راج محل کی یاد میں بھارت کا سفر -7 —- عطا محمد تبسم

0

 بھارت کا سفر:
راج محل بناس ندی کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں میرے اجداد کا مسکن۔
پاسپورٹ میں ایک نوٹ رکھ دینا، کسٹم والے کچھ نہیں پوچھیں گے، سرحد کے دونوں طرف کسٹم پر آج بھی یہی نسخہ چلتا ہے۔
اگست کا مہینہ، ہجرت کی داستان ہر بار یہ داستان ایک نئے انداز سے دہرائی جاتی۔


اسٹیشن ویران، اور خاموشی کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا تھا، ہم دونوں ساتھ ساتھ تو تھے، لیکن ٹرین کی پٹریوں کی دو متوازی لائینوں کی طرح جو کبھی آپس میں نہیں ملتی، لیکن ایک دوسرے کا ساتھ بھی نہیں چھوڑتی، تنہائی کا زہر میرے اندر پھیلتا جارہا تھا ور خاموشی اسے بڑھا رہی تھی، راستہ جس سے ہم گذر کر آئے تھے، سنسسان تھا، کہیں کہیں پر اسٹریٹ لائٹ تھی، اور کہیں کتے منہ اونچا کرکے رو رہے تھے، جانے جانوروں کو کیسے انسانوں کے دکھ کااحساس بھی بہت جلد ہوجاتا ہے، ان کا درد بھی انسانوں جیسا ہی ہوتا ہوگا، لیکن انسان تو اپنے درد کا احساس ایک دوسرے کو اپنے رویئے اور زبان سے دلا دیتے ہیں، یہ جانور تو اس بھی محروم ہیں۔

 خاموشی کاایک سحر ہوتا ہے، اس کی اپنی ایک آواز ہوتی ہے، دل کی اتھاہ گہرائیوں میں سے خاموشی کی لہریں اٹھتی ہیں اور رگ وپے میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہیں۔ “اس وقت ٹرین نہیں آئے گی”، ایک آواز نے سناٹے کو توڑا، لیکن آئے گی تو سہی۔ اب نہ سہی رات گئے یا صبح تڑکے۔ “تو کیا ساری رات یہیں گزاروگے” ہاں میں نے ضدی لہجے میں مختصر جواب دیا۔ خاموشی پھر سے راج کرنے لگی، متوازی سمت کی پٹریاں ایک دوسرے کے ساتھ دور تک چلی گئی تھیں، جانے کہاں تک۔ آخری حد۔ خاموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، یہ حد سے بڑھ جائے تو پھر دل کی دھڑکن تیز اور سانس کی لے غیر متوازن ہونے لگتی ہے۔

 ساحل پر ہم دونوں سورج کی ڈوبتی کرنوں کا نظارہ کر رہے تھے، سورج کی سرخی نے سارے ماحول میں خون کا رنگ گھو ل دیا تھا۔ اس میں میرے دوست کا خون دل بھی شامل تھا۔ اسے عشق کی تازہ تازہ لپٹ لگی تھی، جس نے اسے عشق پیچاں کی بیل کی طرح جکڑ لیا تھا۔ وہ ہر دم اس پری وش کا ذکر کرتا اور میرے جیسا سامع سکون سے اس کی دلی کیفیت کا ہمراز ہوتا، اس شام ایک جزیرے پر بھی خاموشی اور تنہائی ایسی ہی تھی، دونوں ساتھ بھی تھے، اور تنہا بھی، گفتگو بھی تھی اور بے زبانی بھی، نہ اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ ادا ہوتا تھا، نہ ہی میں کوئی بات کا سرا ملاتا تھا، لیکن ہم دونوں اس خاموشی میں بھی فرحاں اور شاداں تھے، ایک دوسرے سے حال دل نہ کہتے ہوئے بھی ہماری روحیں یک زباں تھیں، خاموش گفتگو اور بے زبانی کی زبان ہمارے دل کے سارے بھید کھولے ہوئے تھی۔ اس نازنین میں ایسی کونسی بات تھی جو میرے محب کے دل کو چھو گئی تھی، میرے نزدیک تو وہ بس ایک عام سی لڑکی تھی۔ اس کی آنکھیں کچھ نشیلی تھیں، لیکن یہ جوانی کا خمار تو ہر ایک پر آتا ہے۔ لیکن میرا ہمسفر اس پر جی جان سے فریفتہ تھا، وہ جب بات کرنے پر آتا تو اس کے قصے اور باتیں ختم ہی نہ ہوتیں، سورج غروب ہونے پر اس جزیرے پر سناٹے اور خاموشی کا راج تھا۔ لہروں کا شور کشتی میں کچھ زیادہ ہی تھا اور اس سے دوچند ان لوگوں کا جو اس کشتی کے مسافر تھی، شائد جزیرے سے رخصت ہونے والی یہ آخری کشتی تھی، مسافروں کا ہجوم دیکھ کر میری تنہائی دل کے اندر ہی اندر کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ گئی، میں خوف کے کمبل کو لپیٹ کر چپ بیٹھ گیا، شائد میرا ہمسفر بھی اسی کیفیت میں تھا۔

 مجھے ایک اور تنہائی کی شام یاد آگئی۔ میلوں کا سفر کرکے، جب دوردیس میں ہم باپ بیٹے پہنچے تو شام سمے کا وقت ہوچلا تھا۔ یہ میرے باپ کی جنم بھونی تھی، اور میرے اجداد کا مسکن، میں یہاں کا اجنبی مسافر تھا، میرے باپ کا بچپن یہیں گزرا تھا، لیکن اس بچپن اور اس لمحے موجود کے درمیاں کئی دہائیاں حائل تھیں۔ ملک بٹ گیا تھا، سرحدیں جدا جدا لیکن ساتھ ساتھ تھیں۔

 پرانا قصہ ہے، جو کبھی کبھی آپا سناتی تھیں، اگست کا مہینہ تو ہر سال آتا ہے۔ ہجرت کی داستان، یوم آزادی کی نوید لیئے، لیکن آپا ہر بار اس قصے کو نئے رنگ میں سناتی تھیں۔ عید آنے میں ابھی دو تین ہفتے تھے، لیکن گاؤں کی فضا تبدیل ہوچکی تھی، گھر میں بندوق، تلوار، خنجر جیسے ہتھیار تو تھے، لیکن گاوں سے باہر کی خونی فضا کی داستانیں اب گاؤں میں گھر گھر سنائی دے رہی تھیں، ہندوں کی اس آبادی میں چند ہی مسلمان گھرانے تھے، جو فوج اور مہاراجہ کے محلات کے نگران تھے۔ ایک رات بڑے ابا صوبیدار جی، ایک فوجی ٹرک لے کر آئے، راتوں رات خاموشی سے مسلمان گھرانے کی عورتیں اور بچے تن کے کپڑے، اور کچھ برتن بھانڈے لے کر کھلے گھر چھوڑ آئے کہ چند دن بعد دوبارہ یہاں آجائیں گے۔ نئے دیس میں ان پر کیا گذری یہ ایک الگ داستان ہے، یہ کہانی پھر سہی۔

 تو اب جو باپ بیٹے اپنے کاندھوں پر سامان رکھے اس بھوڈا مٹی میں چلے تو پاوں دھنس دھنس جاتے۔ گرتے پڑتے گاؤں آہی گیا، بڑے ابا بھائی سے مل کر خوب روئے دونوں کی داڑھیاں آنسوں سے تر تھیں۔ میں بڑے ابا کی لمبی داڑھی، کھلا پائجامہ، کرتے اور کالی رنگت میں اس جوان رعنا صوبیدار کو تلاش کررہا تھا۔ جس کی مصر کے محاذ پر، نوک دار مونچھیں، فیلٹ ہیٹ، اور فوجی وردی دوسری جنگ عظیم کے محاذ کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو میں سارے بچپن سینے سے لگائے رہا تھا۔ میں دوستوں کو یہ تصویر دکھا کر کہتا میرے ابا صوبیدار ہیں، ان کے پاس زمینیں ہیں، ہمارے باغات ہیں، لیکن یہ تو ایک چھوٹا سا گھر ہے، چند مٹی کے کمرے، ایک مچان نما کوٹھا، نہ وہ رنگ تھا نہ وہ روپ نہ وہ شان تھی نہ و شوکت، چند دہائیوں نے سارے رنگ و روپ بے رنگ کر دیا تھا، سونے کے لئے ایک پیپل کے درخت کے نیچے چارپائی لگادی گئی، میں اس پر بیٹھا اس دھوئیں کے مرغولے کو دیکھ رہا تھا جو قریبی شمشان گھاٹ سے اٹھ رہا تھا۔ ، ، ہندو اپنے مردے جلانے کے لئے یہاں لاتے ہیں، ، انصاری نے چپکے سے مجھے بتایا، وہ مری عمر کا نوجوان تھا۔ کراچی سے لاہور اور واہگہ بارڈر تک کا سفر ایک خواب کی طرح گذر چکا تھا۔

 بارڈر کے دونوں طرف مسافر قطار بنائے بیٹھے تھے۔ کسٹم حکام کے انتظار میں، پھر قطار میں ہل چل ہوئی لوگ ایک ایک کرکے آگے بڑھنے لگے، میری باری بھی آگئی، ایک میز پر ایک کسٹم اہلکار بیٹھا، سب کے سوٹ کیس کھلوا کھوا کر دیکھ رہا تھا، کوئی مٹھائی کا ڈبہ یہ کہہ کر اٹھا لیا جاتا کہ یہ نہیں جاسکتا، تو کبھی کسی اور چیز کو روک لیا جاتا۔ کسی نے کہا، ، پاسپورٹ میں ایک نوٹ رکھ کر دے دینا، وہ کچھ نہیں کہے گا۔ آسانی سے چیکنگ سے نکل جاؤ گے، ، ۔ میں نے اگلے آدمی کو یہ نسخہ کامیابی سے آزماتے دیکھا، اور پھر اسی ترکیب پر عمل کیا، اس اہلکار کی للچائی نگاہیں، میرے گلے میں پڑے کیمرے کو دیکھ رہی تھیں۔ میں نے اس کی فیس ادا کردی تھی۔ سو کسٹم سے فارغ ہوگیا، اگلا مرحلے پڑوسی ملک کے کسٹم کا تھا۔ دونوں طرف ایک جیسا معاملہ تھا۔ پاسپورٹ میں خاموشی سے کرنسی نوٹ رکھ دو۔ دونوں کسٹم بھگت کر ہم بھارت کی سرزمین پر تھے۔ بھارتی پنجاب میں پہلی بار میں نے رنگ برنگے کپڑوں اور دوپٹے پہنے لڑکیوں کو سائیکل چلاتے دیکھا۔ خوب صورت آنچل اور حسین چہرے فضا میں رنگینی بکھیر رہے تھے۔

 80 کی دہائی اور یہ یادگار سفر۔ دہلی کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو مرد و زن ایک ساتھ بیٹھے، میں نے یہ ماحول پہلی بار دیکھا تھا۔ پھر مجھے اس کی خوبصورت آنکھیں یاد آئی، اس نے ایک بار میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک گانے کے بول گنگنائے تھے، پھر میں نے وہ طویل نظم کہی۔

 دو آنکھوں کا تصور تھا جو میرے ساتھ چلتا تھا،
ٹرینیں تیز چلتی تھی، اسٹیشن آتے جاتے تھے،
مجھے سیٹیوں سے زیادہ تیری آنکھوں سے محبت تھی۔

 ان آنکھوں کے تصور میں کھوئے کھوئے نہ جانے کب دہلی اسٹیشن آگیا۔ اگلا مرحلہ جے پور کو جانے والی بس پکڑنے کا تھا، جہاں سے آگے ٹونک اور ٹونک سے آگے راج محل دیولی کی چھاونی، راج محل اور بناس ندی میرے والدین کا گاؤں، میرے دادا یاسین خان کی زمین اور کھیت اور آخری آرام گاہ۔

—-جاری ہے

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی اگلی قسط یہاں دیکھئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply