اقتدارکی مجبوریاں: مرزا اسلم بیگ کی چشم کشا داستانِ حیات — نعیم الرحمٰن

0

کرنل اشفاق حسین اردوادب کے مستند لکھاریوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ طنزومزاح کے رنگ میں آرمی میں کیڈٹ بننے کی کہانی اوراس کے بعدان کی جنٹل مین سیریز اردو ادب میں بلند مقام رکھتی ہیں۔ جن میں ’’جنٹل مین بسم اللہ‘‘ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹ کے شب و روزکی دلچسپ اور ہوشربا داستان ہے، جس کے اب تک اٹھائیس ایڈیشنز شائع  ہوچکے ہیں۔ ’’جنٹل مین الحمداللہ‘‘ کمیشن ملنے کے بعد مصنف کی تجربات اور شمالی علاقوں کی بلندیوں سے کراچی شہرتک پیش آمدہ واقعات کی دلچسپ کتھا ہے۔ ’’جنٹل مین اللہ اللہ‘‘ مختلف اخبارات ورسائل میں مصنف کے چھپنے والے مضامین کاجامع انتخاب ہے۔ ’’جنٹل مین استغفراللہ‘‘ کارگل کی مہم جوئی کے بارے میں اصل حقائق پرمبنی، نوجوان افسروں کی بے جگری سے لڑنے شجاعت کی سچی کہانیاں ہیں۔ جنٹل مین فی الارض اللہ‘‘ میں کرنل اشفاق حسین نے قرآن پاک میں مذکور مقامات کا مشاہدہ کرنے کے لیے مصر، ارد ن، عراق اورترکی کاسفرکیا۔ عراق میں وہ اسامہ بن لادن کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار بھی ہوئے۔ انہوں نے امریکا، لندن اور یورپ کے کئی شہروں کا سفر بھی کیا۔ یہ کتاب انہی ممالک کے سفرنامہ ہے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے سب سے زیادہ تمغہ یافتہ افسر میجر شبیر شریف کی سوانح حیات ’’فاتح سبونہ‘‘، ایک امریکن یہودی لڑکی کی سچائی کی تلاش میں قبول اسلام، پاکستان میں ایک پٹھان خاندان میں شادی اور یہی وفات تک رہنے کی کہانی ’’امریکا سے ہجرت‘‘ اور انگریزی ناول Alive کا ترجمہ ’’برف کے قیدی‘‘، جس میں رگبی ٹیم کا جہاز جنوبی امریکا کے برف پوش پہاڑوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ کھانے پینے کی اشیا ختم ہونے کے بعد مجبوراً مسافروں کو مرجانے والے ساتھیوں کی لاشیں کھانا پڑیں۔

ایسی بے مثال کتابوں کے مصنف کرنل اشفاق حسین نے سابق آرمی سربراہ جنرل مرزااسلم بیگ کی سوانح حیات ’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ کے نام سے قلم بند کی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں۔

’’ذہن میں تجویز آئی کہ کیوں نہ پاک فوج کے سربراہوں سے گفتگو کی جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ جب وہ کیڈٹ تھے تو ان پر کیا گزری، اور کمیشن کے بعد فوج کی سربراہی تک کن مراحل سے گزرنا پڑا۔ کیا کیا تجربات کئے۔ خیال تھا کہ یہ کہانیاں نہ صرف دلچسپی سے پڑھی جائیں گی بلکہ ہمارے آفیسرزاورجوانوں کے لیے مشعل راہ بھی ثابت ہوں گی کہ کیسی کیسی قدآور شخصیتوں کو کن کن گھاٹیوں سے گزرنا پڑا۔ سب سے پہلے جنرل مرزا اسلم بیگ کا انتخاب کیا۔ ان سے پہلے جتنے بھی پاک فوج کے سربراہ رہے، دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔ جنرل اسلم بیگ ماشاء اللہ نہ صرف حیات ہیں بلکہ وہ پاک فوج کے پہلے سربراہ جن کی تربیت پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہوئی۔ ان سے پہلے کے سپہ سالار یا تو برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ کے تربیت یافتہ تھے یا ان اداروں کے جوبرطانیہ نے برصغیر میں قائم کئے۔ ان میں جنرل سرفرینک میسروی، جنرل ڈگلس گریسی، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جنرل محمد موسیٰ، جنرل آغامحمد یحیٰی خان، لیفٹننٹ جنرل گل حسن، جنرل ٹکا خان، جنرل محمد ضیاء الحق شامل ہیں۔ جنرل مرزا اسلم بیگ سے ہم نے ’’جنٹل مین استغفراللہ ‘‘ لکھتے ہوئے بھی رہنمائی حاصل کی تھی۔ ایک خط لکھ کر انہیں ای میل کر دیا اور پی ایم اے کی زندگی کے بارے میں ایک سوال نامہ بھی بھیجا۔ دوسرے دن ای میل کی وصولی کی تصدیق کے لیے ان کے سیکریٹری کو فون کیا۔ فون جنرل بیگ نے خود اٹھایا۔ انہوں نے بغیر کسی تامل کے ہاں کردی اور اسی دن تحریری جواب بھی آگیا۔ اپریل کے ابتدائی دنوں کی ایک خوشگوار صبح ہم اپنے کیمرہ مین کے ساتھ حاضر ہوئے۔ یہ نشست تین گھنٹے جاری رہی۔ انتہائی دلچسپ اورسیرحاصل گفتگو ہوئی۔ ہمارا ارادہ تو صرف پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قیام کے بارے میں گفتگو کرنا تھا لیکن حکایت چونکہ دلچسپ تھی اس لیے درازتر ہوتی گئی۔ پی ایم اے کی باتیں ختم ہوئیں تو کیریئر کے ابتدائی دنوں ذکر چھڑ گیا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔ وہ تھکتے تھے نہ ہمیں تکان ہوئی۔ درازی عمرکے باوجود ماشاء اللہ چاق و چوبند ہیں۔ پہلے تو سوال و جواب ہوتے تھے پھر انہوں نے خودہی زندگی کے مختلف واقعات لکھنے بھی شروع کردیے جن میں کانٹ چھانٹ کا اختیار انہوں نے بڑی فراخ دلی سے ہمیں دے رکھا تھا اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی سے متعلق باتیں بڑی دلچسپ اور سبق آموز داستان بن گئی ہے جو اس کتاب کی تکمیل کے آخری دنوں تک جاری رہی۔ یوں ان کی سوانح عمری تیار ہوگئی۔ جونہ صرف ان کی کہانی ہے بلکہ ان کے عہد کے اہم واقعات سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ ان کی اپنی پہچان بھی ہے، ایک مخصوص سوچ و فکر اور ایمان ویقین کی دلچسپ داستان ہے جو قومی معاملات کے بعض اہم گوشوں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ ‘‘

جنرل مرزا اسلم بیگ نے تاریخ کے ایک انتہائی اہم موڑ پر افواج پاکستان کی سربراہی سنبھالی۔ جب جنرل ضیاالحق کا طیارہ فضا میں تباہ ہوگیا تھا اور ملک بڑے بحران سے دوچار تھا۔ اس مرحلے پر انہوں نے اقتدارسنبھالنے اورمارشل لگانے پرجمہوریت کوبحال کرنے کافیصلہ کیا۔ اس لیے ان کی سوانح کئی اہم سوالوں کے جواب فراہم کرتی ہے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ ’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’ کرنل اشفاق نے جو کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، پاکستان ملٹری اکیڈمی میں میرے قیام اور کارگل کی جنگ کے حوالے سے مجھ سے بہت سے سوالات پوچھے اورساتھ ہی مجھے ترغیب بھی دیتے رہے کہ میں اپنی کتاب بھی لکھوں۔ کتاب لکھنا تو مشکل کام ہے البتہ ہمارے درمیان طے ہواکہ وہ مجھ سے سوالات پوچھتے جائیں اورمیں جواب دیتا جاؤں تو شاید ایک کتاب بن جائے۔ یہ تجربہ دلچسپ ثابت ہوا اور کئی مہینوں کی لمبی نشستوں کے بعدانہوں نے اسے کتاب کی شکل دیدی۔ کتاب کے کئی عنوان ذہن میں آئے لیکن مناسب نہ لگے۔ اسی تلاش میں تھا کہ جنرل ضیاالحق کے یہ الفاظ ذہن میں باربارآتے رہے: ’’اقتدار کی کچھ مجبوریاں‘‘ ہوتی ہیں۔ جس میں ایک پیغام پوشیدہ ہے کہ ہمارے حکمران ’’اقتدار کی مجبوریوں‘‘ کے سبب کس قدربے بس ہوجاتے ہیں کہ قومی غیرت تک کو بھی داؤپرلگا دیتے ہیں۔ اقتدارکی ہوس میں ہمارے ارباب فکرونظر، اندیشہ سودوزیاں کے تحت اپنی زبان بندرکھتے ہیں۔ حکمرانوں کو روکتے نہیں، ٹوکتے نہیں۔ یہی ہی ہماراالمیہ ہے۔ اس کتاب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ میرے علم کی حدتک سچ اورصرف سچ پرمبنی ہے۔ سجائی کی وجہ سے کئی بار میں نے نقصان بھی اٹھایاجس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے لیکن حق نے مجھے سرخروکیاجس پرمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔ ‘‘

’’عرض مرتب‘‘میں کرنل اشفاق حسین لکھتے ہیں۔

’’پاکستان ملٹری اکیڈمی پاک فوج کاوہ مایہ ناز ادارہ ہے جہاں مستقبل کی عسکری قیادت تیا رہوتی ہے۔ یہاں آنے والے کیڈٹ معاشرے کے ہرطبقے سے متعلق ہوتے ہیں، غریب بھی، امیربھی، متوسط اور پسماندہ گھرانوں سے بھی لیکن یہاں سب سے یکساں سلوک کیا جاتاہے اور ان کی جانچ پڑتال، ان کی کارکردگی کی بنیاد پرہوتی ہے۔ کئی مرتبہ یوں ہواکہ غریب گھرانوں، عام سپاہیوں یا جونیئر کمیشنڈ افسروں کے بیٹوں نے اعزازی شمشیرحاصل کی اورجنرل کے عہدے تک پہنچے۔ پاک فوج کے ایک سپہ سالارایک صوبیدار میجر کے بیٹے تھے۔ دوسپہ سالار جوان بھرتی ہوکرآرمی چیف بنے۔ ابتدائی انٹرویو کے بعدانہیں انٹرسروسز سلیکشن بورڈ میں جانچا پرکھا جاتاہے جس کا نظام انتہائی شفاف ہے۔ پاک فوج ہو، پاک بحریہ یاپاک فضائیہ، تینوں افواج میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کوآئی ایس ایس بی کی چھلنی سے گذرناپڑتاہے۔ چونکہ انتخاب کا معیار کافی کڑاہوتاہے اس لیے کامیاب ہونے والے امید واروں کی تعداد انتہائی قلیل ہوتی ہے۔ چونکہ مجموعی طورپرکامیابی کاتناسب قلیل ہوتاہے، اس لیے یہ بات مشہورہوگئی ہے کہ کسی جنرل کی سفا رش کے بغیرآئی ایس ایس بی میں کامیابی ممکن نہیں۔ یہ انتہائی غلط تاثرہے۔ ہم نے کئی بارسینئرافسروں کے بچوں کو ناکام اورعام سپاہیوں، نان کمیشنڈ افسروں، جونیئرکمیشندافسروں اورغریب گھرانوں کے بچوں کو کامیاب ہوتے دیکھا ہے۔ میں اپنی مثال پیش کرتا ہوں۔ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ میرے والدایک چھوٹی سے بیکری چلاتے۔ میں پہلی ہی کوشش میںآئی ایس ایس بی میں کامیاب ہوگیا لیکن میرا بیٹا پہلی کوشش میں ناکام ٹھہرا جبکہ اس وقت میں حاضرسروس میں لیفٹیننٹ کرنل تھا۔ پی ایم اے کے کیڈٹ کاکول اورگردونواح کی پہاڑیوں کی گرد چھانتے پھرتے ہیں۔ نیول اکیڈمی کے کیڈٹ سمندرکے پانیوں میں غوطے کھاتے ہیں اورایئرفورس کے کیڈٹ فضاؤں میں اڑتے ہوئے اپنے انسٹرکٹروں کی طرف سے ایسی کی ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں جواس سے پہلے کبھی ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتی۔ انتخاب کے مرحلوں اورپی ایم اے میں گزرنے والے لمحات کی کہانی ہم نے شگفتہ اندازمیں اپنی پہلی کتاب’’جنٹل مین بسم اللہ‘‘ میں بیان کی ہے جوآپ بیتی کی شکل میں جگ بیتی ہے۔ پاک فوج کے ہر افسرکی کہانی ہے۔ کرنل ہو یا جنرل، کمیشن حاصل کرنے کے لیے انہیں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پل صراط ہی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ‘‘

’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ کودس ابواب ’’کس چمن کاپھول ہوں میں کس شجرکی شاخ میں‘‘، ’’میرے خوابوں کی سرزمین‘‘، ’’آٹھ سالوں میں دس پوسٹنگز‘‘، ’’فوج کے اعلیٰ سلسلہ اختیارات میں شمولیت‘‘، ’’مسلح افواج کااہم ترین فیصلہ‘‘، ’’فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعداہم اقدامات‘‘، ’’سیاسی رہنماؤں سے معاملات‘‘، ’’ریٹائرمنٹ‘‘، ’’ہماری تاریخ کے اہم باب‘‘ اورحالات حاضرہ پرتبصرے‘‘میں تقسیم کیاگیا ہے۔ جنرل مرزااسلم بیگ کے آباؤاجدادکاتعلق چیچنیاسے تھا، جنہوں نے تیرہویں صدی عیسوی میں ازبکستان کی جانب ہجرت کی اوروادی فرغانہ میں آکرآباد ہوئے جوبرصغیرہندمیں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کی جائے پیدائش ہے۔ فرغانہ اندیمان کادارلحکومت تھا۔ جنرل اسلم بیگ کے آباؤاجداد مشکل وقت میں بابرکی سپاہ کاحصہ رہے اورانہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ مرزا اوربیگ کے سابقے اورلاحقے انہی دنوں کی یادگارہیں۔ شہنشاہ جہانگیرکے دورمیں اسلم بیگ کے بزرگ مرزامسلم بیگ کو گنگا جمنا کے سنگم کے قریب اعظم گڑھ شہرکے پاس جاگیر دی گئی جسے انہوں نے مسلم پٹی کانام دیااوروہیں مستقل سکونت اختیارکی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلم پٹی کے پانچ سوجوان ایک توپ لے کربہادرشاہ ظفرکی مدد کے لیے نکلے اوردہلی روانہ ہوئے، مخبری پرانگریزفوج نے انہیں گھیرلیا اور اکثر کو شہید کردیا۔ گنتی کے چندافراد ہی واپس پہنچنے میں کامیاب ہوسکے۔ اس واقعے کے بعدمسلم پٹی کی جاگیرمسلمانوں سے لیکرایک ہندو راجہ کے حوالے کردی گئی۔

ان کی شادی 1959ء میں جب وہ ایس ایس جی میں تھے، اسمامحمودشوکت انصاری سے طے ہوئی۔ وہ حیدرآباددکن میں تھیں، پاکستان آئیں اورپشاورمیں اپنے چچاکرنل مسعودرفعت انصاری کے ہاں قیام کیا۔ 21جون کوان کی شادی ہوئی۔ اکسٹھ سالہ رفاقت کے بعداہلیہ دو سال کی طویل علالت بعد22 دسمبر2020ء کوانتقال کرگئیں۔ مرزااسلم بیگ کی دوبیٹیاں لبنیٰ اوریمنیٰ اوربیٹاوجاہت مصطفی ہے۔ اسلم بیگ 17اگست 1949ء کوبحری جہازکے ذریعے بمبئی سے کرا چی پہنچے۔ اس سے پہلے ان کے دوبڑے بھائی پاکستان آچکے تھے۔ اگلے مہینے انہوں نے فوج میں کمیشن کے لیے درخواست دی۔ ابتدائی آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کے لیے لاہورگئے، وہاں کامیابی کے بعدطبی وجوہ کی بنا پر انہیں مستردکردیاگیا۔ انہیں سسٹالک ہارٹ کامرض تھا آٹھ دس دھڑکنوں کے بعدانکی ایک دھڑکن مس ہوجاتی تھی۔ بڑے بھائی نے تین ماہرین سے مشورہ کیا۔ سب نے کہایہ کوئی معذوری نہیں ہے جس کی بنیاد پرکسی امیدوارکوان فٹ قراردیاجائے۔ بڑے بھائی کے مشورے پراسلم بیگ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائرکی اور درخواست کے ساتھ تینوں ہارٹ اسپیشلسٹ کی رپورٹ بھی منسلک کر دیں۔ دو ہفتے بعدانہیں ملٹری ہاسپٹل راولپنڈی رپورٹ کرنے کوکہا گیا۔ ایم ایچ نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجس میں ایک کرنل اورایک افسرشامل تھے۔ اسلم بیگ اس بورڈ کے سامنے پیش ہوئے۔ انہو ں نے بورڈ کے استفسارپربتایاکہ یہ تکلیف مجھے پانچ چھ مہینے سے ہے۔ اعظم گڑھ سے روانہ ہوا، تومجھے ماں باپ، رشتہ داراورگھروالوں اور دوست احباب کوچھوڑنا پڑا، جن کے ساتھ مل کر تحریک ِپاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیاتھا، جومجھے جان سے زیادہ عزیزتھے۔ میراخیال ہے کہ ان سب کوچھوڑتے ہوئے میری کچھ دھڑکنیں ان کے ساتھ ہی رہ گئیں۔ یہ سن کرکرنل صاحب نے مجھے گلے لگایااورمجھے میڈیکلی کلیئر کیااورکہاکہ جلدہی جی ایچ کیوسے آپ کوجلدپاکستان ملٹری اکیڈمی رپورٹ کرنے کے احکامات مل جائیں گے۔ اس طرح مستقبل کے پاک آرمی کے سربراہ ابتدامیں میڈیکلی ان فٹ قراردیے گئے اورفیصلے کوچیلنج کرنے پرفوج میں شامل ہوسکے۔

اسلم بیگ کی عسکری زندگی نشیب وفرازسے بھری ہے۔ کبھی پروموشن، کبھی ڈیموشن، کبھی کورٹ مارشل کاخطرہ، کبھی فارغ ہونے کاخدشہ ’’اقتدارکی مجبوریاں‘‘ میں انہوں نے بتایاکہ لیکن اللہ تعالیٰ پرکامل ایمان نے انہیں ہمیشہ ثابت قدم رکھااوروہ فوج کے بلندترین عہدے پرپہنچے۔ کہتے ہیں۔

’’ میری سروس دس سال ہوچکی تھی۔ میرایہ منفردریکارڈ ہے کہ آٹھ سالوں میں دس پوسٹنگزہوئیں۔ مشرقی پاکستان سے 30بلوچ۔ 30بلوچ سے 36بلوچ رجمنٹ۔ 36بلوچ سے 9ڈویژن۔ 9ڈویژن کھاریاں سے 9ڈویژن کومیلا مشرقی پاکستان۔ کومیلا سے وارکورس راولپنڈی۔ وارکورس سے20سندھ۔ 20سندھ سے ڈی ایس وار کور سے راولپنڈی۔ ڈی ایس وارکورس سے 101 بریگیڈ سیالکوٹ۔ 101بریگیڈسے60بریگیڈ۔ 60بریگیڈسے چیف انسٹرکٹروارکورس راولپنڈی۔ آٹھ سال میں یہ دس پوسٹنگزمیری گستاخیوں کی سزا تھی۔ ایک سال کچھ ماہ ہوئے تھے کہ میری پوسٹنگ مشرقی پاکستان کے شہر کومیلامیں بریگیڈیئر میجر کے طورپرہوگئی۔ مشرقی پاکستان کاذکرآئے توسانحہ دسمبر1971ء کیونکربھلایاجاسکتاہے۔ یہ دسمبراچانک وارد نہیں ہواتھابلکہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس کے لیے ریشہ دوانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ جب پاکستان وجود میں آیاتومشرقی پاکستان کی آباد ی ترپن فیصد تھی یعنی وہ اکثریت میں تھے۔ چاہیے تویہ تھاکہ ان کی اکثریت تسلیم کیاجاتااوروفاق میں انہیں اسی تناسب سے نمائندگی دی جاتی لیکن ہوااس کے برعکس۔ مغربی پاکستان کی بیورو کریسی ہمیشہ ان کی اکثریت کواقلیت میں بدلنے کی کوشش کرتی رہتی۔ 1946ء کے انتخابات میں مشرقی بنگال نے ایک سوانیس میں سے ایک سوتیرہ نشستیں جیتی تھیںاورحسین شہیدسہروردی وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اے کے فضل الحق بعد میں وزیراعلیٰ رہے۔ قراردادِپاکستان بھی انہوں نے ہی پیش کی تھی۔ اگر ان میں سے کسی کووزیراعظم مقررکردیا جاتاتو مشرقی پاکستان کے لوگوں کووفاق میں اپنی نمائندگی پرناز ہوتا۔ مشرقی پاکستان کے بارے میں شروع سے جوپالیسی اپنائی گئی وہ ناقص تھی کہ مشرقی پاکستان کادفاع مغربی پاکستان سے کیاجائے گا۔ 1965ء کی جنگ کے بعدہمارے بنگالی بھائیوں میں ایک تشویش پیداہوئی کہ ’’مشرقی پاکستان جوتینوں سمتوں سے دشمن نے گھیرا ہوا ہے، اس کے دفاع کے لیے صرف ایک ڈویژن فوج، ایک پی اے ایف اسکواڈرن اورنیوی کے چند جہازہیں اورباقی تمام افواج مغربی پاکستان کے دفاع کے لیے ہیں۔ جوکسی صورت ملکی سلامتی کے لیے درست حکمت عملی نہیں ہے۔ ‘‘یقینا یہ ایک واضح کمزوری تھی جس کافائدہ بھارت نے 1971ء میں اٹھایا۔

اسلم بیگ 1971ء میں مشرقی پاکستان ہی میں تعینات تھے۔ وہ بتاتے ہیں۔

’’جنگ کے دوران جنرل امیرعبداللہ نیازی نے کمانڈ میں کچھ تبدیلیاں کیں اور9 ڈویژن ہیڈکوارٹرکوجیسورسیکٹرکی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ یہ عجیب فیصلہ تھاکہ ڈویژن ہیڈکوارٹر، جس کے پاس علاقے کی تمام آپریشنل معلومات تھیں اسے دوسرے علاقے میں بھیج دیاگیااورایک نئے ڈویژن کووہاں لگا دیا گیا جسے علاقے کی آپریشنل انٹیلی جنس کاکچھ علم نہ تھا۔ ہمیں جیسورسیکٹرکی ذمہ داری سنبھالنے اورمعاملات کوسمجھنے میں کچھ وقت لگالیکن پھر بھی جولائی کے وسط تک حالات کنٹرو ل میں آچکے تھے۔ نامساعد حالات میں بھی ہماری فوج نے بڑی ہمت اورجانفشانی کامظاہرہ کیااورقربانیاں دیں جنہیں ہم نے بھلا دیا۔ کتنے آفیسر اور جوان شہید ہوئے، جنہیں ہم یادبھی نہیں کرتے۔ چار ماہ کے مختصرعرصے میں امن قائم ہوچکاتھاجب ہمارے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجرجنرل شوکت رضانے ہمیں امن وامان کے حالات کے مطابق تفصیلی تجزیہ کرنے کوکہاجوہم نے تیارکرلیااورایسٹرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرگئے جہاں جنرل نیازی کے سامنے پیش کیا۔ جس کاخلاصہ تھاکہ فون نے اپنی ذمہ داریاں پوری کردی ہیں اوراب وقت ہے کہ سول انتظامیہ حالا ت کو سنبھالے، ادارے قائم ہوں اورسیاسی عمل شرو ع ہو۔ جنرل نیازی کویہ بات پسندنہ آئی۔ انسانی نفسیات ہے کہ اسے اقتدارملے تووہ طاقت کے نشے میں مدہوش ہوجاتاہے۔ اقتدارسے علیحدگی اسے گوارانہیں ہوتی۔ جنرل نیازی بھی طاقت کے نشے میں چور تھے، انہیں یہ بات کیسے پسندآتی کہ اقتدارسول انتظامیہ کوسونپ دیتے۔ انہوں نے کچھ ایسے ریمارکس پاس کیے جو ہمارے جنرل آفیسرکمانڈنگ کو ناگوار گزرے اورتلخ کلامی ہوئی۔ تین دن کے اندر اندکمانڈتبدیل کردی گئی۔ ہم بھی زیرعتاب آئے لیکن فی الوقت اپنی جگہ قائم رہے۔ نئے جنرل آفیسر کمانڈنگ پہلے جی اوسی کاحشردیکھ چکے تھے۔ انہوں نے بڑی احتیاط سے کام لیا۔ مجھے حکم دیاکہ ڈیلی رپورٹس جوجی ایچ کیو اور ایسٹرن کمانڈ کو بھیجنے کے لیے تیارکرتاتھا، اس کا ڈرافٹ پہلے انہیں دکھایا جائے۔ ڈرافٹ انہیں پیش ہونے لگا۔ ان رپورٹس میں وہ ایسی تبد یلیاںکرتے کے بری خبراچھی نظرآنے لگتی۔ یہ سلسلہ جاری رہا، ادھرمیرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتاگیا۔ میں نے ان سے کہا۔ ’’ڈیلی رپورٹس جو ہم جی ایچ کیو اورایسٹرن کمانڈ کو بھیجتے ہیںان میں ردوبدل نہ کیا جائے۔ ‘‘میں باہرآیااورجی ایس اوٹو میجر کھوکھر کو کہا، اب یہ رپورٹ آپ لکھیں گے کیونکہ جی سی اوکومیری انگریزی پسندنہیں ہے۔ میں سوچتارہاکہ اس گستاخی کی سزاتوملے گی۔ کورٹ مارشل بھی ہوسکتاہے، ریٹائر بھی کیا جاسکتا ہوں۔ اسی شش وپنج میں تھاکہ تیسرے دن مجھے ٹرانزٹ کیمپ راولپنڈی رپورٹ کرنے کاحکم ملا۔ ‘‘

یہ چشم کشا صورت حال ہے جو1971ء کی جنگ کے دوران فوج میں جاری تھی۔ جس سے ڈھاکافال میں نیازی کے کردارکابخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے۔

’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ میں اسلم بیگ نے بیان کیا۔ ’’4اپریل کی صبح کوبھٹوکوپھانسی دے دی گئی۔ کوئی بڑا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ میں نے بھٹو کو پھانسی دینے کی مخالفت کی تھی جس پرکورکمانڈرناراض ہوگئے تھے۔ اب میں اس انتظارمیں تھاکہ کب میری پوسٹنگ آتی ہے اوریہ بھی ممکن تھاکہ مجھے قبل ازوقت ریٹائرکردیاجاتا۔ کئی ماہ بعدپوسٹنگ آگئی جوبالکل غیرمتوقع تھی۔ میں جی ایچ کیومیں چیف آف جنرل اسٹاف پوسٹ ہواجوسب سے سینئر پرنسپل اسٹاف آفیسرپوزیشن ہے۔ یہ عرصہ میری زندگی کاسب سے اہم اور اطمینان بخش دورہے۔ آرمی چیف کی طرف سے مجھے کھلی آزادی ملی کہ فوج کو جدیدترین خطوط پراستوارکرسکوں، پرانے ہتھیاروں کوجدید تر ین ہتھیاروں سے بدل سکوں اور فوج کی دفاعی پالیسی مرتبہ کرسکوں۔ ‘‘

جنرل ضیاالحق نے بھٹوکی پھانسی پرآفیسرزاورجوانوں کاردعمل معلوم کرنے کے لیے تمام کورکمانڈروں کوجائزہ لینے کوکہا۔ کورکمانڈرزنے سینئر آفیسرز کو بلایا اور ان کا ذہن جاننے کے لیے سوالات پوچھے۔ اسلم بیگ سب کی باتیں سنتے رہے۔ اورکورکمانڈرزکی اجازت سے اپنے رائے دیتے ہوئے کہا۔ ’’بھٹوکوپھانسی دینا بہت ہی غلط فیصلہ ہوگا، اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ ایسی سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی جنہیں سنبھالنامشکل ہوہوگا۔ اس عمل سے پنجاب اورسندھ کے عوام میں نفرتیں بڑھیں گی۔ بہتر ہوگا کہ بھٹو کو جلاوطن کردیاجائے۔ یاسرعرفات، شاہ فیصل، کرنل قذافی اوریواے ای کے حکمران ذمہ داری لینے کوتیارہیں۔ بھٹو ایک اچھے اسٹیٹس مین ہیں اورایک بڑی جماعت کے مقبول لیڈرہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت پڑے گی۔ میری باتوں پر کور کمانڈر اس قدر ناراض ہوئے کہ کانفرنس ختم کردی۔ میں نے حق اوراصول کی بنیادپربھٹوکوپھانسی دینے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ اگر بھٹو کو پھانسی نہ دی گئی ہوتی تووہ تمام سیاسی ابتری جودیکھنے میں آئی، نہ ہوتی۔ مثلاً، نہ جنرل ضیاکاحادثہ ہوتا، نہ جنرل مشرف کی حکومت ہوتی، نہ بے نظیر کا قتل ہوتا۔ ‘‘

اسلم بیگ نے بتایا۔ ’’جنرل ضیانے 1985ء میں ایک نیا سیاسی نظام لانے کاارادہ کیا۔ مجھے اورجنرل حمیدگل کوذمہ داری دی کہ ’’ملک میں سیاسی ماحول کو نظرمیں رکھتے ہوئے سیاسی نظام کی بحالی کاطریقہ کاراورکب اس پرعمل کیا جائے۔ ‘‘ ہم نے تفصیلی جائزہ لیا اوردوہفتے بعد رپو رٹ جنرل ضیا کو پیش کردی۔ سفارشات کاخلاصہ تھا۔ ’’اب وقت آگیاہے کہ صاف ستھرے الیکشن کراکے اقتدارعوامی منتخب نمائندوں کو منتقل کردیاجائے، اس عمل سے قوم آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھے گی۔ ‘‘ کچھ دیر وہ سوچتے رہے، پھربولے’’چاہتے ہوکہ پھانسی کاپھندہ میرے گلے میں ہو۔ ‘‘جنرل ضیانے غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے حصہ نہیں لیا اور محمدخان جونیجوکی حکومت قائم ہوئی۔ ‘‘

جنرل اسلم بیگ کی رائے ہے۔

’’طالبان، افغان قوم کی اجتماعی مدافعتی قوت کا نام ہے جس کے سامنے دنیاکی دوسپر طاقتیں شکست کھا چکی ہیں اس لیے ان کو سمجھنا اوران کی سوچ اور عمل کو جاننا ضروری ہے۔ افغانستان اوراس کے ملحقہ علاقوں کی سلامتی اورامن کاتصورطالبان کی سوچ  اور ترجیحات کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں طالبان سے متعلق بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ لہٰذا طالبان کی اصلیت جاننے کے لیے ان کا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اورکس طرح افغانستان کے افق پر چھاگئے ہیں؟‘‘

1987ء میںجنرل مرزااسلم بیگ کی وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پرترقی ہوئی۔ وائس چیف خالد محمود عارف کے عہدے کی میعاد پوری ہونے پر جنرل ضیا نے لیفٹیننٹ زاہدعلی اکبرکواس کی جگہ تعینات کرنے کافیصلہ کیاتھا۔ جب منظوری کے لیے یہ فیصلہ وزیراعظم محمد خان جونیجوکے پاس بھیجا گیا تو انہوں نے چاروں سینئرافسران ڈوزیئردیکھ کر جنرل ضیاسے ملے اورکہاکہ ’’اسلم بیگ سب سے سینئرہے، کمانڈ، اسٹاف اور انسٹریکشنل تجربہ زیادہ رکھتا ہے، ان میں کیاکمزوری ہے کہ پروموٹ نہ کیاجائے۔ ‘‘ جنرل ضیا قائل ہوگئے اور اسلم بیگ کووائس چیف آف اسٹاف مقرر کردیا۔ کہتے ہیں۔ ’’ڈیڑھ سال بعد میں اسی گھرمیں آگیاجہاں سی جی ایس کی حیثیت سے پانچ سال رہاتھا اورجب چیف آف آرمی اسٹاف بناتب بھی وہیں رہا جو چار بیڈروم اور ایک اسٹڈی روم پرمشتمل تھا۔ میری گارڈ دس جوانوں پر مشتمل تھی جس کا کمانڈر ایک جے سی اوتھا۔ وائس اورچیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد بھی ٹیوٹا کراؤن سولہ سوسی سی استعمال کی۔ مرسیڈیزجو جنرل ایوب خان کے بعدآنے والے تمام آرمی چیفس کے استعمال میں رہی تھی اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ ‘‘

1988ء میں جنرل ضیانے اسلم بیگ اورجنرل حمیدگل سے ایک مرتبہ پھرنئے سیاسی نظام پررپورٹ تیارکرنے کوکہا۔ ہم نے رپورٹ تیار کی جس کا خلاصہ تھا۔ ’’اللہ آپ پرمہربان ہے۔ 1985ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کوموقع دیاتھاکہ تاریخی فیصلہ کرتے۔ لیکن آپ کی ترجیحا ت کچھ اورتھیں اب دوسری بار اس کاکرم ہے کہ آپ ایک بڑا تاریخی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ الیکشن کرائیے اوراقتدارسے الگ ہو جائیے تاکہ قوم ان مشکل حالات کامقابلہ کرسکے۔ ورنہ تاریخ آپ کوایک ڈکٹیٹرکے نام سے یادکرے گی۔ بولے۔ آپ نے بہت صحیح کہا ہے لیکن اقتدارکی کچھ مجبوریاںایسی ہوتی ہیں کہ فی الوقت یہ فیصلہ کرنامشکل ہے۔ ‘‘

جنرل ضیاالحق کاجہازکریش ہونے کے بارے میں اسلم بیگ بتاتے ہیں۔

’’سترہ اگست کوجنرل ضیاالحق تقریباً گیارہ بجے اپنے قافلے کے ساتھ اپنے خصوصی جہازسی ون تھرٹی سے بہاولپورایئرپورٹ پہنچے۔ ان سے پہلے میں ان کے استقبال کے لیے بہاولپور پہنچ گیا تھا۔ جب وہ آئے توجنرل اختر عبدالرحمٰن، امریکی سفیر، ان کے ملٹری سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران بھی تھے۔ یہ نام ایوانِ صدرسے شامل کئے گئے تھے۔ ٹرائل ٹیم کے سربراہ میجر جنرل محمود درانی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہیں موجود تھے۔ ٹرائل ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ الخالد ٹینک تمام ٹیسٹوں میں کامیاب ہوا۔ امریکی ایم ون اے ون ٹینک صرف چند ایک ٹیسٹ میں کامیاب ہوسکاتھا۔ اس کے نتیجے پر سب کوحیرت ہوئی۔ کور ہیڈ کوارٹرمیں تمام شرکاء کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ ظہرکی نمازپڑھی، اس کے بعد بہاولپورکی کچھ شخصیات سے جنرل ضیانے ملاقات کی۔ تقر یباً ساڑھے چاربجے بہاولپور ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ میں جنرل ضیاکوجہازتک چھوڑنے آیا۔ انہوں نے کہا ’آپ بھی آرہے ہیں، آئیے، مگر آپ کا تو اپنا جہاز ہے‘۔ میں نے کہا۔ ’جی ہاں، میں اپنے جہازمیں آؤں گا، اللہ حافظ۔‘ ان کاجہازٹیک آف کر گیا اور اس کے بعد میں بھی روانہ ہوا۔ ابھی کوئی دس منٹ ہوئے تھے کہ میرے پائلٹ کرنل منہاج نے پریشانی کے عالم میں بتایا، ’سر‘ اسلام آباد کنٹرول کا پاکستا ن ون سے رابطہ نہیں ہورہا۔ میں بھی کوشش کررہاہوں لیکن کوئی رسپانس نہیں ہے۔ ‘ اللہ رحم کرے، کیا ہوسکتا ہے۔ ہم سب دعائیں پڑھنے لگے۔ پائلٹ نے بتایا’ وہ سامنے دھواں نظر آرہا ہے، اوردوسرے لمحے ہماراجہازاس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ نیچے ایک ہیلی کاپٹر بھی اتر رہا تھاجو ملتان جارہاتھا۔ ہماراجہاز اوپر چکر لگاتا رہا۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایاکہ سی ون تھرٹی کریش ہوگیا ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے، کوئی زندہ نظرنہیں آرہا۔ اس قسم کے انتہائی مخدوش لمحوں میں مجھے اپنی زندگی کاسب سے اہم فیصلہ کرناتھا۔ اگرواپس بہاو لپور جاکر جائے حادثہ پرپہنچتاہوں تورات ہوجاتی ہے اور اگر جائے حادثہ پر پہنچ بھی جاتا تو کچھ کرنہ پاتا۔ میں نے پائلٹ کوکہا۔ سیدھے راو لپنڈی چلو۔ جی ایچ کیو سے رابطہ کیا، وہاں حالات پرسکون تھے۔ حکم دیا۔ فارمیشنزکو ریڈ الرٹ کردو اوراگلے حکم کاانتظارکرو۔ مجھے فیصلہ کرنا تھاکہ اقتداراپنے ہاتھوں میں لینا ہے یا اسے دیناہے جس کی امانت ہے۔ ذہن میں والدمحترم کی نصیحت گونج رہی تھی۔ ’حقدارکواس کاحق دے دینا۔ ‘ اسی سوچ کے مطابق میرا ذہن بھی بناہواتھا۔ اب جب حالات نے مجھے اس مقام پرلا کھڑا کیا تھا‘ اور مجھے خود فیصلہ کرناتھا تو فیصلہ کیا۔ اقتدارعوام کی امانت ہے، انہی کو دیاجائے گاجن کا یہ حق ہے۔ ‘ اس فیصلے سے دل ودماغ کوسکون ملا، ذہن پر چھائے ہوئے خوف اور بے یقینی کے بادل چھٹ گئے۔ جی ایچ کیوپہنچنے سے پہلے چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل سعیداحمدخان، چیف آف ایئراسٹاف ایئر مارشل حکیم اللہ کو پیغام دیا کہ وہ فوراً جی ایچ کیو پہنچیں۔ جنرل حمیدگل، جج ایڈوکیٹ جنرل بریگیڈیئرعزیز احمدخان کوبھی بلا بھیجا۔ سب سے مشورے کا طالب ہوا۔ سبھی نے وہی مشورہ دیاجومیرے دل میں تھا۔ آئین کے مطابق چیئرمین سینٹ غلام اسحٰق خان کو بلایاجائے اور اقتدارکی ذمہ داریاںان کوسونپ دی جائیں۔ وہ بھی پہنچ گئے۔ وہ حیران رہ گئے۔ رات دس بجے صدرغلام اسحاق خان نے قوم سے خطاب کیا اوراس فیصلے کااعلان کیا۔ یہ ایسافیصلہ ہے کہ دورحاضرمیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ‘‘

جنرل اسلم بیگ کے آرمی چیف بننے کے بعدضرب مومن مشقوں کے انعقادکافیصلہ کیاگیا۔ پاکستان میں پہلی باراتنی بڑی مشقوں کا اہتمام کیا گیا جس میں پاک فوج کی پوری نفری کی پچاس فیصد سے زیادہ نے حصہ لیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیاکہ پاکستان نے جوتین جنگیں لڑی ہیں ان پر سیمینارکروائے جائیں۔ جہاد کشمیرکے بہت سے اہم پہلوسامنے آئے جواس سے پہلے منظرعام پرنہیں آئے تھے۔ مثلاً عام طور پرکہاجاتا ہے کہ قائداعظم نے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈکلس گریسی کوحکم دیاتھاکہ دوبریگیڈفوج جموں اورسری نگربھیج دیں لیکن جنرل گریسی نے حکم ماننے سے انکارکردیا۔ مظفرآباد سیمینار میں میجرجنرل وجاہت حسین نے بتایاجو1948ء میں قائداعظم کے اے ڈی سی تھے۔ ان کا کہناتھا۔ ’’ جولوگ قائداعظم کوقریب سے جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اگرجنرل گریسی نے قائداعظم کی حکم عدولی کی ہوتی تووہ انہیں فوراً برطرف کردیتے۔ قائداعظم نے برطانیہ کے وائسرائے کی پاکستان اوربھارت دونوں کاگورنرجنرل بننے کی بات نہیں مانی تھی۔ جس پرلارڈ ماؤنٹ بیٹن سخت ناراض تھے۔ ‘‘

جنرل اسلم بیگ تاریخ کے اہم ترین واقعات کے چشم دیدگواہ ہیں۔ انہوں نے فوج سے طویل وابستگی کے دوران پاکستان کی سیاسی، سماجی اورعسکری تاریخ کو بنتے ہوئے دیکھاہے۔ روس کی افغانستان سے واپسی کے بارے انہوں نے ’’اقتدارکی مجبوریاں میں ‘‘ دعویٰ کیاہے کہ اس میں ان کابھی حصہ ہے۔ ’’روس سے افغانستان سے پسپائی میںمجھ ناچیزکابھی حصہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ 1986ء میں روسیوں نے افغا نستان کی جنگ میں ہیلی بورن کمانڈو بریگیڈ شامل کردیے تھے جس سے مجاہدین کوبری طرح مارپڑرہی تھی۔ اسی دوران امریکاکی سینٹرل کما نڈکے جنرل کرسٹ آئے، انہیں میں نے بریفنگ دی۔ وہ حیران تھے کہ ایساتوانہیں کسی نے بھی نہیں بتایا۔ وہ واپس گئے تودوسرے ہفتے امریکی فوج کے کمانڈرجنرل ویکم آئے۔ انہوں نے بھی حالات کا جائزہ لیااورواپس جاکرمجاہدین کواسٹنگزمیزائل دینے کافیصلہ کیااورچند ہفتوں میں مجاہدین نے سات روسی ہیلی کاپٹرمارگرائے۔ اس طرح روسیوں کا آخری جنگی حربہ بھی ناکام ہوگیا۔ وہ ہارمان گئے اورمجاہدین سے اپنی فوج کے افغانستان سے نکلنے کی اجازت مانگ لی۔ ‘‘

اسلم بیگ کاکہناہے۔

’’بے نظیربھٹوکے پہلے دورحکومت میں مجھے محترمہ کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا، یہ ایک خوشگوارتجربہ تھا۔ میرامحترمہ کے ساتھ بھی وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹوکی طرح احترام وعزت کارشتہ تھا، جنہوں نے تدبروذہانت سے تھوڑے عرصے میں 1971ء کی شکست کے بعد پاکستان کی عزت کو بحال کیااوراوآئی سی جیسی تنظیم کونئی جہت دی۔ شاہ فیصل کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی مرکزی قیادت کا تصورپیش کیا۔ یہی وہ صفات تھیں جو امریکا کو پسند نہ تھیں اوران دونوں شخصیات کویکے بعد دیگرے منظرسے ہٹادیاگیا۔ ‘‘

1990ء کے الیکشن پراثرہونے کے بارے میں جنرل اسلم بیگ کاموقف یکسرجداہے، ان کے بقول بی بی کی حکومت برخواست کرنے پرانہوں نے ٹیک اوور کا بھی سوچاتھا۔

’’ یہ ایک سازش تھی جو1994ء میں میرے خلاف شروع ہوئی۔ اسلم بیگ نے اس سازش کی بہت سے مزید تفصیلات بھی بتائیں۔ بی بی کے مشیرخاص نصیراللہ بابراپنے ایک پسندیدہ کورکمانڈرکومیری جگہ آرمی چیف بناناچاہتے تھے۔ بی نے مجھے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا بنا کر میری جگہ اس کور کمانڈر کولانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ مجھے علم ہوا تو میں نے فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں بغیر نام لیے سازش کا تذکرہ کیا اور واضح الفاظ میں تاکید کی کہ کوئی سرخ لائن سے آگے جانے کی کوشش نہ کرے ورنہ وہ شرمسار ہوگا۔ یہ خبرجب بی بی تک پہنچی توانہوں نے خط میں اعتراف کیاکہ کمانڈ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہ ان کا ظرف تھاکہ اس بات کوتسلیم کیا لیکن ان کے کچھ وزیر میرے خلاف ان کے کان بھرتے تھے، غلام اسحٰق خان نے ان کی حکومت گرائی توذمہ دارمجھے ٹھہرایا گیا جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ حکومت گرانے سے پہلے صدرغلام اسحٰق نے مجھے ایک نان پیپر دیاجس میں بی بی کے خلاف متعددالزامات تھے۔ میں نہ وہ الزامات فارمیشن کمانڈرزکے سامنے رکھے، تفصیلی بحث کے بعد صدر کو یہ پیغام پہنچایا ’’صدرمحترم‘ آپ صبر سے کام لیں‘ سمجھائیں تاکہ معاملات درست ہو جائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ پی ایم سیکھ جائیں گی۔‘‘ لیکن ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے بی بی کی حکومت برخواست کردی۔ مجھے حیرت ہوئی اور سوچاکہ صدر کے فیصلے کوبدل دوں، جس کے لیے اختیارات ہاتھ میں لینے پڑتے لیکن یہ سوچ کر جب ہمارے 17اگست 1988ء کے فیصلے کو اہمیت نہیں دی گئی تو ٹیک اوور کا فیصلہ کیسے قبول ہوگا۔ ‘‘

اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں اسلم بیگ نے بتایا۔

’’میں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چار پہلے صدر اوروزیراعظم دونوں کوپانچ سینئرکور کمانڈر کے نام دیے تھے اوراصرار کیا تھا کہ نئے آرمی چیف کااعلان پہلے ہوجاناچاہئے۔ جنرل آصف نوازکی سہولت کے لیے میں نے انہیں چھ ماہ قبل جی ایچ کیومیں چیف آف اسٹاف تعینات کر دیا تھا تا کہ وہ اس مرکزی ہیڈ کوارٹرسے فوج کے معاملات اور کام کے طریقوں سے پوری طرح واقفیت حاصل کرلیں۔ لہٰذا صدر اور وزیر اعظم نے میری ریٹائرمنٹ سے دوماہ قبل جنرل آصف نوازکو آرمی چیف نامزدکردیا۔ ‘‘

جنرل اسلم بیگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت دشمنوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، اس میں اہم کرداراداکرنے والوں سے کیا سلوک کیا گیا۔ ’’ذولفقارعلی بھٹو‘ جنہوں نے ایٹمی پالیسی دی‘اہداف مقررکئے اورتمام سہولتیں فراہم کیں، انہیں عدالتی قتل کے ذریعے ختم کردیاگیا۔ جنرل ضیاالحق، جنہوں نے ایٹمی پروگرام کوغیرمتزلزل امدادفراہم کی تھی، ایک سازش کے تحت قتل کردیے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جنہوں نے ہماری ایٹمی قوت میں منطق اورٹھہراؤ کاعنصرشامل کیا۔ امریکا، بھارت، اسرائیل کی مشترکہ سازش کاجواب مضبوط اقداما ت سے دیاکہ ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے اور اسے استعمال کرنے کاحوصلہ بھی ہے۔ انہیں دہشت گردی کاشکارہوناپڑا۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان، جیسے عظیم سائنسدان، جن کی لازوال محنت اور شبانہ روز کی کاوشوں سے یہ منزل سرہوئی‘ ان سے شخصی آزادی تک چھین لی گئی اوربدتر ین تضحیک کانشانہ بنایاگیا۔ میاں نوازشریف ‘سابق وزیراعظم پاکستان‘ جنہوں نے ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کوموثرجواب دیا، انہیں آٹھ سال تک جلاوطنی کاٹنی پڑی۔ ‘‘

’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کی انتہائی دلچسپ، قابل مطالعہ اورچشم کشاسوانح حیات ہے۔ جس میں بے شمارحقائق کی پردہ کشائی بھی ہے۔ تاریخ کے اہم مواقع کی تفصیلات اورجنرل صاحب کاان پرتبصرہ بھی۔ تاریخِ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والے ہرشخص کواس کتاب کا مطالعہ ضرورکرناچاہیے۔ اسے چندنئی باتیں ضرورملیں گی۔ کرنل اشفاق حسین نے سوانح اپنی دیگرکتب کی طرح بہت عمدہ لکھی ہے۔ ان کی ایسی مزید کتب کاقارئین کوانتظاررہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply