مطلع (ایک مکالمہ) —– سرمد صہبائی

3

” نقش فریادی ھے کس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ھے پیراھن ھر پیکرِ تصویر کا

یار شاعر ادیب اپنی تخلیق کا آغاز حمد و ثنا کے ساتھ کرتے ھیں اورغالب اپنے دیوان کی ابتدا اس مطلع سے کرتا ھے جس کا حمد و ثنا سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا-“

“میرے خیال میں تو غالب نے اپنے دیوان کا آغاز حمدیہ شعر سے ھی کیا ھے- فرق صرف اتنا ھے کہ وہ ‘خوگرِ حمد’ کا شاعر نہیں۔ ویسے تمہارے خیال میں شاعر حمد کیوں کہتا ھے؟ “

“یہی کہ اس کے کلام میں تاثیر پیدا ھو”

” تاثیر تو تب پیدا ھوگی جب اسکے پاس قوت کلام ھوگی۔ خالق تو خدا ھے، شاعر نہیں، اس کے پاس تو خلق کرنے کی قوت نہیں – وہ دراصل خدا سے گویائی کی طاقت مانگتا ھے تا کہ وہ اپنا اظہار کر سکے۔ غالب نے اس قدیم روایت کو اپنی شوخیء ایجاد سے اور کا اور کر دیا ھے”-

“وہ کیسے؟ “

” دیکھو غالب اپنے دیوان کی ابتدا دعا سے نہیں، فریاد سے کرتا ھے، ایسی فریاد جو ایک نقش میں منجمد ھے۔ نقش جس کی تحریر کے آڑے ترچھے خطوط الجھے ھوۓ ھیں-“

” تحریر اور نقش؟ غالب کے ایک نقاد شاداں کا کہنا ھے کہ لفظ ‘تحریر’ نے سارے شعرکو بے معنی بنا دیا ھے-“

” تم نے ایرانی خطاطی دیکھی ھے جس میں الفاظ تصویری شکل میں لکھے جاتے ھیں- جو کششیں اور قوسیں کھینچی جاتی ھیں ان کا اتار چڑھاؤ نقش بناتا چلا جاتا ھے۔ اور پھر تحریر کا ایک مطلب تو لکھنا ھے لیکن ایک مطلب غلام کی آزادی بھی ھے- شوخی کا مطلب شرارت، ناز و انداز اور خود نمائی کے ساتھ سنگد لی اور ایذا رسانی بھی ھے- اب جس شوخی سے آقا نے غلام کو’تحریر’ یعنی رھا کیا ھے یا جس شوخی سے اس نقش کو لکھا یا گیا ھے غالب اس کا فریادی ھے- مہر افشاں فاروقی نے غالب کے مسترد اشعار میں سے جو یہ شعر نکالا ھے وہ سنو۔

خوانا نہیں ھے خط رقمِ اضطرار کا
تد بیرِ پیچ وتابِ نفس کیا کرے کوئی

اضطرار کے خطوط ‘پیچ وتابِ نفس’ میں ایسے کھینچے گئے ھیں کہ وہ خوانا نہیں، یعنی پڑھے نہیں جا سکتے، اس نقش کے خطوط بھی ایسے ھی ھیں۔ ـ ٹھہرو میں تمہیں مونخ کی ایک پینٹنگ دکھا تا ھوں”

” یہ غالب کے مطلع میں مونخ کی پینٹنگ کہاں سے آگئی ؟”‘

” دیکھو تو سہی، اس پینٹنگ کا نام ھے (چیخ) The scream

اس میں یہ چہرہ دیکھ رھے ھو؟”

” چہرہ؟ اسکے تو کوئی خد وخال ھی نہیں، کوئی پہچان ھی نہیں، نہ ھی پتہ چلتا ھے عورت ھے کہ مرد “

” یہ انسان کا ازلی اور ابدی چہرہ ھے جو ناقابلِ شناخت ھے۔ اسکی لکیریں ایسے کھینچی گئی ھیں کہ تصویر تو سا کت ھے لیکن سارا کینوس تھرتھرا رھا ھے- بس مونخ کی یہی ‘ گونگی چیخ ‘ غالب کی منجمد فریاد ھے جہاں نقش تو خاموش ھے لیکن پیچ وتاب¸نفس کے اضطرارسے سارا دیوان تھرتھرا رھا ھے – ٓ ویسے ‘چیخ’ سے مجھے یاد آیا کہ غزل کا ایک مطلب تو عورتوں سے باتیں کرنا ھے لیکن ایک مطلب یہ بھی ھے کہ جب شکاری کا تیر ہرنی کے سینے میں پیوست ھوتا ھے تو اس وقت اس کے مونہہ سے جو چیخ نکلتی ھے، اس کو بھی غزل کہتے ھیں-“

“یہ تم کہاں کی بات کہاں جوڑ رھے ھو، نہ کوئی حوالہ نہ کو ئی مستند راۓ، نہ ریسرچ، بس اپنی کہے جارھو”

“دیکھو تمہیں حوالے چاھییں توانکل گوگل سے پوچھ لو۔ میں کو ئی پروفیسر یا نقاد نہیں اور نہ ھی میرا کو ئی غالب پر دعویٰ ھے، میں تو بس اپنے مزے لے رھا ھوں-“

“مزے لیتے رھو لیکن کو ئی کام کی بات بھی تو کرو-“

“مثلاََ؟”

“مثلاََ یہ کہ غالب کےھم عصروں نے اس مطلع کو مہمل قرار دے دیا تھا۔ اور پھر غالب کے بعد نظم طباطبائی نے تو اپنی “شرح غالب” میں صاف صاف کہہ دیا ھے کہ شعر کا مطلب شاعر کے دل میں ھی رہ گیا ھے – وہ اسے ‘معنی فی لباطن’ قراردیتا ھے-“

” ٹی ایس ایلیٹ کو جانتے ھو؟”

” کیوں نہیں، بیسویں صدی کا بہت بڑا انگریزی کا شاعر اور نقاد مانا جاتا ھے”

” تمہیں پتہ ھے اس نے شیکسپیر کے ڈرامے ھیملٹ کے بارے میں کیا کہا تھا ؟”

“کیا؟”

“اس نے کہا ھیملٹ ایک ‘ناکام فن پارہ’ ھے۔ چلو تمہیں حوالہ بھی دے دیتا ھوں- اسکا مضمون ھے Hamlet and  his problems اسمیں اس نے اپنی ایک تھیوری پیش کی ھے جسے وہ کہتا ھے Objective correlative۔

اسکا کہنا ھے کہ شاعر کو اپنے اظہار کے لئے معروضی طور پر زبان وبیان اور واقعات کا ایک ایسا سلسلہ تلاش کرنا چاھیے جس کی مطابقت سے وہ اپنا اظہار کرسکے۔ لیکن ھیملٹ میں یہ معروضی مطابقت نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ Inexpressibility یعنی ‘نااظہاریت’ کا شکار ھوگیا ھے۔ گویا یہاں بھی ‘معنی فی لباطن’ والا قصہ ھے-“

“مگر ایلیٹ کی اس تھیوری میں کیا خرابی ھے”

“تمہیں کچھ خرابی نظر نہیں آ رھی، تم نے ھیملٹ پڑھا ھے”

“ھاں”

” تم دیکھ نہیں رھے کہ ھیملٹ کی ساری تھیم انسان کا اظہار نہیں اس کی نا اظہاریت ھے”

“یہ کیا مجہول گفتگو ھے- تمام ادب انسان کا اظہار ھی تو ھے”

“نہیں میری جان اگر انسان کا اظہار مکمل ھو جائے تو ادب ودب کچھ نہیں رھے گا۔ اس کو اس طرح دیکھو کہ ادب کا اظہار دراصل انسان کی نا اظہاریت کا اظہار ھے – غالب ھی کا شعر دیکھو،

آتش کدہ ھے سینہ مرا رازِنہاں سے
واۓ کہ اگر معرضِ اظہار میں آئے

انسان کا اظہار ممکن نہیں اور یہی ھیملٹ کا مرکزی خیال ھے”

” تمہارآ مطلب ھے کہ شیکسپئر یہ کہنا چاھتا تھا اور ایلیٹ کو یہ بات سمجھ نہیں آئی ؟”

“ھا ھا شیکسپئر کو تو یہ بھی پتہ تھا کہ ایک دن ایک نقاد آۓ گا جو اس کے ڈرامے کو ‘ نااظہاریت’ کا طعنہ دے کر رد کردے گا”

“کیا بکواس کررھے ھو۔ “

“چلو میں تمہیں اسی ڈرامے کا ایک سین دکھاتا ھوں- اس سین میں ھیملٹ ایک کتاب پڑھ رھا ھے، پلونیئس جو اپنے آپ کو عقل کُل سمجھتا ھے اور بادشاہ کے لئے ھیملٹ کی مخبری کرتا رھتا ھے، ھیملٹ سے پوچھتا ھے

What do you read my lord?
(شہزادہء عالم آپ کیا پڑھ رھے ھیں)

Hamlet -Words! Words! Words!
(لفظ! لفظ ! لفظ !)

پلونئس کو ھیملٹ کا یہ جواب سمجھ نہیں آتا وہ پریشان ھو جاتا ھے اور بادشاہ سے کہتا ھے کہ ھیملٹ پا گل ھو چکا ھے-“

“اس بات کا ایلیٹ سے کیا تعلق؟”

“دیکھ نہیں رھے یہ پلونیئس ایلیٹ ھی تو ھے جس کو شیکسپئر ھیملٹ کی زبانی یہ کہہ رھا ھے کہ میرے چاروں طرف لفظ ھی لفظ ھیں لیکن کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں جسمیں میں اپنا اظہار کرسکوں -“

“یہ تم نے کوئی اپنی ھی تعبیر نکال لی ھے- “

“چھوڑو یا ر دیکھو ھمارے نوشہ نے طبا طبائی کو کیسا مزے کا جواب دیا ھے”

“طبا طبائی کو؟ طبا طبائی نے تو غالب کے مرنے کے بعد شرحِ غالب لکھی تھی”

“لیکن غالب نے اسے پہلے ھی دیکھ لیا تھا- شیکسپئر کی طرح غالب کو بھی پتہ تھا کہ ایک دن کو ئی طبا طبائی نامی نقاد اس کےدیوان کے پہلے شعر کو مہمل قرار دے گا اس لئے اس نے اسی غزل میں اس کو کہہ دیا کہ اے طباطبائی تو اپنی عقل کا جتنا بھی چاھے زور لگا لے میری شاعری تیری سمجھ میں نہیں آۓ گی”

“اچھا؟”

“ھاں غالب نے کہا

آگہی دام شنید ن جس قدر چاھے بچھاۓ
مدعا عنقا ھے اپنے عالمِ تقریر کا

“واہ بھئ واہ، لگتا ھے جب غالب یہ غزل لکھ رھا تھا تو تم اسکے پاس ھی بیٹھے تھے-“

“بس یہی سمجھو، مجھے بھی یہی لگتا ھے- ویسے آپس کی بات ھے ایلیٹ اور طباطبائی کی تھیوریاں تو کب کی مستر د ھو گیئں لیکن غالب کا مطلع اب بھی اپنی جگہ پر موجود ھے اور شیکسپئر کا ڈرامہ ھیملٹ ساری دنیا میں اب بھی کھیلا جاتا ھے۔ تمہارے خیال میں اگر شیکسپئر کو ھیملٹ کا ‘اظہار’  اور غالب کوطباطبائی کے مطابق ‘ بامعنی’ مطلع مل جاتا تو کیا ھیملٹ ھیملٹ رھتا یا کیا ھم اس وقت غالب کے اس مطلع پر گفتگو کررھے ھوتے؟ غور کرو تو یہی وہ ‘ نااظہاریت’ ھے جس کو سیموئیل بیکٹ نے بیسویں صدی میں دیکھ لیا تھا –’ ابسرڈ ‘ یا بے معنویت کا تھیٹر انسان کے اظہاریت کے دعوہ کا الم ناک استہزایئہ ھے اور میرے خیال میں شیکسپئر کا ھیملٹ اور غالب کا مطلع اس کی پیشین گوئی ھے۔ “

“پھر وہی مجہول گفتگو”

” یار غالب نے یہ مطلع انیس سال کی عمر میں لکھا تھا۔ اور پھر جانتے بوجھتے کہ لوگ اس شعر کو مہمل کہہ رھے ھیں اسے اپنے دیوان کا پہلا شعر بنا دیا – تم غالب کا کوئی بھی دیوان اٹھا کر دیکھ لو تمہیں یہی مطلع ملے گا اس لئے کہ غالب جانتا تھا اس کے دیوان کا اس شعر سے آغازھونا اسکی ساری شاعری کے معانی پیدا کرے گا۔ “

“عجیب بات ھے ایک بے معنی شعر غالب کے سارے دیوان کو معنی دے رہا ھے۔ ۔ “

” جب ھم معنویت کی بات کرتے ھیں تو اسکا مطلب ھوتا ھے ھم بے معنویت کے معنی کی بات کررھے ھیں جیسے جب ا ظہار کہیں تو سمجھو نا اظہاریت کا اظہار ھو رہا ھے”

” یار تم ھوش میں تو ھو؟”

“غالب کی بات ھو تو کون ھوش میں رہ سکتا ھے- خیر بات شروع ھوئی تھی حمد یہ شعر کی روایت سے۔ غور کرو تو مناجات کے اس عمل میں شاعر ایمپتھی یعنی ھم شناسی یا ھم احساسا تی کے ذریعے خود خالق کا رول اپنا لیتا ھے اور اسطرح ایک اپنی کائنات تخلیق کرتا ھے- اب مطلع کا ایک مطلب تو غزل کا پہلا شعر ھے لیکن مطلع آسمان کا وہ حصہ بھی ھے جہاں سے ایک نیا دن طلوع ھوتا ھے – خدا کی کائنات ‘حرفِ کن’ سے وجود میں آتی ھے اور غالب کا دیوان جو اس کی کائنات ھے ایک گونگی فریاد سے تخلیق ھوتی ھے، سو یہ مطلع غالب کی کائنات کا مطلع ء آفرینش ھے؟”

“میں نے ایسی منطق کہیں نہیں دیکھی – ناممکن سی باتیں کیے جا رھے ھو-“

” قول محال’ کا استاد غالب ھے- میں تو بس اس کی طریقیت میں اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ھوں- چلو میں تمہیں غالب کا ایک خط پڑھاتا ھوں جو اس نے اپنے ایک شاگرد عبدالرازاق شاکر کولکھا تھا- لکھتے ھیں

‘ پہلے معانیِ ابیات ِ بے معنی سنیے، ایران میں یہ رسم ھے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ھے، جیسا مشعل دن کو جلانا یا خون آلود کپڑا بانس پر لٹکا کر لے جانا'”

“مگر طباطبائی توکہتا ھے ایسی کوئی روایت نہیں ملتی “

“اس سے کیا فرق پڑتا ھے، اگر یہ غالب کی اپنی بنائی ھوئی کوئی تمثیل ھے تو بھی کمال ھے، ویسے شمس الرحمان فاروقی صاحب نے ‘ تفیہیم غالب’ میں قدیم فارسی سے کمال اسماعیل کا یہ شعر کوٹ کرکے طباطبائی کو غلط ثابت کردیا ھے

کاغذیں جامہ بہ پوشید وبدرگاہ آمد
زادہء خاطرِمن تابہ دھی داد مرا

یہ بھی تو دیکھو کہ دیوان کا ایک مطلب شاھی دیوان بھی ھے جہاں لوگ بادشاہ کے سامنے اپنی اپنی فریاد لیکر حاضر ھوتے ھیں-غالب بھی اپنے اوراق پریشاں اوڑھے دیوان میں کھڑا ھے لیکن اسے داد دینے والا کوئی نہیں۔ ‘کاغذی ھے پیراھن ھر پیکر تصویر کا ‘ یہ ایسے ھی ھے جیسے کہ ‘ یاں ورنہ جو حجاب ھے پردہ ھے ساز کا’۔ یعنی جیسے پردہ اور ساز ایک ھیں ایسے ھی تصویر کا جسم بھی کاغذ ھے۔ غالب یہاں ایک تصویری تمثیل بنا رھا ھے بالکل ایرانی ڈرامے کی ‘پردہ بازی’ کی طرح جہاں سارا کھیل پردے پر تصویروں کے ذریعے دکھایا جاتا ھے۔ غالب کی’ پردہ بازی’ میں تصویریں خاموش ھیں لیکن پردہ تھرتھرا رھا ھے- جیسے ستہ جیت رے کی فلم ‘ پاتھر پانچلی’ میں ماں کی موت کے دوران سکرین پر مکمل سناٹا ھے لیکن ساری سکرین تھر تھرا رھی ھے۔ “

“یہ تھرتھرانے والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی-“

“چلوشعر کی صوتیات کو دیکھتے ھیں – تم جانتے ھو تجنیس کیا ھوتی ھے؟”

“نہیں-“

“یہ شاعری کی ایک تکنیک ھے جس میں کچھ حرفوں کی تکرار سے اصوات یا آوازیں پیدا کی جاتی ھیں- تجنیس کہیں پرتو محض ایک سجاوٹ کے طور پر نمایاں ھو تی ھے اور کہیں پہ یہ تحت الشعور میں رھتی ھے۔ غالب نے اس شعر میں تجنیس کا حیران کن استعمال کیا ھے-“

“کہاں، مجھے تو نظر نہیں آیا”

“اس لئے کہ یہ تجنیسِ جلی نہیں خفی ھے، نظر نہیں آتی – ذرا غور کرو جب واول اور کانسوننٹ آپس میں ٹکراتے ھیں تو شعر کا صوتی آھنگ ترتیب پاتا ھے۔ کانسوننٹ آواز کو روکتے ھیں اور واول حرفوں کی آواز کو بہاؤ دیتے ھیں اس لئے انہیں حروفِ صدائی بھی کہتے ھیں – غالب کے اس مطلع میں حروف کی صوتیات معنی اور معنی صوتیات میں ڈھل جاتے ھے- اس شعر میں دو حرفوں کی کاف اور رے کی تکرار ھے – شعر کی قراءت کرتے ھوۓ حرف رے کی ووال کے ساتھ روانی ررررر– کی صوت دیتی ھے جب کہ کاف کی تکرار رے کی روانی کو روکتے ھوۓ رخنے ڈالتی جاتی ھے اس سے خفیف سی ایک ایسی تھرتھراھٹ سنائی دیتی ھے جوکاغذوں کو الٹنے پلٹنے سے پیدا ھوتی ھے- یہی تھرتھراہٹ انسان کی ازلی اور ابدی فریاد ھے جس سے غالب کا دیوان آج بھی تھر تھرا رھا ھے-“

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. سرمد صہبائی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں. ان کی یہ کاوش اہل ذوق کے لیے زاد راہ ہے . مضمون میں خود ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مزے کے لیے لکھ رہے ہیں. ورنہ تو ہر طالب علم کو ایک ہی فریادی والی داستان سنائی جاتی ہے. ہیملٹ کے ساتھ اس شعر کی تطبیق اچھی کاوش ہے.

Leave A Reply