچھ اختلافات بھی ہیں لیکن سب میں قانونی اصلاحات پر اتفاق پایا جاتا ہے۔

ایران میں اسلامی فیمنزم کا رجحان اسلامی انقلاب اور خاص طورپر ایران عراق جنگ کے بعد سامنے آیا۔ اسکے محرکات میں سماجی تبدیلی کا وہ عمل ہے جس میں نچلے اور متوسط طبقے کی روایتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والی پڑھی لکھی خواتین کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھنے والی دلچسپی شامل ہے۔ سیکولر فیمنزم کے برعکس یہ طبقہ اپنا بیانیےاور ڈسکورس کیلئے قرآن، اسلامی قوانین، روایات اور علامات کی تعبیر نو کو حوالے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ان امور میں سیکولر فیمنزم کے ساتھ برابر کے شریک ہیں جن میں قدامت پرستی، مذہبی جماعتوں، شخصیات اور حکومتی اداروں پر تنقید کی جاتی ہے۔

ایران کا اسلامی فیمنزم ایک ایسے معاشرے میں وجود میں آیا جہاں جدیداقدار فعال طورپر جڑیں پکڑ رہی ہیں۔ جہاں کی اکثریتی آبادی شہروں میں مقیم ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی 82 فیصد، بچوں کی اوسط تعداد فی عورت 2 اور جہاں دو ملین خوااتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ خواتین کی شادی کی اوسط عمر 23 سال اور شادی کے سلسلے میں پارٹنر منتخب کرنے کی آزادی ہے۔ گویا اسلامی فیمنزم ایرانی معاشرے اور ثقافت کی جدید کاری کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ اسلامک فیمنزم وہاں کی ریاست کی طاقت کے مراکزو تعاملات کو کہیں چیلنج کرتا ہے اور کہیں انکے ساتھ کمپرومائز کرتا ہے۔ خاندان، معاشرے، سیاسی، معاشی او ر ثقافتی سرگرمیوں میں یہ عورت کی شمولیت اور برابری کی وکالت کرتا ہے۔ [xx]

ایران میں اسلامی فیمنسٹ یونیورسٹیوں اور سیاسی گھرانوں سے تعلق رکھنے والی وہ خواتین ہیں جو سماجی یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ آیت اللہ محمود طالقانی کی بیٹی اعظم طالقانی(Azam Taleghani) اسلامی حقوق نسواں کی کارکن ہے اور وہ اسلامی انقلاب سے پہلے اپوزیشن سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم اور سماجی انصاف کیلئے کام کیا، میگزین نکالتی تھیں، خواتین کی تنظیم بنائی جو خواتین کی معاشی اور قانونی مدد کرتی تھی اور1980 میں وہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ انکی ایک بہت قریبی خاتون قانونی اسکالر ناہید شاہد کا استدلال تھا کہ قوانین کا ایک بڑا حصہ جو مذہبی احکامات سے اخذ شدہ ہے اسے تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ وہ خدائی احکامات پر مبنی نہیں بلکہ ثانوی اصولوں پر مبنی ہے جیسے خون بہا اور وراثت کے قانون۔

شہلا شرکت (Shahla Sherkat) ان نوجوان، تعلیم یافتہ اور مذہبی خواتین میں سے تھیں جنہوں نے انقلاب ایران کے بعد ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے ایرانی شناخت کی تشکیل نو کیلئے کام کیا اور خواتین کے نقطہ نظر سے اسلامی قانون اور روایت کی نئی تعبیر و تشریح کی۔ انہوں نے خواتین کے مسائل کے حل کیلئے قانون میں بنیادی تبدیلی اور شریعت کی تعبیر نو کو ناگزیر قرار دیا۔ وہ ایک بااثر میگزین ‘زنانZanan’ کی بانی بھی تھیں۔

دیگر اسلامک فیمنسٹ خواتین میں زہرہ راہنورد(Zahra Rahnvard) ہیں جو تہران یونیورسٹی کی پروفیسر، الزہرہ یونیورسٹی کی سابق ڈین اور 2009 کے صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کی اہلیہ ہیں۔ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فیضیہ ہاشمی، تہران یونیورسٹی میں پروفیسر اور چھٹی پارلیمنٹ کی نائب اصلاح پسند الہی کولائی (Elaheh Koulayi)، آیت اللہ خمینی کی پوتی اورصدر خاتمی کے بھائی محمد رضا خاتمی کی اہلیہ زہرہ اشراقی (Zahra Eshraqi)، صدر خاتمی کے نائب وزیر داخلہ مصطفیٰ تاجزادہ کی اہلیہ فخر و سادات موہتشم پور (Fakhrosadat Mohtshamipoor) اور اسلامی ایران شرکت محاذ کی فریدہ مشنی (Farida Mashini) شامل ہیں۔ منیر گورگی جامعۃ الزہرہ شعبہ الہیات کی ڈاریکٹر اور محقق ہیں۔ وہ فقہ اسلامی کے اس موقف کو مسترد کرتی ہیں جسکے تحت خواتین کو سیاسی قیادت کے عہدوں تک رسائی سے روکنے کیلئے جسمانی اور فکری کمزوری کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ انکا استدلال ہے کہ جدید سیاسی نظام میں تکنیکی علم کی بالادستی اور جدید نظم و نسق نے حالات کو تبدیل کر دیا ہے اورعورت تمام امور میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان خواتین نے مرد سیاستدانوں کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کے باوجود خود کو پریشر گروپس اور اپنی متعلقہ جماعتوں کی پالیسیوں پر کاربند رکھا۔ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں حقوق نسواں کی سرگرمیوں میں تعلیم یافتہ ومتوسط طبقے کی خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا اور انکی آواز بلند کی۔ ان خواتین کااستدلال ہے کہ مذہب انہیں اپنا کردار ادا کرنے سے منع نہیں کرتا لیکن عملی طورپر یہ اس وقت ممکن ہوا جب مذہبی پیشوائوں نے انکا ساتھ دیا۔ جب ان مذہبی پیشوائوں نے اپنی بیگمات اور اپنے ارد گرد کی خواتین کو سماجی و سیاسی کردار ادا کرنے کی اجازت دی تو خواتین کے ساتھ انکے اس تعلق کے ماڈل کو عمومی طور پراپنا لیا گیا۔ آج ایران کے ہر شعبہ زندگی میں خواتین کافعال کردار اسی نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ [xxi]

اسکا اگلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

References:

[i] Kumari, Jayawardena (1994) “Feminism and Nationalism in the third world” Reformism and Women’s Rights in Egypt. Retrieved from https://quod.lib.umich.edu/cgi/t/text/text-idx?c=acls;cc=acls;view=toc;idno=heb02511.0001.001

[ii] Kumari, Jayawardena (1994) “Feminism and Nationalism in the third world” Reformism and Women’s Rights in Egypt. Retrieved from https://quod.lib.umich.edu/cgi/t/text/text-idx?c=acls;cc=acls;view=toc;idno=heb02511.0001.001

[iii] Al-Ali, Jadje “Secularism, Gender and the State in the Middle East: The Egyptian Women’s Movement” Retrieved from http://assets.cambridge.org/97805217/80223/frontmatter/9780521780223_frontmatter.pdf

[iv] Kumari, Jayawardena (1994) “Feminism and Nationalism in the third world” Reformism and Women’s Rights in Egypt. Retrieved from https://quod.lib.umich.edu/cgi/t/text/text-idx?c=acls;cc=acls;view=toc;idno=heb02511.0001.001

[v] Bhaduri, Aditi (2007) “Feminism in the Muslim World” Retrieved from https://web.archive.org/web/20101213043229/http://boloji.com/wfs5/wfs986.htm

[vi] Moro, Sabrina (2015) “Islamic Feminism in Egypt: Towards a Reconceptualization of social movement theories”. Retrieved from http://www.inquiriesjournal.com/articles/1314/islamic-feminism-in-egypt-toward-a-reconceptualization-of-social-movement-theories

[vii] El-Marshafy, Hana (2014)”Islamic Feminist Discourse in the Eye of Egyptian Women: A Fieldwork Study”. Retrieved from http://ijgws.com/journals/ijgws/Vol_2_No_4_December_2014/2.pdf

[viii] Cosar, Seda (2006) “The Reflections of the Ottoman Turkish Feminism on the literary works of Nezihe Muhittin”. Retrieved from http://etd.lib.metu.edu.tr/upload/12607653/index.pdf

[ix] Howard, Douglas A (2001) “The History of Turkey”. Retrieved from https://archive.org/details/historyofturkey00doug

[x] Gilndilz, Zuhal Yesilyurt “The Women’s Movement in Turkey: From Tanzimat towards European Union Membership”. Retrieved from https://web.archive.org/web/20160615053414/http://sam.gov.tr/wp-content/uploads/2012/02/ZuhalYesilyurtGunduz2.pdf

[xi] Binder, Charlotte & Natalie Richman “Feminist Movements in Turkey”. Retrieved from https://amargigroupistanbul.wordpress.com/feminism-in-turkey/feminist-movements-in-turkey/

[xii] Durakbasa, Ayse (2019) “Feminism in Turkey”. Retrieved from https://www.eurozine.com/feminism-in-turkey

[xiii] Carkoglu, Ali & Binnaz Torak “Religion, Society and Politics in a changing Turkey”. Retrieved from https://web.archive.org/web/20131017200148/http://www.tesev.org.tr/Upload/Publication/b1d06f12-4c13-4e18-a3b3-8c1555d915d7/RSP%20-%20Turkey%2011%202006.pdf

[xiv] Gonzalez, Paula Lobato (2021) “Reshaping the Role of Women in Politics: The Case of Turkey”. Retrieved from https://www.e-ir.info/2021/06/08/reshaping-the-role-of-women-in-politics-the-case-of-turkey/

[xv] “The World Factbook : Turkey” Retrieved from https://www.cia.gov/the-world-factbook/countries/turkey

[xvi] Gonzalez, Paula Lobato (2021) “Reshaping the Role of Women in Politics: The Case of Turkey”. Retrieved from https://www.e-ir.info/2021/06/08/reshaping-the-role-of-women-in-politics-the-case-of-turkey/

[xvii] Afkhami, Mahnaz “Women’s Centre” Foundation for Iranian Studies. Retrieved from https://fis-iran.org/en/women/organization/introduction

[xviii] Mohammadi, Majid (2007) “Iranian Women and the Civil Rights Movement in Iran: Feminism Interacted” Retrieved from https://web.archive.org/web/20120810090219/http://www.bridgew.edu/SoAS/jiws/Nov07/IranianWomen.pdf

[xix] Hosseini, Ziba Mir (2002) “Debating Women: Gender and Public Sphere in Post-Revolutionary Iran” Retrieved from http://www.zibamirhosseini.com/documents/mir-hosseini-book-chapter-debating-women-gender-public-sphere.pdf

[xx] Kian, Azadeh (2010) “Islamic Feminism in Iran: A new form of subjugation or the emergence of agency?”. Translated by Wthan Rundell. Retrieved from file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/E_CRII_046_0045.pdf

[xxi] Kian, Azadeh (2010) “Islamic Feminism in Iran: A new form of subjugation or the emergence of agency?”. Translated by Wthan Rundell. Retrieved from file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/E_CRII_046_0045.pdf

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply