افغانستان: جدید تہذیب، ملت اسلامیہ اور مستقبل کی صورت گری —- ابرار حسین

0

ایک مشترک تصور کائنات کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایسا انضباط جو ایک ملت کی ذہنی اور مادی ضرورتوں اور مفادات کی ایک عرصے تک کفایت کرسکے تہذیب کہلاتا ہے۔ ہر تہذیبی مظہر کچھ محدود اور متعین امکانات کا حامل ہوتا ہے۔ یہ امکانات جب مکمل طور پر بروئے کار آجاتے ہیں تو تہذیب جن انسانی مفادات کی کفیل ہوتی ہے اب ان سے تصادم کی نسبت پیدا کرلیتی ہے۔ جب کبھی کسی تہذیب میں یہ تصادم واقع ہوتا ہے تو پھر اس کے لیئے موت کے انتظار کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ تہذیب جب انسانی مفادات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے تو قدرت خود تاریخی عمل میں مداخلت کرتی ہے۔ قدرت کی مداخلت کی کئی صورتیں ہیں جو انسانی تاریخ کے مختلف مرحلوں میں ظاہر ہوئی ہیں۔ ماضی میں کبھی کسی تہذیب کو ناگہانی آفات سے تباہ کیا گیا ہے تو کبھی جنگوں کے ذریعے۔

جنگوں کی بے شمار شکلیں تاریخ میں مذکور ہیں۔ بیمار اور بانجھ تہذیبوں کو نیست و نابود کرنے کی خاطر قدرت نے کبھی تو قبائلیوں کو غالب تہذیب پر مسلط کیا ہے اور کبھی اس تہذیب کے مختلف مراکز کو باہمی تصادم میں مبتلاء کرکے اسے حرف غلط کی طرح لوح جہاں سے مٹا دیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں قبائل ہمیشہ سے موجود چلے آتے ہیں۔ یونان کو رومی قبائل نے اس وقت تباہ کردیاجب یونانی تہذیب میں مزید نمو کے امکانات کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ یونانی تہذیب کے کاٹھ کباڑ سے سلطنت روما وجود پذیر ہوئی۔ جب رومی تہذیب داخلی تضادات کا شکار ہوکر منتشر ہونے لگی تو قدرت نے ہنز قبائل (Huns Tribes) کے ذریعے اس کا خاتمہ کردیا۔ مسلم تہذیب کے بعض مظاہر چنگیزیوں کے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں خدائے بزرگ و برتر کی تکوینی حکمت کے تحت یورش تاتار نے کعبے کی پاسبانی کی صورت اختیار کرلی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مسلم تہذیب کی نوعیت اورترکیب و فعلیت تاریخ انسانی میں ظہور کرنے والی باقی تمام تہذیبوں سے قطعی ممیز و ممتاز ہے۔

اسلام آخری دین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ امت مسلمہ خاتم الامم ہے۔ مسلم تہذیب اپنے تمام تر تنوع کے باوجود وحدت اساس رہی ہے۔ توحید، ختم نبوت اور وحدت انسانی جیسے اعتقادات وتصورات مسلم تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے ممتازکرتے ہیں۔ مسلم تہذیبی مظاہر کے زوال کا مطلب اسلام کی تہذیب ساز قوت کا خاتمہ نہیں ہے۔ اسلام ماضی میں اپنے تہذیبی مراکز بدلتا رہا ہے۔ ایک مسلم تہذیبی مظہر جب اپنے امکانات پورے کرلیتا ہے تو اس میں انحطاط واقع ہو جاتا ہے اور ایک نیا مظہر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ ماضی میں ایسا بارہا ہو چکاہے۔

Royalty free muslim photos | Pikistدور جدید میں بھی مسلم تہذیب کومغربی جدیدیت کی طرف سے جن چیلنجز کا سامنا ہے مسلم تہذیب بتدریج ان کے مقابل نیا توازن دریافت کرنےکی طرف بڑھ رہی ہے۔ مستقبل میں مسلم تہذیب نئی جہت سے ظہور کرے گی اورنئے مسلم تہذیبی مراکز وجود میں آئیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ اس دفعہ مسلم تہذیب کا یہ ظہور خلافت انسانی اور اسلام کے وصف عالمگیریت کی جہت سے ہوگا۔ پچھلی دوچار صدیوں میں جدید مغرب کی تمام تر پیش رفت اسلام کے عالمگیر جوہر کے ظہور میں صرف ہوگی۔ اسلام کو اپنی تاریخ میں یہ موقع پہلی دفعہ میسر ہوگا۔ اس وقت مسلمانان عالم کو حال اور مستقبل کو اس نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آمدم برسر مطلب، اسلام حقائق کے جس کلی بیان کا نام ہے اس کے مختلف پہلو انسانی احوال اور تاریخی تغیرات کی مناسبت سے تہذیبی سطح پرظہور کرتے رہتے ہیں۔ مسلم تہذیب کی نوعیت، خاصیت اور فعلیت سے متعلقہ ان تصورات کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ اسلام اور مسلم تہذیب کی تقدیر دیگر تہذیبوں سے قطعی ممیز و ممتاز ہے۔

بیسویں صدی کی آخری دہائیوں تک جدید مغربی تہذیب اپنے عروج کو چھونے لگی تھی یعنی جدید تہذیب اپنے امکانات کو بروئے کار لانے کے آخری مراحل تقریبا طے کر چکی تھی۔ یہ واقعہ ہے کہ عظیم جنگوں کے بعد بیسویں صدی کے نصف ثانی میں جدیدیت کا منصوبہ علمی اور عملی ہر دواعتبارات سے بحران کی زد میں آچکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مابعد جدید عہد میں ہونے والی فکری پیش رفت جدیدیت کی تردید کرتے ہوئے صرف شعور کے انہدام پر ہی اصرار نہیں کرتی بلکہ یہ ارضی تاریخ کے بہاو میں انسانی تقدیر سے بھی مکمل مایوسی کا اعلان کرتی ہے۔ جدیدیت نے ایک طرف تومطلق انسانی آزادی کا دعوی کیا تھا اور دوسری طرف اس نےعقل کو مستقلا معانی اور اقدار کا سرچشمہ قرار دیا تھا۔ مابعد جدیدیت نے جدیدیت کے ان دونوں دعووں کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مابعد جدید فلسفی جدیدیت کی تحلیل و تردید کرتے کرتے سوفسطائیت کے چشمئہ زہرآب میں غرقاب ہو گئے ہیں۔ ایسے میں جدید تہذیب کے تمام تصورات و اقدار اپنی ثقاہت کھو چکے ہیں۔ مابعد جدید عہد میں مغرب تہذیب کی بجائے لایعنیت کی دلدل میں اٹھنے والے بھونچال سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہ گیا۔

پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ کسی تہذیب کو جب یہ مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو اس کا فنا ہونا یقینی ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے وابستہ انسانی مقاصد مجروح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس وقت جدید مغربی تہذیب انسان کے نوعی اور اخلاقی مفادات کے لیئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اب اس سے انسان کی نوعی بقاء کو ہی خطرات لاحق ہیں۔ جس تیزی سے جدید مغرب مشین کلچر کو فروغ دیتا جارہا ہے قریب ہے کہ انسانوں کی اکثریت جبر کے علاوہ مکمل تعطل کا شکار ہو کر رہ جائے۔ کائنات کی فطرت کو تو پہلے ہی مسخ کیا جا چکا ہے اب انسانی تخلیق میں مداخلت کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ مرضی کے انسان پیدا کیئے جا سکیں۔ اس کا امکان یا عدم امکان اس وقت ہمارے زیر بحث نہیں ہے۔ ہماری مراد بس یہ ہے کہ ذہانت کو سرمائے کی مرادات پر ڈھال کر خطرناک حد تک فعال کردیا گیا ہے۔ جدید علمیات اور خاص کرکے جدید سائنسی علمیت کسی بھی قسم کی اخلاقی قیود اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہے۔ اس مسئلے کی وضاحت ایک مثال سے کی جاسکتی ہے۔ مثلا، ایک انسان اگر غیر معمولی جسمانی قوت کا حامل ہو تو کیا اسے اس قوت کےاستعمال کرنےکی مطلق آزادی دی جا سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ ہر گز نہیں۔ اس پر اخلاقی اور قانونی حدود کا اطلاق کیا جائے گا وگرنہ وہ انسان اپنے لیئے اور دوسروں کے حق میں سخت مضر ثابت ہو گا۔ یہ طاقت اور اخلاق کے باہمی تعلق کا مسئلہ ہے۔ ذہانت کو بھی اسی پر قیاس کر لیجیئے۔ اگر ذہانت اخلاقی قیود سے بے نیاز ہو کر عمل کرے گی تو کائناتی اور انسانی تباہی کا سبب بنے گی۔ جدید مغرب نے انسانی ذہانت کی خود مختاری کا التباس پیدا کرکے اسے سرمائے کی غیر مشروط اطاعت پر مامور کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ہمارے نزدیک عقیدے سے ہٹ کر اخلاق کا سرے سےکوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ اخلاق عقیدے سے کٹ جائے تو اضافیت کا شکار ہوکر مفاد پرستی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ عقیدے کے انکار کا منطقی لزوم ہے۔ اخلاق اپنی اصل میں جبلت کی عقل کے سامنے ارادی مغلوبیت ہے۔ مگر کون سی عقل کے سامنے؟اس عقل کے سامنے جو ایمان بالغیب سے بہرہ مند ہو۔ معلوم ہے کہ عقل کی خاصیت اسے غیر سنجیدگی اور عدم مرکزیت پر اکساتی رہتی ہے۔ عقل کے اس مسئلہ کا کوئی بھی حل عقیدے کے اثبات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عقیدہ عقل کو مرکزیت تو عطا کرتا ہے مگر اسے جبریت کی وحشت سے بچا لے جاتا ہے۔ مغرب نے ابتداء میں عقیدے کو ترک کر کے اخلاق پرستی کا راگ الاپا، لیکن اب وہ اخلاق کی رد تشکیل کا عمل بھی مکمل کر چکا ہے۔ یہ ہے ادراک حقائق اور انسان فہمی کے مسئلے پر جدید مغرب کی معراج!

Pakistan cannot go on running with the hare and hunting with the hounds - Hindustan Timesجدیدیت انسان کی وجودی شناخت کو تاریخیت کی سان پر کسنے کا نام ہے۔ انسان تغیر اور دوام کے اقالیم کے درمیان وجود جامع ہے۔ وجود کے مراتب کا استحضار انسان کی اولین ذمہ داری ہے۔ انسان اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے تو اس کا تشخص مجروح ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جدیدیت تکبر جبکہ مابعد جدیدیت عقل کی حماقت کی معراج ہے۔ یہ امر کم حیرت انگیز نہیں ہے کہ انسان کی مطلق آزادی کے اثبات کی خاطر لایعنیت کو وجود و شعور کی اصل ثابت کیا جائے۔ حالانکہ انسان کی حقیقی تکلیف آزادی اور معنویت ہے نہ کہ جبر اور لایعنیت! جدیدیت اور مابعد جدیدیت دونوں کے بنیادی مقدمات غیر سنجیدگی اور ہوس پرستی کی بنیاد پر اٹھائے گئے ہیں۔ مغربیوں نے تاریخ کو سٹیج، کائنات کو تھئیٹر اور زندگی کو ڈراما سمجھنے کی سنگین غلطی کی ہے۔ اس تناظر میں ہم کہتے ہیں کہ جدید مغرب جدیدیت کی بنیاد پر وجود پذیر ہونے والی نام نہاد تہذیب کے امکانات پورے کر چکا ہے۔ چنانچہ مغرب کے پاس اس وجودی بحران سے نمٹنے کے لیئے اندھی طاقت پرستی کے علاوہ اب اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ معلوم ہے کہ طاقت پرستی کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔

بیسویں صدی میں عظیم جنگوں نے یورپ کی سامراجی سلطنتوں کا خاتمہ کرکے جدید تہذیب کے قافلہ آوارگاں کی قیادت امریکہ اور روس کے سپرد کردی تھی۔ ملحوظ خاطر رہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال میں جنگوں نے ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ یورپی سامراجی سلطنتوں کا خاتمہ بھی ان کی آپسی جنگوں کے نتیجے میں ہوا۔ جدید تہذیب جس درندگی پر بنا کی گئی تھی وہ بالآخر اپنے ہی بچوں کو ہڑپ کر گئی۔ حالانکہ یورپ ورائے انسانی اعتماد سے بیسویں صدی میں داخل ہوا تھا اور عظیم جنگوں سے پہلے کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ 80 فیصد سے زائد زمین پر تسلط قائم کرلینے والی یورپی سامراجیت داخلی تضادات اور نتیجتا باہمی جنگوں کے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اترے گی۔ لیکن تاریخ ایسی ہی انہونیوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ تقدیر کا بھنور ہے جو تدبیر کے حصار کو نگل جاتا ہے۔

جب تقدیر حرکت میں آتی ہے تو تاریخی قوتیں تقدیر کی موافقت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسے میں انسانی تدابیر، توقعات اور ارادے بھی مکمل طور پر تقدیری نتائج کے عمل ظہورکے تابع ہوجاتے ہیں۔ یہاں اس وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ تقدیر سے اخلاقی جبر لازم آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تاریخ کے جبر میں تقدیر انسانی آزادی اور معنویت کی واحد ضمانت ہے۔ ہماری رائے میں تقدیر انسان کی بھلائی کے ضمن میں الوہی معاونت ہے۔ تقدیر نہ ہو تو انسان کے تاریخی وجودی احوال جبر قرار پائیں گے۔
یہ تقدیر ہے جو انسان کو جبر سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کے وجودی تجربات کو لایعنیت میں نہیں ڈھلنے دیتی۔ جدید مغرب کا بہت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ تاریخ کے ہر تجزیئے کو محض انسانی سطح پر گھسیٹ لاتا ہے۔ زمان کیا ہے؟ زمان کو کائناتی سکیل پر دیکھا جائے یا انسانی جہت سے، یہ تقدیر کے امکانات کے ظہور کا آلہ ہے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ تاریخی تغیرات انسانی اور کائناتی امکانات کے ظہور کی ضمانت ہیں اور تقدیر سے ہمارے جوہرانسانیت کو بقا ہے۔

گزارش ہے کہ جدید تہذیب  کی قیادت ایسے وقت میں امریکہ اور روس کے سپرد ہوئی جب عظیم جنگوں کے نتیجے میں جدیدیت کے منصوبہ کو پہلے ہی شدید بحران کا سامنا تھا۔ امریکہ اور روس بظاہر مختلف بلکہ متضاد سیاسی اور معاشی ایجنڈے کے ساتھ بین الاقوامی منظر نامے پر ابھرے۔ تاہم سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور اس سکے کا نام ہے مادیت پرستی۔ انفرادیت پرستی اور اجتماعیت پرستی مادیت پرستی کے ہی دو ظہورہیں۔ حقیقت میں امریکہ اور روس اپنے اپنے انداز سےجدید مغربی تہذیب ہی کی توسیع تھے۔ تقدیر نے انہیں بھی باہمی تصادم کی حالت میں لا کھڑا کیا۔ علاوہ ازیں، ماضی بعید میں قبائل خود غالب تہذیب کے مراکز کی طرف پیش رفت کرتے تھے مگر دور جدید میں اس اصول کی تقلیب ہوگئی۔ اس کی وجوہات ظاہر ہیں۔ سب سے بڑی وجہ طاقت کا عدم توازن ہے۔ دور جدید میں غالب تہذیب نے خدائے قہار کی تکوینی حکمت کے تحت خود اپنی تباہی کے اسباب فراہم کیئے  ہیں۔ یعنی یہ خود چل کر قبائل کے چنگل میں پھنسی ہے۔ جدید مغربی تہذیب کے لیئے قدرت نے افغانیوں کو قہر بنا دیا ہے۔ سابقہ سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ جب غالب تہذیب مفادات انسانی کے لیئے ضرر رساں ہو جاتی ہے تو قدرت تاریخی عمل میں مداخلت کرکے اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔ انسانی تاریخ میں قدرت کی مداخلت کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ قدرت قبائل کو غالب تہذیب پر مسلط کردیتی ہے۔ میری رائے ہے کہ قبائل قدرت کے ہاتھ میں تازیانے کی مثل ہیں۔

افغانستان کے خطے کو قدرت نے جدید تہذیب کے زوال کے آلہ کار کے طور پر منتخب کیا ہے۔ افغانستان جدید تاریخ میں قہر خداوندی کا مظہر بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ خطہ زمین طرز بودوباش کے اعتبار سے قبائلی اور جدید تمدن سے کوسوں دورہے۔ چنانچہ اس خطے میں بسنے والوں کا شعور اپنی فطری سادگی پر قائم ہے اور ان کا ارادہ اور قوت عمل حقیقی انسانی مفادات کی محافظ ہے۔ افغانستان کی تزویراتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کرلیجیئے کہ اسے Heartland کا اہم ترین حصہ کہا جاتاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دور جدید میں افغانستان پر تسلط قائم کرنا دنیا پر غلبہ پانےکی ضمانت ہے۔ بالخصوص ایشیاء کے لیئے اس کی اہمیت اس لیئے بھی بہت زیادہ ہے کہ بقول علامہ محمد اقبال ایشیاء جسد واحد کی طرح ہے اور اس کیلیئے افغانستان کی اہمیت ویسی ہی ہے جیسی دل کی انسانی جسم کے لیئے۔ ایشیاء کے فساد و کشاد کا انحصار افغانستان کی اندرونی صورت حال پر ہے۔

man, old, afghanistan, person, thoughtful, turban, portrait, muslim, tooth gap, bear, tradition | Pikistماضی میں بھی خطہ افغانستان کو اہمیت حاصل تھی لیکن اس کا تناظر مختلف تھا۔ تب اس خطے کو صرف ہندوستان میں مستحکم اقتدار کی کنجی سمجھا جاتا تھا۔ تاہم بیسویں صدی میں بین الاقوامی سیاست و معیشت میں درآنے والی تاریخی تبدیلیوں نے افغانستان کی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے۔ بین الاقوامی سیاست و معیشت کے مراکز بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں میں مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونا شروع ہوئےجس کے اسباب معروف ہیں۔ مراکز کی اس تبدیلی نے بحیرہ روم کی بجائے بحر ہند اور اس سے ملحقہ علاقے کی حیثیت مکمل طور پر بدل ڈالی ہے۔ افغانستان وسط ایشیاء، یورپ، جنوبی ایشیاءاور مشرق وسطی کے سنگم پر واقع ہے۔ افغانستان کی اس اہمیت کے پیش نظر عالمی طاقتیں خطرات کے باوجود افغانستان میں تسلط قائم کرنا ضروری سمجھتی رہیں ہیں۔ چنانچہ روس نے سرد جنگ کے زمانے میں افغانستان کی طرف پیش قدمی کرکے اس پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی توافغانیوں کے ہاتھوں اس کا زوال ہوگیا۔ USSR کے زوال کے بعد ایک طرف تو روس کو اپنے مقبوضہ جات سے ہاتھ دھونے پڑے اور دوسری طرف کمیونزم کا پھیلاو اپنی خالص شکل میں مستقلارک گیا۔ روس کے زوال کے بعد جدید تہذیب کی دستار فضیلت کا سزاوار ایک اکیلا امریکہ قرار پایا۔

امریکہ نے 1991 کے بعد NWO جاری کیا۔ نیو ورلڈ آرڈر ایک طرح سے امریکہ کی عالمی حکومت کے قیام کا اعلان تھا۔ فوکو یاما وغیرہ نے روس کے زوال سے یہ فال نکالی کہ تاریخ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ کیونکہ جدید مغربی تہذیب کی لبرل اقدار کے مدمقابل کوئی نظام الاقدار باقی نہیں رہا۔ تاریخ چونکہ جد لیاتی انداز سے سفر کرتی ہے اور امریکہ کے مقابل تمام تہذیبیں سر نگوں ہیں لہذا اب تاریخ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ امریکہ رعونت میں مبتلاء ہو کرجدید تہذیب کے بحران زدہ منصوبے کو عالمگیر سطح پر فروغ دینے کی مہم پرکمر بستہ ہوگیا۔ لیکن تقدیر کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ صرف ایک عشرے کے اندر امریکہ نے نام نہاد مہذب دنیا کی تمام تر جنگی قوت سےافغانستان پر حملہ کرنے کی غلطی کردی۔ امریکہ کے گھمنڈ کا عالم یہ تھا کہ اسے لگا وہ تھوڑے ہی عرصے میں افغانستان کو نمونہ عبرت بنادے گا۔ تاہم 2001 کے بعد جو کچھ ہوا وہ سامنے ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ واقعہ شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک بے مثل، منظم ترین اور طاقتور ترین جدید جنگی مشینری بھی استعمار کو فتح نہیں دلوا سکی۔ بلکہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکی استعمار کے مفادات پہلے کی نسبت زیادہ خطرات کا شکار ہوئے ہیں۔ افغانی طالبان نے نیٹو اور امریکہ کو اس کے اتحادیوں سمیت شکست، ذلت اور جگ ہنسائی کی عبرتناک مثال بنا دیا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا آغاز افغانستان میں ایک تاریخ ساز پیش رفت کے ساتھ ہوا ہے۔ امریکہ بالآخر جنگ کی بساط کو لپیٹنے پر مجبور ہوکرافغانستان کو اس نامراد، گھٹیااور ندیدے عاشق کی طرح تقریبا خیر آباد کہہ چکا ہےجو ہوس کی خاک چھانتے چھانتے مایوسی کی صلیب پر لٹکے ہمیشہ کے لیئے کوئے یار سے بے دخل ہونے کوہی غنیمت سمجھتا ہے۔ اس صدی کے پچھلے دوعشروں کے دوران افغانستان میں انسانی تاریخ کی بہت بڑی جنگوں میں سے ایک جنگ لڑی گئی جس نے بالعموم بین الاقوامی سیاست و معیشت اور بالخصوص پاکستان اور ایشیائی خطے کو ہمہ جہت طور پر شدید متاثر کیا ہے۔

اس طویل جنگ کے نتائج بہت دوررس ہوں گے جن کا درست اندازہ لگانے میں ابھی وقت لگے گا۔ تاہم چند باتیں تو بلکل واضح ہیں۔ جدید مغرب کی جنگی مشینری بری طرح سےناکام ہوئی ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی کو خدا سمجھنے والوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہےجس سے مثلا امریکہ کا چائنہ وغیرہ کے ساتھ تجارتی توازن بگڑ گیا ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ بین الاقوامی commitments سے دستبردار ہوا ہے۔ بین الاقوامی معاہدات پر عمل درآمد کروانے کی امریکی صلاحیت کمزور ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں بحران کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ امریکہ کی انصاف پرستی اور انسانی حقوق کی علمبرداری کی قلعی کھل گئی ہے۔ امریکہ کے عالمی قد کاٹھ میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ جنگ کے دوران چائنہ وغیرہ کو معاشی اور فوجی اعتبارات سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے۔ یہ طرفہ تماشا دیکھیئے کہ امریکہ نےاپنے تئیں چائنہ کو contain کرنے کے لیئے ہی افغانستان پر حملہ کیا تھالیکن نتائج امریکہ کے عزائم کے بلکل برعکس نکلے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست unipolar سے multipolar ماڈل کی طرف گئی ہے یعنی طاقت اور سرمائے کے نئے مراکز وجود میں آگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں شکست کی بازگشت کئی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔

شکست کے بعد اگرچہ امریکی اور نیٹو افواج کو افغانستان سے واپس بلالیا گیا ہے۔ 31 اگست 2021 تک افغانستان سےغیر ملکی فورسز کے انخلاء کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ لیکن فورسز کے انخلاء کے باوجود امریکہ اس خطے سے لا تعلق نہیں رہے گا۔ امریکہ اس خطے میں اپنےمزعومہ مفادات کےتحفظ اورروس، چائنہ، پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کا راستہ روکنے کے لیئے افغانستان میں مداخلت جاری رکھےگا۔ معلوم ہے کہ امریکہ نے افغان حکومت کے ساتھ طویل المدتی سٹریٹیجک پارٹنرشب کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ افغانستان میں لمبے عرصے تک مصروف عمل رہے گا۔ کابل رجیم کے خاتمے کی صورت میں اگر افغانستان کی حکومت طالبان کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے(جیسا کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش رفت سے واضح ہے)تو بھی امکان یہی ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں اثرورسوخ برقرار رہے گا۔

بین الاقوامی تعلقات کی کیفیت بہت سیال ہوتی ہے لہذا بین الممالک مستقل دوستی اور دشمنی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ماضی کے دوست حال کے دشمن جبکہ حال کے دشمن مستقبل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں امریکہ اور افغانستان(طالبان) کے تعلقات کی نوعیت کے بدلنے کا پورا امکان موجود ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں اثرورسوخ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ بہرحال اس کی خطے میں موجودگی روس، چائنہ اور پاکستان وغیرہ کے لیئے تشویش کا باعث بنی رہے گی۔ ان حالات میں یہ ممالک امریکی اثرورسوخ کو ختم/کنٹرول کرنے کی حکمت عملی ترتیب دیں گے۔

Terrorizing Afghanistan in the Name of Islam – The Diplomatامکان یہ ہے کہ ان تمام ممالک کو آئندہ باضابطہ طور پر طالبان سے ہی معاملات طے کرنے پڑیں گے۔ اس وقت بھی اس خطے کے ممالک کا طالبان کی طرف جھکاو صاف نظر آرہا ہے۔ طالبان ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ اگر کابل رجیم کے باقی رہنے کا امکان ہوتا تو خطے کے ممالک کا رویہ طالبان کی طرف مختلف ہوتا۔ علاقائی قوتیں طالبان سے ضمانت چاہتی ہیں کہ ان کے افغانستان میں برسر اقتدار آجانے کے بعد وہاں کی سرزمین ان ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ طالبان فعال سفارت کاری کے ذریعے تا حال سب کو یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف یہ کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں بلکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغانستان کی سر زمین کو استعمال نہیں ہونے دینا چاہتے۔ تاہم طالبان مستقبل میں درحقیقت کیا کرنے جاریے ہیں اس کا علم خود ان کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد سے اب تک طالبان قیادت کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس سے طالبان کی مستقبل بارے پالیسی سے متعلق کوئی واضح بات سامنے نہیں آتی۔ کیفیت یہ ہے کہ تمام علاقائی قوتیں بھی اس اعتبار سے مخمصے کا شکار ہیں۔ لیکن سردست طالبان پر یقین کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سب کو معلوم ہے کہ افغانستان میں آئندہ اقتدار طالبان ہی کو ملے گا۔ کابل رجیم کا خاتمہ اب نوشتہ دیوار ہے۔ مغربی میڈیا کچھ بھی کہے، حقیقت یہ ہے کہ غنی حکومت کو افغانستان کا اجتماعی ضمیر غدار سمجھتا ہے جبکہ طالبان افغانیوں کی نگاہ میں نجات دہندہ ہیں۔

یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ امریکہ ہو یا امریکہ کے مقابل ممالک ہوں سب کے لیئے افغانستان زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سب کو صورت حال کے جبر کے تحت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ یقینی بنانا ہے۔ گویا افغانستان عالمی اور خطے کی طاقتوں کے لیئے تقدیر کا بچھایا ہوا جال ہے اور سب کااس جال میں کسی نہ کسی انداز سے trape ہونا مقدر ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو واضح معلوم ہو جاتا ہے کہ جدید تہذیب اور اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ افغانستان کی سرزمین پر ہوگا۔ میری رائے میں اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ پہلے مرحلے کا حاصل یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں USSR  کا خاتمہ افغانستان کی وجہ سے ہوا اور اب امریکہ کے سپر پاور کے منصب کے انجام کا سبب بھی افغانستان ہی بنا ہے۔

اس عرصے میں جدید تہذیب کی معاشی اور سیاسی قوت منتشر ہوئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ منتشر قوت بتدریج کمزور ہوکر فنا کے گھاٹ اترے گی۔ امریکہ بین الاقوامی چودھراہٹ کے منصب سے معزولی کے بعد زیادہ شدت کے ساتھ اندرونی تضادات کا شکار ہوگا۔ اس کے ساتھ سینٹرل ایشیاء میں تسلط کا امریکی خواب بکھرے گا۔ یورپ میں امریکہ کے حوالے سے مایوسی بڑھے گی۔ اس کے ابتدائی آثار ٹرمپ حکومت کے دوران میں ظاہر ہوچکے ہیں۔

جہاں تک چائنہ کا تعلق ہے تو اس کے متعلق یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس وقت اس خطے میں چائنہ کے مفادات سی۔ پیک کی بدولت سب سے زیادہ ہیں۔ چائنہ اور افغانستان کا 91 کلومیٹر کا مشترک باڈر ہے۔ چائنہ کے لیئے افغانستان کی اہمیت اس کی تزویراتی حیثیت کی بدولت غیر معمولی ہے۔ چائنہ کسی صورت میں بھی افغانستان سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ چائنہ کی طرف سے افغانستان میں استعماری مداخلت کی صورت میں آئندہ ایک عشرے کے اندر افغانی طالبان اور چائنہ شاید حالت جنگ میں ہوں۔ اگرچہ اس کا انحصار ایک طرف تواس بات پر ہے کہ طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آجانے کے بعد  کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ چائنہ کے صوبے سنکیانگ میں بسنے والے ایغور مسلمانوں کا مسئلہ طالبان کی نظر میں ہے۔ دوسری طرف چائنہ کی پالیسی اب تک عدم مداخلت کی رہی ہے لیکن خطے کی بدلی ہوئی صورت حال کے پیش نظر چائنہ شاید مداخلت کا فیصلہ کرے گا۔ اگر ایسا ہوا تو چائنہ کے لیئے نہ صرف یہ کہ افغانستان کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں میں مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا بلکہ طالبان اور چائنہ میں تصادم بھی ہوسکتا ہے۔

چائنہ اگلے پندرہ بیس سالوں میں عالمی سطح پرامریکہ کی جگہ لینے کی تیاریاں کررہا ہے۔ طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں چائنہ کی استعماری عمر امریکہ سے بھی کم ہوگی جس طرح کہ امریکہ کی استعماری عمر یورپ سے کم تھی۔ جب امریکہ جدید تہذیب کا وارث بنا تھا تو تب جدیدیت بحران کا شکار ہو چکی تھی۔
چائنہ  کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس وقت جدید تہذیب کا قائد بنا ہے جب یہ پہلے ہی تہذیب زوال کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ چائنہ ظاہری فرق کے باوجود جدید مغربی تہذیب کی ہی توسیع ہے۔ اس کے اصول و فروع بھی جدید مادیت پرستی سے ماخوذ ہیں۔ چائنہ نے سرمایہ داری اور کمیونزم میں جو بے اصول امتزاج پیدا  کیا ہے اس کی عمر زیادہ نہیں ہے۔ چائنہ جس تناسب سے سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہوگا اسی حساب سے انسانی مفادات کے لیئے اس کا ضرر بڑھتا جائے گا۔ اس کا انجام بھی بالآخر لاینحل قسم کے داخلی تضادات اور نامختتم بیرونی تصادم کی شکل میں ہوگا۔ پھر یہ کہ چائنہ کی مادی ترقی بھی اپنی انتہاء کو پہنچ کر شدید انسانی بحران کی صورت اختیار کر جائے گی۔

افغانستان کا کردار اس تمام منظر نامے میں یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے مابعد امریکہ چائنہ مرکزصورت حال زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔ صورت حال میں اس طرح کی ممکنہ تبدیلی کا مرحلہ شایدطول پکڑ جائے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ آنے والی دو تین دہاہیوں میں جدید مغربی تہذیب کا آخری بڑا حصار یعنی چائنہ بری طرح شکست وریخت کا شکار ہوجائے گا۔ ہماری اس بات کو تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے نہ کہ محض جذباتی انداز سے۔ 1914 سے 1945 تک یعنی محض تیس اکتیس سالوں میں یورپ کی سامراجی سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ 1979 سے 2021 تک صرف بیالیس سالوں میں دو سپر پاورز نے افغانستان میں دھول چاٹی ہے۔ چائنہ زوال آمادہ جدید تہذیب کی قیادت کے غم میں مبتلا ‘مرد بیمار’ہے جس کی طبعی عمر تاریخ و تہذیب کے اصولوں کی رو سے زیادہ طویل نہیں ہے۔ چائنہ کی شکست و ریخت کے موقع پر جدیدیت اور سرمایہ داری کی بنیاد پر قائم جدید تہذیب کا محافظ عالمی نظام بھی برقرار نہیں رہ پائے گا۔ یہ وہ وقت ہوگا جب دنیا تہذیبی اعتبار سے ایک نئے یعنی مابعد مغرب دور میں داخل ہوگی۔ نیا عالمی نظام تشکیل پائے گا۔ نئے بین الاقوامی قوانین مرتب ہوں گے۔ جدید تہذیب کے تسلط کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انسانیت کو مغربی استعمار اور اس کے ایشیائی گماشتوں سے نجات ملے گی۔ یاد رہے کہ اس سارے عمل میں افغانستان کا کردار مرکزی اور فیصلہ کن ہوگا۔ اس طرح افغانستان کے بین الاقوامی کردار کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوگا۔

man, old, afghanistan, person, thoughtful, turban, portrait, muslim, village elder, poor | Pikistافغانستان استعمار کے مقابل جس عزیمت سے لڑا ہے وہ صرف ملت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی طرف سے فرض کفایہ کی ادائیگی کا عمل بن گیا ہے۔ افغانیوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کرکے اپنی انسانیت سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔ استعمار مخالف اس حالیہ طویل جنگ میں طالبان نے اگرچہ ہراول دستے کا کام کیا ہے لیکن افغانستان کا اجتماعی شعور اگر ان کا موید نہ ہوتا تو وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دور جدید میں افغانستان کی طرف سے استعمار مخالف جدوجہد کا آغاز طالبان نے نہیں کیا۔ معلوم ہے کہ طالبان سویت روس کے زوال کے بعد منظر پر آئے ہیں۔ استعماری تہذیب کو سرنگوں کرنے کا مرحلہ وار کارنامہ سرانجام دینے کا اعزاز مجموعی طور پر تمام افغانستان کو حاصل ہوا ہے۔ اگر ایک قلیل تعداد میں استعمار کی حمایت کرنے والے عناصر افغانستان میں موجود رہے ہیں تو عرض ہے کہ کمزور بچے کس گھر میں نہیں ہوتے۔ افغانستان کے مسئلے کو درست سیاق وسباق میں سمجھنا خاصا مشکل اس لیئے ہے کہ استعمار نے میڈیا کے ذریعے غیر معمولی انداز سے اس کی انجینئیرنگ کی ہے۔ لوگ باگ عام طور پر جزئیات میں الجھ گئے ہیں۔ مسلم شعور استعمار کے غلبے کو اس قدر جذب کرچکا ہے کہ اسے اب اپنی فتوحات پر یقین ہی نہیں آتا۔ افغانیوں نے ثابت کردیا ہے کہ استعمار کے خلاف مزاحمت ہی وہ واحد راستہ ہے جو شعور کو اس کے عصری حوالوں کا تابع مہمل بننے سے بچا سکتا ہے۔

یہ کہنا بجا ہے کہ ابھی افغانستان کا استعمار مخالف کردار ختم نہیں ہوا۔ افغانستان کا یہ کردار دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ اپنی انتہاء کو پہنچ جائے گا۔ تیسرے مرحلے میں افغانستان کا کردار سلبی سے زیادہ ایجابی ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ افغانستان دور جدید میں مسلم تہذیب کو مطلوب توازن حاصل کرلے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانیوں کی نفسیات میں مرعوبیت نہیں ہے۔ جدید تہذیبی اوضاع کے حوالے سے ان کا ترک و اختیار ارادی ہوگا۔ میرا احساس ہے کہ اسلام کا جدید تہذیبی ظہور افغانستان کی سرزمین پر ہوگا جو کہ بہت متوازن اور توانا ہوگا۔ اصول یہ ہے کہ غالب تہذیب کے وسط میں یا اس کی سرحدوں پر قدرت نئے امکانات کی پرورش کرتی ہے۔ افغانستان کا خطہ اسی حیثیت کا حامل ہے۔ مسلم تہذیب کو جو اقداری توازن یہاں پر حاصل ہوگا وہ دیگر مسلم ممالک کے نمونے کا کام کرے گا۔ مسلم ممالک کو چاہیئے کہ وہ ابھی سے مستقبل کے ان امکانات کو نظر میں رکھ کر اپنے سیاسی اور تہذیبی سفر کی سمت کا تعین کریں۔

پاکستان اور ترکی اگر دوسرے مرحلے(افغان-چائنہ تصادم) میں محتاط رہے تو تیسرے مرحلے میں ان دو ممالک کا افغانستان میں عمل دخل بڑھ جائے گا۔ یہ دونوں مسلم ممالک خود بھی کئی اعتبارات سے افغانستان سے متاثر ہوں گے۔ ترکی یورپین یونین کا رکن اور امریکہ کا نیٹو اتحادی ہے۔ یہ نیٹو  (NATO) میں شامل واحد اسلامی ملک پے۔ نیٹو اور یورپین یونین کی تاریخ,مقاصد اور کردار معلوم ہے لہذا یہاں اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیٹو میں شامل ہونے کی وجہ سے، ترکی 9/11 کے نام نہاد واقعات کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کا حصہ تھا۔ ترکی کے فوجی افغانستان میں موجود رہے ہیں۔ لیکن ترکی نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کو افغانستان میں طالبان کے خلاف ہونے والی کسی بھی جنگی کاروائی میں شریک نہیں ہونے دیا۔ 20 سالہ طویل جنگ کے عرصے میں ترک فوجی کبھی بھی طالبان کے خلاف دوبدو نہیں لڑے۔ نیٹو کا ممبر ہونے کے باوجود ترکی کا موقف رہا ہے کہ اس کے فوجی افغان طالبان کے خلاف بلاواسطہ جنگی کاروائیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

اب جب کہ غیر ملکی فورسز افغانستان سے نکل چکی ہیں اور باقی ماندہ گنے چنے امریکی فوجی بھی 31 اگست تک واپس چلے جائیں گے تو امریکہ چاہتا ہے کہ کابل ائیر پورٹ سیکورٹی کے لیئے ترکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں۔ بد قسمتی سے ترک صدر طیب اردوان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ترک فوجیوں کو افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں۔ چند دن پہلے انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے طالبان کو کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔ یہ جدید تاریخ کا سیاسی لطیفہ ہے کہ مفتوحین فاتحین کو مشورے دیتے پھرتے ہیں۔ جواب میں طالبان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مسلم ممالک کے عوام کے علاوہ خود ترک عوام کی اکثریت بھی اردوان کے اس فیصلے کو تشویش اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ترک شہریوں کی اکثریت تو یہاں تک کہتی ہے کہ جہاں سے دیگر بیرونی قوتیں بھاگ رہی ہیں ہمیں وہاں واپس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اردوان کے اس فیصلے  کی بظاہر یہ وجہ ہے کہ ترکی کے روس کی جانب جھکاو اور میزائل ڈیل کی وجہ سے ترک-امریکہ تعلقات میں جو سرد مہری بلکہ تناو پیدا ہوا تھا اردوان ترک فوجیوں کو افغانستان بھیج کر اسے معمول پر لانا چاہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی کا افغانستان میں فوجی بھیجنا تاریخی غلطی ہوگی۔ ترک فوجی اگر طالبان کی پیش رفت میں رکاوٹ بنے تو ان کے ہاتھوں رائگانی کی موت مارے جائیں گے۔ جب امریکی اور تمام نیٹو فورسز افغانستان میں موجود تھیں تب ترکی نے احتیاط سے کام لیا اور اب اپنے فوجیوں کو غرقاب ہونے کے لیئے دلدل کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ترکی کو شاید یہ خوف ہے کہ افغانستان میں طالبان کے مستحکم ہونے سے کردوں کا مسئلہ ان کے لیئے درد سر بن سکتا ہے۔ چنانچہ وہ طالبان کو مضبوط نہیں ہونے دینا چاہتا۔ ترکی کو اگر یہ خوف ہے تو بلکل بجا ہے۔ تاہم اس کا حل ترک فوجیوں کو افغانستان بھیجنا نہیں ہے۔ اس سے ترکی اور طالبان کے درمیان تلخی بڑھے گی اور نتیجتا کردوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی ترکی کے لیئے طالبان کی طرف سے مسائل پیدا ہوں گے۔ ترکی کے لیئے ضروری ہے کہ افغانستان کے معاملے پر ممکنہ حد تک غیر جانبدار ہے۔

پاکستان پچھلی چار دہائیوں سے افغانستان کی اندرونی صورت حال سے بالواسطہ یا بلاواسطہ متعلق چلا آتا ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ یہ چاہے یا نہ چاہے خطے میں ہونے والی پیش رفت سے لا تعلق نہیں رہ سکتا۔ اس کا اعتراف کرنا چاہیئے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں بعض غلطیوں کے باوجود اپنے کارڈز نہایت دانشمندی سے کھیلے ہیں۔ یہ ملک بہت سخت جان واقع ہوا ہے۔ ماضی قریب میں رونما ہونے والی علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں میں پاکستان کا کردارغیر معمولی ہے۔ پاکستان نے اس کی بہت بڑی قیمت بھی چکائی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے ہندوستان کی دراندازی، ہندوستانی اور مغربی میڈیا کا پروپیگنڈا، امریکی دباو، 50 کے قریب مسلح گروہوں کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے مسلسل الزام تراشی جیسے مسائل کا پاکستان کو ان سالوں میں سامنا رہا ہے۔ پاکستان کو بہت بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مستقبل میں بھی افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا کردار بہت ہی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہوگا۔ پاکستان کو امریکا کے ہوائی اڈوں کے مطالبہ پر اپنے حالیہ موقف پر ڈٹے رہنا چاہیئے۔ یعنی کسی بھی قیمت پر امریکہ کو اڈے نہیں دینے چاہییں۔ پاکستان نے اگر یہ غلطی کی تو یہ اس کے لیئے ہر طرح سے بہت نقصان دہ ہوگا۔ پاکستان کو چاہیئے کہ چائنہ کے بارے میں بھی اپنی پالیسی پر ازسر نو سوچ بچار کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چائنہ پر ایک حد سے زیادہ انحصار پاکستان کے لیئے مستقبل میں افغانستان کے تناظر میں مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ آنے والے وقت میں چائنہ اور طالبان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ چائنہ کی استعماری عمر زیادہ نہیں ہوگی۔ پاکستان کو چائنہ کے حوالے سے مستقبل کے ان امکانات کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ مثالی صورت حال تو یہ ہوتی کہ اس وقت دنیا میں جو صف بندی ہو رہی ہے اس میں پاکستان غیر جانب دار رہتا۔ تاہم سردست ایسا ممکن نہیں لگتا۔ پاکستان کے لیئے صرف ایک راستہ بچتا ہے کہ وہ چائنہ کے ساتھ بہت احتیاط کے ساتھ معاملہ کرے۔ اسے اپنی افغان پالیسی چائنہ کے مفادات سے ہٹ کر بنانی چاہیئے۔ افغان-چائنہ تنازعے کی صورت میں الگ رہنا چاہیئے۔ افغانستان میں پاکستان کے لیئے مستقبل میں بے پناہ امکانات ہیں۔ یہ درست ہے کہ افغانستان میں طالبان کے استحکام کے نتیجے میں وقتی طور پر پاکستان کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن اگر دانشمندی سے طالبان کے ساتھ معاملہ کیا گیا تو پاکستان نہ صرف مشکلات سے نکل سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کا اثرورسوخ بھی بڑھ جائے گا۔

اس سارے کھیل میں سب سے بری پوزیشن انڈیا کی ہے۔ انڈیا نے پچھلے بیس سالوں میں امریکہ پر کلی انحصار کرکے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیلا ہے۔ افغانستان میں غنی حکومت سے انڈیا کی امیدیں وابستہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑی ناامیدی متصور نہیں ہوسکتی۔ انڈیا کو ابھی انڈو-پیسیفک ریجن میں امریکی عزائم پر بھروسا ہے۔ تاہم امریکہ کی حالت اب یہ ہو گئی ہے کہ وہ ڈھلوان پر قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ ابھی کچھ نفسیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ تسلیم نہیں کرپا رہاکہ وہ اب بوڑھا ہو چکا ہے اور اس کا جوان بچہ چائنہ اسے عالمی قیادت کے منصب سے معزول کر چکا ہے۔ امریکہ گریٹ گیم کو بحر ہند میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ بے وقت کی راگنی جیسا عمل ہے۔ امریکہ نے بہت دیر کردی ہے۔ بحر ہند میں امریکہ کی کسی بھی چال سے چائنہ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آبنائے ملاکا کے متبادل کے طور پر چائنہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھاری سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ امریکہ اب محض گزرے سانپ کی لکیر پیٹنے سے زیادہ کچھ نہیں کر پائے گا۔ بحر ہند کے لیئے تمام تر امریکی منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ نکلے گا امریکہ کی نامرادیوں کی فہرست میں ایک ناکامی کا اضافہ ہوجائے گا۔ چنانچہ انڈیا کا یہ بھروسا بھی نقش برآب سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ مزید یہ کہ افغانستان میں طالبان کے استحکام کے ساتھ ہی انڈیا پر کئی اور طرح کے اثرات مرتب ہونے والے ہیں جن کے تفصیلی بیان کو یہاں بوجوہ حذف کیا جارہاہے۔ امید ہے کہ یہ مختصر سا اشارہ مقصود کے ابلاغ میں تصریح سے زیادہ بلیغ ثابت ہوگا۔

افغانستان کے استعمار مخالف کردار کی وجہ سے مستقبل میں کسی بھی مسلم ملک کے لیئے استعمار نوازی ممکن نہیں رہے گی۔ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو استعمار سے فاصلہ پیدا کرکے اسلامی تہذیب کے احیاء اور تشکیل نو کی طرف سنجیدگی سے مائل ہونا چاہیئے۔ بصورت دیگر مسلم ممالک میں عدم استحکام بڑھتا جائے گا۔ کئی گروہ مسلم ریاستوں کے واقعی تضادات سے فائدہ اٹھا کر انتشار پیدا کریں گے۔ معلوم ہے کہ اس وقت مسلم ریاستیں مغرب کے تہذیبی مقاصد کو نہ صرف اختیار کر چکی ہیں بلکہ اس کی تکمیل کے عمل میں بہت متشدد ہیں۔ مسلم ریاستوں کا یہ طرز عمل ہمارے تہذیبی مقاصد کے احیاء، تشکیل نو اور فروغ کے لیئے سخت مضر ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلم معاشرے تضادات میں گھرے ہوئے ہیں۔

China's next headache, a new Islamic Emirate of Afghanistan - Defence Connectمجموعی طور پر مسلم حکمران سرسید احمد خان کی طرح مغرب کو خطرہ نہیں نعمت خداوندی سمجھتے ھیں۔ سو مسلم سوسائٹی کے خلاف مغرب کے کسی بھی اقدام کو یہ احسان مندی کے جذبے کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ گویا یہ خیال کرتے ھیں کہ مغرب انہی کے حصے کا کام کررہا ھے۔ مسلم دنیا میں رونما ھونے والے پچھلے بیس تیس سال کے واقعات پر غور کریں تو ان کی حکمت عملی بالکل واضح ھو جاتی ھے۔ ان کا تاریخی شعور، تصور دنیا، تصور تہذیب، تصور انسان، تصور ترقی، تصور جنگ و امن، تصور علم، تصور تعلیم اور تصور ریاست و معیشت مغرب سے ماخوذ ھے۔ یہ مسلم تاریخ و تہذیب کا کوئی مربوط تصور نہیں رکھتے۔ ان کا قبلہ مغرب، معبود امریکہ اور شریعت جدیدیت ھے۔ یہ تسلیم ہے کہ مسلم ریاستوں کے اس طرز عمل کی وجوہات میں ایک وجہ صورت حال کا جبر بھی ہے۔ یعنی مادی بقا کے تقاضے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم صورت حال کے جبر سے نکلنے کی کوشش بھی ہونی چاہیئے جو کہ مسلم مقتدر طبقات میں کہیں نظر نہیں آتی۔

جبر کی اس صورتحال میں جس قدر ممکن ہو اپنی آزادانہ تہذیبی شخصیت کی قوت سے فیصلہ سازی ہونی چاہیئے۔ مسلم ممالک کے عوام کو اپنی ریاستوں کی عملی صلاحیت کی کمی سے زیادہ ان کے عزائم کے ساتھ مسئلہ ہے۔ مسلم اشرافیہ دورجدید میں ملت اسلامیہ کی امنگوں سے دانستہ بے وفائی کی مرتکب ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہو یا کوئی اور مسلم ملک، مسلم عوام اور مقتدر طبقات میں اعتماد کا مکمل فقدان ہے۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ اجتماعی مسلم ضمیر دین اور مسلم تہذیب سے بے وفائی کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ مسلم ریاستیں جس قدر چاہیں مغرب کی شرائط پرمصنوعی استحکام پیدا کر لیں بالآخر ان کو اپنی اصل کی طرف لوٹنا پڑے گا۔

افغانستان تیسرے مرحلے میں جس قدر پیش رفت کرتاجائے گا اسی تناسب کے ساتھ مسلم ممالک کا وجودی تضاد نمایاں ہوتا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں خاص طور پر ترکی اور پاکستان کے اندر رد استعمار کا مطالبہ شدت اختیار کرے گا۔ میرا احساس ہے کہ اس مرحلے میں عرب قبائل اور کرد افغانستان کے فطری حلیف بنیں گے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت کے عرب دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ترکی اور پاکستان کو چاہیئے کہ ابھی سے خطے کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیں۔ افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کی سیاسی اور معاشی حرکیات، روس، چائنہ اور امریکہ کے مفادات و تضادات، اور Heartland کی تزویراتی اہمیت کو سمجھ کر خود انحصاری کی بنیاد پر طویل المدتی ہمہ جہت حکمت عملی ترتیب دیں۔ افغانستان اور وسط ایشیاء کے علاوہ خلیجی ممالک اور شمالی افریقہ میں دائرہ اثر بڑھائیں۔ ترکی اور پاکستان مسلم دنیا میں موثر ہوں گے تو سعودی-ایرانی تقسیم اورکشمکش کے معمول پہ آنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ جدید مغربی تہذیب کے مراکز کی کمزوری سے میسرآنے والی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک-ترکی مشترکہ کوششوں سے مستقبل میں وہ فضا پیدا ہوسکتی ہیں جو مسلم امہ کے احیاء کا راستہ ہموار کرے گی۔

یہ امر کم حیرت انگیز نہیں ہے کہ مسلم دنیا اس وقت عالمی معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ چند دہائیاں پہلے بین الاقوامی تناظر میں یہ کسی شمار میں ہی نہ تھی۔ امریکہ ہو یا چائنہ دونوں کے مفادات مسلم دنیا سے وابستہ ہیں۔ مسلم ممالک اور خصوصا پاکستان اور ترکی اگر خودانحصاری کے ساتھ فیصلے کر سکیں تو تاریخ کے اس مرحلے میں غیر معمولی نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان دو ممالک کو افغانستان سے کسی بھی طرح کے تصادم سے گریز کرنا چاہیئے۔ افغانستان حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا فاتح ہے۔ تصادم کی صورت میں ترکی اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ دنیا کا مستقبل افغانستان جبکہ افغانستان کا مستقبل طالبان کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے۔

چائنہ کو معاشی اور فوجی اعتبارات سے گذشتہ 20 سالوں میں ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح الجھا ہوا تھا۔ مستقبل میں چائنہ-افغان تصادم کی صورت میں ملت اسلامیہ کو یہ موقع میسر آنے کا پورا امکان موجود ہے۔ مسلم ممالک اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں تو تاریخ کا رخ بدل جائے گا۔ پاکستان اور ترکی کئی وجوہات کی بناء پر دوسرے مسلم ممالک کی نسبت ملت اسلامیہ کے احیاء کی تحریک کا آغاز کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں کی جغرافیائی پوزیشن بہت اہم ہے۔ دونوں کی ریاستی سطح پر سعودیہ اور ایران کی طرح فرقہ وارانہ شناخت نہیں ہے۔ دونوں کے عوام میں امت کا تصور اور اس کے ساتھ وابستگی کی آرزو زندہ ہے۔ ان دونوں میں سے پاکستان نسبتا ان اہداف کی تکمیل کی زیادہ قابلیت رکھتا ہے۔ مستقبل میں متوقع مہلت سے فائدہ نہ اٹھانا بدقسمتی کی بات ہوگی۔ دور جدید میں افغانستان کے استعمار مخالف کردار کی وجہ سے اس طرح کے مواقع شاید پہلی دفعہ ملت اسلامیہ کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں۔ ترکی اور پاکستان کو درج ذیل اقدامات کرنے کی طرف ابھی سے متوجہ ہوجانا چاہیئے۔

1) پاکستان اور ترکی کو امریکہ اور چائنہ کے ساتھ مستقلا اپنے مفادات وابستہ کرنے کی بجائے آزادانہ طور پر پالیسی سازی کرنی چاہیئے۔ پاک-ترکی مشترکہ محاذ تشکیل دے کر یورپ سے سنٹرل ایشیاء، افغانستان اور وہاں سے عرب دنیا اور شمالی افریقہ تک Connectivity پیدا کرنے کے بارے میں سنجیدہ غور وفکر کرنا چاہیئے۔
2) امریکہ اور چائنہ مرکز جیو سٹریٹیجک تصور Inido–Pecific Rim کی بجائے Indo-Medditeranian تصور کو ابھارنا چاہیئے۔ مسلم دنیا زیادہ تر بحر ہند اور بحیرہ روم کے ساحلوں پر واقع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں موجود بحری رااستے، گلفز، سٹریٹس اور بندر گاہیں مسلم ممالک کی ملکیت ہیں۔ یہ مسلم دنیا کی بہت بڑی قوت ہے۔
3) مسلم ممالک کی یورپین یونین کی طرز پر یونین قائم کی جائے۔ مسلم پارلیمنٹ، بین الاقوامی مسلم شرعی عدالت، اور مشترکہ کرنسی بنائی جائے۔ مسلم دنیا کے تمام ممالک کو ان کے شہریوں کے لیئے ویزہ فری زون قرار دے دیا جائے۔ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیئے ٹیرف فری پالیسی بنائی جائے۔ ان اقدامات سے مسلم ممالک کے مشترک معاشی مفادات پیدا ہوں گے جس سے ان کا باہمی انحصار بڑھ جائے گا۔ معاشی مفادات کا اشتراک مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اتحاد اور ثقافتی تعلقات کی پختگی کا یقینی سبب بنے گا۔
4) مسلم ممالک کے مدارس اور جامعات کے مابین مختلف سطح کے اشتراکات قائم کیئے جائیں۔ اساتذہ اور طلباء کا تبادلہ بغیر کسی دقت کے ممکن بنایا جائے۔ مشترکہ تحقیقی منصوبہ جات اور سکالرشپس کا اہتمام کیا جائے۔ نظام تعلیم روایتی ہو جدید دونوں کو نئے سرے سے مرتب کرنا چاہیئے۔ سائنسی تحقیقات کے ادارے تعمیر کیئے جائیں۔ ان اداروں کا مقصد محض معمول کی سائنسی سرگرمی نہ ہو بلکہ ٹکنالوجی کا کردار اور سائنسی علم اور اخلاقی حدودد کی باہمی نسبتوں کا مسئلہ بطور خاص پیش نظر رکھنا چاہیئے۔
5) مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا جائے۔ یہ طےکردیا جائے کہ کسی ایک مسلم ملک پر حملہ پوری امت مسلمہ پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ دنیا کی بیس بہترین افوج میں سے پانچ کا تعلق مسلم ممالک سے ہے۔ جو مسلم ممالک ایٹمی توانائی کے حصول میں کامیاب ہو چکے ہیں وہ دوسرے مسلم ممالک کو پر امن مقاصد کے لیئے اس میدان میں معاونت فراہم کریں۔ مشترکہ جنگی مشن قائم کرکے قیام امن میں ان مسلم ممالک کی مدد کی جائے جو عدم استحکام کا شکار ہوں۔ مسلم ممالک کے ملٹری اور سیاسی اتحاد کا مقصد داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مسلم مفادات کا تحفظ اور حقیقی عدل کا قیام ہونا چاہیئے۔
6) معلوم ہے کہ دور حاضر میں اسلام کے مقابل کوئی دوسرا تبلیغی مذھب فعال نہیں ہے۔ اسلام کی طرف انسانوں کو دعوت دینے کا یہ بہترین وقت ہے۔ مسلمان علماء اور حکومتوں کو اس طرف متوجہ ہونے کی فوری ضرورت ہے۔ دعوت کا فوری ہدف یورپ کو بنانا چاہیئے۔ یورپ میں ایک تو اس کام کے مواقع اور امکانات بہت ہیں اور دوسرے یورپ اگلی تین چار دہائیوں تک آبادی کے حوالے سے زبردست بحران کی زد میں آنے والا ہے۔ دعوت کے اس عمل کو متقدمین صوفیاء کے طریقے پر منظم کرنا چاہیئے۔ دعوت کا کام کرنا امت مسلمہ کا فرض منصبی ہے۔ اگر اس کا اہتمام اہل اسلام کی ترجیح اول نہ ہو تو اس امت کے وجود کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مختلف مسلم ممالک اور قومیتوں سے علمی، اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے بہترین افراد دعوت کے کام کی خاطر وقف ہوں۔

7) مسلم دنیا کو سنجیدگی کے ساتھ عالمی سیاسی نظام اور بین الاقوامی معاشی بندوبست کے حوالے سے علمی اور عملی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مقاصد پیش نظر ہوں تو اہل علم اور ماہرین کو ان اغراض کی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مسلم دنیا کے فکری جمود اور خوئے نقالی کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ روزمرہ کے مسائل (اگرچہ وہ اہم ہوں ) میں پھنس کر نہیں رہ جانا چاہیئے۔ بڑے مقاصد جن کی بنیاد بڑا تخیل ہو وہ ارادے کو کشش کرتے ہیں۔ تاریخی نتائج پیدا کرنے والی ہمت ممکن اور ناممکن کے دائروں میں مقید نہیں ہوتی۔ ملت اسلامیہ کو سطحی اور نام نہاد حقیقت پسندانہ تجزیوں نے مایوس کر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زمانہ ساز سٹریٹیجک تخیل پیدا کیا جائے۔ اس کام کی ابتداء علامہ محمد اقبال کی مدد سے کی جاسکتی ہیں۔
9) مسلم شعور کی استعمار سے نجات کے لیئے قبل از استعمار تاریخی مطالعات کا احیاء کیا جائے۔ اس حوالے سےعلم کے نئے ڈسپلن ایجاد ہوں۔ موجودہ پس نوآبادیاتی مطالعات متن کے بے ثمر تجزیوں سے زیادہ کسی کام کے نہیں ہیں۔ ان کا کوئی تہذیبی تناظر نہیں ہیں۔ یہ شعور میں استقلال کی نفی اور ارادے کی آزادانہ فعلیت کے انکار پر مبنی ہیں۔

یہ تحریر محض تجزیہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے ناچیز آدمی کی طرف سے تخلیق مقاصد کی ادنی سی کوشش ہے جسے ملت اسلامیہ کے احیاء اور غلبہ حق سے بڑھ کوئی بھی آرزو عزیز نہیں ہے۔ مقاصد کی تخلیق ملی اور تہذیبی زندگی کی ضمانت ہے۔ مقاصد ہی ذہنی اور مادی فتوحات کا راستہ کھولتے ہیں۔ کوئی ملت جب تخلیق مقاصد کے عمل میں ناکام رہ جائے تو تاریخ کی قوتیں اسے روند ڈالتی ہیں۔ مقاصد حاضر ہوں اور ذہن بے یقینی کے مرض سے پاک ہو تو قوت ارادی خود بخود امکانات کو واقعات میں بدل دیتی ہے۔ جو امکانات یہاں بیان کیئے گئے ہیں ان کی بنیاد واقعات کے سطحی تجزیہ پر نہیں ہے۔ ان کے پیچھے تاریخ و تہذیب اور انسانی صورت حال کی سمت متعین کرنے والے اٹل اصول ہیں۔ ملت اسلامیہ کے مستقبل کی صورت گری کے یہ امکانات اس وقت بھلے کتنے ہی غیر حقیقی دکھائی دیں جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ امکانات روشن سے روشن تر ہوتے جائیں گے۔ آج کی تاریخی حقیقتیں ماضی میں کتنی غیر حقیقی دکھائی دیتی تھیں۔ صرف بیس سال پہلے کوئی مان سکتا تھا کہ ایک دن امریکی اور نیٹو افواج کو رسوا ہو کر افغانستان سے نکلنا پڑے گا۔ لیکن آج کی حقیقت یہی ہے۔ جدید تاریخ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دوراہے پر پہنچ چکی ہے۔ اس کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ ایک راستہ انسانیت کی بقا کا ہے جبکہ دوسرا راستہ اس کی تباہی کی طرف جاتا ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ اگر جدید مغربی تہذیب کا تسلسل موجودہ شکل میں برقرار رہتا ہے تو انسانیت کا مستقبل تاریک ہے۔ اور اگر انسانیت کو باقی رہنا ہے تو جدید تہذیب کا فنا کے گھاٹ اترنا طے ہے۔ اس کائنات کے خالق و مالک خدائے لم یزل نے اگر اس کی بساط لپیٹنے کا فیصلہ نہیں کرلیا اور انسان کو دی گئی مہلت ابھی باقی ہے تو جدید تہذیب کا منطقی انجام قریب آن پہنچا ہے۔ یہ تکرار کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے کہ جدید تہذیب نہ صرف انسان کے اخلاقی وجود کی موت ثابت ہوئی ہے بلکہ اب تو نوع انسانی کو ہی اس کی طرف سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جدید تہذیب اسلام کے علاوہ باقی تمام مذاہب کی علمی اور عملی روایات کو چاٹ چکی ہے۔ اس وقت اسلام کے مقابلے میں کوئی زندہ مذہب موجود نہیں ہے جو انسانیت کے اخلاقی اور روحانی وجود کی بازیافت کا یقینی سبب بن سکے۔

مغرب میں جدیدیت کے ظہور نے پچھلی تین صدیوں میں بتدریج زمانی و مکانی فاصلوں کو کم کرکے ٹکنالوجی کے بل بوتے پر دنیا میں عالمگیر تمدن کے فروغ کے لیئے غیر معمولی اسباب فراہم کر دیئے ہیں۔ انسان پہلی دفعہ ایک عالمگیر صورت حال کا تجربہ کررہا ہے۔ تاہم جدیدیت کی بنیاد پر پیدا ہوئی عالمگیریت تنوع کی موت ہے۔ معلوم ہے کہ عقل وحدت پرست ہے اور اسےازروئے فطرت تنوع سے چڑ ہے۔ تنوع سے عقل کی گنتی میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے عقل کی خوئے کمال اور اس کی معروض پر غلبہ پانے کی آرزو مجروح ہوتی ہے۔ اس وقت جدید انسان کی شناخت کا ہر حوالہ مصنوعی ہے۔ یہ عقل کی مطلق اور لامتناہی حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ علاوہ ازیں، جدید انسان اپنے تئیں تسخیر(مسخ شدگی؟) کائنات کے محیر العقول کارنامے کے بعد قدرتی طور پر اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوچکا ہے۔ دور جدید میں یہ حساسیت انسانی سرگرمی کے ہر میدان میں مبالغے کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے۔ صرف آزادی کے جدید تصورات پر ہی غور کرلیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جدید انسان کی نفسیات خودمرکزیت پر قائم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جدید تہذیب اپنے مادی مظاہر میں زوال پذیر بھی ہوجائے تو کیا جدید انسان کی نفسیاتی عادتوں کی رعایت ممکن ہے۔ گزارش ہے کہ اسلام تنوع کو ختم کرکے آفاقیت کے قیام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسلام کا تہذیبی رویہ وحدت فی الکثرت ہے، یعنی وحدت کا قیام کثرت کی نفی کیئے بغیر۔ اسلام انسان کو کائنات میں خلیفتہ اللہ فی الارض کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ یہ کائنات انسان کو بے پناہ حق تصرف سے نواز کر اس کے سپرد کر دی گئی ہے۔ انسان کو اس کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ تخلیق باری تعالی میں نقص کا سبب نہ بنے۔ انسان مخلوق کے مفادات کا کفیل ہے۔ اس لیئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ عالمگیریت اور خلافت انسانی مستقبل میں مسلم تہذیب کے غالب عناصر ہوں گے۔

ان حالات میں ملت اسلامیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بقا کے مادی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی علمی، روحانی اور تہذیبی قوت کے ظہور کے اسباب فراہم کرے۔ یہ امت خاتم الامم ہے۔ اس کا منصبی فریضہ ہے کہ جدید انسان کی نفسیاتی معذوریوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین محمدی کے عالمگیر جوہر کو بالفعل ظہور میں لاکر دکھائے۔ علم اور اخلاق کے انتہائی معیارات پر پورا اترے اور شھداء علی الناس کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو۔ کامل آزادی اور مکمل یکسوئی کے ساتھ خود انحصاری پیدا کرے۔ جدید تہذیب خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آئندہ چار پانچ عشروں میں دنیا نئے دور میں داخل ہوگی۔ اس وقت انسانیت کو جو روحانی، ذہنی، اوراخلاقی رہنمائی درکار ہوگی وہ صرف اور صرف اسلام سے میسر آسکتی ہے۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ جدید مسلم تہذیبی مظاہر وجود میں آئیں اور اہل اسلام مستقبل میں اپنا فرض منصبی ادا کرنے کے لیئے ابھی سے کمر بستہ ہوں۔ چونکہ مسلم دنیا کو یہ مہلت افغانستان کی وجہ سے میسر آنے والی ہے لہذا اس تناظر میں افغانستان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوگا۔ اس مرحلہ تاریخ میں افغانستان صرف مسلم دنیا کی ہی نہیں، انسانیت کی بھی آخری امید ہے۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply