تنہائی کے سو سال: ریویو —- کومل راجہ

0

یہ سلسلہ مئی کی آخری تاریخوں میں اس صبح شروع ہوا جب لاہور کی گہماگہمی میں بیٹھے اپنی نوعیت کے تنہا شاعر اور میونخ میں بیٹھی لاک ڈاؤن کے دنوں کی گرم دوپہریں اور سرد راتیں تنہا گزارتی ایک لڑکی نے مل کر قدیم مصریوں کی نہ قابل فراموش ایجاد، نظام وقت، کو (جسکو ماپنے کا ایک آلہ صدیوں بعد جرمن قفل ساز نے گھڑی کی صورت میں بنایا تھا) مات دی اور یوں انہوں نے کرہ ارے دو متضاد گوشوں میں رونما ہوتے اوقات کی نا ہموار تقسیم کے بیچ تنہائی کے سو سال اکٹھے گزارنے کا بیڑا اٹھایا۔

یہ کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا بلکہ یہ پاگل پن کی ان راتوں میں سے ایک رات تھی جب میں سالوں کی مانوس وحشت کے سایے سے لڑتی جھگڑتی، جرمن حکومت کی جانب سے وبا کے دنوں میں نافذ کردہ شہری قرنطینہ اور کرفیو ہائے شب کے اصولوں کو توڑ کر مینہ برساتی رات میں ننگے سر ویران سڑکوں پر نکل گئ تھی۔

اور تہذیب حافی اس رات جمہوریہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں گرمیوں کی حبس زدہ پتی رات کے پچھلے پہرایک مرتبہ پھر اور اس بار جے ایم کوئٹزی کی محبت  میں بے خوابی کے مرض سے دو چار ہوا تھا اور اداس لوگوں پر طنز کرتے ہوئے وہ جے ایم کوٹسی کی ایک لائن دوہراتا رہتا “ کیا ہی اچھا ہوتا اگر دنیا گانے والوں اور رقص کرنے والوں کے لیے وقف کر دی جاتی “۔ یہ اسکی زندگی کے اس مانوس پاگل پن کی رات تھی جس میں ادبی تجسس اور تخلیقی بھوک اسے آگہی کے خوابیدہ سمندروں سے نکال کر بے خوابی کے پوشیدہ ساحلوں پر لے جایا کرتی تھی۔

دو الگ نظام اوقات میں دو مختلف مقامات پر دو مختلف افراد کو ایک جیسی ذہنی بپتا کا احساس ہونا کسی غیر معولی در گھٹنا سے عبارت نہیں تھا۔ اکیسویں صدی میں یہ بات عمومی شعور کے دائروں کا حصہ تھی۔ البتہ اسکو سمجھنے اور پکارنے کے لیے کئی نوعیت کے فلسفے مخصوص ناموں کے ساتھ مستعمل تھے اور میرے نکتہ نظر میں یہ بات پاپولر فلسفہ تصوف کے گرویدہ نوجوانوں کے برعکس بیسویں صدی کے نفسیات دان کارل یونگ کے سنکرونیسِٹی کے فلسفے سے میل کھاتی تھی۔

سنکرونیسِٹی کے اس لمحے میں، بارش کے ٹھنڈے ٹھار قطروں سے بھیگتی میری انگلیوں نے جب موبائل فون پر تہذیب حافی کے رابطے کا نمبر ملایا تو خلافِ توقع پہلی ہی گھنٹی پر کال رسیو کر لی گئی۔

اسکی کھنک دار آواز میں نہ تو نیند کی باز گشت تھی نہ غنودگی کی آمیزش۔

 کسی رسمی کلمات کی ادائیگی کے بغیر ہی شاعر نے جے ایم کوئٹزی کا ناول وہیں سے پڑھنا شروع کیا جہاں روک کر اس نے میری کال پہلی گھنٹی پر اٹھائی تھی۔

کال کا یہ دور ڈھیڑ دو گھنٹوں تک چلا۔ جس میں فون کی ایک جانب میں تھی جو رات کے عمیق اندھیروں کے بیچ و بیچ برستی بارش میں میونخ کے ویران جنوبی علاقے میں سنوئیا بن کر بھٹکتی رہی اور دوسری جانب وہ تھا جو لاہور میں تپتی رات کے الوداعی پہروں میں بآواز بلند ناول کے ایک کردار کی کہانی مجھے سناتا رہا۔ کہانی بوریت کے ہالوں میں داخل ہو چکی تھی مگر وہ اپنی شناسا بے خوابی کی پر مسرت کیفیت میں ایک انہماک کے ساتھ اسے تکمیل کے مرحلوں تک لے جانے میں کامیاب رہا۔

اور کال کے اس ڈھیڑ دو گھنٹہ کے دور میں نوبل انعام یافتہ افریقی لکھاری کی اجنبی زبان میں لکھی ایک کتاب کے نیم سفید صفحوں پر ناچتے ترجمہ شدہ کالے حروف ہماری مشترکہ مگر متنوع وحشتوں کے ازالے کا سامان بنے!

اگلی صبح جب توپوں کی آماجگاہ میونخ میں جنگ عظیم دوم (حالانکہ کوئی جنگ کبھی عظیم نہیں ہوتی) کے بعد تعمیر کردہ قدیم قریبی گرجا گھر کا گھڑیال ساتویں مرتبہ گھنٹہ بجا رہا تھا تو تنہا لڑکی کے فون پر تہذیب حافی کے رابطہ نمبر سے ملائی گئی کال کی پہلی گھنٹی بجی۔

لاہور میں اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے جب اسکو کال اٹھاتے ساتھ حافی کے نہار منہ سے وہ جملے سننے کو ملے جو گویا باہمی رضا مندی کے ساتھ کسی ان کہے معاہدے کے طے پانے کے بعد کہے گئے ہوں۔

۵ منٹ کے توقف کے بعد ہم دونوں بنا کسی تاخیر کے ہی اپنے اپنے کرداروں میں آ چکے تھے جس میں مَیں سنوئیا اور وہ متکلم تھا۔

ہمیں معلوم نہ ہو سکا، مارکیز کا ناول شروع ہوتے ہی کب ہم اپنے اپنے کرداروں سے باہر نکل کر کبھی مداح بن جاتے، کبھی نقاد، کبھی لکھاری کی حیثیت سے اسکے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کرتے اور کب ہذیان کی بیماری میں مبتلا عام قاری بن کر خاموشی کے وقفوں میں اپنا جذباتی رد عمل ریکارڈ کرواتے ہوئے وحشتوں کے اس پاتال میں اتر جاتے جہاں ہر ایک کو اپنے اپنے پاگل پن کا تن تنہا سامنا کرنا ہوتا۔

ناول کے اولین ابواب سے آخر تک جس سوال نے ہمیں گھیرے میں لیے رکھا اسکا ربط مارکیز کے اسلوب بیاں کی اس پر اسرار ہیٗیت سے تھا جس نے ہمیں کسی فیصلہ کن رائے سے باز رکھتے ہوئے ان نہ ختم ہونے والی بحثوں میں الجھائے رکھا کہ آیا مارکیز نے ناول کا آخری باب پہلے لکھا یا پہلا باب آخر میں۔ اس نے اپنے کرداروں کو انکی موت سے پیدائش تک کا سفر کروایا یا پیدائش سے موت تک کا۔ ماکوندو کی تاریخ اس نے جدیدیت کی سماجی تشکیل کے حوالے سے رقم کی یا مابعد جدیدیت کے فلسفہ ردِ تشکیل کے تحت اسکے زوال سے تشکیل تک کے ارتقائی مراحل کا ہر پرزہ کھول کھول کر توڑ توڑ کر تحریر کیا۔

جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا گیا کیلینڈر پر مئی کی آخری تاریخوں کی جگہ جون کے پہلے ہفتے نے لے لی اور ہماری بحثوں کا موضوع اب اسلوب کی تکنیک سے نکل کر ابسرڈ اور ایبسٹریکٹ ادب کی ترجمان تحریروں/فن پاروں کے اوصاف اور معیارات میں تبدیل ہو گیا۔

جیسے فکشن کے خالق کو اپنے کرداروں کی تخلیق میں خدا ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے بالکل ویسے ہی ہم دونوں بحیثیت تخلیقی قاری جب چاہتے خداؤں کی سی من مانی کے ساتھ ناول کے جیتے جاگتے کرداروں کی رواں نبض روک کر ایک دوسرے کو یہ سمجھانے میں مدد کرتے کہ مارکیز کا ناول ابسرڈ فکشن ہے یا حقیقی زندگی کا ترجمان ادب ِ عالیہ۔

ہم دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ ناول میں موجود مافوق الفطری اور محیرالعقول واقعات جیسا کہ ایک خونی لکیر کا ماکوندو کے واحد قبرستاں کے سامنے کھڑے ربیکا اور حوزے آرکادیو کے مکان سے موت کی مخبر بن کر بوئندیا خاندان کی سربراہ خاتون ارسلا کی رسوئی تک پہنچنا اور اپنی پیروی میں ارسلا کو میت کے سامنے لے جانے والے نامہ بر کا روپ اختیار کرنا، ایک اور مقام پر ارسلا کی چولہے پر چڑھائی دودھ کی دیگچی میں سے اچانک کیڑوں کا ابل پڑنا، موت کی پکی خبروں کے بعدایک دن یک بارگی ملکیا دیس کا انسانی روپ میں نمودار ہونا، مرنے کے بعد پرودانسیو کو پیاس بجھانے کی بے چینی میں زندوں کے گھروں میں بھٹکتے دیکھا جانا اور ایسے ہی کئی دوسرے واقعات کا بیان بشمول رمیدیوس دا بیوٹی کے جسم سمیت روح کا ہوا میں پرواز کر جانا ناول کے ابسٹریکٹ اور ابسرڈ ہونے کے واضح نشان ہیں مگر مارکیز کی اس تحریر میں کنکریٹ حقیقت کے قریب ترین جو ربط ہے وہ سماجیات کے اس دھاگے سے بندھا ہے جس میں مارکیز بلا کسی فکشنل حجت کے حقیقت پر مبنی انسانی معاشروں کی آباد کاریوں سے تباہ کاریوں تک کے تمام سماجی مرحلوں کے موتی پروتا جاتا ہے

جو نئی بستیوں کی تلاش میں انسانوں کی گروہوں کی صورت ہجرتوں سے شروع ہو کر نئے گاؤں کی آبارکاریوں سے ہوتے ہوئے کمیونوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ قصبوں میں اور پھر قصبوں سے شہر میں تبدیل ہونے کے ارتقائی عمل سے گزرنے کے ترجمان ہیں۔

یوں اس ناول کا جادوئی فکشن اور حقیقت پر مبنی پلاٹ اور کردار مل کر ایک ایسی فضا قائم کر دیتے ہیں جس میں طلسماتی واقعات افسانوی بستیوں کے لوگوں کی زندگیوں میں ہونے والی روز مرہ کی حقیقتوں کا ہی حصہ لگنے لگتے ہیں اور ناول اپنی جون میں میجیکل ریئیلزم کا ممتاز ترین شاہکار ادبی فن پارہ بن جاتا ہے۔

کتاب پڑھنے کی ٹیلیفونک ملاقاتوں میں ہم ایکڈیمک موتیوں کی مالا کو منکا منکا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس تعلق کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے جو کسی میجیکل رئیلزم کی طرح اب تک ہمارے اور ناول کے کرداروں کے بیچ قائم ہو گیا تھا- یہ ایک ایسا پیچیدہ تعلق تھا کہ جس میں ہم لذت بھرے درد کا مزہ لینے کے لیے داستان کے اوراق کو الٹی سمت پلٹ کر ان میں بکھرے مرے ہوؤں کو پھر سے زندہ کر تے اور انکی زندگی کی الم ناکیوں اور دوبارہ موت سے وصال کی گھڑیوں پر نئے سرے سے سسکیوں بھرا ماتم کرتے۔

رمیدیوس دا بیوٹی کے جان لیوا حسن کا زہریلا مزہ چکھنے کے لیے ہم نے اس کے شکست خوردہ عاشقوں کو بھی دو بار موت کے گھاٹ اتارا اور خود کو ایک فاتحانہ جذبے سے سرشار پایا گویا صرف ہم ہی وہ سرخرو عاشق ہیں جو رمیدیوس دا بیوٹی کے حسن کی تاب لانے کے قابل ہیں۔

بے تکلفی سے حافی رمیدیوس دا بیوٹی کو “ڈیڈ” کہنے لگا تھا۔ جب بھی اسکا ذکر ہونے لگتا وہ ایک ڈرامائی انداز میں گونجدار آواز کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر مجھےخبردار کرتا کہ

“اپنے دل پر ہاتھ رکھ لو کہ اب “ڈیڈ” آنے والا ہے۔

ابدی حسن کی اس علامتی ہستی کا ذکر ہونے والا ہے جو میرا، تمہارا، بوئندیا خاندان کا، ماکوندو کا، تمام دنیا کا “ڈیڈ” رمیدیوس دا بیوٹی!!! ہے

جس پر میں فاختاؤں کو ڈرا دینے والا وہ قہقہہ لگاتی جو پراسرار دھویں کی خوشبو میں لپٹی، تاش کے پتوں سے ماضی اور مستقبل کا حال بتانے والی، بوئندیا خاندان کے ہر راز سے واقف، ایک سو پینتالیس سالہ ساحرہ پیلا رتر نیرا لگایا کرتی تھی۔

ہم دونوں اس بات پہ سہمت ہوئے کہ ریمیدیوس دا بیوٹی خوبروئی کی ذہین مِٹی سے تراشا وہ مجسمہ ہے جسکی عقل و فہم پر ریاکاری سے چڑھے کوئی کنفیشنل غلاف نہیں ملیں گے باوجود اس بات کے کہ ان غلافوں کی اہمیت کی دلیلیں اوریجنل سِن کے مرتکب آدم و حوا کے جنتی دیس نکالے کے حکم کے زمانے سے انسان دیتا آیا ہے۔

وہ خوبصورتی کا ایسا تخریب کار بتِ کامل ہے کہ جسکے آگے جمالیات کے سبھی فلسفے سجدہ ریزی کی حالت میں ملیں گے اس لیے ہم نے کسی فلسفے کسی تھیوری کسی نظریے سے “ڈیڈ” کو پرکھنے کی کوشش نہیں کی۔

جبکہ دوسری جانب کہانی کے تاریخی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں پر ہماری قیاس آرائیوں کے مطابق مارکیز نے ادبی مہارت اور باریک بینی کے ساتھ ہر اس عمل کی نشان دہی کی ہے جو پہلے مقامیوں کو مختلف نظریاتی کمیونوں اور گروہوں میں بٹ جانے پر اکساتے ہیں اور پھر وقت کے ساتھ مقامی اور باہر سے آئے ہوؤں کے درمیاں ایک دو دھاری تقسیم کا احساس دلاتے ہیں۔ اس نے شاندار طریقے سے معاشرے میں اخلاقی اقدار کی پاسداری کے لیے گھڑی جانے والی مذہبی کہانیوں اور انکی ضرورت کے تحت خداؤں کی ایجاد اور پھر ان ایجادات کی حفاظت کے لیے گرجا گر اور دوسری عبادت گاہوں کی تعمیر کے جواز پیش کیے ہیں۔

نظریاتی بنیادوں پر سماج میں پیدا ہونے والے اختلافات اور ان اختلافات کی بنا پر طاقت کی نمائش میں خود ہی اپنی بنائی ہوئی بستیوں میں ایک بار پھر بحیثیت حکمران راج کرنے کی خواہش میں لڑی جانے والی بے سود خانہ جنگیوں اور عسکری یلغاروں کی حقیقتیں آشکار کی ہیں۔ شہریوں کےحقوق کے تحفظ میں بننے والی یونینز کا حال بیان کیا ہے جو بلا کسی، نسلی اور طبقاتی تفریق کے برابری کے اصولوں کا پرچار کرنے کے لیے احتجاجی مظاہروں اور دوسرے مزاحمتی ہتھکنڈوں کو استعمال میں لاتی ہیں۔

سماجوں کے بننے بگڑنے کی کہانیوں کے پیچھے کارفرما عناصر کا تذکرہ مارکیز نے ایک خاص ترتیب میں اس بصیرت کے ساتھ کیا ہے کہ ناول کے چلن کو باقاعدہ طور پرمختلف ادوار میں پیش کی گئی اشتراکیت کی مختلف تھیوریوں کے تحت پرکھا جا سکتا ہے۔

ماکوندو کی سیاسی و سماجی تاریخ کے بیان میں کئی مقامات ایسے آتے ہیں جن میں کارل مارکس، میکس ویبر اور ایمائل درخیم کے نظریات پر مبنی کلاسیکی سماجی تھیوری کے محرکات یعنی سرمایہ دارانہ نظام کا عروج اور قومی ریاستوں کے تاریخی غموض، سیاسی و سماجی ابہام اور آفاقی اخلاقیات کے التباس کا سراغ ملتا ہے۔

جیسے جیسے ماکوندو ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا دکھایا گیا، قصبے پر بیتنے والی درگھٹنائیں جنکو ریاستی حکومتوں کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت غیر حقیقی ثابت کر دیا گیا اور جنکی جگہ من گھڑت واقعات پر مبنی جھوٹوں کے پلندوں سے بھرپور تاریخی مسودوں نے لے لی جو آئے دن اخبار کی سرخیوں اور نصاب کی کتب میں پڑھنے کو ملتی رہتیں، ماکیز کے اس فینامینا کی تصویر کشی مارڈنسٹ سوشل تھیوری کے نظریہ انڈسٹریلازیشن اور قومی ریاستوں کی ہسٹوریسٹی کو سمجھنے کے لیے عمدہ ترین مثال اور حوالے کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔  

اشتراکی تھیوریوں کے علاوہ، تنہائی کے سو سالوں میں بوئندیا خاندان کو جس ترتیب کے ساتھ وقت کے چکر ویو میں باندھا گیا ہے اور واقعات کی رسی کو جس طرح گول گول گرہوں سے گانٹھا گیا ہے وہ تہذیبوں کی تشکیل سے انکے مسمار اور پھر سے تشکیل پھر سے مسمار ہونے کے اولین نشان دہ ابن خلدون اور اسکے بعد آنے والے دوسرے تاریخ کے فلسفہ دانوں کے اس نظریے کے غماض بیانیے ہیں کہ تاریخ دائروں کی شکل میں گردش کرتی ہے اور دائروں کی تکمیل پر اپنے آپکو دوہراتی ہے۔

ہم جب جب اپنے کرداروں کے ساتھ وقت کے جھولنے جھُولتے کوئی دائرہ مکمل کرتےاور خود کو اس مقام پہ پاتے جہاں سے سالوں قبل بوئندیا خاندان سے جڑی کوئی سفاک ہونی شروع یا ختم ہوئی ہوتی۔

تو حافی کی ایک نظم کے چند مصرعے ہماری مغموم سینوں کی دل جوئی کرنے یاداشت کے کسی کونے کھدرے سے نکل آتے، جو وہ میرے اصرار پر مجھے شعری انداز میں پڑھ کر سناتا

“زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے
 کتنی صدیاں سفر میں گزاری
مگر آج پھر اس جگہ ہیں
جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نے رخصت کیا تھا
اپنے سب سے بڑے خواب کو
اپنی آنکھوں کے آگے
اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے
تیری قربت میں یاتجھ سے دوری پہ جتنی گزاری
تیری چوڑیوں کی قسم
زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے “

کبھی کبھی مارکیز کے گرینجر اور ذینت حسام کے جملوں کی بنت سے ہم اس قدر متاثر ہو جاتے کہ ہماری فون سے جاری صدائی کال خاموشی کی طویل ساعتوں پر محیط ایک گونگی گزرگاہ بن جاتی جہاں آنسووں کے چلنے کی آواز سانس کی سر گوشیوں میں چھپ جاتی۔ حزن کی دھند میں لپٹے، سفید پانیوں کی طرح ٹھہرے اس سرد خلا میں ہم دونوں میں سے کوئی ایک صدا کا پتھر پھینک کر دوبارہ شروع کرتا اور ہم ایک بار پھر بوئندیا خاندان کے گھر کی طلسماتی بھول بھلیوں میں لوٹ آتے جہاں خانہ بدوش اشیا فروش ملکیا دیس کا کمرہ ہمارا پسندیدہ علاقہ تھا جو بوئدیا خاندان کی اورلیانو نسل سے تعلق رکھنے والوں کی ازلی تنہائی کے ناکام خاتموں کی آماجگاہ تھی اور ہمیں وہ دیوان خانہ بھی پسند تھا جہاں خاندان کی آرکادیو نسل سے تعلق رکھنے والے اپنی ابدی تنہائی کی غیر یقینی تلافیوں میں آئے روز گانے بجانے اور رقص و سرود کی پر ہجوم محفلوں کا اہتمام کیے رکھتے تھے۔ جہاں ایک کونے میں اطالوی سنگیت کار کی مدد سے جوڑا گیا پرانا پیانو اور دنیا بھر سے منگوائی گئی سجاوٹ کی اشیا، آرائشی فرنیچر اور بلوریں آئینوں والی الماریوں میں رکھے چینی کے مرتبان پڑے تھے اور جہاں سے بوئندیا خاندان کا پہلا مرد شاہ بلوط کے درخت سے بندھا نظر آتا تھا اور جہاں سے اس خاندان کے آخری سپوت کو سرخ چیونٹیاں گھسیٹ کر لے گئی تھیں۔ ۔ ۔

مارکیز کی تحریر میں بہت سی دلچسپ باتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس نے ہمیں پاگل پن کا اپنی جون میں نسلی اور بے نسل ہونے کا فرق سمجھایا۔

بوئندیا خاندان کا کوئی بھی بچہ کسی نارمل جوڑے کی ہمخوابی کے بعد نہیں جنمااور اگر جنما بھی تو نومو لودیت کے دنوں میں ہی لقمہ اجل بنا دیا گیا۔

یہاں نارمل سے مراد ایسے کردار ہیں جو معاشرتی نارمز اور اقدار کے پاسدار، وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی انفرادی عدم موجودگی سے زندگی کے سماجی کارخانے میں کسی طور کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جن کا اجتماعی وجود معاشروں کی دوامی مستقل مزاجی کا مرہون منت ہوتا ہے

مارکیز کے ناول نے ہم کو سکھایا کہ شادی کے معاملے میں حسب نسب کی بقا کے لیے صرف خاندانی بلڈ لائن کا ایک ہونا ضروری نہیں اور بالخصوص افزائش نسل کے معاملے میں فریقین کے پاگل پن کا نسلی اسٹیٹس ضرور معلوم کر لینا چاہئیے۔

اس نکتہ پر ہم دونوں کا اظہار خیال مئی کے آخری دنوں کی اس وحشت زدہ رات کے لمحہ سنکرونیسیٹی کی طرح یوں ایک ہو گیا کہ ہم نے خود کو ایک دوسرے کے جملے مکمل کرتے پایا۔

حافی: خاندانی پاگل پن وہ ہو گا جو خاندان کے سبھی افراد میں مختلف ہیئتوں کے ساتھ پایا جائے جبکہ بے نسلی پاگل پن وقت اور حالت کی بے رحمانہ روش کو سہار نہ سکنے کا بھونڈا اظہاریہ ہے۔

میں: ہاں جسکا شکار ہر دوسرا شخص خود کو ہذیان کا مریض سمجھ کر بے کار کھوکھلی توجہ حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔

حافی: نسلی پاگل پن بہرحال خود میں ایسے اوصاف کا حامل ہوتا ہے جس میں تخریب کے پیچھے ایک ترتیب ہوتی ہے،

میں: ہاں بقول مرزا غالبؔ

؀ مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

حافی: نسلی پاگل پن کے اندر انٹلیکچول ایڈوینچرز کو بروئے کار لانے کی نا قابل مزاحمت صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

میں: وہ ناممکنات کو ممکنات میں بدلنے کی اٹل جنونیت سے لیس ہوتاہے

حافی: اور اس جنون کے تابع وہ بےمقصدیت کی حدوں تک زندگی گزارنے یا اسے ختم کر دینے پر قادر ہوتا ہے۔

حافی اور میں اکٹھے:

 ؀ ان میں بھی انبیا اتارے گئے
  پاگلوں کی بھی ایک امت ہوتی ہے

کیلنڈر کی تاریخوں پر آج تنہائی کے سو سالوں کے انحطاطی دور کا آخری دن چڑھا تھا۔ میونخ میں وہ بے موسمی برساتوں کی شوریدہ آمد کا دن تھا اور لاہور میں اس روز خشک زمین کی کوکھ سے گرد آلود بادل اڑے تھے۔ ناول کے آخری ابواب میں تاریخ نے اپنے آپکو دہرایا نہیں بلکہ دوہرا کر دیا تھا۔ جسکو ہم دونوں نے پوسٹ ماڈرن لٹریری کرٹسزم کی منہج اپناتے ہوئے یوں دیکھا کہ گویا مارکیز نے ترقی کے لینیر ڈیویلپمنٹ کے تیر کا رخ الٹا دیا ہو اور اسے ادب کی کمان میں ڈال کر مخالف سمت سے وقت کے سینے میں یوں اتارا ہے کہ وہ ناول کی آگے بڑھتی ٹائم لائن کو ماضی کی جانب چیرتا چلا جاتا ہے۔ اور ماکوندو کی ماڈرن سوسائٹی صنعتی انقلاب سے گزرتی ہوئی، سرمایہ داری کی شیطانی کارستانیوں کو ادھیڑتی، خانہ جنگیوں کے سنگلاخ میدانوں میں کھڑے فوجی گھوڑوں کو الٹے پیر دوڑاتی، بستیوں میں آئے خانہ بدوشوں کے خیمے اکھیڑتی، ملک یا دیس کی اجنبی زبان میں لکھی دستاویزات کو ہوا کے پرخچوں میں اڑاتی بوئندیا خاندان کے ایک (پہلے اور آخری) فرد میں ریڈیوس ہوتے ہوئے پہاڑوں کے نیچے دلدلی اعلاقوں سے آگے ماکوندو کی وہ زمین بن گئی جو ابھی تازہ تھی اور جس میں ابھی انسانوں کو آباد ہونا تھا۔

توقف کے بعد۔ ۔ ۔ مَیں: کتاب ختم؟
حافی: “کتابیں کبھی ختم نہیں ہوتیں!”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply