زندہ ہونے کا ثبوت —- نعیم صادق

0

مرکزی قومی شاہراہ سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر، ایک لمبی اور تنگ گلی کے نچلے سرے پر دیھہ لانڈھی میں، 200 بستروں پر مشتمل ایک ہیلتھ کیئر سنٹر ہے۔ جسے کوہی گوٹھ ہسپتال کہا جاتا ہے۔ ایک منفرد مقام ہے، جہاں شفا، ہمدردی، انسانیت اور تعلیم کو یکجا کرکے ایک ایسا ہیلتھ کیئر ماڈل تخلیق کیا گیا ہے، جو قابل تقلید ہے۔ یہ دیکھ کر تازگی کا احساس ہوتا ہے کہ کس طرح کوہی گوٹھ نے اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں اپنی مدد آپ کی بنیاد پر کئی سادہ مگر حرمت انگیز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ ایسا ہی ایک عمل چہرے کی شناخت کا ایک جدید نظام ہے جو اسپتال نےاپنے عملے اور تربیت یافتہ نرسوں کے کھانے کے انتظام کے لئے کیا ہے۔ جو نہ صرف ہر فرد کو پہچانتا ہے بلکہ مختص وقت، بلاکس، کھانے کی پرچی اور ادائوپ کں کے ساتھ بھی مربوط ہے۔

بہت سے تصورات پاکستان، کوہی گوٹھ سے سیکھ سکتا ہے کہ یہ کسے طے کیا جائے کہ واقعی کوئی شخص مر گیاہے ہے اور زندہ ہے تو واقعی زندہ ہے۔ آج، ایک فرد جو پاکستان مں مرجاتا ہے تو اس کی سم فعال رہتی ہے، ، CNIC کارڈ درست رہتا ہے، اور اس کی پنشن اس وقت تک جاری رہتی ہے گی۔ جب تک خاندان نادرا سے جاری کردہ ’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘ حاصل نہیں کرتا ہے۔ حکومت پاکستان نادرا کو ملک بھر کے ہر ہسپتال اور قبرستان سے جوڑنے کے لئے ڈیٹا ٹکنا لوجی کا آسانی سے استعمال کر سکتا ہے تاکہ نادرا کو اموات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل کرنے اور پنشن، سم، سی این آئی سی کارڈ وغیرہ کو بلاک کرنے جیسی کارروائی شروع کر سکے۔

2015 میں، نشنل بنک آف پاکستان نے انکشاف کاہ کہ 6 لاکھ گھوسٹ پنشنرز کی ایک حرئان کن تعداد پنشن وصول کر رہی تھی، یہاں تک کہ جب اصل وصول کنندگان مدت ہوئے انتقال کرچکے تھے۔ پاکستان پوسٹل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2020 مں اسی طرح کی ایک رپورٹ مںن انکشاف کیا گیا تھا کہ 4 لاکھ پنشنرز کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ مرحومین کی پنشن وصول کرنے والے گھوسٹ کو روکنے کے لئے ایسی اضافی رکاوٹوں کو شامل کا جانا چاہیئے، جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حقیقی وصول کنندگان ابھی تک ‘زندہ’ ہیں۔ فنگر پرنٹ کی توثیق، اسٹامپ پپرز پر لیے گئے حلف نامے اور گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسر کی مہر اور دستخط شدہ فارم، ‘زندہ رہنے کا ثبوت’ کی موجودہ ضروریات ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ رکاوٹیں صرف “زندہ افراد” کی مصیبت اور بھاگ دوڑ میں اضافہ کرتی ہں، جبکہ “گھوسٹ” کا وہ کچھ نہیں بگاڑ پاتی ہیں۔

پاکستان ہر چھ ماہ مں 15 سے 20 بلنن روپے کی بچت کر سکتا ہے، اس کے لیے اسے ‘گھوسٹ’ پنشن کی صرف چہرے کی شناخت کی ٹکنا لوجی کو اپنانا ہوگا۔ جو وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔ جس سے اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ پنشنر زندہ ہے یا نہںس۔ ان مںف سے بہت سارے سسٹم مں استعمال ہونے والا الگورتھم 30 ملنن مںن ایک کی غلطی کی گنجائش رکھتا ہے۔ چہرے کی پہچان کا سسٹم انگلیوں کے بایومٹرکس سے بہت زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ اس میں فیڈ کردہ فنگر پرنٹس یا غرف فعال بایومٹرک مشینوں کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ، چہرے کی توثیقی کے لے کسی بنک یا اے ٹی ایم مشین پر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے – یہ ان بزرگوں کے لئے ایک بڑی سہولت ہے، جو مختلف صحت کے مسائل کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت محدود ہے۔

چہرے کی پہچان کے لیے “زندہ رہنے کا ثبوت” کا عمل ہر پنشنر کی ایک وقتی رجسٹریشن سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے لے ایک اچھی “زندہ رہنے کی تصدیق کرنے والی ایپ” ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایپ کھولنے پر، فرد سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا نام، سی این آئی سی، ادارہ جس میں کام کیا ہے، ایمپلائی نمبر، سیل نمبر اور تاریخ پیدائش رجسٹر کرے۔ اس کے بعد فرد سے کہا جاتا ہے کہ وہ سکرین پر فریم کے اندر اپنا چہرہ ایڈجسٹ کرے، اسے 5 سیکنڈ تک دیکھے اور پھر اپنے CNIC کے دونوں اطراف کو اسکینر کرنے کے لےاس عمل کو دہرائیں۔ ڈیٹا منتقل، لاگ ان اور سرور پر ریکارڈ کردیا جاتا ہے۔ ہر سہ ماہی پر ‘زندہ رہنے’ کی ماہانہ تصدیق ایک پنشنر اپنے رجسٹرڈ سیل فون پر ‘الائو کنفرمشنس ایپ’ کھولنے، اسکرین پر فریم کے اندر اپنا چہرہ 5 سکنڈ کے لےایڈجسٹ کرنے اور 3 ہندسوں کا کوڈ نمبر پڑھنے کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ (یہ ٹائم کوڈ ہر بار نئے سرے سے نمودار ہوتا ہے) جو سکرین پر ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے سرے کا سرور چہرے کی خصوصا ت سے میل کھاتا ہے اور تصدیق کرتا ہے (یا انکار کرتا ہے) کہ 3 ہندسوں کا کوڈ صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر کوہی گوٹھ ہسپتال ایسا کر سکتا ہے تو پاکستان بھی چہرے کی شناخت کی یہ ٹیکنا لوجی اپنا سکتا ہے تاکہ ہر سال اربوں روپے کی بچت ہو اور اس کے 30 لاکھ پنشنرز کو فول پروف اور پریشانی سے پاک سسٹم فراہم کیا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply