میری تعلیم — عطا محمد تبسم

0

میرے گھر میں کوئی بڑا پڑھا لکھا نہ تھا، اس لیے مجھے پڑھائی میں مدد دینے والا کوئی نہ تھا۔ ہمارا گھر نیوکلاتھ مارکیٹ کی چڑھائی پر مرکزی گلی میں تھا، اس لیے ہر وقت یہاں آنا جانا رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے ہمیرانی خاندان ایک بڑی سی حویلی میں آباد تھا، ہم ان کی سیڑھی پر بیٹھ کر کھیلا کرتے، اکثر میں کتاب لے کر سیڑھیوں پر بیٹھ جاتا اور آتے جاتے کسی پڑھے لکھے کو دیکھ کر لفظوں کے معنی یا کوئی چیز پوچھ لیتا۔ ہمارے ایک عزیز اسلام الدین ماسٹر شاہی بازار کے نزدیک بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے۔ جہاں ہمارے کئی عزیز رشتہ داروں کے بچے پڑھتے تھے، ماسٹر اسلام الدین بعد میں بہت عرصے الفاروق ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہے۔ بابو نے مجھے یہاں پڑھنے بھیج دیا، اسلام الدین ماسٹر سخت گیر استاد تھے، اکثر پٹائی کردیتے تھے۔ لیکن اپنے شاگردوں کو پڑھانے کے لیے بہت محنت کرتے تھے، انگریزی اور حساب میں انھوں نے بہت محنت کرکے ہمیں پڑھایا۔ ابھی حیات ہیں۔ انکے صاحبزادے اکرام شیخ بھی ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ وہ تعلیم کے شعبے سے منسلک ہوئے اور پروفیسر ہوکر رٹائر ہوئے۔ بابو جی رینجرز کے کیپٹن ظہیر الدین کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کے بچے سینٹ بوناوینچر اسکول میں پڑھتے تھے۔ بیٹا شیرازی اور بیٹی عالیہ وہ شائد میٹرک میں تھے۔ عالیہ بی بی نے بھی مجھے پڑھایا۔ وہ مجھے انگریزی پڑھاتی اور اسپیلنگ یاد نہ ہونے پر کھڑا رکھتی۔ اسکول میں حساب اور الجبرا بہت مشکل لگتا تھا۔ ایک استاد زیدی صاحب نے مجھے گھر پر آکر شام کو پڑھنے کے لیے کہا۔ وہ ہمارے نزدیکی محلے چھوٹکی گٹی کے قریب رہتے تھے، ان کی رہائش تیسری منزل پر تھی۔ میں ان کے گھر جاتا، وہ مجھے حساب میں مدد دیتے۔ ان کی اولاد نہ تھی۔ ان کی اہلیہ بہت محبت سے پیش آتی۔ اکثر مجھے ان کے گھر کا پانی بھرنا پڑتا اور میں تیسری منزل تک پانی کی بالٹیاں اٹھا کر لے جاتا۔ پڑھائی اور سیکھنے کی جستجو نے مجھے مسز سیلمان جان کا شاگرد بنا دیا۔ مسز جان سینٹ میری اسکول میں تاریخ کی پروفیسر تھیں، وہ رسالہ روڈ پر رہائش پذیر تھیں، بعد میں وہ سرسید کالج کراچی کی پرنسپل ہوکر رٹائر ہوئیں۔ اس گھرانے نے میری تعلیم و تربیت میں بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ مسز جان نے مجھے آرٹ آف ٹرانسلیشن سے جو ترجمہ کرنے کی مشق کرائی وہ ہمیشہ میرے کام آئی، وہ تعلیم کے میدان میں بہت سرگرم تھیں، ان کے گھر پر اکثر بڑے لوگ اور خاندان چائے اور کھانے پر آتے تھے، کھانا باقاعدہ ٹیبل پر لگایا جاتا تھا، انیتا غلام علی کئی بار ان کے گھر آئیں، نواب محمد سلیمان جان مسلم لیگی تھے۔ انھوں نے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ ان کے بیٹے شاہد سلیمان جان اور خالد سلیمان جان انجینئر اور بیٹی فوزیہ سلیمان جان انگریزی کی پروفیسر ہیں۔ وہ بہت خلیق مہربان تھیں۔

اس زمانے میں ٹیلی ویژن نیا نیا آیا تھا۔ میں رات گئے تک ان کے گھر جب تک ٹی وی کی نشریات ختم نہ ہوجاتی رہتا۔ میڑک تک اس گھرانے میں میرا آنا جانا رہا۔ یہاں میں نے کتابیں پڑھنا اور اخبار پڑھنا شروع کیا۔ فوزیہ بی بی سندھ یونیورسٹی میں انگریزی میں ایم اے کر رہی تھیں۔ وہ اکثر مجھے نیشنل سینٹر بھیجتی اور وہاں سے انگریزی کی کتابیں ایشو کراکر لاتا، سنڈیریلا کا نام اور کتاب پہلی بار ان سے سنا اور ان کے لیے یہ کتاب میں نے انھیں لائبریری سے لاکر دی۔ نیشنل سینٹر میں مجھے رسالے اور کتابیں دیکھنے کا موقع ملا۔ بیسویں صدی شمع دہلی جیسے رسالوں میں کہانی افسانے پڑھنا یہیں سے شروع ہوا۔ نیشنل سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر کرار حسین کے صاحبزادے جوہر حسین تھے۔ نیشنل سینٹر میں بہت اچھے پروگرام ہوتے تھے۔ ایک پروگرام میں زیڈ اے بخاری بھی آئے۔ یہاں میں نے دو سفید سر والے الیاس عشقی اور بخاری صاحب کو ایک ساتھ دیکھا اور سنا۔ یہاں بچوں کے سیکشن میں اردو کے ناول پڑھنے کا موقع ملا اور میں نے یہاں کی ممبر شپ لے لی، میرا نام منگو ہے، عالی پر کیا گذری، سندر بن کا جنگل، یہاں کے ایک لائبریرین بہت مہربان تھے، وہ مجھے اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیتے اور مجھے کتابوں کے انتخاب میں مدد دیتے۔ نیشنل سینٹر میں میرے ہاتھ مسعود مفتی کی علی پور کا ایلی لگ گئی۔ یہ بہت بھاری ناول تھا۔ ضخامت کے لحاظ اور موضوع کے اعتبار سے میری اس میں دلچسپی بہت بڑھ گئی۔ میں روزانہ دوپہر میں دوگھنٹے روزانہ یہ ناول پڑھتا۔ اور اسے ختم کیا۔ برسوں بعد قراة العین عینی کا معرکة الارا ناول آگ کا دریا بھی میں نے تپتی دوپہر میں کراچی یونیورسٹ کی لائبریری میں روزانہ تھوڑا تھوڑا پڑھ کر ختم کیا۔

تعلیم کے میدان میں ہمیں بدلتی ہوئی تعلیمی پالیسی سے بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چھٹی کلاس میں عربی اور فارسی پڑھائی جاتی تھی۔ ایک سال بعد یہ ختم کردی گئی۔ الجبرا کا مضمون بھی اچانک شروع ہوا۔ اور نویں دسویں میں فزکس کیمسٹری انگریزی میں مسلط کردی گئی۔ ہمارے اساتذہ بہت اچھے تھے۔ مولانا رٶف ہمیں انگریزی پڑھاتے ورتھ ورس کی ڈیفوڈل وہ لہک لہک کر پڑھاتے۔ ان کے لمبے کرتے کی جیب ٹافیوں سے بھری ہوتی۔ پڑھاتے جاتے اور شاگردوں سے سوال جواب کرتے اور چپکے سے مٹھی میں ٹافی دے دیتے۔ خدا بخش صاحب سائنس پڑھاتے تھے۔ ایک بار پوری کلاس کی سخت پٹائی کی۔ پوری کلاس رونے لگی۔ پھر خود بھی رونے لگے۔ پھر چپراسی کو بلا کر ہوٹل سے پوری کلاس کے لیے چائے منگوا کر پلائی۔

اس زمانے میں بڑی کلاسوں کے طلبہ شام کو طالب علموں کو مفت پڑھاتے تھے۔ اکثر محلوں میں شام کو دری بچھائی جاتی گیس کے ہنڈولے جلائے جاتے۔ چھڑکاٶ ہوتا۔ اور کلاس ہوتی۔ عموما انگریزی اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے۔

جاری ہے—-

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply