تانیثیت کے بنیادی مباحث: اقبال کا نقطۂ نظر (3) — نجیبہ عارف

0

مغرب میں تانیثیت کی تحریک کا ایک بڑا پہلو خواتین کے حق رائے دہی سے متعلق تھا اور خواتین جمہوری انداز ِ حکومت میں اپنے حق رائے دہی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ شذرات میں ایک جگہ انھوں نے خواتین کے اس مطالبے پر بہت دلچسپ انداز میں تبصرہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ طلاق اور تعدد ازدواج دو معاشرتی خرابیاں ہیں۔ ان میں سے ایک یعنی طلاق سے اجتناب کی خاطردوسری یعنی تعدد ازدواج کی اجازت دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں مرد کے فطری میلانِ تنوع کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ (یہ نکتہ خاص طور پر اس دور کے مروجہ نظام اخلاق کی پیداوار ہے۔) پھر یک زوجگی کا قبیح ترین پہلو ان کے نزدیک یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں یورپ میں فاضل عورتوں کی کثرت ہوگئی جنھیں شوہر میسر نہیں آئے اور وہ مائیں نہیں بن سکیں چناں چہ مجبوراً اولاد کے عوض تصورات کو جنم دینے لگیں۔ ووٹ کے حق کا مطالبہ ایسی ہی صورت حال کا نتیجہ ہے۔ کہتے ہیں:

۔ ۔ ۔ وہ مجبور ہیں کہ اولاد کے عوض تصورات کو جنم دیں۔ حال ہی میں انھوں نے ’’ووٹ برائے خواتین‘‘ کے ولولہ انگیز تصور کو جنم دیا ہے۔ دراصل یہ ’فاضل‘ خواتین کی ایک کوشش ہے۔ یا یوں کہ لیجیے کہ ان کی جانب سے ایک کوشش ہے کہ سیاست کے میدان میں ان کے لیے دلچسپیاں پیدا کی جائیں۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی عورتوں کو پیدائش و پرورش اولاد کا موقع نہیں دیتا تو ان کی مصروفیت کے لیے کچھ اور سامان ہونا چاہیے۔ یورپ میں حق انتخاب نسواں کی تحریک درپردہ ووٹوں کے بجائے شوہروں کی طلب پر مبنی ہے۔ میرے نزدیک تو یہ شور و شغب بے روزگاروں کے ہنگامے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔۴۴

یہی اقبال بعد میں اسلام میں عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے قرون اولیٰ کی مثال دیتے ہیںجب عورت کو خلیفہ کے انتخاب میں شریک ہونے اور ووٹ دینے کا مساوی حق حاصل تھا۔

پروفیسر محمد انور صادق اپنے مضمون ’’فکر اقبال میں عورت کا مقام‘‘ میں اقبال کے حوالے سے درج ذیل جملے نقل کرتے ہیں:

مجھے عورتوں پر کچھ زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ یہ اپنے مخصوص مشاغل مثلاً خانہ داری میں بھی بلند ذہنیت کا ثبوت نہیں دیتیں۔ پھر فرمایا کہ عورت کو دماغ کمزور ملا تھا اس لیے کہ جہاں تک اس کا تعلق ہے اس کی تخلیقی قوت دماغ کے بجائے رحم سے تعلق رکھتی ہے۔ مرد دماغ سے تخلیق کا کام لیتا ہے اور عورت رحم سے۔ ۴۵

نجانے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے اقبال کے ذہن میں اپنی جرمن استانیوں کا خیال آیا ہو گا یا نہیں جن سے وہ فکری و فلسفیانہ مسائل پر استصواب رائے کرتے رہے اور جن کی شاگردی پر انھیں ناز رہا۔ یا پھر عطیہ فیضی کی شخصیت کی کوئی یاد ان کے ذہن میں مضطرب ہوئی ہوگی کہ نہیں جنھیں وہ اپنے اشعار اور ذہنی و روحانی کیفیات خطوط میں لکھ کر بھیجتے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے رہتے تھے۔

فقیر سید وحید الدین کے مطابق ایک اور جگہ پر اقبال فرماتے ہیں:

جس طرح دنیا کی دوسری اشیا میں نراور مادہ کا جنسی امتیاز موجود ہے اسی طرح قومیں بھی نر اور مادہ ہوتی ہیں اور اس کا پتہ ان کے قول و عمل، معاشرت، کردار، خصائل اور نفسیات سے چلتا ہے۔ ۴۶

ظاہر ہے کہ اقبال قوموں کو مردانہ اوصاف کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک نسائی اوصاف پیکارِ حیات میں ممد و معاون ثابت نہیں ہوتے۔ روزگار فقیر ہی میںایک اور جگہ درج ہے کہ اقبال عورتوں کی ملازمت اور معاشی خود مختاری کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے خیال میں عورت کا اصلی فرض اولاد کی تربیت و پرورش ہے اور اس اہم ذمہ داری کے ہوتے ہوئے اسے کسی اور کام پر لگانا، جسے مرد بھی سر انجام دے سکتے ہیں، اصول فطرت کی خلاف ورزی ہے۔ چناں چہ اس کا ٹائپسٹ یا کلرک بننا انسانی معاشرے کو درہم برہم کرنے کی سازش ہے۔ ۴۷ اسی طرح لندن میں ایک سیلز گرل کو دیکھ کراقبال نے فرمایا:’’اس خاتون کو توکسی گھر کی روشنی بننا تھا، اولاد کی صحیح تربیت کا فرض سرانجام دیناتھا، اس کی تخلیق کا مقصد بازار کی رونق بن کر جرابیں فروخت کرنا تو نہیں تھا۔ ‘‘۴۸

اقبال کا یہ تبصرہ بھی قابل غور ہے کیوں کہ اس میں انھوں نے غیر شعوری طور پر دو باتیں ایسی کہہ دی ہیں جو ان کے معاشرتی و تہذیبی پس منظر کی عکاس ہیں۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے سیلز گرل کے لیے لفظ ’’بازار کی رونق‘‘ استعمال کیا ہے۔ اس ترکیب کا استعمال عموماً ان اشیاکے بارے میں ہوتا ہے جو خود قابل ِ فروخت ہوتی ہیں۔ بازار میں جرابیں فروخت کرنے والی لڑکی خود بازار کی رونق نہیں ہے مگر ذہنی طور پر پس ماندہ معاشروںمیں اسے ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری بات جرابیں فروخت کرنے کے عمل کے بارے میں ہے۔ یہ ایک تجارتی سرگرمی ہے، مگر چھوٹے پیمانے پر۔ کیا اس وجہ سے اسے تحقیر کا نشانہ بنایا جانا مناسب ہے؟ جب کہ اسلامی معاشروں میں عورتیں تجارت سے اس حد تک وابستہ رہی ہیںکہ غیر ممالک سے درآمد برآمد میں بھی مصروف رہیں۔ خود نبی کریم ﷺ کی محبوب بیوی حضر ت خدیجہ تجارت کیا کرتی تھیں اور اسی سرگرمی کے نتیجے میں ان کی رسائی نبیٔ کریم ﷺتک ہوئی تھی۔ اس تبصرے سے اقبال کا اصل مقصد کیا تھا؟ یہ جاننے کے لیے اقبال کے اس جملے کو اس کے سیاق و سباق میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ انگلستان میں پیش آیا جہاںایک بڑی دکان کی سیلز گرل نے اقبال کی باتوں میں ہم دردی محسوس کرتے ہوئے اسے اپنی نوکری کی وجہ یہ بتائی کہ والدین کی خستہ معاشی حالت کے باعث وہ اس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں اس لیے وہ نوکری کرنے پر مجبور ہے۔ یہاں اقبال اسلامی تمدن کی عظمت کو محسوس کرتے ہیں جس میں عورت کو حصولِ معاش کی لازمی جدو جہد سے آزاد رکھا گیا ہے۔ لیکن اس سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورت کو کسبِ معاش سے باز رکھا گیا ہے۔

اقبال کا منشا یہ ہے کہ عورت کا اولین فریضہ تربیت اولاد ہے۔ خود اقبال کے دور تک یہ بات شاید اتنی شدت سے نمایاں نہ ہوئی ہو لیکن آج جب کہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی ختم ہونے کو ہے، یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بچوں کی تربیت کا عمل اتنا سادہ اور یک رخا نہیں رہا کہ گھر کے اندر بیٹھی مائیں محض باورچی خانے کے تخت پر براجمان ہو کر اولاد کے کردار وعمل کا رُخ متعین کر سکیں۔ ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی رابطوں کی غیر معمولی ترقی نے اولاد انسانی کو انتہائی پیچیدہ ماحول میں لا پھینکا ہے۔ ہم اسے پسند کریں یا ناپسند، مگر یہ حقیقت ہے کہ اب انسان کی نسل نوکی تربیت کا عمل کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں بل کہ پورا معاشرہ اس اہم ترین سرگرمی میں حصہ دار بن چکا ہے۔ جب تک پورے معاشرے کا قبلہ درست نہ ہو، نئی نسل کو کسی مخصوص سانچے میں ڈھالنا کم و بیش ناممکن ہے بل کہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک عالم گیر کلچر کے اثرات سے نمٹنا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ بلاشبہ، مائیں بھی اس عمل میں برابر کی شریک ہیں لیکن صرف ماؤںپر یہ ذمہ داری ڈالنا اب ممکن نہیں رہا۔ یوں بھی جب تین سالہ بچہ اسکول جانے لگے تو ماں اس کی جذباتی ونفسیاتی تسکین کا ذریعہ تو بن سکتی ہے لیکن تن تنہا اس کی رہنما نہیں بن سکتی اور معاشرتی ماحول براہ راست اس پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ البتہ اقبال کا دور اس لحاظ سے مختلف تھا کیوں کہ اس دور میں نہ تو رسمی تعلیم کا یہ انداز مقبول تھا اور نہ ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی رابطوں کی یہ صورت تھی جو آج ہے۔ اقبال اس طویل تہذیبی تاریخ کے تناظر میں اس مسئلہ کو دیکھتے ہیں جو ہندوستان میں صدیوں سے رائج تھا اور جس کے تحت عورت مرد کی معاونت یوں کرتی ہے کہ اس کی خوارک، لباس اور آرام کی فراہمی کی ذمہ دارسمجھی جاتی ہے اور مرد صرف حصول روزگار کی کشاکش کا سزاوار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ سماجی رویہ بھی منسلک ہے کہ اہم ترین کام مرد کے ذمہ ہے لہٰذا اسے گھر میں سکون و آرام فراہم کرنا عورت کا فرض ہے جب کہ عورت کے فرائض ثانوی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کا صلہ اتنا ہی کافی ہے کہ مرد اسے کھانا اور لباس فراہم کرے اور اس کی بنیادی ضروریات مہیا کرتا رہے۔ اقبال اس تقسیم کار سے پوری طرح مطمئن تھے۔ اگرچہ وہ عورت کے مادرانہ فرائض کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان کی بنا پر اسے بہت قابل احترام سمجھتے ہیں لیکن یہ احترام نظری نوعیت کا ہے۔ اقبال اس مسئلہ پر اسلامی نقطۂ نظر اور اپنے تہذیبی پس منظر کے درمیان کشمکش کا شکار رہے ہیں۔

اسلام میں عورت کا احترام محض امومت کی بنا پر نہیں ہے۔ قرآن، عورت کو مرد کی طرح ایک مکمل انسان کے طور پر مخاطب کرتا ہے اور اس کی اہمیت اور ضرورت کو کسی خاص معاشرتی کردار سے مشروط نہیں کرتا۔ مگر اقبال ابتدا میںاسلامی معاشرے کی تشکیل میں عورت کو محدود طور پر کارفرما سمجھتے تھے۔

اس موقع پر اقبال کی ذہنی کیفیات کو سمجھنے کے لیے ایک نظران کی فارسی مثنویوں ’’اسرارخودی‘‘ اور ’’رموز بے خودی ‘‘ کے مندرجات پر بھی ڈال لینی چاہیے۔ ’’اسرارِ خودی‘‘ ۱۹۱۵ء میںشائع ہوئی اور بقول اقبال اس کی تخلیق کا محرک ان کے والد کی نصیحت تھی۔ ۴۹ اس مثنوی میں انھوںنے اپنے نظام فکر کے کلیدی تصور یعنی خودی کی وضاحت پیش کی ہے۔ یہ ایک فلسفیانہ تصور ہے جسے عملی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انھوں نے معاشرے میں فرد کو خودی کی تربیت کے مراحل سے بھی آگاہ کیا ہے اور ان عناصر کا بھی ذکر کیا ہے جو فرد کی خودی کو تقویت پہنچاتے ہیںیا اسے کمزور بناتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی دراصل خود شعوری کا دوسرا نام ہے۔ یہی خود شعوری تخلیق کائنات کا باعث بنی جب خودی نے خود اپنی ذات کے اظہار کے لیے اپنے ہی وجود سے غیر کی تخلیق کی۔ خودی کی نشوونما پیکار مسلسل سے وابستہ ہے۔ یہ آرزو کی کرشمہ سازی ہے۔ علم وآگہی اس کے محافظ اور مقاصد کے حصول کی پیہم جستجو اس کی زندگی کا راز ہے۔ یہ ایک نوری شے ہے جو عشق و محبت سے استحکام پذیر ہوتی ہے۔ یہاں اقبال نے مستانہ انداز میں عشق کا ترانہ گایا ہے۔ ان کا تصور عشق صوفیانہ تجربے کا عطر ہے لیکن اقبال نے اسے ذات ِ خداوندی کے بجائے ذاتِ مصطفیٰ سے وابستہ کر کے اس میں انفرادی رنگ کے بجائے اجتماعی پہلو واضح کر دیا ہے۔ یہی اجتماعی پہلو بعد ازاں معاشرتی رویوں کے حوالے سے خودی کی تربیت کا سامان بن جاتا ہے۔ اقبال سوال کو خودی کی نفی قرار دیتے ہیں اور اطاعت اور ضبط نفس کے مراحل سے گزرنے کے بعد اسے نیابت الٰہی کی خوش خبری سناتے ہیں۔ ’’رموز بیخودی‘‘ میں اقبال اپنے معترضین کے اطمینان کے لیے وضاحت کرتے ہیں کہ ان کا مطمح نظرمحض انفرادی خودی کا استحکام نہیں بلکہ وہ فرد کی خودی کو جماعت کی خودی سے مشروط قرار دیتے ہیں۔ اس مثنوی میں انھوںنے فرد اور جماعت کے تعلق پر روشنی ڈالی ہے اور یہاں جماعت سے ان کی مراد ملت اسلامیہ ہے۔ اسی حصے میں وہ ملت اسلامیہ کے مختلف پہلووں کی وضاحت کرتے ہوئے امومت کی اہمیت بھی بیان کرتے ہیں اور اس کے حفظ و احترام کو عین اسلام قرار دیتے ہیں۔ یہاں وہ دختر رسولؐ، حضرت فاطمۃالزہرا ؑکی زندگی کو مسلمان خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل قرار دیتے ہیں جن کی آغوشِ تربیت میں حسن اور حسین جیسی جلیل القدر ہستیاں پروان چڑھیں۔ وہ بی بی فاطمہ کے جن اوصاف حمیدہ کی ستائش بیان کرتے ہیں، ان میں تسلیم و رضا، صبر، ادب، جفاکشی، اطاعت اور سوزو گداز شامل ہیں۔ یہی وہ اصل اصول ہیں جن پر اقبال اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو پرکھتے اور متعین کرتے ہیںاور یہی بنیادی طرز فکر ہے جس پر وہ عورت سے متعلق اپنے نظریات کو استوار کرتے ہیں۔ اگرچہ ’’اسرارِ خودی‘‘ میں انھوں نے خودی کی وضاحت کرتے ہوئے کہیںمرد یا عورت کی تخصیص نہیں کی اور ہم آسانی سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا تصور خودی مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر قابل عمل ہے لیکن اپنی دیگر تحریروں میں وہ عورت کے کردار کو جس طرح ایک خاص دائرے میں محدود رکھنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں اس سے احساس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عورت کی خودی، خود اپنی ذات کے شعور یااستحکام سے نہیں بلکہ ایک طرح سے اپنی ذات کی نفی کرکے وجود غیر کے اثبات سے وابستہ ہے۔ لاکھ ہم یہ کہیں کہ اولاد عورت کے لیے وجود غیر نہیں بلکہ اس کی اپنی ذات ہی کی توسیع ہے۔ لیکن یہ بات تو مرد پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے جتنی عورت پر۔ بل کہ مرد تو اس بات کا عورت سے زیادہ دعوے دار ہو سکتا ہے کیوں کہ نسل تو اسی سے وابستہ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن مرد کے لیے تو علامہ فن تمثیل بھی ناپسند کرتے ہیں کیوں کہ اس فن میں وقتی طور پر ہی سہی، انسان اپنی ذات کی نفی کرکے کسی غیر ذات کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ پھر وہ عورت سے یہ امید کیوں وابستہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کے اثبات کے لیے وجودِ غیر کی محتاج ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر اقبال کے کچھ ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ اقبال کا فلسفۂ خودی محض مردانہ تصور ہے اور عورت اس دائرے سے باہر رکھی گئی ہے۔ پروفیسر محمد انور صادق اس ضمن میں فرماتے ہیں:

۔ ۔ ۔ رہا عورت کے سربراہ مملکت بننے کا مسئلہ تو اس پر براہ راست اقبال کی کوئی آرا نہیں ملتی ]ملتیں[، نہ مواقفت میں اور نہ مخالفت میں۔ البتہ ان کے دیگر خیالات و رجحانات کی روشنی میں استدلال کر کے کوئی نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو شخص عورت کا صحیح مقام گھر کی چاردیواری سمجھتا ہو اور جو عورت کے کلرک، ٹائپسٹ یا سیلز گرل بننے کا مخالف ہو، یعنی جو عورت کے ملازمت کرنے کامخالف ہو، وہ بھلا عورت کو سربراہ مملکت بننے کی اجازت کیوں کر دے سکتا ہے؟ اقبال کے نزدیک تو عورت کا اولین فرض اولاد کی تربیت کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اگر وہ کوئی کام کرے گی تو قانونِ فطرت کی خلاف ورزی ہوگی۔ لہٰذا عورت حکم ران جن تو سکتی ہے، بن نہیں سکتی۔ اب اگر عورت حکم ران نہیں بن سکتی تو وہ نائب حق کیوں کر بن سکتی ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں شاید عورت کے لیے اطاعت اور ضبط نفس ہی کے دو مراحل ہیں، نیابتِ الٰہی کی منزل صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے کیوں کہ عورت کو دہری اطاعت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک خدا کی اور دوسرے مجازی خدا کی۔ ۵۰

مغرب میں برپا تحریک آزادی ِنسواں کے بارے میں اقبال کا رد عمل شاعری میں پہلی بار بانگ درا کے ظریفانہ اشعار میں ہوتا ہے:

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدنظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ۵۱

یہیں پردے کے مسئلے پر فرماتے ہیں:

شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
مفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئے
وعظ میں فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہو گئے ۵۲

(اگرچہ بظاہر اس قطعہ کا مقصود شیخ صاحب کی مصلحت اندیشی پر طنز ہے لیکن آخری مصرعے میں ایک لاشعوری خیال بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ عورت پر پردہ دراصل اس لیے واجب ہے کہ مرد میں مردانگی پائی جاتی ہے۔ گویا اس کے اس جوہر کی سزا عورت کو دی جانی چاہیے۔ اور نظر کی تہذیب کرنے کے بجائے منظر کو مٹا دینے پر اصرار کیا جانا چاہیے۔)

مغرب میں ان دنوں عورت ووٹ کے حق میں مطالبات پیش کررہی تھی چنانچہ اقبال اس پر تبصرہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں:

یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند!
غیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گی
آتا ہے اب وہ دور کہ اولاد کے عوض
کونسل کی ممبری کے لیے ووٹ چاہے گی۵۳

جاوید نامہ میں فلک مریخ پر نبوت کا دعویٰ کرنے والی خاتون کے عورتوں سے خطاب میں علامہ مغرب کی تحریک نسواں کے جن چند پہلووں کوبے نقاب کرتے ہیںدراصل وہ اس تحریک کے بنیادی مطالبات سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اس کے انتہاپسندانہ رویے کے عکاس ہیں۔ ان اشعار میں عورت کی آزادی سے مراد شوہر اور امومت کی ذمہ داریوں سے آزادی لی گئی ہے اور اسے اسراربدن کا جویا قرار دیا گیا ہے۔ ۵۴

عورت کے عنوان سے ضرب کلیم میں شامل قطعات نما مختصر نظمیں بھی اقبال کے ایسے ہی خیالات کی آئینہ دار ہیں۔ اس حصے کی پہلی نظم ’’مرد فرنگ ‘‘میں مسئلہ ٔ زن کے سلجھ نہ پانے کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ بے چارہ مرد سادہ ہے اور زن شناسی کے جوہر سے محروم ہے۔ دوسری قطعہ نما نظم میں حکیم یورپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا فرنگی معاشرت کا کمال یہی ہے کہ مرد بے کار ہو او ر زن تہی آغوش۔ ۵۵ تیسری نظم ’’پردہ‘‘ میں مردوزن دونوں کی خودی کے ہنوز آشکارا نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔ اگلی نظم کا عنوان ’’خلوت‘‘ ہے جس میں جلوت کی ہوس کے ہاتھوں خلوت سے محرومی کا گلہ ہے۔ نظم کا دوسرا شعر ہے:

بڑھ جاتاہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر۵۶

غالباً اس ذوقِ نظر کے حد سے گزر جانے کی ذمہ داری بھی عورت ہی کے کاندھے پر ہے کیوں کہ وہ خلوت نشین ہونے کے بجائے جلوت کی تمنائی ہے۔ لیکن آخری شعر اس خیال کو کہیں اور لے مڑتا ہے جب وہ کہتے ہیں:

خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر ولیکن
خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر۵۷

اب یہ ایک مابعد الطبیعیاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔

اس سے اگلی نظم ’’عورت‘‘ اقبال کی معروف نظموں میں سے ایک ہے۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار ِ افلاطوں۵۸

اس نظم کا پہلا شعر برسوں سے طالب علموں اور سیاسی کھلاڑیوں کی تقریروں اور خطبوں کا حصہ رہا ہے۔ عام طور پر اسے عورت کی فضیلت اور عظمت کا ترجمان سمجھا جاتا ہے حال آں کہ ذرا سا غور کرنے پر احساس ہوتا ہے کہ اس شعر میں عورت کو زندگی کامحض آرائشی اور جمالیاتی جزو قرار دیا گیا ہے۔ جمال کو اقبال نے کئی مقامات پر نسوانیت سے تعبیر کیا ہے اور اسے جلال کے بغیر ادھورا اور ناقص قرار دیا ہے۔ (اقبال کے تصور جمال و جلال کو روزگار فقیر میں درج ایک واقعے سے ملا کر پڑھنا چاہیے جس میں بیان ہے کہ کس طرح حضورﷺ کی زندگی کا ایک واقعہ سن کر، جو بلی کے بچوں سے متعلق تھا، اقبال پر رقت طاری ہو گئی اور انھوں نے تسلیم کیا کہ رسول کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں سب سے زیادہ اہمیت Motherhood کو دی گئی ہے۔ ۵۹ Motherhoodکا یہ تصور جمالیاتی یا نسائی سمجھا جا تا ہے۔ اقبال کے نظام فکر پرپدرانہ جلال کا غلبہ محسوس ہوتا ہے جب کہ جمال کو وہ نسائیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ) حتیٰ کہ دلی کی جامع مسجد کے بارے میں بھی انھوں نے ’’وہ تو ایک بیگم ہے‘‘ کہ کر اس کے جمالیاتی پہلو کو ناکافی قرار دیا ہے۔ ۶۰ہو سکتا ہے کہ اقبال شعوری طور پر عورت کے محض جمالیاتی رُخ کی تحسین کر کے عورت کی فضیلت ہی بیان کرنے چاہتے ہوں، لیکن اس شعر میں پیش کردہ تصوراس معاشرے کی بالکل سچی تصویر کشی کر دیتا ہے جس میں اقبال پیدا ہوئے تھے اور جو کسی نہ کسی صورت آج بھی جوں کا توں ہمارے اردگرد موجود ہے۔ نظم کا تیسرا اورآخری شعر اگرچہ عورت کی ذہنی و فکری کم مائیگی کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن شعلے اور شرر کی نسبت نے اس کے معانی میں ایک متضاد کیفیت پیدا کر دی ہے۔ شرار کتنا ہی تابندہ و روشن کیوں نہ ہو، شعلے کی لپک اور آنچ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

اگلی نظم ’’آزادیٔ نسواں ‘‘ ہے جس میں اقبال اپنی معذوری کا اظہار کر کے بحث کا فیصلہ خود عورت کی بصیرت پر چھوڑ دیتے ہیں مگر مسئلہ زیر بحث انتہائی مبہم ہے یعنی:

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادیٔ نسواں کہ زمرد کا گلو بند۶۱

یہاں زمرد کا گلوبند کس شے کی علامت ہے؟ عیش و عشرت کی؟ طوقِ غلامی کی؟ آرائش ِ جمال کے وسیلے کی یا عورت کے مرد پر انحصار کی ؟ خود شعر کے مضمون میں کوئی بھی اشارہ پنہاں نہیں ہے۔ البتہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اس ترکیب کے کئی مفاہیم بیان کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں :

لفظ ’’زمرد کا گلو بند‘‘ اس مصرع میں بہت لطف دے رہا ہے۔ اس کے تین معانی ہیں۔(۱) بے پردہ عورتیں چوں کہ زمرد کا گلوبند پسند نہیں کرتیںاس لیے اس لفظ سے مراد ہے ’’پردہ‘‘، (۲) گلوبند سے مراد ہے پابندی اور قید اور پردہ بھی ایک قید ہے۔(۳) زمرد کا گلوبند بہت قیمتی چیز ہے لہٰذا اقبال دریافت کرتے ہیں کہ تمھیں آزادی پسند ہے جو ادنیٰ چیز ہے، یا زمرد کا گلوبند پسند ہے جو قیمتی چیز ہے؟ نیز زمرد کا گلوبند بہت قیمتی چیز ہے جو عموماً شوہر جہیز میں پیش کرتا ہے اس لیے اس سے شوہر کی فرماں برداری بھی مراد ہو سکتی ہے۔۶۲

پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی یہ تشریح اس تہذیبی تناظر کی ترجمان ہے جس میں اقبال کے اشعار کو سمجھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اول تو ان کا یہ کہنا کہ ’’زمرد کا گلوبند‘‘ اس مصرع میں بہت لطف دے رہا ہے، کئی نفسیاتی کوائف کی چغلی کھاتا ہے۔ باقی رہی اس لفظ کی تشریح و توضیح، تو انھوںنے اس بات کو محض چند مفروضوں کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کیا ہے۔ پہلا مفروضہ یہ ہے کہ بے پردہ عورتیں زمرد کا گلوبند پسند نہیں کرتیں۔ یہ محض ایک ذاتی رائے ہے ورنہ اس امر کو ایک تعمیمی کلیے کے طور پر استعمال کرنا ممکن نہیں۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ گلوبند سے مراد پابندی اور قید ہے اور پردہ بھی ایک قید ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلوبند قید کیوں ہے؟ اور اگر ہے بھی تو پردہ کو قید کہنا کیا کسی اصولی موقف کا بیان ہے یا محض کسی ایک طبقے کا خیال؟ مطلب یہ ہے کہ کیا پروفیسر صاحب بھی پردہ کو قید سمجھتے ہیں ؟ تیسری بات یہ ہے کہ زمرد کا گلوبند قیمتی چیز ہے اور آزادی ادنیٰ۔ یہ کلیہ کس بنا پر قائم کیاگیاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پوری نظم کامفہوم انتہائی الجھا ہوا ہے اور خود متن کی قرات سے ہر گز معلوم نہیں ہوتا کہ اقبال واضح طور پر کیا کہنا چاہتے ہیں۔ ان کے دیگر خیالات و اشارات کی روشنی میں یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اقبال سمجھتے ہیں کہ عورت کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ زمرد کا گلوبند جو آرائشی شے ہے اور افزائش ِ جمال کا باعث ہے، اس کے لیے زیادہ اہم ہے یا آزادی کا احساس۔ یہاں آزادی سے مراد غالباً معاشی آزادی ہے جس کی طلب میں عورت نے اپنے جمالیاتی پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے۔

اقبال اس مسئلے پر الجھن کا شکار ہی نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر اس حصے کی آخری نظم :

جوہر مرد عیاں ہوتا ہے منت غیر
غیر کے ہاتھ میں ہے جوہر عورت کی نمود ۶۳

یہ شعرجو ہمارے ہاں عورت کی محکومی کی مسکت دلیل کا درجہ رکھتا ہے، محض شاعرانہ طرز بیان ہے ورنہ یہ حیاتیاتی حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جوہر مرد بھی بے منتِ غیر عیاں ہو تو ہو، پنپ نہیں سکتا۔ اور عین ممکن ہے کہ میڈیکل سائنس کچھ عرصہ میں اس مقام پر پہنچ جائے جہاں عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے محتاج نہ رہیں اور انھیں اپنی ہستی کے کچھ اور جواز تلاش کرنا پڑیں۔ لگتا ہے کہ خود اقبال اپنے اس خیال سے اتنے متفق نہیں تھے اور شعر کہتے ہی انھیں اس کی صداقت کے بارے میں شبہ ہو گیا تھا۔ اسی لیے آخری شعر میں یہ کہہ کر معاملہ فیصل کیے بغیر ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ:

میں بھی مظلومیٔ نسواں سے ہوں غم ناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کشود۶۴

مغربی تہذیب پر ان کا سب سے بڑا نکتۂ اعتراض یہ ہے کہ یہ عورت کو امومت کی ذمہ داری سے آزاد کر دیتی ہے۔ جب کہ امومت عورت کی فطرت کا تقاضا ہے۔ سوال یہ ہے کہ فطرت کے تقاضے کو جھٹلانے کی مثالیں تو استثنائی ہی ہو سکتی ہیں۔ انھیں کلیہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ فطرت کا تقاضا ہے تو عورت خواہ مغرب میں ہو یا مشرق میں اس سے انکار نہیں کر سکتی۔ رہا خانگی امور سے متعلق اس کی ذمہ داریوں کا سوال تو جس دین کے پیشوا اپنے گھر میں جھاڑو خود لگا لیتے تھے، اپنے کپڑے اور جوتے خود مرمت کر لیتے تھے، اس دین پر مبنی معاشرے میں یہ کام صرف زنانہ یا نسائی کیوںکر سمجھے جا سکتے ہیں؟ آپؐ کے زمانے میں عرب کے دستور کے مطابق، نومولود بچوں کی دیکھ بھال اور انھیں دودھ پلانے کا کام بھی مائیں خود نہیں کرتی تھیں بلکہ اجرت پر دیہاتی عورتیں مقرر کی جاتی تھیں۔ خود نبی کریم ؐ نے اپنی ابتدائی زندگی اپنی رضاعی ماں کی گود میں گزاری لیکن آپﷺ نے کسی موقع پر یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ یہ دستور بچوں کی تربیت پر منفی اثر ڈالنے کا موجب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے کے حالات اور ان کے تقاضوں کے تحت عورت اور مرد کے فرائض کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ خانگی زندگی کا یہ دستور جس کے مطابق عورت کی زندگی کا واحد مقصد مرد اور بچوں کی دیکھ بھال ہے، ہندوستانی تمدن کا ترجمان ہے مگر قدیم ہونے کے باعث ہمارے ہاں تقدیس کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ دیگر مسلمان ممالک میں عورت کی ذمہ داریوں کی فہرستیں اور ہیں۔

اب تک اقبال کے افکار کا جائزہ لینے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے بھی فقہا کے انھی استدلالات پر اپنی فکر استوار کر لی تھی جنھیں وہ ابتدا میں رد کر چکے تھے اور وہ نہ تو عورت اور مرد کی مساوات کے قائل تھے نہ عورتوں کے حقوق کی تحریک سے متفق تھے۔ اس مسئلے پر اقبال کے حوالے سے جتنے بھی مضامین لکھے گئے ہیں ان میں سے اکثر انھی مثالوں کی مدد سے اسی نقطۂ نظر کی تبلیغ کرتے ہیں۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ جس طرح اقبال زندگی میں اور فکر و عمل کے ہر میدان میں تحرک اور ارتقا کے قائل تھے اسی طرح خود ان کی اپنی فکر ارتقا کے مراحل طے کرتی رہی تھی۔ چناں چہ جنوری ۱۹۲۹ء میں جب اقبال مدراس تشریف لے گئے تو انجمن خواتین اسلام مدراس کے سپاس نامہ کے جواب میں آپ نے جو تقریر فرمائی؛ اگر ہم اسے ان کے گزشتہ بیانات کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اقبال کا فلسفہ اور ان کی فکر فی الواقعہ تحرک اور ارتقا کے علم بردار ہیں۔ وہ مسلسل سوچ بچار کے عمل میں مصروف رہتے تھے اور اپنے تصورات کی کاٹ چھانٹ اور اصلاح جاری رکھتے تھے۔ اپنے خطبے کے آغاز ہی میں معاشرتی زندگی میں عورت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں:

مجھے یہ بتلانے کی ضرورت نہیں کہ اسلام میں مرد وزن میں قطعی مساوات ہے۔ میں نے قرآن پاک کی آیت سے یہی سمجھا ہے۔ بعض علما مرد کی فوقیت کے قائل ہیں۔ جس آیت سے شک کیا جاتاہے وہ مشہور ہے ’الرجال قوامون علی النساء‘، عربی محاورے کی رو سے اس کی یہ تفسیر صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے۔ عربی گرامر کی رو سے قائم کا صلہ جب علیٰ پر آئے تو معنی محافظت کے ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسری جگہ قرآن حکیم نے فرمایا ہے ھن لباس لکم و انتم لباس لھن۔ لباس بھی محافظت کے لیے ہوتا ہے۔ مرد عورت کا محافظ ہے۔ دیگر کئی لحاظ سے بھی مرد وعورت میں کسی قسم کا فرق نہیں۔ ۶۵

اس کے بعد وہ قرون اولیٰ میں عورتوں کے جہاد میں شرکت کرنے، حضرت عائشہ کے درس دینے، عباسی دور میں عورت کے قاضی القضاۃ کے عہدہ پر مامور ہونے اور خلافت اسلامیہ کے دور میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی خلیفہ کے انتخاب میں رائے کا حق دینے کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ فقہ اسلامی کی تشکیل نو پر بھی زور دیتے ہیں اور تعدد ازدواج کے مسئلے کو مخصوص حالات سے مشروط قرار دیتے ہیں۔ مسلمان عورتوں کے لیے وہ ترکی کی اصلاحات کے بجائے اسوۂ فاطمہ کو پیش نظر رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پھر نہایت تفصیل سے وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ عورت کے حق طلاق کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے باپوں کو الزام دیتے ہیں کہ وہ جہالت کے باعث نکاح کے وقت اپنی لڑکیوں کے حقوق کی حفاظت نہیں کرتے اور عورتوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیوں وہ ضرورت پڑنے پر اپنے حقوق کے لیے مردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کرتیں۔ اس سلسلے میں ان کے چند جملے دیکھیے:

اگر عورتیں اپنے حقوق کی حفاظت پر پورے طور سے آمادہ ہو جائیں اور وہ حق جو شریعت اسلامی نے عورتوں کو دے رکھے ہیں، آپ مردوں سے لے کر رہیںتو میں سچ کہتا ہوں کہ مردوں کی زندگی تلخ ہو جائے۔ عورتیں بچے جننے کی اجرت طلب کر سکتی ہیں۔ کھانا پکانے کی اجرت بذریعہ عدالت حاصل کر سکتی ہیں۔ مردوں کو آپ الزام دیتی ہیں، مگر آپ خود الزام سے بری نہیں۔ آپ کو اپنے حقوق پر شدت کے ساتھ اصرار کرنا چاہیے۔ ۶۶

یہ مضمون اس قابل ہے کہ اسے پورے کا پورا دہرایا جائے اور اس کی رگ رگ میں چھپی ہوئی ارتقائی فکر کو محسوس کیا جائے جو ایک جدید اسلامی معاشرے کے تمام تر تقاضوں کو پیش نظر رکھتی ہے۔ اقبال نے اپنے آخری ایام میں اس بات کو کسی حد تک محسوس کر لیا تھا اسی لیے مدراس میں خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے اکثر کو اسلامی تانیثت کی تحریک کا منشور بنایا جا سکتا ہے۔ اب یہ ان کی تجویز کردہ اسلامی مملکت کا فرض ہے کہ اس اہم نکتے پر تحقیق کا دروازہ کھولے اور اسلامی تہذیب کی روح کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔

ختم شد

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

یہ بھی پڑھیں: پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (ا) — وحید مراد

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply