اکیسویں صدی کا انسان اور’’خالی کرسیاں” از۔ صفدر رشید —- قاسم یعقوب

1

Absurd کے لغوی معنی اوٹ پٹانگ یانا معقول کے زُمرے میں آتے ہیں۔ جب ہم کسی لفظ کے معنی کا زُمرہ متعین کرتے ہیں تو اس کے دائرے کے قریب ترین معنی کو نشان زد کرتے ہیں۔ ایک معنی دیگر اور کئی معانی سے وابستہ ہوتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ دائرہ در دائرہ پھیلے اس سلسلے کی کوئی حد نہیں۔ Absurd یعنی نامعقولیت کا معکوس معقول یا reasonable ہے۔ یہ’ معقول‘ کیا چیز ہے جس کا معکوس نامعقولیت ہے؟’’معقولیت‘‘ بھی توکوئی ٹھوس چیز نہیں کہ جسے بتایا جا سکے کہ یہ معقولیت ہے اور یہ نامعقولیت۔ ’’معقولیت ‘‘ یا sensible ہونا بھی ہر فرد کے ہاں مختلف ہو سکتا ہے۔ ایک ہی سماج میں رہتے ہوئے معقولیت کے معیار مختلف ہوتے ہیں۔ ایک فرد کے ہاں معقولیت کا سب سے اعلیٰ اظہارکسی دوسرے کے ہاں انتہائی نامعقول ہو سکتا ہے۔ اس لیے بیسویں صدی میں وجودی تحریک سے جڑی Absurdity کو سمجھنے کے لیے ہمیں Rationality کو سمجھنا ہوگا۔ ریشنل ہونے سے مراد ہے عقل کی بالا دستی ہے۔ یعنی فکر یاعمل کومعروضی طور پر جانچا جا سکے، جس میں علت و معلول کا ایک منطقی رشتہ ہو۔ جسے Reasoning کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔ جس طرح سویٹر کے ایک دھاگے تک تو محنت کرنی پڑتی ہے جونہی سرا ملتا ہے، پورا سویٹر کھلتا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں عقلی (Rational) رویہ ایسا جادو ہے جس سے ہر مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ یہ فینومینا نشاۃ ثانیہ کی دین ہے۔ عقل نے انسان کو سنہرے خواب گھر میں قیام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انسانی زندگی چوں کہ موضوعی جکڑ بندیوں کا شکار رہتی ہے، لہٰذا اس سے نجات حاصل کی جائے۔ عقل کے ذریعے اشیا کی خصوصیات کو جان کر ان کو دسترس میں کیا جائے اور زندگی کو آسان بنایا جائے۔ عقل کی بالادستی یا کلی حاکمیت کا یہ خواب ٹوٹنا شروع ہوا تو مغربی دانش نے فکر کی روحانی واپسی کی بجائے عقل کے خلاف ردعمل ہی کو سب کچھ جاننا شروع کر دیا۔ یہ ایک طرح کا مغالطہ تھا۔ عقل کی حاکمیت روحانی اقدار (Subjectivity) کی نفی پر استوار ہوئی تھی مگر جب عقل پارہ پارہ ہوئی تو اس نے واپسی کا سفر اختیارنہیں کیا بلکہ عقل سے آگے جانے کی کوشش کی یعنی عقل کا ’’نامعقول‘‘ ردعمل، جسے وجودی تحریک میں Absurdکہا جاتا ہے۔ Absurdity بیسویں صدی میں مغربی فکر کا بڑا مسئلہ ہے۔ ہیگلین فکر اگرعقل کا ’سینھیسس‘ پیش کر رہی تھی تو مارکس نے اس کا اُلٹ بھی عقل ہی کی شکل میں پیش کیا اور سب کچھ معاش کے خانے میں فٹ کر دیا۔
’ ’عقل کی مدد سے حقیقت تک رسائی ممکن ہے۔ ‘ ‘

یہی وہ تھیسس تھا جسے ہیگلین اور مارکسی فکر نے سینتھیسس بنا کر انسانی زندگی کو مزید جکڑ دیا۔ سارتر نے جب Nausea (متلی) لکھا تو اس نے اپنے تھیم کو متشکل کر لیا تھا کہ انسان بطور فرد سماج کا غلام نہیں بلکہ کامل آزاد ہے۔ وہ اس سوال کا جواب پانے کی کوشش میں رہا کہ ہماری ہستی کا کیا جواز ہے، وہ ہستی جسے دھکا دے کر زندگی کی شاہراہ پر اتار دیا گیا ہے، اب یہاں کیا کرے؟
اس لیے دل بُرا کیا ہی نہیں
زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں (فیضی)

اس نے ہستی کا جواز تلاش کر لیا تھا کہ’ ہستی کا کوئی جواز نہیں‘۔ یہ ایک لا یعنی عمل ہے۔ نامعقولیت (unreason) میں جیتے ہوئے ہم اپنے اردگرد کو تلاش کرتے ہیں۔ ادب میں فکشن کی طرح ڈرامے میں بھی لایعنی سوال کو اُٹھایا گیا اور کرداروں کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ دیکھیئے زندگی کس قدر غیر منطقی ہے، جسے ہم منطق کا نام دینے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی اتھاہ میں غیر منطقیت کا ٹھہرائو ہے۔

صفدر رشید صاحب نے وجودی فکر کے نمائندہ ڈراما نگار یوجین آئن سکو  (Eugène Ionesco) کے ڈرامے ’’خالی کرسیاں‘‘The Chairs کا ترجمہ کرکے اردو دنیا پر احسان کیا ہے۔ یہ ڈرامہ انسانی فکر میں پائی جانے والی لایعنیت یا نامعقولیت کواس خوبی سے بیان کرتا  ہے کہ عقلی رویہ بھی دھنگ رہ جاتا ہے۔ صفدر رشید خود بیان کرتے ہیں کہ ’’کیفیت سے بھرپور یہ ڈرامے ایک آدھ مرتبہ قرات سے نہیں کھلنے والے۔ لخت لخت کرداروں کے دل و دماغ اور ارادے اور عمل میں ربط نہیں، لہٰذا قاری کو اور ناظر کو بہت چوکنا ہونا پڑتا ہے۔‘‘ عموماً مضحکہ خیزی کی بنیاد بھی نامعقولیت پر ہوتی ہے۔ یعنی وہ عمل جس کو Reason قبول نہ کرے۔ ظاہری بات ہے کہ ہمارا ذہن معاشرے کی متعین کی ہوئی منطق کو بھی قبول کر رہا ہوتا ہے۔ معاشرتی منطق ایک وقت میں آکے ذہن کا فطری عمل بن جاتی ہے۔ لہٰذا جب انسان اپنے سامنے معاشرتی منطق کے خلاف بھی کوئی کام دیکھتا ہے تو اسے غیر منطقی یا عقل کے خلاف قرار دیتا ہے۔ Absurdوالوں کا ایک بڑا مقصد اس معاشرتی منطق کے خلاف ردعمل بھی تھا۔ صفدر رشید لکھتے ہیں:

’’اس تھیٹر نے روایتی تھیٹر کے خلاف بغاوت کی۔ سٹیج سیٹنگ سے لے کر کردار مکالموں اور پلاٹ تک ہر ہر چیز اینٹی تھیٹر کے زمر ے میں آتی ہے۔ ان لوگوں کا زبان بطور ذریعۂ ابلاغ پر اعتبار نہیں۔ ‘‘

احمد جاوید صاحب نے بھی لایعنیت کے ان ڈراموں کی فنی حیثیت کو شکیسپیر کے درجے کی چیز کہا ہے۔ بلکہ، ان کے بقول، آئن سکو اور بیکٹ ڈرامہ نگاری میں شکیسپیر کوبھی پیچھے چھوڑتے نظر آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ Waiting for Godot کا مرکزی کردار اپنی الجھنوں میں Hamlet سے بلکہ شیکسپیئر کے کسی بھی کردار سے زیادہ وسعت، گہرائی اورمعنی خیزی رکھتا ہے۔ Absurd  ڈرامے ظاہر ہے سمجھ میں آنے کے لیے نہیں لکھے گئے تھے لیکن ان کو نہ سمجھ سکنے کی حالت بھی اتنی کیفیت انگیز اور معنی خیز ہے کہ آدمی اپنے دستیاب طرز احساس اور اُسلوبِ ادراک سے اسے سہارنہیں سکتا۔ ‘‘

یہ ڈراما بڑا منفرد تخلیقی تجربہ ہے۔ ناظر یا قاری لایعنیت اور بوریت کے تجربے سے گزرتے ہوئے حقیقتِ زندگی کے اس پیغام کو پا تا ہے کہ واقعی زندگی ہے ہی لایعنی یا غیر منطقی۔ جس طرح مابعد جدید اسلوب میں فکشن کو مروجہ سانچوں سے نکال کر زندگی کے غیر منطقی پلاٹ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح تھیٹر آف ابزرڈ نے زندگی کی نامعقولیت کو قابو میں لانے کی سعی کی۔ صفدر رشید نے دیباچے میں وضاحت کی ہے کہ ڈرامے کا ایک کردار’’ مقرر‘‘ جب بولتا ہے تو اس کی کچھ سمجھ نہیں آتی، جب وہ کچھ بورڈ پر لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھی نافہم ہوتا ہے مگر مقرر سمجھتا ہے کہ اس نے بوڑھے اور بڑھیا کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ اگر ہم اس تھیم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تاریخ میںہر بڑا فن پارہ، تحریر یا متن Absurd ہے، وہ بڑے بڑے فنی نمونوں میں پیش کیا جا رہا ہے، اپنے تئیں مکمل ہوتا ہے۔ کامل ابلاغ کرنے میں کامیاب سمجھا جاتا ہے مگر تاریخ کے کسی موڑ پر سب کچھ لایعنی اور مبہم دکھائی دینے لگتا ہے۔ بالکل گونگے کی گفتگو کی طرح۔ بولے کو سنائی دینے والی آواز کی طرح۔ خالی کرسیاں کا متن ملاحظہ کیجئے، بالکل یہی کچھ دکھائی دے گا۔ سٹیج زندگی کو پیش کر رہا ہے۔ پیغام پہنچایا جا رہا ہے مگر سب کچھ گونگا ہے۔ جو لکھا جا رہا ہے وہ لایعنیت سے لبریز ہے۔ احمد جاوید صاحب اس ابزرڈٹی کو مابعد جدیدیت کی غیر حتمیت یا تکثیریت کا متبادل سمجھتے ہیں، بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں:

’’مابعد جدیدیت میں چاہے اس بات پر کچھ اختلاف ہو لیکن مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ Postmodernism کے ادبی اثاثے کا سب سے قیمتی حصہ Absurd Plays ہی ہیں۔ Absurdدراصل وہ حقیقت یا معنی ہے جو انسانی ذہن کی گنجائش سے زیادہ ہے۔ Absurd Theater نہ ہوتا تو د ریدا اپنے بنیادی نظریۂ التواے معنی تک شاید نہ پہنچ سکتا۔ Waiting for Godotنہ ہوتے تو دریدایہ شہرۂ آفاق فقرہ شاید نہ کَہہ سکتا:
Meanings are beyond presence‘‘

میرے خیال میں لایعنی یا Unreason ہونے میں اور تکثیری یا Multimeaning ہونے میں بہت فرق ہے۔ بلکہ دونوں کسی حد تک اُلٹ ہیں۔ بیک وقت ایک سے زیادہ معنی ہونے کا مطلب ہے کہ کوئی معنی حتمی نہیں، کسی ایک معنی پر اصرار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک وقت میں کئی معنی رائج ہو سکتے ہیں۔ ایک معنی کے ہونے سے باقیوں کا انکار یا رد نہیں ہو جاتا، جب کہ لایعنی (Unreason) ناقابلِ ترسیل کیفیت ہے۔ یعنی معنی ہے ہی نہیں۔
صفدر رشید صاحب تھیٹر آف ابزرڈ کو لایعنی معنی کا محرک قرار دیتے ہیں جو ’’خالی کرسیاں‘‘ میں بھی ناقابلِ ادراک معنی کی صورت میں موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’وجودیت کا یہ قضیہ سب سے بہتر طور پر ’خالی کرسیاں‘ میں پیش ہوا ہے۔ بوڑھا جس پیغام کو انسانیت کو پہنچانے کے لیے، اپنی عمر بھر کا حاصل، جدوجہد کرتا ہے، وہ ناقابلِ ترسیل اور ناقابلِ فہم ہے۔ ‘‘ص ۱۶

’’خالی کرسیاں‘‘ نے اپنے ناظر کو پیغام دیا ہے کہ زندگی کی جمالیاتی قدر کو متعین کرنے سے پہلے اس ایک حقیقت کا تعین کر لینا چاہیے کہ زندگی بذاتِ خود ایک لایعنی عمل ہے۔ زندگی کیا ہے؟ اس مشکل سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ زندگی کے معنی کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ڈرامہ ’’خالی کرسیاں‘‘ کے چوبیسویں منظر میں بوڑھا(کردار) ناظرین کی طرف دیکھ کر کہتا ہے:

’’ایسی پُر سکون اور طویل عمر عطا ہونے پر ہم قدرت کے شکر گزار ہیں۔ ۔ ۔ میری زندگی کا جام اب لبریز ہو چکا ہے، میرا مشن اب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ مجھے بے مصرف زندگی بسر نہیں کرنی، ویسے بھی میرا پیغام دنیا تک جلد پہنچ نے والا ہے۔۔‘‘ ص ۸۱

مقرر بوڑھے کا پیغام دینا چاہتا ہے مگر وہ ناکام رہتا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ پیغام دے نہیں پاتا بلکہ وہ جو پیغام پہنچا رہا ہوتا ہے وہ لایعنیت کا روپ دھار لیتا ہے۔ ابزرڈ تھیٹر والوں نے ایک اسی پیغام کو مرکزی پیغام بنانا چاہا کہ پیغام دیا ہی نہیں جا سکتا۔ معنی کی ترسیل ہی ناممکن ہے۔

صفدر رشید صاحب لکھتے ہیں:

’’ایک لحاظ سے ان لوگوں نے زبان کے امکانات کو سیع کیا کہ جو نہیں کہا گیا، جو نہیں لکھا گیا، وہ زیادہ معنی خیز ہے، یوں لغوی معنی اور رائج معنی سے بلند ہونے کا موقع ملا۔ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا؍ وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔ ‘‘

یہاں غالباًخاموشی سے مراد Unsaid معنی ہے جسے مشرقی شعریات میں ناگارجُن نے ’’شونیتا‘‘ کہا تھا۔ ایسا معنی جو وقفوں میں یاعبارت کے بین السطور بیان کر دیا گیا ہو، ’ خاموش‘ معنی کہلاتا ہے۔ متن میں خاموشی مکمل معنی رکھتی ہے۔ بلکہ ظاہری معنی سے زیادہ معنی دینے لگتی ہے۔ قاری کا تخیلی پس منظر بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ وجودی نقطۂ نظر معنی کی عدم ترسیل کا دعوے دار تھا۔ دوسرے لفظوں میں خاموش معنی ایسا معنی ہے جو پس منظر میں چلا گیا ہے یا جسے دریافت کیا جا سکتا ہے مگر لایعنیت ایسی کیفیت ہے جو کسی بھی معنی کو نہیں مانتی، یعنی معنی ناقابلِ ترسیل اور ناقابلِ فہم ہے۔ یوںوجودیت’’ خاموشی‘‘ کو نہیں بلکہ لایعنی معنی کو اپنا نمائندہ سمجھتی ہے۔

کچھ وجودی شعرا کے ہاں بھی زندگی کی بنیاد لایعنیت پر مبنی ہے مگروہ اس میں سے معنی کشید کرنے کے حق میں بھی ہیں۔ یہی لایعنیت زندگی کی معنی خیزی کو جنم دیتی ہے۔ مجید امجد ایسا شاعر ہے جوو جود کی لایعنیت کو مانتے ہوئے بھی زندگی کی رجائیت کا قائل ہے:

نہ کوئی مشرق
نہ کوئی مغرب
مگر وہ اک زینۂ مراتب
جو ان گنت بے زباں غلاموں کو ٹوٹتی پسلیوں
پہ کل بھی ہزار کف دردہاں خدائوں کے بوجھ سے کچکچا رہاتھا
وہ آج بھی اک وہی ترازو کہ جس میں زنجیر پوش
روحوں کے شعلہ اندام دست وبازو بہ مزدیک
اشک تل رہے ہیں
اگر یہی تھا نصیب دوراں… یہ نالۂ غم… یہ اک مسلسل
خروش ا نبوہ پابجولاں
ازل کی سرحد سے نسلِ آدم کی یہ کراہیں جوروز وشب کے عمیق
سنّاٹوں سے پیہم ابھر رہی ہیں
نہ چشم و لب کے فسانہ ہائے سرشک وشیون
اگر مقدر یہی تھا، اپنا، تو یہ مقدر… یقین جانو…اٹل نہیں تھا۔ (مشرق ومغرب)

صفدر رشید صاحب نے Absurdتھیٹر کو مغربی فکر کی معراج سے جوڑا ہے۔ ان کے بقول مغرب اب جغرافیہ نہیں بلکہ ایک طرز فکر اور اسلوبِ زندگی ہے۔ فرد کی تنہائی لایعنیت کی فصل بُو رہی ہے۔ جب تک فرد تنہا ہے یہ تھیٹر بھی زندہ ہے۔ انھوں نے بہت خوبصورت تجزیہ پیش کیا :

’’اکیسویں صدی کا انسان کتنی دیر ان نئے کھلونوں سے بہلتا ہے۔ کبھی نہ کبھی وہ جنوں میں آکر ان کھلونوں کو تہس نہس کرنے کی کوشش کرے گا۔ کھلونا ساز بھی اس خطرے سے آگا ہ ہیں۔ اس لیے نت نئے کھلونے بنتے جا رہے ہیں، بنتے جا رہے ہیں۔۔۔۔‘‘ ص ۱۹

فرد کی تنہائی اور مشینی بے معنویت پر مجھے انجم سلیمی کی ایک نظم یاد آ گئی۔ ڈرامہ ’’خالی کرسیاں‘‘ پڑھتے ہوئے آپ اس احساس سے گزریں گے۔ نظم سنیے:

’’تنہائی کا سفر نامہ ‘‘

شام ہوتے ہی گھر مجھ سے چھوٹا پڑ جاتا ہے
میں رستوں کی بد دُعا پر نکلا ہوں
جہاں آنکھوں کو چہرے کمانے سے فرصت نہیں
لگتا ہے تنہائی مجھ سے اُوب گئی ہے
سانسیں میلی ہورہی ہیں
مٹی نے مجھے پُھول بنادئیے
خوشبو۔ ۔ ۔ ۔ ہوَا کی دوست ہو جائے
تو بے رنگے لوگ رنگ رنگ کی باتیں
کرتے ہی ہیں
)وہ خواہ کتنے بھی چھوٹے ہو جائیں۔ ۔ ۔
اچھا موسم اُن پر کبھی پُورا نہیں آتا(

بدزبانوں کو معلوم نہیں
عریانی صرف آنکھوں پر جچتی ہے

میں زمین پر گِرا ہوا چاند ہوں
قدموں سے پہلے دیوار مجھے پھلانگ رہی ہے
منڈیر پر دھرا چراغ مجھ سے زیادہ روشن ہے !
میں بھی تو میں ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک گناہ کے عوض اپنی ساری نیکیاں
خرچ کر بیٹھتا ہوں
خاموشی کے خالی بدن میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی دُھن مجھے گنگناتی رہتی ہے
اُداسی اور کہاں رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاش خدا مجھے دیکھ رہا ہو!

صفدر رشید صاحب نے خالی کرسیاں ‘‘ کا ڈرافٹ اردو میں اس خوبصورتی سے ڈھالا ہے کہ اردو کا حصہ لگتا ہے۔ کئی لفظوں میں ’’اردویت‘‘ کو اولیت دی گئی ہے جیسے ’’بلا شرکتِ غیرے، پیٹوپن، بندۂ بے دام، جانِ من وغیرہ۔ آخر میں قارئین کے لیے ضمیر علی بدایونی کاایک تنقیدی مضمون ’’لایعنی تھیٹر۔۔۔ خالی کرسیاں‘‘ بھی شامل کر دیا گیا ہے تاکہ قارئین کو اس ضمن میں زیادہ مواد میسر آ سکے۔

اس ڈرامے کی اشاعت سے اردو دان طبقے کے لیے ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کو اس ترجمے کی اشاعت پر بہت مبارک۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply