بارش کی میڈیا رپورٹنگ کیسے کی جانی چاہئے؟ —- زین الاسلام

0

مون سون کی حالیہ بارش سے اسلام آباد کا سیکٹر ای الیون پانی میں ڈوب گیا۔ اور سیلابی صورت حال پیدا ہونے سے کم از کم 2 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں جبکہ شہریوں کا بھاری مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

کم و بیش ایک دہائی کے صحافتی کیرئر کے دوران مجھے ہمیشہ ہی اس بات ہر اعتراض رہا ہے کہ جب بھی اسلام آباد میں بارش برستی ہے اخبار و ٹی وی کے رپورٹر موسم کو سہانا اور خوشگوار قرار دیتے ہیں۔ پہلے اخباروں میں ایسی یک طرفہ اور لگی بندھی رپورٹنگ دیکھی۔ اور ایڈیٹرز، چیف رپورٹرز اور ساتھی رپورٹرز و فوٹو گرافرز کو اس سہانے موسم کی بجائے بارش سے شہریوں کو درپیش مسائل اور ذمہ دار اداروں کی غیر ذمہ داری پر رپورٹنگ کی تجاویز دیتا رہا۔ لیکن ایک نہ چلی۔ بعد ازاں ٹی وی میں رپورٹنگ، اسائننگ اور نیوز ایڈیٹنگ کے دوران بھی اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈائریکٹر نیوز، بیورو چیفس اور سنٹرل اسائنمنٹ ڈیسک کا اسلام آباد کی بارش سے متعلق ہمیشہ یہی رویہ رہا ہے کہ بوند ٹپکے اور رپورٹر خصوصاً خاتون رپورٹر موسم کی دلکشی، سہانے پن، مارگلہ کے پہاڑوں پر سے اٹھتی مخمور گھٹاوُں، دامن کوہ میں آئے سیاحوں اور پکوڑوں سموسوں پر لائیو یا ایز لائیو بیپر اور پیکج فائل کریں۔ قطع نظر اس سے کہ بارش اسلام آباد کے ایف اور ای کی پٹی کے چند مخصوص سیکٹرز کے علاوہ باقی شہر میں کس قدر زحمت بن کر برسی ہے۔

راول جھیل، دریائے سواں، دریائے کورنگ کے ارد گرد کے دیہات اور بستیاں، بہارہ کہو اور بری امام کے علاقوں، جی، ایچ اور آئی پٹی کے سیکٹرز، سبزی منڈی، گولڑہ اور ترنول کے علاقوں میں ہر موسم کی بارش سے گلیوں نالیوں اور گھروں دکانوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، نقل و حرکت مفلوج ہو جاتی ہے، سیوریج لائنیں اوور فلو کرنے لگتی ہیں، پانی کے ریلے رابطہ سڑکیں بہا لے جاتے ہیں اور بازار اور بس اڈے دلدل بن جاتے ہیں۔ لیکن ان پیدا شدہ حالات پر کوئی نظر نہیں دھرتا۔

مختلف نیوز رومز میں کام کے دوران ‘رین رپورٹنگ’ سے متعلق میرا دو مختلف نوعیت کے کنٹینٹ یا مختلف اسٹوریز پر آرگومنٹ ہوتا رہا ہے۔ راقم الحروف کا ‘رین رپورٹنگ’ پر ‘پبلک اوری اینٹڈ’ موقف اس بنیاد پر قائم ہے کہ نیوز میڈیا کا بنیادی فنکشن عوام کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور پبلک آفسز کو ان کی کمی کاتاہیوں سے باخبر رکھنا ہے۔ عوام اور اتھارٹی کے درمیان پُل کا یہی کردار میڈیا کا کلاسیکی طرز بھی رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ‘موج مستی رپورٹنگ ‘ایلیٹ اوری اینٹڈ’ ہے جو کسی اتھارٹی کو چیلنج کرتی ہے اور نہ ہی کسی عوامی مسئلے کو اجاگر کرتی اور اس کا حل تجویز کرتی ہے۔

بدلتے موسمی حالات میں اب کم و بیش دنیا کے ہر خطے میں ہونے والی ہر موسم کی بارش، بالخصوص جنوبی ایشیائی خطے میں ہونے والی مون سون کی بارشیں اربن فلڈنگ کا باعث بن رہی ہیں۔ ایسے میں غیر معمولی، غیر متوازن یا بے موسمی بارشوں کو ایک کلائیمنٹ چیلنج کے طور پر محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنا نہ صرف حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے بلکہ میڈیا کو بھی معاشرے میں اپنا کردار اور پبلک سروس کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ایسے حالات میں ‘کرائسس رپورٹنگ’ کی اپروچ اپنانی چاہئے۔

بارشوں سے یقیناً لطفِ طبع، رومانویت اور سیر و تفریح جیسے احساسات و جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم ایسے حالات میں جبکہ شہر کا ایک حصہ یا سماج کا ایک طبقہ بارش زدگی کا شکار ہو کر دربدر ہو رہا ہو، انسانی جانیں سیلابی ریلوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہوں، گھریلو ساز و سامان اور گاڑیاں نالوں میں بہتی چلی جا رہی ہوں، تو شہر کا کوئی دوسرا حصہ جہاں ایسے نقصانات کے واقعات نہیں ہو رہے، وہاں سے ان رومانوی احساسات و جذبات سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی رپورٹنگ سے بڑھ کر کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہنگامی صورت حال کو رپورٹ کیا جائے۔

اسلام آباد میں بارشوں سے متعلق رپورٹنگ کا ایک مخصوص طرز عمل کئی برسوں سے چلتا آ رہا ہے، جسے ایک نسبتاً نئی اصطلاح میں ‘مثبت رپورٹنگ’ کہا جا سکتا ہے۔ شاید یہ اسی رپورٹنگ کا شاخسانہ ہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داری بھول بیٹھے ہیں اور اب وقت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی بارشوں سے ایسے ہی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں جیسے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں دیکھے گئے ہیں۔ یہاں امریکی صحافی مولی آئیونز کا کہا گیا ایک جملہ یاد آ رہا ہے کہ وہ خبریں جنہیں میڈیا سمجھ نہیں پاتا، یا جو توجہ حاصل نہیں کر پاتیں، یا جن سے قطع نظر کیا جاتا ہے، وہیں خبریں بالآخر وبال کا باعث بنتی ہیں۔ اور ای الیون میں تباہی سے یہی ہوا کہ کئی برسوں سے جاری ‘مثبت رپورٹنگ’ ایک ہی روز میں ختم ہو گئی اور مجبوراً ٹی وی چینلز کو اس تباہی کی جانب توجہ کرنا پڑی۔

بطور صحافی ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کتنی خبروں کو خبر سمجھتے ہی نہیں، یا توجہ نہیں دیتے یا جان بوجھ کر ان سے قطع نظر کرتے ہیں۔ یہی وہ خبریں ہیں جو ایک عرصہ تک تو چھپی رہتی ہیں لیکن ایک مخصوص وقت پر لاوہ پھٹ جاتا ہے اور وبال سامنے آ جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ بننے والے عوامل سے میڈیا کا قطع تعلق رکھنا، جنسی زیادتی کے واقعات سے لاعلم رہنا یا ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے کی تکنیک اور زبان و بیان سے ناواقفیت، غذائی قلت کے منڈلاتے خطرات کو نہ سمجھ سکنا اور اس جیسے دیگر جینوئن مسائل پر سطحی رپورٹنگ سے اب یہ مسائل بہت تیزی سے ایک وبال بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ حالیہ حکومتی پالیسیوں اور میڈیا ہاؤس مالکان کے کاروباری مفادات نے میڈیا انڈسٹری اور جانلزم کو بطور پیشہ گہری گزند پہنچائی ہے، تاہم اس چیلنج کے باوجود ملکی صحافت کو عوام سے اپنا تعلق جوڑے رکھنے بلکہ اسے مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی طور پر میڈیا اور عوام کے درمیان رشتہ خبر اور اس کے مواد یعنی کنٹینٹ پر استوار ہے۔ میڈیا کنٹینٹ جس قدر عوامی جذبات و احساسات کی عکاسی کرے گا، عوام کا میڈیا پر اعتماد اتنا ہی گہرا ہو گا۔ عوامی امنگوں کا ترجمان میڈیا، عوامی شعور بیدار کرتا ہے جو مضبوط عوامی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اور توانا جمہورے ادارے ہی ملک کا مستقبل ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply