الیکشن: جب پھول اور لالٹین کا مقابلہ ہوا -6 —- عطا محمد تبسم

0

اس دن صبح ہی سے تیاریاں تھیں، ایک میلے کا سا سماں تھا، کچے پکے مکانوں میں عورتیں بچے اور بڑےتیاریوں میں مصروف نظر آتےتھے۔ ہر طرف “ووٹ” کا نام سنائی دیتا تھا، سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ ایک دعوت کا انتظام تھا، سامنے باغ میں دریاں بچھی تھیں، جہاں کئی دیگ پک رہی تھیں۔ اور لوگ دریوں پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے، پھر مکھی باغ میں سب ووٹ ڈالنے گئے، میرے ہوش میں یہ پہلا الیکشن تھا، جس کی کچھ یادیں میرے ذہین کے کسی حصے میں محفوظ ہیں، امیدوار حاجی محمد شفیع تھے۔ شائد مسلم لیگ ہی کے تھے۔ سندھی تھے، ہمارے سامنے بڑی سی حویلی میں رہتے تھے۔ اب اس جگہ کھاتہ چوک میں سیف الدین پلازہ کھڑا ہوا ہے۔ ان کی چشموں کی دکان تھی۔ یہ ہمیرانی خاندان تھا، اسی لئے اس چاڑی کا نام بھی ہمیرانی رکھ دیا تھا۔ ان کے ایک بھتیجے رشید ہمیرانی ٹیلی ویژن پر سندھی خبریں پڑھنے والے پہلے نیوز کاسٹر تھے۔ اس حویلی میں بڑے بڑے کمرے تھے۔ اور بڑی بڑی مسہریاں جو جھولے پر ہلکورے لے رہی ہوتی تھیں۔ محلے میں اس خاندان کا بڑا اثر رسوخ تھا۔ آس پاس بھی دو تین خاندان سندھی قیام پاکستان سے پہلے ہی سے آباد تھے، کہتے ہیں کہ یہ حویلی کسی ہندو خاندان کی تھی۔ یہ گھرانہ محرم بہت اہتمام سے مناتا تھا۔

ہمارے پچھلے محلے میں ایک علم تھا۔ جس پر محرم سے پہلے ہی رنگ و روغن ہوتا، پھر اس پر نئے کپڑے کا علم بلند کیا جاتا، محرم کی سات اور آٹھ کی درمیانی شب میں یہاں رات بھر نقارے بجتے اور صبح سویرے یہاں سے ڈولہ نکلتا جس کے آگے ماتمی جلوس ہوتا، ہمیرانی گھرانے کی خواتین اس دن گرم گرم چھولے بچوں میں بانٹتی اور اکثر چھوٹے بچوں کو گھر میں بلا کر ان کا منہ ہاتھ دھلاتی، ان کی آنکھوں میں کاجل اور سرمہ لگاتیں، اور نیاز کی چیزیں بھی دیتیں۔ ہمارے گھر کے پچھواڑے محلے میں میمن انجمن اسکول تھا، جو اب پلازہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر مولانا محمد علی رضوی تھے، جو بعد میں ہمارے علاقے سے جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ گھر کے سامنے تارا چند اسپتال تھا، جس کے آس پاس اونچی نیچی کچی مٹی کے ٹیلے تھے، جس پر عموما کچرا پھینکا جاتا تھا۔ حیدرآباد میں تارا چند اسپتال بہت مشہور تھا۔ یہاں او پی ڈی کی سہولت تھی۔ اور ایک آنہ پرچی پر دوائیں اور علاج کیا جاتا تھا۔ آج یہ اسپتال حافظ مبارک علی شاہ اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو بے ہنگم کمرشل دکانوں میں گھر کر اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے۔ محلے میں بجلی نہ تھی، اور پانی کا ایک میونسپلٹی کا نلکا لگا تھا، جس پر صبح چار بجے سے بالٹیاں، گھڑے، صراحیاں، کنستر، بگونے، جیسے برتن لائین میں لگا دیئے جاتے تھے۔ بابو جی سحر خیر تھے، اس لئے صبح سویرے ہی پانی بھر لاتے، حیدرآباد کی شدید سردیوں میں وہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے۔ اور اندھیرے اندھیرے رینجر کی ملیشیاء وردی پہن کو سائیکل پر ہی ایس پی آر ہیڈ کواٹر حالی روڈ پہنچ جاتے۔ دوسرا الیکشن کچھ زیادہ یاد ہے، ہمارے ایک عزیر تھے، ظہیراحمد وہ اس الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے، پوری برادری ان کی حمایت کررہی تھی، الیکش کے دن شامیانہ لگا تھا، اور صبح سویرے چائے پاپے بسکٹ کا ناشتہ بھی ہوا تھا۔ وہ الیکشن میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن میونسپل کونسل کے الیکشن اس اعتبار سے اچھے تھے کہ ان کے تحت محلے میں بجلی کے پول لگے، پانی کے نل اور لائین ڈالی گئی اور نالیوں کی باقاعدہ صفائی، محلے میں جھاڑو سے سڑک صاف ہونے اور گھروں سے کچرا لیجانے کا عمل شروع ہوا۔

پانی کی قلت کا ایک واقعہ اب بھی یاد پڑتا ہے، کئی دن سے پانی نہ آنے کے باعث لوگ، نیو کلاتھ مارکیٹ میں واقع ایک کنویں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ لوگ دور دور سے اس کنویں پر پانی لینے آرہے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت شہر میں جگہ جگہ ایسے کنویں بھی موجود تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ متروک ہوئے اور بند ہوگئے۔ جانوروں کو پانے پلانے کے پیاؤ بھی تھے، جہاں گھوڑے گدھے اونٹ پانی پیتے تھے، کیونکہ اس وقت شہر میں گھوڑا گاڑی، بیل گاڑی، اونٹ گاڑی اور تانگے ہی کی سواریاں چلتی تھی۔ گھروں میں قبریں بھی موجود تھی۔ کئی بزرگوں کے مزارات کے احاطے بھی تھے۔ محلے میں کبیرشاہ کا مزار تو اب بھی موجود ہے۔ سید شاہ کا مزار ہمارے گھر کے سامنے نیم والی مسجد میں واقع ہے۔ ہمارے گھر کے پیچھے والے مکان میں ایسی کئی قبریں موجود تھی۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ مٹ گئی اور اب ان پر مکانات اور پلازے قائم ہیں۔ ایک اور الیکشن جو مجھے یاد ہے وہ مادر ملت اور ایوب خان کا الیکشن تھا، پھول اور لالٹین کا مقابلہ تھا، ہر جگہ مادر ملت کی بڑی بڑی لالٹین آویزاں تھی، ایوب خان کا نشان پھول تھا۔ گلاب کے سرخ پھول کے بڑے بڑے سینما سائز کے پوسٹر لگے تھے۔ قاضی اکبر مسلم لیگ کے بڑے رہنما تھے۔ حیدرآباد میں سندھی اور مہاجر مادر ملت کی حمایت کر رہے تھے۔ جبکہ پٹھان اکثریت ایوب خان کی حمایت کررہی تھی، اس زمانے میں پہلی بار شہر میں پٹھان اور مہاجر کشیدگی دیکھنے میں آئی، اور شو مارکیٹ میں آگ لگانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ یہ مارکیٹ مولا علی قدم شریف کے سامنے نالے پر قائم تھی۔ یہاں پرانے ٹائر کی بہت سی دکانیں تھیں۔ اس وجہ سے بہت زور کی آگ لگی تھی، اور بہت مشکل سے بجھائی گئی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران 1964 میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح حیدرآباد آئی تو اسٹیشن روڈ سے بہت بڑا جلوس نکلا۔ اس جلسے کے انتظامات میر رسول بخش تالپور نے کیے تھے۔ اور مادر ملت فاطمہ جناح نے میر رسول بخش کی رہائش گاہ پر قیام کیا تھا۔ مادر ملت کے اس جلوس میں ہم بھی شامل ہوئے۔ شام کو مادر ملت کا بہت بڑا جلسہ ہوا تھا۔ ہم نے اپنے سینے پر لاٹین والا پلاسٹک کا بیج بھی لگایا ہوا تھا۔ 

جاری ہے—-

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply