جبار مرزا کی کتاب “جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں”: ہمارے سماج اور تہذیب کی کتھا — ڈاکٹر خاور چودھری

0

آپ بیتی یا خود نوشت لکھنا انتہائی مشکل کام ہے؛ اس میں وہ سوانح عمری بھی شامل کر لیجیے جو کوئی دوسرا لکھتا ہے۔  حقائق کی جمع آوری جہاں جان جوکھوں کا کام ہے؛ وہاں انھیں عام کرنا کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں۔  آپ بیتی لکھنے والا اپنے بارے میں اتنا ہی دیانت دار ہو سکتا یے، جتنا اُس نے اپنے حواس میں دیکھا اور پرکھا ہے۔  کم سنی اور پیدائش سے قبل کے واقعات سنی سنائی باتوں یا قیاس پر منحصر ہیں۔  اسی طرح اپنے والدین یا پسندیدہ شخصیات کے ضمن میں بھی مکمل سچائی ظاہر کرنا جگر والوں کا کام ہے۔  نثر کی یہ صنف مبالغہ آرائی اور حقائق چھپانے کے باعث دوسری اصناف سے اگر ایک درجہ پیچھے رہتی ہے تو اس کا سبب یہی ہے۔  نقدنگار اسی پہلو کو دیکھ کر محتاط یا مشتبہ رائے دیتے ہیں۔  

میرے سامنے اس وقت ایک ایسی کتاب ہے جو بیک وقت سوانح عمری کے دائرے میں بھی داخل ہے اور خود نوشت کے باب میں بھی۔  اس لیے اس کے مندرجات ایک خاص کشش رکھتے ہیں۔  

” جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں” کے مصنف نامور صحافی، دانش ور اور شاعر جبار مرزا صاحب ہیں۔  اس کتاب کا سببِ تحریر ایک حادثہ ہے؛ جس نے مصنف کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔  ان کی بیگم شائستہ رانی مرحومہ سرطان جیسے موذی مرض کا شکار ہو کر دُنیا سے چل بسیں تو انھوں نے فیس بک پر یاد نگاری کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔  روزانہ ایک تاثر یا ہڈ بیتی لکھتے، جسے مجھ سمیت سیکڑوں نے پڑھا۔  یُوں اُن تمام تحریروں کو یک جا کر کے کتابی صورت دے دی گئی۔  کتاب کی فروخت کا سلسلہ اس قدر تیز رفتار رہا کہ دوسرا ایڈیشن بھی مارکیٹ ہو گیا۔  اس کا ایک خاص پس منظر ہے؛ جس کی جڑیں ہماری سماجی نفسیات میں پیوست ہیں۔  ہم میں سے اکثر کارگہِ حیات کے کسی موڑ پر ایسے حالات سے ضرور گزرے ہوتے ہیں؛ ایسے میں جبار مرزا صاحب جیسا جہاں بین قلم کار لکھتا ہے تو وہ سماج کے ایسے گروہوں کے لیے ہڈ بیتی کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔  گویا یہ انھیں کا قصہ ہوتا ہے ؛ جسے دوسرا لکھ دیتا ہے۔  

اس کتاب کے تین نمایاں پہلو ہیں۔  مصنف کی ذاتی زندگی نشیب و فراز کا ایسا آئینہ ہے جو ہر معروضی حقیقت کو پوری سچائی کے ساتھ قاری کے سامنے لے آتا ہے۔  دوسرا پہلو سماجی اداروں کا تعامل ہے۔  کس طرح ہمارے اکثر ادارے اپنے فرائض سے غفلت برت کر قومی زندگی کو ناسور بنا دیتے ہیں۔  کتاب کا تیسرارُخ ہماری سماجی نفسیات کو محیط ہے۔  نام و نسب کی کریہہ دلدل سے شروع ہونے والا سفر عہدوں اور شہرتوں کو محیط ہوکر کس طرح انسانی زندگی کے لیے المیہ ثابت ہوتا ہے؟ ہم میں سے اکثر یہ جانتے ہیں لیکن بیان کا حوصلہ کم کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔  جبار مرزا صاحب نے معاشرے کی ان مکروہ صورتوں کی نقاب کشائی نہایت جرأت کے ساتھ کی ہے۔  

کتاب میں عائلی زندگی کے مسائل اور خوش رنگیوں کا بیان سلیقے سے ہوا ہے۔  شریکِ سفر کے انتخاب سے لے کر موت کے سفر تک بیشتر مراحل سے خوش سیلقگی کا اظہار ہوتا ہے۔  بیگم کے لیے آخری وقت تک ہر ہفتے ایک سوٹ سلوانا، بچوں کی پیدائش پر تحائف دینا اور گھر کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا دراصل ایک تہذیب ہے۔ اسی طرح بیگم کی جانب سے پرستش کا عملی اظہار ہونا اور ساری زندگی حکم بجا لانا بھی ایک تہذیب ہے۔  گرم و سرد موسموں میں ہنسی خوشی رہنا آج کے دور میں ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔  اگر مصنف اپنی کتاب “پہل اُس نے کی تھی” کا پس منظر حالیہ کتاب میں بیان نہ کرتے تو بیگم سے یہ لازوال محبت ان کے رشتے کو بہ ہر حال “لو میرج” ثابت کر دیتی۔  اس خاص تناظر کو بھی انھوں نے قاری سے پوشیدہ نہیں رکھا بل کہ بیگم کی ناراضی سے لے کر گھر کے کشیدہ ماحول تک کو بھی بیان کیا۔  عمر کے اس حصے میں جہاں لوگ اپنے نواسوں پوتوں سے اپنی نوعمری کے واقعات چھپاتے ہیں ؛ مرزا صاحب نے محبت میں اپنی نارسائی اور ناکامی کو ایک معاشرتی المیہ کی صورت میں دیکھتے ہوئے، سب کے سامنے پیش کر دیا۔  کمزور دل لوگ پگڑی اچھلنے اور چھینٹے پڑنے کے خوف سے ہر راز پی جاتے ہیں۔  

ہم پیشہ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے جواب میں بدسلوکی کا سامنا بھی خوش اسلوبی سے کرنا تہذیب کا نشاندار ہے۔  ایک ایسا شخص جو پہلی صف کا صحافی ہے ؛ ملک کے کئی نام وروں اور اعلیٰ عہدے داروں سے ربط ضبط رکھتا ہے لیکن اپنی تنگ دستی کے زمانوں میں میر تقی میر کا یہ شعر رو بہ راہ کر لیتا ہے :

اب کیا کسو کے آگے، دستِ طمع کریں دراز
وہ ہاتھ سو گیا ہے، سرہانے دھرے دھرے 

” مرکز” جیسے اخبار کی ملکیت اور سرکردگی چھوٹتی ہے تو کئی لوگ آنکھیں بدل لیتے ہیں۔  ہر کہ و مہ کو اسلام آباد میں پلاٹ ملتے ہیں مگر انھیں عمداً محروم رکھا جاتا ہے۔  کامیاب ترین صحافی، جس کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت کئی وزرا و مشراء سے گھریلو مراسم ہیں لیکن عمر کے آخری حصے میں بھی کرائے کے گھر میں مقیم ہے۔  اصولوں کا یہ ثبات اور جرأت کا یہ نشان ہر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔  وقت پرستوں اور توتاچشموں کی بھیڑ میں رہ کر اپنی تہذیب پر قائم رہنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔  

اس کتاب میں پرویز مشرف جیسے سخت گیر آمر کے ساتھ معاندانہ روش رکھنے سے لے کر جرنیلوں، ججوں اور کارپوریٹ ورلڈ کے آئیکونز کا کچا چٹھا بھی ظاہر کیا گیا ہے۔  شعبۀ طب کو چلانے والے مافیا کی بدصورتی اور مکروہ زندگیوں کا تفصیلی حال بھی بیان کیا گیا ہے۔  کے آر ایل کے نام نہاد مسیحاؤں سے لے کر سرکاری اور پرائیویٹ شفا خانوں کو مذبح بنانے والے بدروحوں کے نام لکھ کر بتایا کہ کس طرح ان لوگوں نے مافیا کے بل پر ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے۔  

خانقاہوں اور مزارات میں بیٹھے ہوئے فرعونوں اور بہروپیوں کے حقیقی نام اور مقامات لکھ کر ثابت کر دیا کہ حرفِ حق کہنا مشکل سہی لیکن جبار مرزا حرفِ حق سنگ زن کر سکتا ہے۔  

کس طرح یہ لوگ بے کسوں اور بے بسوں کی نفسیات سے کھیل کر ان کے گھر ویران کرتے ہیں اور کیسے اپنی جنسی ہوس مٹاتے ہیں؟ سادہ لوح آسیب اور جنات کے بعد اب بیماریوں کے نام پر کیسے ان کے نرغے میں آتے ہیں ؟ عامة الناس کو گمراہ کرنے، لوٹنے اور ذلیل کرنے کے کیسے کیسے ذرائع انھوں نے اختیار کر رکھے ہیں ؟ اس سب سے جبار مرزا پردہ اُٹھاتے ہیں۔  

جھوٹ، بد دیانتی، مکر و فریب، ہوا و ہوس اور خدا ناترسی کی جتنی صورتیں ہو سکتی ہیں، ان میں سے اکثر سے ہم باخبر ہوتے ہیں لیکن اُن کا بیان اپنی کم ہمتی یا بزدلی کے باعث نہیں کرتے ؛ جبار مرزا نے مصلحت کوشی کو چاک چاک کیا اور جو بیتی اُسے دو ٹوک بیان کر دیا۔  

یہ کتاب جہاں محبت کی لازوال داستان ہے اور جذب و احساس میں گندھی ہوئی ہے ؛ وہاں سماجی ناسوروں کی ایسی کتھا ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔  کیوں کہ یہ ہڈ بیتی ایک مقام پر جگ بیتی ہو جاتی ہے۔  کتاب کی ہر سطر مکروہ اذہان و کرداروں پر تازیانہ ہے۔  محترم جبار مرزا نے حرفِ حق سنگ زن کیا اور پوری دلیری کے ساتھ۔  

کتاب سادہ زبان و بیان کے قرینوں میں ہے۔  اُسلوب عام فہم ہے ؛ اس لیے سیدھا دل میں اُترتا ہے۔  اس کا بڑا وصف “ریڈ ایبلٹی” ہے جو قاری کے لیے نفسیاتی اور جذباتی سطحوں پر کشش کا باعث بنتی ہے۔  

نہایت عمدہ طباعت اور آرٹ پیپر جیسے موٹے اور نفیس کاغذ پر چھپی ہوئی یہ کتاب شہریار پبلی کیشنز اسلام آباد سے صرف سات سو روپے میں حاصل کی جا سکتی ہے۔  

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply