فیمنسٹ الہیات : مذاہب کی تبدیلی و تحریف کا پروجیکٹ (1) — وحید مراد

1

تانیثی الہیات (Feminist Theology) پر بیسویں صدی کے اوائل سے ہی کام ہورہا تھا لیکن اس نام سے باقاعدہ تحریک کا آغاز ساٹھ کے عشرے میں ا س وقت ہوا جب امریکی ماہر الہیات ویلری سیونگ (Valerie Saiving) کا ایک مضمون ‘انسانی صورتحال : نسائی نقطہ نظر’ شائع ہوا۔ اس مضمون میں عیسائی تصور گناہ اور نجات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ تمام الہیات مردوں کے لکھے ہوئے متون پر مبنی ہیں اور یہ پدرسری نظام کی طرف سے عورت پر ہونے والے ظلم اور جبر کیلئے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اس خیال کو کئی دوسرے فیمنسٹ اسکالرز مثلا میری ڈیلی (Mary Daly) اور جوڈتھ پلاسکو (Judith Plaskow) وغیرہ نے بھی مذاہب پر تنقید کرنے کیلئے استعمال کیا۔ بعد ازاں مذہبی متون میں ایسے اجزاء تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جن سے صنفی نظریات کے حق میں دلائل مہیا ہو سکیں اور اسکے ساتھ ہی مذہبی تصورات کی تانیثی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے اصلاح کے نام پر تبدیلی اور تحریف کا آغاز ہوا۔ [i]

تانیثی الہیات کی تحریک کا بنیادی مقصد تمام مذاہب مثلاً ہندو، سکھ، بدھ مت، عیسائیت، یہودیت اور اسلام کی روایات، طریقوں، صحیفوں اور الہیات کونسائی نقطہ نظر کیلئے استعمال کرنا ہے۔ نیز اسکے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ مذہبی حکام اور شخصیات کے مابین خواتین کے کردار میں اضافہ کیا جائے، مذہبی متون کی ایسی تعبیر و تشریح کی جائے کہ ان میں بیان کردہ عورت کا کردار اجاگر ہو اور خدا کامذکر تصور مونث میں تبدیل ہوجائے۔ [ii]

نسائی خدا کی تلاش :

سیکنڈ ویو فیمنزم کے دوران تانیثی الہیات کی تحریک نے امریکہ اور یورپ کی خواتین کو مذہبی متون اور روایات میں پائے جانے والی نسائی علامات کو فیمنزم کے حق میں استعمال کرنے کی طرف راغب کیا۔ نسائی تجزیوں کے دوران خواتین نے ان مذاہب میں خصوصی دلچسپی لی جن میں نسائی خدا (دیوی) کا تصور پایا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ خواتین نے ‘دیوی تحریک Goddess movement’ کے نام سے بھی اپنے خیالات کی ترویج کی۔ آج بھی مغرب میں بہت سے لوگ پائے جاتے ہیں جو عیسائی اور یہودی مذاہب میں دیوی تصور (goddess imagery) کو ضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ [iii]

ستر کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں فیمنسٹ آثار قدیمہ(Feminist Archaeology) کا شعبہ تخلیق کیا گیا جس کا مقصد قدیم معاشروں کی جنسی اور صنفی عوامل و علامات کی نسائی ترجمانی کرنا مقصود تھا۔ فیمنسٹ فکر کے زیر اثر ماضی کے ثقافتی حالات، جنسی کرداروں، دیوی، دیوتائوں کی پوجا کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسی تعبیر و تشریح کی جاتی ہے کہ موجودہ دور میں خواتین کی طاقت اور مرئیت (visibility) میں اضافہ ہو۔ [iv]

فیمنسٹ خواتین کو دیوی کیوں چاہیے؟

کیرول پی کرائسٹ (Carol P. Christ) نے1978 میں کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف سانٹا کروز کی ایک کانفرنس میں ‘خواتین کو دیوی کی کیوں ضرورت ہے Why Women Need the Goddess’ کے موضوع پر اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے کچھ سوالات اٹھائے۔ مثلاً وہ فیمنسٹ خواتین جوآج کل روحانی تجربات اور خدا کی جنس کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے انکے نفسیاتی اور سیاسی مضمرات کیا ہیں؟ کیا فیمنزم میں روحانی جہت کے اس موڑ کا مقصد سیاسی جدوجہد سے فرار کا راستہ تلاش کرنا ہے؟ یا خواتین میں دیوی کی علامت کا ظہور نمایاں کرکے سیاسی اور نفسیاتی امتیازات کا حصول ہے؟

پھر انہی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘دیوی کی علامت نسوانی آزادی، خودمختاری اور طاقت کا جواز فراہم کرتی ہے اور اس علامت کا یہ مفہوم اتنا آسان ہے کہ ہر شخص اسے بخوبی سمجھنےکاعتراف کرتا ہے۔ جب ایک عورت، فیمنسٹ ڈرامہ نگار انٹا زاکی شانگے (Ntosake Shange) کا ڈائیلاگ دہراتی ہے کہ ‘میں نے اپنے آپ میں خدا کو پایا ہے اور میں اس سے بےحد محبت کرتی ہوں’ تو گویا وہ یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ عورت کی طاقت خدا کی طرح الوہی، مضبوط، ہمیشہ برقرار رہنے والی اور تخلیقی ہے۔ اسے مرد کی طرف بطور نجات دہندہ کے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

 خواتین میں طاقت، آزادی اور خودمختاری کا یہ تصور قدیم دیوی کی تصاویر اور علامات پر غور کرنے سے پیدا ہوا اور انکے خیال میں اس تصور کو فروغ دینا انتہائی آسان ہے کیونکہ لوگوں میں ثقافتی اور مذہی علامات کا فہم پہلے سے پایا جاتا ہے۔ دیگر فیمنسٹ ناول نگار اور رائٹرز بھی دیوی کی علامت کو خواتین کی خوبصورتی، مرضی، انتخاب، نفسیاتی اور سیاسی طاقت کی توثیق کے طورپر از سرنو زندہ کر رہے ہیں۔ [v]

قدیم اساطیر میں نسائی خدا کی علامات:

فیمنسٹ ماہرین کیلئے وہ قدیم مذاہب، اساطیر، قصے، کہانیاں اور روایت بہت اہمیت کے حامل ہیں جن میں خدا کا مونث تصور پایا جاتا ہے۔ مثلاً قدیم یونان میں زمین کوتمام اشیاء کاخالق سمجھا جاتا تھا اور وہ اسے دیوی (دھرتی ماںEorthe) پکارتے تھے۔ قدیم روم میں بھی اسے فطرت کے پیداواری پہلو کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس اصطلاح میں فلسفیانہ تصورات بھی شامل ہوگئے اور جب یہ اصطلاح لاطینی اورانگریزی میں شامل ہوئی تو ارتھ نیچر (Earth Nature) کہلائی۔ قرون وسطیٰ کے عیسائی اسے دیوی تو نہیں مانتے تھے لیکن اسے دھرتی ماں کی شکل میں فطرت کا ایک مظہرضرور خیال کرتے تھے جسکی صفات میں زندگی بخشنا اوراسکی دیکھ بھال کرنا شامل تھا۔ [vi]

امریکہ کی قدیم متھالوجیز میں بھی اسے زرخیزی اور پیدائش کی دیوی، مدر ارتھ، مدر یونیورس (Pachamama, Mother Earth/Universe) کہا جاتا ہے۔ ستر کی دہائی میں امریکہ میں مدر نیچر کی اصطلاح ٹی وی اشتہارات، ڈراموں، فلموں، گانوں اور پاپولر کلچر میں استعمال کی گئی اور اب اقوام متحدہ کی طرف سے22 اپریل کو Mother Earth Day منایا جاتا ہے جسکا مقصد عام طورپر ماحولیات کی حفاظت بتایا جاتا ہے لیکن دراصل یہ تصورمدریونیورس سے ہی ماخوذ ہے۔ [vii]

ہندوئوں میں کائنات کے خالق خدا(کائنات کا مطلق اور عظیم اصول) کا تصور جنس کے بغیر(genderless) مانا جاتا ہے لیکن کچھ ہندو روایات میں مذکر اور موث کے طورپر بھی مانا جاتا ہے۔ شکتی روایت میں خدا کو مونث مانا جاتا ہے۔ بھکتی روایت میں چھوٹے خدا(دیوتا، دیوی) مرد اور عورت دونوں روپ میں ہوتے ہیں اورہندوئوں کی کتاب رگ وید میں جا بجاانکاکا ذکر ملتا ہے۔ ہندوازم کے علاوہ بھی کئی مشرکانہ مذاہب میں دیوی اور دیوتائوں کو مانا جاتا ہے اور دیوی کو محبت، خوبصورتی، جنسیت، زچگی، تخلیقی صلاحیت، زرخیزی اور ماں کی خوبیوں سےجوڑا جاتا ہے۔ قدیم مصر، افریقہ، یونان، روم، چین، لاطینی امریکہ، ایران اور ہندوستان میں پیدائش، زچگی، موت، زمین، آسمان، بارش، طوفان، آگ، جنگ، قحط، دولت، محبت، موسیقی، شاعری، شکار، اناج الغرض ہر کام کیلئے کسی نہ کسی دیوی کو مانا جاتا تھا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ [viii] سکھ مذہب کی گروگرنتھ میں خدا کیلئے مذکر کا صیغہ استعمال ہوتا ہے لیکن اسے بغیر جنس کے مانا جاتا ہے۔

بہائی مذہب کا بانی بہاء اللہ، ماں کی صفت کو خدا کیلئے استعمال کرتا تھا اور اسکا دعویٰ تھا کہ خدا کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ مادری کلام پر مبنی ہوتا ہے۔ بہائی مذہب میں خدا کی مرضی اور ارادہ(will of God) کی تجسیم جنت کی کنیز(maid of heaven) کے طورپر کی جاتی ہے۔ [ix]

تمام ابراہیمی مذاہب کے متون خدا کو ایک لازوال ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں جسکا موازنہ انسان یا کسی بھی مخلوق سے نہیں ہو سکتا۔ خدا کی الوہی طاقت کیلئے مذکر ضمیر استعمال ہوتی ہے لیکن اسکی کوئی جنسی تعبیر نہیں کی جاتی۔ فیمنسٹ الہیات کا اصل نشانہ یہی ابراہیمی مذاہب ہیں اور یہ تانیثی تعبیر و تشریح کے ذریعے ان تعلیمات کو تبدیل کرنا چاہتی ہے جن میں خدا کے لئے مذکر ضمائر استعمال کئے جاتے ہیں۔ بائیبل کے عہد نامہ عتیق اور جدید میں ‘باپ’ کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن تانیثی ماہرین عیسائی و یہودی مذہبی لٹریچر سے ایسے حوالوں کے متلاشی ہیں جو انکے خیال میں نسائی علامات کی ترجمانی کرسکیں۔ [x]

یہودی فیمنزم(Jewish Feminism) :

یہودی فیمنزم، تانیثی الہیات کی ایک ذیلی تحریک ہےجس کا آغاز 1970 میں امریکہ میں ہوا۔ اسکابنیادی مقصد یہودی خواتین کو ان بنیادی مذہبی احکامات سے مستثنیٰ قرار دینا تھا جن کے تحت انہیں گواہی اور طلاق دینے کا اختیار نہیں۔ اسکے مقاصد میں یہودی خواتین کی مذہبی، قانونی اور معاشرتی حیثیت کو یہودی مردوں کے برابر بنانا اور مردانہ نمازی گروپ سے علیحدہ کرنا بھی شامل تھا۔ [xi]

یہودی فیمنسٹ آئیڈیالوجی اس نظریے کو فروغ دیتی ہے کہ یہودی مذہبی رسومات کے اندر خدا کی نسائی خصوصیات اور مونث صیغے کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ یہودیت کی تشکیل نو کرنے کی خواہاں ماڈرن خاتون اسکالر(Rebecca Alpert) نے 1976 میں کہا کہ ‘خدا کی طرف اشارہ کرنے والی مونث ضمیر اور پہلی بار شائع کردہ با تصویر یہودی نماز کی کتاب نے خدا کے ساتھ میرے تعلقات کو بالکل بدل دیا۔ ۔ ۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ خدا کی تصویر بنانے کا کیا فائدہ ہے۔ خدا کو جب میں نے اپنی طرح کے خوبصورت نسوانی جسم، چھاتیوں اور اندام نہانی کے ساتھ دیکھا تو میری سمجھ میں آیا کہ عورت میں پیدائش اور پرورش کرنے کی کیا طاقت مضمر ہے۔ مجھے ان احساسات اور تاثرات تک رسائی حاصل ہوجانے کے بعد کتنی خوشگوار حیرت ہو رہی ہے جن تک ہزاروں سال سے صرف مردوں کو رسائی حاصل تھی’۔ اسکے بعد کئی دیگر خواتین ربائیوں نے بھی اسی طرح کی تحریریں قلمبند کیں۔ [xii]

آزاد خیال یہودی فیمنسٹ خواتین کے خیال میں خدا کیلئے مذکر یا مونث ضمیر استعمال کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن قدامت پسند اور لبرل دونوں طرح کے یہودیوں کے نزدیک خدا کیلئے مونث ضمیر کا استعمال انتہائی غلط ہے۔ 2015 میں امریکہ میں اصلاح پسند یہودیوں نے اپنی نماز کی کتاب جاری کی جس میں خدا کیلئے مذکر اور مونث دونوں ضمائر کا استعمال کرتے ہوئے اسے ‘پیار کرنے والا باپ’ اور’ہمدردی رکھنے والی ماں’ سے تعبیر کیا گیا۔ [xiii]

روشن خیال یہودیوں میں ایک زمانے سے خواتین کو آزادی حاصل ہے اوروہ مردوں والے تمام کام سرانجام دیتی ہیں۔ ہیومنسٹک یہودیت (Humanistic Judaism) میں صرف یہودی رسم و رواج، ثقافت اور تہواروں کو اپنایاجاتا ہے لیکن مذہی متون اورعبادات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اسکے مقابلے میں قدامت پسند یہودیت میں عورتوں کی آزادی کا کوئی تصور نہیں۔ انکے ہاں عبادت کیلئے مردوں اور عورتوں کے حصے الگ الگ ہوتے تھے اور عورتوں کو نماز کی قیادت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ قدامت پسند یہودیت کے اندرتانیثی تحریک کا مقصد نسوانی معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا، خواتین کی تعلیم، خواتین کی قیادت، عبادت خانوں کو خواتین کیلئے زیادہ سازگار بنانے پر زور دینا ہے۔ 2002 میں شراکت داری پر مبنی دعائیہ جماعت قائم کی گئی جس کے تحت یروشلم میں ایک خاتون شیرا ہداشہ (Shira Hadasha) اور نیویارک سٹی میں درخی نوم (Darkhei Noam) نماز ادا کرنے کی قائد بنیں۔ [xiv]

2009 میں ربہ سارہ حورٹز(Rabba Sara Hurwitz) پہلی خاتون آرتھوڈوکس یہودی مقررہ بنیں۔ اسکے بعد خواتین ربائی عہدوں پر تعیناتی کیلئے تربیتی اسکول کا آغاز ہوا۔ 2013 میں اسکا پہلا گروہ فارغ التحصیل ہوا جنہیں ربی کا خطاب دیا گیا اور تمار فرانکیل(Tamar Frankiel) کیلیفورنیا میں یہودی مذہب کی اکیڈمی کی پہلی خاتون صدر بنیں۔ [xv]

اسرائیل میں اسکے قیام سے لیکر اب تک فیمنسٹ سرگرمیاں ایک پیچیدہ مسئلہ رہی ہیں۔ مغرب سے آنے والی سیکولر خواتین کے حقوق اور مساوات کیلئے مغرب کی طرز پر ہی معاملات آگے بڑھتے رہے لیکن عرب آبادی کیلئے حقوق نسواں کا مسئلہ فلسطین کے ایشو سے جڑا ہوا ہے اور انکا موقف استعمار مخالفت اور فلسطین سے ہمدردی ہے۔ قدامت پسند یہودی خواتین کے حقوق سے متعلق اسرائیلی پارلیمنٹ کے فیصلے حال ہی میں سامنے آئے۔

1947 میں اسرائیل کے قیام کے وقت پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گورئین (David Ben-Gurion) نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ نکاح اور طلاق کے معاملات میں تمام اختیارات اسرائیل کے چیف ربی کے ہاتھ میں ہونگے اور بعد ازاں انکی پارلیمنٹ نے ایک قانون میں ان اختیارات کی توثیق کرتے ہوئے ربائی کورٹس بنا ئیں جو یہودی مذہب کے مطابق نکاح اور طلاق کے معاملات دیکھتی ہیں۔ 1969 میں گولڈا میر (Golda Meir) اسرائیل کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن اس وقت پارلیمنٹ میں خواتین کی نشتیں سات فیصد سے بھی کم تھیں۔ 1972 میں اسرائیل میں ریڈیکل وومن موومنٹ کا آغاز ہوا۔ 1973 تک اسرائیل میں خواتین کو جنگ، سول انتظامیہ اور فوجی قیادت میں شمولیت کی اجازت نہیں تھی تاہم دیگر معاملات میں خواتین کا عمل دخل بہت حد تک موجود تھا۔ [xvi]

2006 میں اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ خواتین کو تجہیز و تکفین، تعزیت او ر دیگر معاملات میں صنفی امتیاز کا نشانہ نہ بنایا جائے تاہم 2012 تک وزارت مذہبی امور عدالت کے اس فیصلے پر پوری طرح عمل نہیں کرتی تھی۔ 2013 میں مردو زن کیلئے شادی کی کم سے کم عمر 18 سال قرار دی گئی اور مذہبی عدالتوں میں خواتین کو بطورجج اور وکیل تعینات ہونے کی اجازت دی گئی اور مذہبی رسومات و عبادت کی آزادی کا حق تسلیم کیا گیا۔ 2015 میں ہریدی خواتین(Haredi) کیلئے پہلی سیاسی جماعت تشکیل دی گئی جسکا مقصد خواتین کے حوالے سے تبدیلی لانا ہے۔ اسی سال اسرائیلی صیہونی مذہبی تنظیم نے بار ایسوسی ایشن کے ساتھ معاہدہ کیا کہ طلاق دینے والے شوہر کیلئے لازم ہوگا کہ وہ اپنی سابقہ بیوی کو خرچہ ادا کرے۔ 2016میں کرمت فینٹچ (Karmit Feintuch) آرتھوڈوکس عبادتخانے (synagogue) کی پہلی خاتون رہنما بنیں۔ [xvii]

(جاری ہے۔ دوسرے حصے کا لنک)

References:


[i] Goldstein, Valerie, Saving (1960) “The Human Situation: A Feminine View”. Retrieved from https://www.sjsu.edu/people/jennifer.rycenga/courses/gsr/s1/Saiving_Article.pdf

[ii] “What is Feminist Theology?” Retrieved from https://voicesofsophia.wordpress.com/what-is-feminist-theology

[iii] “The Goddess movement” Retrieved from https://www.bbc.co.uk/religion/religions/paganism/subdivisions/goddess.shtml

[iv] Conkey, Margaret, W. (2003) “ Has Feminism Changed Archaeology?”. Retrieved from https://www.jstor.org/stable/10.1086/345322?seq=1

[v] Christ, Carol P. (1978) “Why Women Need the Goddess”. Retrieved from https://womrel.sitehost.iu.edu/Rel433%20Readings/Christ_WhyWomenNeedGoddess.pdf

[vi] Leeming, David, A. (2010) “Creation Myths of the World” An Encyclopedia. Retrieved from https://books.google.com.pk/books?id=9I62BcuPxfYC&pg=PA118&redir_esc=y#v=onepage&q&f=false

[vii] “It’s not nice to fool Mother Nature” (2015). Retrieved from http://www.thisdayinquotes.com/2010/06/its-not-nice-to-fool-mother-nature.html

[viii] Morales, Frank “The Concept of Shakti: Hinduism as a Lierating Force for Women”. Retrieved from http://www.adishakti.org/forum/concept_of_shakti_hinduism_as_a_liberating_force_for_women_1-18-2005.htm

[ix] Drewek, A. Paula (1992) “Feminine Forms of the Divine in Baha’I Scriptures”. Retrieved from https://bahai-library.com/drewek_feminine_forms_divine

[x] Pagels, H. Elaine (1079) “What Became of God the Mother?”. Retrieved from https://www.womenpriests.org/what-became-of-god-the-mother-conflicting-images-of-god-in-early-christianity-elaine-h-pagels/

[xi] Hyman, Dr., Paula “American Jewish Feminism: Beginnings”. Retrieved from https://www.myjewishlearning.com/article/american-jewish-feminism-beginnings/

[xii] Alpert, Rebecca, T. (1991) “Our Lives are the Text: Exploring Jewish Women’s Rituals”. Retrieved from https://www.jstor.org/stable/40358688?seq=1

[xiii] Wilensky, David, A.M. (2015) “Gates of Repentance replacement advances Reform trends” Retrieved from https://www.jweekly.com/2015/03/27/gates-of-repentance-replacement-advances-reform-trends

[xiv] Bowen, Por Alison (2007) “Leaders Lift Spirit in Orthodox Women’s Section”. Retrieved from https://womensenews.org/2007/07/leaders-lift-spirit-in-orthodox-womens-section/

[xv] “Orthodox women, a first” Jewish Journal. Retrieved from https://jewishjournal.com/mobile_20111212/112061

[xvi] Herzog, Hanna “Feminism in Contemporary Israel” Retrieved from https://jwa.org/encyclopedia/article/feminism-in-contemporary-israel

[xvii] Schhultz, Rachael Gelfman “Civil Marriage in Israel”. Retrieved from https://www.myjewishlearning.com/article/civil-marriage-in-israel/

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جناب وحید مراد نے فیمنسٹوں کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی بڑی داستانیں سنائی ہیں۔ انھوں نے اپنے مضامین میں مستند حوالوں سے دکھایا ہے کہ عورت کی مرد کے ساتھ برابری ثابت کرنے کے لیے فیمنسٹوں کیسی کیسی حماقتوں کو پروان چڑھا رہے ہیں اور برابری کے نام پر عورت کو محض ایک جنسی کھلونے میں بدل دیا ہے۔
    یہ مضمون بتاتا ہے کہ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اب خدا وکوبھی عورت کی حیثیت میں پیش کیا جارہا ہے، اور اس کے لیے عقلی اعتبار کھوکھلے مذاہب سے تقویت دی جا رہی ہے۔
    یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ فیمنسٹوں کے لیے انتہائی بےتکی چیز بھی درست ہے اگر اس سے ان کے نظریات کو ذرا سی بھی تقویت ملتی ہو ۔
    شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

Leave A Reply