دن عام ہوں یا وبا کے: ایک خط —- کومل راجہ

0

دن عام ہوں یا وبا کے شہرِ شیراز کے عظیم شاعر حافظ شیرازی کا مندرجہ ذیل شعر مجھ جیسے خرابوں پر بِلا کسی تفریق کے ہر عصر میں اکثر صادق آتا ہے۔

دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل است
صراحیٔ مےِ ناب و سفینۂ غزل است

یعنی (اس) زمانے میں اگر کوئی دوست عیب/خرابی سے پاک ہے تو وہ صرف خالص شراب کی صراحی اور غزلوں کی کتاب ہے۔
(حافظ شیرازی)

مرزا نوشہ تو تنہائی کے دنوں میں اپنے رفقائے کار سے خط و کتابت کر کے دل لگی پوری کر لیا کرتے تھے۔ اپنے ایک خط میں تزکرہ فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی تو ڈاک کا ہرکارہ ایک دن میں دو دو چار چار مرتبہ خط لے کر آ جاتا تھا اور یوں مرزا کا دن خطوط پڑھنے اور انکا جواب لکھنے میں صَرف ہو جاتا تھا۔

دورِ حاضر میں صرفِ اوقات کے لیے انگنت سرگرمیاں ایجاد ہو چکی ہیں مگر طبیعت ہے کہ سنبھلتی نہیں، جی ہے کہ کہیں لگتا نہیں۔ مرزا نوشہ اپنے قلمی دوستوں کو خط نہ بھیجنے پر آدھ آنے کی بخیلی کرنے کا طعنہ دیتے ہوئے بے رنگ ہی بھیجوا دینے کی ترغیب کرتے مگر آج کے زمانے میں ہم “بے رنگ ہی بھیجوا دو” جیسی گزارش بھی نہیں کر سکتے۔ بخل تو خیر آج بھی ایک آدھ آنے کا ہی بنتا ہے کہ موبائل فون پہ دس پندرہ روپوں میں ہزار ہزار پیغامات بھیجنے والے پیکج کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور انہی پیغامات میں آپ چاہیں تو رنگ رنگ کے گِفس، انیمیشن، سٹکر اور دوسری رنگدار سمائیلیاں بھجوا سکتے ہیں۔

اور مسْلہ پیغام رسانی کے فرائض سر انجام دینے والی ایپس میں کسی تاخیرکے امکان کا بھی نہیں۔ ایک دن میں دو دو چار چار کیا۔ سارا دن ہی مختلف ڈاک ایپس والوں کی جانب سے فون پہ گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں۔ مگر خطوط (میسجز) کا کانٹینٹ اور خود خط بھیجنے والے دونوں ہی خالی از خلل نہیں ہوتے۔ اس کارن ہمارا جی ایسی سرگرمیوں سے اکثر خائف رہتا ہے اور نوابی طبیعت کے باعث ہم نے اپنے فون پر تمام ڈیجیٹل ڈاک بنگلوں کو میوٹ، سائلینٹ، اگنور، انفالو اور آرکائیو کر رکھا ہے کہ بقول علامہ اقبال

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
(اقبال لاہوری)

اب شیرازی کی بات پَلوُ سے باندھتے ہوئے ہم نے سفائنِ غزل میں سے میرؔ کی غزلیات کا لطف لینے کے لیے استاد محترم احمد جاوید صاحب کی زبانی “سرہانے میرؔ کے” سننا شروع کر دیا اور کلیاتِ غالبؔ کو اپنے سرہانے دھر لیا۔ مگر اس تنہائی کا ازالہ کیسے ہو جس میں مرزا نوشہ صرف خطوں کے بھروسے جیتے تھے۔ ڈیجیٹل خطوط کے معاملے میں ہمارا کیا رویہ ہے وہ ہم بیان کر چکے ہیں اور رہی بات دوستوں کی تو

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
(مرزا غالب)

شاعری ہم اپنی ذہنی انگیجمنٹ اور جمالیاتی تسکین کے لیے پڑھتے/سنتے ہیں۔ اردو سے ہمیں اس لیے رغبت ہے کہ ہم اردو زبان کے تخلیقی و ادبی فن پاروں کے نہ صرف تخیلاتی اور جمالیاتی بلکہ لسانی پہلوؤں سے بھی بھرپور طور پر لطف اٹھا سکیں۔ یہ سب اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر پھر بھی ایک خالی پن سا رہتا ہے، کوئی کسک دل میں ہر سُو منڈلاتی ہے۔ ایسا خالی پن جسکو خارج سے بھرنا ممکن نہیں اور موجودات سے جتنا اسکو بھرتے جاؤ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔

وقت کے تیز گام گھوڑے پر سوار دائروں میں دوڑنے والے پہر، ہر روز جب بوقتِ عصر مقامِ انتقال پر ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے سے پہلے، ایک عالمِ جھٹپٹے میں اپنا اپنا غم، شام کے سرمئی پیالے میں انڈھیل دیتے ہیں تو شاموں کو چلنے والی آزاد ہوائیں میرے دل کی زمیں پر موجودات کی بوئی ہر فصل کو اکھاڑ باہر کرتی ہیں اور ایسے میں شدّت سے محسوس ہوتا ہے کہ

ع الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا
(میر تقی میرؔ)

انسانی زندگی میں وجودیت سے جڑے مختلف نوعیت کے کوئی نہ کوئی معاملات شب و روز، شام و سحر درپیش رہتے ہی ہیں اور ہمارے یہاں ان میں سے بالخصوص انسانی نفسیات، شناخت، فلسفہِ حیات، وجود، نفس، ایکائی، دوئی، محبت، حق اور (غیر) مقصدیت وغیرہ سے جڑی سوچوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ڈیرہ جمائے رہتا ہے۔ کوئی چاہے تو اسکو دماغ کا خلل کہہ لے چاہے تو عشق کہہ لے اور چاہے تو دونوں کو ملا کر مرزا نوشہ کی زبانی

ع۔ کہتے ہیں جسکو عشق خلل ہے دماغ کا

کہہ لے۔ جو بھی ہے ہمارا دماغ اس سے ہر گز عاری نہیں ہے، ہماری سوچوں کو اس سے ہر چند چھٹکارہ نہیں ہے، اور اس عارضہِ دل کا، اس بیماریِ دماغ کا کوئی اعلاج و چارہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست ہماری دل جوئی کو کافی ہیں۔

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
(مرزا غالب)

ایسے میں ہمیں میر تقی میر کے والد مرحوم کی تاکید و تلقین یاد آجاتی ہے:

“بیٹا عشق اختیار کرو کہ عشق ہی کا اس کارخانے پر تسلط ہے۔ اگر عشق نہ ہوتا تو یہ تمام نظام درہم برہم ہو جاتا۔ بے عشق کے زندگانی وبال ہے اور عشق میں دل کھونا اصل کمال ہے۔ عشق بسازد و عشق بسوزد۔ عالم میں جو کچھ ہے، وہ عشق ہی کا ظہور ہے۔ بیٹا زمانہ سیّال ہے۔ یعنی بہت کم فرصت، یعنی اپنی تربیت سے غافل نہ ہو۔ اس رستے میں بہت نشیب و فراز ہیں۔ دیکھ کر چلو، ایسے پھول کا بلبل بنو جو سدا بہار ہو۔۔۔۔ فرصت کو غنیمت سمجھو اور اپنے تیئں پہچاننے کی کوشش کرو۔ ”

از مولووی عبدلحق انتخاب ِ کلامِ میر

بس ہم بھی فرصت کو غنیمت جان کر اپنے تیئں کچھ نہ کچھ جاننے، پہچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور ایسے میں جب ہم تنہائی (solitude) کی ان خاموش گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں جہاں بعض دفع اپنے ہی وجود کو اجنبی پاتے ہیں تو تب صرف شاعری اور موسیقی ہی وہ دو قوتیں ہیں جو ہمیں خامشیوں کے صحرا سے نکال کر صداؤں کے جنگل میں پھینک دیتی ہیں۔ اور پھر ہم خیال و احساس کے صوتی اظہار یعنی شعر و بیان میں اپنی نجات پاتے ہیں۔

ایسے میں احباب کی نذر میر تقی میرؔ کے بارے میں استاد جاوید احمد سے سنے انکے استاد محترم محمد حسن عسکری کے تین اقوالِ زریں بھی کرتے چلیں کہ

۱۔ میرؔ کی بڑائی کا کبھی کوئی منکر نہیں ملے گا

۲۔ میرؔ میں ایک خشکی سی ہے جو معمولی آدمی کو اس سے دُور رکھتی ہے

۳- میرؔ کو پڑھنا زندگی بھر کا روگ لگا لینا ہے

لحاظه عزیزانِ من! بے شک

دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل است
صراحیٔ مےِ ناب و سفینۂ غزل است

مگر آپکو استادوں کے تیسرے قول سے خبردار کرنا بھی ضروری تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری طرح آپکا بھی دن صدائے میرؔ سے یوں شروع ہو کہ

کن نیندوں اب تُو سوتی ہے اے چشمِ گِریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
میرؔ

اور ہر شام “ہجراں” کی ماری وہ شام بن جائے کہ

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تُو کہ وہیں تھا
میرؔ

نیک تمناؤں کے ساتھ

کومل راجہ

وِلی گراف ستراسے ۲۱

میونخ، جرمنی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply