تانیثیت کے بنیادی مباحث: اقبال کا نقطۂ نظر (2) — نجیبہ عارف

0

اقبال اور تانیثیت

مغرب میں تانیثیت کی تحریک کے جتنے بھی پہلو اب تک سامنے آئے ہیں، خواہ وہ عیسائیت کی تبلیغ کی اجازت کا معاملہ ہو، تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کی بات ہو، جائیداد کی ملکیت کا سوال ہو، حکومت کے انتخاب میں حق رائے دہی کا معاملہ ہو یا بچوں کی ولایت کا معاملہ ہو، معاشی خود مختاری کا مطالبہ ہو یا دیگر امور ہوں، یہ سب معاملات ایک بنیادی مقصد کو پانے کی مختلف النوع کوششیں اور مراحل ہیں اور وہ مقصد ہے اثبات ذات۔ اس پس منظر میں اقبال کا تصور خودی تانیثیت کی تحریک کے لیے اس زیریں رو کا کام کرتا ہے جو ایسی تحریکوں کو قوت اور طاقت بخشتی ہے۔ اگرچہ بعض نقادوں نے اقبال کے تصور خودی پر اعتراض کیا ہے کہ یہ صرف مرد کے لیے اثبات ذات کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اقبال عورت کی خودی کو ایک آزاد فرد کی خودی تصور نہیں کرتے بلکہ اسے مرد کی خود ی کے تابع قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت اپنی خودی کا اثبات اپنی اولاد کے ذریعے کرتی ہے اور یوں اپنی نفی کرکے اپنے وجود کا جواز تلاش کرتی ہے۔ جو مفکر فن تمثیل کو اس وجہ سے ناپسند کرتا ہو کیوں کہ اس فن کے لیے انسان وقتی طور پر اپنی خودی کو کسی غیر کی شخصیت میں گم کر دیتا ہے، اس کا یہ کہنا کہ عورت کی خودی کا اثبات وجود غیر کا مرہون منت ہے، دراصل عورت کی خودی کی نفی کے برابر ہے۔ یہ رائے تو ان کے نقادوں کی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود اقبال اس تحریک کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے اور انھوں نے براہ راست اور بالواسطہ طور معاشرے میں عورت کے مقام اور کردار کے بارے میں کیا سوچا، سمجھا اور کہا ہے۔

اقبال کا زمانۂ حیات (۱۸۷۷ء تا ۱۹۳۸ء) تانیثیت کی تحریک کے عروج کا زمانہ ہے۔ اگر تانیثیت کی تحریک کو لہروں کی صورت میں دیکھا جائے تو یہ پہلی لہر کا دور ہے۔ خصوصاً وہ دور جب علامہ یورپ گئے، اس تحریک میں خاصی شدت کا دور تھا۔ ۱۹۰۶ء سے ۱۹۱۳ء کے درمیان چھ مرتبہ خواتین کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق قوانین بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ہر مرتبہ یہ کوشش ناکام رہی۔ ہر ناکامی پر مطالبات کی شدت اور حامیانِ تحریک کی مزاحمت میں اضافہ ہوا۔ دونوں طرف سے پرتشدد اظہار رائے کا رجحان عام تھا۔ تحریک کے حامی گرجوں اور سرکاری عمارتوں کو جلانے پر آمادہ تھے تو دوسری طرف ان پر پر تشدد حملوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ پولیس کا رویہ جانبدارانہ تھا اور وہ تحریک کے حامیوں کی حفاظت پر آمادہ نہ تھی۔۲۱

اقبال ۱۹۰۵ء میں یورپ گئے تو یقیناً انھیں اس تحریک کے ارتقائی مراحل کا علم ہوا ہو گا۔ ان کا میل جول انگلستان کے اعلیٰ سماجی حلقوں سے رہا جہاں انھوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی علمی و ادبی رفاقت سے فیض اٹھایا۔ ان خواتین میں یورپ کے علاوہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والی محترمہ عطیہ فیضی اور مس سروجنی نائیڈو بھی شامل تھیں۔۲۲ با نگ درا کے حصہ دوم میں شامل نظم وصال انھوں نے محترمہ عطیہ فیضی ہی کے نام اپنے خط میں لکھی تھی۔ ان دونوں خواتین کے علاوہ جرمنی میں ان کی دو نوجوان، حسین اور ذہین استانیاں۲۳ بھی ان کی توجہ کا مرکز رہیں اور وہ ان دونوں خواتین سے بے پناہ متاثر ہوئے۔ اس تاثر پذیری کی شدت کا اندازہ ان کے خطوط سے ہوتا ہے۔۲۴ ان خطوط یا اس زمانے کی کسی اور تحریر سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ وہ مغرب میں زور پکڑنے والی تحریک نسواں سے کس حد تک شاکی یا ناخوش تھے اور اسے کس نظر سے دیکھتے تھے۔ اقبال خود اس وقت تک زبردستی کی شادی کے بندھن میں بندھ چکے تھے اور انگلستان سے واپسی پر محترمہ عطیہ فیضی کے نام اپنے خطوط میں جس طور پر انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے اپنے قلبی اضطراب کا ذکر کیا ہے، وہ ان کے احساسات کی اس گہرائی کا آئینہ دار ہے جسے انھوں نے اپنی شخصیت کی گہرائی میں دانستہ چھپائے رکھا۔

میں کسی قسم کی ملازمت نہیںکرنا چاہتا۔ میرا مقصد یہ ہے کہ میں جلد از جلد اس ملک سے بھاگ کر کہیں چلا جاؤں۔ آپ کو اس کی وجہ معلوم ہے۔ میں اپنے بھائی کا ایک قسم کا اخلاقی قرض دار ہوں اور یہی چیز مجھے روک رہی ہے۔ میری زندگی سخت مصیبت بنی ہوئی ہے۔ وہ مجھ پر کوئی سی بھی بیوی زبردستی منڈھ دینا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے والد کو لکھ دیا ہے کہ انھیں میری شادی ٹھہرانے کا کوئی حق نہیں تھا بالخصوص جب کہ میں نے اس قسم کے تعلق میں پڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں اس کی کفالت کرنے پر بالکل رضامند ہوں، لیکن میں اسے اپنے ساتھ رکھ کر اپنی زندگی کو اجیرن بنانے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہوں۔ انسان ہونے کی حیثیت سے مجھے مسرت اور خوشی حاصل کرنے کا حق ہے۔ اگر سوسائٹی مجھے وہ حق دینے سے انکار کر دے تو میں دونوں کا کھلم کھلا مقابلہ کروں گا۔ واحد علاج یہ ہے کہ میں اس بدبخت ملک کو چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں یا پھر شراب نوشی میں پناہ لوں جو خود کشی کو آسان بنا دیتی ہے۔ کتابوں کے یہ مردہ بنجر اوراق مجھے مسرت نہیں دے سکتے۔ میری روح میں کافی آگ پنہاں ہے جو انھیں جلا سکتی ہے اور تمام سماجی رسوم کو بھی۔ آپ کہیں گی کہ ایک اچھے خدا نے یہ تمام چیزیں پیدا کی ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، مگر اس زندگی کے واقعات ایک مختلف نتیجے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ کسی اچھے خدا کی بجائے ذہنی طور پر کسی قادر مطلق شیطان پر یقین لے آنا زیادہ آسان ہے۔۲۵

یہ خط ۹ اپریل ۱۹۰۹ء کو لکھا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اقبال کو یورپ سے لوٹے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے جذبات کی تندی میں فرار کی جو شدید خواہش پوشیدہ ہے وہ یورپ لوٹ جانے کی آرزو کی عکاس ہے اور ظاہر ہے اس آرزو کے پس پشت ان کی جذباتی وابستگی کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی شادی کے خلاف ایسے شدید جذبات کاا ظہار یورپ جانے سے پہلے ان کے ہاں نمایا ں نہیں ہوتا۔ اقبال نے ابھی تک اپنی مثنوی ’اسرارِ خودی‘ کا خاکہ تیار نہیں کیا تھا۔ سماجی رسوم کو جلا کر خاک کر ڈالنے کا ارادہ اور سوسائٹی سے مبارزت کی خواہش، جو اس اقتباس میں جھلکتی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ اقبال اپنی تمدنی زندگی، خصوصاً خانگی زندگی کے مروجہ دستور سے سخت عاجز تھے۔ یوں ہی خیال آتا ہے کہ ایسی ذہنی کیفیت کے دوران کبھی انہیں اس امر کا احساس بھی ہوا ہو گا یانہیں کہ ان کی سوسائٹی صدیوں سے اپنی نصف آبادی کو ان کی مرضی اور مسرت سے جینے کا حق دیے بغیر، کسی بھی شوہر کے سر منڈھ دینے کے قاعدے پر عمل پیرا ہے اور اسے عین دینی و روحانی تقاضا سمجھے ہوئے ہے۔ یہاں نصف آبادی کا لفظ تو معاملے کی وضاحت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ باقی کی نصف آبادی بھی جو اپنے معاملات میں کافی حد تک مختار و مقتدر سمجھی جاتی تھی، ا س حق سے پوری طرح فیض یاب نہیں تھی۔ خود اقبال کا تعلق بھی اسی طبقے سے تھا۔ اسی لیے وہ اپنے ان خیالات کو دوسروں سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے۔ عطیہ کے نام خطوط میں جا بجا انھوں نے اپنے نجی احساسات کی پردہ داری کی بات کی ہے۔ وہ اپنے ان خیالات کو پبلک کے سامنے لانے سے گریز کرتے رہے۔۲۶ ظاہرہے کہ رازداری کی یہ خواہش معاشرتی عدم قبولیت کے خوف سے تھی مگر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اتنے شدید احساسات ان کی فکری زندگی پر اثر انداز نہ ہوئے ہوں۔ مشکل یہ تھی کہ شعوری طور پر جو معاشرتی نظام انھوں نے اپنے سامنے ایک مثالی ریاست کے لیے منتخب کیا تھا اس نظام کا روایتی منظر نامہ ان کے ایسے جذبات کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔ علاوہ ازیں ابھی وہ خود اس مسئلہ پر پوری توجہ مرکوز نہیں کر پائے تھے اور کشمکش کا شکار تھے۔ اس موضوع پر ان کی آرا میں زیروبم کی سی کیفیت ملتی ہے۔

قومی زندگی ‘‘ ان کاپہلا مضمون ہے جو اکتوبر ۱۹۰۴ کے مخزن میں شائع ہوا، اور جس میں انھوں نے عورت کے معاشرتی مقام کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ۲۳ صفحات پر مشتمل اس مضمون کا تقریباً نصف حصہ خواتین کے معاشرتی کردار اور حقوق و فرائض سے متعلق ہے۔ یہ مضمون ان کے یورپ جانے سے پہلے لکھا گیا تھا۔ اس مضمون میں وہ خواتین کی تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اسے قومی ترقی کا ایک لازمی جزو اور قومی تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ ۲۷ مگر اس سوال پرکہ عورتوں کو کیسی تعلیم دی جانی چاہیے، وہ اعتراف کرتے ہیںکہ سوچ بچار کے بعد بھی وہ کسی قابل عمل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

۔ ۔ ۔ اس ضمن میں ایک غور طلب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مشرقی عورتوں کو مغربی طریق کے مطابق تعلیم دی جائے یا کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جائے جس سے ان کے وہ شریفانہ اطوار جو مشرقی دل و دماغ کے ساتھ خاص ہیں، قائم رہیں۔ میں نے اس سوال پر غور و فکر کیا ہے مگر چوں کہ اب تک کسی قابل عمل نتیجے پر نہیں پہنچا اس واسطے فی الحال میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔۲۸

یہاں اقبال کی فکری دیانت داری لائقِ تحسین ہے۔ وہ کوئی سا بھی مقبول عام خیال پیش کر سکتے تھے مگر انھوں نے اپنی رائے کے اظہار میں انتہائی احتیاط سے کام لیا۔ اس حصے میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہاں انھوں نے لفظ مشرقی عورتیں استعمال کیا ہے، مسلمان عورتیں نہیں۔ گویا اس مرحلے پر ان کے پیش نظر ہر ہندوستانی عورت کے تعلیمی نصاب کا سوال تھا، خواہ وہ کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتی ہو۔ ظاہر ہے یہ اقبال کی زندگی کا ابتدائی دور تھا اور اس دور میں سیاسی اعتبار سے بھی ان کے دل میں ’’خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیو تا ہے، ۲۹ نیا شوالہ۳۰ اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ۳۱ جیسے جذبات موج زن تھے اسی لیے وہ عورتوں کے لیے بھی مشرقی اورمغربی کی تقسیم کافی سمجھتے ہیں۔ ان کے پیش نظر ہندوستانی سماج کا عمومی ماحول اور اس کے مضمرات ہیں۔ وہ اس مرحلے پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی عورت کی مشرقیت اس کی پہچان بھی ہے اور اثاثہ بھی۔ لیکن اس مشرقیت سے ان کا اشارہ کن خاص اوصاف کی جانب ہے؟ وہ کون سے شریفانہ اطوار ہیں جو مشرقی دل و دماغ کے ساتھ خاص ہیں اور مغربی عورت ان سے محروم ہے؟ ان دونوں سوالوں کے جواب یورپ سے واپس آنے کے بعد اقبال کی نظم و نثر میں مل جاتے ہیں۔ مگر اس وقت تک ان کا ذہن عورت کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں قدرے مختلف انداز میں کارفرما ہو چکاتھا اور وہ عام ہندوستانی عورت کے بجائے ایک مسلمان عورت کی زندگی پر غور و فکر کر رہے تھے۔ اس لیے یہ سمجھناکہ مضمون ’’قومی زندگی‘‘ لکھتے ہوئے ان کے ذہن میں مشرقیت کا کیا مخصوص تصور تھا، محض اس قیاس پر مبنی ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں، بلکہ آج کل بھی، عمومی طور پر مشرقیت سے کیا مراد لی جاتی ہے۔ مشرقیت کی اصطلاح عوام الناس میں خاصی مقبول رہی ہے اورخواتین کے حوالے سے اسے شرم و حیا، انفعالیت، فرماں برداری، ایثار و قربانی، سماجی روایات کی پاس داری، خاندانی ناموس کی حفاظت اور اپنی ذات کو تج کر، اہلِ خانہ، خاندان اور معاشرے کے مسرت و اطمینان کا اہتمام کرنے کی روایت پر محمول سمجھا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے مشرقی معاشروں میں ان اقدار کی پاس داری کی ذمہ داری صرف خواتین کے نازک شانوں پر ڈال دی جاتی ہے، ورنہ انفعالیت کے علاوہ وہ کون سی ایسی قدر ہے جو معاشرے کے تمام افراد کی بلندیٔ اخلاق کی ضامن نہ ہو۔ اسلام میں توحیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ایک ایسے سماج میںجس کی تشکیل مردانہ مفادات کے پیش نظر کی گئی ہو، ان اقدار کو ـ’’نسائی‘‘ یا ’’زنانہ‘‘ کہ کر ان کی پابندی صرف خواتین کے طبقے پر لازم قرار دے دی جاتی ہے اور بقیہ نصف آبادی خود کو ان سے مبرا سمجھتی ہے کیوں کہ اسی میں ان کی آسانی اور سہولت ہے۔ یہ طرز فکر اقبال کے زمانے سے نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے سے لے کر آج تک مقبول عام ہے۔ یہاںاقبال نے مشرقی عورت کے جن اوصاف کو ’’شریفانہ اطوار‘‘ قرار دے کر سراہا ہے، وہ غالباً یہی اوصاف ہیں۔

تیسری اہم بات جو اس مضمون میں اقبال نے چھیڑی ہے، پردے سے متعلق ہے۔ یہاں ان مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے جن کا استدلال یہ ہے کہ ابتداے اسلام کے زمانے میں نیز دیگر اسلامی ممالک میں پردے کی یہ صورت رائج نہیں جو ان دنوں ہندوستان میں رائج ہے۔ اقبال اس بارے میں قدرے تحفظات کا شکار نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ’’ اقوام ہندوستان نے اخلاقی لحاظ سے بہت کچھ ترقی نہیں کی اس لیے پردے کو یکسر ترک کر دینا قوم کے لیے نہایت مضر ہو گا۔ ہاں اگر قوم کی اخلاقی حالت ایسی ہو جائے جیسی کہ ابتداے اسلام کے زمانہ میں تھی تو اس کے زورکو کم کیا جاسکتا ہے اور عورتوں کو آزادی سے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے‘‘۔ ۳۲ (اس آخری جملہ میں انھوں نے مردوں کے بجائے افرادکا لفظ استعمال کیا ہے جس کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورتیں افراد قوم میں شمار نہیں ہوتیں۔ مگر ہمارے ہاں اس نوع کے لسانی تجزیوں سے ذہن کی لاشعوری حالتوں کا سراغ لگانے کا رواج ابھی زیادہ مقبول نہیں ہوا۔ ) گویا وہ پردے کو شریعت کامقصودبالذات حکم نہیں سمجھتے بل کہ اقوام کی سماجی، تمدنی اور اخلاقی صورت حال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس کے متعلق ہر زمانے کے اپنے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ اس اہم موضوع پر اقبال نے بعد کے ادوار میں زیادہ بحث نہیں کی البتہ ان کے ملفوظات میں ایسے اشارے مل جاتے ہیں جن سے ظاہرہوتا ہے کہ اقبال پردے کی پابندی کے حامی تھے۔

اسی مضمو ن میں آگے چل کر انھوں نے مسلمانوں میں رائج نارضامندی کی شادیوںکو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور منگنی کے بعد فریقین کو اپنے بزرگوں کے سامنے ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی عادات اور مزاج کا مطالعہ کر سکیں اور اگر ان کے مذاق قدرتاً مختلف واقع ہوئے ہیں تو منگنی کا معاہدہ فریقین کی خواہش سے ٹوٹ سکے۔ ان کے خیال میں یہ دستور نہایت مفید ہو سکتا ہے کیوں کہ اس میں’’ مغربی دستور ’’کورٹ شپ‘‘ کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور اس کے نقائص معدوم‘‘۔ ۳۳ یہ آخری جملہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ بہت فکر انگیز بھی۔ اقبال نے جب یہ مضمون لکھا تب تک ابھی وہ یورپ نہیں گئے تھے مگر ظاہر ہے کہ مغربی دستور حیات کو سمجھنے کے لیے ان دنوں یورپ جانا ہی واحد امکان نہیں تھا کیوں کہ ایک مغربی قوم بذات خود ان کے ارد گرد موجود تھی اور اس کا طرز زندگی بہت کچھ عیاں تھا۔ اقبال کا اس دور میں، یعنی بیسویں صدی کے پہلے چند سالوں میں اس نتیجے پر پہنچنا اور یہ رائے پیش کرنا یقینا ایک جرأت آمیز کام تھا اور اس سے ان کی ذہنی کیفیات کا بہت کچھ اندازہ ہوتا ہے خاص طور پر اس تناظر میں کہ ان کی اپنی زندگی نارضامندی کی شادی سے تلخ ہو چکی تھی جس کا برملا اظہار بعد ازاں عطیہ بیگم کے نام ان کے خطوط سے ہوتا ہے۔ ان خطوط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شدید ذہنی کشمکش کا شکار تھے۔۳۴ یورپ میں ملنے والی خواتین سے ان کی ذہنی رفاقت اس امر کی متقاضی تھی کہ وطن واپس آنے کے بعدبھی انھیں یہ ذہنی و روحانی مسرت میسر رہے لیکن ہندوستان کے سماجی ماحول خصوصاً متوسط طبقے کی اخلاقیات میں اس کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ شادیوں کے دستور بھی ایسے تھے کہ فرد کی انفرادی ذہنی و روحانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر خاندانی ضروریات کو اولیت دی جاتی تھی۔ اگر کوئی ان قیود کو توڑنے کی کوشش بھی کرتا تو ایسا شدید ٹکراؤ ہوتا کہ فرد کی مسرت کا ہر امکان معدوم ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے خود اپنے لیے اسی مروجہ معاشرتی طرز عمل کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں انھیں خاندانی اور گھریلو امور سے فراغت مل سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی میںبھر پور سکون اور مسرت کے لمحات بہت مختصر رہے۔ جاوید اقبال ان کے اس رویے کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اقبال اگر چاہتے تو ایسی ہی کسی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ خاتون سے شادی کر سکتے تھے لیکن روشن خیال ہونے کے باوجودوہ بعض معاملات میں روایتی قدامت پسندی کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔ معلوم ہوتا ہے انھیں کسی ایسی خاتون کی تلاش تھی جو ان کی بیوی کی حیثیت سے ان کے خاندان کے افراد سے گہرا تعلق اور وابستگی قائم رکھ سکے۔ ۳۵

یورپ سے واپسی پراگر چہ چند مغربی تعلیم یافتہ خواتین کی رفاقت کی یاد ان کی زندگی کا سرمایہ بن گئی اور ان کی جذباتی زندگی ان سے شدید طور پر متاثر ہوئی، لیکن فکری اعتبار سے وہ قدرے مختلف نہج پر چل نکلے تھے۔ یہاں تک کہ جس اقبال نے مغربی دستور ’’کورٹ شپ‘‘ کو خامیوں سے پاک کرنے اور اس کی خوبیوں کو اپنانے کا مشورہ دیا تھا وہی اقبال، بیگم راس مسعود سے محبت یا رضامندی کی شادی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

شادی کا بنیادی مقصد صالح، توانا اور خوش شکل اولاد پیدا کرنا ہے اور رومان کا اس میں دخل نہیں ہونا چاہیے۔۳۶

یہاں خوش شکل کا لفظ خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ اس خیال سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو خواتین اس معیار پر پوری نہ اتریں، کیا انھیں معاشرتی عدم قبولیت کو اپنا مقدر مان لینا چاہیے؟ اوردوسرا یہ کہ کیا خواتین کو بھی یہی مقصد اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے یا نہیں؟ حال آں کہ ا قبال خود سر راس مسعود اور ان کی بیگم کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور رفاقت سے بہت متاثر تھے اور ان کے گھر رہ کر دلی سکون محسوس کرتے تھے۔ ۳۷ اسی طرح اپنے استاد آرنلڈ اور ان کی بیوی کے درمیان ذہنی رفاقت کے رشتے سے بھی وہ بہت متاثر تھے مگر یورپ سے واپسی کے بعد ان کے خیالات میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی تھی جس نے ان کے نظریہ وطنیت کو تصور قومیت میں بدل دیا تھا اور وہ ایک ایسے نظام معاشرت کی تشکیل کے آرزومند رہنے لگے تھے جس میں خواتین، ان کے مغربی مشاہدات و تجربات کے برعکس، ایک مختلف کردار کی حامل ہوں۔ حتیٰ کہ عورتوں کی تعلیم کے متعلق بھی وہ مخصوص تحفظات کا شکار ہو گئے۔ ۱۹۱۰ء میں لکھی جانے والی ان کی ڈائری کے اندراجات تعلیم نسواں سے متعلق ان کے بدلتے ہوئے خیالات کے آئینہ دار ہیں۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

میں آزاد نظام تعلیم کا قائل نہیں۔ تعلیم بھی دیگر امور کی طرح قومی ضروریات کے تابع ہوتی ہے۔ ہمارے مقاصد کے پیش نظر مسلم بچیوںکے لیے مذہبی تعلیم بالکل کافی ہے۔ ایسے تمام مضامین جن میں عورت کو نسوانیت اور دین سے محروم کر دینے کا میلان پایا جائے احتیاط کے ساتھ تعلیم نسواں کے نصاب سے خارج کر دئیے جائیں۔ ۳۸

اس اقتباس پر کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں مثلاً یہ کہ وہ کون سے مضامین ہیں جن سے عورت نسوانیت اور دین سے محروم ہو جاتی ہے جب کہ مردوں کا دین اور مردانگی اس سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ جلا پاتے ہیں۔ اور اس سے بھی پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے اوصاف ہیں جو عورت کی نسوانیت کی علامت ہیں۔ اقبال نے بعد میں ان میں سے صرف ایک صفت کی وضاحت کی ہے اور وہ ہے امومت۔ لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ کیاکچھ مضامین ایسے بھی عمومی نصاب تعلیم کا حصہ رہے ہیں جنھیں پڑھ کر عورت کے دل سے ماں بننے کی فطری خواہش ختم ہو نے کا امکان ہو؟ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تعلیم قومی ضروریات کے تابع ہوتی ہے۔ گویا خواتین کی تعلیم کا نصاب ہر دور میں قومی ضروریات کے تحت تیار کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی دور میںعورت کو پیشہ ورانہ تعلیم دینا قومی معیشت اور ترقی کے لیے لازمی ہو توکیا ایسا فیصلہ کیا جاسکتا ہے یا کیا جانا از روے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ اقبال نے براہ راست اس موضوع پر بات نہیں کی مگر بین السطور یہی مفہوم پوشیدہ ہے۔

اسی سال ان کے معرکۃ الآرا خطبے ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ میں ان کے یہ خیالات بہت مفصل اور مدلل صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ ’’الرجال قوامون علی النساء ‘‘ کے تحت مرد اور عورت کی مطلق مساوات کے حامی نہیں۔ مرد وزن کے ذمہ جدا جدا فرائض ہیں اور ان ذمہ داریوں کے تحت مغرب کی طرز پر عورتوں کو آزاد کر دینا نقصان رساں امر ہو گا۔ عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں اب ان کی رائے یہ ہے کہ اس سے افراد قوم کی شرح ولادت پر نامناسب نتائج مرتب ہوں گے۔ عورتوں کی اقتصادی حریت بھی خاندانی وحدت میں انتشار پیدا کرنے کا موجب ہو گی۔ چناں چہ اپنی قوم کی خاص نوعیت، اسلام کی تعلیم اور عالم نسواں کے متعلق علم الاعضاء اور علم الحیات کے اکتشافات کو مد نظر رکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلمان عورت کو بدستور اسی حد کے اندر رہنا چاہیے جو اسلام نے ان کے لیے مقرر کر دی ہے اور جو حد اس کے لیے مقرر کی گئی ہے اسی کے لحاظ سے اس کی تعلیم ہونی چاہیے۔ آگے چل کر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ عورتوں کو ابتدا میں ٹھیٹ مذہبی تعلیم دی جانی چاہیے اور اس کے بعد اسلامی تاریخ، علم تدبیر، خانہ داری اورعلم اصول حفظ صحت پڑھایا جائے، تاکہ اس کی دماغی قابلیت اس حد تک نشوونما پاجائے کہ وہ اپنے شوہروں سے تبادلۂ خیالات کر سکیں اور امومت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں جو عورت کے لیے اولین اہمیت رکھتے ہیں۔ ۳۹

ان نکات میں کئی باتیں قابل غور ہیں۔ یہاں انھوںنے عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کی مخالفت اس سبب سے کی ہے کہ وہ شرح ولادت پر منفی اثر ڈالے گی۔ یہ بات بذات خود محل نظر ہے۔ پھرموجودہ حالات میں ترقی پذیر دنیا میں شرح آبادی کی روز افزوں افزائش قدرتی وسائل کے جس خوف ناک بحران کو جنم دے رہی ہے اس کے تناظر میں علامہ کے اس استدلال پر دوبارہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ خواتین کے تعلیمی نصاب کے انتخاب کا مقصد انھوں نے یہ بتایا ہے کہ اس کے ذریعے شوہروں سے تبادلۂ خیالات کر سکیں گی اور امومت کے فرائض بطریق احسن سر انجام دے سکیں گی۔ اگر ان مقاصد سے اختلاف نہ بھی کیا جائے تو بھی ان پر عمل پذیری کی صورت کس قدر تبدیل ہو جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی کی ہائی ٹیک دنیا میں جہاںآئی پوڈ، نیٹ سرفنگ، ورچوئل رئیلیٹی، کلوننگ اور ای دنیا کی باتیں پرائمری اسکول کے بچوں کی زبان پر ہیں وہاں صرف تاریخ اسلامی، امور خانہ داری اور علم حفظانِ صحت پر عبور رکھنے والی مائیں اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ شوہروں سے تبادلۂ خیالات کے قابل کس طرح ہو سکیں گی؟ یقیناً اقبال کا منشا یہی ہو گا کہ قوم کی تمدنی صورت حال اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ لہٰذا موجودہ صورت حال میں اقبال کے تجویز کردہ نصاب برائے تعلیم نسواں میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن یہاں اس تصویر کے دوسرے پہلو پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے اور وہ یہ کہ کیا واقعی خواتین تمدنی ترقی میں براہ راست شریک نہیں ہو سکتیں بلکہ تمدن کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے صرف اتنا کر سکتی ہیں کہ اپنے بچوں اور اپنے شوہروں کو تقویت پہنچائیں اور ان کے ذریعے اجتماعی ارتقا میں شریک ہوں۔ اس صورت میں عورت ایک جداگانہ فرد کی حیثیت کھو دیتی ہے اور تمدن کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائی جانے والی جاندار ہستی بن جاتی ہے حال آں کہ عورت بھی ان تمام ذہنی و فکری اوصاف سے متصف ہے جو تمدنی ارتقا میںبراہ راست اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور جنھیں صدیوں کے عدم استعمال نے زنگ آلود ضرور کیا ہے، ختم نہیں کیا۔ دنیا کی تقریباً نصف انسانی آبادی کو اس کی شعوری و فکری نشوونما کے مواقع سے اس لیے محروم رکھنا تاکہ باقی نصف اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے سکے، عقل و انصاف دونوں کے خلاف ہے۔ یہاں اقبال نے اسی نقطۂ نظر کا اعادہ کیا ہے جس کے بارے میں پہلے وہ کہہ چکے تھے کہ یہ مذہب اسلام پر نہیں بلکہ فقہا کے استدلالات پر مبنی ہے اور اس میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ (لیکن آہستہ آہستہ وہ خود انھی استدلالات کا سہارا کیوںلینے لگے۔ اس کی وجوہات کا سراغ لگانا ایک علیحدہ تحقیق کا متقاضی ہے۔)

عورتوں کو آزاد کرنا ان کے نزدیک مضر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت ایک آزاد فرد کی حیثیت سے پیدا نہیں ہوتی ؟ کیا بحیثیت انسان اس کی آزادی مرد یامعاشرے کے ارادے اور خواہش کی مرہون منت ہے؟ مرد اور عورت کی مساوات سے متعلق ان کا نقطۂ نظر جس آیت قرآنی پر مبنی ہے وہ الرجال قوامون علی النساء ۴۰ ہے اور اس آیت کا کلیدی لفظ قوامون ہے۔ اس لفظ کی تشریح میں مولانا ڈاکٹر اسرار احمد کا بیان دیکھیے:

قانونی اعتبار سے مرد کو عورت پر حاکم بنایا گیا ہے۔ میں نے لفظ حاکم جان بوجھ کر استعمال کیا ہے چوں کہ امر واقعہ یہی ہے کہ اسلام نے شوہر کو عائلی نظام میں حاکم کے مقام پر فائز کیا ہے اور قرآن نے اس کے لیے لفظ ’’قوام‘‘ استعمال کیا ہے۔ ماہرین لغت عربی نے اس لفظ کو راعی، محافظ، حاکم اور کفیل کے معنی اور مفاہیم کا حامل بتا یا ہے۔ لہٰذا اس لفظ ’’قوام‘‘ کا صحیح مفہوم و مطلب ہو گا، وہ شخص جو کسی فرد، ادارے یا نظام کے معاملات کو صحیح و درست طور پر چلانے اور اس کی حفاظت و نگہداشت کرنے اور اس کی احتیاجات و ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ ۴۱

غور کرنے کی بات ہے کہ جو شخص کسی فرد، ادارے یا نظام کی نگہداشت پر مامور ہو، کیا اسے اس فرد، ادارے یا نظام کا مالک و مختار بھی سمجھا جا سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ لفظ قوام کے معنی کا یہ پہلواس کلچر کی عطا ہو جس میں مرد کو عورت کا مالک و مختار سمجھا جاتا تھا۔ چوں کہ یہ معانی معاشرے کے طاقت ور طبقے کے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتے تھے اس لیے آہستہ آہستہ یہی معانی اس لفظ سے مخصوص ہو گئے اور یہی اصل اصول بنتا گیا۔ اقبال بھی اسی بنا پرابھی عورت اور مرد کی مساوات کے قائل نہیں ہوئے۔ اگرچہ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلمان عورت کو اسلام کی حدودکے اندر رہ کر تعلیم دی جانی چاہیے لیکن اسلام کی حدود کا جو تصور اس اقتباس سے جھلکتا ہے، قرآن و سنت اس کی تائید نہیں کرتے۔

آہستہ آہستہ اقبال کی یہ سوچ پختہ تر ہوتی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ ۱۸ فروری ۱۹۱۲ء کو مسٹر گوکھلے کے مسودہ تعلیم لازمی کی تائید میں تقریر کرتے ہوئے اقبال عام معترضین کو قائل کرتے ہوئے، لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق جو بیان دیتے ہیں وہ بڑا تعجب خیز ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس جبریہ تعلیم کے قانون کی حد میں لڑکیاں بھی آجائیں گی مگر ہم چاہیں تو اس شق کو قانون سے نکلوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ۴۲

حیرت کی بات ہے کہ یورپ جانے سے پہلے وہ تعلیم نسواں کو قومی تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں مگر واپس آنے کے بعد وہ لازمی تعلیم کے قانون سے لڑکیوں کی تعلیم کی شق نکال دینے کی بات کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اسرا رخودی کی اشاعت کے بعد حافظ پر اقبال کی تنقید کے سلسلہ میں ہونے والی بحث کے دوران ان کا ایک مضمون۱۵ جنوری ۱۹۱۶ء کو ’’وکیل‘‘ امرتسرمیں شائع ہوا جس میں وہ اورنگ زیب عالم گیر کے دور حکومت کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہیں۔ عالمگیر نے شہر بھر کی طوائفوں کو دریا برد کرنے کا حکم دیا مگر حافظ کے ایک شعر نے اسے یہ حکم واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اقبال اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ کے شعر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

۔ ۔ ۔ حافظ کی شاعرانہ جادو گری نے ایک متشرع اور نیک نیت بادشاہ کو جو آئین حقہ شرعیۂ اسلامیہ کی حکومت قائم کرنے اور زانیات کا خاتمہ کر کے اسلامی سوسائٹی کے دامن کو اس بد نما داغ سے پاک کرنے میں کوشاں تھا، قلبی اعتبار سے اس قدر ناتواں کر دیا کہ اسے قوانین اسلامیہ کی تعمیل کرانے کی ہمت ہی نہ رہی۔۴۳

گویا اقبال بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے لیے ایسے حالات پیدا کرنے کے بجائے جو عورت کو ایسے پیشے کی طرف آنے سے روکیں، ایسی عورتوں کو دریا برد کر دینا مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔ اگر یہاں اقبال معاشیات کے اس بنیادی اصول کو بھی ذہن میں رکھتے کہ رسد کی بنیاد طلب پر ہوتی ہے تویقیناًعالمگیر کو مشورہ دیتے کہ ایک کشتی ان عورتوں کے کاروبار کی سرپرستی کرنے والوں کے لیے بھی تیار کی جانی چاہیے تھی۔ اقبال کا یہ تبصرہ ظاہر کرتا ہے کہ انھوںنے اس مسئلہ پر محض سرسری رائے قائم کرلی تھی اور اسے اپنی سوچ بچار کا ایسا موضوع نہیں بنایا تھا جیسا دوسرے قومی وملی، سیاسی مسائل کو بنا رکھا تھا۔

اس معاملے پر انھیں زیادہ مطعون کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا کیوں کہ اقبال جس دور میں یہ سب باتیں کہہ اور لکھ رہے تھے وہ امن اور ترقی کا دور نہیں تھا۔ تمام ہندوستانی بالعموم اور مسلمان، خواہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہوں یا دنیا کے کسی اور خطے سے، بالخصوص اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ سیاسی محاذ گرم تھا اور قومی مسائل کا ایک انبار سامنے تھا۔ ایسے میںخواتین کی تعلیم اور ان کے معاشرتی کردار کا مسئلہ فوری اور بنیادی نوعیت کا حامل نہیں رہتا۔ خاص طور پر ہندوستان کے مخصوص سماجی پس منظر میں تو یہ اور بھی غیر اہم معلوم ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم ایسے حالات میں کہی گئی باتوں کو ترقی اور امن کے سفر کے دوران بھی حرزِ جاں بنائے رکھیں اور اس تناظر کو فراموش کر دیں جن میں یہ باتیں کہی گئی تھیں۔ اقبال نے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی امت مسلمہ کی بیداری اور سیاسی آزادی کے حصول کو اپنا مقصد حیات متعین کر لیا تھا۔ اسی مقصدکے لیے انھوں نے اپنی شاعری کو بھی ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیااور اپنے فلسفیانہ افکار کا ڈھانچا بھی اسی بنیاد پر تعمیر کیا۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دوران ان کے اس جذبے میں نہایت شدت اور جوش و خروش ملتاہے۔ اس مرحلے پر، عورت کے معاملے میں وہ اسی شدت کے زیر اثر نظر آتے ہیں۔

اس مضمون کا تیسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیئے

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ پڑھیئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply