ڈاکٹر افتخار حیدر ملک، شعبہ تاریخ، قائداعظم یونیورسٹی سے جڑی یادیں — ملک تنویر اختر

0

” شجر ہائے سایہ دار: یونیورسٹی اساتذہ”
(اپنے مرحوم چچا جان کیپٹن محمد حسین ملک صاحب کے نام جن کے گھر ڈاکٹر افتخار حیدر ملک صاحب سے پہلی بار ملا)

قائد اعظم یونیورسٹی اور ہم اہلیان تلہ گنگ دونوں کو یہ عز و شرف حاصل ہے کہ ہر دو کی نسبت دو بے مثل اساتذہ سے ہے یعنی جناب پروفیسر فتح محمد ملک اور ڈاکٹر افتخار حیدر ملک، اول الذکر ایک مستند نقاد، ایک شفیق استاد اور ایک خلیق انسان جبکہ موخر الذکر عہد حاضر کے موقر مورخ، مصنف، فن گفتگو کے ماہر اور علم کے شارح، دونوں سیلف میڈ، انتھک محنتی اور مخلوق خدا کے لیے شجر سایہ دار۔

 1980 میں قائداعظم یونیورسٹی میں داخلے کے وقت دونوں گرامی قدر اساتذہ سے رابطے میں تھا، دونوں نے مقدور بھر مدد بھی کی سو باقی ذندگی کے لیے دونوں کے ممنون ٹھہرے، مگر آج تفصیلی ذکر مقصود ہے ڈاکٹر افتخار حیدر ملک صاحب کا، اگرچہ۔

“میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے”

ویسے تو داخلے سے کچھ مہینے پہلے ہی ڈاکٹر افتخار صاحب کی ہمہ جہت شخصیت سے تعارف ہو چکا تھا، کیونکہ ڈاکٹر صاحب ہی وہ پہلے فرد تھے جن کی جانب سے ہمیں قائداعظم یونیورسٹی کا “توجہ دلاو نوٹس” ملا وگرنہ حقیقت یہ تھی کہ ہم تو اپنے کالج کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل اپنے تلہ گنگی اساتذہ سے اتنے گہرے متاثر تھے کہ ہمارے نزدیک کوئی بھی علمی سند و ڈگری لاہور کی مہر کے بغیر ادھوری ہے، پنجاب یونیورسٹی تو ہمارے خیال میں گویا “خاتم الجامعات” تھی، مذید براں اپنے وہم و گمان میں گورنمنٹ کالج تلہ گنگ میں حاصل کردہ ہمارا علم معاشیات تو جیسے ہمیں آدم سمتھ، کینز اور ریکارڈو جیسے کلاسیکل ماہرین معاشیات کی صف میں کھڑا کرنے کو کافی تھا، چنانچہ ان دنوں اگر خواب میں بھی کوئی حور صفت ہم سے ہمارے عزائم کا پوچھتی تو واللہ ہم کسی شیطانی ارادے کی بجائے فورا کہہ دیتے۔
 “پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کرنا ہے”

چنانچہ لاہور کی بجائے اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی کی بجائے قائداعظم یونیورسٹی تک کا ذہنی اور جسمانی سفر سچ کہوں ہمارے لیے تبدیلیء قبلہ سے کم نہ تھا اور تبدیلی بھی ایسی کہ پھر کبھی خواب میں بھی قبلہء اول کا خیال نہیں آیا۔

اس تبدیلی کا احوال بھی بذات خود ایک کہانی ہے، ڈاکٹر افتخار حیدر ملک صاحب کا تعلق تلہ گنگ سے ہے اور مزید براں وہ ہمارے مقامی مادر علمی گورنمنٹ کالج تلہ گنگ کے مایہ ناز طالب علم بھی رہے، چانچہ جب ہم لوگ اس قصباتی کالج میں داخل ہوئے تو پروفیسر صاحبان بالخصوص مرحوم غلام شبیر شاکر ڈاکٹر صاحب کی تعریف میں رطب السان رہتے تھے، تلہ گنگ کے بعد ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج لاہور اور مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی سے بالترتیب ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے وابستہ ہو گئے، اور یوں 1980 میں ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی۔

 ڈاکٹر صاحب کو جاننے کے لیے انکا حلیہ بیان کرنا ضروری ہے، سانولا رنگ، مانٹی نیگرن فیچرز، دراز قد ایسے کہ سرو رشک کرے، پوری طرح دیکھنے کے لیے صرف نظریں نہیں سر بھی اٹھانا پڑتا ہے، بولیں تو جیسے علم کی آبشاریں پہاڑوں سے اتر رہی ہوں، انگریزی اردو، پنجابی ان کی گفتگو میں یوں ہم آغوش ہوتی رہتی ہیں کہ جیسے علمی و لسانی کاک ٹیل سرو ہو رہا ہو، حس مزاح کی دفعتہ کوندتی بجلی کہ آپ کے الرٹ ہونے سے پہلے گفتگو کی ٹرین اگلے سٹیشن پر، مدلل بات چیت اخلاص نیت کے ورق سے مزین بس جی کرتا ہے وہ بولتے رہیں اور انسان سنتا رہے۔

“سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتےہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں”

 ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 1980 میں چاچا جی محمد حسین ملک مرحوم کے گھر ٹیکسلا میں ہوئی تھی، اپنے تاثرات آج تک یاد ہیں، ملنے میں پرجوش اتنے کہ طلبہ سے ہمیشہ چار قدم آگے، تحصیل علم و تدریس کے ولولے سے بھرپور ایسے کہ اوڑھنا بچھونا بس علم ہی ٹھہرے، نیا موٹر سائیکل، نئی نئی شادی، میڈم نگہت افتخار کا ساتھ اور نوزائیدہ فاروق ہاتھوں میں (فاروق معروف فنکارہ کرن ملک “پنکی میم صاحب فیم” کے شوہر محترم ہیں) سچ پوچھیں افتخار صاحب پہلی نظر ہی ہم جیسے دیہاتی گریجویٹس کو علم، حلم اور اعجاز زندگی کا استعارہ لگے، بس یہ پتہ چلتے ہی کہ بی اے کا امتحان دے رکھا ہے حکم صادر ہوا،
” تنویر نتیجہ آتے ہی قائداعظم یونیورسٹی میرے پاس آ جانا”
بس وہی لمحہ تھا جب ہماری علمی بس جی ٹی روڈ پر جاتے جاتے روات مندرہ سے اسلام آباد کی جانب مڑ گئی، اس کے بعد تو بس ہسٹری ہی ہسٹری ہے۔

ہسٹری ڈیپارٹمنٹ قائداعظم یونیورسٹی میں داخلے کے بعد ڈاکٹر صاحب کا پہلا ستم یا کرم یہ ہوا کہ انہوں نے تمام اساتذہ میں یہ خبر عام کر دی کہ انکے تلہ گنگ کالج سے کوئی بہت ہی عالم فاضل طالب علم آن پہنچا، میرے خدایا، اگلے دو سال ڈاکٹر صاحب کے اس حسن ظن کو صحیح ثابت کرنے میں دن رات ایک کرنے پڑے، خدا بھلا کرے کہ جناب محمد ارشد صاحب کی عالمانہ چھتری میسر رہی وگرنہ ہمارے قصباتی علم کی برف تو ایک سمیسٹر کی گرمی کی مار تھی، پہلے ہی سمیسٹر میں ڈاکٹر افتخار حیدر ملک صاحب کا کورس:

” Intellectual History of United States of America”

آفر ہوا تو یہ کورس اتفاق سے بیک وقت چار سمیسٹرز کے طلبہ و طالبات نے آپٹ کیا، کیا دن تھے امریکہ پلٹ، خوبصورت انگریزی بولتے، امریکی طرز حیات کے مختلف پہلو وہاں چلنے والی مختلف فکری، سماجی، علمی اور معاشی تحاریک کی روشنی میں بیان کرتے ڈاکٹر افتخار کو سننا ایک ٹریٹ تھی، کلاس کا کھلا ڈلا ماحول، مہذب فقرے بازی و نوک جھونک، ہر قسم کی روایتی تدریسی طور طریقوں سے پرے ایسا لگتا تھا کہ کلاس مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی میں ہو رہی ہے، یہی کورس تھا جس کے دوران اس خاکسار کو سنجیدہ کو پڑھاتے پڑھاتے اپنے سینئرز و جونیئرز سب کو پڑھانا پڑا، فائنل امتحانات سے پہلے کیفے ٹیریا میں کلاس کے شرکا کے لیے کئی ٹیبل اکٹھے کرنے پڑے، تحصیل علم کے لیے سینئرز کی دھونس کا بھی دلچسپ تجربہ بھی ہوا، چوتھے سمیسٹر کے مہا سینئر جناب ممتاز احمد اور امجد قیصرانی صاحب پیپر سے پہلے ڈھلتی رات کو کمرے میں تشریف لائے اور مخاطب ہوئے:

” سیئں پتہ لگا اے جناب ساریاں کوں پڑھیندے ودن، کیوں اساں کورس نیئں وے رکھیا، چلو شروع تھئ ونجو”

انکار کی تاب کس کافر کو تھی سو جو لیکچر شام کو باجی نویدہ قیصرانی اور باقی کلاس فیلوز کی نذر کیا وہی کشمیری طوطے کی طرح دہرا دیا، جب یہ خبریں ڈاکٹر صاحب تک پہنچیں تو کھل اٹھے، ہماری سب محنت جیسے کام آ گئی۔

1986 میں جب سے سول سروسز اکیڈیمی جوائن کی اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے رابطہ نسبتا کم رہا مگر انکی علمی و تحقیقی فتوحات کا مسلسل پتہ چلتا رہا، پہلے ڈاکٹر صاحب ہسٹری ڈیپارٹمنٹ سے ایریا سٹڈی سنٹر قائد اعظم یونیورسٹی کے مہتمم ہوئے پھر ڈاکٹر صاحب برطانیہ کے سفر کو روانہ ہوئے جو اب انکا مستقل ٹھکانہ ہے، 1995 سے باتھ سپا یونیورسٹی کالج، باتھ یو کے میں انٹرنیشنل ہسٹری کے پروفیسر ہیں، میڈم نگہت آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک کالج سے منسلک ہیں اور ڈاکٹر صاحب کا مستقل علم کدہ و دولت خانہ آکسفورڈ میں ہی ہے، انکی علمی خدمات اور تصانیف کی تفصیلی تحسین و احاطہ یا تو انکے لائق فائق شاگرد ڈاکٹر محمد ارشد صاحب کر سکتے ہیں یا انکی جانشین بھانجی ڈاکٹر ثمینہ اعوان، ڈین علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد مگر ہم بھی،

“گو واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں”

ڈاکٹر صاحب کی قابل قدر تصانیف میں،

1. Sikandar Hayat Khan:( 1892- 1942)A Political Biography
2. Pakistan: People and Places
3. The History of Pakistan
4. Culture and Customs of Pakistan
5. US- South Asia Relations: 1940-47 ( American Attitude Towards Pakistan Movement)
6. Pakistan, Democracy, Terrorism and the Building of a Nation
7. Pakistan After Musharraf
8. Crescent Between Cross and Star: Muslims and the West After 9/11
9. Jihad, Hindutva and the Taliban: South Asia at Cross Roads
10. Islam and Modernity: Muslims in Europe and the US
11. Religious Minorities in Pakistan 
12. Islam Nationalism and the West: Issues of Identity in Pakistan
13. State and Civil Society in Pakistan: Politics of Authority, Ideology and Ethnicity
14. Pakistanis in Michigan: A Study of Third Culture and Acculturation
15. The Silk Road and Beyond

انکے تمام ریسرچ پیپرز، سیمینارز اور کانفرنسیں تو شاید خود ڈاکٹر صاحب کو بھی یاد نہ ہو مگر ایک بھرپور علمی اور عملی زندگی کا لطف اور اطمینان انکے چہرے سے خوب عیاں ہے۔

اب تواس کو بھی ایک مدت ہوئی ہے موسم گرما 2006 تھا، میری مسز ڈاکٹر جمیلہ کو گلاسگو یونیورسٹی سے دعوت نامہ ملا، اڑھائی تین ماہ سکول آف ایجوکیشن کی مہمان سکالر تھیں، میرا چکر بھی لگا، سکاٹ لینڈ سے لندن پہنچے تو ڈاکٹر صاحب سے رابطہ ہوا، حسب عادت حکم ملا کہ کل صبح برٹش لائبریری پہنچ جاو، گئے تو دریائےعلم کے کنارے علم کا سمندر موجزن پایا، پوری لائبریری کا تفصیلی دورہ، مختلف سیکشنز کی اہمیت، موجود کتب، رسائل، حوالہ جاتی ذخیرہء علم سب پر سیر حاصل گفتگو اور ساتھ سامان طعام، صاحب یوں ہمارے دل دماغ اور پیٹ سب ڈاکٹر صاحب کی محبت، علم اور دعوت شیراز سے سیر ہوئے۔

اگلے روز باجی نگہت صاحبہ کی دعوت پر آکسفورڈ مدعو تھے، وہاں گئے تو ڈاکٹر صاحب کا خوبصورت گھر، لائبریری دیکھی، لنچ کیا، مگر اصل ٹریٹ آکسفورڈ کا وہ پیدل گائیڈڈ ٹور تھا جو ہمیں ڈاکٹر صاحب نے دیا۔

 دنیا کی مشہور و معروف بوڈلین لائبریری، آکسفورڈ کا آٹھ سو سال پرانا قدیمی تاریخی پب ( The Bear Inn) آکسفورڈ یونین آفس، صلیبی جنگوں کے لیجنڈری کردار شیر دل رچرڈ کی جائے پیدائش، آکسفورڈ یونیورسٹی کے مختلف کالجز، بھٹو، اندرا اور دوسرے عبقریوں کے علمی مسکن، پاکستانی سی ایس پیز کا ٹھکانہ بیلیل کالج، مشہور عالم ٹرنٹی، کوئینز، کرائسٹ چرچ اور میگڈلن کالجز، اس خوبصورت قریہء علم کے پرانے گلی کوچے، پتھر کی سلوں سے بنی گلیاں، تنگ موڑوں پر لٹکتی پرانی طرز کی مشعلیں، علم و تحقیق کا یہ طلسم ہوشربا تھا، ڈاکٹر صاحب کا بیان اور اپنی بساط عجز، پورا دن گزر گیا مگر نہ استاد محترم کے چہرے پر تھکاوٹ تھی اور ہمارا تو یہ سفر وسیلہء ظفر ٹھہرا، رات کو ڈنر کے بعد ڈاکٹر صاحب اور باجی نگہت ہمیں بس پر بٹھانے آئے تو واپسی کا سارا راستہ احساس تشکر ہی ہم سفر رہا۔

2009 میں میری بیٹی درِ عزیز آمنہ کو کوئینز کالج آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے سمر سکول کی سکالرشپ ملی تو وہ بھی ڈاکٹر صاحب اور انکے اہل خانہ کی محبت اور مہمان نوازی سے فیضیاب ہوئی یوں اپنے دیہاتی سٹوڈنٹ کی بیٹی کے سر پر بھی ڈاکٹر صاحب کا دست شفقت آ گیا۔

ایں سعادت بہ زور بازو نیست — تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

اب تو مدتیں ہو گئیں یونیورسٹی سے نکلے، کار سرکار سے رسمی طور پر ریٹائر بھی ہو گئے، اللہ کریم نے اپنے در سے بصدقہء رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کچھ عطا کیا کہ سر زیر بار احسان الہی ہی رہا اور رہے گا مگر اب بھی اکثر دعا مانگتے، صبح دوست احباب کو سلام صبح کرتے، اکیلے میں یادوں کی زنبیل میں جھانکتے، آنکھیں بند کرکے کتنی ہی دفعہ قائداعظم یونیورسٹی کی ہسٹری ڈیپارٹمنٹ پہنچ جاتے ہیں، ڈاکٹر صاحب اور دیگر اساتذہ کی زیارت کو؛

جب بھی گئے تو کبھی خالی نہ لوٹے، ہمیشہ دل بھی بھر آیا اور آنکھیں بھی،

“مت سہل ہمیں جانو روتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply