مخطوطہ اور مخطوطہ نویسی کا فن: آغاز و ارتقا — ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ

0

خالقِ ارض وسما نے انسان کو خلق کیا تو اس کے خمیر میں ایسے اوصاف وکمالات گوندھ دیے، جن کے باعث وہ باشرف ہوا اور ولقد کرمنا بنی آدم کے اعزاز کا سزاوار ٹھہرا۔ اُسے فرشتوں، جنوں اور دوسری تمام مخلوقات پر برتری اور فضیلت دے کر نیابتِ الٰہی کا منصب سونپا گیا۔ کرۂ ارض کو اُس کے لیے میدانِ عمل ٹھہرایا گیا اور یہاں پر اُس کے ہبوط کے ساتھ ہی اس کا امتحان آغاز ہوا۔ اوّل اوّل وہ اپنے خمیر میں گندھے اوصاف وکمالات سے بے گانہ اور ناآشنا تھا مگر اُس کی فطرت میں رکھی بے قراری اور ذوقِ جستجونے ضرورت اور مشکل کے وقت اپنے اندر کی تسخیر کے دوران اُن اوصاف وکمالات کا کھوج لگا لیا اور اُن کو کام میں لا کر عرصۂ امتحان کی مشکلات پر قابو پانے لگا۔ انسان نے جنگلوں اور غاروں سے اپنا سفر آغاز کیا۔ اس وقت وہ تہذیب وتمدن سے نا واقف تھا اور اس کا طرزِ زیست جنگل کے دوسرے جانوروں کے مماثل تھا۔ رفتہ رفتہ اس کے اندر کی بے قراری اور ذوقِ جستجو نے اس کی صلاحیتوں کو مہمیز کیااور وہ وحشت وبربریت کے حصار اور درندگی وخوں خواری کی فضا سے نکلا اور حریمِ آدمیت میں داخل ہو گیا۔ اس نے عزمِ صمیم، جہدِ مسلسل اور ذوقِ جستجو سے اپنے لیے متمدن اور مہذب معاشروں کی داغ بیل ڈالی اور کائنات کی تسخیر کا سفر شروع کیا۔ اس کے ارتقا کی کہانی دل چسپ بھی ہے اور حیرت آگیں بھی۔ انسان نے جب زمین پر اپنا سفر آغاز کیا اُس وقت اس کے معروض میں پھیلے ہوئے مظاہر واشیا بے نام، آوازیں بے معنی اور افعال واعمال حسنِ ترتیب سے بے گانہ تھے۔ انسان نے مشکل کی ان گھڑیوں اور خطرات کی اس فضا میں اپنے غور وفکر کے تیشے سے ان گونگے منظروں کو گویا کر دیا اور بے نام اشیا کو ناموں اور اعمال وافعال کو حسنِ معنیٰ کا اعتبار بخشا۔ وحشیانہ زندگی کے زمانے ہی میں اُس کے دل میں اپنے خیال اور احساس کو دوسروں تک منتقل کرنے کی آرزوبیدار ہوئی۔ جسمانی اعضا کی حرکات اور اشاروں کا محدود نظام اس کے احساس کی ترسیل کے لیے ناکافی تھا اس لیے اس نے تلاش وجستجو کا سفر جاری رکھا اور مسلسل غوروفکر کرتا رہا۔ مٹی کے پیکر میں موجود زندگی اپنے شوقِ نمو اور ذوقِ تسخیر کے باعث آشکارا ہونے لگی:
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اِک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

انسان نے اپنے جنگلوں اور غاروں کے قیام کے زمانے میں اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی دُنیا کے گہرے مشاہدے کو اپنے احساس کی ترسیل کے لیے کام میں لایا۔ اُس نے غاروں کی اندرونی دیواروں اور بڑی بڑی چٹانوں پر تصویریںبنانے کا سلسلہ آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ ٹیڑھی میڑھی اور بدشکل تصویریں مبہم اور غیر واضح تھیں مگر رفتہ رفتہ ان میں معنی پیدا ہونے لگے اور یہی بدنما اور بدوضع تصویریں انسان کے جذب واحساس کی ترجمانی کا فریضہ انجام دینے لگیں۔ علمائے آثاریات اور ماہرینِ خط شناسی (Paleographers) نے انھی ٹیڑھی میڑھی اور بدوضع تصویریں کو فنِ تحریر کا نقطۂ آغاز قرار دے کر انسان کی اس کوشش کو غیر معمولی کارنامہ تسلیم کیا ہے۔ چٹانوں پر بنی یہ تصویریں اوّل اوّل پڑھنے کے بجائے دیکھی جاتی تھیں۔ چاند، سورج، درخت یا شیر کی تصویر کودیکھ کر انھی چیزوں کا تصور پیدا ہوتا تھا۔ گویا یہ تصویریں حقیقی تعبیرات (Primary signs) سے بغل گیر تھیں۔ معنوی ارتقا کے ساتھ یہی تصویریں مجازی تعبیرات (Associative Signs)کی حامل ٹھہریں اور سورج سے مراد دن اور چاند سے مراد رات یا سونا لیا جانے لگا۔ چٹانوں پر تصویر سازی کا یہ سلسلہ کسی خاص علاقے تک محدود نہیں تھا ؛دُنیا بھر کے مختلف مقامات پر ایسی چٹانیں پائی جاتی ہیں جن پر اُس دور کے انسانوں کی ہُنر کاری کے نقوش ملتے ہیں۔ مصر، چین، ایران، ہندوستان، جنوبی امریکہ، بابل، آشور، نینوا اور دوسرے علاقوں میں موجود چٹانوںاور غار کی دیواروںپربنی یا کُھدی یہ تصویریں اور پتھروں پر بنائے گئے نقش ونگار، خط نویسی کی ابتدائی صورتیں قرار دی جا سکتی ہیں۔ وہ اگرچہ اس طرح حسنِ معنی سے آراستہ نہیں تاہم حسنِ معنی کا سفر انھی سے آغاز ہوتا ہے۔

انسانی شعور کی پختگی کے ساتھ ساتھ چٹانوں پر بنی یہ تصویریں جب معنوی ارتقا سے گزریں تو یہ تصویریں رفتہ رفتہ تصویری اشارات میں ڈھلنے لگیں۔ تصویروں کی طرح یہ تصویری اشارے بھی مکمل طور پر غیر مبہم اور واضح نہ تھے مگر ان کے بنانے میں تصویروں سے کم محنت اور وقت صرف ہوتا تھا۔ تصویری اشارات کا اگلا پڑاؤ تصویری رسم الخط (Pictorial writing)تھا۔ تصویری رسم الخط میں تصویر اور اشارے سے بھی کم محنت صرف کرنا پڑتی تھی۔ یہ خط آڑی ترچھی لکیروں کا مجموعہ تھا۔ یہ آڑی ترچھی لکیریں دراصل تصویری اشارات کی مختصر شکلیں تھیںجو انسان کی کئی برسوں کی محنت کے نتیجے میں ظہور میں آئیں۔

خط کا آغازو ارتقا: انسان نے چٹانوں پر تصویر سازی کا آغاز شاید تفریح یا وقت گزاری کے لیے کیا مگر رفتہ رفتہ یہ اُس کی ضرورت بننے لگا اور ان کی بدوضع تصویروں میں معنویت جاگنے لگی۔ یہ تصویریں جب تصویری اشارات کی منزل تک پہنچیں تو تب یہ دیکھنے کے دائرے سے نکل کر پڑھنے کے دائرے میں داخل ہو گئیں اور یہیں سے خط نویسی کا آغاز ہوا۔ خط نویسی کے ماہرین نے بعد میںاس خط کو ہیرو غلفی خط (Heiroglyphic) کا نام دیا۔ ابتدا میں ہیرو غلفی خط کی تین صورتیں تھیں:ہیرو غلفی خط کی بالکل ابتدائی صورت تصویر نویسی (Pictography) کہلائی۔ اس میں تصویر سے اصل شے مراد لی جاتی۔ دوسری صورت کوخیال نویسی (Ideography) کا نام دیا گیا؛اس میں تصویر استعارے یا علامت کے طور پر کام کرتی ہے۔ ہیرو غلفی خط کی تیسری شکل، صورت نویسی (Hierography) کہلاتی ہے۔ تصویری خط کی یہ سب سے کامل یا ترقی یافتہ صورت ہے۔ اس عہد میں انسان نے آواز کو مختلف نشانوں یا علامتوں کی صورت میں لکھنے کا چلن سیکھا۔ اس منزل پر ہونے والے صوت اور صورت کے ملاپ نے حرف کو وجود بخشا۔ علمائے خط نویسی نے ہیرو غلفی کی کئی قسموں کا ذکر کیا ہے اور مصر، عراق اور چین کو اس کے خاص مراکز قرار دیا ہے۔ مصر میں یہ خط دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے لکھا جاتا تھا۔ چین میں بھی اس کا انداز عمودی رہا؛ باقی علاقوں میں عرضی (چوڑائی میں) صورت کو رواج ملا۔ ہیرو غلفی خط کی مختلف قسموں سے مزید خطوط نے جنم لیاجن میں ہیراطیقی (Heisatic) اور دیموطیقی خط (Demotic) خاص طور شہرت رکھتے ہیں۔ ہیرا طیقی خط ہیرو غلفی خط سے زیادہ مشابہہ نہ تھا اورعام طور پر مذہبی تحریروں کے لیے مستعمل تھا۔ اسی لیے اس کا نام ہیراطیقی رکھا گیا۔ ہیرا طیقی کا مطلب مذہب اور پیشوایانِ دین ہے۔ عوام الناس کو یہ خط استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے عوام الناس نے اپنے استعمال کے لیے جو خط وضع کیا وہ دیموطیقی کہلایا۔ دیمو طیقی کا معنی عام لوگ یا عوام الناس ہے۔ ہیرو غلفی، ہیرا طیقی اور دیمو طیقی خطوط کا چلن مصر میں ۶۰۰ ق م تک رہا۔ لندن کے عجائب گھر میں موجود حجر الرشید (Rossetta Stone) پر ان تینوں خطوط کے نمونے رقم کیے گئے ہیں۔ یہ پتھر ۱۷۹۹ء میں نپولین بونا پارٹ کی فوج کو ملا، جو مصر کی مہم سر کرنے میں مصروف تھی۔ وہاں سے یہ پتھر فرانس پہنچا اور پھر انگلستان۔ ہیروغلفی خط کے فروغ کے زمانے میں کئی اور تصویری خط بھی وجود میں آئے۔ ان میں میخی، فنیقی، قبطی، آرامی، پہلوی، یونانی، عبرانی، حمیری وغیرہ خاص طور پر معروف ہیں۔ یہ خط مختلف علاقوں میں مروج ومستعمل رہے اور انسانوں کے مسلسل غور وفکر نے ان میں بہتری اور نکھار پیدا کر کے انھیں باقاعدہ حروف کے سانچوں میں ڈھالا اور ان کے استعمال کے قواعد مرتب کیے۔ فنیقیوں نے اسی زمانے میں خط کو صورِ ذاتی سے صورِ مقطعی میں تبدیل کر کے باقاعدہ حروفِ تہجی کی بنیاد رکھی۔

اہلِ عرب میں طلوعِ اسلام سے قبل مختلف خط جیسے:مسند حمیری، سطرنجیلی(سُریانی)، نبطی وغیرہ موجود ومروج تھے۔ یہ خط کن قدیم خطوں کی ترقی یافتہ شکلیں تھیں، اس پر علمائے خط نویسی اور مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ عرب میں قبلِ اسلام مروج خطوط کے بارے میں مولانا شبیر احمد خاں غوری رقم طراز ہیں:

’’خطِ سُریانی اور خطِ نبطی کے امتزاج سے عربی خطوط مستخرج ہوئے؛عرب کے مشرق میں جہاں خطِ سُریانی کا رواج تھا، اس خط سے وہ عربی خط پیدا ہوا جو بعد میں خطِ کوفی کہلایا۔ مغربی عرب میں جہاں قدیم زمانے میں خطِ نبطی مستعمل تھا، مؤخر الذکر سے خطِ کوفی سے مراجعت کے بعد وہ خط پیدا ہوا جو بعد میں خطِ نسخ کہلایا۔ ‘‘(۱)

گویا سُریانی اور نبطی خطوط عرب میں پہلے سے مستعمل ومروج تھے اور انھی سے بعد میں کوفی اور خطِ نسخ نے جنم لیا۔ عرب میں خطوط کے رواج وارتقا کے حوالے سے ڈاکٹر اعجاز راہی کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’عرب کی ادبی تاریخ سے شہادت طلب کریں تو یہ جان کر اس یقین کو تقویت پہنچتی ہے کہ عرب اقوام اور خصوصاً انباز، حیرہ اور غسّان کی ریاستوں اور شہروں میں ادب کا بڑا چرچا تھا اور فنِ خطاطی پوری طرح پھیل چکی[چکا] تھا اور ان کا خط نبطیوں کے خط سے مماثلت رکھتا تھا اور یہ ان ہی لوگوں سے حاصل کیا گیا تھا جو رومیوں کے ہاتھوں تباہی کے بعد سیناپطرہ، بصرہ اورہجرہ سے آ کر یہاں آباد ہو گئے تھے۔ گو بنیادی طور پر یہ خط خطِ نبطی ہی تھا مگر مقامی رنگ کی آمیزش سے یہ انبار میں خطِ انبار، حیرہ میں خطِ حیرہ اور حمیرہ میں خطِ حمیرہ کہلایا اور اسلام کی آمد اور کوفہ کی آبادی کے بعد خطِ کوفی کے نام سے مستعمل ہوا۔ ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ خطِ مسند حمیری دراصل خطِ نبطی اور خط سطرنجیلی کی آمیزش سے ایجاد ہوا اور یہی آگے چل کر خطِ کوفی کہلایا۔ لیکن اس کو یمن والوں نے اہلِ حیرہ کی وساطت سے ہی حاصل کیا تھااور بعد ازاں یہاں مقامی رنگ کی آمیزش کے بعد ایک مکمل خط کی صورت میں سامنے آیا مگر عربی خط کے جو قدیم نمونے دستیاب ہوئے ہیں، اس سے ایک طرف تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عربی رسم الخط دوسری صدی عیسوی میں رواج پا چکا تھا اور نبطیوں کی طرح ہی یہ رسم الخط غیرمنقوط، غیر اعرابی اور غیر اوقافی تھا۔ بہر طور نبطیوں کے خط کو عربوں نے مقامی رنگ میں رنگنے کے بعد رواج دیا۔ ‘‘(۲)

چوتھی صدی میں حیرہ میںکامل رواج پانے والے خطِ کوفی کو بہت فروغ نصیب ہوا۔ اس خط کو اوّل اوّل بشیر بن عبدالملک حیرہ سے سیکھ کرمکہ آیا اوریہاں قریش کے حرب ابنِ امیہ کو سکھایا جو رشتے میں اس کے سُسر تھے۔ چوں کہ یہ خط کوفہ سے آیا تھا، اس لیے اس کا نام کوفی پڑ گیا جو رفتہ رفتہ پورے عرب میں پھیل گیا۔ رسولِ کائنات حضرت محمد ﷺ کے زمانۂ مبارکہ میں حجاز اور دیگر عرب میں اسی خط کی حکمرانی تھی اور ہر طرح کی تحریر وکتابت کے لیے یہی خط مقبول ومروج تھا۔ صدرِ اسلام میں یہی خط وحیِ الہٰی کی کتابت کے لیے استعمال ہوا، فرامینِ نبویﷺ اور اس دور کی دوسری تحریریںبھی اسی خط میں ملتی ہیں۔ اسلام کے صدرِ اوّل میں ہی اس خط نے بہت زیادہ ترقی کی اور اس میں کاتبوں نے نزاکتیں پیدا کر کے اس کے حسن وجمال میں اضافہ کیا۔ اسلام نے علوم وفنون کی ترقی میں بہت فعال کردار ادا کیا۔ فنِ خطاطی کی تعمیر تشکیل، فروغ اور نئے خطوط کے اجرا میں اسلام کی خدمات اظہر من الشمس ہیں اور پوری دُنیا نے اس کا اعتراف کیا ہے۔

مخطوطہ نویسی کی ارتقائی منزلیں: مخطوطہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: تحریر کیا ہوا، لکھا ہوا۔ اس کا مادہ ’’خ ط‘‘ ہے۔ خط کا معنی ومفہوم تحریر، لکھاوٹ یا کتابت ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر مخطوطہ کہلاتی ہے۔ اس کا انگریزی مترادف (Manuscript) ہے جس سے اس کے اصطلاحی مفہوم کا اظہار وضاحت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ لفظ دو لاطینی الفاظ Manuاور Scriptus کا مجموعہ ہے۔ ان الفاظ کے معنی بالترتیب ہاتھ اور تحریر یا لکھت کے ہیںمراد ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر۔ ابتدا میں لکھنے کے لیے پتھر کی سلیں، مٹی کی تختیاں، ہڈیاں اور دوسری مادی اشیا مستعمل ومروج رہیں اور ان پر ہاتھ سے لکھنے کا رواج رہا؛ اس لیے مخطوطہ کے وسیع اصطلاحی مفہوم میں اس طرح کی تمام تحریریں شامل ہیں، البتہ کاغذ کی ایجاد کے بعد دیگر مادی اشیا پر لکھی ہوئی تحریروں پر مخطوطہ کی مخصوص معنویت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ زمانۂ قدیم میں جب کاغذ وجود میں نہیں آیا تھایا نہایت کم یاب تھا، اس دور میں کھال، چمڑا، پتے، تختے، ہڈیاں وغیرہ بہ طور کا غذ یا مسطر مستعمل تھے۔ بعد کے زمانوںمیں اس طرح کی مادی اشیا پر لکھنے کا رواج ملتا ہے جیسے عمارتوں کے سنگِ بنیاد یا سالِ تکمیل کی تاریخیںجو بالعموم سنگِ مرمر، پیتل یا دوسری ٹھوس چیزوں پر تحریر ہوتی ہیں یا الواحِ قبور جو عام طور پر سنگِ مرمر پر تیار کی جاتی ہیں یا تشہیر کی غرض سے کپڑے، پلاسٹک یا دیگر مادی اشیا پر لکھی ہوئی تحریریں۔ یہ سب مخطوطہ کی مخصوص معنویت کی حامل نہیں۔ مخطوطہ کا اطلاق اب ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابوں یا تحریروں پر ہوتا ہے۔ یہ کتابیں مختصر ہوں یا طویل، طبع زاد ہوں یا دوسری زبانوں سے ترجمہ شدہ، دیدہ زیب ہوں یا بد خط، باقاعدہ خطاط یا کاتب کی لکھی ہوں یا عام افراد کی، اصل ہوں یا ان کی نقول سب مخطوطات میں شامل ہیں۔ بیسویں صدی میںطباعت واشاعت کے رواجِ عام نے اگرچہ مخطوطات نویسی کی بساط لپیٹ دی تاہم پریس کی ایجاد کے بعد بھی یہاں وہاں مخطوطہ نویسی ہوتی رہی اور دُنیا کے عجائب گھروں اور کتب خانوں میںایسے سیکڑوں مخطوطات محفوظ ہیں۔

خطی یا قلمی کتابوں کے لیے مخطوطہ کی اصطلاح پچھلی ایک دو صدیوں سے مستعمل ہے، صدرِ اسلام میں ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب ’’مسودہ‘‘ کہلاتی تھی۔ مسودّہ کا لفظ اسود کے مادے سے تعلق رکھتا ہے جس کا مطلب ہے سیاہ۔ چوں کہ بالعموم کتابیں سیاہی یا سیاہ روشنائی سے لکھنے کا چلن عام تھا، اس لیے کتاب کو مسودہ اور کاتب کو مسوّدکہا جانے لگا۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں کے لیے مخطوطہ کے علاوہ دیگر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر انجم رحمانی لکھتے ہیں:

’’ عالمِ اسلام میںقلمی کتابوںکے لیے مخطوطہ کی اصطلاح بالکل جدید ہے۔ مخطوطہ کے لکھنے والے کو خطاط اور اس کی تحریر کو خطاطی کہتے ہیں۔ مخطوطہ کی اصطلاح اس وقت دُنیائے عرب، افریقیائی ممالک، ترکی، جنوبی ایشیامیں مروج ہے۔ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں اس کے بجائے نسخۂ خطی کی اصطلاح رائج ہے۔ ایران میں اس سے پہلے دست نویس کی اصطلاح رائج تھی۔ جنوبی ایشیا میں اس کے لیے قلمی یا خطی کتاب، قلمی نسخہ وغیرہ خصوصی الفاظ بھی مستعمل رہے ہیں۔ دراصل ان ساری اصطلاحوں کا اطلاق طباعت کے آغاز کے بعد مطبوعہ کے مقابلے میں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں پر ہوتا ہے۔ کتاب کی اصطلاح رائج رہی۔ اس کے لکھنے والے کو کاتب اور اس کے شجرِ عمل کو کتابت کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ‘‘(۳)

عالمِ اسلام نے مخطوطہ نویسی اور خطاطی کے فنون کو نہایت اہمیت دی اور شاہی سرپرستی میں ان فنون کو نت نئے اسالیب میں نکھرنے کا موقع ملا۔ مختلف تزئینی خطوط اور مخطوطات کی زیب وزینت کے لیے نئے نئے انداز وضع کیے گئے اورمختلف اشیا کے استعمال سے اس کی آرائش کا اہتمام کیا گیا۔ جلد بندی کا فن بھی مخطوطہ نویسی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا۔ جلد ساز کو وراق کہا جاتا تھا۔ ایک زمانے میں مخطوطہ نویسی کا پورا شعبہ وراق کے ہی سپرد رہا۔ دستی کاغذ بنانے، مختلف رنگوں اور الوان کی روشنائیاں بنانے، کتابت کرنے، تذہیب کاری اور جلد سازی کا کام وراق ہی انجام دیتا تھا۔

سامانِ مخطوطہ نویسی: مخطوطات نویسی کی تاریخ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ ابتدا میں اسے بھی مختلف علوم وفنون کی طرح مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں پتھر بہ طور مسطر استعمال ہوتا تھا، پتھروں پر مختلف آلات اور اوزاروں کی مدد سے اشکال بنانا اور علامات کندہ کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ پتھر پر تیشے یا سخت دھات سے نقوش تحریر کرنے کا عمل ’’نقر ‘‘ کہلاتا ہے۔ ظاہر ہی یہ عمل فرہاد کے پہاڑ کھودنے کی طرح مشکل تھا۔ اس مشکل کے باوجود دُنیا کے مختلف علاقوں سے ایسے سیکڑوںنمونے دست یاب ہوئے ہیں جنھیں مخطوطہ نویسی کے اولین نقوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ نمونے محض اس دور کی تاریخ نہیں بتاتے بلکہ اس دور کے انسانوں کی محنت، لگن اور ذوقِ جستجو کی داستان بھی سُناتے ہیں۔ پتھر کی تراشی ہوئی لوحیںبھی استعمال کی گئیں۔ اس طرح کے مخطوطات کو’’ لخفہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ پتھر پر کھدائی یا کندہ کاری مشکل تھی اور پھر اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا بھی ممکن نہ تھا اس لیے ذہنِ انسانی نے نئے مسطر کی تلاش میں مٹی کی لوحیں بنائیں۔ ابتدا میں یہ کچی ہوتی تھیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے وقت ٹوٹ جاتی تھیں۔ بعد میں مٹی کی ان لوحوں پر لکھ کر انھیں پختہ کرنے کا رواج عام ہوا۔ ۔ اس طرح کی پکی لوحوں پر لکھے نسخے بھی دُنیاکے عجائب گھروں میں موجود انسان کے عزم وہمت کی کہانی سُناتے ہیں۔ پہلی صدی کی کچھ لوحیں متھرا کے عجائب گھر میں موجود ہیں۔ شیخ ممتاز حسین جونپوری عراق کے عجائب گھر میں رکھی ایسی سیکڑوں مٹی کی تختیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’عراق کے عجائب خانے کے کئی سو کتبے ایسے ہیں جن میں عراق اور بابل قدیم کے مکانوں کے بیع نامے، اراضی کو لگان پر دینے کی اسناد، بردہ فروشی کے متعلق تحریریں، شادی کے معاہدے، تنسیخ معاہدے کی دستاویزیں اور معاملات دیوانی کے قضیے مٹی کی پُختہ تختیوں پر منقوش ہیں۔ ‘‘(۴)

تلاش وجستجو کا سفر رُکا نہیں بلکہ خوب سے خوب تر کے لیے سرگرمِ عمل رہا۔ مٹی کی لوحوں کے بعد لکڑی کے تختے لکھنے کے لیے کام میں لائے جاتے رہے۔ لکڑی کے تختوں پرتحریریں کندہ بھی کی جاتی رہیں اور انھیں ابھرویں انداز میں بھی رقم کیا گیا۔ لکڑی پر لکھے ہوئے مخطوطات کو’’ قتب‘‘ کہا جاتا ہے۔ ۔ بدھ راہبوںنے مذہبی عبارتوں کے لیے بالعموم لکڑی کے تختے استعمال کیے۔ عربوں میں اونٹ اور بکرے کی چوڑی ہڈیاں بھی کتابت کے لیے استعمال کی جاتی رہیں۔ اونٹ کی سینے کی چوڑی ہڈی خاص طور پر کثرت سے مستعمل رہی۔ قرآنِ کریم کی آخری وحی کے دو نسخے اونٹ کی ہڈی پر تحریر کیے گئے جو استنبول کے توپ قاضی عجائب گھر میں موجود ہیں۔ ہڈی پر لکھے ہوئے مخطوطات ’’کتف‘‘ کے نام سے موسوم ہیں۔ ہڈی کے بعد چمڑاسامانِ کتابت میں شامل ہوا۔ اونٹ اور ہرن کے چمڑے اور ان کی اندرونی جھلیاں صاف کر کے کتابت کے لیے استعمال ہوئیں۔ یہ مضبوطی اور پائیداری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پورے عالم میں چمڑا اور جھلیاں مخطوطہ نویسی کے لیے مستعمل رہیں۔ حیدر آباد کے سالار جنگ میوزیم میں قرآنِ حکیم کے تین جز موجود ہیں۔ یہ جھلی پر لکھے ہوئے ہیں اور نویں صدی عیسوی کے مکتوبہ ہیں۔ ہندوستان میں شیر اور چیتے کی کھالیں بھی تحریر وکتابت کے لیے مستعمل رہیں۔

درختوں کی چھال بھی سامانِ کتابت میں بہ طور مسطر شامل رہی۔ ہندوستان میں قدیم زمانے سے درخت کی چھال کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ بھوج درخت کی چھال سب سے زیادہ کام میں لائی گئی۔ اس چھال کو سینگ سے رگڑ کر ملائم اور نرم کیا جاتا تھا اور پھر اسے تیل کی پالش کر کے چمک دار بنایا جاتا تھا۔ اس چھال کو برابر سائز میں کاٹ کر کاغذ بنا لیے جاتے تھے اور پھر دو برابر ناپ کی تختیوں میں ان کاغذوں کو لپیٹ کر کتاب کی صورت دی جاتی تھی۔ اس کتاب کے لیے ’’پنتھی ‘‘ کا لفظ مروج تھا۔ البیرونی نے اپنی کتاب میں بھی ہندوستان کے اس اسلوبِ کتابت کا ذکر کیا ہے۔ بھوج کی چھال پر لکھے گئے مخطوطات اُڑیسہ، کشمیر، لداخ، آسام اور شمالی ہند میں عام ہیں۔ اگر یا ساچی درخت کی چھال بھی کتابت کے لیے استعمال کی جاتی رہی۔ پندرہ سولہ سال کے اگر کے درخت جن کا تناتیس سے پینتیس انچ اور اونچائی چالیس فٹ ہوتی، سے چارانچ سے پچیس انچ تک کی چوڑی پٹیاں اُتار کر دھوپ میں خشک کی جاتیں؛ پھر سخت چیز سے رگڑ کر اُن کی بیرونی جھلی الگ کر لی جاتی۔ اس کے بعد ان پٹیوں کو اوس میں بھیگنے کے لیے رکھ دیا جاتا پھر مہارت سے ان کا اوپری حصہ جسے’’ نکاری‘‘ کہا جاتا ہے، الگ کر لیا جاتا اور سنکھیا(Arsenic)سے زرد رنگ دے کر خشک کر لیا جاتا ہے۔ خشک پٹی کو ضرورت کے مطابق مختلف ناپ کے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا اور انھیں مزید رگڑ کر ملائم کر لیا جاتا۔ بھوج اور اگر کے علاوہ نیم، شہتوت اور دوسرے درختوں کی چھالیں بھی استعمال کی جاتی رہیں۔ اہلِ عرب کھجور کے درخت کی جڑ کے قریب ریشہ دار حصے کو گوند سے جوڑ کر ورق بنا لیتے تھے۔ اس طرح کے اوراق کے لیے ’’عسیب‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔

درختوں کے پتے بھی تحریر و کتابت کے لیے دُنیا میں عام طور پر استعمال ہوتے رہے۔ ہندوستان میں بھوج پتر اور تاڑ پترپر تحریر کا رواج مسیحی دور سے پہلے کا ہے۔ گوتم بدھ کی وفات کے ترتھینکا پہلے پہل تاڑ کے پتوں پر ہی لکھے گئے۔ ارتھ شاستر میں کوٹلیہ نے بھوج کی چھال اور کھجور کی پتیوں پر کتابت کا ذکر کیا ہے۔ ابوالفضل نے مغلیہ دور میں تاڑ پتوں پر تحریر وکتابت کا تذکرہ کیا ہے۔ تاڑ پتوں پر دو طرح سے کتابت کی جاتی۔ ایک عام طرح روشنائی سے اور دوسری پتوں پر فولادی قلم سے نقوش بنا کر اُن میں روشنائی یا رنگ بھرا جاتا۔ تاڑ پتوں پر مصوری کے کئی نمونے بھی عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ اڑیسہ اور تامل ناڈ میں اب بھی یہ پتے تحریر کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مصر میں ایک درخت پیپرس (Papyrus)کے ریشوں سے ایک خاص لگدی تیار کر کے اس سے کاغذ بنایا گیا۔ یہ چمکیلا اور ملائم تھا، اس لیے اس پر روشنائی سے لکھنا آسان تھا۔ پیپرس کی لگدی سے بنے ان اوراق کو حصیری اوراق بھی کہا جاتا ہے۔ کا غذ کا انگریزی نام Paper بھی اس سے ہی وجود میں آیا۔ ان حصیری اوراق پر لکھے کئی مخطوطات مصر کے علاوہ بھی دوسرے ملکوں کے عجائب گھروں میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے پیپرس سے تیار کردہ کاغذ دُور ونزدیک میں مروج ومستعمل رہا۔

کپڑا بھی لکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ کپڑے کے مخطوطات کو پٹہ، پاٹکا یا کدیتم کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ کپڑے کو تحریر کے قابل بنانے اور اس کے مساموں کو بند کر نے کے لیے گیہوں یا چاول کے گودے کا لیپ کیا جاتا تھا۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں املی کے بیج کا لیپ کیا جاتا۔ کپڑے کو سامانِ تحریر کے طور پر استعمال کرنے کا قدیم ترین حوالہ سمرتی میں ملتا ہے۔ اورینٹل مانو سکرپ لائبریری، آندھرا پردیش میں تفسیرِ حسینی کا کپڑے پر مکتوبہ ایک نسخہ موجود ہے۔ کاغذ کی ایجاد کے بعد کپڑے پر نسخہ لکھنے کا رواج ختم ہو گیا۔

کاغذسازی چین سے آغازہوئی۔ چین میں ۱۰۵ء میں کاغذ بنانے کا سلسلہ آغاز ہوا۔ اس سے قبل بھی دُنیا کے مختلف علاقوں میں کاغذ یا کاغذ نما شے بنانے کا رواج تھا۔ خاص طور پر ہندوستان میں روئی سے کاغذ بنانے کا ذکر نیر کوس سے کیا ہے جس نے ۳۲۷ ق م میں ہندوستان کی سیاحت کی۔ روئی سے بنے کاغذ کی عمر تھوڑی ہوتی اس لیے اسے سامانِ تحریر میں کم کم شامل کیا گیا۔ چین میں کاغذ کی ایجاد سے دوسری دُنیا بہت دیر بے خبر رہی، بالآخر عربوں نے اہلِ چین سے کاغذ سازی کا فن سیکھ لیا۔ پروفیسر عبدالجبار شاکر اس حوالے سے رقم طراز ہیں:

’’کاغذ کی ایجاد اصلاً چین کا کارنامہ ہے۔ جنھوں نے اس صنعت کو قائم کیا۔ سات سو سال تک یہ ایجاد ان کے ہاں ایک سربستہ راز رہی لیکن عربوں نے کسی نہ کسی طرح یہ فن اہلِ چین سے سیکھ لیا اور آٹھویں صدی عیسوی میں سمر قند میں کاغذ کا پہلا بڑا کارخانہ قائم ہو گیا۔ جلد ہی یہ فن عالمِ اسلام کے تما م شہروں تک پھیل گیا۔ عربوں کی مدد سے یہ کارخانے پہلے اسپین اور پھر اطالیہ میں قائم ہوئے اور یوں کاغذ سازی کی صنعت مسلمانوں کے توسط سے پورے یورپ میں پھیل گئی۔ ‘‘(۵)

۱۴۰۷ء سے بنگال میں وسیع پیمانے پر کاغذ بنانے کا سلسلہ آغاز ہوا۔ سلاطینِ کشمیر نے بھی کاغذ سازی کے لیے پندرھویں صدی میں ایک ادارہ قائم کیا۔ کشمیر میں چاول اور گیہوں کی لگدی کو پتلے تختوں پر پھیلا کر خشک کیا جاتا اور پھر چکنے پتھروں سے ان پر رگڑائی کر کے ان کو ملائم اور چمک دار بنایا جاتا۔ کشمیر کے زیرِ اثر ہندوستان میں کئی مقامات پر کاغذ بنایا جانے لگا۔ سیال کوٹ، اورنگ آباد اور احمد آباد میں کاغذ کے کارخانے وجود میں آئے۔ ان کارخانوں میں بوسیدہ کپڑوں اور پٹ سن کے ریشوں کو کوٹ کر ان میں چاول کی پیچ شامل کر کے کاغذ تیار کیا جاتا۔ ڈاکٹر وحید قریشی کاغذ سازی کی تاریخ پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

’’ کاغذ سازی میں ریشم کے علاوہ چاول اور بعض دوسری اشیا کی آمیزش سے مختلف علاقوں کے کاغذ اپنے رنگ، جسامت اور سطح کے اعتبار سے مختلف ہوتے چلے گئے۔ ایران میں اگر سمرقندی کاغذ کی شہرت تھی تو برصغیر پاک وہند میں کشمیری اور سیال کوٹی کاغذ نے شہرت پائی۔ ۔ ۔ سمر قندی کاغذ دیرپائی، مضبوطی اور نمی کو روکنے میں اس لیے کارآمد تھے کہ اس میں نمک کے اجزا بہت کم تھے تو کشمیری کاغذ بھی دیرپائی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ‘‘(۶)

دستی کاغذ میں چوں کہ کسی قسم کا کیمیائی مواد شامل نہیں ہوتا تھا اس لیے ان کے جوڑ مستحکم ہوتے اور ان کی عمر زیادہ ہوتی۔ مشینوں سے کاغذ بنانے کا سلسلہ انیسویں صدی میں عام ہوا۔ مشینوں کے کاغذ میںبانس اوردوسری درختوں کی لکڑی بھی شامل ہو گئی اور مختلف کیمیکلز کے استعمال سے رنگ رنگ اور قسم قسم کے کاغذ تیار ہونے لگے۔ تاہم دُنیا میں پائے جانے والے بیشتر مخطوطات میں استعمال کیا گیا کاغذ ہاتھ سے بنا ہوا ہے۔

سامانِ مخطوطہ نویسی میںکاغذ کے بعد سیاہی یا روشنائی اہمیت کی حامل ہے۔ ابتدا میں مختلف قدرتی چیزوں کو پیس کر سیاہی تیار کی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس میں مختلف تجربات کے ذریعے اعلیٰ قسم کی روشنائیاں تیار کی جانے لگیں۔ کشان عہد سے کوئلے کی سیاہی کا چلن ہوا۔ دھل جانے والی سیاہی بادام کے چھلکوں کو جلا کر تیار کی جاتی تھی، سرمے، کتھے اور گوند کے ملانے سے بھی کچی یا دھل جانے والی سیاہی بنتی تھی۔ اس کے برعکس مستقل روشنائی تل کے تیل کا کاجل بنا کر اس میں گوند اور پانی ملا کر ہاون دستے میں بہت دیر کوٹا جاتا تھا۔ بعد میں اس لوازمے کو خشک کر کے ٹکیا ں بنا لی جاتیں اور ضرورت کے وقت انھیں پانی میں بھگو کر استعما ل کیا جاتا۔ سیاہی کی تیاری میں مختلف درختوں کی چھال اور گُڑ بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ سرخ یا شنگرفی روشنائی کے لیے شنگرف میں گوند اور پانی ملایا جاتا تھا، اس طرح سنہری اور روپہلی روشنائیوں کے لیے سونے اور چاندی کے ورق کوٹ کر گوند میں گوندھے جاتے تھے۔ اسی طرح نیل کے گوند میں ملانے سے نیلی روشنائی بنائی جاتی تھی۔

روشنائی رکھنے کے لیے مختلف زمانوں میں دوات استعمال کی جاتی رہی۔ دوات اوّل اوّل مٹی سے بنائی جاتی تھی۔ بعد ازاں مختلف دھاتوں سے بھی دواتیں بنائی گئیں۔ دوات میں صوف، روئی یا کُوٹا ہوا کپڑا ڈال کرسیاہی یا روشنائی کو زیادہ دیر تک خشک ہونے سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ عربی میں دوات کے لیے ’’نون‘‘، صوف کے لیے ’’ملیق‘‘ اور روشنائی کے لیے ’’مداد‘‘کے لفظ مستعمل رہے۔ دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں پیتل، کانسی، لکڑی اور مٹی کی دواتوں کے خوب صورت اور منقش نمونے موجود ہیںجن سے مختلف ادواراور مختلف علاقوں کے لوگوں کاذوقِ جمال سامنے آتا ہے۔

قلم سامانِ کتابت میںایک اہم چیز ہے۔ قلم سازی میں بھی انسان کے صدیوں کے تجربات گندھے ہوئے ہیں۔ انسان نے آغازِ تحریر و کتابت میںفولاد کا نوک دار قلم استعمال کیا، درختوں کی چھال اور پتوں پر لکھنے میں یہ قلم پورے عالم میں مستعمل رہا۔ اس قلم کو’’ شکالا‘‘ کہا جاتا تھا۔ ہڈی کے دو طرفہ نوکیلے قلم بھی تحریر کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ مختلف علاقوں سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو اس نوع کے قلم دست یاب ہوئے ہیں، جو دُنیا کے مختلف عجائب گھروں میں موجود ہیں۔ شکالا یا ہڈی کے بنے ہوئے قلم روشنائی کے بغیر استعمال ہوتے تھے۔ یہ چھال یا مٹی کی تختیوں میں متن گودنے یا کھودنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ روشنائی کے قلم لکڑی، بانس یا مختلف دھاتوں سے تیار کیے جاتے تھے۔ ہنس، گدھ، عقاب یا دوسرے پرندوں کے پر بھی بہ طور قلم استعمال میں رہے۔ ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے مختلف دھاتوں کی نب سے لکڑی کے قلم بننے لگے۔

مخطوطات کی آرائش اور تذہیب کاری:مخطوطہ نویسی کا فن جب اپنے زمانۂ عروج میں داخل ہوا تو تزئین وآرائش کے کئی اسالیب اُس سے بغل گیر ہو گئے۔ اس عمل سے مخطوطات کی قدروقیمت کا ایک نیا در وا ہوا۔ وراقوں، کاتبوں اور خطاطوں نے مخطوطات پر بیل بوٹے اور نقش ونگار بنا کر ان کی جاذبیت اور دل پذیری میں اضافہ کیا۔ مخطوطات کی لوحیںمختلف رنگوں کی روشنائیوں اور رنگا رنگ بیل بوٹوں سے آراستہ ہو کر دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچنے لگیں۔ یہ بیل بوٹے اور نقش ونگار تاریخ کے مختلف زمانوں میں مخطوطات کی تزئین وآرائش کا حصّہ بنے۔ اہلِ عرب میں مخطوطات حسنِ سادہ کے مظہر تھے اور ان میں تزئین وآرائش کا اہتمام نہیں ملتا۔ البتہ ایران میں مسلمانوں کی آمد کے بعد خطی نسخوں میں ایرانی ذوقِ آرائش اپنی نمود کرنے لگا اور مختلف رنگوں اور نقش ونگار سے مخطوطات کو سجایا سنوارا جانے لگا۔ ایران میں نیل، شنگرف اور سونے کے پانی سے نسخوں کی تذہیب کاری کا کام آغاز ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے حسن وجمال میں اضافہ ہوتا گیا۔ منقش لوحیں اور تزئینی حاشیے بھی ایرانی ذوقِ جمال کے مظہر ہیں۔ متن کے گرد آرائشی حاشیوں کا چلن صفوی عہد میں ہوا۔ اعجاز راہی اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’صفوی عہد میں صفحات پر حاشیے کا رواج بھی عروج پر نظر آتا ہے۔ ان حاشیوں میں سنہری روشنائی سے بیل بوٹے اور کہیں کہیں حرفوں سے اشکال، پتے اور بیلیں بنا کر صفحات کے حسن کو دوبالا کرنے کا رجحان بھی غالب رہا۔ ‘‘(۷)

مخطوطات کی تزئین وآرائش کے لیے آرائشی اور زیبائشی خط بھی وجود میں آئے۔ ماہر خطاطوں نے کئی دیدہ زیب خط وضع کیے۔ ان آرائشی خطوط میں خطِ گلزار، خطِ پیچاں، خطِ ناخن، خطِ انیقہ، خطِ ریحاں، خطِ سُنبل، خطِ ماہی، خطِ غباراور زلفِ عروس شامل ہیں۔ ایرانی ذوق وشوق نے دُنیا کو مصور نسخوں سے متعارف کرایا۔ سلاطین اور بادشاہوں نے نامی گرامی خطاطوں اور مصوروں سے گراں قیمت اور بیش بہا مصور نسخے تیار کرائے۔ دُنیا بھر کے نوادر خانوں اور کتاب گھروں میں مصور نسخے موجود ہیں۔ ہندوستان میں اکبرِ اعظم کے زمانے میں کثرت سے مصور نسخے تیار ہوئے۔

کاغذ کو بھی مختلف رنگوں میں رنگ کر نسخوں کو دیدہ زیب بنایا جاتا رہاہے۔ نیل میں رنگے کاغذ پر پیلی روشنائی سے کتابت کی جاتی تھی۔ اسی طرح سونے کا پانی چڑھا کر کاغذ کو سنہری کر لیا جاتا، اس کو اصطلاح میں ’’لپہ‘‘ کہتے تھے۔ طلا اور زعفران کی بندکیوں سے صفحے کو آراستہ کیا جاتا تھا، ایسے صفحات ’’زرافشاں‘‘ کے نام سے موسوم تھے۔ برگِ مخطوطہ پرآبِ زر سے کنگھے بنائے جاتے جنھیں اصطلاح میں ’’موشِ دنداں‘‘ کہا جاتا تھا۔

مخطوطات کی تذہیب کاری مختلف ادوار کے ذوقِ جمال کی مظہر ہے۔ اس میں مختلف علاقوں کی تہذیب کی جلوہ گری مخطوطات کے حسن وجمال میں اضافے کا موجب قرار پائی۔ یہی وجہ ہے کہ مخطوطی شناسی میں تذہیب کاری کے مختلف اسالیب اور تزئین کے مختلف فنون سے آشنائی کو لازمی اور ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

اہم اصطلاحاتِ مخطوطہ: دوسرے علوم وفنون کی طرح مخطوطہ نویسی کی بھی اپنی مخصوص اصطلاحات ہیں۔ ان میں سے اہم تراصطلاحات کا اجمالی تعارف ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

۱۔ برگ:فنِ مخطوطہ نویسی میں برگ، ورق کے معنوں میں مستعمل ہے۔ انگریزی میں اسے Folioکہا جاتا ہے۔ برگ دو صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ برگ کے سامنے والا صفحہ’’ الف‘‘ اور اس کی پشت ’’ب‘‘ کہلاتی ہے۔ قلمی نسخے کا حوالہ دیتے ہوئے برگ کا نمبر اور الف یا ب سے اس کے صفحہ نمبر کا تعین ہوتا ہے۔
چہرہ یا وجہ: مخطوطے کے برگِ اوّل کا سامنے والا یا پہلا صفحہ وجہ یا چہرہ کہلاتا ہے۔ اسے انگریزی میں Rectoکہتے ہیں۔
ظہرہ: مخطوطے کے برگِ اوّل کا صفحۂ ثانی یا صفحہ ب ظہرہ کہلاتا ہے۔ اسے انگریزی میں Versoکہتے ہیں۔
لوح: مخطوطے کے برگِ اوّل کے چہرے پر آرائشی محراب جو بالعموم صفحے کے نصفِ بالا پر بنی ہوتی ہے، لوح کہلاتی ہے۔ لوح کی تیاری میں مختلف رنگوں کی روشنائیاں، نیل اور آبِ زر استعمال ہوتا ہے۔
حوض: برگِ مخطوطہ میں جو حصہ متن کی کتابت میں صرف ہوتا ہے، اسے اصطلاح میں حوض کہا جاتا ہے۔
حاشیہ: حوض کے باہر چاروں طرف کی خالی جگہ حاشیہ کہلاتی ہے۔ بعض مخطوطات میں متن کی وضاحت، اصلاح یااضافہ شدہ الفاظ ان خالی جگہوں پر لکھنے کا چلن رہا ہے، اس لیے ان وضاحتی یا اضافی الفاظ یا جملوں کو بھی حاشیہ کہا جانے لگا۔
ناقص الاوّل: ایسا خطی نسخہ جس کے شروع کے برگ ضائع ہو جائیں، اسے’’ ناقص الاوّل‘‘ کہا جاتا ہے۔
ناقص الآخر: جس مخطوطے کے آخرسے اوراق ضائع ہو گئے ہوں، اسے ’’ناقص الآخر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جن نسخوں کے درمیان سے صفحات پھٹ جائیں یا ضائع ہو جائیں، انھیں ’’ناقص الاوسط‘‘ کہا جاتا جاتا ہے۔
نجیب الطرفین: ایسا خطی نسخہ جو اول وآخر مکمل ہو اور اس کے اوراق ضائع نہ ہوئے ہوں، اصطلاحِ مخطوطہ نویسی میں ’’نجیب الطرفین‘‘ کہلاتا ہے۔ دونوں اطراف سے نامکمل مخطوطہ ’’ناقص الطرفین‘‘ کہلاتا ہے۔
بیاض: مخطوطے کے خالی صفحات یا جگہوں کو جو حوض کے اندر ہوں، بیاض کہلاتی ہے۔ اس کی جمع بیاضات مستعمل ہے۔
بے داغ: ایسے مخطوطات جن پر برگ نمبر یا صفحہ نمبر درج نہ ہو، بے داغ کہلاتے ہیں۔
ترک: مخطوطے کے برگ کے صفحۂ ثانی پر بالائی حاشیے کی دائیں طرف صفحۂ الف کی آخری سطر کے ایک دو لفظ، اصطلاح میں ترک کہلاتے ہیں۔ ترک کے لغوی معنی چھوڑنا کے ہیں، گویا وہ عبارت یا الفاظ جو پچھلے صفحے پر ناسخ یا کاتب چھوڑ آتا ہے، ترک کے نام سے موسوم کیے جاتے ہیں۔
رکاب: برگِ مخطوطہ کے پہلے صفحے کے زیریں حاشیے کی انتہائی دائیں طرف تحریر شدہ اگلے صفحے (صفحۂ ثانی) کے چند الفاظ، رکاب کہلاتے ہیں۔ عہدِ قدیم میں مخطوطات پر بالعموم صفحات نمبر درج نہیں ہوتے تھے اورکاغذوں کو ترتیب دینے میں ترک اور رکاب سے کام لیا جاتا تھا۔
خوانا، ناخوانا: بعض نسخے عمدہ اور دیدہ زیب لکھے ہوتے ہیں، ان کو پڑھنا مشکل نہیں ہوتا مگر اس کے برعکس بعض نسخے یا نقلیں رواروی، تیزی یا عجلت میں گھسیٹی ہوتی ہیں۔ ایسے نسخوں کا پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ جو نسخے آسانی سے پڑھے جا سکیں انھیں خوانا اور جن کا پڑھنا دشوار ہو انھیں ناخوانا کہا جاتا ہے۔ خوش خط اور دیدہ زیب نسخوں میں بھی بعض الفاظ پڑھنے میں دقت ہوتی ہے، اگر ان میں سے کوئی لفظ نہ پڑھا جا سکے تو اسے بھی ناخوانا کا نام دیا جاتا ہے۔
اتفاقیے: ہر عہد میںلفظوں کا املا، رموزِ اوقاف اور لفظوں کی تقسیم کا نظام دوسرے عہد سے مختلف یا الگ ہوتا ہے۔ اتفاقیے سے مراد کسی عہد کے مخطوطات کا مخصوص املائی نظام اور رموزِ اوقاف کا استعمال ہے۔ اگر ترقیمہ موجود نہ ہو یا مخطوطے کا سالِ تصنیف معلوم نہ ہو تو انھی اتفاقیوں سے اس کا عہد متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مختارات: ہر تخلیق کار بعض لفظوں کو روشِ عام سے ہٹ کر استعمال کرتا ہے، اسی طرح ہر کاتب یا ناسخ بعض حروف کی بناوٹ یا لکھاوٹ مخصوص انداز میں کرتا ہے۔ تخلیق کار اور کاتب کے ان امتیازی اسالیب کو اصطلاح میں مختارات کا نام دیا جاتا ہے۔
ترمیم: مخطوطہ میں ناقل یا کاتب کے سہو سے ہونے والی متنی تبدیلیاں ترمیم کہلاتی ہیں۔
تعبیر: مبہم الفاظ یا متن کی وضاحت کے لیے عبارت میں اضافہ کرنا تعبیر کہلاتا ہے۔ تعبیرات مصنف کے قلم سے بھی ہو سکتی ہیں اور کاتب یا قاری کے قلم سے بھی۔ عام طور پر یہ تعبیرات متن سے الگ شناخت کی جا سکتی ہیں۔
تنسیخ: ادارتاً یا جان بوجھ کر مخطوطات میں الفاظ یا عبارتوں کو منسوخ کرنا، کاٹ دینا یا چھپا دینا تنسیخ کہلاتا ہے۔ یہ عمل بھی مصنف، کاتب یا قاری اپنے اپنے مقاصد کے لیے انجام دیتے ہیں۔
تصحیح: صاحبِ متن یا مصنف اپنی مرضی سے اپنے متن کو تبدیل کرے یا سابق معلومات کو بدلے تو اس عمل کو تصحیح کہا جاتا ہے۔
تصحیف: صاحبِ متن یا مصنف کے علاوہ کسی دوسرے شخص کاتب، ناقل یا قاری کی طرف سے کی گئی متنی تبدیلی تصحیف کہلاتی ہے۔
انتحال: انتحال کا مطلب ہے غلط نسبت۔ جب کوئی سارق کسی متن کو اپنے یا کسی دوسرے کے نام پر پیش کرے تو اصطلاحِ مخطوطہ میں اسے انتحال کہا جاتا ہے۔
تصحیحِ قیاسی: مخطوطے کی تدوین کے دوران عبارتِ مہمل، ناخوانا، خلافِ قواعد یا مشکوک عبارت یا لفظ کی جگہ پر مناسب اور معقول عبارت یا لفظ کو شامل کرنا تصحیحِ قیاسی کہلاتا ہے۔ تصحیحِ قیاسی کو متن سے الگ رکھا جاتا ہے یا پاورق میں اس کی نشان دہی کی جاتی ہے۔
نسخۂ وحید: ایسا مخطوطہ جس کی دوسری نقل پوری دُنیا میں موجود نہ ہو، منحصر بہ فرد یا نسخۂ وحید کہلاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ نسخۂ وحید مصنف کا مکتوبہ ہو۔
عرض دید: شاہی کتب خانوں کے نسخوں کے شروع یا آخر میں ’’عرض دیدہ شد‘‘ کے اندراجات کو عرض دید کہا جاتا ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ عبارت نسخے کے مطالعے کے بعدبادشاہ اپنے قلم سے تحریر کرتا ہے، جس کا مفہوم یہ ہوتاہے کہ یہ نسخہ بادشاہ کے زیرِ مطالعہ رہا۔ ڈاکٹر حنیف نقوی کے خیال کے مطابق یہ اصطلاح کتب خانے کے جائزے یا کتب شماری کے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ (۸)
ترقیمہ: ترقیمہ کے لغوی معنی رقم کیا ہوا، یا لکھا ہوا کے ہیں۔ اصطلاحی مفہوم میں اس سے مراد وہ تحریر ہے جو نسخے کے اختتام پر کاتب تحریر کرتا ہے۔ اس تحریر میں کاتب مخطوطے کے مصنف، کتاب کے نام، تاریخِ کتابت، مقامِ کتابت اور خود اپنے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ بعض کاتب تفصیلی ترقیمے رقم کرتے ہیں جس میں اس طرح کی تفصیلات بھی مل جاتی ہیں کہ نسخہ کس کے لیے اور کس کے ایما پر تیار کیا گیا اور اس نسخے کی کتابت میں کتنا وقت صرف ہوا۔ بعض ترقیمے مختصر بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حنیف نقوی نے اپنے مضمون’’ ترقیمہ‘‘ میں متعدد ترقیمے نقل کیے ہیں۔ اسی مضمون میں شامل ’’طبقات الشعرا‘‘ کا ترقیمہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

’’ تمام شد بعون الملک الوہاب نسخۂ طبقات الشعرا بہ موجب فرمائش ِخان مہربان دوست محمد خاں خلف الصدق خاں صاحب نصرت خاں حاکم بہ خطِ بندہ احقر العباد فیض علی بہ تاریخِ نہم شہر رجب روزِ پنج شنبہ، وقتِ سہ پہر ۱۲۰۱ہجری۔ ‘‘(۹)


حوالہ جات:
(۱) ’’علمِ خط شناسی‘‘ مشمولہ:فنِ خطاطی ومخطوطہ شناسی(مرتب: ڈاکٹر فضل الحق)؛ دہلی، شعبۂ اُردو، دہلی یونیورسٹی؛ مئی، ۱۹۸۲ء؛ ص ۴۷۔
(۲) تاریخِ خطاطی؛ اسلام آباد؛ ادارۂ ثقافتِ پاکستان؛ مئی، ۱۹۸۶ء؛ ص۵۵، ۵۶۔
(۳) ’’مخطوطات: اہمیت، حصول، تحفظ‘‘ مشمولہ: فکرو نظر(مخطوطات: خصوصی اشاعت)؛ اسلام آباد؛ ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی؛اکتوبر ۱۹۹۷ء تا مارچ ۱۹۹۸ء؛ ص ۳۳۔
(۴) خط وخطاطی: کراچی؛ اکیڈمی آف ایجوکیشنل ریسرچ؛ دوم، ۲۰۰۰ء؛ ص۲۲۔
(۵)’’پاکستان میں ذخائرِ مخطوطات۔ ۔ ایک جائزہ‘‘ مشمولہ: فکر ونظر(مخطوطات: خصوصی اشاعت)؛ ص ۱۲۵۔
(۶) ’’دیباچہ‘‘ مشمولہ تاریخِ خطاطی وخطاطین(پروفیسر محمد سلیم)؛کراچی؛ پروفیسر محمد سلیم اکیڈمی؛ ۲۰۰۱ء؛ ص ۲۱۔
(۷) تاریخِ خطاطی: ص ۱۲۵۔
(۸) تحقیق وتدوین۔ ۔ مسائل ومباحث:ملتان؛ بیکن بکس؛ ۲۰۱۲ء؛ ص ۲۵۴۔
(۹) ایضاً: ص ۲۳۱۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply