تانیثیت کے بنیادی مباحث: اقبال کا نقطۂ نظر (1) — نجیبہ عارف

0

تانیثیت اور اقبال میں بظاہر کوئی قدر مشترک نہیں۔ بادی النظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے ایک مسلمان معاشرے میں عورت کے کردار کے بارے میں اپنی شاعری، بیانات اور مضامین میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے انھیں مجتمع کر دیا جائے تو شاید اقبال اور تانیثیت کا رشتہ دریافت ہو سکتا ہے۔ اقبال کے نظام فکر میں عورت کا مقام کیا ہے؟ اس نے رسمی اور غیر رسمی تحریر و تقریر میں اس نکتے پر کیا موشگافیاں کی ہیں؟ وہ اپنی مثالی ریاست میں عورت کو کیا کردار تفویض کرتے ہیں؟ ان کی نجی زندگی میں عورت کس حد تک دخیل رہی ہے اور ان کے افکار و تصورات پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر نقادان اقبال نے پہلے سے خاصی سوچ بچار کر لی ہے اور بظاہر اس موضوع میں جدت تلاش کرنا آسان نہیں رہا۔ اقبال فہمی کے سلسلہ میں سب سے بڑی مشکل یہ رہی ہے کہ ہم غالباً ایک طویل مدت تک بت کدۂ ہندوستان میں مقیم ہونے کے باعث، (بلکہ ہم میں سے بہت سوں کے توآباء و اجداد بھی بت پرست تھے)بت پرستی کی ظاہری صورتیں توترک کر چکے ہیں، لیکن بت تراشی کے عمل سے ہنوز فارغ نہیں ہوئے۔ اس عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنے زعما کے گرد تقدس کا ایک ایسا ہالہ لپیٹ دیتے ہیں جس کی دھند میں خود ان تک پہنچنے کا رستہ مسدود ہو جاتا ہے۔ پھر ہم اس بھول بھلیاں سے نکلنے کے لیے الگ الگ راستے تلاش کر لیتے ہیں اور ہر سوال کے جواب میں ایک ایسی دلیل ڈھونڈ لیتے ہیں جو کسی طور بھی مشاہیر پر تضاد یا الجھن یا کم کوشی کا الزام نہ آنے دے اور یوں اپنے مشاہیر کو فوق البشرکے درجے تک پہنچا کے دم لیتے ہیں۔ اس ساری مشقت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مشاہیر کی حقیقی روح بعید تر ہوتی جاتی ہے اور عقیدت مندوں کی حدِ فہم سدّ ِ فہم بن جاتی ہے۔ اقبال کے ساتھ بھی یہی سانحہ رونما ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اقبال کو اس کی کلیت میں سمجھنے کے قابل نہیں ہو پائے۔

اسی بنا پر زیر نظر مضمون میں تانیثیت کے حوالے سے، اقبال کی فکر کے ارتقائی مراحل کو دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور ذاتی دلائل کے بجائے اس نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جو خود اقبال کے ہاں موجود ہے۔ اس موضوع کے انتخاب کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تانیثیت اور فکر اقبال دونوں کا مرکزی نکتہ مشترک ہے اور وہ ہے خودی کا تصور۔ خودی کے تصور کو اقبال کے تناظر میں سمجھنا تو کسی کے لیے بھی مشکل نہ ہو گا لیکن تانیثیت کی تحریک کو عام طور پر اس نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ہمارے ہاں ہی نہیں، بلکہ مغرب میں بھی اس تحریک کے ناقدین اسے کچھ فروعی مطالبات تک محدود سمجھتے ہیں۔ ان مطالبات میں سے بھی عموماً ان باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اخلاق و اقدار کی شکست و ریخت کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ تانیثیت کی تحریک عورت کو تہذیب و اخلاق، حتیٰ کہ لباس سے بھی محروم کردینے کی سازش ہے، یہ ان چند عورتوں کی کارستانی ہے جو خاندانی نظام کی بربادی، امومت کی ذمہ داری سے آزادی، اور بے لگام خود مختاری کی قائل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تانیثیت کی تحریک سے ہم دردی رکھنے والوں کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت اور رکیک کلمات استعمال کیے جاتے ہیں۔

تانیثیت کیا ہے؟

تانیثیت کی تحریک کی بنیاد آدھی انسانی آبادی کے شعور ذات اور اس کی شناخت کے تعین کا مسئلہ ہے۔ یہ اپنے بچھڑے ہوئے احساس ذات کی تلاش ہے اوراپنی مکمل ہستی کے اثبات کی کوشش ہے۔ تانیثیت کی تحریک اور اس کے ہر مطالبے کے پس پشت یہ احساس کارفرما ہے کہ عورت بھی روح و بدن دونوں کا امتزاج ہے۔ اس کی روح فانی نہیں۔ اس کا وجود باطن سے خالی نہیں۔ وہ محض جسم نہیں۔ اس کی شخصیت فقط اینڈو کرائن گلینڈز سے خارج ہونے والی رطوبتوں کا ردعمل نہیں۔ اس کا عصبی نظام، سیریبرم اور سیلی برم اور گرے میٹر اسی طرح اور اسی اصول پر کام کرتے ہیں جس پر باقی نصف انسانیت کے یہ نظام چلتے ہیں۔ ایسے میں اسے بھی اپنی قلبی، ذہنی اور فکری خصوصیات کی نشوونما اور ارتقا کے مواقع ملنے چاہییں۔ اسے بھی اپنے ذہن و روح کے فروغ میں کوشاں رہنے کا حق ہے۔ وہ بھی زندگی کی بقا اور ارتقامیں شریک ہونے کی دعوے دار ہے۔ وہ بھی ایک مکمل انسان ہے، محض سایہ نہیں۔

خالق کائنات نے دنیا کی ہر چیز کو جوڑوں کی شکل میں تخلیق کیاہے لیکن انسان کے سوا کسی اور نوع میں ان جوڑوں کے درمیان ایسا امتیاز نہیں پایا جاتا جیسا انسان نے معاشرتی زندگی کے اصول و ضوابط طے کرتے ہوئے قائم کر دیا ہے۔ یہ فرق کیوں قائم ہوا؟ کیسے ہوا؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے عورت اور مرد میں تفریق کے کیا معنی ہیں؟ ارسطو نے روح اور مادے یا Form اور Matter کی وضاحت کرتے ہوئے عورت کو مادے اور مرد کو روح سے متعلق قرار دیا تھا { XE “1” } { XE “1” } ۔ اس کا خیال تھا کہ عورت پیدائشی نقص کے باعث صرف مادی سطح تک پہنچ سکتی ہے اور روحانی ترفع حاصل کرنے کی اہل نہیں ہے۔ اگرچہ انسان مادے اور روح دونوں کا مرکب ہے لیکن روح کو یقیناً مادے پر برتری حاصل ہے۔ یہی برتری سماجی سطح پر مرد کی فوقیت کا اثبات کرتی ہے۔۱ اسی بنیاد پر فلسفیانہ سطح پر عورت کو ذہنی و فکری اعتبار سے پس ماندہ اور کم تر سمجھا جاتا رہا ہے اور اسی مفروضے کی بنا پر ہیگل نے کہا تھا:۲

Women are capable of education, but they are not made for activities which demand a universal faculty such as the more advanced sciences, philosophy and certain forms of artistic production. …Women regulate their actions not by the demands of universality, but by arbitrary inclinations and opinions.

تانیثیت کے فلسفیانہ تناظر پر بہت طویل گفتگو ہو سکتی ہے لیکن یہ اس کا محل نہیں۔ فی الحال ہم تانیثیت کی اس اصطلاح کے حوالے سے بات کریں گے جو تقریباً ایک صدی بیشتر معروف ہوئی اور مختلف معانی اور تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔ اٹھارویں صدی تک تانیثیت (Feminism) کی اصطلاح سے وہ مخصوص حیاتیاتی، کرداری اور سماجی اوصاف، مراد لیے جاتے تھے جو عورت سے منسوب تھے۔ انیسویں صدی کے اختتام کے قریب کہیں جا کر یہ اصطلاح اس مخصوص سیاسی تحریک کے لیے استعمال ہونے لگی جو فرانس اور امریکہ میں عورت کے مطالبۂ ووٹ پر مبنی تھی۔

آج بھی کچھ لوگ تانیثیت کی اصطلاح کو صدیوں سے قائم پدرسری معاشرے کے صنفی امتیاز کے خلاف ایک عمومی احتجاج کے طور پر سمجھتے ہیں اور کچھ یورپ اور امریکہ میں چلنے والی مخصوص سیاسی تحریک کی تاریخ سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ان دونوں نقطہ ہاے نظر میں عورت اور مرد کے درمیان حقوق و فرائض کی مساوات کا تصور مشترک ہے مگر اس کے باوجوداس اصطلاح کے ان دونوں پہلوؤں کے فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ۳

اگر پہلی تعریف کو درست گردانا جائے توافلاطون کو بھی ایک تانیثی مفکر ماننا پڑے گا کیوں کہ اس نے خواتین کو حکومت کرنے کی تربیت دینے کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ۴ اور اگر دوسری جہت کو مد نظر رکھا جائے تو ان تمام جرأت آموز آوازوں کو نظر انداز کرنا پڑے گا جو یورپ میں تانیثیت کی سیاسی جدوجہد سے بہت پہلے وقتاً فوقتاً بلند ہوتی رہیں۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ تاریخ کے اس طویل سفر کو فراموش نہ کیا جائے جو بالاآخر ایک سیاسی جدوجہد پر منتج ہوا اور اس سیاسی جدوجہد کے متوازی بھی مختلف تناظر اور مختلف حوالوں سے سامنے آتا رہا۔

تانیثیت کی تحریک: تاریخی جائزہ

تانیثیت کے نام سے معروف ہونے والی تحریک بنیادی طور پر مغربی خطوں میں برپا ہونے والی فکری تحریکوں کا ایک جزو رہی ہے۔ اس تحریک کا آغاز قرونِ وسطیٰ کے مذہب اساس یورپی معاشرے میں ہوا۔ یورپ میں صدیوں سے ان لڑکیوں کو، جو غربت، بدصورتی یا کسی اور وجہ سے شادی کے قابل نہ سمجھی جاتی تھیں، خانقاہوں میں بھیجنے کا رواج عام تھا۔۵ یہ خانقاہی زندگی ان میں سے بعض کے لیے تو عمر قید کے مترادف تھی مگر اسی زندگی کے طفیل بعض خواتین پڑھنا لکھنا سیکھ کر اپنے شعور کی نشوونما کے قابل ہو جاتیں۔ ایسی ہی خواتین نے پہلی بار مذہبی عقائد اور تعلیمات کے حوالے سے اپنے حقوق و مقام کے از سر نو تعین کی سعی نامشکور کا آغاز کیا۔ گیارھویں صدی کے انگلستان کی ایک نن ہلڈیگارڈ (Hildegard) پہلی مرتبہ ایک معروف مذہبی مبلّغ اور ادیب کے طور پر نمایاں ہوئی اور تبلیغی مقاصد کے تحت جرمن سلطنت کے طول و عرض کا دورہ کیا۔ تاہم اپنی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے باوجود، وہ اپنے عہد کے مروجہ نظام اقدار سے اس قدر خائف تھی کہ کبھی کبھی وہ اپنی ’’غیر نسائی‘‘ سرگرمیوں یعنی ’’تصنیف و تالیف اور موسیقی‘‘ کے ذوق کے باعث احساس جرم میں مبتلا ہو جاتی۔ یہاں تک کہ ایک بار اسے ایک کلیسائی عالم کو خط لکھ کر پوچھنا پڑا کہ کیا اسے اپنی تصنیف تالیف اور موسیقی کی مشق جاری رکھنی چاہیے یا نہیں۔ ۱س نے اس زمانے کی دیگر خواتین کی طرح بی بی مریم کے مادرانہ کردار کو محسوس کرنے کی کوشش کی اور ان کیفیتوں کے اسرار اور عظمت کو بیان کیا جو عیسیٰ ؑ کی ولادت سے لے کر ان کی پرورش کے مختلف مرحلوں تک ان کی والدہ مریم پر وارد ہوئی ہوں گی۔۶

یہ وہ دور تھا جب عورت کو تبلیغ دین جیسے اہم کام کی اہل نہیں گردانا جاتا تھا اور یہ صورت حال آئندہ کئی صدیوں تک یورپ میں موجود رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے چار سو سال بعدبھی پندرھویں صدی کی جولین آف ناروچ کو سوال کرنا پڑا کہ:

کیا صرف اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں، میں یہ تسلیم کر لوں کہ مجھے تمہارے سامنے خداوند کی عظمت بیان نہیں کرنی چاہیے۔۷

جولین ایک صوفی خاتون تھی جس نے خداوند کے نسائی پہلو کو دریافت کیا اور یسوع مسیح کو ایک مادر مہربان کے روپ میں دیکھا اور محسوس کیا۔ ۸ جولین ہی کی ایک ہم عصر، مارگرے کیمپ، انگریزی میں پہلی خود نوشت کی خالق ہے جس نے بچوں کی پیدائش سے ہونے والی اذیت اور اپنی تکلیف دہ زندگی کی کڑوی سچائیوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ۹

سولھویں صدی تک ایسی خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا جو اپنی صنف کے مروجہ تصور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے لگی تھیں۔ تحریکِ اصلاحِ کلیسا (ریفرمیشن) نے اس آواز کو اور زیادہ نمایاں کر دیا اور وہ ان عقائد کے متعلق چبھتے ہوئے سوال اٹھانے لگیں، جن کے مطابق حوا ہبوط آدم کی ذمہ دار اور گناہ، شر اور پستی کی علامت قرار دی گئی تھی۔ جین اینگر (Jane Anger) نے پہلی بار، اپنے مذہبی اور اساطیری تصورات کی بنیاد پر ہی یہ جرأت آمیز اعلان کیا کہ حوا آدم کی نسبت اعلیٰ مقام کی حامل ہے کیوں کہ آدم کو غلیظ گارے سے، جب کہ حوا کو خود آدم کے پاک و منزہ جسم سے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس نے عورت کی برتری کی یہ دلیل بھی پیش کی کہ عورت ہی وہ پہلا انسان ہے جس نے ایمان قبول کیا اور عورت ہی نے پہلی بار توبہ کی جس کے باعث مرد کو نجات حاصل ہوئی۔ پھر وہ نیم سنجیدہ اور تمسخرانہ انداز میں کہتی ہے کہ آج بھی اگر عورتیں مردوں کو صاف ستھرا رہنے پر آمادہ نہ کریں، اور ان کی خوراک، لباس اور صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھیں تو وہ کاہلوں کی مانند دن بھر اپنے غلیظ بستروں ہی میں لوٹتے رہیں۔۱۰

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر اس عورت کو جو اپنی صنف کے دفاع میں آواز اٹھانے پر مجبور ہوتی تھی، کلیسائی استبداد کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔ صورت یہ تھی کہ سینٹ پال، کلیسا میں عبادت کے دوران عورتوں کو مذہب سے متعلق امور پر بھی کوئی سوال کرنے کی اجازت دینے کے سخت خلاف تھے۔۱۱ اس کے باوجود تعلیم کا چلن عام ہونے سے خواتین نے استدلال کرنا سیکھ لیا تھا ور وہ کلیسائی دعووں پر حرف سوال بلند کرنے لگی تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ جس مذہب میں ایک عورت کو خدا کی ماں ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس کے پیرو معاشروں میں اسے مذہبی تعلیم دینے کی اجازت کیوں نہیں۔۱۲ کچھ خواتین انجیل کے باب پیدائش کے حوالے سے یہ کہنے لگیں کہ ہبوط آدم کے واقعے کی ذمہ داری صرف حوا پر ڈالنا درست نہیں کیوں کہ اگر حوا نے اسے بہکایا بھی تھا تو کیا آدم پر لازم نہیں تھا کہ اس کا رہنما اور نگہبان ہونے کی حیثیت سے اس کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اپنی قوت فیصلہ سے کام لیتا؟۱۳ کچھ نے عورت کی عظمت کی یہ دلیل دی کہ خدا نے زمین پر ایک عورت کی کوکھ سے جنم لیا، کچھ نے عورت کو خداوند کی ماں کا درجہ ملنے کو نجات کی نشانی قرار دیا اور مریم کو حوا ہی ایک دوسرا روپ ثابت کیا۔ یوں مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت نے اپنے تشخص کی حفاظت کے لیے کوشش شروع کر دی تھی مگر ایسی ہر کوشش سخت مخالفت، نفرت اور معاشرتی ناپسندیدگی کا باعث بنتی تھی اور ان خواتین کو سخت ترین تنقید اور بعض اوقات کفر کے فتووں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ۱۴

سترھویں صدی میں عیسائیت کی کلیسائی رسوم کی تطہیر کے مقصد کے تحت متعدد فرقے وجود میں آگئے جنھوں نے خواتین کو مذہبی امور میں نسبتاً زیادہ آزادی اور حقوق مہیا کیے لیکن اس صدی میں بھی نہ صرف مردوں بلکہ کئی خواتین نے بھی اس آزادی کو مذہب اور اخلاق کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر شدید احتجاج کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ عورت کمزور اور شیطان کے بہکاوے میں آجانے والی مخلوق ہے جب کہ مرد کو خدا نے اس کا نگہبان اور باغِ خداوندی کا رکھوالا بنایا ہے۔ چنانچہ کئی شوہر اپنی بیویوں کی کتابیں جلا دینے، انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے اور ان پر مقدمات چلانے میں مشغول نظر آتے ہیں اور اپنے طرز عمل کو عین دین کی حفاظت اور اتباع قرار دیتے ہیں۔ معاشرہ بالعموم ایسی خواتین کو غلیظ گالیوں سے نوازنے، انھیں دیوانگی اور ذہنی امراض کا شکار قرار دینے اور ان کی تذلیل کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا۔ اسی صدی کے دوران ہزاروں خواتین نے ہاؤس آف لارڈز میں کئی قراردا دیںپیش کیں، جلوس نکالے مگر حقارت اور توہین کے سوا کچھ بھی حاصل نہ کر پائیں۔ حالانکہ اس دور کی خواتین کے مطالبات اسی سماجی کردار کے دائرے کے اندر تھے جو عورت ہونے کی حیثیت سے ان سے منسوب تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں تاکہ اپنے گھروں اور بچوں کی بہتر طور پر دیکھ بھال کر سکیں اور شریفانہ اور معزز اطوار کی تربیت لے سکیں۔ اسی دور میں کئی ایسی کتابیں تصنیف ہوئیں جن میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا اور مرد کے غلبے کو للکارا گیا تھا۔ لیکن معاشرہ اس حق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ یہاں تک کہ انگلستان کی محبوب ملکہ الزبتھ کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس کا ذہن ہر طرح کی’’ نسوانی کمزوریوں‘‘ سے محفوظ اوراس کا عزم، ’’مردانگی‘‘ کے جوہر سے معمور ہے۔۱۵ پھر بھی اس کی موجودگی اور اس کا دورِبادشاہت خواتین کے حوصلے اور خود اعتمادی میں اضافے کا باعث بنا اور ان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے اور اپنے ’’غیر نسائی‘‘ مقاصد کو بروئے کار لانے کی ہمت پیدا ہوئی۔ اب تک خواتین مذہی تناظر میں آزادی کی طلب گار تھیں لیکن الزبتھ کی بادشاہت نے لادینی رجحانات کوعام کیا اور معاشرے کے عمومی رجحان کے ساتھ ساتھ خواتین کی تصنیفی سرگرمیاں مذہب سے ہٹ کر ادب و فن کے جمالیاتی منطقوں میں قدم رکھنے لگیں۔ سترھویں اور اٹھارویں صدی کے عرصے میں خواتین میں بیداری اور شعور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لہروں کا ایک بڑا سبب ادب اور تصنیف و تالیف سے ان کی گہری ہوتی دلچسپی ہے۔ بعض اوقات اپنے اور بعض صورتوں میں فرضی مردانہ ناموں سے کتابیں تصنیف کی جانے لگیں ۱۶ اور معاشرے میں جاری اس عمومی ناانصافی کے خلاف احتجاج کی لے بلند ہونے لگی۔ تاہم ابھی تک خواتین کے ناولوں کا موضوع شادی اور خانگی زندگی کے مسائل ہی تھا اور ان کے پیش نظر معاشرے کی مروجہ اقدار کی پاسداری کا مقصد تھا۔ لیکن ان ناولوں میں شوہر اور بیوی کے باہمی تعلقات شاذ ہی خوشگوار نظر آتے ہیں اور ایک ظاہری، پرفریب، خوش گوار زندگی کے پردے میں عدم اعتماد، غیر مطابقت اور ہم آہنگی کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ اٹھارویں صدی کی اہم ترین تصنیف میری وولسٹن کرافٹ (Mary Wollstonecraft) کی کتاب Vindication of the Rights of Woman ہے جو ۱۸۷۲ء میں شائع ہوئی۔ اسی طرح کیتھرین میکالے نے Letters on Education لکھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خواتین سے منسوب ہونے والی کمزوریاں فطری نہیں بلکہ تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ ۱۷ ان خیالات کے نتیجے میں خواتین کو خود خواتین کی طرف سے بھی مخالفت کا سامناکرنا پڑتا تھا۔ انیسویں صدی میں بھی خواتین کے ناولوں کا موضوع خانگی زندگی کے مسائل ہی کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ شارلٹ برونٹے کا Jane Eyre ہو یا جارج ایلیٹ کا The Mill on the Floss، یا اسی دور کے دوسرے ناول، ان میں خواتین کی زندگی کے وہ پہلو روشن کیے گئے ہیں جو انھیں معاشرے کے امتیازی رویوں کا نشانہ ثابت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم/ جینڈر اسٹڈیز Feminism/ Gender-Studies: مغربی متبادل بیانیہ اور ہمارے ماہرین کا تقابل

انیسویں صدی کے اواخر تک انگلستان کی تمدنی زندگی کی صورت حال یہ تھی کہ خواتین کو جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل تھا نہ حکومت کے انتخاب میںرائے دینے کی اجازت تھی۔ انھیں اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جاتا تھا اور کم عقل، فساد کی جڑ اور قوت فیصلہ سے محروم سمجھا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کی پہلی چنددہائیوں تک خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والی سیاسی جدوجہد کو تانیثیت کی تحریک کی پہلی لہر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ جدوجہد بھی دراصل تانیثیت کی تحریک کے انتہائی منفی ردعمل کے جواب میں پیدا ہوئی تھی۔ خواتین کے مطالبات بنیادی طور پر اثبات ذات کے سوال پر مبنی تھے لیکن انھیں معاشرتی ڈھانچے کی شکست و ریخت کا سبب قرار دے کے ان کی انتہائی سخت مذمت کی جاتی رہی۔ اس شدید مزاحمت کے جواب میں عورت نے سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنا لیا۔ اس تحریک کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ ایک تو یہ کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کاخاتمہ کیا جائے اور انھیں شہریت کے برابر حقوق دئیے جائیں، دوسرے یہ کہ سیاسی برابری حاصل کر کے معاشرتی سطح پر خواتین کی حیثیت کو استحکام بخشنے کی کوشش کی جائے۔

۱۸۹۲ء میں پیرس میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین کانفرنس کے بعد اس تحریک میں شدت آئی اور جس کے بعد دو بڑی جنگوں نے اس تحریک کی شدت کو کمزور کر دیا مگر ایسی صورت حال بھی پیدا کر دی جس نے خواتین کی خود شعوری اور خود اعتمادی کو مزید اجاگر کر دیا۔ معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں اسے زیادہ نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور یورپ میں عورت تمدنی زندگی میں زیادہ اہم مقام پر فائز ہو گئی۔ اسلحہ ساز کارخانوں سے لے کر گھروں میں مردوں کو جنگ میں حصہ لینے پر آمادہ کرنے کے کام تک خواتین نے بھرپور طور پر اپنے وجود کا احساس دلایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے مطالبات میں بھی شدت بلکہ تشدد بڑھتا گیا۔ ۱۸ یہاں تک کہ ۱۹۱۸ء میں بالآخر انھیں ووٹ کا حق مل گیا۔ یہ حق ابتدائی طور پر محدود نوعیت کا تھا لیکن بتدریج اس میں وسعت اور عمومیت پیدا ہوتی گئی۔ تانیثیت کی دوسری لہردوسری جنگِ عظیم کے بعد سے لے کر۱۹۸۰ء تک کے عرصے پر محیط ہے جس کے دوران گھر اور ملازمت کے مقامات پرمردوزن کی مساوات کو مقصد بنایا گیا۔ جب کہ تیسری لہر بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں نمایاں ہوئی جس کے دوران نسلی، گروہی اور علاقائی تعصبات کو نشانۂ تنقید بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مابعد تانیثیت کے عنوان سے ایک متوازی رجحان بھی نمایاں ہوا جس میں تانیثیت کے بنیادی مباحث سے اختلاف کی صورت نمایاں ہوئی۔

تاہم اس پورے عرصے کے دوران دنیا کے دیگر خطوں میں عورت اور اس کے حقوق کی صورت حال کیا تھی؟ نظریاتی اور عملی طور پر عورت معاشرے میں کس مقام کی حامل تھی؟ اسے معاشرے کا جزوِ معطل سمجھا جاتا تھا یا وہ عملی زندگی کی جدوجہد میں شریک رہی تھی، اس بارے میں تحقیقی مقالات اور کتب کی تعداد ناکافی ہونے کی حد تک کم رہی ہے۔ جزوی طور پر مسلمان خصوصاً مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے بارے میں کچھ آراء ضرور سامنے آتی ہیں جو اکثر کسی مخصوص نقطۂ نظر کے تحت ترتیب دی گئی ہیں تاہم یہ پہلو ہنوز تشنۂ تحقیق ہے۔ ۱۹ غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان معاشروں میں عورت کی آزادی یا حقوق کی تحریکیں اس طرح منظم نہیں ہو پائیں جیسے مغرب میں۔ یا پھر یہ کہ ان معاشروں میں عورت کو ایسے بنیادی حقوق، اگر عملی طور پر نہیں تو کم از کم نظریاتی طور پر ضرور حاصل تھے، جو ان کی ذہنی تسکین کا باعث بنتے تھے اور انھیں مزاحمت یا بغاوت پر آمادہ ہونے سے روکتے تھے۔ اس کا کچھ نہ کچھ اشارہ یوں ملتا ہے کہ ۱۷۱۶ء میں جب ایک برطانوی سفیر کی بیوی لیڈی میری وورٹلی مونٹیگ (Lady Mary Wortley Montagu: ۱۶۸۹۔ ۱۷۶۲ء) اپنے شوہر کے ہمراہ قسطنطنیہ پہنچیں تو انھوں نے عثمانی عہد کے ترک معاشرے کے بارے میں اپنے مشاہدات و تاثرات خطوط کی صورت میں بیان کیے جو اب شائع ہوچکے ہیں۔ ۲۰ یہ خطوط اس عہد کے مسلمان معاشرے کی ایک غیر جانبدارانہ جھلک پیش کرتے ہیں۔ ان خطوط کی بنا پر وہ پہلی مغربی خاتون شمار کی جاتی ہیں جنھوں نے مسلم معاشروں کے بارے میں سیکولر انداز میں تبصرہ کیا۔ لیڈی میری وورٹلی یہ دیکھ کرحیرت زدہ ہو گئیں کہ ان دنوں جب انگریزی عورت کو نہ تو جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل تھا اور نہ وہ اپنی اولاد کی مالک ہو سکتی تھی، ترکی کی مسلمان عورتیں بڑی بڑی جاگیروں کی مالک تھیں اورمردوں کی مدد اور استعانت کے بغیر ان کا انتظام چلاسکتی تھیں۔ عورتوں کے نقاب کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ نقاب نے عورتوں کو مردوں کی چبھتی ہوئی نظروں سے بچاکر ایک نوع کی آزادی دے رکھی ہے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اور اس پر آزادانہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اسلام میں عورت کو ملنے والے حقوق اور اسلامی معاشروں میں ان کی صورت حال کے بارے میں خاصی سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ اقبال بھی اس مسئلے سے دوچار ضرور ہوئے مگر یہ موضوع ان کی توجہ کے حاشیے پر ہی جگہ پا سکا۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply