چاند کو گُل کریں توہم جانیں، کئی صدیوں پر محیط دلچسپ ناول — نعیم الرحمٰن

0

’’چاندکوگُل کریں، تو ہم جانیں‘‘ اسامہ صدیق کے منفرد اور صدیوں پر محیط انگریزی ناول کا ترجمہ ہے۔ اسامہ صدیق کے ناول Snuffing Out the Moon کو گذشتہ چندبرسوں میں شائع ہونے والے انگریزی ناولوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کے ادبی حلقوں میں بہت زیادہ قابل تحسین و توجہ ٹھہرایا گیا۔ پاک و ہند کے انگریزی ادب پر ساؤتھ ایشین انگلش لٹریچر کا لیبل لگانے والے بھی اب اس ناول کی فضیلت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ ناول کا حق تھا کہ اسے ان لوگوں کی زبان میں بھی منتقل کیا جائے جن کو اس کا بنیادی کردار بننا نصیب ہوا۔ اپنے وجود کو سمجھنے میں یہ پیش کش بہت معاون ہوگی۔ عاصم بخشی کاترجمہ وفادار ہے، متن کے ساتھ بھی اور اسلوبِ تحریرکے ساتھ بھی۔ مگراس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اسامہ صدیق کے ناول کی فضا اردو میں بھی بہت سلیقے سے منتقل ہوگئی ہے۔ تاہم اس میں سنسکرت اور ہندی کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوئے ہیں، جن کی بعض جگہ تفہیم نہیں ہوپاتی۔

اسامہ صدیق کا ناول اپنے آغاز سے اختتام تک مختلف زمانوں کو محیط ہے۔ پانچ ہزار برس کا دورانیہ، وادی سندھ کی عظیم تہذیبی زندگی، باز آفرینی ایسی کہ موہنجوداڑو اور تکشیلا کا رہتاس اپنے وسیب کے ساتھ معدوم سے محسوس میں بدلتا چلا جاتا ہے۔ تہذیب ظہور کرتی ہے، ارتقا کے مرا حل طے کرتی ہے، اور پھر اپنی حکمران اشرافیہ کے جبروظلم کے سبب زوال آمادہ ہوکر ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن مرتی نہیں ہے۔ پھرایک نیازمانہ، نئی جدوجہد اور آخری دونوں حصے عصری زندگی اورہمارے بعد آنے والے زمانوں کی پیش بینی پر مشتمل ہے۔ لطف ہے، عبرت ہے، خوف و ہراس ہے، دہشت ہے، مگر امید بھی ہے، حوصلہ بھی اوریقین بھی کہ جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں بجھانے والے مزاحمت کو، یعنی خوابوں پر یقین کرنے والوں کوکبھی شکست نہیں دے پائیں گے، یعنی’’چاند کو گُل کریں، توہم جانیں‘‘۔

اس ناول کا حسن اس کی کہانی میں بھی ہے، اس کے اسلوب کی فضابندی میں بھی، اس کی بہت قدرت کے ساتھ زبان اور بیان پر دسترس میں بھی اورمختلف ہییئتوں کے امتزاج کے ساتھ ایک تازہ طرزِ افکار میں بھی۔ چھ مختلف ادوار ایک زمین پر گزرنے والی ہمکتی، لہلہاتی، مسکراتی، کراہتی، گرتی سنبھلتی زندگی کو ایک فلم میں بدل دیتے ہیں اوریہ ہنربہت کم کم فکشن نگاروں کونصیب ہوتاہے۔ گزشتہ زمانوںمیں زبانیں اور زمینیںاپنے شاعروںسے پہچانی جاتی تھیں مگر پچھلی دوصدیوں سے یہ صورتِ حال بدلتی نظر آنے لگی ہے۔ ناول کی صنف اب ادب کی بنیاد ی ترجمان سمجھی جانے لگی ہے۔ اب پابلونرودا اور اوکتاویوپاز بھی گیبریل گارسیا مارکیز اور ماریو ورگاس یوسا کو لاطینی امریکی ادب میںنمایاں مقام سے برطرف نہیں کرسکتے۔ لاکھوں ناول دنیا بھر میں شائع ہوتے ہیں لیکن بہت کم کم ایسے کہ جو یاد رکھے جائیں۔ پاکستان میں انگریز ی ناولوں کی تعداد خاصی ہے مگر احمد علی، بیپسی سدھوا، سارہ سلیری، محمدحنیف اور اب اسامہ صدیق۔ مختلف شناختوں کے ہجوم میں ہماری تہذ یبی اور انفرادی پہچان پراٹھنے والے سوالوں کے جواب کا جو اسلوب اسامہ صدیق نے فراہم کیاہے وہ کسی ادبی کارنامے سے کم نہیں۔

ناول کے ترجمے کانام فیض احمد فیض کی مختصرنظم ’’زنداں کی ایک شام‘‘ سے لیا گیاہے۔ دل سے پیہم خیال کہتاہے/ اتنی شیریں ہے زندگی اس پل/ ظلم کازہر گھولنے والے / کامراں ہوسکیں گے آج نہ کل/ جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں/ وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا/ چاند کو گُل کریں، توہم جانیں۔ انتساب ’’ان کے نام۔ جونہ تو محبت کرنے سے کترائے۔ اورنہ ہی حق بولنے سے گھبرائے۔ کیا گیا ہے۔

اسامہ صدیق لاہورمیں پیدا ہوئے۔ ان بارہ سالوںکے علاوہ جوتحصیلِ علم اورملازمت کے سلسلے میں لاہورسے دور بیرونِ ملک گزارے، وہ باقی تمام عمر لاہورہی سے جڑے رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ طورپروہ ایک معلم، محقق، مصنف، قانون دان اور پالیسی امورکے ماہرکے طورپرجا نے جاتے ہیں۔ انھوں نے کیتھڈرل ہائی اسکول، کریسنٹ ماڈل اسکول، گورنمنٹ کالج لاہور اورلمز سے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں بطور رہوڈزاسکالر قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں ہاورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ برصغیر کی قانونی تاریخ پران کی کتاب Pakistan Experience With Formal Law: An Alien Justice جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے چھاپی ہے اب تک کئی انعامات جیت چکی ہے۔ ان کاتاریخی ناول Snuffing Out The Moon سب سے پہلے پینگوئن رینڈم ہاؤس سے چھپا اور بہت مقبول ہوا۔ ان کے ہاں عالمی ادب، ہمارے خطے کے قصے، کہانیاں اورداستانیں، تاریخی تحقیق، سیاحت، قدیم کھنڈر، پرانے درخت، اصلاحاتی کام اوربیش قیمت انسانی رشتے ان کی زندگی کی دلچسپیاں بھی ہیں۔ جستجو بھی۔ اور حاصل بھی۔

ناول کے مترجم ڈاکٹر عاصم بخشی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں کمپیوٹرانجیئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے فکشن کے تراجم سہ ماہی جرائدآج، دنیازاد، نقاط اورآن لائن جریدوں پرشائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علا وہ انھوں نے جوشواہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کاترجمہ بھی کیاہے۔ ان کے نان فکشن تراجم کے مجموعے’ نئی زمینوں کی تلاش‘ نے دو ہزار سترہ میں اردو سائنس بورڈکی طرف سے بہترین کتاب کا اردوسائنس ایوارڈ حاصل کیاتھا۔

مشہورنقاد، شاعر، افسانہ وناول نگارمرحوم شمس الرحمٰن فاروقی نے ناول کے بارے میں کہا۔ ’’ اس ناول نے میرے اندرعجیب وغریب کیفیا ت برپاکیں۔ اس کاماحول تاریک ہے اورقدرے بھیانک بھی۔ نہایت وسیع پھیلاؤہونے کے باوجودمصنف نے بہت مہارت سے اور قدرے اختصار کے ساتھ ماضی، حال اورمستقبل کے نسبتی سلسلوں کی بنت کاری کی ہے۔ اس تجربے کاماحصل یہ لرزا دینے والا تصور ہے کہ بدی یعنی حرص اورتخریب کی جبلت انسان کی تقدیرہے۔ نہایت فن کاری سے لکھاگیایہ ناول تاریخ و ثقافت کے طویل ادوار کو اپنے پراعتماد بیا نیے سے ایسے یکجاکرتاہے کہ ماضی اورحال کی تصاویراتنی ہی جاندارنظرآتی ہیں جتنا مستقبل کاتصور۔ ناول یہ کہتا محسوس ہوتاہے کہ روزحاضر کے خوف آنے والے دنوں کے ہیبت ناک اندیشوں سے کچھ کم نہیں۔ علمیت اور ذہانت سے لبریزیہ تحریر پڑھنے والے کو لبھاتی بھی ہے اور ڈراتی بھی۔ ‘‘

اردو کے نامورسفرنامہ اورناول نگارمستنصرحسین تارڑکاکہناہے۔ ’’میں نے اپنے کسی ناول میں لکھاتھاکہ وقت ایک تسلسل کے ساتھ گزارتا جاتاہے اورہم ٹھہرے ہوتے ہیں لیکن کہیں ایساتونہیں کہ یہ وقت ہے جوتھم چکاہے اوریہ ہم ہیں جوگزرتے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق کا ناو ل ’’چاندکوگل کریں، توہم جانیں‘‘ پڑھتے ہوئے میں اس سراب کاشکارہواکہ وقت ٹھہرچکاہے اوریہ اسامہ صدیق ہے جواس میں گزرتا جاتا ہے۔ ماضی سے حال اورحال سے مستقبل کی جانب ایک کھوجی کی مانند سفر کرتاچلاجاتاہے۔ اس کی تخلیقی قوت وقت کے نقشِ پا کو دریافت کر نے کبھی توالٹے قدموں ماضی میں چلی جاتی ہے اورکبھی مستقبل کی جانب گامزن ہوجاتی ہے۔ ماضی کا سفر آسان ہوتاہے کہ آپ تحقیق اور وجدان کوبروئے کارلاکراسے زندہ کرسکتے ہیں، موجودہ زمانہ آپ کی آنکھوںمیں عکس ہوتاجاتا ہے اور آپ اسے اپنے مشاہدے میں منتقل کرکے بیان کرجاتے ہیں لیکن مستقبل کی میں اترنے کے لیے اپنی جان داؤ پرلگانی پڑتی ہے اوریہ صرف قوتِ متخیلہ ہے جس کے زور پر آپ تصور کرسکتے ہیں کہ مستقبل کی تصویرمیں کون سے کردارحرکت کریں گے۔ جیسے کچھ مہم جو گہرے غاروں کی تاریکی میں اترجاتے ہیںاورنئی دنیا ئیں دریافت کرتے ہیں ایسے ہی اسامہ اپنے تخیل کے سہارے مستقبل کے اجنبی اور نادر یافت غاروںمیں اتراہے اور ان دیکھی دنیاؤ ں کے باشندوں کو اپنے زورِقلم سے زندہ کردیاہے۔ اسامہ جس آسانی اور قوت بھری روانی سے ماضی میں لوٹ جاتاہے، پھرحال کاسفراختیا رکرکے مستقبل میں جا آبادہوتاہے، میرے لیے شدید حیرت کاباعث بنا۔ میں تواپنے ناول ’بہاؤ‘ کے کرداروں کی تلاش میں سرسوتی ندی کے سوکھے ہوئے پانیوں تک جاپہنچا۔ موہنجوداڑوکی گلیوں کی مسافت اختیار کی۔ ان زمانوں میں واپس گیاتوبس وہیں رہ گیا، لوٹ آنامیر ے بس میں نہ رہااور اسامہ ہے کہ نہ صرف ماضی میں کچھ ایام بسرکرتا ہے، پھرحال کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کی وادیوںمیں کوہ نوردی کر نے لگتاہے اور اس کے چہرے پران مسافتوں کی تھکن ہی نہیں۔ اس کی تحریر کی دل کشی اوردل ربائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ادب کے آسمان پر اسامہ ایک ایسے ماہتاب کی مانند ابھراہے جو کبھی بجھایا تو نہ جائے گا۔ ‘‘

’’چاندکو گل کریں، توہم جانیں‘‘ کئی ادوار پر محیط وارکئی تہذیبوں کے حالات و واقعات سے سیراب ہے اوربہت سے ایسے لوگوں کی بھرپور زندگیوں کی کہانیاں بیان کرتاہے جومذہب اور اختیار کے نام پہ معاشرتی تسلط پر سوال اٹھاتے ہیں اورحق اختلاف ِ رائے کے ارتقا کے علمبردار ہیں۔ مصنف کایہ شاندار اولین ناول ایک نعرہ آزادی بھی ہے اور جبرکے خلاف جدوجہدکی دعوت بھی۔

اصغر ندیم سید نے لکھا ہے۔ ’’اسامہ صدیق انگریزی ناول نگاروں کی اس نئی پیڑھی سے تعلق رکھتا ہے جوزمانوں کی تاریخ کو زمانوں ہی کے تعصبات کی گرد ہٹاکر دیکھنا چاہتی ہے۔ جودنیا کو ٹکڑوں کی بجائے ایک بڑی زمینی صداقت کے تسلسل میں دیکھتی ہے۔ اس لیے اس پیڑھی کے فکشن میں سیاست، سماج، ثقافت، تاریخ اور فنون کی متحرک لہریں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی معنی دیتی ہیں۔ اب اس پیڑھی میں اسامہ صدیق ایک بے حدمختلف اور انوکھے افسانوی شعورکے ساتھ زمانوں کے مزاج کو دریافت کرتے ہوئے آج کو نئی معنویت اور صداقت دینے کے لیے داستان گوکی صورت سامنے آیا ہے۔ داستان گو کہانی کے پردے میں آنے والے زمانوں کی باتیں بتادیا کرتے تھے اور ایسے ایسے سوالات قصوں میں رکھ دیتے تھے جو اس وقت پہیلیاں لگتی تھیں۔ آنے والے وقتوں میں تعبیریں بن جاتی تھیں۔ کچھ یہی کام اپنے ناول میں اسامہ صدیق نے کردیا ہے۔ یہ ناول اس خطے پہ گزری زندگی کو دوبارہ جینے کی کوشش ہے جو اسامہ صدیق اپنے جذباتی، حسیاتی اور تصوراتی آہنگ میں جینا چاہتا ہے۔ کسی بھی تخلیق کار کے لیے اس طرح کا تجربہ تمام تر انسانی امکانات کے رچاؤ سے سرشار ہوتا ہے۔ بس یہی سرشاری قاری کا انعام ہے۔ ‘‘

ناول کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ پانچ کتابیں ہیں۔ کتابِ سراب۔ کتابِ شگون۔ کتابِ سوز۔ کتابِ نفرت۔ اورکتابِ انحراف۔ یہی داستان کی پہیلیاں ہیں جن کا ذکر اصغر ندیم سید نے کیاہے۔ فیض صاحب اسامہ کی مدد کوکیوں آئے ہیں کہ تہذیب وتمدن کی آب و تا ب کبھی کوئی نہیں چھین سکتا۔ چاہے کوئی حملہ آورہو، کوئی غدارہو، کوئی لٹیراہو، کوئی بادشاہ ہو، کوئی اس کاگماشتہ ہو یا کوئی کسی اور روپ میں بہرو پیاہو۔ اس لیے چاند کودیے کی طرح پھونک مارکرگُل نہیں کیاجاسکتا۔ چاندماورائی سچائی ہے۔ ایسے ہی تہذیب بھی زمینی سچائی ہے۔

اصغر ندیم سید کاناول پرتفصیلی تبصرہ محض تبصرہ نہیں بلکہ اس کی تفہیم بھی ہے اور یہاں میں اپنے محاکمے کے بجائے اس تبصرے کا سہارا لینا چاہوں گا۔ ’’ناول کاہرباب ایک زندہ سچ ہے۔ موہنجوداڑو۔ وادی سندھ کی تہذیب۔ جو2084 ق م کا ایک زندہ سچ ہے۔ موہنجوداڑو کی نرتکی بے شمارتخلیق کاروں، مصوروں اورشاعروں کا موضوع بنی ہے۔ لیکن یہاں اس کا دوسراجنم ہواہے۔ وہ جنگل میں ایک بھٹکے ہوئے شکار ی سے مکالمہ کرتی ہے اوریہ مکالمہ ان دونوں کے درمیان نہیں ہے۔ وہاں موجود پرندوں، درختوں، پودوں، پھولوں، چرندوں اورمکمل فضا کے ساتھ ہوتاہے۔ پھر نرتکی تو نرتکی ہے کیا اس کے بھید بھاؤ نہیں ہوں گے۔ بس یہ اسامہ صدیق کی تہذیبی بصیرت کا امتحان تھا۔ اس نے نرتکی سے وہ کام لیا جو نرتکی نچانے والا لیتا ہے۔ اسے بظاہر تو فنٹیسی کہا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے یہ تہذیب کو آنکھیں دینے کاعمل ہے۔ جو ایک ناول نگارکو کرنا ہی ہوتاہے۔ شکاری کون ہے؟ نرتکی اسے کس طرح جنگل کے بھید دیتی ہے؟ پہیلی کے اندرسانس لینا بھی بہت بڑا تجربہ ہوتا ہے۔

دوسرے باب میں اس خطے کی ایک اورتہذیب دوسرا جنم لیتی ہے۔ یہ تیکشلا (گندھاراکی راجدھانی) جو455کے آس پاس ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ تیکشلا بدھ مت کی یونیورسٹی ہے۔ میں اسے تھی نہیں لکھ رہا۔ میرے اوراسامہ صدیق کے نزدیک تاریخ کوماضی کے صیغے میں نہیں لکھنا چاہیے۔ تاریخ ہمیشہ حال اورمستقبل میں رہ رہی ہوتی ہے۔ تیکشلا میں گرو اورشش کامکالمہ ہویا گوتم کے گیان کی تعلیمات ہوں یا گوتم کی یاد کا چراغ ہو۔ سب زندہ زندگی ہے اوربس۔

تیسراباب۔ اسامہ صدیق نے پنجاب 1620ء کے مغل زمانے کالیاہے اوریہ جہانگیر کازمانہ ہے۔ جہاں اکبراعظم نے صوفی، سنتوں، بھگتوں، اولیاؤں اور فقیروں کے لیے گنجائش پیداکردی تھی تواب جہانگیر انصاف کے نام پرکیا کرنا چاہتا ہے۔ کیا نئے گماشتے پیدا کرنا چاہتا ہے۔ کیا اپنے جیسے مسلمانوں کی ریاستوںپرحملوں کاجوازڈھونڈرہاہے اور پھرانصاف کووہ اپنی حکومت کے تسلسل کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب اسامہ صدیق کے ناول کی رمزیں ہیں۔ ہربیان میں کئی بیان ہیں۔ یہ جدیدناول کے جنم کی ایک نشانی ہے۔

اگلے باب میں پنجاب 1857ء میں دریافت ہورہاہے اوریہ اندورون لاہورمیں مسجدوزیرخان میں لکھنؤسے آیاایک داستان گوکررہاہے۔ یہ میر صاحب خود اسامہ صدیق ہے اور پھر وہ کس طرح انگریزکے بعد کے لاہورکوحضرت میاں میرکے میٹافر سے دریافت کررہاہے۔ یہ میرے جیسے قاری کے لیے ایک ایساتجربہ ہے جو خود رائٹرکا تجربہ ہوتاہے۔ جب لکھنے والے کاتجربہ قاری کا ہوجائے تو پھر تخلیق کی معراج ہم سمجھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد کا باب لاہورپنجاب 2009ء ہے۔ اب کہانی موجودہ زمانے میں آگئی ہے اوراسامہ صدیق نے آج کے زمانے کامیٹافرایک عدالتی کیس کوبنایاہے۔ میں سمجھتاہوں آج کی سچائی عدالتی کلچراورانصاف سے مذاق کے ذریعے ہی بیان کی جاسکتی ہے۔ یہ آج کی سچائی ہے۔ جس کے ذریعے تمام سیاسی اورسماجی ادارے بے نقاب ہوسکتے ہیں۔

اسامہ صدیق کے ناول ’’چاندکوگُل کریں، توہم جانیں‘‘کے ذریعے سماجی اورسیاسی معلمین بہت کچھ سیکھ سکتے ہی لیکن وہ نہیں سیکھیں گے کہ ناول جوکچھ کہتاہے وہ آنے والے زمانوں کی تعبیریں ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیاناول کوہم ناول کہہ سکتے ہیں۔ اس کاجواب قاری دے گا۔ اسامہ صدیق دورجدیدکے ناول نگاروں میں وہاں موجود ہیں جہاں اس سے پہلے، امرتاپریتم، سعادت حسن منٹو، خوشونت سنگھ، راجندر سنگھ بید ی اورارون دھتی رائے موجودہیں۔ عاصم بخشی کاترجمہ تخلیق کے متوازی آچکاہے۔

ناول کے مصنف اسامہ صدیق پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔ ’’ ہم ایک ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں مٹی کی تہ کے نیچے ایک تہذیب دفن ہے۔ ان میں سے کچھ تووہ ہیںجنھیں ہم نام دے چکے ہیں اورشایدان سے کہیں زیادہ وہ ہوں جن کے ہونے کی گواہی فقط تین سکے، چار اینٹیں، ایک مورتی، ایک آدھ کھلونا اور چندہڈیاں ہیں۔ اوران سے بھی زیادہ وہ جن کی باقیات اتنی بھی نہیں۔ اتنی زرخیزدھرتی میں رہنے والے لکھا ری کے لیے ہمیشہ صرف اپنے زمان ومکان میں مقیدہوکرکہانی لکھناناشکری سی لگتی ہے۔ یہ توکہانی درکہانی اورکہانی اندر کہانی کادیس ہے، بیتال پچیسی، سنگھاسن بتیسی کادیس۔ کئی راتیں بیت جاتی ہیں ایک کہانی کولپیٹنے میں، الف لیلہ کی طرح۔ کئی دنیائیں آبادہیں ان کہانیوں میں، طلسم ہوشربا کی طرح۔ گزشتہ سے پیوستہ، آنے والے سے منسلک، گنجلک، پرپیچ، زندگی کی گتھی کی طرح پیچیدہ۔ کم ازکم مجھ جیسا لکھنے والا توکہانیوں کی اس عظیم روایت کے سحر سے پوری طرح جکڑاہواہے۔ اس کی بھول بھلیوں میں نہ صرف گماہواہے بلکہ بخوشی روپوش ہے۔ سوجوبھی میں نے لکھاہے اس کے پیچھے یہ تمام روایتیں اورتہذیبی عناصر کارفرما ہیں۔ لکھنے کی جدوجہدتومیں ایک عرصے سے کررہاتھالیکن اس ناول کی تصنیف سے پہلے وہ سب کچھ قانون اورمنطق کے مسائل ومباحث تک محدود رہا لیکن کہیں حیاتِ انسانی کے لاتعداد پہلو، رنگ اوررعنائیاںفقط قانون اورمنطق کی گرفت میں آسکتے ہیں؟ زندگی کے خاکے کھینچنے کواوربہت کچھ درکار ہے۔ نفسیات، تاریخ، فلسفہ، جمالیا ت، عمرانیات اورپھرسب سے بڑھ کرکہانی۔ یہ فکشن ہی کاکشادہ دل ہے جس میں یہ سب سماسکتاہے۔ کہانی ہی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے اورتمام حیات میں اس کا طرہ امتیاز۔ اصل اورگمان، مکاں اورلامکاں، حقیقت اورتخیل، شعوراورتحت الشعور۔ کیاکچھ ہے جس کااحاطہ کہانی کامیابی سے کرلیتی ہے۔ کہانی انسانی کھوج کا ایک قدیم اورانتہائی موثرذریعہ ہے اورلگتایوں ہی ہے کہ یہ کھوج، کہانی لکھنا اورکہانی پڑھنا، رہتی دنیاتک جاری رہے گا۔ ‘‘

ناول ’’چاندکوگل کریں توہم جانیں‘‘ دوہزار چوراسی قبل مسیح سے بیس سوچوراسی عیسوی تک چارہزارسال پرمحیط ہے۔ صرف ہزاروں سال پر پھیلی کہانی کی بناپراسے پڑھتے ہوئے قرۃ العین حیدرکا ’’آگ کادریا‘‘ اور ڈاکٹر احسن فاروقی کاناول’’سنگم ‘‘ قاری کویادآتے ہیں۔ لیکن اس میں دونوں ناولوں سے کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مصنف نے طویل دورپر محیط کہانی بیان کرنے کے لیے منفرداسلوب اختیار کیا ہے۔ ناول کی ابتدا میں ایک نقشہ کے ذریعے ان تمام مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جن کاذکر ناول میں کیا گیاہے۔ پھر ناول کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیاہے اورہرباب مزیدچھ حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا باب’’کتابِ سراب‘‘ ہے۔ اس باب کا آغاز دو ہزار چوراسی قبل مسیح میں ’’وادی سندھ کی تہذیب‘‘ موہنجوداڑوسے ہوتا ہے۔ جس کے بعد چارسو پچپن عیسوی کے ’’ گندھارا کی راجدھانی‘‘ ٹکشاسیلا کا بیان ہے۔ پھر مصنف سولہ سوبیس کی’’ سلطنت مغلیہ‘‘ دور کے صوبہ پنجاب جاپہنچا۔ اٹھارہ سوستاون کی جنگ آزادی یاانگریزوں کے غدر کے دوران’’ برطانوی ہند‘‘دورکاپنجاب پیش کیاہے۔ دو ہزارنوکا پاکستان کے صوبہ پنجاب کاشہرلاہور کتابِ سراب کا پانچواں حصہ ہے۔ جبکہ پہلے باب کا آخری حصہ دوہزار چوراسی کے ’’قلعہ روہتاس کیمپ ‘‘میں متحدہ آبی مرکز کی کہانی ہے۔ ماضی اور حال کے برعکس مستقبل کی کہانی پیش کرنا انتہائی دشوارہوتاہے۔ جس میں لکھاری کوسوائے اس کے تخیل کے کہیں سے مدد نہیں ملتی۔ لیکن اسامہ صدیق نے زورِتخیل سے یہ مشکل منزل بھی باآسانی سرکرلی۔ ان کے بیانیے کے مطابق مستقبل کی جنگیں آبی وسائل پر قبضے کے لیے ہوں گی۔ اس طرح پہلے باب کے چھ حصوں میں اسامہ صدیق نے ناول کی کہانی بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیاہے۔

کتاب کادوسراباب’’کتابِ شگون ‘‘ ہے۔ جس میں بیانیے کی ترتیب الٹ جاتی ہے اوراس کا آغازدو ہزاربیس کے’’ متحدہ آبی مرکزقلعہ روہتا س کیمپ‘‘ہوتاہے۔ پھر دوہزارنوکے پاکستان کاپنجاب کاشہرلاہورپیش کیا گیا ہے۔ جس کے بعداٹھارہ سوستاون کابرطانوی ہندکے پنجاب کا ذکرہے۔ اگلاحصہ چارسو پچپن عیسوی کی’’گندھاراکی راجدھانی ٹکشاسیلا‘‘ اورسب سے آخرمیں دوہزار چوراسی قبل مسیح کی’’وادی سندھ کی تہذیب موہنجوداڑو‘‘ کوپیش کیاگیاہے۔

ناول ’’چاندکوگل کریں توہم جانیں‘‘ کے اگلے تین ابواب ’’کتابِ سوز‘‘، ’’ کتابِ نفرت‘‘ اور’’کتابِ انحراف‘‘میں بیانیے کی ترتیب الٹتی رہتی ہے اورماضی سے حال اورمستقبل۔ پھرمستقبل سے حال اورماضی اورآخری باب میں ماضی سے حال اورمستقبل کی جانب رواں ہے۔ ہزاروں سال پرمحیط ناول میں بے شمارکردارہیں لیکن مستقل اوراصل کرداروقت ہے۔ جوہردم رواں ہے۔ وقت کی لہروںمیں دیگرتمام کردار بہتے ہیں اورایک دلچسپ اورحیران کن بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ جس کے سحرسے ناول ختم ہونے کے بعدبھی قاری آزادنہیں ہوپاتا۔

دو ہزار چوراسی قبل مسیح میں دریائے سندھ کے کنارے موہنجوداڑوکے عظیم شہرمیں’پرکا‘ نامی ایک نوجوان پروہتوں کے تیزی سے بڑھتے ہو ئے اثرورسوخ پرسخت فکرمند ہے اوراپنی محبوبہ ستھوئی کی بے اعتنائی پربھی۔

پھر چار سو پچپن عیسوی میں ٹکشاسیلاکی مشہورزمانہ درسگاہ میں بدھ مترانامی بھکشوسخت آزردہ ہے کہ اس کے ساتھی گوتم بدھ کے پیغام رحم دلی کو بھول چکے ہیں۔ اسی دوران ایک بھیانک خطرہ تیزی سے ان کی طرف گامزن ہے۔

سولہ سوبیس عیسوی کے مغل شہنشاہ جہانگیرکے دورمیں دوآوارہ گردقسمت کے دھنی اس کوشش میں ہیں کہ طبقہ امراء کودھوکہ دہی کے ذریعے لوٹیں کھسوٹیں۔ لیکن بات بن ہی نہیں رہی۔ معاملہ توبگڑتاہی چلاجارہاہے۔

اٹھارہ سوستاون عیسوی میں میرصاحب داستان گوانسانی فریب کاری کاقریبی مشاہدہ کرنے کے بعداپنے ہم وطنوںکوخبردارکرنے کی مہم پر نکلے ہیں۔ اسی دوران ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہدزورپکڑ رہی ہے۔

دو ہزار نو عیسوی، دورِحاضرکے لاہورمیں ایک غریب بیوہ رفیعہ بیگم انصاف کے حصول کی تلاش میں قانونی بھول بھلیوں اور مکار نوسر بازوں سے بچتی پھررہی ہے۔ ادھرپولیس سے مفرور اشتہاری بلاسینٹی اپنی حیران کن زندگی پرنظردوڑاتاہے۔

اور دو ہزار چوراسی مستقبل کاایک زیرِعتاب دانشوراس تحقیق میں غرق ہے کہ وہ کیاقیامت خیزواقعات تھے جن کی بدولت دنیااب پانی کے ذخائرپرمسلسل جنگیں لڑرہی ہے اورانسانیت دوبالکل مختلف گروہوں میں بٹ چکی ہے۔

’’چاند کو گل کریں توہم جانیں‘‘ کئی ادوارپرمحیط اورکئی تہذیبوںکے حالات وواقعات سے سیراب ہے اوربہت سے ایسے لوگوں کی بھرپور زندگیوںکی کہانیاں بیان کرتاہے جومذہب اوراختیارکے نام پہ معاشرتی تسلط پرسوال اٹھاتے ہیں اورحقِ اختلافِ رائے کے ارتقاکے علم بردارہیں۔ مصنف کایہ شانداراولین ناول ایک نعرہ آزادی بھی ہے اورجبرکے خلاف جدوجہدکی دعوت بھی۔

بک کارنرجہلم نے روایتی حسن طباعت سے آراستہ کرکے چار چاندلگادیے ہیں۔ بہترین کتابت، عمدہ بائینڈنگ، خوبصورت سرورق اور چار سو اسی صفحات کے ناول کی قیمت بارہ سوروپے بہت مناسب ہے۔ ’’چاندکوگل کریں توہم جانیں‘‘ کی اشاعت پربک کارنرجہلم، مصنف اسامہ صدیق اور مترجم عاصم بخشی مبارک باد کے حقدارہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply