انسانیت کا سربریدہ لاشہ —— فارینہ الماس

0

یوں تو اب کے بار بھی ”عورت“ ہی کاجسم کاٹا گیا۔ وہ پھر سے مرد کے غیض و غضب اور طیش کا شکار ہوئی۔ اس کے جسم و روح کو بھنبھوڑنے اور نوچنے کا یہ پہلا واقعہ تو نہیں۔ ابھی دو دن پہلے ہی نسیم بی بی کو بھی اس کے چودہ ماہ کے بچے سمیت زندگی کی ڈور سے کاٹ دیا گیا۔ ہر سال مرد کے ہاتھوں ہزاروں لڑکیوں کے بے بس اورلاچار وجود، لاش بن کر گرتے ہیں۔ ابھی فی الحال عورت کا قصور بھول جائیں، اپنی عزت اور زندگی کی پامالی میں اس کا اپنا کتنا ہاتھ ہے، اس حقیقت کو بھی فراموش کر دیں۔ ابھی ہم وفاقی دارلحکومت کے قحبہ خانوں میں لٹکتے، مٹکتے جسموں، اور ان کے ہاتھوں میں چھلکتے پیمانوں کی بات بھی نہیں کرتے۔ ابھی ہم بے خیال و بے پروا والدین کی اپنی رنگین مصروفیات کا تذکرہ بھی چھوڑ دیتے ہیںاور صرف نور مقدم کا کٹا پھٹا، سربریدہ، زخم خوردہ، ان دیکھا لاشا تصور میں لاتے ہیں۔۔۔ کیا ہوا روح کانپ گئی۔ ۔ کانپنی بھی چاہئے۔۔ اگر آپ کے جسم کی رگوں میں احساس کا سنسناتا لہو ابھی رواں ہے تو کانپنا ہی چاہئے۔۔۔ پھر سوچیں کہ نور مقدم کے دماغ کو آکسیجن کی ترسیل روکنے والا زہریلا گھاؤ اگر اسے موت کی وادی میں دھکیل چکا تھا تو پھر سر بریدگی کیوں۔۔۔؟ مطلب کہ مجرم کا مقصد محض اس کے جسم کو اذیت ناک موت سے ہمکنار کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی فطرت کی حیوانیت و شیطانیت کو تسکین دینا بھی تھا۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایک ایسے شیطانی و حیوانی فطرت کے حامل انسان کو پہچاننے میں صرف نور مقدم ہی نہیں بلکہ اس کے تجربہ کار، جہاںآشنا والدین کو بھی غلطی کیونکر ہوئی؟ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ پہرے دار جن کے اپنے گھروں میں بھی شاید، اٹھکیلیاں کرتی، زندگی کو گدگداتی، ہنستی مسکراتی، اپنے بابل کا راستہ دیکھتی کوئی گڑیارانی ضرور ہوگی، وہ کیسے چپ چاپ، کسی کی لخت جگر کو کٹتے پھٹتے، موت کے لمحہ لمحہ ہچکولے کھاتے دیکھتے رہے۔

سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا انسانیت اب اپنی آخری ہلاکت خیز تباہی کے دھانے پر آکھڑی ہوئی ہےَ؟یا پھر انسان کا آخرت اور دوزخ کی آگ سے ایمان اٹھ چکا ہے۔ شاید اس ایمان ہی کا اٹھنا ہے کہ وہ ممنوعہ افعال میں موجود لذت کو بڑے اہتمام سے آزمانے لگا ہے۔ وہ پہلے سے بھی ذیادہ سرکش اور وحشی ہو گیا ہے۔ عورت اور مرد دونوں ہی کو پاکدامنی پر مائل رکھنے والے اسباب کمزور ہو چکے ہیں۔ اسی لئے وہ پارسائی پر قائم رہنے پر اب مجبور نہیں۔ ۔ کیا یہ تہذیبی ترقی ہی ہے جس نے آسمانی پابندیوں کو غیر اہم اور کمزور بنادیا ہے یا ہمیں آسمانی پابندیوں کو جھٹلا تے ہوئے، مغرب کی طرح زمینی پابندیوں سے اپنے مفادات کو جوڑ کر انہیں خود پر لاگو کرنا ہوگا۔

ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ جبر اور تشدد اب جہالت وغربت کی کال کوٹھڑیوں سے ہوتا ہوا علم و تہذیب کے پرچارک رؤسا کے بالا خانوں تک آپہنچا ہے۔ ملک کی نام نہاد روشن خیال، مغربی تہذیب و تمدن کی گودوں میں پلی بڑھی، مادیت پرستی کے زہر میں لتھڑی، نفسی خواہشوں کے گرداب میں پھنسی نسل غیر اخلاقی و غیر انسانی جرائم میں ملوث پائی جارہی ہے۔

البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ ” تعلیم حقائق کو سیکھنے کا عمل نہیں یہ ذہن و فکر کی تربیت کا نام ہے“تعلیم فرد کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہی نہیں بلکہ اس کی نفسیاتی، اخلاقی و معاشرتی تربیت میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔ اسے معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرتی ہے۔ اسے غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر آئینی افعال سے روکتی ہے۔ لیکن ہماری تعلیم محض غریب کو محکوم بننا اور امیر کو حاکم بنے رہنا سکھاتی ہے۔ یہاں طبقہءرؤساءکو ملنے والی تعلیم انہیں تکبر اور خود پرستی کا درس دیتی ہے۔ انہیں ہر حال میں جیتنا اور حاوی ہونا سکھایا جاتا ہے۔ جس سے ذاتی تعصبات جنم لیتے ہیں۔ یہی ذاتی تعصبات اور حاوی ہونے کی خواہش ان کے رویوں کو غیر معقول بناتی ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کومال مویشی سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک معقول انسان اپنے ذاتی مفادات کا درست اندازہ لگاتا ہے لیکن ان کے حصول کے راستے میں دوسروں کے مفادات کو ٹھیس نہیں پہنچاتا۔ اسے ادراک ہوتا ہے کہ جو شے دوسروں کو نقصان دے گی وہ خود ان کی ذات کو بھی تکلیف میں مبتلا کر سکتی ہے لیکن ایک متعصب انسان، سماجی، معاشرتی و معاشی احساس برتری کی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھ کر ناصرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

معقول انسان وہ ہے جس کی خواہش اس کی ذہانت کے کنٹرول میں ہو لیکن ہمارے معاشرے میں تعلیم، سیاست، سوشل میڈیا، ٰیہاں تک کہ مذہبی قوتیں بھی، لوگوں کو طاقت اور اندھی خواہشات کا غلام بنا رہی ہیں۔ جس سے انسان انفرادی طور پر اپنے تعلقات اور خواہشات میں توازن نہیں بنا پاتا۔ وہ ہر لمحہ اپنے نفس کی تسکین چاہتا ہے۔

بظاہر ظاہر جعفر کے گناہ کی ترغیب و تحریص میں ایسے ہی عوامل کارفرما دکھائی دے رہے ہیں۔ دولت، مرتبے اور حیثیت کا وہ زعم جو اسے اس کی شیطانیت کے اظہار میں مددگار ثابت ہوا۔ اس کے ایسے غیر انسانی رویوں کا باعث منشیات کا بے تحاشہ استعمال بھی ہوسکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں غیر انسانی اور حیوانی رویوں کے بڑھنے کی وجہ معاشرے کا روحانیت سے خالی ہونا بھی ہے۔ روحانیت کوئی علم نہیں بلکہ انسان کی اپنی خالق کے ساتھ یکتائی کا تجربہ ہے۔ یہ ایک ایسا طاقتور سہارہ ہے جو آج کے دور میں انسانوں کی بھٹکتی شکستہ روحوں کو پناہ دے سکتا ہے۔ آج کا نوجوان شراب اور منشیات کے نشے میں سرور ڈھونڈ رہا ہے۔ یہ خود فراموشی، زندگیوں کی المناکیوں کو بھلانے یا پھر اپنی کلاس کی برتری سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہونے کا سامان ہے۔ لیکن یہ نوجوان اپنے اندرونی سرچشمے کو جاننے سے محروم ہے۔ اپنے اندر موجود محویت و سرشاری سے بے خبر ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ قدرت نے انسان کی ہستی میں وجدان رکھ کر زندگی کو معنویت عطا کی ہے۔ اسی وجدان کو پانا روحانیت ہے۔ اسی سے فن، جمالیات، محبت و امن اور انسانیت کا امکان ابھرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ روحانیت سے خالی ہو رہا ہے اسی لئے حیوانیت اور جنونیت بڑھ رہی ہے۔ انسان اپنے ظاہر میں مگن ہے اسی لئے باطن کے شعور سے محروم ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ روحانیت کا علم ہر کسی کو نہیں مل سکتا۔ یا ہر کسی کو اس کی ضرورت نہیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو مہذب رویے سکھاتی ہے۔ اسے اپنی جنس، خاندان، رشتوں اور تعلقات کو سمجھنے اور نبھانے کا شعور دیتی ہے۔ وحشت اور حیوانیت سے بچنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ جسے ہماری تعلیم اور تربیت میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اور اگر اسے یہ اہمیت نا دی گئی تو ہمارے روح سے خالی معاشرے میں ایسی سربریدہ لاشیں ملتی ہی رہیں گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply