شاعرطارق نعیم اور سرائیکی افسانہ — محمد حمید شاہد

0

صاحب! خوب موقع نکلا ہے کہ میں ایک ایسے جرم کا اعتراف کر کے اپنے من کا بوجھ ہلکا کر لوں جو مجھے ایک مدت سے اندر ہی اندر سے کچوکے لگاتا رہا ہے۔ میں چاہتا تو اس اعتراف گناہ سے اب بھی کنی کاٹ کر نکل سکتا تھا کہ طارق نعیم نے سرائیکی کے کچھ افسانوں کا اردو میں جو مسودہ مرتب کرکے میرے پاس رکھ چھوڑا ہے میں اپنی رائے اس پر دے کر الگ ہو جاتا اللہ اللہ خیر صلا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے ایسا کرنا بھی چاہا، کئی ماہ پہلے سارے افسانے پڑھ ڈالے تھے، جو مجھے کہنا تھا ذہن میں اس کا خاکہ بھی بن گیا مگر جب جب لکھنے بیٹھا دھیان کہانیوں سے اُچٹ جاتا اور شاعر طارق نعیم کی طرف ہو جاتا۔ شاعر طارق نعیم کی طرف کہ جس کی غزل کا میں قتیل ہوں:

قفس سے خود ہی پرندہ رہا کیا میں نے
پھر اس کے بعد یہ سوچا کہ کیا کیا میں نے
اُڑان بھر کا لگا آسماں مجھے یک دم
بدن سے جوں ہی پروں کو جد ا کیا میں نے
٭:٭
خدا کرے کہ مرا عشق معتبر ٹھہرے
میں رات خواب میں روتا رہا ہوں میر کے ساتھ
٭:٭
ہر شب گھر کو اپنے طور مقفل کرکے سوتا ہوں
کوئی دریچہ کوئی دروازہ پھر بھی کھلا رہ جاتا ہے
جب بھی حساب لگانے بیٹھو تو جمع و تفریق کے بعد
سب کچھ منفی ہو جاتا ہے ایک خدا رہ جاتا ہے
٭:٭
الٹ پلٹ کے زمینوں کو دیکھنے والے
تجھے تلاش ہے کہ کس کی مجھے بتا کہ میں ہوں

تو یوں ہے کہ چپکے چپکے میر کے ساتھ رونے اور اپنے ہونے کی شناخت بنتی غزل کو اس کی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ کاغذ پر اُتارنے والے کا قرض مجھ پر تھا کہ میں اس کی فن کے قتیل ہونے کا اعتراف تب ہی کر لیتا جب اس کی پہلی کتاب ’’دیے میں جلتی رات‘‘ آئی تھی۔ پھر اگر وہ موقع قضا ہو گیا تھا تو دوسرے مجموعے’’رُکی ہوئی شاموں کی راہداریاں‘‘ پرہی بات کر لی ہوتی۔ میں نے طارق نعیم کی غزل کا لطف لیا اور کتابیں شیلف میں سینت کر رکھ لیں۔ ان کتابوں پر جب جب نظر پڑتی رہی انہیں وہاں سے اُچک کر پڑھتا رہا اور سچ کہتا ہوں جب بھی پڑھا ایک نئے لطف کی شراب کا جام لنڈھایا۔ ایسے میں وقت گزرتا چلا گیا اوراب کئی ایسوں کو دیکھتا ہوں کہ جنہیں غزل کہنے کا سلیقہ نہیں مگر اس کم گو اور گوشہ نشین شاعر سے اوپر جاکر نشست سنبھالتے ہیں تو اس جرم کا احساس ہوتا ہے جو تنقید نے اس خوب صورت شاعر کی غزل کے باب میں روا رکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے میں بھی اس جرم میں برابرکا شریک رہا ہوں۔

خیر، مجھے کہنا یہ ہے کہ طارق نعیم کی پہلی کتاب سن ۲۰۰۰ ء میں آئی تھی اور دوسری۲۰۰۶ء میں، مگر میں اس سے کہیں پہلے طارق نعیم کی غزل کی بابت گماں باندھ چکا تھا کہ بات کہنے کے یہ تیور ایسے ہیں جو اس شاعر کو سب سے الگ اور نمایاں مقام عطا کر سکتے ہیں۔ وقت گزرتا رہا۔ جس طرح میں خواہش رکھتا تھا، ویسا نہیں ہو رہا تھا۔ بجا کہ طارق نعیم کی غزل الگ دھج رکھتی ہے، سو الگ سے پہچانی جاتی رہی۔ درست کہ حسی پیکر تراشی کا یہ ہنر ایسا ہے کہ بہت کم لوگوں کو ودیعت ہوتا ہے، طارق نعیم کو عطا ہوا ہے وہ اسے کام میں لاتا ہے اور کہیں بھی اس باب میں ناکامی کے خوف سے ادبدا کر لفظوں کے چہرے نہیں بگاڑتا، انہیں اپنی اپنی نشست پر بٹھاتا ہے، پورے تہذیبی رچائو کے ساتھ۔ کتنے ہیں جن کے نصیب میں یہ سلیقہ آتا ہے، یہ قرینہ طارق نعیم کے پاس ہے۔ اچھا، غزل کی روایت کا پاس کرنا مگر اس میں چپکے سے کچھ ایسا کر لینا کہ کہ ہر مصرع شاخ تازہ کی طرح لچکیلا رہے ایسا جادو بھی تو اب قصہ پارینہ ہواہے۔ غزلوں کے مجموعے پڑھتے جائیں تو لگتا ہے ڈھنگ سے اور پورے فنی التزام کے ساتھ مصرع لکھ لینا ممکن نہیں رہا، کہیں مصرع نہیں، مضمون بولتا ہے اور کچھ یادہ ہی بولتا ہے تو کہیں فنی التزام اتنے حاوی ہو جاتاہے کہ تیکنیکی اعتبار سے ٹھیک ٹھاک مصرع دوسرے مصرع کے ساتھ جڑ کر بھی تاثیر سے خالی رہ جاتا ہے۔ ایسے اشعار میں تازگی کی ساری رطوبت خشک ہوکر تنے ہوئے مصرعوں کا حسن بھی عیب بنا دیتی ہے۔ طارق نعیم کی غزل میں تازگی کا رس دوڑتا اورمکمل شعر کا جادو بولتا ہے۔ اور یہ جو اس نے اپنے ہم مزاج، مسلسل حزن کی دُھندکو اپنے شعروں کی فضا پر پھیلا کران میں کئی طرح کے بھید بھر دیے ہیں، تو اس سے اس کے شعر کو الگ ہونا تھا، سو ہوا۔ ہم چاہے جتنا بھی اس شاعر کو نظر انداز کریں، اسے ایک روز اپنا مقام پالینا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ روز اب کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔

لیجئے صاحب اب میں یکسوئی سے اس کتاب کے حوالے سے کچھ کہہ سکتا ہوں۔ سرائیکی زبان اور ادب کی اپنی ایک روایت ہے جس سے طارق نعیم نہ صرف پوری طرح آگاہ ہے، اسی وسیب کا جم پل ہونے کی وجہ سے ان کرداروں کا ہم مزاج بھی ہے، جو سرائیکی فکشن کا حصہ ہوتے رہے ہیں۔ اس مزاج شناسی کی گہرائی کا اندازہ آپ طارق نعیم کے اپنے بارے میں سفاک سچ کہتے ہوئے یہ جملے پڑھ کرلگا سکتے ہیں :

’’موضع پیر تنوں کے چاہ کُوڑے والا کی دور تک پھیلی ہوئی تنہائی کے صحرا میں کل دو گھروں پر مشتمل زندگی کے جزیرے پر میری پہلی سانس سے صبح کی ایک کھڑکی کھلی اور رات کی تاریکی سے اڑتے ہوئے پرندوں کا شور میرے اندر آگیا۔ ۔ ۔ میرا بچپن عجیب طرح کے خوف میں پروان چڑھا جس میں گندم کے اُن دانوں کا خوف بھی تھا جن کے عوض میرے باپ کو غلام بنایا گیا اور جنہیں آسانی سے گنا جا سکتا تھا۔ ‘‘
(رات گمان اور صحرا، دیے میں جلتی رات)

کہنے کو تو کہا جاسکتا ہے کہ سرائیکی افسانے کی اشاعتی تاریخ بہت قدیم نہیں ہے کہ بعض روایات کے مطابق اس زبان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ۱۹۷۶ ء میں شائع ہوا تھا۔ جی، میرااشارہ قاسم جلال کے چھوٹے سے مجموعے ’’ہنجوں تے ہیرے‘‘ کی طرف ہے تاہم یہ کہنا کہ کہانی کہنے کی روایت بھی اس وسیب محض اتنی پرانی ہے جتنا یہ مجموعہ، تویوں ہے کہ ایساکہنا بھی خلاف واقعہ ہوگا۔ سرائیکی وسیب اورسرائیکی زبان جتنی قدیم ہے اس میں کہانی کہنے کی روایت بھی اتنی ہی قدیم ہے اس زبان کی قدامت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق لفظ ’سرائیکی‘ کا ماخذ سنسکرت کا لفظ ’’سوٗوریا‘‘ہے جو دراصل قدیم ہند کی ایک ایسی ریاست کا نام تھا جس کا مہابھارت میں ذکر بھی موجود ہے۔ سنسکرت کا یہ لفظ بدلتے بدلتے موجودہ سرائیکی ہواہو یاقدیم سندھی لفظ ’سرو‘ سرائیکی میں ڈھلا ہو ہر دو صورتوں میں بات اتنی نئی نہیں رہتی جتنی چھپے ہوئے سرائیکی افسانے کی کتاب نئی ہے۔

اچھا، وہ لوگ جو سرائیکی کو پنجابی کی ذیل میں رکھتے ہیں اور اسے پنجابی سے ملتے جلتے جملوں کی ساخت اور لفظیات کی وجہ سے پنجابی ہی کا ایک لہجہ گردانتے ہیں، وہ بھی اس امر کے قائل ہیں کہ یہ لہجہ پنجابی کے دیگر لہجوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ میٹھا، رسیلااور من موہ لینے والا ہے۔ پھر اس لہجے کا صوفیا کی زمین سے تعلق اتنا گہرا اور دیرینہ ہے کہ وہ سارے بھید جو تصوف کی عطا ہیں سرائیکی کا حصہ ہو گئے ہیں۔ طارق نعیم کے یہ تراجم پڑھ کر یوں اچھا لگا کہ اسی میٹھی اور بھید بھری زبان میں لکھی ہوئی کہانیوں کواس نے اردو زبان میں منتقل کرتے ہوئے، سرائیکی کے اپنے مزاج کو بھی مقدور بھی قائم رکھنے اور کرداروں کی نفسیات کو سمجھ کر اُنہیں اردو زبان کا حصہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

طارق نعیم نے سرائیکی سے اردو میں جو افسانے منتقل کیے ان میں ڈاکٹر انوار احمد کے دو افسانے(’’پار اتارنے والے‘‘، ’’ درداں دی ماری دلڑی علیل اے‘‘)، پروین ملک کے تین افسانے(’’کیہ جاناں میں کون‘‘، ’’ہرو یونہی بہتی رہے‘‘)، مسر ت کلانچوی کا ایک افسانہ(’’ساری عمر سفر میں گزری‘‘)، احسن واگھا کے دو افسانے (’’وہ صورت سے ہی سچا تھا‘‘، ’’ نروان‘‘)، نصیر شاہ کے دو افسانے(’’دل کا نور‘‘، ’’ چارپائی کا ٹیڑھ‘‘)، ظفر لشاری کے دو افسانے(’’جھلستے سائے‘‘، ’’ رسموں کے قیدی‘‘)، قاسم جلال کا ایک افسانہ(’’اندر والا چہرہ‘‘)، حبیب فائق کے دو افسانے(’’پکی گرہیں‘‘، ’’ روہی روپ انوکھے خواب‘‘)، شاہین ملک کا ایک افسانہ(’’مالک سے محبت‘‘)، رسول بخش پلیجو کا ایک افسانہ(’’جب قتل ہوئے تو بیٹھو‘‘)، حفیظ خان کے تین افسانے(’’جنت حور قصور‘‘، ’’منشا اور میاں منشا‘‘، ’’اک اور بھنور گرداب میں‘‘)، قاصر فریدی کا ایک افسانہ(’’ایک سو نو‘‘) اور ملک عبد اللہ عرفان کا ایک افسانہ (’’گھاگر بیل‘‘)، کل ملا کر۲۲ افسانے شامل ہیں۔ یوں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بالعموم سرائیکی(ملتانی، ڈیروالی، ریاستی اور تھلوچی) وسیب سمجھے جانے والے علاقوں کے لکھنے والوں کے علاوہ، جہاں اور جس علاقے کے رہنے والوں نے بھی سرائیکی کے مزاج کو قبول کرکے پنجابی زبان کے ماجھی لہجے سے انحراف کیا ہے، وہ بھی طارق نعیم کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اس کی عمدہ مثالیں رسول بخش پلیجو۔ نصیر شاہ اور پروین ملک کے افسانے ہیں۔ یہ افسانے مختلف اوقات میں ترجمہ ہوتے رہے اور اب کہیں کئی برسوں بعد ایک کتاب میں مجتمع ہو رہے ہیں تو سرائیکی افسانے کا بھی روشن چہرہ بنا رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ منتخب سرائیکی افسانوں کایہ مجموعہ اردو پڑھنے والوں میں نہ صرف مقبول ہوگا، سرائیکی افسانے کی بہتر تفہیم میں بھی مددگار ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply