اسلامی فیمنزم : اصلاح مذہب کا مغربی ایجنڈا (1) —- وحید مراد

0

پس منظر:
1990 کے عشرے میں برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ‘مغربی حقوق نسواں بمقابلہ اسلامی معاشرت میں عورت کا مقام’ کے حوالے سے سیکولر اور مذہبی اسکالرز کے درمیان مباحثوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مکالمے کے اس سلسلے کو اسلامی فیمنزم کا نام دیا گیا۔ ان مکالموں کے دوران اسلامک فیمنزم کے ساتھ ساتھ مسلم فیمنزم، اسلامک اسٹیٹ فیمنزم اور اسلامک نان اسٹیٹ فیمنزم کی اصطلاحات بھی سامنے آئیں۔ اسی دوران مصر، ایران، یمن، تیونس اور کئی دیگر مسلم مملک میں معاشرتی اور مذہبی اصلاح کے ایجنڈے کو اسلامی فیمنزم کے نام سے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی اور آہستہ آہستہ یہ اصطلاح اہمیت اختیار کرتی گئی۔ شروع میں یہ ایجنڈہ اصلاحات کی تجاویز تک محدود تھا لیکن بہت جلد یہ ایک نسائی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔

اسلامی فیمزم کا ماخذ پوسٹ کالونیل اورکلاسیکی نظریہ علم (epistemology) ہے لیکن جب یہ معاشرتی، معاشی اور سیاسی شعبہ جات میں صنفی مساوات کی بات کرتا ہے تو اپنا طریقہ کار قرآن و حدیث کی تفسیر، تعبیر نو، استدلال، اجتہاد اور اسلامی الہیات (Islamic theology) سے اخذ کرتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف مسلم ممالک میں مختلف رجحانات پائے جاتے ہیں مثلاً ایران میں اسلامی نسائی پسندوں کا مطالبہ ہے کہ جینڈر نیوٹرل قوانین بننے چاہیں، مصر میں مطالبات ہیں کہ مذہبی قیادت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی خواتین کی شمولیت کے کیلئے کھلے ہونے چاہیں جبکہ ترکی میں مطالبہ ہے کہ پبلک سیکٹر میں خواتین کے نقاب پر عائد پابندی کو ختم کرنا چاہیے۔ [i]

اسلامی فیمنزم کیا ہے؟
نسائی و صنفی امور کی مورخ اور ‘فیمنزم ان اسلام’ کی مصنفہ مارگوٹ بدران (Margot Badran) کے مطابق ‘ اسلامی فیمنزم کی تعریف اور ڈسکورس مسلمانوں کی ممتاز شخصیات کی ان تحریروں سےاخذ کیا جاتا ہے جو قرآن کی تفہیم کے سلسلے میں لکھی گئیں۔ صنفی مساوات کے فریم ورک میں مردوزن کے مجموعی وجودی تقاضوں کے مطابق حقوق اور عدل و انصاف کا حصول اسلامی فیمنزم کا اصل موضوع ہے۔ اسلامی فیمنزم، جزوی طور پرصنفی مساوات کاتصور قرآن مجید کی ان آیات سے اخذ کرتا ہے جن میں دنیا کے تمام انسانوں کو برابر قرار دیا گیا۔ اسلامی فیمنزم، ریاست، سول اداروں اور روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں صنفی مساوات کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سلسلے میں یہ نجی و عوامی شعبہ کےامتیازکو مسترد کرتا ہے۔ [ii]

بدران اپنی تحریروں میں دعویٰ کرتی ہیں کہ بنیاد پرست اسلام پسندوں نے اسلامی کی سیاسی تعبیر کے تحت اصل قرآنی تعلیمات کو مسخ کر دیا اورآج کی دنیا کو اسلام کی صرف یہی تعبیر و تشریح دکھائی دیتی ہے جس میں عورتوں پر ظلم اور پدرسری کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اسکے مقابلے اسلام پسند اسکالرز کا کہنا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات اسلامی خلافت کے حق میں ہیں اور انکا فیمنزم سے کوئی تعلق نہیں۔ سوڈان کی اسلام پسند اسکالر سعد الفتح البداوی(Su’ad al-Fatih al-Badawi) کا استدلال ہے کہ فیمنزم، اسلام کے تصور تقویٰ سے مطابقت نہیں رکھتا یوں اسلام اور فیمنزم دو جداگانہ چیزیں ہیں۔ [iii]

The Image of the Muslim Woman: a Discussion on Feminism and Islamophobia | TORCH | The Oxford Research Centre in the Humanitiesاسماء برلاس (Asma Barlas)، بدرن کے خیالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سیکولر نسائی پسندوں اور اسلامی نسائی پسندوں میں بنیادی فرق ہے اوروہ معاشرے جہاں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے وہاں اسلام کے بنیادی عقائد کے مطابق زندگی گزارنا ناگزیر ہے۔ فاطمہ سیدات اسلامی دنیا میں فیمنزم کی اہمیت کے بارے میں برلاس اور بدرن کے خیالات سے متفق ہے لیکن وہ اسلامی فیمنزم کی اصطلاح کا استعمال غیر ضروری سمجھتی ہیں کیونکہ حقوق نسواں ایک معاشرتی عمل ہے نہ کہ محض ذاتی شناخت۔ انکے خیال میں اسلام اور فیمنزم کو ملانے سے کئی تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور خاص طورپر قرآن کی غلط تعبیر و تشریح کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ قرآن میں خواتین اور مردوں کے حقوق سے متعلق موجود احکامات پر بات کرتے ہوئے انکی وضاحت کرنا ضروری ہے لیکن اس پر اسلامی فیمنزم کا لیبل لگانے سے خواہ مخواہ کی ایک تفریق پیدا ہوتی ہے۔ [iv]

احمد علیوہ (Ahmed Elewa) اور لاری سلورز (Laury Silvers) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 150 سالوں سے اسلامی روایت کے اندر ہی بہت سے ماڈرن اسکالرز ایسی تعبیر و تشریحات کر رہے ہیں جسے وہ مسلم خواتین کے خلاف ہونے والے معاشرتی استحصال کے ازالے کی ایک کوشش سمجھتے ہیں لیکن معاشرے کے عام لوگ اس سے انکار کرتے ہوئے اسے اصل اسلام کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ ان کوششوں میں نئی اسلامی فقہ کی تشکیل، مساجد میں خواتین کی مساوی شرکت، سول، مذہبی اور عدالتی اداروں میں اہم عہدوں پر خواتین کی تعیناتی اور کئی دوسرے امور شامل ہیں۔ [v]

Textuality of Hijab: Asma Barlas and Mohja Kahf - Interactive : Interactiveاسلامی فیمنزم کی وکالت کرنے والے اسکالرز میں مراکش کی سوشیالوجسٹ فاطمہ مرنیسی (Fatima Mernissi)، ایرانی نژاد امریکی مورخ افسانے نجم آبادی (Afsaneh Najmabadi)، ایرانی نژاد امریکی ماہر بشریات و صنفی امور زیبا میر حسینی (Ziba Mir Hosseini)، ایرانی نژاد امریکی ماہر جینڈر و وومن اسٹڈیز نیرہ توحیدی (Nayereh Tohidi)، امریکہ کی نو مسلم اسکالر امینہ ودود(Amina Wadud)، امریکہ کی نسائی و صنفی امور کی مورخ مارگوٹ بدران (Margot Badran)، مصر کی لیلیٰ احمد، پاکستان کی اسماء برلاس، ملائیشیا کی زینہ انور وغیرہ شامل ہیں۔ سیاستدانوں میں آذربائیجان کی لالہ شوکت، پاکستان کی بینظیر بھٹو، اردن کی ملکہ رانیہ، سینیگال کی مامی میڈئیر بوائے (Mame Madior Boye)، ترکی کی تانسو چلر(Tansu Ciller)، کوسوو کی کاکو شا جسری (Kaqusha Jashari)، انڈونیشیا کی میگا وتی (Megawati Sukarnoputri)، بنگلہ دیش کی خالدہ ضیا وغیرہ جیسی خواتین لیڈر ز کو بطورحوالہ پیش کیا جاتا ہے۔

اسلامی فیمنزم کے مختلف رجحانات:
اسلامک اسٹڈیز کے ایک سویڈش اسکالر جان ہجارپے (Jan Hjarpe) کے مطابق مسلم ممالک اورمعاشروں میں فیمنزم کے چار رجحانات پائے جاتے ہیں جن میں ملحد فیمنسٹ، سیکولر فیمنسٹ، مسلم فیمنسٹ اوراسلامک فیمنسٹ شامل ہیں۔

ملحد نسائی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مذہب عورت کا دشمن ہے اور نسائی تحریک، معاشرے میں مذہب کو چیلنج کرتے ہوئے ہی پروان چڑھ سکتی ہے۔ سیکولر نسائی پسندوں کے مطابق اسلام اور فیمنزم کے تعلق کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی معاشرے میں اسلامی لبرل وسیکولر خیالات کس حد تک راسخ ہو چکے ہیں کیونکہ اگر کسی معاشرے میں جمہوری سیاسی نظام مضبوط نہیں تو وہاں عورتوں کی حقوق کی بات کرنا ناممکن ہے۔ تاہم یہ لوگ فیمنزم کی ترویج کیلئے مذہبی عقائد پر حملہ آورہونا ضروری خیال نہیں کرتے۔ [vi]

Pin on Oh, Areebaمسلم فیمنسٹ اسلام کے بارے آزادانہ خیالات رکھتے ہیں اور اسے جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ قرون وسطیٰ میں اسلام کے بارے میں ہمارے خیالات پرپدرسری کا غلبہ تھا اور یہ اسلام کا مستند ورژن نہیں ہے۔ انکا استدلال ہے کہ ہمیں صرف قرآن کی تعلیمات پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ قرآن سے باہر شریعت کے مصادر پدرسری کے تحت تشکیل پائے لیکن قرآن میں صنفی مساوات کی بات کی گئی ہے۔ انکے خیال میں قرآن میں دو طرح کی آیات ہیں۔ پہلی قسم کی آیات میں عرب معاشرے کی روزمرہ عملی زندگی کی بات کی گئی اور دوسری قسم کی آیات میں اخلاقیات اوراصولوں کی بات کی گئی ہے۔ انکے مطابق پہلی قسم کی آیات کی تعبیر و تشریح عصری تقاضوں کے مطابق کرنی چاہیے اور دوسری قسم کے اصول وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے لیکن ان میں بھی پدرسری کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ [vii]

انکا دعویٰ ہے کہ اگر آپ خدا کو عادل و انصاف پسند اور قرآن کو خدا کے الفاظ (words of God) مانتے ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی آیت میں صنفی مساوات کے خلاف بات ہو۔ انکا یہ استدلال بھی ہے کہ بہت سی عظیم خواتین نے پیغمبر اسلامﷺ کی زندگی میں کارہائے نمایاں سرانجام دئے لیکن بعدکے لوگوں نے انکی حمایت نہیں کی۔ انکے مطابق قرآن مجید کا لبرل اور آزادانہ جائزہ فیمنزم کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مسلم فیمنزم کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز میں ہوا۔ اسکا ڈسکورس کئی جدید مسلم اسکالرز کی تحریروں سے اخذ کیا جاتا ہے جن میں سید جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہ، رشید رضا اور قاسم امین قابل ذکر ہیں۔ ایران میں طاہرہ  (Tahirih) نام کی ایک شاعرہ گزری ہیں جو انیسویں صدی میں ایران کی پہلی ماڈرن خاتون تھیں۔ انہوں نے قرآن کی جدید تعبیر و تشریح کرتے ہوئے کثرت ازدواج، پردہ اور کئی دیگر امور کی مخالفت کی اور عورتوں کی آزادی پر زور دیا۔

1899 میں مصری مفکر قاسم امین نے عورتوں کی آزادی پر ایک کتاب ‘تحریر المرآہ’ لکھی اور انہیں مصر میں فیمنزم کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پردہ، دوپٹہ، کم عمری کی شادی، کثرت ازدواج، خواتین کی ناخواندگی اور پسماندگی وغیرہ پر تنقید کی اور انہیں اسلام کی اصل روح سے متصادم قرار دیا۔ انہوں نے مسلم شادی کو جہالت اور محض جنسی تعلقات کی ایسی قانونی شکل قرار دیا جس میں خواتین کو شکار کیا جاتا ہے۔ وہ ڈارون، ہربرٹ اسپنسر اورجان اسٹورٹ مل سے متاثر تھے اور کہتے تھے کہ اگر مصر نے یورپ کے خطوط پر ترقی نہ کی تویہ قوم باقی نہیں رہ پائے گی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ معاشرے میں عورت کا مقام بلند کئے بغیر اور اسے آزادی دئے بغیرکسی قسم کی ترقی نہیں ہوسکتی۔ قاسم امین کے اثرات ماڈرن اسکالرز پر بہت گہرے ہیں۔ [viii]

جدیدیت پسند اسکالرز نے قرآن و سنت کی نئی تعبیر و تشریح کے ذریعے عرب ممالک میں لبرل ازم، اصلاح پسندی اور فیمنزم کو فروغ دینے کی کوشش کی لیکن ان کے نظریات کبھی بھی اسلامی ممالک میں غلبہ حاصل نہیں کر سکے۔ 1980 اور 1990 کے درمیان انہی خیالات کی بنیاد پر ایک نیا نسوانی تناظر (Women Perspective) ضرورسامنے آیا جس نے پہلے اسلامی عقائد اور احکامات پر تنقید کی اور پھر اپنا موقف بدلتے ہوئے انہی احکامات کی عجیب و غریب تعبیر و تشریح کرتے ہوئے نسائی تناظر کےحق میں دلائل اورجواز تراشنے کی کوشش کی۔ ان میں فاطمہ مرنیسی (Fatima Merniss) اور عزیزہ الحبری (Aziza Al-Hibri) خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔

Why I Choose To Wear Hijab: An Open Letter From A Tired Muslim Feministاسلامی فیمنزم واضح طورپر اسٹیٹ فیمنزم ہے یا پھراسکا تعلق اسلامی تحریکوں سے ہے۔ یہ رجحان مذہبی تحاریک سے وابستہ خواتین کو ایک شناخت مہیا کرتا ہے۔ ایرانی اسکالر نستا رمضانی (Nesta Ramazani) کے مطابق وہ خواتین جو مذہبی رسومات، عاشورہ کے ماتمی جلوس، نماز جمعہ، انقلاب اور جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں انکی یہ شرکت بالآخر ایک خاص حد تک آزادی کا باعث بنتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد مختلف شعبہ جات میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا اورسماجی امور میں وہ پہلے سے زیادہ سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں تاہم یہ سارے شعبہ جات اور امور وہ ہیں جن میں شرکت کیلئے اسلامی انقلابی حکومت کی حمایت اور منظوری حاصل ہے۔ [ix]

مغرب میں اسلامی فیمنزم کے رجحانات:
2000 میں امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل نے ایک سروے کیا کہ کتنی مساجد میں خواتین کے الگ نماز پڑھنے کیلئے جگہ درکار ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم فیمنسٹ گروپ نے ایک احتجاج کے دوران یہ مطالبہ پیش کر دیا کہ انہیں مردوں کے ساتھ اسی طرح نماز اداکرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس طرح مکہ میں حج کے دوران ہوتی ہے۔

2003 میں اسرا ءنعمانی نے مغربی ورجینیا کے مورگن ٹائون کی ایک مسجد میں ان ضوابط کو چیلنج کیا جن کے تحت خواتین کو پچھلےدروازے سے داخل ہوکر ایک الگ بالکنی میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسراء نعمانی گروپ کا اصرار تھا کہ وہ مردوں کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہتی ہیں اور انہیں الگ نماز ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انکے خیال میں عورتوں کو الگ نماز ادا کرنے پر مجبور کرنا صنفی امتیاز اور جنسی تعصب (Sexism) پر مبنی سوچ ہے۔ ان احتجاجات کے بعد امریکہ کی کئی مسلم تنظیموں نے مساجد میں عورتوں کی نماز کی ادائیگی کے حوالے سے مزید سہولیات بہم پہنچائیں۔ [x]

Asra Nomani | Events | Schuster Institute | Brandeis University

اسرا نعمانی

نماز جمعہ میں عورت کی امامت اور خطبہ:
18 مارچ 2005 کو امریکہ کی ایک نو مسلم اسکالر امینہ ودود (Amina Wadud) نے نیویارک شہر میں نماز جمعہ کے ایک مخلوط اجتماع کی امامت کرکے امت مسلمہ میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا۔ اس جمعہ اجتماع کیلئے اذان دینے کی ذمہ داری بھی ایک خاتون کو سونپی گئی اوراس اجتماع کی سرپرستی ایک تنظیم’مسلم ویمن فریڈم ٹور’ اسراء نعمانی کی قیادت میں کر رہی تھی۔ اس اجتماع کے انعقادکیلئے کئی مساجد سے درخواست کی گئی تھی لیکن سب کے انکار کے بعد اسے ایک چرچ کے احاطے میں منعقد کیا گیا۔ اس چیپل میں نمازیوں سے زیادہ صحافی اور کیمرہ مین موجود تھے اور انکی فلیش لائٹوں سے امینہ ودود اس قدر پریشان تھیں کہ نماز کے دوران قراءت کرتے ہوئے قرآنی آیات بھول گئیں۔ عالمی میڈیا نےآمنہ ودود کی امامت اور خطبہ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے اندر صنفی مساوات کے طورپر شروع ہونے والی عالمی بحث قرار دیا۔ بعض ماڈرن مسلم اسکالرز نے اس عمل کی حمایت کی جن میں مصر کے جمال البنا، ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر لیلیٰ احمد، نوٹری ڈیم (Notre Dame) یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم الموسیٰ اور کیلفورنیا میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر خالد ابوالفضل شامل ہیں۔ [xi]

تاہم شیخ یوسف القرضاوی، جامعہ الازہر کے شیخ سید طنطاوی، دیگر کئی علماء اور مغرب میں رہائش پذیرمسلمانوں کی اکثریت نے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کو کسی طورپر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شمالی امریکہ کی فقہی کونسل کے چئیرمین مزمل صدیقی نے کہا کہ ‘خواتین نماز کی امامت نہیں کروا سکتیں کیونکہ دین اسلام میں اپنی طرف سے کوئی نیا طریقہ متعارف کروانا درست اور جائز نہیں لہذا امامت کے فرائض صرف مرد ہی سرانجام دے سکتے ہیں کیونکہ یہی طریقہ اسلامی روایت کے مطابق ہے’۔ [xii]

2010 میں ایک امریکی مسلم خاتون فاطمہ تھامسن نے کئی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر واشنگٹن میں مسجد کے اندر احتجاج کیا کہ عورتوں کیلئے عبادت کی ایک جگہ مخصوص کیوں کی گئی ہے۔ اس مخصوص جگہ کو اس نے عورتوں کو سزا دینے والا گرم و تاریک کمرہ، پچھواڑہ اور پینلٹی باکس (Penalty box) قرار دیا۔ اسی سال عورت مارچ کے موقع پر اس گروپ نے دوبارہ احتجاج کیا جسے ختم کروانے کیلئے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ [xiii]

2015 میں اسرا نعمانی (Asra Nomani) اور دیگر سیاسی کارکنان و مصنفین نے ‘مسلم ریفارم موومنٹ’ کے تحت اسلامک سینٹر واشنگٹن میں یہ اعلامیہ پیش کیا کہ مشرق وسطیٰ کے انتہا پسند گروہوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور ہم تمام امور زندگی میں عورتوں کے مساوی حقوق، وراثت کےحقوق، تعلیم و ملازمت کے حقوق، خواتین کی آزادی، مذہبی امور میں انکے کردار، مساجد میں برابری کی شرکت اور مذہی عبادات و رسومات میں قیادت سے متعلق تمام حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ پدرسری، مساجنی اور جنسی تعصب کو مسترد کرتے ہیں۔ [xiv]

مسلم فیمنسٹ گروپس، فیشن کی حمایت، پردے کی مخالفت:
2007 میں ناروے کی فلم سازاور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن دیا خان (Deeyah Khan) نے اپنی میڈیا اور آرٹس پروڈکشن کمپنی کے ذریعے خواتین کی آواز اٹھانے کیلئے ‘سسٹر ہوڈ Sister-hood’ کے نام سے بین الاقوامی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی۔ 2016 میں انکی طرف سےایک گلوبل آن لائن میگزین کا اجراء کرتے ہی چھ ماہ کے اندر ایشین میڈیا ایوارڈز نے اسے مسلم خواتین کے حقوق اور مساوات کی آواز اٹھانے والی بہترین ویب سائٹ قرار دے دیا۔ اس تنظیم کے سفیروں میں پاکستان سے فریدہ شہید، مصر سے مونا التحاوی، فلسطین سے رولا جبریل (Rula Jebreal)، صومالیہ سے لائلہ حسین (Leyla Hussein) اور الجیریا سے مریم ہیلی (Marieme Helie Lucas) شامل ہیں۔ یہ تنظیم فلم، فیشن اورمیگزین کے ذریعے مسلم خواتین کے صنفی حقوق کی آواز دنیا بھر تک پہنچاتی ہے۔ [xv]

اسلام میں مرداور عورت دونوں سے پاکیزہ اور باحیالباس پہننے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن مسلم فیمنسٹ اسکے بارے میں اعتراض کرتے ہیں کہ یہ فرد کی ذاتی پسند ناپسند پر لگائی جانے والی پابندی ہے۔ انکے نزدیک مسلم خواتین کیلئے روایتی لباس پہننا لازمی نہیں بلکہ وہ جینز وغیرہ بھی پہن سکتی ہیں۔ مسلمانوں میں پردہ اور حجاب کی مخالفت کرنے والا ریڈیکل فیمنسٹ گروہ بہت چھوٹی سے تعداد میں ہے جسکی ترجمانی الجیرین نژاد فرنچ فیمنسٹ فدیلا عمارہ (Fadela Amara) او ر تیونس نژاد الہادی مہنی (Hedi Mhenni) وغیرہ کرتے ہیں۔

فدیلا عمارہ فرانس کے انتہا پسند سیکولر عناصر کے شانہ بشانہ اسلامی شعائر کے خلاف مہمات میں حصہ لیتی اور انکے حق میں آرٹیکل اور کتابیں لکھتی ہیں۔ 2009 میں فرانس میں برقع کے خلاف بننے والے پارلیمانی کمیشن کو فدیلا عمارہ نے اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ‘میں پورے ملک میں برقع کی مکمل ممانعت کے حق میں ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ اس پر پابندی لگائی جائے کیونکہ یہ بنیادی حقوق اور خواتین کی آزادی کا کفن ہے’۔ عمارہ فدیلہ نے اپنی کتاب میں حجاب کے حوالے سے لکھا کہ ‘پردہ خواتین کے محکوم نظر آنے کی واضح علامت ہے اس وجہ سے فرانس کے پبلک اسکول سسٹم کے مخلوط نظام میں اسکے لئے کوئی جگہ نہیں۔ ہمیں اسکارف اوڑھنے والی لڑکیوں کو اسکول سے نکالنے کے بجائے انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ پسند اور انتخاب کیا ہوتا ہے۔ جب وہ پسند اور انتخاب کرنا سیکھ جائیں گی تو اسکارف سے انکار کرنا بھی سیکھ لیں گی’۔ جب کچھ نسائی ماہرین نے اسکارف کے دفاع کی کوشش کی تو عمارہ نے کہا کہ ‘ نوجوان خواتین کی تربیت کرنا چاہیے کہ دوپٹہ اوڑھے بغیر بھی مسلمان رہا جا سکتا ہے اور یہ مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ خاندان کے دبائو میں اوڑھا جاتا ہے، یہ روایت نہیں بلکہ رجعت پسندی ہے’۔ [xvi]

اس حوالے سے الہادی مہنی نہ صرف فرانس بلکہ تیونس میں بھی اسکارف اور حجاب پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں اورانکا کہنا ہے کہ ‘اگر آج ہم ہیڈ اسکارف کو قبول کرتے ہیں تو کل ہمیں خواتین کے کام کرنے، ووٹ ڈالنے، تعلیم حاصل کرنے اور تولیدی حقوق پر عائد پابندیوں کو بھی قبول کرنا پڑے گا’۔ [xvii]

(جاری ہے۔ ۔ ۔ دوسراحصہ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں)

References:

[i] Tomac, Ayca (2011) “Debating Islamic Frminism : between Turkish Secular Feminism and North American Academic Critiques”. Retrieved from https://qspace.library.queensu.ca/bitstream/handle/1974/6736/Tomac_Ayca_201109_MA.pdf;jsessionid=0B0DFBE17B7F99FAB727B3C55E6D3D19?sequence=1

[ii] Fawcett, Rachelle (2013) “The reality and future of Islamic Feminism” Retrieved from https://www.aljazeera.com/opinions/2013/3/28/the-reality-and-future-of-islamic-feminism

[iii] Doumato, Eleanor Abdella (2003) “Women and Globalization in the Arab Middle East” Retrieved from https://books.google.com.pk/books?id=xq0WKr_yFCYC&redir_esc=y

[iv] Seedat, Fatima (2016) “Beyond the Text: Between Islam and Feminism” Retrieved from https://www.researchgate.net/publication/309096091_Beyond_the_Text_Between_Islam_and_Feminism

[v] Elewa, Ahmed & Laury Silvers (2015) “I am one of the people: A Survey and analysis of legal arguments on Woman-Led Prayer in Islam” Retrieved from https://www.cambridge.org/core/journals/journal-of-law-and-religion/article/abs/i-am-one-of-the-people-a-survey-and-analysis-of-legal-arguments-on-womanled-prayer-in-islam1/269FE071D66D033CB92D0F11A283159F

[vi] Ahmed, M., Kaosar (2014) “ Feminist Discourse and Islam: A Critique” Retrieved from file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/1_IRSSH-512-V6N2.39114633.pdf

[vii] Ahmed, M., Kaosar (2014) “ Feminist Discourse and Islam: A Critique” Retrieved from file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/1_IRSSH-512-V6N2.39114633.pdf

[viii] Ahmed, Leila (2021) “Women and Gender in Islam: Historical Roots of a Modern Debate” New Haven and London: Yale University Press, 1992. pp.155-163

[ix] Ahmed, M., Kaosar (2014) “ Feminist Discourse and Islam: A Critique” Retrieved from file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/1_IRSSH-512-V6N2.39114633.pdf

[x] Nomani, Asra Q. (2010) “Let These Women Pray” BEAST, World News. Retrieved from https://web.archive.org/web/20110518000448/http://www.thedailybeast.com/blogs-and-stories/2010-02-27/let-these-women-pray

[xi] Elliott, Andrea (2005) “Woman Leads Muslim Prayer Service in New York” The New York Times March 19, 2005. Retrieved from https://www.nytimes.com/2005/03/19/nyregion/woman-leads-muslim-prayer-service-in-new-york.html

[xii] Elewa, Ahmed & Laury Silvers (2015) “I am one of the people: A Survey and analysis of legal arguments on Woman-Led Prayer in Islam” Retrieved from https://www.cambridge.org/core/journals/journal-of-law-and-religion/article/abs/i-am-one-of-the-people-a-survey-and-analysis-of-legal-arguments-on-womanled-prayer-in-islam1/269FE071D66D033CB92D0F11A283159F

[xiii] Nomani, Asra Q. (2010) “Let These Women Pray” BEAST, World News. Retrieved from https://web.archive.org/web/20110518000448/http://www.thedailybeast.com/blogs-and-stories/2010-02-27/let-these-women-pray/#

[xiv] “Muslim Reform Movement embraces secularism and universal human rights” (Dec 8, 2015) national Secular Society. Retrieved from https://www.secularism.org.uk/news/2015/12/muslim-reform-movement-embraces-secularism-and-universal-human-rights

[xv] “Emmy-award winning filmmaker Deeyah Khan launches online magazine Sister-hook aimed at giving Muslim women a voice” news.com.au June6, 2016. Retrieved from https://www.news.com.au/lifestyle/real-life/news-life/emmyaward-winning-filmmaker-deeyah-khan-launches-online-magazine-sisterhood-aimed-at-giving-muslim-women-a-voice/news-story/f61efcf5b0650060e3f54cc17f5c291b

[xvi] Hussain, Tassadaq (2016) “Muslim women who veil and Article 9 of the European Convention on Human Rights: A socio-legal critique”. Retrieved from http://clok.uclan.ac.uk/16653/1/16653%20Tassadaq%20Hussain%20Final%20e-Thesis%20%28Master%20Copy%29%20March%202016.pdf

[xvii] “Ghetto warrior” The Guardian, July 17, 2006. Retrieved from https://www.theguardian.com/world/2006/jul/17/france.politicsphilosophyandsociety

(Visited 1 times, 5 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply